Page 1

‫انگریزی‬


‫مقصود حسنی‬ ‫فہرست‬ ‫انگریزی کے ہندوی پرلس نی اثرات‬ ‫ہندوی کے انگریزی پر لس نی تی اثرات‬ ‫انگریزی دنی کی بہترین زب ن نہیں ہے‬ ‫انگریزی آج اور آت کل‬ ‫انگریزی فیل افس نہ‬ ‫انگریزی کے ہندوی پرلس نی اثرات‬ ‫عموم سمجھ سوچ اور کہ ج ت ہے کہ ح ک زب ن لس نی‬ ‫حوالہ سے محکو زب نوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ نظریہ‬ ‫ایک حد تک درست ہو سکت ہے لیکن اس کی صحت ک‬ ‫مکمل طور اقرار نہیں کی ج سکت ۔ یہ م م ہ ح ک اور اس‬ ‫کی ح کمیت سے ت نہیں رکھت ۔ ہ ں جبر اور مجبوری کی‬


‫ایک صورت ہمزاد بن کر س تھ چ تی رہتی ہے۔ انگریزی آج‬ ‫جبر اور مجبوری بنی ہوئی ہے۔ زب نی کی ب ت چوڑیے‬ ‫عم ی تجزیہ کر دیکھیں پ نچ سے س ت فیصد لوگ انگریزی‬ ‫ج نتے ہیں ورنہ لوگ ڈگری ی سند ح صل کرنے کے لیے‬ ‫رٹ ائزیشن کو ش ر بن تے ہیں۔ زب نیں انس نوں سے‬ ‫وابستہ ہیں انس ن ج بھی کسی بھی حوالہ سے ایک‬ ‫دوسرے کے قری آتے ہیں اپنی زب ن ک لس نی اثر ضرور‬ ‫چھوڑتے ہیں۔ ک ی زی دہ کے ضمن میں چند امور از خود‬ ‫پیش پیش رہتے ہیں۔ مثا‬ ‫۔ آوازوں کی گنتی اور ان ک لس نی نظ‬ ‫۔ زب نوں کی لچک پذیری ک تن س‬ ‫۔ مترادف اور متب دل آوازوں کی فراہمی اور موجودگی‬ ‫۔ بولنے والوں ک مزاج رجح ن ت اور موجودہ رویے‬ ‫۔ بولنے والوں کی میل ماق ت کی صورتیں‬ ‫۔ شخصی اور مجموعی انداز و اطوار‬ ‫۔ ح ات م حول اور م شرت‬ ‫۔ ضرورتیں اور ان ضرورتوں کی اہمیت اور نوعیت‬ ‫۔ زب نوں کی ان ‘ جو ان سے مخصوص ہوتی ہے‬


‫۔ آات نط اور م ون آات نط‬ ‫۔ مرک آوازیں‬ ‫۔ شخصی اور قومی ترجیح ت‬ ‫مجبوری سے جڑے اف ل استحک سے دور رہتے ہیں ی‬ ‫ان ک س یقہ درست نہیں رہت ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے‬ ‫انداز و اطوار ن درست رہے ہوں اور فٹیک ک عنصر غ ل‬ ‫رہ ہو۔ بہرطور کہیں ن کہیں خرابی کجی گڑبڑ ی ادھورے پن‬ ‫کی کوئی ن کوئی صورت ضرور ب قی رہتی ہے جس کے‬ ‫سب آتے وقتوں میں ان اف ل کی موت واقع ہو ج تی ہے‬ ‫اور وہ قصہ پ رینہ ہو کر رہ ج تے ہیں۔‬ ‫مخت ف عاقوں اور قومیتوں کے لوگ مخت ف حوالوں سے‬ ‫برصغیر میں آتے ج تے رہے ہیں۔ برصغیر کی زب نوں نے‬ ‫بدیسی زب نوں کے اثرات قبول کیے ہیں۔ ہندوی نے بھی‬ ‫بدیسی زب نوں کے اثرات قبول کیے ہیں۔ ہندوی دنی کی تم‬ ‫زب نوں سے زی دہ سوشل م نس ر اور اؤل درجے کی لچک‬ ‫پذیری کی ح مل ہے۔ اسی وجہ سے یہ دنی کی است م ل‬ ‫ہونے والی دوسری بڑی زب ن ہے اوراس ک اور زب نوں کی‬


‫طرح دائرہء اظہ ر محدود نہیں۔ ج یہ محض بولی رہی ہو‬ ‫گی اس ک قد ک ٹھ اس عہد کے حوالہ سے محدود نہیں رہ‬ ‫ہو گ ۔ اس ک خصوصی وصف یہ ہے کہ ج جس سے م ی‬ ‫اس کو اپن کر لی ۔‬ ‫بدیسی ل ظوں کو اپن تے اپن چ ن نہیں بدا ب کہ بدیسی کو‬ ‫اپنے رستوں پر چای ۔‬ ‫حور اوق ت احوال دیکھنے عربی ہیں لیکن عربی نہیں‬ ‫رہے۔ ہ ں البتہ دیسی ال ظ پر عربی نے اثرات مرت کیے‬ ‫ہیں۔ کوئی عربی انہیں واحد تس ی کرنے کو تی ر نہیں ہو گ ۔‬ ‫مج س اور ج وس اپنے عربی م نوں سے دور ہو ئے ہیں۔‬ ‫ٹوچن ٹچ میچ نیچ لیڈی ں سیٹی ں وٹران سپوٹران مسیں‬ ‫وغیرہ کو کوئی انگریز انگریزی زب ن کے ال ظ تس ی نہیں‬ ‫کرے گ ۔ ہندوی میں ان کی اپنی حثیت ضرورت است م ات‬ ‫اور نحوی صورتیں ہیں۔ اس طرح کے ان گنت مخت ف‬ ‫زب نوں کے ال ظ ہیں جن ک جغرافیہ ہی تبدیل ہو چک ہے‬ ‫اور وہ ہندوی کے اپنے ذاتی ال ظ بن چکے ہیں۔ وہ‬


‫مست مل اور م نوس ہو گیے ہیں۔ یہی نہیں ان ک است م ل‬ ‫ہندوی کے اپنے لس نی سٹ اپ اور شخصی ضرورت‬ ‫اورترجیح کے ت بع ہو گی ہے۔‬ ‫انگریزی بہ در ش ہ اؤل کے عہد سے تقریب مجبوری ک‬ ‫درجہ اختی ر کر گئی لیکن ج اردو کے جثے کو ماحظہ‬ ‫کرتے ہیں تو بخوبی اندازہ ہو ج ت ہے کہ اسے مجبوری ک‬ ‫ن نہیں دی ج سکت ۔ انگریزی کو قبولتے وقت کہیں اور‬ ‫کسی موڑ پر اس کی لس نی ان مجروع نہیں ہوئی ب کہ‬ ‫ہندوی میں ان ک ح یہ ہی بگڑ گی ہے۔ بدیسی ی مہ جر کو‬ ‫اس ک لب س زی تن کرن پڑا ہے۔ ذرا غور کریں یہ ں ک‬ ‫ب شندہ ج پت ون شرٹ پہنت ہے انگریز نہیں ہو ج ت ۔ پت ون‬ ‫شرٹ کو دیسی ہون پڑت ہے۔ کہیں ن کہیں کوئی ن کوئی‬ ‫تبدی ی ضرور محسوس کی ج سکتی ہے۔ ہندوی نے‬ ‫انگریزی ال ظ کو ش وار قمیض پہن کر قبوا ہے۔ ہر بدیسی‬ ‫ل ظ کو ہندوی کی ذاتی شن خت میسر آئی ہے۔ اگ ی سطور‬ ‫میں چند ایک مث لیں درج کر رہ ہوں ت کہ سند رہے اور‬ ‫بوقت ضرورت ک آ سکے۔ مث لیں قب ہ اکبر الہ آب دی کے‬ ‫کا سے لی گئی ہیں۔ گوی آج ہی نہیں بہت پہ ے بھی یہی‬ ‫رویہ موجود تھ ۔‬


‫انگریزی ہندوی مرکب ت‬ ‫اٹ ص ح ‘ جھوٹے بسکٹ‘ نیچرل چیز‘ نیچرل ب ت‘ نیچرل‬ ‫ہے پیپر دھندلی‘ شوخ مس‘ اگا کورس‘ لندن تک‘ آنریری‬ ‫عندلی ‘ غربی مشینوں‘ پیش کمشن‘ مغربی اپریشن‘ ش یہ‬ ‫ک لج‘ سی سی کمیٹی‘ مخ ی پ لیسی‘ انگریزی سوس ئٹی‘‬ ‫ٹکٹ گھر‘ ڈاک ٹرین‘ ما مجسٹریٹ‘ صوفی پروفیسر‘‬ ‫پولیٹیکل ضرورت‘ تھرڈ والے‘ پولیٹیکل ح ات‘ پولیٹیکل‬ ‫آ و ہوا‘ ایک انچ‘ ک لج سے‘ ک لج کے‘ ب ر میں‘ ہوٹل‬ ‫میں‬ ‫م ت انگریز‘ ترقئی پنشن‘ ‘ چش مس‘ ش ہ ‘مس فرنگ‬ ‫انگ ینڈ‘ مشن انقا ‘ تق ید انگ ش‘ س ز پی نو‘ دین نیچری‘‬ ‫ش ہد ہوٹل‘ سرجن رقی ‘ فکر س وشن‘ عہد انگ ش‘ پ بدی‬ ‫پت ون ' پردہ سکرین‬ ‫پت ون و کوٹ‘ بنگ ہ و بسکٹ‘ ک لج و ٹیچر‘ شیخی و‬ ‫ک رکی‘ نغمہء اسپنسر ومل‘ کرنل و کمشنر ‘نوکری و‬ ‫ممبری‬ ‫نغمہ ء یورپ‘ غمزہ ء انگریزی‘ میے لندن‘ س یہ ء‬ ‫ہوٹ مئے نیچر 'سوئے لندن‬


‫کرسمس ک پچھا‘ ک کٹر ک ڈے‘ اسپیچ ک ہنر‘ اسپیچ ک‬ ‫سر‘ انگ ش ک بوجھ‘ یورپ ک ق فیہ‘ کونسل ک ووٹ‘ مسجد‬ ‫ک نوٹس‘ ش ہی ک چ رج‘ ک کٹر ک دیدار‘ یونیورسٹی ک‬ ‫مس ہ‘ بسکٹ ک چور‘ لیکچر ک سب ‘ انگ ش ک دور دورہ‘‬ ‫بیف ک چسک ‘ پت ون ک پیچ‬ ‫عزت کی ہسٹری‘ یورپ کی طرف‘ بوٹ کی چر چر‘ وحدت‬ ‫کی مسٹری‘ ہسٹری کی بستی‘ اسپت ل کی دوا‘ ک لج کی‬ ‫بکواس‘ لیگ کی گورنمنٹ‘ یورپ کی داست ن‘ریل کی پٹڑی‘‬ ‫نیٹو کی گھس گھس‘ نیٹو کی تنخواہ‘ اسکول کی گراءمر‬ ‫پریڈ پر قواعد‘ چہرے پر گ ٹ‘موٹر پر سوار‘ اسٹیج پر دنی‬ ‫کمیٹی اور ریزولوشن‘ تج رت اور پولیٹکس‬ ‫دسمبر ہو ی اگست‬ ‫گورنمنٹ ہی رسپنونسیبل‬ ‫منشی کہ ک رک‬ ‫ک یس میں انگریزی‬ ‫س بقوں احقوں ک بھی بخوبی است م ل ہوت رہت ہے۔ مثا‬ ‫بے ٹکٹ‘ خوش ڈنر‘ دلکش س ئنس‘ بے ح ر ‘ با گ ٹ‘ با‬ ‫ک ر‘با آپریشن‘مس ن شن س‘ پنشن ی فتہ‘ س ئنسدان‘ ک رک‬


‫ب دش ہ‘ وغیرہ‬ ‫مکن ٹی‬ ‫انگریزی ال ظ کی اردو جم یں‬ ‫ٹربات‘ ک روں‘ بنگ وں‘ کولیگوں‘ لیڈیوں‘ مسوں‘‬ ‫ممبروں‘ ووٹوں‘ ب وں‘ بنکوں‘ یونیورسٹیوں‘ سکولوں‘‬ ‫ک لجوں‘ موٹروں‘ سپوٹروں‘ ٹیچروں‘ ڈاکٹروں‘‬ ‫پروفیسروں‘ ججوں‘ پروفیسر حضرات‬ ‫مسیں‘ بسیں‘ ک ریں‘ ک لیں‬ ‫کمیٹی ں‘ سوس ئٹی ں‘ ورائیٹی ں‬ ‫ب ض جم یں اردو میں واحد مست مل ہیں۔ مثا میڈی ‘‬ ‫بکٹیری وغیرہ‬ ‫ی بڑھ نے ک رجح ن‬ ‫ک رکی‘ منسٹری‘ رجسٹری‘ ڈاکٹری‘ م سٹری‘ منیٹری‘‬ ‫بیرسٹری‘ لیڈری‬ ‫مونث بن نے کے لیے دیسی طور اپن ی ج ت ہے مثا‬ ‫ڈاکٹرنی‘ م سٹرنی‘ مبرنی‘ لیڈرنی‘ افسرنی‬ ‫بہت س ری اشی ء کے ن عمومی بول چ ل ک حصہ بن گئے‬


