Issuu on Google+

‫رفی سندی وی‬ ‫کی‬ ‫کچھ اور نظمیں‬

‫پیش ک ر‬ ‫مقصود حسنی‬ ‫ابوزر برقی کت خ ن‬ ‫جنوری ‪٧‬‬


‫نظمیں‬ ‫بڑا چکر لگ ئیں‬ ‫ج ؤ ا روتے رہو‬ ‫جیسے کوزہ نہیں ج نت‬ ‫کیک ک ایک ٹکڑا‬ ‫ح ِّد بی ب نی میں‬ ‫اسی آگ میں‬ ‫پو پھٹی‬ ‫ج َ‬ ‫اس رات بڑی خ موشی تھی‬ ‫ٹی ے سے قبرست ن تک‬ ‫ت بھی ج ن ں کیسے ہو‬ ‫انتب ہ‬ ‫م تھوں پ سینگ‬ ‫ہونے ک خدش‬ ‫نیند کی ج ن قد‬ ‫اسے پک رو‬


‫کہ نی عالمت بنے گی‬ ‫میں نے دروازہ نہیں کھوال تھ‬ ‫ی م ت کی ش سوئ‬ ‫تندور واال‬


‫بڑا چکر لگ ئیں‬ ‫کسی دن آ‬ ‫پرانی کھ ئیوں کو پ ر کر کے‬ ‫دلدلوں میں پ ؤں رکھیں‬ ‫نرس وں کو ک ٹ ڈالیں‬ ‫پیش منظر کے لیے رست بن ئیں‬ ‫آ کسی دن‬ ‫دھند میں جکڑی ہوئی‬ ‫ک نٹوں بھری ی ب ڑ‬ ‫جس میں وقت کی بج ی رواں ہے‬ ‫جو زمیں وآسم ں کو‬ ‫ک ٹتی ہے‬ ‫بیچ سے‬ ‫اس کو ہٹ ئیں‬ ‫آ کسی دن‬


‫جھولتے پل سے اتر کر‬ ‫نقش تقوی میں‬ ‫ُپر پیچ کہس روں کے اندر‬ ‫جھ گ اڑاتی‬ ‫شور کرتی‬ ‫َبل پ َبل کھ تی ندی میں‬ ‫غوط زن ہوں‬ ‫تیرتے ج ئیں‬ ‫کسی دن آ‬ ‫! بڑا چکر لگ ئیں‬


‫ج ؤ ا روتے رہو‬ ‫ت نہیں ج نتے‬ ‫اس دھند ک قص کی ہے‬ ‫دھند جس میں کئی زنجیریں ہیں‬ ‫ایک زنجیر‬ ‫کسی پھول‪ ،‬کسی شبد‬ ‫کسی ط ئر کی‬ ‫ایک زنجیر کسی رنگ‪ ،‬کسی بر‬ ‫کسی پ نی کی‬ ‫زلف ورخس ر‬ ‫ل و چش کی‪ ،‬پیش نی کی‬ ‫ت نہیں ج نتے‬ ‫اس دھند ک زنجیروں سے رشت کی ہے‬ ‫!ی فسوں ک ر تم ش کی ہے‬ ‫ت نے بس دھند کے اس پ ر سے‬


‫تیروں کے نش نے ب ندھے‬ ‫اور ادھر میں نے تمھ رے لیے‬ ‫جھنک ر میں دل رکھ دی‬ ‫کڑیوں میں زم نے ب ندھے‬ ‫ج ؤ ا روتے رہو‬ ‫وقت کے محبس میں‬ ‫خود اپنے ہی گ ے سے لگ کر‬ ‫ت مرے سین صد رنگ کے‬ ‫ح دار نہیں‬ ‫ا تمھ رے مرے م بین‬ ‫کسی دید ک‬ ‫! ن دید ک اسرار نہیں‬


