Page 1


‫عمر احمد نیگش‬

‫افسانے‬

)‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں‬

)‫(پہلی صف اور دوسری کہانیاں‬

‫عمر احمد نیگش‬ w: www.omerbangash.com | @: obangash@gmail.com| T: @obangash |FB: www.fb.com/sila.e.omer

Copyright © 2013 Omer Bangash

Cover: Snake Charmer (2006) - Connecticut

‫حملہ حقوق محقوظ ہیں‬ lulu.com

ISBN: 1304547434 ISBN-13: 978-1304547439

omerbangash.com

2


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫انتساب‬

‫کھوئی ہوئی ج نت کے نام!‬

‫‪3‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫فہرست‬ ‫نتش لفظ‬ ‫حالل رزق‬ ‫ناٹکا‬

‫پہلی صف‬ ‫بونے حرم پر انک ن بصرہ (رناض شاہد)‬ ‫بونے حرم‬ ‫حادر اور حار دبواری‬ ‫چوکیدار کاکا‬

‫نئتس میل‬ ‫رنل نال‬

‫کنہار کا کیارہ‬ ‫ک نواں کود لوں؟‬ ‫ٹعارف‬ ‫صلہ عمر نارے‬

‫‪4‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫نتش لفظ‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫اللے عمر کی آواز پہلے نار ”گوگل ہییگ آؤٹ” پر ہی سنی تھی۔ میانت سنجیدگی ‪،‬تھہرابو پہرحال انک وصف ہے۔ آواز سن کر محسوس ہوا کہ‬ ‫شگرنٹ اٹگل نوں میں شلگ رہا ہے اور جیاالت دماغ میں انل رہے ہیں۔ نال گنے کا چسکا لگا بو جن نیدرہ نتس نالگروں سے میاپر ہو کر "نانچوں‬ ‫م‬ ‫سواروں "میں شامل ہوا ان میں انک الال تھی ہے۔ اندر سے پرا نییڈو‪ ،‬لکھائی کا انداز ایسا کہ لسی کی گ ھڑوی میں کھن کا پیڑا پیر رہا ہو‪ ،‬نیدے کا جی‬ ‫حاہے ہاتھ پڑھا کر اننی روئی پر رکھ لے۔ اس کے جیاالت کا پہاؤانیا انیا شا ہے ‪ ،‬اس کی نحرپر اجینی پہیں ہوئی‪ ،‬اس کے الفاظ میں غیرنت‬ ‫پہیں حھلکنی۔ شاند زہنی ہم آہیگی کہہ شکنے نا اس کے الفاظ میں موچود دھرئی کا انیا پن۔ لیکن کنی نار اس کی نحرپر کو پڑھ کر لگا کہ یہ میں نے‬ ‫کہا‪ ،‬میں نے لکھا‪ ،‬یہ میں نے سوحا اور اس سے پڑھ کر کسی نحرپر کی چوئی کیا ہو شکنی کہ وہ قاری کے شاتھ ٹعلق اسنوار کر لے۔ وہ سیدھے‬

‫شادھے ‪ ،‬سچے ک ھرے انداز میں نات کہہ د نیا ہے۔ کبھی کوزہ گر کے شا منے رکھی منی کی چوسنو کا اچساس دالنے‪،‬کبھی کنہار کیارے درنا کی لہروں‬ ‫ک‬ ‫سے روسیاس کرانے‪ ،‬کبھی درج نوں کی ڈال نوں میں حھو لنے‪ ،‬کبھی ت ھل کے اصیل گابوں کا ٹقشہ ھینجنے۔ اور کبھی" بونے حرم " کی نیگ گل نوں میں‬ ‫ح‬ ‫ھجکنے ڈرنے گزرنے ہونے الال سماج کے دوورخے موپہوں پر طما نچے رسید کرنا ہے۔ وہ سوچوں کو نچوڑ کر افسایہ گری کرنا رہیا ہے۔ عمر کسی‬ ‫ُ‬ ‫بوڑھے سمدےکسان کی طرح نینی دوپہر میں ستشمی حھابوں نلے حقہ گڑگڑانے داسیان سرائی کر نا ہے‪ ،‬اور قاری‪ ،‬لڑکے نالوں کے جتسے مچو نت‬ ‫سے سییا حانا ہے۔ وہ الفاظ کو کیابوں سے پہیں ٹکالیا نلکہ منی میں سے نبھارنا ہے۔ دھرئی کی کوکھ میں سوچ کے ننج بونا ہے بو نحرپر کی کونیلیں‬

‫تھوننی ہیں۔ سچے کو دکھا کر کھنے چپیڑ مارنے کا ہیر اسے نچوئی آنا ہے۔ کہاں ‪،‬کس موڑ پر کب قاری کو چوٹکانا ہے‪ ،‬کب پہوکا د نیا ہے‪ ،‬کب سوچوں‬ ‫کے تھ نور میں دھکیلیا ہے اس کے انداز نحرپر میں پہپیرے شامل ہے۔ ایسائی مج نوربوں کو "حالل رزق" میں نیان کرنا‪ ،‬معاسرئی میافقت کو "پہلی‬ ‫صف" میں ک ھڑا کرنا اس کا حاصہ ہے۔ وہ ایسائی ٹقسیات کا حالصہ نچوئی کرنا ہے لیکن ا ننے نحرنے اور مساہدے کی نییاد پر۔ "ک نواں کود لوں؟" کا‬ ‫سوال جہاں ہحر و فراق کی نتس محسوس کرانا ہے وہیں کچی عمر کی نےناک نوں اور نینجیا ھولیاک نوں کو ا یسے میبھے انداز میں نیان کرنا ہے کہ کہیں سے‬ ‫وعظ کا گمان نک پہیں گزرنا۔ "نئتس میل" پڑھنے ہونے ٹقین ہو حلیا ہے کہ یس کی ڈران نونگ سنٹ پر تھی الال نیبھا ہوا "فرنٹ مرر" سے سواربوں‬ ‫کی حرکات و شکیات کو گاڑی حالنے ہونے دنکھ رہا اور کیڈنکیری تھی الال کر رہا‪ ،‬قاری کسی آحری یشست پر دنک کر نیبھا شارے م بظر کو چیرائی سے‬ ‫دنکھیا حانا ہے۔ "رنل نال" اور "ناٹکا" میں اس کے ڈانیالگ نے حان ڈال دی ہے۔ چود پڑھنے اور سر دھینے۔‬ ‫اللے نے لکھیا کب سروع کیا معلوم پہیں۔ لیکن دپر سے لکھا یہ اچساس ہے‪ ،‬اس کی نحرپر کو اب نک پہجانا حا حکا ہونا۔ شاند اسے انیا آپ‬ ‫پہجا ننے میں ناچیر ہوگنی اور اس ناچیر سے نےشک کچھ یہ کچھ ٹفصان تھی ہوا ہے۔ اس وقت گرپزی کی نیا کبھی کبھار اس کا قلم کوئی فقرہ کہنے‬

‫ہانپ حانا‪ ،‬کانپ حانا۔ شاند وہ کھل کر گالی پہیں د نیا حاہیا نا الشعوری طور پر کسی تھی قاری کو دکھیارا کرنا اس کے یس میں پہیں۔ اس کا ازالہ‬ ‫ُ‬ ‫پہی کہ عمر لکھے‪ ،‬احھا لکھے اور پہت لکھے نا کہ اس چساس دل کی دھڑک نوں اور پر جیال زہن کی سوچوں سے قارنین اردو ادب کو پہیرپن مل شکے۔‬

‫عمران اشلم‬

‫‪5‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫حالل رزق‬

‫ک‬ ‫نارکول ڈلی نکی سرکاری سڑک صحرا کا سننہ چیرئی ن بغ سیدھی نک سیاہ لکیر ھنچی ہوئی ہے۔ گاڑی تھاگنی حانے بو نتسنوں میل گزر رہنے ہیں پر‬ ‫کہیں موڑ مڑنے میں پہیں آنا‪ ،‬پہاں نک کہ صحرا نار ہوحانا ہے۔ قدرے قاصلے پر سڑک کے دانیں نانیں نے پرن نب کچے را سنے ٹکلنے ہیں چو‬ ‫صحرا کے اندرون تھیل حانے ہیں۔چوالے کاآحری سیگ م یل فصنہ نچین م یل ہو بو دانیں حانب سے ٹکلنے والے ا یسے ہی اک کچے را سنے پر‬ ‫کھوہ واال‪ ،‬پیرہ م یل اندرون تھل ن یلوں کے ننچوں آناد ہے۔‬ ‫نکی سڑک سے ٹکلنے واال یہ کجا رسنہ کھوہ واال کے وشط میں جہاں ننجان نت کا ج نوپرہ وافع ہے‪ ،‬پہنچ کر جبم ہو رہیا ہے۔ اس کے پراپر میں کچی‬ ‫انیئیں گارے سے لنپ کر انک مسجد کھڑی ہے چو دنکھنے میں نالکل مسجد پہیں ہے۔ اول اس کے رواننی مسجدوں کی طرح کوئی مییارہ‬ ‫ُ‬ ‫پہیں‪ ،‬تھر قیلہ رخ دبوار کے وشط میں محراب کا کب تھی پہیں ٹکال رکھا۔مسجد کے نام پر یہ دس قٹ کا شادہ شا لم نوپرہ مسبطیل کمرہ ہے۔‬ ‫ٰ‬ ‫سب سے اگلی صف کے ننچ کھردری اون کا مصلی نچھا ‪ ،‬ٹعل میں بودی لکڑ کی انک او نچے نابوں والی کرسی مپیر نیا کر محراب کا دھوکہ دے‬ ‫ُ‬ ‫رکھا ہے۔ ٹفانا حگہ پر صرف نین صقوں کی گنجایش ہے چو نیلی صحرائی حلوپر نیل نوں کی پن کر اہبمام سے نچھا رکھی ہیں۔ ناہر پرآمدہ نکی ر نت‬ ‫ی‬ ‫سے لنپ کر ہموار ہے جہاں کبھی کبھار ن ل بغی حماغت آ ٹکلنی بو انیا چولہا شلگا لینی تھی‪ ،‬پہیں مولوی امین کا ححرہ تھی ہے۔ ننجان نت کے‬ ‫ج نوپرے ‪ ،‬مسجد اور اس کے نچھواڑے میں ک نوپں کے گ ھیر جہار ت ھیکرھوہ واال گاؤں آناد ہے۔ گھر‪ ،‬منی کے ڈھارے پہاں وہاں نکھرے ہیں۔‬ ‫صحرا کے نیلوں کی مانید انکی کوئی پرن نب پہیں‪ ،‬تھر تھی جتسے نیلے نک شان ہونے ہیں‪ ،‬و یسے یہ تھی انک رنگ اور ان میں یسنے والے‬ ‫سیدھے شادے صحرائی‪ ،‬نیلوں کی مانیدحصلت میں اندر ناہر نک ر نگے لوگ۔‬ ‫یہ کل وقنی کاسبکار مزدوروں کی یسنی ہے جبھیں کدال حالنے‪ ،‬گوڈی کرنے‪ ،‬ڈنگر حار اور وزن ڈھونے کے سوا کچھ سمچھ پہیں۔ٹعض‬ ‫ا یسے تھی ہیں چو حز وقنی نان نوں کا کام تھی حا ننے ہیں‪ ،‬کیڑے سینے ہوں نا چوبوں کی مرمت‪ ،‬یہ کام عورنیں نچوئی کر لینی ہیں بو درزی‪،‬‬ ‫موجی کی کوئی حاچت پہیں۔ کمہار وں کے الننہ دو گھرانے ہیں چو کل وقنی پہی قماش اجییار کنے ہونے ہیں۔ یہ گاؤں تھر کے لنے منی‬ ‫ً‬ ‫کے پرپن گھڑنے‪ ،‬شاتھ پڑے چوک میں تھی ننچ آنے سو یسییا چوسجال تھی ہیں۔‬ ‫یسنی گو کاسبکاروں کی ہے مگر کاست کرنے کو یس کچھ ہی انکڑ ہیں چو کبھی نیلے ہوا کرنے تھے۔ آج کے کھوہ واال کے یسنوں نے کبھی‬ ‫اتھیں ہموار کر کے کھنت نیا لنے تھے وریہ یہ اسی صحرائی ر نت کے جییل کنے میدان ہی ہیں۔ معاملہ بوں ہے کہ ر نت جہبم سی گرم رہنی‬ ‫ہے بو زرچیز منی کی پرت نے یس ہو حائی ہے۔ مزند زمین کا نائی ستسے کے تھاری پن سے کڑوا کسیال ہے ہونے کے سنب مارچ سے بومیر‬