‫ہیں ت ہ ان ک است م ل انگریزی نہیں رہ ۔ مثا‬ ‫بہت س رے نجی اداروں کے ن انگریزی ی انگریزی نم ہو‬ ‫گیے ہیں۔ مثا‬ ‫سٹی ویو ہ ئی سکول‘ پ کست ن م ڈل ہ ئی سکول‘ گرین‬ ‫ک لج‘ الخیر یونیورسٹی‘ ارح پوسٹ گریجویٹ ک لج‘ اہور‬ ‫ک لج آف س ئنس‘ س یدہ ڈی وری ہ ؤس‘ نوش بہ بیوٹی سنٹر‘‬ ‫جدید بک ہ ؤس‘ سج د انڈری‘ شیزان بیکری‘ ذکی‬ ‫ٹرانسپورٹ‘ چن ٹرانپورٹ سروسز وغیرہ‬ ‫بہت سے پرزوں کے ن ہندوی میں مست مل ہو گئے ہیں۔‬ ‫مثا‬ ‫رنگ پسٹن لیور بریک اکسل بل رینچ سکریو ہنڈل سٹیرنگ‬ ‫مڈگ رڈ ٹ ئر ٹیو چین کریئر پ گ وغیرہ‬ ‫ان دونوں زب نوں ک مشترک س بقہ ہے۔ غ لب ہندوی میں‬ ‫پہ ے سے مست مل ہے۔ مثا‬ ‫ان پڑھ‘ ان گنت‘ انج ن‘ ان دیکھ ‘ ان مٹ‘ ان دات ‘ ان حد‬ ‫ان ڈیو‘ ان نون‘ ان جسٹ‘ ان ایبل‘ان ائک‬ ‫بہت سے ال ظ تبدی ی م ہو کے س تھ ہندوی ک حصہ بنے‬


‫ہیں۔ مثا‬ ‫‪Blade, break, discharge, taxi, copy,‬‬ ‫‪glass, circle, school, tube, lead, plate jug‬‬ ‫متب دل آوازوں کے س تھ بہت سے ال ظ پڑھنے سننے کو‬ ‫م تے ہیں۔ مثا‬ ‫سی ڈی سے سی ٹی‘ پریڈ سے پریٹ‘ رپورٹ سے رپٹ‬ ‫وغیرہ‬ ‫انگریزی ال ظ کے س تھ ہندوی مص در کی بڑھوتی ع سی‬ ‫ب ت ہے۔ مثا‬ ‫اپریشن کرن ‘ ہون ‘ ہو چکن ۔ ایڈٹ کرن ‘ ہون ۔ ایڈوانس دین ‘‬ ‫ہون ‘ لین ۔ ریجکٹ کرن ‘ ہون ۔ ٹکٹ دین ‘ لین ‘ م ن ۔ لیکچر‬ ‫دین ‘ ہون ۔ ایڈوائس دین ‘ کرن ‘ م ن ‘ ہون ۔ ہسٹری پڑھن ‘‬ ‫پڑھ ن ‘ لکھن ‘ بنن ۔ رپوارٹ کرن ‘ م ن ‘ ہون ‘ لکھن ۔‬ ‫ب ض بڑے عجی و غری آمیزے سننے کو م تے ہیں۔ مثا‬ ‫چیبڑ (چپ بورڑ)‘ منٹ م ر‘ ممکن ٹی‘ ٹربات وغیرہ‬ ‫‪ch‬سی ایچ چ کے لیے چرچ‘ چٹ‘ چ رج‘ چیپ وغیرہ‬


‫ایس ایچ ش کے لیے جیسے شرٹ‘ شپ‘ شیپ‘ فش‬ ‫‪sh‬وغیرہ‬ ‫انگریزی میں مرک جبکہ ہندوی میں ان کے لیے م رد‬ ‫آوازیں موجود ہیں۔‬ ‫بہت سی چیزوں کے ن اردو میں داخل ہو گیے ہیں۔ اکثر‬ ‫چیزیں بیرونی مم لک کی ایج د ہیں۔‬ ‫کولر‘ فریج‘ ڈش؛ گاس‘ پ یٹ‘ بیف‘ مٹن‘ کک‘ ک رک‘‬ ‫کاک‘ فین‘ واشنگ مشین‘ ٹی ی فون‘ مو ءل‘ واش رو ‘‬ ‫کچن‘ ٹی ی ویژن‘ بیسن‘ اوون‘ بیڈ‘ شمپو‘ چیئر‘ ٹیبل‘‬ ‫کوٹ‘ کورٹ‘ شرٹ‘ کوکر‘ شمیز‘ کپ‘ سوپ‘ بک‘ ک پی‘‬ ‫پنسل‘ پن‘ م ڈل‘ پیپر‘ ب یڈ وغیرہ‬ ‫دف تر کے ن داخل ہو گءئے ہیں۔ مثا‬ ‫بیورو‘ سیکٹریریٹ‘ پریذنٹ ہ ؤس‘ پی ای ہ ؤس‘ سی ای‬ ‫ہ ؤس‘ اسمب ی چیمبرز‘ اسمب ی ہ ل‘ گورنر ہ ؤس‘ ڈی سی‬ ‫آفس‘ ڈی ای او آفس‘ انسپکٹریٹ‘ ڈاکٹریٹ‘ اے جی آفس‘‬ ‫پولیس اسٹیشن‘ ری وے اسٹیشن‘ بکنگ آفس وغیرہ‬ ‫بہت س ری ادوی ت کے ن ہندوی کے ذخیرہء ال ظ میں‬ ‫داخل ہو گئے ہیں اور ان ک است م ل ہندوی اور اس سے‬ ‫مت لوگوں کے مزاج اور ضرورت کے مط ہوت ہے۔‬


‫مثا‬ ‫ک ل پول‘ بیروفین‘ سپٹران‘ پیراسیٹ مول‘ ڈسپرین‬ ‫میڈیکل سے مت‬ ‫ہو گئے ہیں۔ مثا‬

‫لوگوں کے عہدوں کے ن بھی م نوس‬

‫نرس‘ وارڑ بوائے‘ ڈسپنسر‘ ڈاکٹر‘ سرجن ای ایس‬ ‫اور بہت سے ال ظ غیرم نوس نہیں رہے۔ مثا‬ ‫میڈیکل سٹور‘ ب ڈ گروپ‘ ایمرجنسی‘ ڈی وری‘ سزرین‘‬ ‫وارڑ‬ ‫فوجی عہدوں اور فوج سے بہت سے مت ق ت کے ن اس‬ ‫زب ن میں داخل ہو گئے ہیں۔ مثا‬ ‫لنگر کم نڈرصوبیدار میجر‘ کیپٹن‘ میجر‘ کرنل‘ برگیڈیر‘‬ ‫جرنل‘ چیف آف آرمی سٹ ف‘ کم نڈنٹ‘ کور کم نڈر‘ ونگ‬ ‫کم نڈر‘ گن‘ سٹین گن‘ برین گن‘ ٹینک‘ پریڈ‘ پریڈ گراؤنڈ‬ ‫وغیرہ‬ ‫ان گنت سول عہدوں کے ن پڑھنے سننے کو م تے ہیں۔‬ ‫مثا‬ ‫میٹر ریڈر‘ ڈرائیور‘ پوسٹ مین‘ پوسٹ م سٹر‘ اسٹیشن‬ ‫م سٹر‘ ائین مین‘ ایس ڈی او‘ اک ؤنٹنٹ‘کنٹرولر‘ پرنسپل‘‬


‫سول جج‘ سیشن جج‘ جسٹس‘ چیف جسٹس‘ بریسٹر‘‬ ‫کونس ر‘ ڈی جی‘ اک نومسٹ‘ ڈین‘ چ نس ر‘ منیجر‘ کیشئر‘‬ ‫گیٹ کیپر‘ ریک رڈ کیپر‘ ڈائریکٹر‬ ‫ایسی ان گنت صورتیں زب ن کے سنجیدہ مط ل ہ سے‬ ‫س منے ائی ج سکتی ہیں۔ اس ذیل میں‘ میں نے ایک‬ ‫ارت ش پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ت کہ اہل فکر اس‬ ‫موضوع پر سنجیدہ توجہ دے سکیں۔ کچھ لوگ ال ظ کے‬ ‫دخول سے چڑتے ہیں ح اں کہ اس میں چڑنے والی کوئی‬ ‫ب ت نہیں۔ اس سے اس زب ن کی لچک پذیری اور اس کے‬ ‫س ؤنڈ سسٹ کی وس ت و فراخی ک اندازہ ہوت ہے۔ اس‬ ‫سے اظہ ری عمل میں فراخی کے رستے دراز ہوتے ہیں۔‬ ‫یہ کوئی ایسی نئی ب ت نہیں ایس تو ہمیشہ سے ہوت آی‬ ‫ہے۔‬ ‫ہر زاویہ نظر سے دیکھ لیں ہندوی کی ٹ نگ ب ہر نظر نہیں‬ ‫آئے۔‬ ‫ہندوی کے انگریزی پر لس نی تی اثرات‬


‫مخت ف عاقوں کے لوگوں کی زب ن' میں حیرت انگیز‬ ‫لس نی تی مم ث توں ک پ ی ج ن ' ات قیہ نہیں ہو سکت ۔ اس‬ ‫کے پس منظر میں' کسی سطع پر کوئی ن کوئی واق ہ'‬ ‫م م ہ' ح دثہ' ب ت ی کچھ ن کچھ ضرور وقوع میں آی ہوت‬ ‫ہے' چ ہے اس کی حیثیت م مولی ہی کیوں نہ رہی ہو' اس‬ ‫ک اثر ضرور مرت ہوا ہوت ہے۔‬ ‫ایک دیسی ی بدیسی شخص' ب زار میں کچھ خریدنے' کسی‬ ‫سے م نے ی کسی اور ک سے آت ہے۔ وہ اپنے اس‬ ‫ٹھہراؤ کے مختصر دورانیے میں' کوئی اصطاح' کوئی‬ ‫ضر المثل' کوئی مح ورہ ی کوئی ل ظ چھوڑ ج ت ہے۔ اس‬ ‫ک بوا' ایک شخص است م ل میں ات ہے' پھر دوسرا' ان‬ ‫کی دیکھ دیکھی میں وہ مہ رت میں آ ج ت ہے۔ ا یہ از‬ ‫نہیں کہ وہ اصل ت ظ' اصل م نوں ی پھر اصل است م ل کے‬ ‫مط ب ' است م ل میں آ ج ئے۔ وہ اپنی اصل سے کہیں دور'‬ ‫بل کہ بہت دور ج سکت ہے۔ م نوی اعتب ر سے اصل سے‬ ‫برعکس است م ل میں آ سکت ہے۔ کئی م نی اور است م ل‬ ‫س منے آ سکتے ہیں اور پھر اس کے غیر ہونے ک گم ن‬ ‫تک نہیں گزرت ۔‬ ‫یون نیوں ک سی سی' ع می' ادبی اور ثق فتی حوالہ سے' دنی‬ ‫بھر میں ٹہک تھ ۔ آتے وقتوں کی عظی سی سی' عسکری‬


‫اور مک ر قوت' برط نیہ ان کی دسترس سے ب ہر نہ تھی۔‬ ‫اسی طرح برصغیر بھی یون نیوں کے زیر اثر رہ ۔ یون ن ک‬ ‫لٹیرا اعظ ' برصغیر پر بھی حم ہ ہوا۔ یہ ں پٹ گی ۔ زخمی‬ ‫ہوا اور یہ ں سے د دب کر بھ گ گی ۔ ایک یون نی قبی ہ یہ ں‬ ‫رک گی ۔ کیاش میں ان ک پڑاؤ ٹھہرا۔ یہ یون نی کئی‬ ‫وائیتوں پر حکومت کرتے رہے۔ اس یون نی عسکری‬ ‫قبی ے کی نسل' آج بھی' یہ ں بہت س ری اپنی یون نی‬ ‫روای ت کے س تھ موجود ہے۔‬ ‫رومن برٹن‪ :‬بریط نیہ' بریٹن' برط نیہ۔ آئی لینڈ ک عاقہ تھ '‬ ‫جو کہ رومن ایمپ ئر کی حکومت میں تھ ۔ برصغیر رومن‬ ‫شہنش ہت سے ب ہر نہ تھ ۔ برصغیر میں ان کے ہونے کے‬ ‫بہت سے اث ر انٹرنیٹ پر تاشے ج سکتے ہیں۔ انگریزی‬ ‫ک رس الخط آج بھی رومن ہے۔ اس رس الخط میں لکھی‬ ‫اردو کو رومن اردو ک ن دی ج ت ہے۔‬ ‫برط نیہ والے ‪ 1857‬سے بہت پہ ے' برصغیر میں وارد ہو‬ ‫گیے تھے' ت ہ ‪ 1857‬سے ‪ 1947‬تک برصغیر ان ک رہ ۔‬ ‫محسن آزادی ہٹ ر کی عن یت اور مہرب نی سے' برط نیہ کے‬ ‫ہ تھ' پ ؤں اور کمر کی ہڈی ں ٹوٹ گئیں اور سونے کی چڑی '‬ ‫اس کی دسترس میں نہ رہی۔ اس کے ب د امریکہ کی گڈی‬ ‫چڑھی اور آج تک چڑھی ہوئی ہے۔ گوی دونوں یون نیوں‬