‫جیسے کوزہ نہیں ج نت‬ ‫جیسے کوزے پ جھک کر‬ ‫کبھی روشنی کی مرصع صراحی نے‬ ‫دو گھونٹ امرت انڈیال نہیں‬ ‫جیسے کوزہ نہیں ج نت‬ ‫اک جھری‬ ‫نوک سوزن سی پت ی لکیر‬ ‫اس کے پیندے پ ہے‬ ‫کیسے مح وظ رکھے گ پ نی‬ ‫جو اندھے کنووں سے‬ ‫ہوا کھ نستی ٹونٹیوں‬ ‫بے نمو گھ ٹیو ں سے‬ ‫چٹ نوں کی ب ریک درزوں‬ ‫تڑختی زمیں کی دراڑوں سے‬ ‫قطرہ ب قطرہ‬


‫اکٹھ ہوا‬ ‫جیسے کوزہ نہیں ج نت‬ ‫ُآ زر‬ ‫منبع نور سے‬ ‫اک تس سل کے ع لَ میں‬ ‫بوندوں کی صورت‬ ‫ٹپکت ہے‬ ‫تر کرت رہت ہے‬ ‫پی سوں کے ل‬ ‫پر بجھ ت نہیں ایک د تشنگی‬ ‫ایک میق ت ہوتی ہے‬ ‫کو زے کی‬ ‫بھرنے کے رسنے کے م بین‬ ‫اک را ت ہوتی ہے‬


‫کیک ک ایک ٹکڑا‬ ‫کہن تر زین بدلی گئی‬ ‫پھر نئی ن ل بندی ہوئی‬ ‫اورفرس ہنہن ی‬ ‫سوار ا سواری پر مجبور تھ‬ ‫میں اکیال عزا دار‬ ‫کتنے یگوں سے‬ ‫اٹھ ئے ہوئے‬ ‫جس ک ت زی‬ ‫خود ہی اپنے جن دن پ مسرور تھ‬ ‫کپکپ تی چھری‬ ‫کیک کو وسط تک‬ ‫چیر کر رک گئی‬ ‫دل لرزنے لگ‬ ‫ض ف کی م ری پھونکوں نے‬


‫ایک ایک کر کے‬ ‫بھڑکتی لووں کو بجھ ی‬ ‫عزیزوں نے‬ ‫بچوں نے‬ ‫ت لی بج ئی‬ ‫مب رک مب رک ہوئی‬ ‫کیک ک ایک ٹکڑا‬ ‫مرے منھ میں ٹھو نس گی‬ ‫ن ل کی شکل ک‬


‫ح ِّد بی ب نی میں‬

‫میرے اس و تموج پ نظر ڈال‬ ‫مری لہر کے پیرائے کو دیکھ‬ ‫لمس کی دھوپ کو دیکھ‬ ‫اور مرے س ئے کو دیکھ‬ ‫دیکھ ا میرے خدوخ ل میں تبدی ی ہے‬ ‫دل کی روندی ہوئی مٹی‬ ‫جو بہت م ند تھی‬ ‫ا عکس تصور ہی سے چمکی ی ہے‬ ‫ا مرے جس ک ہر زاوی تمثی ی ہے‬ ‫آخر اس گہرے اندھیرے کے‬ ‫ف ک بوس پہ ڑوں میں بن کر رست‬ ‫جھ مالتی ہوئی نقشین ش عوں کو‬ ‫کسی وجد میں آئے ہوئے‬


‫دری کی طرح بہن تھ‬ ‫چ ند کے گرد جو ہ ل تھ‬ ‫اسے ٹوٹن تھ‬ ‫ابر کو کچھ کہن تھ‬ ‫سر میں سر ہوت تھ آمیز‬ ‫بہ ت ل میں ت ل‬ ‫میرے اس و تموج پ نظر ڈال‬ ‫مری لہر کے پیرائے کو دیکھ‬ ‫لمس کی دھوپ کو دیکھ‬ ‫اور میرے س ئے کو دیکھ‬ ‫دیکھ کس طرح میرے ہ تھ سے‬ ‫پھوٹ ہے بن شی پودا‬ ‫ک س سر سے نکل آئی ہے اودی کونپل‬ ‫اور اگ آئے ہیں‬ ‫سینے سے چن ری پتے‬ ‫جس اک مہک ہوا ب‬

