Skip to main content

Urdu - Vision 6000 (An 11-State Solution for Greater Israel)

Page 1

‫ویژن ‪6000‬‬

‫مسیحا‪ ،‬یسوع مسیح کی واپسی سے پہلے عظیم تر اسرائیل کی پرامن بحالی کے لیے ایک مجوزہ گیارہ ریاستی حل‬ ‫جہاں بینائی نہیں ہوتی وہاں لوگ فنا ہو جاتے ہیں‬ ‫لیکن جو شریعت پر عمل کرتا ہے وہ خوش ہے۔ امثال ‪29:18‬‬ ‫مبارک ہے وہ قوم جس کا خدا خداوند ہے۔ اور وہ لوگ جنہیں اس نے اپنی میراث کے لیے چنا ہے۔ زبور ‪33:12‬‬

‫گریگورین سال ‪2240‬‬ ‫گریگورین سال ‪ 2240‬عبرانی سال ‪ 6000‬اے مساوی ہے‪ ،‬جو یہودیت میں گہری مذہبی اہمیت راھتا ہے۔ السیکی ربینیکل‬ ‫ذرائع (جیسے تلمود اور ظہار) اے مطابق‪ ،‬عبرانی سال ‪ 6000‬مسیح ای آمد اور مسیحی دور اے آغاز ای آخری تاریخ او‬ ‫نشان زد ارتا ہے۔‬ ‫مسیحی دور‪ :‬روایتی یہودی اسکاٹولوجی اے تحت‪ ،‬تخلیق او سات ہزار سالوں میں تقسیم ایا گیا ہے۔ پہلے چھ دور انسانیت ای‬ ‫تاریخ ای نمائندگی ارتے ہیں‪ ،‬جبکہ ساتواں " سبت " اور عالمگیر امن اا دور ہے۔‬

‫گیارہ ریاستیں ۔‬ ‫اسرائیل ‪ ،‬مصر ‪ ،‬عراق ‪ ،‬اردن ‪ ،‬اویت ‪ ،‬لبنان ‪ ،‬فلسطین ‪ ،‬سعودی عرب ‪ ،‬شام ‪ ،‬ترای‪ ،‬عیسائی‬ ‫اسرائیل ‪ -‬اسی دن خداوند نے ابرام اے ساتھ عہد باندھا اہ میں نے تیری نسل او یہ ملک مصر اے دریا سے لے ار •‬ ‫فر ززی‪ ،‬رفائیم‪ ،‬اور عموریتی اور ججصیرانی۔‬ ‫اور ممیں ‪ Jebusites.‬دریائے فرات تک دے دیا ہے‪ :‬قینی‪ ،‬انیزی‪ ،‬قدمونی‪ ،‬جِتزی‪ ،‬ج‬ ‫تتجھے اور تیرے بعد تیری نسل او وہ تملک دتوں گا جہاں تتو اجنبی ہے‪ ،‬انعان اا سارا ملک ہمیشہ ای ملکیت اے لیے۔ اور‬ ‫میں ان اا خدا ہوں گا۔ پیدائش ‪ 21-15:18‬؛ ‪17:8‬‬ ‫مصر ‪ -‬دریائے نیل اے مشرق میں رہنے والے اس اے مغرب میں ہجرت ار سکتے ہیں یا جبعونیوں ای مثال ای پیروی •‬ ‫ار سکتے ہیں ۔‬ ‫عراق ‪ -‬دریائے فرات اے جنوب اور مغرب میں رہنے والے اس اے شمال اور مشرق ای طرف ہجرت ار سکتے ہیں یا •‬ ‫جبعونیوں ای مثال ای پیروی ار سکتے ہیں ۔‬ ‫اردن ‪ -‬تمام باشندے شام اے شمال مشرقی علقے (دریائے فرات اے اوپر) میں ہجرت ار سکتے ہیں یا جبعونیوں ای مثال •‬ ‫ای پیروی ار سکتے ہیں ۔‬ ‫اویت ‪ -‬جہرہ گورنریٹ اے متاثرہ شمالی ِصے اے باشندے جنوب ای طرف ہجرت ار سکتے ہیں یا جبعونیوں ای مثال •‬ ‫ای پیروی ار سکتے ہیں ۔‬


Turn static files into dynamic content formats.

Create a flipbook
Urdu - Vision 6000 (An 11-State Solution for Greater Israel) by Filipino Tracts and Literature Society Inc. - Issuu