‫کے زیر تس ط تھے' اس کے ب د رومیوں کے رہے۔ اس‬ ‫کے ب د برصغیر پر برط نیہ ک کھرا کھوٹ سک چا اور ا‬ ‫حضرت امریکہ بہ در کی خداوندی ک دور دورہ ہے۔‬ ‫اس کی ترکی کے لیے' انگریزی ک احقہ موجود نہیں۔‬ ‫یہ خ لص برصغیر سے مت ہے۔ مثا دیوارک ' پریمیک '‬ ‫انومیک ' ک مولیک وغیرہ گوی امریک ' برصغیر ک ل ظ ہے۔‬ ‫مثا امبڑیک ‪ .‬اگر کسی شخص ک ن ہے' تو اس ک برصغیر‬ ‫سے کوئی ن کوئی رشتہ' ضرور رہ ہو گ ۔ امریکہ میں بھی‬ ‫انگریزی زب ن است م ل میں آتی ہے۔‬ ‫ص ف ظ ہر ہے' ان عاقوں کے لوگ یہ ں آئے۔ ان عاقوں‬ ‫سے' جس حوالہ سے بھی سہی' یہ ں سے لوگ گیے۔‬ ‫مزے کی ب ت یہ کہ آج بھی اکھوں کی ت داد میں مغر کے‬ ‫مخت ف عاقوں میں برصغیر کے لوگ' ع رضی اور مستقل‬ ‫اق مت رکھتے ہیں۔ یہ کہن کہ برصغیر والے ہی مت ثر ہوئے'‬ ‫سراسر زی دتی کے مترادف ہو گ ۔ ح ک ہو کہ محکو ' ایک‬ ‫وایت میں اق مت رکھنے کے سب ' ایک دوسرے سے‬ ‫مت ثر ہوتے ہیں۔ ہندوی' جوآل ہند کی زب ن ہے' نے دنی کی‬ ‫تم زب نوں کو' لس نی' فکری اور اس وبی حوالہ سے مت ثر‬ ‫کی ‪ .‬اسی طرح یہ بھی اپنی بےپن ہ لچک پذیری کے ب عث'‬ ‫ان سے مت ثر ہوئی۔ مخت ف زب نوں کے ال ظ' اس کے‬


‫ذخیرہءاست م ل میں داخل ہیں۔‬ ‫مت ثر کرنے کی' کئی صورتیں اور سطحیں ہوسکتی ہیں۔‬ ‫‪1‬‬ ‫ک چر زی دہ تر خواتین کے زیر اثر رہ ہے۔‬ ‫زیورات' لب س' بن ؤ سنگ ر کے اطوار' ن ز و نخرہ وغیرہ‬ ‫کے چ ن' ایک دوسرے کے اختی ر کرتی ہیں۔‬ ‫نشت و برخواست کے اصول اختی ر کرتی ہیں۔‬ ‫گ ت گو میں' ایک دوسرے کی طرز اختی ر کرتی ہیں۔‬ ‫گھر میں س م ن کی درآمد اور اس کے رکھنے اور سج نے‬ ‫کے طور' اپن تی ہیں۔‬ ‫کچن اور اس سے مت قہ امور میں' نق لی کرتی ہیں۔‬ ‫اشی ئے اور اطوار پکوان اپن تی ہیں۔‬ ‫فقط یہ امور ہی انج نہیں پ تے' بل کہ ان کے حوالہ سے‬ ‫اسم ' ص ت' س بقے' احقے' اس و بھی اس گھر میں‬ ‫منتقل ہوتے ہیں۔‬ ‫‪2‬‬ ‫ک زوروں کی ہنرمندی اور ہنرمندوں پر ڈاکے پڑتے ہیں‬ ‫ان کے وس ئل قدرت پر قبضہ جم ی ج ت ہے‬


‫ان کے ع می و ادبی ورثے کو غ رت کرنے کے س تھ اس‬ ‫کی بڑی بےدردی سے لوٹ م ر کی ج تی ہے۔‬ ‫ان تینوں امور کے حوالہ سے ان کی زب ن میں بہت کچھ‬ ‫بدیسی داخل ہو ج ت ہے۔‬ ‫‪3‬‬ ‫اس کے عاوہ م شرتوں کے انساک سے‬ ‫بہت سے م شرتی اطوار‬ ‫انس نی رویے‬ ‫رس و رواج‬ ‫مذہبی اور نظری تی اصول‬ ‫سی سی' م شی اور ارضی تی طور طریقے اور خصوصی و‬ ‫عمومی چ ن‬ ‫ایک دوسرے کے ہ ں منتقل ہوتے ہیں اور صدیوں ک س ر‬ ‫کرتے ہیں۔ آتے وقتوں میں کچھ کے کچھ ہو ج تے ہیں'‬ ‫لیکن ب قی رہتے ہیں۔ ب ض کی' ہزاروں س ل ب د بھی'‬ ‫ب زگشت ب قی رہتی ہے۔ یہ امور زب ن سے ب ا ب ا نہیں‬ ‫ہوتے۔ ان س ک زب ن سے اٹوٹ رشتہ استوار ہوت ہے۔‬ ‫اشی ئے خوردنی اور اشی ئے است م ل مثا کپڑے' برتن‬ ‫وغیرہ‬


‫اشی ئے حر اور حربی ضوابط‬ ‫طرز ت میر وغیرہ‬ ‫قبریں بن نے کے انداز‬ ‫ک تب دلہ ہوت ہے' ان کے حوالہ سے زب ن کو بہت کچھ‬ ‫میسر آت ہے۔ میں نے یہ ں' محض گنتی کے دو چ ر‬ ‫اموردرج کیے ہیں' ورنہ ایسی بیسیوں چیزیں ہیں' جو‬ ‫وقوع میں آتی ہیں اور ان ک زب نوں پر اثر مرت ہوت ہے۔‬ ‫اس ذیل میں' قرتہ ال ین حیدر کی تحریروں ک مط ل ہ م ید‬ ‫رہے گ ۔ انگریزی بھی' برصغیر کی زب ن ہندوی سے' مت ثر‬ ‫ہوتی آئی ہے جس کے لیے' ان کی ش عری ک مط ل ہ کی‬ ‫ج سکت ہے۔‬ ‫ب ض اردو اور انگریزی کی ضمیروں میں' صوتی مم ث ت‬ ‫موجود ہے۔ مثا‬ ‫‪Of fortune’s favoured sons, not me.‬‬ ‫‪: Wish‬نظ‬ ‫‪: Matthew Arnold‬ش عر‬ ‫‪To die: and the quick leaf tore me‬‬ ‫‪me‬‬

‫کے لیے اردو میں مجھے مست مل ہے۔ پوٹھوہ ر میں‬


‫ضمیر می آج بھی بول چ ل میں ہے۔‬ ‫‪........‬‬ ‫‪My feeble faith still clings to Thee,‬‬ ‫!‪: My God! O Let Me Call Thee Mine‬نظ‬ ‫‪: Anne Bronte‬ش عر‬

‫‪my‬‬ ‫انگریزی میں ع است م ل کی ضمیر اردو میں اس ضمیر‬ ‫کے میرا مست مل ہے۔‬ ‫‪........‬‬ ‫‪you can keep your head when all about you‬‬

‫‪: If‬نظ‬ ‫‪: Rudyard Kipling‬ش عر‬ ‫اردو میں تو ع بول چ ل میں موجود ہے۔‬ ‫‪........‬‬

‫بہت سے ال ظ آوازوں کے تب دل ی کسی اور صورت میں‬


‫انگریزی میں مست مل ہیں۔ مثا‬ ‫اردو میں دن انگریزی میں ڈان‬ ‫‪ more‬مور‬ ‫‪ m‬اور الف کی آواز می ی نی‬ ‫‪ m‬میں بدلی ہے۔‬ ‫کو حشوی قرار دی ج سکت ہے۔‬ ‫‪Once more before my dying eyes‬‬ ‫‪Wish: Matthew Arnold‬‬ ‫ودوا اپنی اص میں ود اور وا ک مرک ہے۔ بےوا مست مل‬ ‫صورت بیوہ۔‬ ‫بے نہی ک س بقہ ہے‬ ‫بہت سے ل ظ اس طور سے لکھے ج تے ہیں۔ مثا‬ ‫بیچ رہ بج ئے بےچ رہ‬ ‫بیدل بج ئے بےدل‬ ‫بیہوش بج ئے بےہوش‬ ‫بیک ر بج ئے بےک ر‬


‫بیوہ بےوا بم نی جس ک ور نہ رہ ہو ر کی آواز گر گئی‬ ‫ہے‪ .‬ودوا بےوا کے لیے بوا ج ت ہے۔‬ ‫انگریزی میں وڈو۔ وڈ او‬ ‫‪widow‬‬ ‫وڈ آؤٹ اس کے' ی نی ور' او ۔ ور‬ ‫‪...............‬‬ ‫کئی ایک ل ظ انگریزی کی صوتی ت کے پیش نظر' م مولی‬ ‫سی تبدی ی کے س تھ' انگریزی میں داخل ہو گئے ہیں۔‬ ‫‪no‬‬ ‫انگریزی میں ن ی کے لیے است م ل ہوت ہے اردو میں نہ‬ ‫ج کہ انگریزی میں نو‬ ‫نو' ب طور نہی ک س بقہ‬ ‫نوسر نوٹنکی‬ ‫نو‪ .‬سر‪ .‬ب ز‬ ‫ب طور س بقہ ن ن ک فی ن زیب ن چیز‬ ‫نہ ب طور س بقہ نہ ج ؤ' نہ چھیڑو' نہ کرو' نہ م رو‬ ‫ان بولتے ل ظوں کو‘ ہ سن نہ سکے‬


‫آنکھوں سے‘ چن نہ سکے‬ ‫ مقصود حسنی‬:‫کس منہ سے‬ ‫نہ کڑا نہ کھ را‬ ‫ مقصود حسنی‬:‫چل' محمد کے در پر چل‬ I have no wit, no words, no tears; A Better Resurrection: Christina Rossetti No motion has she now, no force; A Slumber Did My Spirit Seal: William Wordsworth Thou hast no reason why ! Thou canst have none ; Human Life: Samuel Taylor Coleridge ............ ‫رشتوں کے حوالہ سے بھی انگریزی میں کچھ ال ظ داخل‬ ‫ہوئے ہیں۔ مثا‬ ‫پنج بی میں بھرا‬ ‫ف رسی میں برادر‬


‫اردو میں بھی برادر مست مل ہے‬ ‫انگریزی میں‬ ‫‪brother‬‬ ‫اصل ل ظ برا۔ بھرا ہی ہے ج کہ در ب طور احقہ داخل ہوا‬ ‫ہے۔ ایک پہ ے ہے ت ہی دوسرا برا ی بھرا ہے۔ دونوں ک‬ ‫برابر ک رشتہ ہے۔ انگریزی میں واؤ الف ک تب دل ہے۔ یہ‬ ‫رویہ طور میواتی اور راجھست نی میں موجود ہے۔ برا سے‬ ‫برو ب م نی بھ ئی۔‬ ‫در ک احقہ‬ ‫‪father, mother‬‬ ‫میں بھی موجود ہے‬ ‫در' ب طور س بقہ اور احقہ اردو میں بھی رواج رکھت ہے‪.‬‬ ‫مثا‬ ‫درگزر' درحقیقت' درکن ر‬ ‫چ در چ در‬ ‫‪His brother doctor of the soul,‬‬ ‫‪Wish: Matthew Arnold‬‬ ‫ف رسی میں' م ں کے لیے م در مست مل ہے۔ اردو میں م در‬


‫پدر آزاد ع بول چ ل میں ہے۔ اصل ل ظ م ہی ہے۔ ں‬ ‫حشوی ہے‪ .‬یہ ہی صورت ف رسی کے س تھ ہے۔ انگریزی‬ ‫میں‬ ‫‪mother‬‬ ‫بولتے ہیں۔ اس میں اصل ل ظ مو ہی ہے' ف رسی کی طرح‬ ‫در الح قی ی نی خ رجی ہے۔‬ ‫ہر برتن کی زب ن پہ‬ ‫اس کی مرحو م ں ک نوحہ‬ ‫ب پ کی بےحسی اور‬ ‫جنسی تسکین ک بین تھ‬ ‫نوحہ‪ :‬مقصود حسنی‬ ‫‪............‬‬ ‫مرکب ت حسن ش ر میں داخل ہیں۔ یہ شخصی اور مجموعی‬ ‫رویوں کے عک س اور ش عر کی اختراعی فکر کےغم ز‬ ‫ہوتے ہیں۔ یہ ہی نہیں' زب ن کی وس ت بی نی کی بھی‬ ‫گواہی دیتے ہیں۔ اردو اس ذیل میں کم ل کی شکتی رکھتی‬ ‫ہے۔ انگریزی میں بھی مرکب ت م تے ہیں۔ اس ذیل میں‬ ‫اردو کے پ ئے کے مرکب ت کی ح مل ن سہی' لیکن اس ک‬ ‫دامن اس کم ل زب ن سے تہی نہیں۔ اردو اور انگریزی سے‬


‫چند مث لیں ماحظہ فرم ئیں۔‬ ‫موس گل ابھی محو کا تھ کہ‬ ‫‪..........‬‬ ‫پریت پرندہ‬ ‫‪..........‬‬ ‫اس کی بین ئی ک دی بجھ گی‬ ‫‪.........‬‬ ‫پھر اک درویش مین ر آگہی پر چڑھ‬ ‫‪......‬‬ ‫یتیمی ک ذو لٹی ڈبو دیت ہے‬ ‫من کے موس دبوچ لیت ہے‬ ‫حیرت تو یہ ہے‪ :‬مقصود حسنی‬ ‫‪greedy heirs, ceremonious air, hideous‬‬ ‫‪show, poor sinner, undiscovered‬‬ ‫‪mystery, death’s winnowing wings,‬‬


dying eyes, dew of morn, generous sun, silent moves, ruddy eyes, tears of gold, clouds of gloom, golden wings, trembling soul, make dreams, worth of distance, Shadows of the world, golden Galaxy, happy hours, sun in flight, Wish: Matthew Arnold From bands of greedy heirs be free; The ceremonious air of gloom – All which makes death a hideous show! ‫پوشیدہ نم ئش‬ Of the poor sinner bound for death, ‫م س گن ہ گ ر بےچ رہ گن ہ گ ر‬ That undiscovered mystery Which one who feels death’s winnowing wings Once more before my dying eyes ‫ڈوبتی آنکھیں‬