‫نظر آت ہے‬


‫آخر اک ت را‬ ‫گھنی رات کے دروازے سے‬ ‫در آت ہے‬ ‫آخر اس ح ِّد بی ب نی میں‬ ‫ایک گل پوش نے دھرن تھ قد‬ ‫آ کے یہ ں رہن تھ‬ ‫جھ مالتی ہوئی نقشین ش عوں کو‬ ‫کسی وجد میں آئے ہوئے‬ ‫!دری کی طرح بہن تھ‬


‫اسی آگ میں‬ ‫اسی آگ میں‬ ‫مجھے جھونک دو‬ ‫وہی آگ جس نے بالی تھ‬ ‫مجھے ایک دن د ش گی‬ ‫د ش گی مرا انتظ ر کی بہت‬ ‫کئی خشک لکڑیوں ش خچوں‪ ،‬کے حص ر میں‬ ‫جہ ں برگ و ب ر ک ڈھیر تھ‬ ‫د ش گی‬ ‫مجھے ایک پتے نے ی کہ تھ گھمنڈ سے‬ ‫ادھر آ کے دیکھ‬ ‫ک اس تپیدہ خم ر میں‬ ‫ہمیں ہ ہیں‬ ‫لکڑیوں ش خچوں کے حص ر میں‬ ‫یہ ں اور کون وجود ہے‬


‫یہ ں صرف ہ ہیں رکے ہوئے‬ ‫کہیں آدھے اور‬ ‫کہیں پورے پورے ج ے ہوئے‬ ‫د ش گی‬ ‫ہمیں جو مسرت رقص تھی‬ ‫تمہیں کی خبر‬ ‫اگر آگ ت کو عزیز تھی‬ ‫تو ی جس کون سی چیز تھی‬ ‫جسے ت کبھی ن جال سکے‬ ‫!وہ جو راز تھ پس ش گی نہیں پ سکے‬ ‫سو کہ تھ میں نے ی ایک ادھ ج ے برگ سے‬ ‫مجھے دکھ بہت ہے ک آگ نے‬ ‫مرا انتظ ر کی بہت‬ ‫مگر ان دنوں‬ ‫کسی اور طرز کی آگ میں‬ ‫مرا جس ج نے کی آرزو میں اسیر تھ‬


‫مگر ان دنوں میں ن جل سک‬ ‫میں ن جون اپنی بدل سک‬ ‫مگر ا وہ آگ‬ ‫ک جس میں ت نے پن ہ لی‬ ‫جہ ں ت ج ے‬ ‫جہ ں ت عجی سی لذتوں سے گ ے م ے‬ ‫اسی آگ میں مجھے جھونک دو‬


‫پو پھٹی‬ ‫ج َ‬

‫پو پھوٹنے میں‬ ‫ابھی کچھ دیر تھی َ‬ ‫گر بستر چھوڑ کر‬ ‫ج گھر کی چوکھٹ پ ر کی میں نے‬ ‫تو س را شہر سوی تھ‬ ‫ک جیسے اک کوی تھ‬ ‫جس کی ت میں ہست و بود ک ریش‬ ‫سی ہی کے عج اسرار میں لپٹ ہوا تھ‬ ‫اک قدیمی دشت کی مہک ر میں لپٹ ہوا تھ‬ ‫ایسے لگت تھ‬ ‫ک جیسے راستوں‪،‬‬ ‫کھیتوں‪،‬مک نوں اور درختوں پر‬ ‫فسوں پھونک گی ہو‬ ‫وقت جیسے‬