‫نک سیزہ ا گنے کا سوال ہی پہیں۔حاڑے میں تھی اس میں حان ت ھرنے کو شارے گاؤں کے کل ٹقس چت حانیں بو کہیں حا کر صرف‬ ‫رن بع فصل کاست ہوئی ہے۔‬ ‫٭٭٭٭٭‬

‫‪6‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫گ‬ ‫اک نوپر حڑھ آنا ہے‪ ،‬یسنب گاؤں تھر میں گہما ہمی ہے۔ وہ مرد چو نچھلی فصل اتھا کر مزدوری کرنے ٹکلے ت ھے ننج اور کھاد لے کر وایس‬ ‫لوٹ آنے ہیں۔ نارناں جبھیں شاری گرمیاں نینی ر نت سے زنادہ ا ننے مج نوب کی ناد حالئی رہی ہے‪ ،‬دندار ٹصنب ہونے ہی ان شابولے‬

‫جہروں پر اللی در آئی ہے۔ تھر ن نوناں ہیں جبھوں نے شال تھر ا ننے مجازبوں کے گھر نار کی رکھوالی کی ہے ان کے لنے جہاں حڑھیا حاڑا زمین‬ ‫کی ہرنالی کا ن بعام النا ہے وہیں ارمان تھی حاگ ا ت ھے ہیں۔ اگلی فصل ا تھے گی بو اس کے ٹعد کوئی وجہ پہیں کہ ان کی گودپں تھی تھر‬ ‫رہیں گی۔ صحرا کےان مصنوط چوابوں کے کمزور‪ ،‬بوڑھے ماں ناپ تھی ہیں مگر ان کا حال کوئی پہیں نیا شکیا۔ ان کے سینے میں چو تھیڈ‬ ‫نی نوں کی وایسی نے نائی ہے اس کا یہ بو کوئی اندازہ کر نانے گا اور یہ چساب رکھ شکیا ہے‪ ،‬صحرا کی حدت نک اس تھیڈک کے شا منے ہنچ‬ ‫ہے۔ اک نوپر کی ناپیر‪ ،‬سب سے پڑھ کر کاسنی کھی نوں پر عیاں ہے۔‬

‫پہاں‪ ،‬ہل کے آگے ن یل کی چوڑناں چوت کر ر نت کےاوپر زرچیز منی ات ھل نب ھل کی گنی بو حدا چیر کہاں سے رنگ پر نگے پرندے اڑ اڑ آنے۔‬ ‫ُ ُ‬ ‫یہ ہل کے کھربوں کے ننچ ھے اڑنے حانے ہیں‪ ،‬جن جن کر صحرائی کیڑے چونچوں میں دنانے حلے حا رہے ہیں۔ جتسے جتسے نیل آگے ہل‬ ‫حالنے ہیں‪ ،‬ان کے ننچھے عورنیں لمنے نایس کے سرے پر ٹکانے دسنی کھربوں سے روڑے نارنک کرئی حائی ہیں۔ تھر پڑے بوڑھوں کو‬ ‫کھی نوں میں نال لیا گیا ہے۔ ان کی موچودگی میں شارے ر قنے پرپہلے زہر لگا ننج اورتھر کھاد کی نجائی کر کے ر نت کو دوسرے ہل سے دنانا گیا‬

‫بو بوں محسوس ہونا ہے کہ کھو ہ واال کا ہر ناسیدہ حدا کے حضور ا ننے بورے پرس کی مجنت بوں وپرانے میں سیرد کرنے کی عرضی ڈالیا ہو۔‬ ‫تھیڈے پڑنے صحرا میں اصل رنگ اس وقت چوپن پر آنا چب نپیر انج نوں سے پہال نائی حھوڑا گیا۔جی حاندار بو رہے انک طرف‪ ،‬نے حان‬

‫ر نت نک میں جتسے زندگی دوڑ گنی ہو۔ نچے حا نگنے پہنے جہاں نائی کا می بع گرنا تھا‪ ،‬ر نت کے کھڈوں میں کود پڑے۔ پہی نائی پہاں سے پرآمد ہو‬ ‫کر ر نت کے کھالوں سے ہونا کھنت سیراب کرنا حانا۔ چوان ر نیلے کھالے سیبھا لنے میں مگن ہیں بو بوڑھے نپیروں کے ناس حارنانیاں ڈال کر‬ ‫کنی کنی گھی نوں حقے گڑگڑانے رہے۔‬

‫٭٭٭٭٭‬

‫گیدم بو حکے بو کھوہ واال کی رانیں حاگیا سروع ہونیں۔ شام کو ر نت تھیڈی پڑئی بو شارا گاؤں ج نوپرے پر ٹکل آنا۔ ک نوپں پر آگے ننچھے کنی‬ ‫عورنیں سر پر منی کی گڑوناں اتھانے رش لگانیں۔ چوان لڑکیاں رنگ پر نگے کیڑے پہن ‪ ،‬سج دھج کر ٹکلئیں ۔ ک نوپں پر تھوڑی تھوڑی دپر‬ ‫ٹعد کھیکھیانے فہقہے نلید رہنے‪ ،‬پہاں چوان لڑکے ج نوپرے پر نازناں لگانے ۔ نچے حمعرابوں کروڑہ مروڑہ کھیلنے میں مگن ہیں بو بوڑھے حقے‬ ‫شلگا‪ ،‬ر نت میں دھتسی حارنان نوں پر نیبھ کر ماضی ن نو لنے رہنے ۔ نب ہر نار نحث گھوم تھر کر فصل پر حا نکنی۔ جتسے نانے سمدا انک روز‬

‫حارنائی پر لینے ‪،‬حقے سے دھواں تھر تھر نبھ نوں سے ہوا میں اڑانے ہونے شاتھ مونڈھے پر نیبھے شفنے سے کہنے لگا ‪،‬‬ ‫"شکر ہے نتسرا نائی تھی لگ گیا۔ انا نتسرے نائی پر حالص گھی میں حلوہ نلوا کر نانیا کرنا تھا‪ ،‬اب بو حالص گھی یس سونگھنے کو ہی مل نانا‬ ‫ک‬ ‫ہے۔ کہاں رہا اب وہ سسیائی کا زمایہ۔۔۔" سمسو کمہار نانے سمدھے کو ماضی سے ھینچ کر وایس مدعے پر لے آنا بو اس نے مزند کہا‪،‬‬ ‫"یس دو نائی اور لگ حانیں بو کام احھا ہو حانے گا۔ یس حدا کرے کہ انک دو حھانیں ندل کی تھی پرس لیں بو فصل جی ا تھے گی‪ ،‬اب بو‬

‫‪7‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫نارش تھی پہلے کی طرح پہیں پرسنی‪ ،‬چب ندل آنا ہے بو حاضی دپر ہو حائی ہے ‪،‬دایہ نک حاناہے۔ موال کا نام ل نوا چو کم ہو گیا ہے ناں۔۔۔"‬ ‫اس پر شفنے نے چو ہبھیلی پر تمیاکو رگڑ رہا تھا‪ ،‬کچھ کہیا ہی حاہا کہ مولوی صادق یسینح کو روک لگا کر ننچ میں بول پڑا‪،‬‬

‫"ناوے سمد‪ ،‬حدا کی رحمت بو اس کا جیال رکھنے میں ہے‪ ،‬اس کے گھر کی حدمت کرو گے بو وہ تمھارے رزق میں پرکت ڈالے گا۔" شفنے‬