Bathed in the sacred dew of morn ‫ت سف کی بوندیں‬ But lit for all its generous sun, Where lambs have nibbled, silent moves They look in every thoughtless nest, ‫فکر سے ع ری گھروندا‬ Seeking to drive their thirst away, ‫ہ نکتی پی س‬ And there the lion’s ruddy eyes ‫مغرور نگ ہیں‬ Shall flow with tears of gold, Night: William Blake Sometimes there are clouds of gloom Still buoyant are her Life: Charlotte Bronte My trembling soul would fain be Thine ‫لرزتی روح‬


My God! O Let Me Call Thee Mine! Anne Bronte If you can dream – and not make dreams your master; ‫خوا بنن‬ With sixty seconds’ worth of distance run If: Rudyard Kipling Shadows of the world appear. Hung in the golden Galaxy. The Lady Of Shalott: Alfred Tennyson Now stand you on the top of happy hours, ‫مسرور لمحے‬ But wherefore do not you a mightier way Shakespeare And then, O what a glorious sight Address To A Haggis: Robert Burns


‫‪Wild men who caught and sang the sun‬‬ ‫‪in flight,‬‬ ‫مرکب ت تحریر کے اختص ری م م ے میں' حد درجہ م ون‬ ‫ہوتے ہیں' ب ینہ تشبیہ ت ن صرف اس کو نم ی ں کرتی ہیں'‬ ‫بل کہ اس کی ک ئن ت میں مم ث تیں بھی تاشتی ہیں۔ یہ ہی‬ ‫نہیں' اختص ری عمل میں بھی' اپنے حصہ ک کردار ادا‬ ‫کرتی ہیں۔ میر ک یہ م روف ترین ش ر ماحظہ ہو۔‬ ‫ن زکی اس کے ل کی کی کہیے‬ ‫پنکھڑی اک گا سی ہے‬ ‫اس سے ن صرف لبوں کی ن زکی س منے آئی ہے' بل کہ‬ ‫چند ل ظوں میں کئی ص ح ت پر محیط ک سمیٹ دی گی ہے۔‬ ‫تشبیہ ت کے م م ہ میں' انگریزی اردو کے قری تر ہے۔‬ ‫م ضی ب ید اورانگریز کے برصغیری عہد میں' اس زب ن‬ ‫نے انگریزی کو مت ثر کی ہو گ ۔ اردو اور انگریزی سے‬ ‫چند مث لیں ماحظہ فرم ئیں۔‬ ‫س وٹ سے پ ک سہی‬


‫پھر بھی‬ ‫حنطل سے کڑوا‬ ‫اترن ک پھل‬ ‫ مقصود حسنی‬:‫چل' محمد کے در پر چل‬ ‫س ون رت میں‬ ‫آنکھوں کی برکھ کیسے ہوتی ہے‬ ‫ مقصود حسنی‬:‫مت پوچھو‬ My life is like a faded leaf My life is like a frozen thing, My life is like a broken bowl, Can make you live yourself in eyes of men. But wherefore do not you a mightier way Shakespeare ........ A Better Resurrection: Christina


Rossetti Blind eyes could blaze like meteors and be gay, ........ Do Not Go Gentle Into That Good Night Dylan Thomas The moon like a flower Night: William Blake ........ And Joy shall overtake us as a flood, On Time: Milton ........ Blind eyes could blaze like meteors and be gay, Do Not Go Gentle Into That Good Night Dylan Thomas ........ Made snow of all the blossoms; at my


‫‪feet‬‬ ‫‪Like silver moons the pale narcissi lay‬‬ ‫‪Holy Week At Genoa: Oscar Wilde‬‬ ‫‪........‬‬ ‫‪Shall shine like the gold‬‬ ‫‪Night: William Blake‬‬ ‫‪........‬‬ ‫‪Hops like a frog before me.‬‬ ‫‪Brooding Grief: D.H.Lawrence‬‬ ‫حسن واختص ر' موازنہ' ت ریخ اور ع و سے راوبط کی ذیل‬ ‫میں ت میح کو بڑی اہمیت ح صل ہے۔ اردو ش عری میں اس‬ ‫ک ع ' برمحل اور باتک ف است م ل م ت ہے۔ مثا‬ ‫سن ہے‬ ‫یوسف کی قیمت‬ ‫سوت کی اک انٹی لگی تھی‬ ‫عصر ح ضر ک مرد آزاد‬


‫دھویں کے عوض‬ ‫ضمیر اپن بیچ دیت ہے‬ ‫نظ ‪ :‬سن ہے' مقصود حسنی‬ ‫وہ آگ‬ ‫عزازئیل کی جو سرشت میں تھی‬ ‫اس آگ کو نمرود نے ہوا دی‬ ‫اس آگ ک ایندھن‬ ‫ق رون نے پھر خرید کی‬ ‫اس آگ کو فرعون پی گی‬ ‫اس آگ کو حر نے اگل دی‬ ‫یزید مگر نگل گی‬ ‫صبح ہی سے‪ :‬مقصود حسنی‬ ‫انگریزی میں ب کثرت ن سہی' اس سے ک ضرور لی گی‬ ‫ہے۔ مثا‬ ‫;‪To feel the universe my home‬‬


Wish: Matthew Arnold In heaven’s high bower, The angels, most heedful, Night: William Blake And flamed upon the brazen greaves Of bold Sir Lancelot.

The Lady Of Shalott: Alfred Tennyson Shall I compare thee to a summer’s day? So are you to my thoughts That God Forbid That time of year Against My Love: Shakespeare


Cast in the fire the perish’d thing; Melt and remould it, till it be A royal cup for Him, my King: O Jesus, drink of me A Better Resurrection: Christina Rossetti ‘Jesus the son of Mary has been slain, Holy Week At Genoa: Oscar Wilde I long for scenes where man hath never trod A place where woman never smiled or wept there to abide with my creator God, ‫خل‬ I am: John Clare


If even a soul like Milton’s can know death ; Human Life: Samuel Taylor Coleridge Biting my truant pen, beating myself for spite: "Fool," said my Muse to me, "look in thy heart, and write." Loving in truth: Phlip Sidney ‫ضدین پر ک ئن ت استوار ہے۔ یہ شن خت ک ک یدی وسی ہ ہیں۔‬ ‫اردو ش عری میں' صن ت تض د ک است م ل م ت ہے۔ خوبی‬ ‫کی ب ت یہ کہ ضدین ایک دوسرے سے مت ہوتی ہیں۔‬ ‫مثا‬ ‫وہ قیدی نہ تھ‬ ‫خیر وشر سے بے خبر‬ ‫م صو‬ ‫فرشتوں کی طرح‬


‫نظ ‪ :‬نوحہ' مقصود حسنی‬ ‫ایندھن‬ ‫دیکھت اندھ سنت بہرا‬ ‫سکنے کی منزل سے دور کھڑا‬ ‫ظ دیکھت ہے‬ ‫آہیں سنت ہے‬ ‫بولت نہیں کہت نہیں‬ ‫جہن ضرور ج ئے گ‬ ‫نظ ‪ :‬نوحہ' مقصود حسنی‬ ‫اس صن ت ک ' انگریزی ش عری میں بھی م ت ہے اور‬ ‫است م ل ک طریقہ اردو سے قط ی مخت ف نہیں۔ چند مث لیں‬ ‫ماحظہ فرم ئیں‬ ‫‪And up and down the people go,‬‬ ‫‪The Lady Of Shalott: Alfred Tennyson‬‬


‫‪The friends who come, and gape, and‬‬ ‫;‪go‬‬ ‫‪Wish: Matthew Arnold‬‬ ‫‪And by his health, sickness‬‬ ‫‪Night: William Blake‬‬ ‫‪A place where woman never smiled or‬‬ ‫‪wept‬‬ ‫‪I am: John Clare‬‬ ‫ہ صوت ال ظ ک است م ل' غن اور آہنگ کی حصولی میں'‬ ‫بڑا اہ کردار ادا کرتے ہیں۔ اردو غزل میں شگ تگی'‬ ‫ش ئستگی اور وارفتگی اسی کی مرہون منت ہے۔ نظ کے‬ ‫ش را نے بھی اس صن ت کو با تک ف است م ل میں رکھ‬ ‫ہے۔ مثا‬ ‫عہد شہ‬

‫میں بےحج‬

‫بےکسی بھی عج قی مت تھی۔‬


‫صبح اٹھتے مشقت اٹھ تےعوضوانے کو ہ تھ بڑھ تے بے‬ ‫نقط سنتے۔ س نسیں اکھڑ ج تیں مہر بہ ل جیتے کہ‬ ‫س نسیں ب قی تھیں۔ جین تو تھ ہی لہو تو پین تھ ہی۔‬ ‫یہ ہی فیص ہ ہوا تھ ‪ :‬مقصود حسنی‬ ‫مضمون ایک طرف' یہ ہ صوت ال ظ ہی' اس پہرے کو نثر‬ ‫ک سرم ی رہنے نہیں دیتے۔ انگریزی ش عری میں بھی' یہ‬ ‫صن ت دیکھنے کو م تی ہے۔ مثا‬ ‫!‪Must need read clearer, sure, than he‬‬ ‫‪Bring none of these; but let me be,‬‬ ‫‪Nor bring, to see me cease to live,‬‬ ‫!‪To work or wait elsewhere or here‬‬ ‫‪Wish: Matthew Arnold‬‬ ‫‪Still strong to bear us well.‬‬ ‫‪Manfully, fearlessly,‬‬ ‫‪The day of trial bear,‬‬ ‫‪For gloriously, victoriously,‬‬


‫!‪Can courage quell despair‬‬ ‫‪Life: Charlotte Bronte‬‬ ‫صن ت تکرار ل ظی' جہ ں آہنگ کے لیے ن گزیر ہے' وہ ں‬ ‫ب ت میں زور اور وض حت ک سب بنتی بھی ہے۔ اردو میں‬ ‫اس صن ت ک است م ل ع م ت ہے۔ مثا‬ ‫وہ قتل ہو گی‬ ‫پھر قتل ہوا‬ ‫ایک ب ر پھر قتل ہوا‬ ‫اس کے ب د بھی قتل ہوا‬ ‫وہ مس سل قتل ہوت رہ‬ ‫ج تک سیٹھوں کی بھوک‘ نہیں مٹ ج تی‬ ‫ج تک خواہشوں ک ‘ جن زہ نہیں اٹھ ج‬ ‫وہ قتل ہوت رہے گ‬ ‫وہ قتل ہوت رہے گ‬ ‫ج تک‪ :‬مقصود حسنی‬


‫ا انگریزی ش عری سے چند مث لیں ماحظہ فرم ئیں۔‬ If you can wait and not be tired by waiting, Or, being lied about, don’t deal in lies, Or, being hated, don’t give way to hating, And yet don’t look too good, nor talk too wise; .................. If you can dream – and not make dreams your master; If: Rudyard Kipling If you can bear to hear the truth you’ve spoken Life: Charlotte Bronte Four grey walls, and four grey towers, ......... The knights come riding two and two:


........ The helmet and the helmet-feather Burned like one burning flame together, The Lady Of Shalott: Alfred Tennyson Then, horn for horn, they stretch an strive: Address To A Haggis: Robert Burns A little while, a little while, The weary task is put away, And I can sing and I can smile, Alike, while I have holiday. A Little While: Emily Bronte ‫نوٹ‬ ‫انگریزی میں غزل نہیں اسی لیے مث لیں نظ سے لی گئی‬ ‫ہیں۔‬


‫انگریزی دنی کی بہترین زب ن نہیں ہے‬

‫ہ جس عہد سےگزر رہےہیں وہ انگریز اور اس کی زب ن‬ ‫انگریزی ک ہے۔ انگریز کے چی وں چمٹوں اور گم شتوں‬ ‫نے یہ ت ثر ع کر رکھ ہے کہ انگریزی زب ن کے بغیر تر‬ ‫قی ک دروازہ کھل ہی نہیں سکت ۔‬ ‫نتیجہ ک ر بچے کی دنی میں آنے کی غ طی کے س تھ ہی‬ ‫انگریزی کی ت ی ک س س ہ شروع ہو ج ت ہے۔ اس طرح‬ ‫وہ انگریزی کی ت ی ح صل کرنے میں زندگی گزار دیت ہے‬ ‫لیکن دیگر مض مین میں واجبی س بھی نہیں رہ پ ت ۔ تقریب‬ ‫سے برصغیر انگریزی گذیدہ ہے اور یہ ں کے ب سی‬ ‫جو بڑے زبردست یودھ ج کش محنتی اور ہنرمند ہیں‬ ‫اپنوں کے بن ئے گئے اس ق ے کو سر نہیں کر سکے۔‬ ‫ا ایک ہی صورت نظر آتی ہے کہ جوں ہی بچہ پیدا ہو‬ ‫اسے امریکہ کے کسی نرسری ہ ؤس میں بجھوا دی ج ئے‬ ‫ت کہ وہ وہ ں ن صرف انگریزی سیکھ سکے ب کہ اس ک چر‬ ‫سے بھی آگہی ح صل کر سکے۔ موجودہ صورت ح ل کو‬ ‫دیکھتے ہوئے لگت ہے آتے برسوں میں‬