‫اک خم ر َرفت میں ڈوب ہوا ہو‬ ‫شش ج َہت پر رنگ استمرار ک پھیال ہوا ہو‬ ‫ال َمک ں کی کہنگی میں‬ ‫دھند کی لَ بستگی میں‬ ‫َخ‬

‫اَپنی خوا گ ہوں میں‬

‫دبک کر سو رہی تھی‬ ‫ُُآسم ں پر‬ ‫ضو م ند پڑتی ج رہی تھی‬ ‫چ ند کی َ‬ ‫ایک سن ٹے ک ع لَ تھ‬ ‫چراغوں کی لَویں بجھنے ک تھیں‬ ‫امک ن ب راں تھ‬ ‫گ ی کے َعین اوپر ا َبر کے ٹکڑے‬ ‫فض میں تیرتے تھے‬ ‫ہوا میں کپکپ ت‬ ‫میں َزمست نی َ‬ ‫ب ر ب ر اپنے سی کمبل کے گرتے پ وؤں کو‬ ‫پشت و سین پر جم ت‬


‫پر سکوں اَنداز میں خوابیدہ‬ ‫بچوں کے ہیولے‬ ‫اشک ب ر آنکھوں کے َپردوں سے ہٹ ت‬ ‫لَ ہی لَ میں َبڑ َبڑات‬ ‫س حل دری پ پہنچ‬ ‫!ن ؤ میں بیٹھ‬ ‫ابھی کچھ دیر تھی َپو پھوٹنے میں‬ ‫دوسرے س حل پ ج نے کی کشش نے‬ ‫موج کے ری ے نے‬ ‫میری ن ؤ کو آگے بڑھ ی‬ ‫صبح ک ت را اَچ نک جھ مالی‬ ‫ن ؤ‪،‬پ نی‪،‬ب دب ں‪،‬چپو‪،‬اندھیرا‬ ‫اور غنودہ جس میرا‬ ‫س عن صر ایک عنصر میں ڈھ ے‬ ‫دل میں کچھ پرانی ی د کے پھول‬ ‫ش خوں پر کھ ے‬


‫پھر َپو پھٹی‬ ‫پھر دوپ َہر کی دھوپ پھی ی‬ ‫س پ َہر کے س یے رینگے‬ ‫ش دھل آئی‬ ‫اَندھیرا چھ گی‬ ‫اور سینکڑوں راتوں کے‬ ‫اک لمبے س ر کے ب د‬ ‫!س حل آگی‬ ‫ج اگ ے دن کی َپو پھٹی‬ ‫گھر میں صف م ت بچھی‬


‫اس رات بڑی خ موشی تھی‬

‫میں اس کو ڈھونڈنے نکال تو‬ ‫اس رات دریچے خ لی تھے‬ ‫اور سڑکوں پر ویرانی تھی‬ ‫آک ش کے نی ے م تھے سے‬ ‫مہت‬

‫ک جھومر غ ئ تھ‬

‫اس رات بڑی خ موشی تھی‬ ‫میں اس کو ڈھونڈنے نکال تو‬ ‫رستے کے بیچ سمندر تھ‬ ‫اور اس کے پ ر پہ ڑی تھی‬ ‫مرے سر پر بوجھ تھ صدیوں ک‬ ‫اور ہ تھوں میں ک ہ ڑی تھی‬ ‫کچھ دور کن رے جوہڑ کے‬ ‫بس مینڈک ہی ٹراتے تھے‬


‫اور پیڑ کے پتوں سے کیڑے‬ ‫اک س عت میں گر ج تے تھے‬ ‫میں اس کو ڈھونڈنے نکال تو‬ ‫اس رات بڑی خ موشی تھی‬