‫نے مولوی صادق کی ہی ہاں میں ہاں مالئی‪،‬‬ ‫"میں تھی پہی کہیا حاہیا تھا‪ ،‬اس نار فصل اتھنے پر سب سے پہلے مسجد کی نچھلی دبوار اکھاڑ کر محراب ن نوائی حا ہنے‪ ،‬فرش تھی دنکھو تھر سے‬ ‫اکھڑ رہا ہے۔۔۔ ہللا تھلی وار کرے بو نین بورناں سبمنٹ کی میرے زمے سہی۔۔۔"۔ مولوی صادق نے دنے لفظوں وظ بقے میں اصافے کی‬ ‫طرف تھی بوجہ دالئی بونانے سمدے نے حارنائی سے اتھنے حھونے منہ ٹقین شا دالنے ا ننے نینے بور مچمد کو ٹکارا کہ ڈھور ڈنگر بو اس نے شارا‬ ‫ہانک کر ناہر ج نوپرے کے شا منے کیکر اور سرپں نلے ناندھ دنا تھا پر کھرلیاں اتھی نک ویسی ہی سوکھی پڑی تھیں۔‬ ‫ان‪ ،‬حان پڑنے کھی نوں میں نب بور مچمد‪ ،‬ڈنگر ناہر ناندھ کر‪ ،‬ج نوپرے پر سے ٹظر نجا کر ٹکلیا اور گاؤں سے ناہر سمی سے ملنے حانا کرنا۔ بور‬ ‫مچمد سمد کاسبکار کا نییا‪ ،‬شالہا شال صرف گیدم نجائی اور فصل کیائی کے لنے ہی گاؤں آنا۔ اس کے عالوہ بورا شال تھیکیدار کے ہاں‬ ‫سڑک کی مزدوری کرنا ‪ ،‬نبھر بوڑنا‪ ،‬مسالہ گھولیا‪ ،‬پہاں نک حان مار کر نارکول نک حھڑ کنے میں چت رہیا مگر حان کھوہ واال میں انکی رہنی‪ ،‬جہاں‬

‫سمی نے اس سے نبمان کر رکھا تھا۔‬ ‫سمی انتس شال کی شابولی رنگت والی‪ ،‬جتسے دمکنے سونے کی ڈلی ہو۔ شاوپز کمہار کی پڑی لڑکی تھی چو گاؤں تھر کے لنے پرپن نیانا ہی ت ھا‪ ،‬سہر‬ ‫کے دو انک ن نوناری تھی اس سے لمنی گردن والی صراجیاں‪ ،‬گلدان اور تھولے ہونے ڈولے ن نوا کر لے حانے تھے۔ ہللا کی دپن‪ ،‬احھا حاصہ‬ ‫دھیدہ تھا‪ ،‬سو سمی ا ننے ناپ کا ہاتھ نیانے نیانے چود تھی حاصے ڈنل ڈول والے پرپن نیانے لگی تھی۔ سمی کے ہاتھ جینے اور اٹگلیاں الننی‬ ‫ُ‬ ‫ج‬ ‫ص‬ ‫م‬ ‫م‬ ‫م‬ ‫س‬ ‫ن‬ ‫تھیں۔ شاوپز کہا کرنا تھا کہ سمی چی کمہارن ہے‪ ،‬س ہری نی کی مورت‪ ،‬نی یں حان ڈال د ننے والی۔ شاہ وپز نح کہا کرنا تھا‪ ،‬اس کا چو‬ ‫رنگ‪ ،‬قد کاتھ ٹکاال تھا اور تھر چب دو شال قیل بور مچمد سے نبمان ناندھا بو جتسے جی بوڑ مزدوری کے مارے اس منی کے نیلے میں وافغی حان‬ ‫ڈل گنی تھی۔‬

‫ُ‬ ‫پیرھوپں کا حاند اور ر نت کے نیلے تھیڈی سیید روسنی میں حمکنے‪ ،‬ٹظر میں ایسی مبھاس گھو لنے تھے گونا مصری کی ڈلیاں کوٹ کر پہاں وہاں‬ ‫ڈھیرناں نک ھیر رکھی ہوں ۔شام ت ھر پرندے جہچہانے اور مکوڑے بو لنے۔ صحرائی شان نوں کی ستسیائی آوازپں نک دلکش معلوم ہونیں۔ شام کے‬ ‫تھیلنے شانے میں چب شارا گاؤں ج نوپرے پر سرشار تھا‪ ،‬بور مچمد ٹظر نجانا اور پہاں نک دنکھ تھال کر پہنجا تھا‪ ،‬سمی کو دنکھنے ہی نے ناک‬ ‫ُ‬ ‫م‬ ‫ہو گیا۔ اسے ا ننے مصنوط نازؤں میں تھر لیا اور یہ سمنی ہوئی ننچود اس سے آن جیکی۔ اس پر نکدم ہی بور مچمد کو انیا گبھا ہوا صنوط چشم‬ ‫ن‬ ‫گھل کر سمی کے وچود میں گھلیا محسوس ہوا‪ ،‬چس نے اننی پرم روئی کے جتسی نیلی ناپہیں اس کے گرد بوں لی نٹ رکھی تھیں جتسے ڈر ہو کہ‬ ‫اگر ان کو ڈھیال حھوڑ دے گی بو چود کالل کے نازہ منی کے کاسے کی طرح لڑھک حانے گی۔ بور مچمد نے ا ننے سینے میں کھییا ہوا سمی کا‬ ‫ن‬ ‫جہرہ اٹگل نوں کی بوروں سے دھیرے سے اوپر اتھانا بو اس کی آ کھیں الل اٹگارہ ہو رہی تھیں۔ بور مچمد انک دم سے ننچھے ہٹ گیا اور سمی‬ ‫تھوٹ تھوٹ کر رو پڑی۔ سہالنے نحکارنے ‪ ،‬دپر ٹعد سمی معضوم نچے کے جتسے ہجکیاں لینے ہونے نیانے لگی‪،‬‬ ‫‪8‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫"انے نے میرے رسنے کی نات کی ہے ‪ ،‬تم میرا ہاتھ مانگ لو" بور مچمد کو شانپ سونگھ گیا‪،‬‬ ‫"مگر میرے ناس بو اتھی نیا ہنے واشطے رقم پہیں ہے‪ ،‬بو انے کو میا لے‪ ،‬یس دو شال مزند دنکھ لے۔" اس پر سمی ت ھٹ پڑی‪،‬‬ ‫"وہ پہیں مانے گا۔ ماں نے میرا جہیز ناندھ لیا ہے‪ ،‬حاندی نک میگوا رکھی ہے اور تھر بو حانیا ہے کمہاروں کو۔ رسنہ مانگو پہیں بو تھی انکدم ہو‬ ‫حانا ہے‪ ،‬بو یس مچھے ا ننے شاتھ لے حا۔" بور مچمد نے سمی کو پہپیرا سمچھانا کہ صحرائی لوگ بوں ننچھے پہیں ہیا کرنے‪ ،‬اننی نییاد حھوڑنے کا‬ ‫بو سوال ہی پہیں تھا۔ اسے یہ تھی قکر تھی کہ سمی کہاں اس کے شاتھ پردیس میں چوار ہوئی تھرے گی۔ ناالحر ٹقین دالنے کو فصل کی‬ ‫یسلی ہی کام آئی۔ طے یہ ہوا کہ اس نار فصل ا تھے بو وہ شاری نحت اس کے ناپ کے قدموں میں لیا دے گا یس وہ پہار نک اسے میا‬ ‫لے۔‬

‫٭٭٭٭٭‬

‫ن‬ ‫لق و دق صحرا کے ر نت کے نیلوں میں کھوہ واال کے ناہر جید انکڑ سیزہ پہت تھال معلوم ہورہا ہے۔ دور سے د کھیں بو جتسے کوئی سیز ہرا‬ ‫قالین نچھا ہو اور اگر فصل کے ننچ کھڑے ہو حانیں بو گونا کھی نوں کے ناہر نیلوں کی نے حان ر نت سورج کی حدت سے پہیں نلکہ اس‬

‫ر قنے میں نئینی زندگی سے چسد میں حلنی ہو۔ سورج کی نتش تھی اس ر قنے پر مہمیز کا کام دے رہی ہے۔ ہر حا گنے دن کے شاتھ فصل‬ ‫میں حان پڑئی حائی ہے بو و یسے و یسے کھو ہ واال کے ناسنوں کے تھی جی کھلنے حا رہے ہیں ۔ اس پرس بو نادل تھی اتھی سے گھر گھر آ نے‬ ‫ہیں‪ ،‬سوپر کے پڑکے میں مننہ پرسیا سروع ہوا ہے بو صحرا میں صنح نکھر گنی ہے اور کھنت ہیں کہ جتسے ننی آن نان سے ننے کھڑے ہیں۔‬

‫آسمان سے پرشا نائی نے شک زمین سے کھینچے ہونے سے پڑھ کر اپر دکھا رہا ہے۔ ن نٹ کی آگ بونچھنی ہی ہے اب بو ایسا لگیا ہے کہ مسجد‬ ‫میں شفیدی کے شاتھ شاتھ مولوی امین کا وظ بقہ تھی پڑھ ہی حانے گا‪ ،‬حدا نے شک پہت مہرنان ہے۔ سمی اس شام پہت چوش ہے‬

‫کہ فصل پر سوپرہوئی حھاٹ نے اس کی امید تھی پڑھا دی ہے۔‬ ‫ً‬ ‫صحرا میں نارش کے ٹعد سے فصا مرطوب ہو رہی ہے اور سیز فصل کے ننچوں ننچ کھڑے ہونا اب ٹقرنیا ناممکن ہو گیا ہے۔ جتس پڑھ گنی ہے‬ ‫بو اس کا نینجہ کچھ ہی دبوں میں یہ رہے گا کہ فصل سنہری ڈانڈے ننی لہک رہی ہو گی۔ اسی سنب بورے کھوہ واال میں اب اور ہی سماں‬ ‫ہے‪ ،‬فصل کیائی کی نیارناں ہو رہی ہیں۔ پہاں اگر درانییاں لوہاروں کے ہاں تھنی میں دھاری پر پیز ہونے کو نک رہی ہیں بو وہاں عورنیں‬ ‫ً‬ ‫بورناں سینے میں مصروف ہیں ۔ اگر دن میں گرمی سے لوگ نتست ہو کر سو پڑنے ہیں بو یسییا پہیر رات تھر دپر نک احاطوں کی صفانیاں‬ ‫ً‬ ‫کی حا رہی ہیں۔ ٹقرنیا لوگوں نے مزدوربوں سے حھنی لے لی ہے۔ گاؤں کی واحد پرنکیر پرالی والے مرشد علی کو کہلوا کر سہر سے وایس نلوا لیا‬ ‫گیا ہے اور گھروں میں کوتھواروں کو صاف کر کے اتھی سے کڑوا دھواں مار کر کیڑے مار دوائی کا حھڑکاؤ تھی کر دنا گیا ہے۔ فصل‬ ‫سیبھا لنے میں مہننہ تھر بو لگ حانے گا‪ ،‬سو مصروق نت رہے گی۔ اسی لنے صروری راسن وغیرہ تھی ڈھو دنا گیا ہے اور سہر کے تمام کام‬ ‫نییانے حا رہے ہیں‪ ،‬نا کہ نکسوئی سے شال تھر کے رزق کا ان بظام ہو شکے۔‬ ‫٭٭٭٭٭‬