‫۔ بھوک کے سب بچوں کو پیدا ہوتے ہی م ر دی ج ئے‬ ‫گ۔‬ ‫۔ لوگ بھوک پی س اندھیرے ری ستی جبر وغیرہ سے‬ ‫تنگ آ کر خودکشی کرنے پر مجبور ہو ج ئیں گے۔‬ ‫۔ گری اور کمزور کے بچے ت ی ح صل کرنے ک خوا‬ ‫دیکھن بند کر دیں گے۔‬ ‫۔ چوری ڈاکے م ر دھ ڑ اور ہیرا پھیری سے وابستہ لوگ‬ ‫دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر سکیں گے۔‬ ‫عم ی سطع پر دیکھ لیں دس س ل پڑھنے اور س رے‬ ‫مض مین میں ک می بی ح صل کرنے کے ب وجود انگریزی‬ ‫میں فیل ہو ج نے کے سب ط ل ع ص ر پر آ ج ت ہے۔‬ ‫نقل پر گرفت کی صورت میں بچہ ان پڑھ رہ ج ت ہے۔‬ ‫انگریزی کے پرچے کے دن نقل خو ہوتی ہے آگے‬ ‫پیچھے یہ تن س دس فیصد سے زی دہ نہیں رہ پ ت ۔ پ نی‬ ‫کے ہزار بوکے نک ل لینے سے پ نی پ ک نہیں ہو ج ت ج‬ ‫تک کھوہ سے کت نک ل ب ہر نہیں کی ج ت ۔ سوچنے کی ب ت‬ ‫یہ ہے کہ جو انگریزی پڑھنے میں عمر ک اچھ خ ص وقت‬ ‫برب د کر دیتے ہیں انھیں انگریزی آ ج تی ہے؟! س را ک تو‬ ‫گ ئیڈوں کے سہ رے چل رہ ہے۔ ایسے میں انگریزی‬ ‫کیسے آئے گی۔‬


‫سدا ب دش ہی ه کی ‘ برصغر میں بھ نت بھ نت کے لوگ‬ ‫آئے۔ ان کی زب ن کے مت بھی اسی قس کی ب تیں کی‬ ‫ج تی تھیں ترقی تو نہیں ہوئی ۔ یہ ں ک شخص جہ ں تھ‬ ‫وہیں کھڑا ہے۔ گولے اور گم شتے عین سے عیش کر رہے‬ ‫ہیں۔ ان کے کردار پر اگ ی رکھنے والے پولے کھ تے ہیں۔‬ ‫پھر بھی اپنی زب ن کو لگ نہیں دیتے تو ج ن سے ج تے‬ ‫ہیں۔‬ ‫زب ن ک انس نی ترقی سے کوئی ت واسطہ نہیں۔ ترقی‬ ‫انس نی ذہ نت پر انحص ر کرتی ہے۔ ذہ نت زب ن کو ترقی‬ ‫سے ہمکن ر کرتی ہے۔ بیجھے میں کچھ ہو گ تو ہی بوا ی‬ ‫لکھ ج یے گ ۔‬ ‫انگریزی جسے یہ ں کی م سی بن رکھ ہے اس کی دو ایک‬ ‫بنی دی خ میوں ک تذکرہ کرت ہوں‬ ‫۔ ابتدائی آوازیں اظہ ر کے حوالہ سے ن ک فی ہیں۔‬ ‫۔ نہ یت اہ آوازیں چ اور ش اس میں موجود نہیں ہیں۔‬ ‫۔ مرک آوازوں ک نظ کمزور دہرا ن قصں اور پچیدہ ہے۔‬ ‫ا ضمن نمبر کے حوالہ سے چند مث لیں ماحظہ فرم ئیں‬ ‫ش کے لیے دس ی دس سے زی دہ مرک است م ل ہوتے‬ ‫ہیں جبکہ دوسری جگہ ان کی آواز کچھ اور ہوتی ہے۔‬ ‫جیسے‬


‫ ٹی آئ ایکشن‬action ‫ منشن‬mention ‫اسنشیل‬ essential ‫ اڈمیشن‬admition ‫وغیرہ‬ ‫ ایس آئی‬si ‫ ایشی‬asia ‫ م یشی‬malaysia ‫ٹنشن‬ tesion ‫ پنشن‬pension ‫وغیرہ‬ ‫ ایس ایچ‬sh ‫ ش ٹ‬shift ‫ شیٹ‬sheet ‫ شرٹ‬shirt ‫ شپ‬ship‫وغیرہ‬ ‫ سی آئی‬ci ‫ سوشل‬social ‫ اسپیشل‬special ‫شک گو‬ chicago ‫ س ای‬ce ‫ کروشے‬croce ‫ سی ایچ‬ch ‫ نٹشے فٹشے‬Fitche ‫یہ جرمن ل ظ ہیں‬ ‫لیکن انگریزی میں مست مل ہیں‬ ‫ ڈبل ایس آئی‬ssi ‫ مشن‬mission ‫پرمشن‬ permission ‫ اڈمشن‬admission ‫ ڈبل ایس یو‬ssu ‫ ایشو‬issue ‫ اشور‬assure ‫پریشر‬ pressure ‫ اسی یو‬su ‫ شوگر‬suger ‫ شؤر‬sure ‫انشورنس‬ insurance ‫ ایس سی ایچ‬sch ‫ شیڈول‬schizophrenia ‫شیزفرن‬ tu ‫ چ‬chay/chu) picture (pikchar) ‫ پیکچر‬, nature (naichar)


‫‪,‬مکسچر )‪, mixture (mixchar‬نیچر‬ ‫‪, punctual‬ایکچل )‪actual (akchal‬‬ ‫)‪, habitual (habichual‬پنکچل )‪(punkchual‬‬ ‫‪,‬ہبچل‬ ‫)‪, attitude (attichud‬ٹورچر )‪torture (torcher‬‬ ‫‪, vertual‬ک چر )‪, culture (kachar‬ایٹیچود‬ ‫ورچول )‪(virchual‬‬ ‫‪, future‬فورچونیٹ )‪fortunate (forchunate‬‬ ‫فیوچرہر )‪(fuchar‬‬ ‫ہر جگہ اس مرک آواز کی یہ صورت برقرار نہیں رہتی۔‬ ‫‪ ch‬کو چ کے لیے است م ل میں اتے ہیں۔ مثا‬ ‫چٹ ‪ chit‬چیٹ ‪ cheat‬چسٹ ‪chest‬‬ ‫‪ ch‬کو خ کے لیے بھی است م ل کرتے ہیں۔ سی ایچ‬ ‫یہ جرمن ل ظ ہے لیکن انگریزی میں مست مل ہے۔ 'میونخ‬ ‫مثا ‪munich‬‬ ‫اس مرک سے ش کی آواز ک ک بھی لی ج ت ہے۔ مثا‬ ‫‪cliche nietzoche, Fitche, charade‬‬ ‫‪ ch‬کو ک کے لیے بھی است م ل کرتے ہیں۔ جیسے‬ ‫کیمسٹ ‪chemist‬سکول‪ school‬کیمیکل ‪chemical,‬‬


‫ب ور رہن چ ہیے کہ اسی طرح م رد آوزوں کے لیے مرک‬ ‫لیٹرز سے ک چای ج ت ہے۔ یہ بھی کہ یہ مرکب ت کسی‬ ‫ایک آواز کے لیے مخصوص نہیں ہیں۔ مخت ف جگہوں‬ ‫پرمخت ف آوازیں دیتے ہیں۔ اس سے پچیدگی ں پیدا ہو ج تی‬ ‫ہیں۔ یہی نہیں اظہ ری عمل میں روک وٹ پیدا ہوتی ہے۔‬ ‫م ہی اور ت ظ میں ابہ کی صورتیں بڑھتی ہیں۔ غرض کہ‬ ‫انگریزی ک س ؤنڈ سسٹ بنی دی طور پر انتہ ئ ن قص ہے۔‬ ‫ایسی زب ن جس ک س ؤنڈ سسٹ ن ک رہ ی خرابیوں ک شک ر‬ ‫ہو اسے ترقی ک ذری ہ قرار دین دم غی خ ل اور حد سے‬ ‫بڑی ٹی سی کے سوا کچھ نہیں کہ ج سکت ۔‬ ‫‪CaLmInG MeLoDy‬‬

‫بہت م وم تی تحریر‪.‬‬ ‫‪07-20-2012 member.php/25839-Flashpro?s=442ff36af4f829132513aa3b3ab38c07‬‬ ‫‪Flashpro‬‬ ‫‪tehreer achi koshish hai...‬‬ ‫‪magar 10 saal in hee bahsoon mai‬‬


guzarnay kay baad mai iss natijeetay per poochncha hoon kay filwaqt angraizi ki ahmiyaat say inkaar nahi kiya ja sakta... ... aik puri nasal darkar hai iss kam kay liey jis ki lathi us ki bhanse... goray nay mehnaat ki os ki zuban chali... ... agar hum bhi mehnaat karein tu hamari zuban bhi dunya mai uloom kay hasool kay liey boli ja sakti hai... abhi tu angreezi waqt ki zaroorat hai, mujhe apni qoumi zuban urdu per fakhar hai... magar sath hee meri khuwahish hai kay har pakistani achi tarhaan angraezi bol aur samaj sakay, apni baat samjha say aalmi sata per... per sath hee apni zuban urdu mai maharaat rakhta hu... ghar mai practice kay liey tu english theek magar pahli zuban urudu hee ho...


‫‪http://www.friendskorner.com/forum/showthread.php/283345-%D8%A7%D9%‬‬ ‫‪86%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2%DB%8C-%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%‬‬ ‫‪A7-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DB%81%D8%AA%D8%B1%DB%8C%D9%86-%D8‬‬ ‫‪%B2%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D‬‬ ‫‪B%92‬‬

‫انگریزی آج اور آت کل‬ ‫اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزی اس وقت دنی کی ح ک‬ ‫زب ن ہے اور یہ فخر وافتخ ر انگریزی تک ہی محدود نہیں‬ ‫دنی کی ہر ح ک زب ن اس مرتبے پر ف ئز رہی ہے۔ چونکہ‬ ‫ح ک زب ن ک بول چ ل ک ح قہ پہ ے سے وسیع ہو گی ہوت‬ ‫ہے اس لیے اس ک دامن پہ ے کی نسبت دراز ہو ج ت ہے۔‬ ‫اسے ایسے مخصوص لوگ جن کی کہ وہ زب ن نہیں ہوتی‬ ‫اپنی ح ک سے وف داری ظ ہر کرنے کے لیے ح ک زب ن کی‬ ‫خوبیوں کےب ندوب ا محل اس ر دیتے ہیں اور اس کے‬ ‫ص ے میں ح ک کی خ لص دیسی گھی سے بنی جوٹھی‬ ‫چوری میسر آ ج تی ہے۔ ج ح ک زب ن رابطے کی زب ن‬ ‫ٹھہر ج تی ہے تو اسے جہ ں فخر دستی ہوت ہے تو وہ ں‬ ‫محکو کی ضرورت ح ات آات نط اور م ون آات نط‬


‫کے مط ب ڈھ ن بھی پڑت ہے بصورت دیگر رابطے بح ل‬ ‫نہیں ہو پ تے۔ یہ ح ک زب ن کی مجبوری اور محکو کی‬ ‫ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپن مزاج ت ظ است م ل اور م نوں‬ ‫میں تبدی ی اور ردوبدل ک شک ر ہو۔ ان امور کے حوالہ‬ ‫سے کچھ ب تیں بطور خ ص وقوع میں آتی ہیں۔‬ ‫۔ح ک زب ن بھی مت ثر ہوتی ہے۔‬ ‫۔ لس نی اور اظہ ری س یقے صیغے اور طورواطوار میں‬ ‫تبدی ی آتی ہے۔‬ ‫۔ مق می اس و اور ل ولہجہ اختی ر کرنے پر مجبور ہو‬ ‫ج تی ہے۔‬ ‫۔ نحوی سیٹ اپ میں تبدی ی آتی ہے۔‬ ‫ال ظ کے م ہی بدل ج تے ہیں۔‬ ‫۔ نئے مرکب ت تشکیل پ تے ہیں۔‬ ‫۔ زب ن کی ن سی ت اور ک چر جو اس کے ال ظ سے‬ ‫مخصوص ہوت ہے یکسر بدل ج ت ہے‬ ‫اس کے برعکس اگر وہ محکو کی نہیں بنتی تواپن سکہ‬ ‫جم نہیں پ تی۔ جس کے نتیجہ میں خون ریزی خت نہیں ہو‬ ‫پ تی۔ غ ط فہمی کی دیواریں ب ند سے ب ند ہوتی چ ی ج تی‬