‫ٹی ے سے قبرست ن تک‬

‫میتوں کے زرد چہروں پر جمی تھی‬ ‫موٹے بھدے چ ند کی مریل نکھٹو روشنی‬ ‫ایک م ت تھ ک جس میں منہمک اشج ر تھے‬ ‫صحن تھے خ موش ‪،‬سکتے میں درو دیوار تھے‬ ‫ایک ک لی رات تھی جو شہر میں آب د تھی‬ ‫اپنی اپنی موت ہی ہر ذی ن س کو ی د تھی‬ ‫راست بے ہوش تھ ٹی ے سے قبرست ن تک‬ ‫گورکن نوح کن ں تھے‪ ،‬زندگی نرغے میں تھی‬ ‫الوؤں کے غول اڑتے تھے دریچوں کی طرف‬ ‫شہر سے ب ہر سمندر گونجنے میں محو تھ‬


‫ت بھی ج ن ں کیسے ہو‬

‫ت بھی ج ن ں کیسے ہو‬ ‫پل پل ڈرتے رہتے ہو‬ ‫پردہ دار بدن کے اندر‬ ‫آگے پیچھے سوچ سمندر‬ ‫ریت کن رے بیٹھے ہو‬ ‫ت بھی ج ن ں کیسے ہو‬ ‫چ در ڈال کے چہرے پر‬ ‫ش کی اوٹ میں چ تے ہو‬ ‫خوا دلہن کی ڈولی میں‬ ‫اپنے لمس کی جھولی میں‬ ‫خود کو چومتے رہتے ہو‬ ‫ت بھی ج ن ں کیسے ہو‬ ‫خو نہ کر پ نی سے‬


‫کپڑے اوڑھ کے دھ نی سے‬ ‫اپنے آپ کو تکتے ہو‬ ‫ت بھی ج ن ں کیسے ہو‬ ‫لیکن رات کو بستر میں‬ ‫تنہ ذات کے مندر میں‬ ‫سن کر بھجن اندھیرے کے‬ ‫دھ ڑیں م ر کے روتے ہو‬ ‫اپنے حسن کے سونے کو‬ ‫بھربھری مٹی کہتے ہو‬ ‫ت بھی ج ن ں کیسے ہو‬


‫انتب ہ‬

‫میں اپنے وطن سے بغ وت کروں تو‬ ‫مجھے قتل کرن‬ ‫اگر اپنے بھ ئی کے ورثے کو لوٹوں‬ ‫تو ت میری آنکھوں میں ک نٹے چبھون‬ ‫خمیدہ کمر بوڑھے م ں ب پ کو میں سہ را ن دوں تو‬ ‫مجھے قید کرن ‪ ،‬زد و کو کرن‬ ‫اگر میرا ہمس ی بھوک رہے تو‬ ‫مجھے ف ق زدگی سے دوچ ر کرن ‪.‬‬ ‫اگر میرے بیٹے کو میری وج سے برائی لگے تو‬ ‫سالخوں کے پیچھے مجھے بیڑیوں میں جکڑ کر مشقت کران‬ ‫میں س کچھ سمجھتے ہوئے بھی‬ ‫اگر اپنی بیٹی کی خوشیوں ک ق تل بنوں تو‬ ‫مجھے بد دع ؤں سے محصور کرن‬


‫مجھے ٹکٹکی پر چڑھ ن‬ ‫میں چوری کروں تو‬ ‫میرے ہ تھ ت وار سے ک ٹ دین‬ ‫میں عورت کی عصمت دریدہ کروں تو‬ ‫زمیں میں مجھے گ ڑ دین‬ ‫مجھے سنگس ری سے م تو کرن‬ ‫اگر جر ہو ج ئیں ث بت تو مجھ پر‬ ‫بھی نک سزاؤں ک اطال کرن‬ ‫مگر ی د رکھن‬ ‫مری بے گن ہی کی تصدی کر کے‬ ‫اگر ت نے مجھ کو ص یبوں پ کھینچ‬ ‫تو میں آخری س نس تک ت سے لڑت رہوں گ‬