‫‪9‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫فصل کیائی میں یس دو ہف نوں کی دپر ہو گی کہ انک رات چب نتسرا پہر نار ہونے کو تھا‪ ،‬مولوی امین نے اتھی مسجد کے ناہر پرآمدے میں‬

‫قیلہ رو کھڑے‪ ،‬کان پر ہاتھ دھر کر فحر کا نالوا د نیا ہی کیا‪ ،‬ہللا اکیر۔۔۔ ہللا اکیر۔ گاؤں تھر کے پڑے بوڑھے چوابوں کو سونے پڑے کوس‬ ‫اور عوربوں کو حانیاں رڑ کنے حھوڑ مسجد کا رخ نانا۔ اذان اتھی اسہد کے وشط میں تھی کہ انک مکوڑہ مولوی امین کی گردن پر روڑے کی طرح‬ ‫آن لگا اور سنٹ ننچےپیروں میں گر گیا۔ کان حھوڑ اس نے گردن کھجائی۔ ننچے دھری اللئین کی روسنی میں دنکھیا ہے کہ انک نڈی اس کے‬ ‫منہ کے آگے سے ہوا میں پیر گنی۔ مولوی امین کے حلق میں اسہد ہللا لرز سی گنی۔‬

‫حلد ہی شارا گاؤں پیروں پر تھا جن کے ننچے سے زمین ٹکل حکی تھی۔ نیار فصل پر نڈی دل حملہ کر گنی اور شارا ان بظام دھرے کا دھرا رہ‬ ‫گیا۔ دعانیں‪ ،‬دوانیں اور مجنت سب اکارت گنی۔ تھوننی روسنی میں دنکھنے ہی دنکھنے جہاں جہاں سیزہ دکھیا تھا نڈی دل ڈانڈوں نک کو چٹ‬ ‫کنے حا رہا تھا۔ کھلے میدان میں اگر نڈناں جتسے سیاہ مرعولے اڑئی تھر رہی تھیں بو زمین پر گونا ان کی نکھائی تھی۔ کھی نوں میں بویہ حال کہ‬ ‫کوئی ہرا ڈانڈہ دانے نک اتھوں نے کورا پہیں حھوڑا‪ ،‬پہاں نک کہ حڑوں کو تھی اوپر سے بوچ گئیں۔ سیزے پر تھر کر یہ وہیں پڑئی گئیں‬

‫اور بوں دوپہر نک کھنت نڈبوں سے اس قدر اٹ گنے کہ اگر کوئی زمین پر پیر دھرنا بو قدموں کے ننچے نتسنوں نڈناں کجلے حانے سے حر حر ا‬

‫حانیں۔‬

‫شارا کھوہ واال دن تھر اننی پرنادی ناڑ حکا بو شام میں ج نوپرے پر اکبھ ہوا۔ کسی کے حلق سے کچھ پرآمد یہ ہونا تھا‪ ،‬نک دلی عورنیں ناقاعدہ نین‬ ‫کر رہی تھیں اور مردوں کی جتسے آواز حلق میں رندھ کر حکڑی گنی ہو۔ اب یہ کچھ روز کا ہی معاملہ تھا‪ ،‬چب نچھلے شال کی گیدم جبم ہو‬ ‫رہنی بو کھوہ واال کے ناسنوں کو قافے دنکھنے تھے۔ ننج کھاد اور دوانیاں فرض پر اتھائی تھیں اس کا طوق علنجدہ سے ان کے گلے میں لیکنے واال‬ ‫تھا۔ اب وہ ن نٹ کو نا لنے نا فرصے انارنے‪،‬کسی کو کچھ سچھائی یہ د نیا تھا اور حھ بکارا تھا پہیں۔ سو دپر نک پڑے بوڑھوں میں نحث حلنی‬ ‫رہی۔ بور مچمد نچھ کر‪ ،‬بوح ھل قدموں کھی نوں میں حا کر نیبھ رہا۔ رات گنے اک ق بصلہ کر لیا گیا۔‬ ‫٭٭٭٭٭‬

‫سوپر ہوئی بو کھوہ واال کے مرد‪ ،‬عورنیں اور نچے نیلچے‪ ،‬حالی دار کیڑوں کی حادرپں اور چوا نچے لنے گیدم واشطے شلی نتسنوں بوربوں میں کھی نوں‬ ‫سے نڈناں حمع کرنے رہے۔ حالی دار حادرپں عرض کھول کر سیزے کے آس ناس دن تھر ل بکانے رکھیں‪ ،‬بوں اڑئی نڈبوں کا شکار تھی ہونا‬ ‫رہا۔ العرض شام گنےہر گھر کے کوتھوار میں نڈبوں سے تھری کنی بورناں‪ ،‬گونا اس شال کی فصل رن بع محقوظ پہنچ رہیں۔ اس رات کھوہ واال‬ ‫کے ناسنوں نے پہلی نار سرٹعت کی رو سے نڈبوں کا حالل رزق ٹکا ک کرھانا۔‬

‫جید روز ٹعد بور مچمد کنی بوچوابوں یشمول بوعمر لڑکوں کو شاتھ لنے تھیکیدار کے ڈپرے کی طرف روایہ ہو گیا۔ چس پہار کا وعدہ اس نے سمی‬ ‫کے ناپ سے لیا تھا وہ اب کنی شالوں نک لوٹ کر آنے والی پہیں تھی۔‬

‫اگست‪3102 ،‬ء‬

‫‪10‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫ناٹکا‬

‫"او تھڑوے‪ ،‬انک ننی واال نان لگان نو۔۔۔" مچمد سوکت عرف سوکی اداس نے سڑک کے ننچ سے ہی منہ تھاڑ کر آواز لگائی مگر کھو کھے واال ندسنور‬ ‫منہ پر کھڑے گاہکوں کو شگرٹ نان اور تھیڈی بونلیں پرنانے میں مصروف رہا۔‬ ‫"پیرے کان میں تھی حرام اگ آنا ہے کیا؟ حلدی سے نان لگا۔۔۔" سوکی چو اب قٹ ناتھ پر تھا‪ ،‬بوں مجاطب کیا بو سنوائی ہوئی مگر منہ‬ ‫ُ‬ ‫تھاڑ کر گالی وایس کی گنی۔ تھر مزند کچھ کہے کھو کھے والے نے کاعذ کی پڑنا میں لییا نان اشکی حانب اح ھال دنا۔ سوکی پیز ننی واال نان منہ‬ ‫میں اڑس‪ ،‬ہلکے دان نوں سے جیانا ت ھپیر کی حانب پڑھ گیا۔‬

‫ت ھپیر کے داحلی را سنے میں شا منے کی دبوار پر اسنہار آوپزاں ہے۔ آتھ قٹ چوڑی اور نانچ قٹ عرض کی نییا قلیکس نالسیک کے اسنہار پر نین‬ ‫مفامی اداکاراؤں کے میک اپ زدہ جہروں کی حاضی مضجکہ چیز ٹضوپرپں حھنی ہیں۔ ان ٹضوپروں کے ارد گرد کی حالی حگہ پر لگ تھگ آدھے‬ ‫درجن اداکاروں کی ٹضوپرپں حھونے گول داپروں میں اسنہار کے سرمنی یس م بظر میں بوں نکھری ہیں کہ منی میں ُرلنی نلوروں کا گماں ہو۔‬ ‫ننچے کے انک کونے میں معاون اداکاروں کے نام درج ہیں جن میں انک نام سوکی اداس کا تھی ہے۔ سرراہ نیگے ا ننے پڑے اسنہار پر انیا‬

‫نام دنکھ کر اس کا سننہ چوڑا شا ہو گیا۔‬

‫اسنہار میں ا ننے نام کے سرور سے سرشار‪ ،‬منہ میں نان دنانے‪ ،‬جیکہ ہاتھ میں نان کی کبھے سے رنگی ہوئی پڑنا کا کاعذ مسل کر روڑی نیانا‬ ‫ہوا داحلی را سنے سے گزر رہا‪ ،‬بوروڑی انک حانب کو احھال کر کب ھے سے الل ہونا ہاتھ دبوار پر رگڑ کر بونچھا اور تھر نیل نالنے ال ننے نالوں پر‬

‫ت ھیرنے ہونے نانیں ہاتھ پر نکٹ کی کھڑکی کی حانب مڑ گیا۔ کھڑکی کے شا منے نکٹ حرندنے والوں کا احھا حاصہ مچمع ہے کہ آج رات سہر‬ ‫کی مشہور رقاصہ حلوے دکھانے کو سینج پر اپرنے والی تھی۔ پہاں رک کر اس نے دا ہنے ہاتھ سے کان میں ڈلی نالی کو ادب سے حھوا گونا‬