‫ہیں۔ آج دنی میں قتل وغ رت ک ب زار گر ہے۔ اس کی کئ‬ ‫وجوہ ت میں ایک وجہ انگریزی بھی ہے۔ ایک عرصہ گزر‬ ‫ج نے کے ب وجود انگریزی لوگوں کے دلوں میں مق نہیں‬ ‫بن سکی۔ لوگ آج بھی اسےاجنبی سمجھتے ہیں اور اس‬ ‫جبری ت ی کو ری ستی جبر تصور کرتے ہیں۔ اس زب ن کے‬ ‫لوگوں سے ن رت کرتے ہیں۔ عربی اور ف رسی ک ایک‬ ‫عرصہ تک طوطی نہیں طوط بولت رہ ۔ اسے کبھی ری ستی‬ ‫جبر نہیں سمجھ گی ح انکہ وہ بھی ری ستی جبر ہی تھ ۔‬ ‫ہر آنے والے کو ج ن ہی ہوت ہے۔ کوئی ق ئ ب لذات نہیں۔ یہ‬ ‫شرف صرف اور صرف ه کی ذات گرامی کو ح صل ہے۔‬ ‫اس حوالہ سے ہر آنے والے ک سکہ اور زب ن چ تی ہے۔‬ ‫کوئی بھی سر پھرا اچ نک ت ریخ ک دھ را بدل سکت ہے۔‬ ‫ح ک قوت کسی بھی وقت م کی ح ات کے حوالہ سے زوال‬ ‫ک شک ر ہو سکتی ہے۔‬ ‫قدرتی آفت ی آف ت اسے گرفت میں لے سکتی ہے۔ جو لوگ‬ ‫یہ سمجھتے ہیں کہ آج کی آتے وقتوں میں انگریزی کرہ‬ ‫ارض کی زب ن ہو گی سخت فہمی میں مبتا ہیں۔ انگریزی‬ ‫کے خاف دلوں میں ن رتیں بڑھ رہی ہیں اور ایک روز‬ ‫انگریزی کی امریکہ بھی ان ن رتوں کے سیا میں بہہ‬


‫ج ئے گ ۔ ۔یہ ں یہ سوچن ی کہن کہ عوا تو محض کیڑے‬ ‫مکوڑے ہیں کی کر لیں گے۔ بھولن نہیں چ ہیے ایک‬ ‫چونٹی ہ تھی کی موت ک سب بن سکتی ہے۔‬ ‫انگریزی ک لس نی نظ انتہ ئی کمزور ہے۔ خی ل کے اظہ ر‬ ‫کے حوالہ سے ن قص ہےاور آج کی انس نی پستی میں‬ ‫انگریزی کے کردار کو نظر انداز کرن بہت بڑی غ طی ہو‬ ‫گی۔‬ ‫انگریزی ک کھردرا اور اکھرا لہجہ اور اڑیل مزاج و رجح ن‬ ‫انس نی ترقی کی راہ میں دیوار چین سے ک نہیں۔ آج انس ن‬ ‫ترقی نہیں کر رہ مس سل تنزلی ک شک ر ہے۔ انگریزی‬ ‫دوسروں کے آات نط اور م ون آات نط ک س تھ دینے‬ ‫سے ق صر و ع جز ہے۔ یہ غیر انگریزوں کے ح ات‬ ‫م حول موسوں شخصی رجح ن ت م شی اور م شرتی‬ ‫‪.‬ضرورتوں وغیرہ ک س تھ نہیں دے سکتی۔‬ ‫انگریزی لوگوں کی ترقی کی راہ میں کوہ ہم لیہ سے سے‬ ‫بڑھ کر روک وٹ ث بت ہو رہی ہے۔ لوگوں کی س ری توان ئ‬


‫اسے سیکھنے میں صرف ہو رہی ہے اس طرح وہ مزید‬ ‫کچھ نہیں کر پ رہے۔ عوامی ت ثر یہی ہے کہ یہ م د پرست‬ ‫عن صر کی گورا نوازی اور چمچہ گیری کے نتیجہ میں‬ ‫لوگوں کے لیے گل گاواں‬ ‫بنی ہوئی ہے۔‬ ‫ہندوی(ہندی‪+‬اردو) اس وقت دنی کی واحد زب ن ہے جو کرہ‬ ‫ارض کی زب ن بننے کے جوہر رکھتی ہے۔ یہ کوئ نئ زب ن‬ ‫نہیں ہے۔ یہ ہزاروں س ل ک س ر طے کر چکی ہے۔ اس وقت‬ ‫اس کے تین رس الخط ہیں۔‬ ‫اردو‬ ‫دیو ن گری‬ ‫رومن‬ ‫پنج بی کے سوا دنی کی کوئی زب ن نہیں جس کے اس وقت‬ ‫تین رس الخط مست مل ہوں اور ان میں ب ق ئدہ لڑیچر‬ ‫موجود ہو۔‬ ‫یہ تینوں اس کے اپنے نہیں ہیں۔ اس کے ذاتی رس الخط‬ ‫کو تاشنے کی ضرورت ہے۔ اس کڑوی حقیقت کے ب وجود‬ ‫یہ تینوں اجنبی نہیں ہیں اور اس زب ن کے ہی سمجھے‬


‫ج تے ہیں۔ انگریزی سرک ری سرپرستی ح صل ہونے کے‬ ‫ب وجود اپن پن ح صل نہیں کر سکی۔ میں بڑے وثو سے‬ ‫کہت ہوں کہ انگریزی فیصد سے زی دہ آگے نہیں بڑھ‬ ‫پ ئی۔ اس کے برعکس ہندوی دنی کی دوسری بڑی بولی‬ ‫اور سمجھی ج نے والی زب ن ہے جبکہ لس نی حوالہ سے‬ ‫‪.‬دنی کی س سے بڑی اور مظبوط زب ن ہے۔‬ ‫ج انگریزی دنی کی ح ک زب ن نہیں تھی انگریزی‬ ‫اصطاح ت راءج تھیں ی س ئنس اور ٹیکن لوجی کے مت‬ ‫!اصطاح ت موجود ہی نہیں تھیں؟‬ ‫کی انگریزی اصطاح ت اس کی ذاتی ہیں ی م نگے ت نگے‬ ‫کی ہیں؟‬ ‫کی وہ اپنے اصل ت ظ کے س تھ مست مل ہیں؟‬ ‫اس زب ن کے مت کہ ج ت ہے کہ اس میں تم ع و‬ ‫سے مت کت بیں موجود ہیں۔ اس سے زی دہ کوئی بودہ‬ ‫دلیل ہو ہی نہیں سکتی۔ چینی ج پ نی فرانسیسی جرمن ی‬ ‫پھر ہندوی کے پ س کچھ نہیں۔ ہندسنت ن میں اشی ء کی‬ ‫مرمت ک ک انگریزی کت بیں پڑھ کر کی ج ت ہے؟ ی پھر‬ ‫گوروں کو بای ج ت ہے؟‬


‫کرہ ارض کی زب ن بننے کی صاحیت صرف اور صرف‬ ‫ہندوی میں موجود ہے۔ اس میں ل ظ گھڑنے نءے دینے‬ ‫اشک لی تبدی ی نئے است م ات تاشنے کی صاحیت دوسری‬ ‫زب نوں سے کہیں زی دہ موجود ہے۔‬ ‫جس زب ن کو وس ئل اور توجہ دو گے ترقی کرے گی۔‬ ‫ہندوی کبھی بھی توجہ ک مرکز نہیں بنی۔ اسے اس کے‬ ‫چ ہنے والوں نےاپن خون جگر پای ہے۔ ان کے خ وص‬ ‫اور محبت کے سب یہ ن صرف زندہ ہے ب کہ ترقی کی راہ‬ ‫پر گ مزن ہے۔‬ ‫انگریزی کے حوالہ سے ایک دلیل یہ بھی دی ج تی ہے کہ‬ ‫انگریزی کے ب عث تج رت کو وس ت م ی ہے۔ کی احمق نہ‬ ‫دلیل ہے۔ انگریزی سے پہ ے تج رت ک ک نہیں ہوت تھ ؟‬ ‫تج رت ک ت ضرورت سے ہے اورضرورت کو رستہ‬ ‫تاشن خو خو آت ہے۔‬ ‫ہندوی سے مت لوگوں کی ت داد دنی کی دوسری بڑی‬ ‫آب دی ہے اس لیے ان سے رابطہ پوری دنی کی مجبوری‬


‫ہے۔ رابطہ نہیں کریں گے تو بھوکے مر ج ئیں۔ موجودہ‬ ‫مختصر لب س بھی خوا ہو ج ئے گ ۔ پھل صرف پڑھنے‬ ‫سننے کی چیز ہو ج ئیں گے۔ ک مزدوری میں زی دہ ک‬ ‫کرنے واا مزدور کہ ں سے ائیں گے۔ یونیورسٹیوں میں‬ ‫دم نچوڑ کر محض ایک گیڈر پروانے پر خوش ہو ج نے‬ ‫والے کدھر سے آئیں گے؟‬ ‫کہ ج ت ہے کہ ہ اپن اصل انگریزی میں ہی تاش سکتے‬ ‫ہیں۔ دنی کی ہر زب ن ک اپن لس نی نظ ہے۔ زب نیں اپنے‬ ‫لوگوں کے حوالہ سے آگے بڑھتی ہیں۔ اگر اثر قبول کرتی‬ ‫ہیں تو اثرانداز بھی ہوتی ہیں۔ ہندوی کی اپنی ت ریخ ہے۔ ہر‬ ‫ہندسنت نی اپن اصل اسی میں تاش سکت ہے۔ بڑے وثو‬ ‫سے کہ ج سکت ہے انگریزی کسی زب ن ک م خذ نہیں۔‬ ‫انگریزی دوسری زب نوں کی طرح محض اظہ ر ک ایک‬ ‫ذری ہ ہے۔ اس میں بھی دوسری زب نوں کے سیکڑوں ال ظ‬ ‫موجود ہیں۔بہت س رے سب بقے احقے درامدہ ہیں۔ اگر یہ‬ ‫نک ل لیے ج ئیں تو اس کے ذخیرہ ال ظ میں آٹھ دس فیصد‬ ‫سے زی دہ کچھ نہ رہے۔‬


‫کہ ج رہ ہے کہ ہندوی میں اد کے سوا ہے کی ۔ زب نیں‬ ‫اد کے سہ رے زندہ ہیں۔ زب نوں سے اد نک ل دیں تو وہ‬ ‫کھوکھ ی ہو ج ئیں گی۔ اد‬ ‫ال ظ میسر کرت ہے۔‬ ‫زندگی کے تجربے ریک رڑ میں ات ہے۔‬ ‫قوموں کی حقیقی ت ریخ مہی کرت ہے۔‬ ‫سم جی رویوں کی نش ندہی اور ان کی ترکی و تشکیل ک‬ ‫فریضہ سر انج دیت ہے۔‬ ‫اس کے بغیر انس نی زندگی کی حیثیت مشین سے زی دہ‬ ‫نہیں رہ پ تی۔‬ ‫اظہ ر کو س یقہ عط کرت ہے۔‬ ‫اظہ ر میں وس ت ات ہے۔‬ ‫قوموں ک تشخص اسی کے حوالہ سے واضع ہوت ہے۔‬ ‫سم ج کی بق میں اد ک یدی حثیت ک ح مل ہے۔‬ ‫کہ ج ت ہے کہ اردو جو اپنی اصل میں ہندوی ک ایک خط‬ ‫ہے کے اش عتی ادارے تحریروں کی حوص ہ افزائ نہیں‬


‫کرتے۔ اش عتی ادارے خدمت سے زی دہ م ل پ نی پر یقین‬ ‫رکھتے ہیں۔ آج انٹرنیٹ ک دور ہے ان اداروں کی حیثیت‬ ‫ب رہ فیصد سے زی دہ نہیں رہی۔ انٹرنیٹ پر ہندوی کے‬ ‫تینوں خطوں میں بہت س را مواد ہے۔ آتے دنوں میں‬ ‫اش عتی ادارے پی ٹی سی ایل ک س درجہ ح صل کر لیں‬ ‫کے۔‬ ‫مزے کی ب ت یہ کہ انگریزی کی حم یت کرنے والے رومن‬ ‫ہندوی ی اردو رس الخط ک سہ را لیتے ہیں۔‬ ‫انگریزی کے مت جو دائل دیے ج تے ہیں ان سے قط‬ ‫واضع نہیں ہوت کہ انگریزی آتے کل کی زب ن ہو گی۔ ہ ں‬ ‫شدید دب ؤ اور کچھ ؤ کی ح لت میں ہندوی ک دامن وسیع تر‬ ‫ہوت ج ئے گ ۔‬ ‫‪Sat Jul 07, 2012 2:34 pm‬‬ ‫_________________‬ ‫‪I K QAZI‬‬


Moderator Location: Germany

Iss Mey Tou Koi Shaq Nahih K Humey Apney Aqdaar,Tehzeeb,saqafat aur Zabanon Par Fakhar hona Chahiye.Aur Zaban K Muhamlay Mey Tou Uss Zaban Ka Intikhab Karna Chahiye Jis Mey Izhaar Ko Wo asaan Samajhta Ho.Balkay Mey Tou Ye Kahoon Ga K Jis Zaban Mey Insaan Khwaab Dekhta Hai Wo Usey Tarjeeh Dey.Koi Be Zaraiye Mawasalat,Iblaagh Waghaira Ba Zaat E Khud Acha ya Burra Nahih Hota.Insaan Ko Har Zan Seekhna,Bholna,Likhna/Parrhna chahiye.Waqt K saath Chalna Chahiye K Jis Zaban Mey Bhi Hum Illm Hasil Kar Saken.Illm Ka Hasool Par Zoar Humey Apnay Mazhab Ney sikhaya Hai.Sir Syed Ahmad Khan Ko Loagon Ney Ghalat Taor Par samjha ya Paish Kiya.Lehkin Unn K uss Waqt K Maqasad Sey Hum Abhi