‫م تھوں پ سینگ‬

‫وہ ط س تھ جو تم بستی پ قہر تھ‬ ‫کوئی زہر تھ جو رگوں میں س کی اتر گی‬ ‫تو بکھر گی وہ جو بوریوں میں ان ج تھ‬ ‫کوئی ڈاکو لوٹ کے لے گی جو دلہن ک قیمتی داج تھ‬ ‫وہ سم ج تھ ک سبھی کے دل میں یتی ہونے ک خوف تھ‬ ‫کوئی ض ف تھ ک جو آنگنوں میں مقی تھ‬ ‫وہ رجی تھ ک تم بستی پ آگ تھ‬ ‫کوئی راگ تھ جو سم عتوں پ عذا تھ‬ ‫وہ عت‬

‫تھ ک سبھی کے م تھوں پ سینگ تھے‬


‫ہونے ک خدش‬

‫ڈرو ک س خ کرو ہ تھوں میں گرد لے کر‬ ‫گال ہ تھوں‪،‬بہ ر چہروں کو ڈھونڈتے ہیں‬ ‫ڈرو ک مکت کے راستے پر‬ ‫ج وس ن خواندگ ں کت بوں کو برچھیوں میں پرو رہ ہے‬ ‫تم بچوں کو خندقوں میں چھپ کے مکت کے س م‬ ‫نئی کت بوں میں اقتب س مح فظت کو تالش کرنے میں منہمک ہیں‬ ‫ڈرو ک پکی حوی یوں کو اکھ ڑ دینے ک عز لے کر‬ ‫ہزاروں خ ن بدوش تیشوں سے چوکھٹوں پر توان ضربیں لگ‬ ‫رہے ہیں‬ ‫ڈرو ک ا اونٹ اپنی کروٹ بدل رہ ہے‬


‫نیند کی ج ن قد‬

‫گنگ س نسیں‬ ‫پتھروں ک ایک ڈھیر‬ ‫بی چے ہ تھوں میں تھ مے ب نجھ موس کی پک ر‬ ‫روشنی دیوار کے اندر گئی‬ ‫واپس ہوئی‬ ‫ہ نشینی‪،‬رات ک پچھال پہر‬ ‫نیند کی ج ن قد‬ ‫میں سمندر اوڑھ کر س حل پ ہوں‬ ‫آنکھ کو دیمک لگی‬ ‫ب نس کے ویران جھنڈ‬ ‫گیدڑوں کی ہ ؤ ہو‬ ‫بکریوں ��ے پیٹ سے‬ ‫میمنے پیدا ہوئے اور مر گئے‬


‫ب رش ش سے ک س نہال گی‬ ‫کہکش ں رونے لگی‬ ‫بد دع ئیں منتقل ہونے کی گھنٹی بج گئی‬ ‫سر خمیدہ شہر سیدھ ہو گی‬ ‫ش ہ رگ سے دھڑکنیں رسنے لگیں‬ ‫میں نے اپنے آپ سے وعدہ کی‬ ‫اور سمندر اوڑھ کر پھر سو گی‬


‫اسے پک رو‬

‫اسے پک رو جو نیند موس میں سوئے چہرے جگ گی تھ‬ ‫وہ جس کی س نسیں طویل راتوں کی ہمس ر تھیں‬ ‫اسے پک رو ک پھر سے آنکھوں کو خوا س نپوں نے ڈس لی‬ ‫ہے‬ ‫بدن کے گنبد میں خواہشوں ک لہو کبوتر پھڑک رہ ہے‬ ‫نگ ہیں اپنے پھٹے دوپٹے کے زرد پ و میں زہر ب ندھے‬ ‫رگوں میں کھوئے ہوئے من ظر کی جستجو میں بھٹک رہی ہیں‬ ‫اسے پک رو جو ذات کشتی ک ب دب ں تھ‬ ‫وجود س حل پ جس کے ہ تھوں کی خوشبوئیں تھیں‬ ‫اسے پک رو ک کشت ج ں پ عذا ب دل برس رہ ہے‬ ‫زب ن تختی پ ذائقوں کے ق نے پھر سے‬ ‫کسی ی کڑوی رتوں ک ق نون لکھ دی ہے‬ ‫سم عتوں میں حروف جنگل جھ س رہ ہے‬ ‫اداس جذبوں کی کوٹھڑی میں اندھیرا بڑھت ہی ج رہ ہے‬