‫کسی مزار کی حالی پر نیگی منت ہو۔ تھر ما تھے پر ہاتھ ٹکا کر ناآواز نلید اجبماعی شالم گزار کیا۔ جید انک نے مڑ کر دنکھا مگر چواب د ننے کی‬ ‫م‬ ‫زحمت پہیں کی۔ رش میں سے راسنہ نیانا نکٹ کی کھڑکی کے شاتھ لچق پروڈبوسر صاچب کے دفیر میں حاصری د ننے کی عرض سے آگے‬ ‫پڑھ کے دروازہ کھول‪ ،‬اندر داحل ہو گیا۔‬ ‫ق‬ ‫دفیردس صرب نارہ قٹ کا معمولی کمرہ ہے چس کا فرش کھدڑا ہوا ہے۔ میلی دبواروں پر لمی بوسیر چسیاں ہیں‪ ،‬جن میں سے اکیر کی روسیائی‬ ‫اب عرصہ گزر حانے پر مدھم پڑ گنی ہے۔ اسی سنب دبوارپں حاضی تھدی محسوس ہو رہی ہیں۔ کمرے کے وشط میں انک چوکور میز پر اال نال‬ ‫دھر رکھا ہے‪ ،‬چس کے گرد انک دفیری اور شا منے نین مہمابوں کی کرسیاں پرن نب سے نچھی ہوئی ہیں۔ دروازے سے داحل ہوں بو دانیں‬ ‫طرف کی دبوار کے شاتھ چوڑ کر انک پرانے فتشن کا صوفہ نچھا ہوا ہے چو اس کمرے کے چساب سے حاصہ نے ڈھیگ محسوس ہونا ہے۔‬ ‫ن‬ ‫دفیر میں اس وقت پروڈبوسر صاچب کے شاتھ سینج ڈراموں کی اداکارہ سیایہ اننی ماں کے ہمراہ موچود سیبھل کر یبھی ہے۔‬ ‫ق‬ ‫سیایہ کو سینج کی دنیا میں اصل نام سے کم ہی لوگ حا ننے تھے‪ ،‬لمی نام سب چوہدری ہر حاص و عام میں نکساں مف نول ہے۔ یہ نائی حڑھے‬ ‫سونے سے لدی تھیدی‪ ،‬حاصے چست ریشمی لیاس میں ا ننے نئیں کھلنی مسکراہٹ سجانے‪ ،‬انک ادا سے کبھی نالوں کی لٹ سیبھالنی اور‬ ‫‪11‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫ن‬ ‫تھر سنہری چوڑبوں سے کھیلنی ہوئی پروڈبوسر صاچب کی طرف م نوجہ ہو کر بوں ننپیرے ندلنی یبھی ہے کہ اس کے طور کا اندازہ پہیں ہو‬ ‫نانا۔ انک لمچے کو اگر حاضی نے ناک ٹظر آئی ہے بو دوخے لمچے بوں سیبھل حانے کہ جتسے گ ھیڑی ہو۔ پروڈبوسر صاچب نجاس کے نینے میں‬ ‫درمیانے قد کے آدمی ہوں گے‪ ،‬سیایہ کے پہلو میں اس پر بوں حھک کر کھڑے ہیں کہ ایسا معلوم ہونا ہے کہ کمر میں یہ حم ازلی ہے۔‬ ‫اس پر بوں حھک کر وہ حدا حانے سیایہ کو کیا سمچھا رہے تھے۔ پروڈبوسر صاچب کی سرگوسیاں سی گو اس کو سیائی یہ دی پر سیایہ ا یسے‬ ‫ُ‬ ‫دکھنی ہے جتسے کوئی نیلی ہو چس کی ڈور پروڈبوسر صاچب نے تھام رکھی ہے۔ پروڈبوسر صاچب کی ہر نات اور اشارے پر انیات میں اک ناز‬ ‫ک‬ ‫ن‬ ‫سے جی ہاں‪ ،‬جی صرور کی رٹ اال ننے تھک پہیں رہی تھی اور شا منے کرسی پر یبھی اس کی ماں اس پر ا ننے دوبوں ہاتھوں کو آگے ھینچ کر‬ ‫ک‬ ‫مبھیاں نیا کر سر نک وایس ھینچ کر نالنیں لینی حائی۔ ناوچود اس عورت کی چوشامد بوں بو حاضی نے نکی محسوس ہوئی ہے مگر تھر تھی یہ‬ ‫ایسی ہوسیار ہے گونا کسی نیار ناغ کا مالی ہو۔ سوکی کو بوں اس طرح نے دھڑک دفیر میں گھسنے دنکھ کر پروڈبوسر صاچب کا نارہ حڑھ گیا۔‬ ‫اسے وہیں کھڑے کھڑے حھڑک دنا‪،‬‬

‫"نے بو پہاں کاہے کو گھسا حال آ رہا ہے؟ سیبھ کی اوالد کو دنکھو۔۔۔ سو سروع ہونے میں نیدرہ منٹ ناقی ہیں اور یہ الٹ صاچب اتھی‬ ‫یسرٹف ال رہے ہیں۔۔۔ سین کی نیاری پیرا ناپ کرے گا؟"‬ ‫سوکی کھسیانا شا ا لنے قدموں ناہر ٹکل آنا۔ ھال کے ہ بگامی را سنے سے گزرنے ہونے پڑپڑانا‪،‬‬ ‫"حرامی کا پڑھانا دنکھو اور کتسے شلتش کی طرح جیک رہا تھا۔"‬

‫پہاں سے سیدھا حلنے ہونے یہ ھال کے نالکل نچھواڑے پہنچ گیا جہاں سے ن بغ سیدھا ڈریسیگ روم کی یست کا دروازہ کھلیا ہے۔ ڈریسیگ‬ ‫روم میں حاصہ سور مچ رہا ہے۔ اسے ا ننے سین کے لنے نیاری پر ننے میں تمسکل نانچ منٹ لگے اور یہ وہاں سے ناہر گ یلری میں ٹکل آنا۔‬

‫آج رات ڈرامے کے نین سو تھے۔ دو گھینے کے نانک میں سوکی کا کردار انک مجافظ کا ہے چو ملتسیا لیاس پہنے‪ ،‬ہاتھ میں نیدوق اتھانے یس‬ ‫جید منٹ کے لنے مرکزی اداکارہ کے شاتھ سینج پر تمودار ہونا ہے۔ تھر دو ڈانیالگ ہکالنے ہونے بوں ادا کرنے کہ معنی فحش ہو حانیں اور‬ ‫ً‬ ‫آحر میں دوسرے کرداروں کے ہاتھوں جید فقرے لی نٹ کر اور حھوٹ موٹ کی مار کھا کر ہٹ رہیا۔ اس مج بصر سین کے ٹعد فورا ٹعد رفص‬

‫سروع ہو رہیا اور بوں اس کی گلوحالضی ہو حائی‪ ،‬ہللا ہللا چیر صال۔ مگر پروڈبوسر صاچب نے اس کو بوں حھڑکا تھا گونا یہ ڈرامے کا مرکزی‬ ‫ً‬ ‫کردار ہے چس کو ٹقرنیا وقت سینج پر گزارنا ہو۔ ڈرامے کو سروع ہونے اب تھوڑی دپر ہو گنی تھی۔ اسے اتھی تھی حاصہ وقت متسر ہے۔ یہ‬ ‫گیلری میں دبوار سے کرسی ٹکا کر نیبھ گیا اور شگرٹ شلگا لی۔ ڈریسیگ روم اور سینج کے ننچ اس مج بصر گیلری میں ت ھپیر عملے اور ق بکاروں نے‬ ‫اودھم مجا رکھا ہے۔ انک کونے پر ڈریسیگ روم ج یکہ دوسرے پر سینج تھا‪ ،‬دوبوں ہی سرے اس وقت ٹفعہ بور ننے ہیں۔ ننچ کی گیلری میں‬ ‫صرف انک زرد نلب روسن ہے چس کی میلی روسنی نے لم نوپرے را سنے میں افسردگی تھر رکھی تھر دی ہے۔‬

‫شگرٹ کا اپر تھا نا گ یلری میں نے وجہ اداسی‪ ،‬ماضی کی ناد سوکی کو عڑاپ سے ٹگل گنی۔ اس گیلری سے اس کی نے سمار نادپں وایسنہ‬ ‫ہیں۔ گو سوکی کو سینج پر ڈرامے کرنے حھ پرس سے زاند ہو حلے تھے مگر اس مفام سے یسنت اس سے تھی پہلے کی ہے۔ سوکی کا ناپ‬ ‫نانتس شال نک اسی ت ھپیر میں ناہر ج بگلے پر نکٹ جیک کرنے اور مقت پروں پر ٹظر رکھنے کا ن بگار کرنا رہا جیکہ ماں کی شاری چوائی اسی سینج‬ ‫‪12‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫پر رفص کرنے گزر گنی۔ نب سینج کا رنگ کچھ حدا ہوا کرنا ت ھا۔ ق بکار کی نب عزت تھی‪ ،‬جتسے ہی سو جبم ہونا‪ ،‬پہی گیلری مداچوں سے بوں‬ ‫ً ً‬ ‫تھر حانا کرئی تھی کہ فردا فردا سب پر داد کے ڈونگرے پرسنے اگلے سو کا وقت ہو حانا اور تھر سب پر تھاگم تھاگ طاری ہو حائی۔ ہر رات‬ ‫ُ‬ ‫دوسرا سو حڑھیا بو سب حھونے پڑے ق بکار ٹعرٹقوں کی گرمایش سے جتسے میدے کا کلجہ تھول حانے‪ ،‬کیا ہونے سینج پر تمودار ہونے۔‬

‫ہال میں نینی نال نوں‪ ،‬پڑھنے سور سے جیال بوٹ گیا۔ اس نے شگرٹ کی راکھ حھاڑ کر انک معمولی کش لیا۔ ماحھو حاخے کی لڑکی نگننہ انک‬ ‫واہیات گانے پر نے ہ یگم رفص کر کے لوٹ رہی ہے۔ پیز نییگنی رنگ کی یسینے میں نحڑئی کرئی پہنے یہ نال کی چست ٹظر آئی ہے۔ ننچے الجہ‬ ‫ہے چو حاصہ گ ھیردار ہے مگر تھر تھی چب قدم آگے رکھنی بو نانگیں میاسب حد نک عرناں ہو حانیں۔ تھر اگلے ہی قدم پر گو گ ھیر سے عرنائی‬

‫ڈھک حائی مگر اس حھین حھیائی سے دنکھنے والے کی آنکھ میں یسیگی سی رہ حائی۔ سوکی تھیڈی آہ تھر کر رہ گیا۔‬