Waqif,Mutafiq huway Hain.Balkay Mustafeed Bhi ho Rahe Hain.Haan Ye Zaroor Hai K Insaan Ki Tarjeehat Ka Tahaiyun Iss Muhamlay Bhi Hona chahiye.K Koansi Zaban Ko Wo Chunta Hai.Foaqiyat Dehta Hai aur Wo Iss Silsilay Mey Kisi Bhi Zehni Kajion (Complexes) Ka Shikaar Nahih Hota.Khud Meray Liye K Meri Maadri Zabaan Pashto Hai.Mey Ney Angreezi Schoolon Sey shurooh Sey Parrha Hai.Mey German K Saath saath Mukhtalif Zubanain Bhol,Samajh,Likh/parrh Lehta Hoon.Angrezi Zuban Mey Izhaar Ko Mey Ziada asaan Samajhta hoon.Lehkin Jo Lutf Mujhey Urdu Bholnay/Parrhnay Mey Milta Hai.Ya Jis Apnaiyat Ka Ahsaas iss Zabaan Mey Milta Hai Shahid Hi Kisi Zaban Mey Mujhey Millay.Humey Iss Baray Mein Koi Haar ya Ahsaas e Kamtari Ka shikaar Nahih Hona Chahiye.Balkay Humey Apni Qaomi Zubaan Par Fakhar Hona chahiye.Haan Humaray Mulk Mey Humsaye Mulk K Tarz Par Jo


ghalat Rawishen Chal Parri Hain.Jis Mey K Aadhi angrezi,Aadi Urdu Aur Baqi Jinaati Zaban K Malghoobay Ko Jis Burri Tarah Loag Istehmaal kar Rahe Hain.Sey Na Mujhey Ikhtilaaf Hai Balkay Issey Bad Tehzeebi,Bad Ikhlaqi,Zehni Kaji amajhta Hoon.Insaam Apnay Jarron,Tehzeeb,Saqafat,Samaji Aqdaar Ko Nahih Bhoolna Chahiye Balkay Iss sey gurez kar k Hum Kahih K Nahih Rehtay. Sun Jul 08, 2012 8:37 pm

_________________ http://www.forumpakistan.com/angraizi-aaj-aur-aata-kal-t8996 0.html#ixzz4GrIhG3z5

‫انگریزی فیل‬ ‫میں اور اس ‘ ایک س تھ‘ ایک ہی سکول میں‘ پڑھتے‬


‫تھے۔ ہم را بڑا ی رانہ تھ ۔ ہ ایک دوسرے کے ہ ں‘ اکثر‬ ‫آتے ج تے رہتے تھے۔ اس باشبہ‘ بڑا محنتی ط ل ع‬ ‫تھ ‘ لیکن غیر م مولی ذہین نہیں تھ ۔ اس کے برعکس‘‬ ‫مجھے ذہین ط ب میں شم ر کی ج ت تھ ۔ است د کے منہ سے‬ ‫نک ی ب ت‘ میرے ح فظے میں بیٹھ ج تی تھی۔ اس ک مط‬ ‫یہ نہیں‘ کہ میں گھر آ کر پڑھت نہیں تھ ۔ پڑھ ہوا سب ‘‬ ‫گھر آ کر ضرور دھرات ‘ ب کہ اسے زب نی لکھت بھی تھ ۔‬ ‫مجھے کئی ب ر‘ اس تذہ نے ش ب ش بھی دی تھی۔ اس کو‬ ‫ش ید ہی‘ کبھی کسی است د سے‘ ش ب ش م ی ہو گی۔ ہ ں‬ ‫رٹ ب زی میں‘ میں ب لکل نکم تھ ۔ سچی ب ت تو یہ ہے‘ کہ‬ ‫رٹ ب زی سے‘ مجھے گھن سی آتی تھی۔ میرے برعکس‘‬ ‫اس رٹ ب زی میں اپن جوا نہیں رکھت تھ ۔ انگریزی کے‬ ‫سوا‘ میں دوسرے مض مین میں‘ اس سے زی دہ نمبر‬ ‫ح صل کرت ۔ انگریزی سے‘ میری ج ن ج تی تھی۔ انگریزی‬ ‫ن پسندیدہ مضمون ہو کر بھی‘ میں اسے زی دہ وقت دیت ۔‬ ‫کئی ب ر سوچت ‘ کہ م سٹر انگریزی پڑھ کر‘ ش ید مجھے‬ ‫صدر کنیڈی کی سیٹ پر بیٹھ ن چ ہتے ہیں۔‬ ‫اس رٹے کے بل بوتے پر‘ میٹرک میں سیکنڈ ڈویژن لے‬ ‫کر‘ پ س ہو گی ۔ میں نے‘ انگریزی کے سوا‘ دوسرے‬ ‫مض مین میں‘ اس سے کہیں بڑھ کر‘ نمبر ح صل کیے‘‬


‫لیکن انگریزی میں‘ انیس نمبر سے زی دہ ح صل نہ کر‬ ‫سک ۔ بدقسمتی دیکھیے‘ دوسرے مض مین میں‘ م قول نمبر‬ ‫ح صل کرنے کے ب وجود‘ فیل قرار دے دی گی ۔ والد ص ح‬ ‫نے‘ ن صرف جھڑکیں دیں‘ ب کہ پہنٹی بھی لگ ئی۔ مجھے‬ ‫جھڑکوں اور پہنٹی ک سرے سے مال نہیں۔ وہ سچے‬ ‫تھے‘ اگر میں میٹرک میں ک می ہو ج ت ‘ تو میری زندگی‬ ‫بن ج تی۔ مجھے اصل مال یہ رہ ‘ کہ میں پڑھ لکھ کر بھی‘‬ ‫ان پڑھوں میں شم ر ہوا۔‬ ‫والد ص ح نے‘ دوب رہ امتح ن دینے پر‘ بڑا زور دی ‘ لیکن‬ ‫میرا اصرار تھ ‘ ج تک انگریزی کورس میں ش مل ہے‘‬ ‫میں دوب رہ امتح ن نہیں دوں گ ۔ والد ص ح میرے اس‬ ‫موقف پر‘ ت ؤ میں آ ج تے اور م رنے کے لیے آگے‬ ‫بڑھتے‘ تو والدہ آڑے آ ج تیں۔ وہ گری سر پکڑ کر بیٹھ‬ ‫ج تے‘ اس کے سوا اور کر بھی کی سکتے تھے۔ میں کی‬ ‫ج نو‘ کہ انگریزی تو جنرل ایو بھی‘ خت نہیں کر سکت‬ ‫تھ ‘ وہ خود انگریزی بولت تھ ۔ اسے کی پڑی‘ کہ میری‬ ‫خ طر‘ انگریزی مضمون سکولوں سے خت کرا دے۔ اس‬ ‫میٹرک میں پ س ہو ج نے کے ب د‘ کسی دفتر میں ب بو‬ ‫بھرتی ہو گی ۔‬ ‫والد ص ح مجھے ایک خرادیے کے پ س چھوڑ آئے۔‬


‫انہوں نے اسے کہ ‘ ٹھوک کر ک لو۔ ان ک خی ل تھ ‘ کہ‬ ‫م وکڑا س ہوں‘ محنت سے تنگ آ کر‘ دوب رہ امتح ن دینے‬ ‫پر‘ تی ر ہو ج ؤں گ ۔ میں نے ٹھ ن لی‘ کہ محنت کر لوں گ ‘‬ ‫لیکن انگریزی کے خ تمے تک‘ دوب رہ امتح ن نہیں دوں گ ۔‬ ‫ب ت تو بڑی شر والی تھی‘ کہ اس جو میرا ہ جم عت‬ ‫تھ ‘ اجا لب س پہن کر‘ دفتر ج ت اور میں‘ میا کچیا لب س‬ ‫اور قنچی چپل پہن کر مزدوری کے لیے ج ت ۔‬ ‫شریف خرادیے نے‘ ایک وقت میں‘ کئی شو پ ل رکھے‬ ‫تھے۔ ب ل بچے دار ہو کر‘ اس کے‘ کئی عورتوں سے‬ ‫مراس تھے۔ اس کے عاوہ بھی‘ ت نک جھ نک اور ٹھرک‬ ‫سے ب ز نہ آت ۔ ہر عورت سے‘ ایک ہی ڈائیاگ بولت ‪ :‬قس‬ ‫لے لو‘ تمہ رے سوا‘ میری زندگی میں کوئی نہیں۔ ت میری‬ ‫پہ ی اور آخری محبت ہو۔ اس کی پہ ی اور آخری محبت‘‬ ‫کوئی بھی نہ تھی۔ وہ ابھی جوان اور صحت مند تھ ‘ اس‬ ‫لیے‘ کسی کو‘ اس کی آخری محبت کہن ‘ کھ ی حم قت تھی۔‬ ‫اطوار یہ ہی بت تے‘ کہ ابھی تو آغ ز محبت ہے۔ وہ اس‬ ‫میدان میں قن عت ک ق ئل نہ تھ ۔ مجھے ان کے پی بر‬ ‫ہونے ک اعزاز ح صل رہ ہے۔ فرم ئشی اشی بھی‘ میں پنچ‬ ‫کر آت تھ ۔ انہوں نے ت کید کر رکھی تھی‘ کسی دوسری ک‬ ‫ذکر نہیں کرن ۔ ان کے گھر بھی سودا س ف پنچ ن ‘ میرے‬


‫فرائض میں داخل تھ ۔ بیگ ص ح نے کئی ب ر کریدا‘ میں‬ ‫نے کبھی‘ کسی م م ے ک اش رہ تک نہ دی ۔ اس کے ص ہ‬ ‫میں‘ جسے میں اعزازیہ سمجھت ہوں‘ عط فرم تے۔‬ ‫دوسرے ک سیکھنے والوں میں سے‘ میں انہیں بہت‬ ‫عزیز تھ ۔‬ ‫شریف ص ح کے دوستوں میں‘ دو تین پینے ک بھی شغل‬ ‫رکھتے تھے۔ س ش گردوں کو چھٹی ہو ج تی‘ لیکن‬ ‫مجھے ک وغیرہ کے لیے‘ روک لیتے۔ کھ نے کی چیزیں‬ ‫بچ رہتی تھیں‘ ان س پر میں ہ تھ ص ف کرت ۔ ش کے ب د‘‬ ‫وہ مل بیٹھتے‘ اور ایک دو پیک بھی لگ تے۔ ان میں ایک‬ ‫ص ح ج د بہک ج تے۔ خم ر میں تو س ہی ہوتے‘ لیکن‬ ‫وہ کچھ زی دہ ہی اوور ہو ج تے۔ ہر قس کی ب تیں کرتے۔‬ ‫بہت سی ب تیں خی لی ہوتیں۔‬ ‫ایک ص ح ‘ سی ست سے دل چسپی رکھتے تھے۔ وہ ں‬ ‫دری پر بیٹھے بیٹھے اکبراعظ بن ج تے۔ ب قی س انہیں‬ ‫جی حضور‘ جی سرک ر کہتے۔ ت لی بج تے‘ میں ت لی کی‬ ‫آواز سن کر‘ ح ضر ہو ج ت ۔ مجھے مخ ط کرتے ہوئے‬


‫فرم تے‘ خ د خ ص! ان رک ی سے کہہ دو‘ ہ اس ک گ ن‬ ‫سننے کے لیے بےت ہیں۔ میں ب ہر آ کر ف مغل اعظ ک‬ ‫یہ گ ن ۔۔۔۔۔۔۔ ج پی ر کی تو ڈرن کی ۔۔۔۔۔۔۔ گراموں فون پر لگ‬ ‫دیت ۔ س جھومنے لگتے۔ ان کی ح لت‘ بڑی عجی اور‬ ‫مضحکہ خیز ہو ج تی۔‬ ‫شریف ص ح ‘ اپنے جدید و قدی م شقوں کی داست نیں‘‬ ‫چسکے لے لے کر سن تے۔ ان داست نوں میں جنسی‬ ‫واہی تی ں بھی ش مل کرتے ج تے۔‬ ‫ایک ص ح ‘ قم رب زی ک شو رکھتے تھے۔ ان کی ہر‬ ‫کہ نی ک انج یہ ہی ہوت ‘ کہ ب زی سو فی صد میری تھی‘‬ ‫لیکن فاں پتہ دغ دے گی ‘ ورنہ ہ س نوٹوں میں‬ ‫کھی تے۔ انہیں ہر ب ر یقین ہوت ‘ کہ اگ ی ب زی ان کی ہی‬ ‫رہے گی۔ پھر وہ نوٹوں میں زب نی کھی تے۔ بڑے بڑے‬ ‫منصوبے بن تے۔ بدقسمتی دیکھیے‘ ایک ب ر بھی‘ جیت ان‬ ‫ک مقدر نہ بنی۔ ہمت والے تھے‘ جیت کی امید میں‘ اگ ی‬ ‫ب ر بھی میدان میں اترتے۔‬


‫شریف ص ح کے س تھ‘ میں پورے س ت س ل رہ ۔ ایک‬ ‫دن‘ پت چا کہ وہ دنی سے کن رہ کر گیے ہیں۔ ان کی دک ن‬ ‫اور س م ن پر‘ ان کے س لوں نے قبضہ کر لی ۔ ہ س‬ ‫ش گرد پیشہ لوگوں کو‘ چ ت کی گی ۔ اس کے ب د میں نے‘‬ ‫کئی اس ہنر سے مت لوگوں کے س تھ‘ ک کی ۔ شریف‬ ‫ص ح کے س تھ ک ک جو مزا ما تھ ‘ کسی اور کے ہ ں‬ ‫سے نہ مل سک ۔ س سڑیل اور ٹوٹ ٹوٹ کر پڑنے والے‬ ‫تھے۔ اکنی اکنی ک حس کرتے تھے۔ اپن کھ ن ‘ لوازم ت‬ ‫کے س تھ منگواتے تھے لیکن ہم رے لیے‘ بس ٹوٹل پورا‬ ‫کرتے۔ کھ تے وقت ہ میں سے کوئی‘ ان کے قری نہیں‬ ‫ج سکت تھ ۔ اجرت بھی رو رو کر ادا کرتے۔ کئی ب ر جی‬ ‫چ ہ ‘ کہ اس پیشے کو چھوڑ کر‘ کوئی اور پیشہ اختی ر کر‬ ‫لوں‘ ی اپن ک شروع کر دوں۔ ہر نئے ک کے لیے‘ رق‬ ‫درک ر ہوتی ہے‘ لیکن میرے پ س تو کچھ بھی نہ تھ ۔ اگر‬ ‫اب زندہ ہوتے‘ وہ ضرور کچھ ن کچھ کرتے۔ اس بڑا ب بو‬ ‫بن چک تھ اور مجھے انگریزی لے ڈوبی تھی۔ پت نہیں‘‬ ‫اور کتنے لوگ ہوں گے‘ جنہیں انگریزی نے‘ کسی ک ک‬ ‫نہیں چھوڑا ہو گ ‘ وہ بھی میری طرح‘ دنی کے دھکوں کی‬ ‫زد میں ہوں گے۔‬