‫اسے پک رو ک س نس خیم اکھڑ رہ ہے‬ ‫بدن حر سے ستون چہرہ بچھڑ رہ ہے‬ ‫اسے پک رو جو نیند موس میں سوئے چہرے جگ گی تھ‬


‫کہ نی عالمت بنے گی‬ ‫کہ نی عالمت بنے گی‬ ‫ک پچھال زم ن‬ ‫ہم ری جبینوں پ‬ ‫شکنوں کی صورت میں لکھ ہوا ہے‬ ‫بہت ہی پرانی کسی داست ں میں‬ ‫شج عت کے قصے‬ ‫بدوش ہوا اک پری ک‬ ‫منقش سبک نقرئی تخت پر‬ ‫بیٹھ کر سیر کرن‬ ‫ط سمیں کنویں میں‬ ‫اسیری کی راتیں‬ ‫ان روں سے شوخ اور رنگین چڑیوں ک‬ ‫اک س تھ ب ہر نک ن‬ ‫گھنی آگ کے بیچ‬


‫فرش مدور پ رقص شب ن‬ ‫وہ چوتھی جہت مشکی گھوڑا بھگ ن‬ ‫کہ نی عالمت بنے گی‬ ‫ک پچھال زم ن‬ ‫مک ن فسوں ارض حیرت سرا ہے‬ ‫سوار جواں پر‬ ‫کوئی ک ر رفت نہیں کھل رہ ہے‬ ‫ن سیمر ک راز خ ت‬ ‫ن کوہ ندا ک فس ن‬ ‫کہ نی عالمت بنے گی‬ ‫ک پچھال زم ن‬ ‫کسی سنت س دھو کی‬ ‫لمبی جٹ ؤں میں الجھ ہوا ہے‬


‫میں نے دروازہ نہیں کھوال تھ‬

‫میرے دروازے پ س ب ر ہوئی تھی دستک‬ ‫میں نے دروازہ نہیں کھوال تھ‬ ‫ایک بھی ل ظ نہیں بوال تھ‬ ‫پہ ی دستک میں‬ ‫کوئی بھید نہیں تھ لیکن‬ ‫دوسری مرتب دستک میں‬ ‫چھپی تھی حیرت‬ ‫تیسری ب ر کی دستک سے‬ ‫عی ں ہوت تھ‬ ‫کوئی دہشت زدہ م رور کھڑا ہو جیسے‬ ‫اک جن زہ میری چوکھٹ پ پڑا ہو جیسے‬ ‫ایسے آواز میں تھیں‬ ‫درد و ال کی لہریں‬


‫جس طرح کوئی پن گ ہ کے ب لکل نزدیک‬ ‫زہر میں ڈوبے ہوئے تیر سے‬ ‫چھ نی ہو کر‬ ‫آخری س نس کو‬ ‫سینے میں سنبھ لے پھر بھی‬ ‫جس ‪،‬بے انت اندھیرے کے سمندر میں گرے‬ ‫اور اک بپھری ہوئی‬ ‫موج کف مرگ کے ہمراہ بہے‬ ‫جس طرح کوئی گھرا ہوت ہے‬ ‫آگ کے دشت خطرن ک میں‬ ‫سر سے پ تک‬ ‫میرے دروازے پ س ب ر ہوئی تھی دستک‬ ‫میں نے دروازہ نہیں کھوال تھ‬ ‫ایک بھی ل ظ نہیں بوال تھ‬