‫نگننہ کے حانے ہی اس نے بوچوہ شگرٹ دبوار سے رگڑ کر نچھانا اور ادھ نیا بونا ج نب میں تھویس دنا۔ اب گ یلری میں سیبھ واحد آنا ہوا دکھائی‬ ‫دنا۔ سیبھ صاچب کا سہر کی لوہا مارکنٹ میں احھا حاصہ گودام تھا اور کچھ ہفنے قیل سیبھ صاچب کا حھونا لڑکا نلدنائی ووبوں میں ناطمی کا‬ ‫الیکشن ج نت کر آنا تھا۔ یہ ادب سے کھڑا ہوا اور حھک کر سیبھ صاچب کو شالم کیا۔ سیبھ صاچب سے انک قدم ننچھے حلنے متسی نے سوکی‬ ‫سے سب چوہدری کے نارے اسبقسار کیا بو سوکی نے نے دلی سے پروڈبوسر صاچب کے کمرے کی طرف اشارہ کر دنا۔ یہ دوبوں وہیں سے‬

‫ا لنے قدموں لوٹ گنے۔‬

‫یہ تھر سے وہیں نیبھ رہا۔ گ یلری سے اتھی اتھی گزری نگننہ سے ہوئی سیبھ واحد اور پروڈبوسر صاچب کا کمرہ‪ ،‬سوجیں تھر سے در آ نیں۔ اب‬ ‫ت ھپیر میں مداچوں کی نجانے گاہک آنے لگے ہیں‪ ،‬سوکی نے سوحا۔ فقرے نازی فحش ہو گنی۔ رفص یس واہیائی رہ گیا۔ نگننہ کو ہی دنکھ لو‪،‬‬ ‫الکھ دلوں پر راج کرئی ہو مگر نے جیا‪ ،‬کتسے میک میک کر حلنی ہے۔ چشم کی تمایش بوں کرئی ہے جتسے سرنازار ن بگا گوست نکنے کو ن بگا ہو۔‬ ‫تھر ناہر سینج کے نکٹ کاؤپیر کا متسی الگ دالل نیا سودے کروانا ہے۔ ہللا کی نیاہ‪ ،‬اب بو آنے روز حھانے پڑنے تھے۔ ت ھپیر میں جہاں‬ ‫ُ‬ ‫کبھی سجا تماشہ ہوا کرنا ت ھا‪ ،‬چود تماشہ پن کر رہ گیا ہے۔ چود اسے اتھی واہیان نوں میں ناچق دو انک نار چواالت کا مزہ حکھیا پڑا تھا۔‬ ‫جیاالت حھیک‪ ،‬اس نے شگرٹ دونارہ شلگانا ہی تھا کہ پروڈبوسر صاچب سیایہ کی ماں کو شاتھ لنے آنے دکھائی دنے‪ ،‬بوچوہ شگرٹ تھر رگڑ‬

‫دنا۔ شارے انکسیرا‪ ،‬عملہ آگے پڑھ کر پروڈبوسر صاچب کو شالم کرنے اور ان کے لنے ہٹ کر راسنہ حھوڑ د ننے۔ سیایہ ان کے شاتھ‬ ‫پہیں تھی‪ ،‬چس سے سوکی کو الچھن سی ہونے لگی۔ کچھ ہی دپر میں اس کا سین حاری ہونا تھا اور یہ یہ حانے کہاں رہ گنی ہے۔ یہ دوبوں‬

‫ڈریسیگ روم کی حانب ٹکل گنے۔ اس کی حانب دوبوں میں سے کسی انک نے تھی بوجہ پہیں دی۔‬ ‫سوکی کا سین سروع ہوا بو سینج پر داحلہ شکرنٹ کی عین صرورت کے مظابق یہ ہو نانا۔ سیایہ حاضی دپر نک سیبھ صاچب کے شاتھ ناہر‬ ‫ن‬ ‫ش‬ ‫دفیرمیں یبھی رہی تھی۔ چب ڈریسیگ روم کی حانب آئی بو نال الچھے اور میک اپ جتسے پہہ رہا تھا۔ اس کو لچھانے دپر ہو گنی اور بوں سینج‬ ‫پر حاری سین میں فقرے نازی کو چواہ مچواہ طول د نیا پڑ گیا۔ سینج کے ننچھے اسی سنب کچھ ندمزگی نیدا ہو گنی۔ سب سوکی پر پرس رہے ت ھے‬ ‫اور یہ سب پر تھیانا ہوا کچھ کہہ تھی پہیں شکیا تھا۔‬

‫‪13‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫اسی کشمکش میں چب سینج پر اپرا بو ڈانیالگ ا یسے الچھے اور تھیکے انداز میں ادا کنے کہ شکرنٹ کے کرداروں سے پہلے تھرے ھال نے اس‬ ‫کے کھڑے کھڑے لنے لے لنے۔ سین کا بو و یسے تھی سییاناس ہو حکا تھا‪ ،‬اداکاروں نے تھی اس موفع کا چوب قاندہ اتھانا۔ اگلے دس‬

‫منٹ نک فقرے نازی میں اس کی وہ چیر لی کہ نینی نال نوں‪ ،‬فہقہوں اور سئی نوں سے کان پہرے ہو رہے ہیں۔ چونکہ یہ سینج پرآنے روز کا‬ ‫ً‬ ‫ک‬ ‫معاملہ تھا بو یہ اس ھینچ نان کے چوانا یس سینج پر پہاں وہاں حکر لگانا نا تھرم رکھنے کو ہر فقرے پر جیانت سے ہتس رہیا مگر نینی داد کے‬ ‫چوش میں ڈرامے کے ہیرو نے سوکی کی ماں نارے انک فقرہ کس دنا۔ تھلے یہ معمولی سی نات تھی مگر فقرہ گونا نبھر پر تھاری ہبھوڑے کی‬

‫طرح گرا۔ احھا حاصا سوکی اداس‪ ،‬نچوں کی طرح تھوٹ کر بوں رو دنا جتسے پہاڑ کی نبھرنلی جیان پر آحری صرب پڑنے سے نائی کا فوارہ انل پڑنا‬ ‫ہے۔ مچمع کو بو جتسے لقوہ مار گیا ہو‪ ،‬مگر حلد ہی دھیان یس م بظر سے موسبقی کی لے نلید ہونے پر نٹ گیا۔ سوکی دھیرے سے قم بص کی‬

‫آسئین آنکھوں پر ملیا‪ ،‬حھونے بوحھل قدموں سینج سے بوں اپرا جتسے کوئی ناکام حلیا ہو۔‬ ‫سینج پر اب سہر کی مشہور رقاصہ سب چوہدری حلوے دکھا رہی ہے‪ ،‬اسے ا ننے تھائی سوکی کے پرعکس سوپر نک آیسو پہانے کی فرصت ملنے‬ ‫والی پہیں تھی۔‬

‫(چون‪)3102 ،‬‬

‫‪14‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫پہلی صف‬

‫اکیر حان ج نوئی حدی یسنی زمییدار تھا۔ اس کی چونلی انک نیگھے ر قنے پر اس کے دادے نے پڑی ناڑھ کے ٹعد دونارہ ٹعمیر کی تھی۔ شاتھ ہی اس کے‬ ‫کنی ناڑے اور انک ڈپرہ چس پر ہر وقت مزارعوں اور ناڑے کے ماحھ نوں کا نان یا لگا رہیا تھا۔ ہللا کا دنا سب کچھ تھا۔ نین ن نوناں‪ ،‬دو چوان جہاں نینے چو‬

‫زنادہ پر سہر میں رہنے‪ ،‬کنی گ ھیر زمین کی حاگیر‪ ،‬چس میں کنی انکڑ آموں کے ناعوں کے عالوہ شال میں انک اناج اور دوسری صاف میا فعے کی فصل‬ ‫بوئی حائی تھی۔ سب کچھ تھا مگر جتسے کمی ہوا کرئی ہے‪ ،‬اکیر حان کی تھی دو کمزورناں تھیں۔ اول‪ ،‬صرورت سے زنادہ زمین ہونے کے ناوچود وہ مزند‬

‫سمئینے سے چود کو ناز پہیں رکھ شکیا تھا اور دوم چونلی کی زنان حانے میں نین ن نوبوں کے ناوچود تھی وہ ڈپرے پر عورنیں النے ٹعیر گزارہ پہیں کر‬ ‫شکیا تھا۔ ہر شال کچھ یہ کچھ زمین نا بو کسی مج نور سے حرند لییا‪ ،‬پہیں بو ہبھیانے نک کے لنے اس کے کاردار موچود تھے جن میں اکیر حھنے ہونے‬

‫مقرور تھے چو اس کے ڈپرے پر ن یاہ لنے ہونے تھے۔ تھر جیلی ہوس کے لنے اکیر بو ناجنے والی کنحرناں نال النا وریہ مزارعوں کی عورنیں بو کھوننی پر‬ ‫نیدھی گان نوں کی طرح ہر وقت ہی اس کی حدمت واشطے موچود تھیں‪ ،‬پہاں تھی چو مرضی سے آ حائی بو سنے چیراں پہیں بو اس کے کاردار نگڑی لے‬

‫کر حانے اور رات کے ٹکاح میں ناندھ کر لے آنے۔‬

‫چو تھی تھا‪ ،‬ان دو قیاج نوں کے عالوہ اکیر حان تھال آدمی تھا۔ نانچ وقنی حماغت کا تمازی‪ ،‬مسجد کا حادم۔ شارا حرجہ چود پن ننہا اتھا نا‪ ،‬مولوی‬ ‫ت‬ ‫کا ماہایہ وظ بقہ ناد سے اس کی کوتھڑی میں ھچوا د نیا‪ ،‬اسی طرح مسجد میں حدا کے مسافروں کے لنےدو وقت کھانا تھی اکیر حان کی چونلی سے‬ ‫م‬ ‫ہی نک کر آنا کرنا تھا۔ عرس میلے‪ ،‬زنارت پر کنی ہزار روبوں مالنت کا گھی کھن اور نذرایہ علنجدہ سے پہنجانا کہ اس کی فصل‪ ،‬چونلی اور ڈپرے‬ ‫میں مرشدوں کی پرکت اور حدا کا شایہ قاتم رہے۔ ھاں‪ ،‬مسجد میں یس اسے انک ج بط تھا کہ ہمتشہ پہلی صف میں عین مال کے ننچھے تماز‬ ‫پڑھیا‪ ،‬مجال ہے کہ اس کی حاء تماز پر کوئی دوسرا تمازی قدم ڈا لنے کی تھی حرات کر شکیا ہو۔ لوگ اس کے منہ پرگاؤں میں بو کچھ یہ کہنے‬