‫یقین م نیے‘ میں نے آج تک کسی لڑکی سے ج ئز ی ن ج ئز‬ ‫ت ق ت استوار نہیں کیے۔ کسی لڑکی نے‘ مجھے کبھی ل ٹ‬ ‫نہیں کرائی۔ یہ ب ت بھی سچی ہے‘ کہ میں نے کسی لڑکی‬ ‫کو‘ اپنی م ں بہن نہیں سمجھ ۔ اس کے ب وجود‘ ت نک‬ ‫جھ نک اور ٹھرک میرا محبو مشغ ہ ہے۔‬ ‫ت ش کے ب رہ پتے‘ میرا پیچھ کرتے رہتے ہیں اور میں‘‬ ‫شکیل کے ہ ں‘ چا ج ت ہوں رات گیے تک‘ لطف اندوز‬ ‫ہوت ہوں۔ فری میں کھی ی ج نے والی‘ ایک دو ب زی ں بھی‬ ‫لگ لیت ہوں۔ میں اکیا ہی نہیں‘ دیکھنے والے اور لوگ‬ ‫بھی موجود ہوتے ہیں۔ ہ چھوٹی موٹی شرطیں لگ کر‘ اپن‬ ‫رانجھ راضی کر لیتے ہیں۔‬ ‫شرا پینے سے‘ مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔ ہ ں‬ ‫شرابیوں کی لذیز ب تیں‘ سننے کے لیے کم ل ص ح کے‬ ‫ہ ں چا ج ت ہوں۔ ان س کی خدمت کرت ہوں۔ یہ ہی وجہ‬ ‫ہے‘ کہ وہ مجھے اپن آدمی سمجھتے ہیں۔ کھ نے پینے ک‬ ‫چھوڑا ہوا س م ن‘ میرے حوالے کر دینے میں بخل نہیں‬ ‫کرتے اور نہ ہی برا محسوس کرتے ہیں۔‬


‫ج میں شرا نہیں پیت ‘ تو لوگ مجھے شرابی کیوں‬ ‫سمجھتے ہیں۔ جوا کھی نے سے‘ میرا کوئی ت واسطہ‬ ‫ہی نہیں‘ اس کے ب وجود مجھے جواری کیوں سمجھ ج ت‬ ‫ہے۔ کسی لڑکی نے مجھ سے ت استوار ہی نہیں کی ۔ میں‬ ‫بھی‘ گرہ کی ک زوری کے ب عث‘ کسی حسینہ سے‘‬ ‫م شقہ نہیں کر سک ۔ م مولی ت نک جھ نک ی رسمی س‬ ‫ٹھرک بھورنے کے سب ‘ عاقہ میں ذلیل و رسوا ہو گی‬ ‫ہوں۔ کوئی مجھے شریف آدمی‘ سمجھنے کے لیے تی ر ہی‬ ‫نہیں اور اپنی دختر نیک اختر ک رشتہ‘ دینے کے لیے تی ر‬ ‫نہیں۔ کنواری تو دور کی ب ت‘ کوئی طا ی فتہ ی بیوہ بھی‘‬ ‫میرے س تھ نک ح کو‘ شجر ممنوعہ خی ل کرتی ہے۔‬ ‫سوچت ہوں‘ مجھے اس ح ل تک‘ کس نے پنچ ی ہے؟ میں‬ ‫خود اس ک ذمہ دار ہوں‘ ی یہ س ‘ انگریزی ک کی دھرا‬ ‫ہے؟ انگریزی کو ازمی مضمون بن نے کی آخر کی‬ ‫ضرورت ہے۔ کون س ‘ ہر کسی نے‘ غیر مم لک میں س یر‬ ‫بن کر ج ن ہوت ہے۔ ب زار ک ک ک انگریزی کے س تھ‬ ‫چ ت ہے۔ کورٹ کچیری اور دف تر میں ک ک انگریزی میں‬ ‫چ تے ہیں۔ کچیری میں‘ مب حث مق می زب ن میں ہوتی ہے۔‬


‫بس لکھ ئی‘ انگریزی میں ہوتی ہے۔ انگریزی میں لکھے‬ ‫ج نے کے سب ‘ کئی کئی دن فصی ہ م نے میں لگ ج تے‬ ‫ہیں۔ غیروں کی زب ن ہونے کے ب عث‘ کئی نکتے نکل آتے‬ ‫ہیں‘ اور اس طرح‘ کوئی ب ت اٹل قرار نہیں پ تی۔ اپی و اپی ی‬ ‫ہی کی گھمن گھیریوں میں‘ مس ئل پھنسے رہتے ہیں۔ اس‬ ‫جو‘ رٹے ب ز تھ ‘ بڑا ب بو بن بیٹھ ہے۔ رع جم نے کے‬ ‫لیے‘ گابی ارو بولت ہے۔ میں اس کی اصل حقیقت سے‬ ‫آگ ہ ہوں۔ میں کچھ بھی کہت رہوں‘ محض بکواس ہو گ ۔‬ ‫لوگ ب ت کو نہیں‘ ب ت کرنے والے‘ اور اس کی حیثیت کو‬ ‫دیکھتے ہیں۔‬ ‫سم ج نے‘ شریف ص ح سے لوگوں کو‘ کیوں ڈھیل دے‬ ‫رکھی۔ سم ج میں‘ ہنر کے لیے‘ اس سے لوگ ہی تو است د‬ ‫ہیں۔ میں اپنی ص ئی میں‘ کچھ بھی کہت رہوں‘ کوئی نہیں‬ ‫م نے گ ۔ مجھ سے انگریزی کے م رے‘ سم ج کے دو‬ ‫نمبری ہی رہیں گے۔ انہیں کوئی اپنی بیٹی ک رشتہ نہیں‬ ‫دے گ ۔ کرسی پر بیٹھے لوگوں کی دو نمبری‘ کسی کو نظر‬ ‫نہیں آتی۔ لوگ اس کی حیثیت کو دیکھیں گے۔ رشوت‘‬ ‫بےایم نی‘ ہیرا پھیری اور حرا خوری‘ ان کی کرسی ی‬ ‫کرسی والے سے انساک‘ کے پیٹ میں چا ج ئے گ ۔ کتن‬


‫بھی غ ط ہوت رہے‘ انگریزی ک دامن نہیں چھوڑا ج ئے گ ۔‬ ‫انگریزی ذہ نیں نگ تی رہے گی‘ اور کوئی کچھ نہیں کر‬ ‫سکے گ ۔ میں ی مجھ سے‘ انگریز فیل‘ کچھ بھی کر لیں‘‬ ‫بیوی‘ ان کے نصی سے‘ ب ہر رہے گی۔‬ ‫» بروز‪ :‬اپریل ‪ 08:12:05 ,2014 ,18‬صبح «‬

‫‪.............................‬‬ ‫» بروز‪ :‬اپریل ‪ 12:50:37 ,2014 ,21‬صبح «‬ ‫محتر جن‬

‫ڈاکٹر مقصود حسنی ص ح ! سا مسنون‬

‫م ذرت خواہ ہیں کہ دیر سے ح ضر ہوئے۔ یہ موضوع‬ ‫اگرچہ اس قدر انوکھ نہیں ہے‪ ،‬لیکن اپ کے ق نے اسے‬ ‫اپنی طرز سے بی ن کی ہے اور بہت ہی خو کی ہے۔ ہکے‬ ‫پھ کے انداز میں اپ نے کہ نی بی ن کی ہے جو پڑھنے‬ ‫والے کو کسی ذہنی دب ؤ میں نہیں ڈالتی۔ اس ک ف ئدہ یہ ہے‬ ‫کہ وہ ق رئین جو گہرے ف س وں سے کتراتے ہیں ی سمجھ‬ ‫نہیں پ تے وہ بھی اس سے محظوظ ہو پ تے ہیں اور کچھ‬ ‫نہ کچھ ب ت ک اثر ضرور لے کر ج تے ہیں۔ ہم ری طرف‬ ‫سے بھپور داد قبول کیجے۔‬


‫ویسے ہم را خی ل اس سے مت تو یہ ہے کہ ایک تو جو‬ ‫ش گرد رٹہ نہیں لگ سکتے ان کو اس تذہ سے ش ب ش بھی‬ ‫ش ز و ن در ہی م تی ہے‪ ،‬وگرنہ نہیں م تی۔ ہم را اپن المیہ‬ ‫یہی رہ ہے۔ دوسری ب ت یہ کہ اس میں صرف انگریزی ہی‬ ‫ک رفرم نہیں ہے‪ ،‬ب کہ کئی ایسی چیزیں ہم رے نص ک‬ ‫حصہ ہیں جس کی کوئی تک نہیں م تی۔ یقین ج نئیے اج‬ ‫تک ہمیں الجبرا ‪ ،‬جسے جبراً پڑھ ی ج ت ہے‪ ،‬کو است م ل‬ ‫کرنے ک کوئی موقع زندگی نے نہیں دی ۔ ہ ایکسوں میں‬ ‫سے وائی ں ت ری کیئے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ‬ ‫مرہٹوں کی لڑائیوں کی ت ریخوں کی کہیں ضرورت پڑی‬ ‫ہے۔ اور تو اور ق ئداعظ کے چودہ نق ط جسے ہ چوتھی‬ ‫جم عت سے لے کر مس سل چودھویں جم عت تک ی د‬ ‫کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں‪ ،‬نہ تو اج تک کبھی ی د‬ ‫ہوئے ہیں اور نہ کبھی اس کی ضرورت پڑی ہے۔‬ ‫یہ ں کسی ک کو کرنے کے لیئے اس ک لیئے موزوں‬ ‫ترین شخص بھی تاش کرنے ک کوئی اصول درست نہیں‬ ‫ہے۔ ہ جہ ں ک کر رہے ہیں وہ ں بھی صرف اس لیئے کہ‬ ‫ہمیں ‪:‬ڈائریکٹ‪ ،‬ان ڈائریکٹ‪: ،:‬ایکٹو‪ ،‬پیسو‪: ،:‬دع ئے‬


‫قنوت‪ ،:‬اور اپنے وزیر اطاع ت ک ن ی د تھ ۔ ہ اس سے‬ ‫بھی اچھ عہدہ پ سکتے تھے لیکن چونکہ ہمیں نہ صرف‬ ‫‪:‬امریکہ کے صدر کینڈی‪ :‬کے ق تل ک ن ی د نہیں تھ ب کہ‬ ‫یہ تک م و نہ تھ کہ ‪:‬ب بل‪ :‬کی اوسط عمر کتنی ہوتی‬ ‫ہے‪ ،‬اس لیئے ہ اس عہدے کے ائ نہ تھے۔‬ ‫اس لیئے ہ سمجھتے ہیں کہ نہ صرف یہ ش ور دین‬ ‫ضروری ہے کہ ت ی ک مقصد کی ہے اور اس میں کردار‬ ‫س زی کی کی اہمیت ہے۔ ب کہ یہ بھی کہ کسی ک کو کرنے‬ ‫کے لیئے موزوں ترین شخص ک انتخ کیسے کرن‬ ‫چ ہیئے۔ اگر ہم رے بس میں ہو تو ‪ ،‬ح فظ‪ ،‬س دی اور‬ ‫عرفی جیسے لوگوں ک کا ‪ ،‬ب کہ قصہ چہ ر درویش کو‬ ‫نص ک حصہ بن ئیں اور بہت سی خراف ت کو اس میں سے‬ ‫نک ل پھینکیں۔ ورنہ ہم را تو یہی ح ل ہے بقول س دی کہ‬ ‫اگر کوئی شخص ع ح صل کرے اور پھر اسے است م ل نہ‬ ‫کرے تو ایسے ہی ہے جیسے کسی گدھے پر کت بوں ک‬ ‫بوجھ لدا ہو۔‬ ‫تحریر پر ایک ب ر پھر داد کے س تھ۔‬ ‫دع گو‬


‫وی بی جی‬ « ‫ صبح‬10:18:40 ,2014 ,22 ‫ اپریل‬:‫» بروز‬ aap jis tovajo se motalah farmate hain yah laeq-e-tehsein hai. bari baat to yah kah ra'ay bhi daite hai. is se tehreer ki qadar-o-qimat ka ba'khoobi andaza ho jata hai. maire sath to aap khasusi bartao karte hain. dil khush ho jata hai. Allah aap ko khush rakhe.

dr maqsood hasni http://www.bazm.urduanjuman.com/index.php?topic=8808.0


انگریزی  

abk_ksr_mh.795/2016 انگریزی مقصود حسنی ابوزر برقی کتب خانہ اگست ٢٠١٦

Read more
Read more
Similar to
Popular now
Just for you