‫ی م ت کی ش سوئ‬

‫ی م ت کی ش سوئ‬ ‫تھک م ندا‪ ،‬جن زہ گ ہ سے لوٹ ہوا چہرہ‬ ‫لہو‪،‬جیسے ک اک ک ئی زدہ ت ال کو‬ ‫ج ت ہوا زین‬ ‫فسردہ نی روشن صحن میں‬ ‫روتی ہوئی مدقو آنکھیں‬ ‫دھول سے لتھڑی ہوئی س نسیں‬ ‫َبرہن پ ؤں کے ت وے میں چبھت‬ ‫درد پہنچ ت‬ ‫کوئی خ ر حزیں پیہ‬ ‫ی م ت کی ش سوئ‬ ‫ش سوئ‬ ‫ی کی کھ نے سج کر الئے ہو ت َطشتری میں‬


‫سوگ میں کھ ی نہیں ج ت‬ ‫غذا توہین ہے غ کی‬ ‫قس لے لو جو میں نے تین دن سے‬ ‫گھونٹ بھر پ نی پی ہو‬ ‫اک نوال ح‬

‫سے نیچے نہیں اترا‬

‫مجھ ایسے سوگ واروں سے تمہیں م ن نہیں آی‬ ‫اٹھ لو ی مزین طشتری‬ ‫مشرو ک کوزہ ہٹ لو میرے آگے سے‬ ‫ابھی کچھ تھوڑا س گیہوں مرے گھر میں پڑا ہے‬ ‫اور چوکی پر رکھی کچی صراحی میں‬ ‫ابھی سوکھ نہیں‬ ‫چشمے ک نتھرا شہد س پ نی‬ ‫ابھی محرا دل کے بیچ‬ ‫روشن ہے چرا زندگ نی‬


‫تندور واال‬ ‫سنو ی جہن نہیں ہے‬ ‫دہکتے ہوئے سرخ ش وں کی َلو‬ ‫تیز گہری حرارت‬ ‫تپش آگ کی‬ ‫ان مدور کن روں سے‬ ‫اٹھتی ہوئی بھ پ میں زندگی ہے‬ ‫سنو میں نے خود ہی اسے‬ ‫اَپنے ایندھن سے روشن کی ہے‬ ‫صبح سے ش تک‬ ‫میں نے آٹے کو گوندھ‬ ‫خمیرہ کی‬ ‫گول پیڑے بن ئے‬ ‫رفیدے سے روٹی لگ ئی‬ ‫پکی ج اس پ پھول آئے‬


‫تو میں نے پرو کے‬ ‫سی سیخ کی نوک سے‬ ‫اس سے ب ہر نک ال‬ ‫میں روٹی کے پھولوں ک ع ش‬ ‫سدا ک میں اک ن ن ب ئی‬ ‫ہمیش سے میں ایک تندور واال‬ ‫زم نے‪،‬‬ ‫ترے س تھ میں پھول چننے چ وں گ‬ ‫ابھی میرا تندور نیچے سے اوپر ت ک َتپ رہ ہے‬ ‫طب قوں میں دو بوری گوندھ ہوا‬ ‫نر آٹ پڑا ہے‬ ‫جسے روٹیوں میں مجھے ڈھ لن ہے‬ ‫اَزل سے مجھے اس جہن سے روٹی م ی ہے‬ ‫مدور کن روں سے‬ ‫اٹھتی ہوئی بھ پ میں زندگی ہے‬ ‫سنو‪،‬ی جہن نہیں ہے‬


‫رفی سندی وی‬ ‫کی‬ ‫کچھ اور نظمیں‬

‫پیش ک ر‬ ‫مقصود حسنی‬ ‫ابوزر برقی کت خ ن‬ ‫جنوری ‪٧‬‬


رفیق سندیلوی کی کچھ اور نظمیں