‫ت ھے مگر اکیر نائی موجی نازار میں اکبھے ہونے بو دنے دنے اکیر حان کی اس عادت کو پرا حا ننے۔ جتسے‪ ،‬بورا حجام انک دن ر ننی پر اسیرا پیز‬ ‫کرنے ہونے شا منے نیبھے سوکے موجی سے کہنے لگا کہ‪،‬‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫'پہلے بو یس صف میں حگہ تھی‪ ،‬اب اکیر حان نے مصلی نک ا ننے لنے علنجدہ سے لگوا لیا ہے۔ آگے مولوی کا مصلی ہے بو انک سجدہ حھوڑ‬ ‫ً‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫کر اس کا مصلی نچھا ہوا ہے۔ کاردار نے نیانا کہ حان نے یہ مصلی حضوصا مد ننے سے میگوانا ہے"۔‬ ‫سوکا موجی چو نے دھیائی سے اس کی نات سینے ہونے گھسے چوبوں میں سونے نار رہا ت ھا‪ ،‬مد ننے کا زکر سن کر انک دم مودب ہو گیا ۔‬ ‫دوبوں انگو تھے چوم کر آنکھوں سے لگانے اور کہنے لگا‪" ،‬موال پرکت ڈالے۔ حدا حانیا ہے یسنی میں اس کی وجہ سے مسجد میں سب کو سہولت‬ ‫ہوئی ہے۔ نائی شارے پہر بونی نوں نک میں آنا ہے‪ ،‬تھر مسافروں کے لنے اس نے چو نیدویست کر رکھا ہے‪ ،‬موال کی اس کو دپن ہے۔"‬

‫اس پر بورے نے پرا شا منہ نیا کر مسافروں کی آل اوالد میں حرام ٹطقہ گھسیڑا اور بوال‪،‬‬

‫" سوکے‪ ،‬حرام نیا یہ کر۔ حان کی چود کی حالت یہ ہے کہ رات عوربوں کی گود اور فحر مولوی کے ننچھے گزرئی ہے۔ ہللا مچھے معاف کرے‪،‬‬

‫میں نے بو فحر سے بویہ کر لی۔ سوپر وہ نام بو حدا کا پڑھ رہا ہونا ہے مگر منہ کنی کی ناس مارنا رہیا ہے۔ حماغت حرام ہو بوایسی مکروہ تماز کا‬ ‫قاندہ؟" اس پر سوکے نے تھی اسبعفار پڑھی‪ ،‬تھر گونا ہوا کہ‪،‬‬ ‫‪15‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫"ناقی بو سب تھیک ہے‪ ،‬یس اس کی یہ عوربوں والی ند عادت حلی حانے بو نیدہ ہیرا ہے‪ ،‬ہیرا۔" اب کے شفنے درزی نے شلوار کے ن بقے‬ ‫کا عرض شالئی مسین میں قٹ کیا اور ہبھ دسنی سے ک ھٹ ک ھٹ مسین حالنے لقمہ دنا‪،‬‬

‫"نات یہ ہے تھان نو کہ اکیر حان مسجد میں تماز پڑھ کر حدا کو راضی رکھیا ہے‪ ،‬مگر پہلی صف میں کھڑے ہونے کی عادت اس کے دادے‬ ‫والی ہے۔ میرا انا کہا کرنا تھا کہ ج نون نوں کو حدا کی زمین بو عظا ہوئی ہی ہے مگر وہ مسنت کے تھی زمہ دار ہیں۔ کہو بووہ مسنت میں تھی‬ ‫حدا کے سر نکے ہیں"۔ ان لوگوں کی یہ نحث ہمتشہ کی طرح نبھی یس ہوئی چب اکیر حان کا متسی ظ بفا وہاں آ کر نیبھ گیا۔ محفل حما‪ ،‬حقہ‬ ‫شلگا کر ناسوں کی نازناں حلنے لگیں۔ سوکے‪ ،‬بورے اور شفنے نے انیا دھیدہ ویسا حھوڑ کر دن تھر کی کمائی تھڑے پر چونے میں حھونک‬

‫دی۔‬

‫شام میں اکیر حان ناہر ہوا چوری کو ٹکال کرنا تھا۔ اس روز تھی چب وہ نازار میں ٹکال بو متسی نازی آدھی حھوڑ کر اس کے ننچھے دوڑا بو سوکے‬ ‫نے منہ ننچے کر کے ناس نیبھے شفنے کی ران دنا کر کہا کہ‪" ،‬لے تھنی شفنے‪،‬ظ بفا دالل ا ننے حان کے لنے رات کا ان بظام بوحھنے گیا ہے۔"‬

‫سوکا چو ان دوبوں کو سن رہا تھا ظ بقے کو وایس آنا دنکھ کر بوال‪" ،‬رب حانے کس مزارعے کی فصل میں یہ حرامی کھوٹ ٹکالے گا۔" ظ بقے‬

‫نے جتسے نات سن لی ہو‪ ،‬ھتسنے ہونے رقم سمنٹ کر بوال‪،‬‬ ‫"آج کی نازی بو سج نو میں لے ہی گیا‪ ،‬اب دنکھو کس دن حان کا ناز تم حرامزادوں کی حڑبوں پر ٹظر ڈالیا ہے۔" یہ کہنے ہونے ظ بقے کے‬ ‫انداز نے گونا ان کمی کمی نوں کے گھروں کی عزت کے کونے کھدروں نک کو کھ بگال لیا ہو۔‬

‫اس کی موچودگی میں بو کسی کو ہمت یہ ہوئی‪ ،‬اس کے حانے کے ٹعد سب نے حان اور اس کے دالل کی زنائی کالمی چیر لی۔‬ ‫متسی ظ بقے کا کام دالل جتسا ہی تھا۔ وہ اکیر حان کے لنے مزارعوں کی عورنیں ڈھونا کرنا تھا۔ اس کے ناس سب کا چساب تھا۔ چس‬ ‫مزارعے کی کوئی عورت نارنے والی ہوئی بو اس کے چساب میں ردندل تھی ہو حانا تھا۔ اکیر بو اس کی صرورت تھی نتش یہ آئی تھی۔ اس‬ ‫روز تھی‪ ،‬چب وہ گچو کی نینی کو شاتھ لنے ڈپرے پر پہنجا بو شام پڑنے والی تھی۔ اکیر حان کچھ افسردہ شا ناہر کھلے میں حارنائی پر لییا تھا ۔‬ ‫گچوکی نینی کو وہ اندر حھوڑ کر حان کے ناس آنا بو اکیر حان نے اسے م بع کر دنا۔ ظ بقے کو سمچھ یہ آنے کہ ماحرا کیا ہے۔ اکیر حان نے اتھ کر‬ ‫حقے کا نانپ حارنائی کی نانینی میں تھتسانا اور بوال‪،‬‬

‫"حگو سپیرا سیا‪ ،‬یسنی میں وایس آ گیا ہے؟" اس پر ظ بقے نے نیانا کہ وہ دو نین دن ہونے ا ننے کڈے کے شاتھ وایس آ گیا ہے۔ اس‬ ‫نارکہیا ہے کہ ا حھے حاصے رنگ پر نگے حھونے پڑے کنی شانپ نکڑالنا ہے۔ اسی وجہ سے یسنی میں احھی حاضی روبق لگی ہوئی ہے۔ اکیر حان‬ ‫نے ان سنی کر کے بوحھا‪،‬‬ ‫"بوری تھی آئی ہے؟"‬

‫گو ظ بفا معاملہ بو پہلے ہی سمچھ گ یا ت ھا یس اکیر حان کے منہ سے سییا حاہیا تھا۔‬ ‫بوری حگو سپیرے کی سب سے پڑی لڑکی تھی۔ یس نچھلے دو پرسوں میں اس کی چوائی دم حم سے ٹکلی تھی۔ شابولی اور تھرے گالوں والی۔‬ ‫ُ‬ ‫گ‬ ‫ح‬ ‫ھ‬ ‫ت‬ ‫م‬ ‫ت‬ ‫ت‬ ‫ٹ‬ ‫ک‬ ‫الننی زلقیں گت نیا کر پہاں وہاں ھمانے ھرئی۔ ٹ لیا قد اور ا ھرا سننہ م کھائی کمر یں‪ ،‬کتسا ال ظر آنا۔ ناپ کے شاتھ شان نوں کا تماشہ‬ ‫‪16‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫کرنے ٹکلنی بو لوگوں کی ٹظرپں اس کو ن نولئیں‪ ،‬سی نول نوں جتسی ہر چشمائی حم دار ادا مسچور کن سی سب کو مچو کر د ننی‪ ،‬پہاں نک کہ حگو‬ ‫سپیرے کو التھی زمین پر مار مارلوگوں کو شان نوں کی طرف م نوجہ کرنا پڑنا۔ العرض‪ ،‬چس کو دنکھو شان نوں کے پہانے بوری کو دنکھنے ٹکال کرنا اور‬ ‫س‬ ‫چب تماشہ تمام ہونا بو کنی سو رونے نے سود تھک نوں پر حرچ کر کے اتھیا اور کہو بو مچھیا ‪،‬میا فعے میں رہا۔ اکیر حان نے چب سے بوری کا‬ ‫یہ ٹظارہ کیا تھا ‪،‬ناؤلے کنے جتسے ہر وقت اس کی مسک مارنا رہیا تھا۔ اس رات تھی گچو کی نینی چب اس کے یسیر میں گھسی بو حان کا‬

‫دھیان دور یسنی میں بوری کی طرف نیا ہوا تھا‪ ،‬سوپر وایس حانے ہونے گچو کی نینی سرمیدہ سی روایہ ہوئی ۔اگلے روز بو جتسے آنے سے ناہر ہو‬ ‫گیا۔ نین تمازپں وہ مسجد یہ حا شکا‪ ،‬دندیہ ایسا تھا کہ پہلی صف میں اس کی حگہ پر کسی دوسرے کو کھڑے ہونے کی ہمت یہ ہوئی۔ اس‬ ‫ٰ‬ ‫کا مصلی ویسا ہی حالی حھوڑ کر تمازپں ادا کرئی پڑپں۔ نات نازار میں بوں ٹکلی کہ اس روز بورے حجام کا گلہ یہ تھا کہ نین تمازپں صف میں‬ ‫حالی مص ٰلے کی وجہ سے مکروہ ہو گئیں۔ حان ندنحت‪ ،‬مسنت حانے نا پہیں‪ ،‬تمازپں سب کی کھوئی ہو حائی ہیں۔‬ ‫ظ بقے متسی کو آج نتسرا دن تھا کہ بوری کے ننچھے ننچھے کنے کی طرح سونگھ لے رہا ت ھا مگر یہ اور اس کا ناپ تھے کہ کہ اس کے ہاتھ یہ‬

‫آنے۔ حگو جتسے تھانپ گیا ہو بو انک نل کو حھگی سے ٹکلے بو دوسرے میں تھر گھس گنے۔ نچھلی شام شان نوں کا تماشہ تھی پہیں ہوا تھا بو‬ ‫ظ بقے کی مسکل اور تھی پڑھ گنی۔ نبھی اس کو چب اکیر حان نے چوب لعن طعن کیا بو اس نے بوری کے ناپ حگو سپیرے کو اس کی‬

‫حھگی میں حا لیا۔ بوری کے لنے حان کا ن بعام پہنجانا چس پر حگو کی جتسے ناحھیں کھلی اور کیدھے ڈھلک کر رہ گنے۔ پہلے بو یس و نتش سے‬ ‫کام لیا مگر تھر چب ظ بقے نے ہلکے سے اسے حمیازے کی نانت اندازہ کروانا بو منت پرلے پر آ گیا۔ مبمیا کر ہاتھ چوڑے‪ ،‬مج نوری سے عرض‬ ‫کی اور آحر میں جتسے ناور کرا رہا ہو‪،‬‬

‫"مائی ناپ‪ ،‬ہم سپیرے آزاد ہونے ہیں۔ عورت زات بو و یسے تھی ا ننے من کی عالم ہے‪ ،‬اس کو کوئی قابو کر نانا ہو؟ بوری میرا مال ہے مگر‬

‫اس کا ق بصلہ بو وہی دبوے گی۔"‬ ‫ظ بقے کو سمچھ آ گنی کہ یہ کم زات اس کو نال رہا ہے وریہ عورت زات کی ایسی کہاں حرات چو ق بصلہ کرے اور بوں اٹکار کر نائی۔ وہ بو کلے‬ ‫سے لگی گانے ہے چسے سیزے کی اللچ دو اور اسے حا ہنے کہ شاتھ ہ بکائی حلی حانے۔ مزارعوں کی طرح گو حگو سپیرا حان کا مجیاج بو پہیں‬ ‫تھا مگر تھر تھی حان پہرحال حان تھا۔ اس جنے زمین کا مائی ناپ جہاں سے حگو سپیرا یہ صرف شانپ نکڑا کر النا ہے اور پہاں گ َاوں گ َاوں‬ ‫ان شان نوں کے نل بونے پر ا ننے کڈے کا ن نٹ تھرنا ہے۔ نالواشطہ‪ ،‬حگو سپیرا اکیر حان کا دنا تمک ہی کھا رہا ہے۔ یہ سب سوچ کر ظ بقے‬ ‫نے اس کو کچھ مہلت دی اور نازار میں تھڑے پر حا پہنجا۔ نی نوں کمی اکیر حان کی بوری واشطے رسے پڑوانے کی نحث لنے ہی نیبھے ت ھے۔‬

‫ان کو یہ بو معلوم تھا کہ بوری آج پہیں بو کل حان کی کھوننی سے نیدھ ہی حانے گی‪ ،‬دنکھیا یہ تھا کہ یہ ناگن کس مپیر سے کیل حانے‬

‫گی۔‬

‫چو تھے دن اکیر حان کا نبمایہ لیرپز ہو گیا چب بوری نے اس نانت ٹکا اٹکار کر دنا۔ نینی کی زنان میں بوری کا ناپ تھی منت پرلے کرنا اڑا ہوا‬ ‫معلوم ہونا تھا۔ اس پر حان کی یس ہو گنی۔ کاردار کو کہلوا کر بوری کو حھگی سے اتھوا النا۔ پہلے بو اسے سمچھانا‪ ،‬تھر نان ٹفقے کا ٹقین دالنا‬ ‫مگر یہ تھی کہ جتسے ناگن تھ بکارئی اس کو فرنب یہ لگنے دے رہی تھی۔ حان نے چب جبمی طور چود اس سے نات کی بو تھوک کر بولی‪،‬‬ ‫‪17‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫"مر حاوں گی مگر حرام سے چود کو نلید پہیں ہونے دوں گی۔۔۔ کاٹ ڈالوں گی"۔‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫اکیر حان نے مولوی کو نال کر ٹکاح پڑھوانا حاہا بو اس پر بوری سوا ندک گنی۔ چب کسی طور یہ مان رہی بو اکیرحان مرد تھا‪ ،‬طتش کھا گیا۔ پہلے‬ ‫ت‬ ‫مولوی کو رحصت کیا اور تھر بوری کے ناس ڈپرے میں حا گھسا۔ دو حانبھڑ رسید کر کے زپردسنی ھینچ لیا۔ بوری حالئی‪ ،‬ہ بگامہ کرنے لگی۔‬ ‫ک‬ ‫کھ‬ ‫اسی ھینچ نائی میں بوری پر لینی کالی حادر ینچی بو اس میں سے انک میلی کجیلی بونلی ت ھپ سے زمین پر حا گری۔‬ ‫یہ گودڑی کے رنگ پر نگے کیڑے کے بوبوں کو چوڑ کر شلی‪ ،‬ن نوند لگی بونلی تھی چس کا منہ وا تھا۔ اکیر حان چو ہوس میں ایسا دھت ت ھا کہ‬ ‫بونلی کی طرف نالکل دھیان یہ دے نانا۔ گودڑ بونلی میں حرکت ہوئی اورسنہرے رنگ کا تھ بکارنا ناجی‪ ،‬مسکی ناگ پرآمد ہوا۔ تھرنیال ایسا کہ‬ ‫گودڑی کی جتس سے ناہر روسنی میں ٹکلنے ہی تھن تھیال دنا اور اس کی صرف ستسیائی تھ بکار سے ہی اکیرحان کی شاری مردانگی ہوا ہو گنی۔‬ ‫بوکھالہٹ میں وہ بوری کو دھکیلنے‪ ،‬مسکی سے دور ہینے کو انک حانب مڑا ہی تھا کہ ٹکانک ناگ کے دانت اکیرحان کی نانگ میں گڑ گنے۔‬

‫اب کے ڈپرے میں اکیر حان کی وچست ناک جنخ نلید ہوئی اور جید لمچوں میں یہ دھیرے دھیرے ناگ کے شا منے نے حال ہو کر گرنا حال‬ ‫گیا۔ ظ بفا اور کاردار دوڑے ہونے اندر آنے مگر نب نک زہر اکیر حان کے چشم میں سرانت کر حکا تھا۔ اس کے منہ سے حھاگ ٹکل رہی‬ ‫تھی۔ دو نالی کے انک قاپر سے کاردار نے مسکی کا کام تمام کیا بو پہاں اکیر حان نے آحری ہجکی لی۔ یہ دوبوں اکیر حان کے گرد ہی رہے‬

‫اور بوری موفعہ کا قاندہ اتھا‪ ،‬نبم عرناں ہی دوڑئی ہوئی ناہر ٹکل گنی۔ سوپر تھو ننے سے پہلے پہلے سپیروں کا کڈا گاؤں حھوڑ گیا۔‬ ‫صنح نک اکیر حان کے دوبوں نینے تھی پہنچ گنے اور فیر کھود لی گنی۔ اکیر حان کا جیازہ ات ھانا گیا بو منہ کاال سیاہ ہو رہا تھا۔ جیازہ گاہ میں‬ ‫مولوی نے پہلے اکیر حان کی پڑائی نیان کی‪ ،‬تھر حدا کے گھر اور سییکڑوں مزارعوں کے گھروں واشطے اس کی حدمات پر سیر حاصل ن بصرہ‬

‫کیا۔ اس کے ٹعد لوگوں کو مجاطب کرنے ہونے موت کی انل حف بقت کی حانب بوجہ میذول کروائی اور پہلی نکپیر نلید کرنے سے قیل‪ ،‬تماز‬

‫جیازہ کے لنے اہم ہدانات کچھ بوں گوش گزار کیں‪،‬‬ ‫"اے لوگو‪ ،‬صقیں درست رکھو‪ ،‬نجنے سے نحنہ اور کیدھے سے کیدھا مال لو۔اگر زمین ناک ہے بو چونے انار لو وریہ پہن رکھنے میں کوئی حرج‬ ‫پہیں۔" پہاں مولوی نے بوفف کیا اور ہاتھ میں تھامی نیک والی سوئی سے پہلی صف کی حانب اشارہ کر کے کہا‪،‬‬

‫"صقوں کے ننچ حالی حگہیں یہ حھوڑو کہ سبظان ایسی حگہیں پر کر لیا کرنا ہے۔"‬ ‫انیا سییا تھا کہ سب کی ٹگاہیں پہلی صف کی طرف گھوم گئیں جہاں مولوی کے ننچھے انک سحص کی حگہ حالی تھی۔ پہاں کبھی چود اکیر‬ ‫حان کو کھڑے ہونے کا ج بط رہا کرنا تھا۔‬

‫افسایہ پہلی صف‪ ،‬شہ ماہی "نالث" (اک نوپر ‪ -‬دسمیر ‪3102‬ء) میں شا ٹع کیا گیا۔‬

‫‪18‬‬

‫(منی ‪3102‬ء)‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫بونے حرم پر انک ن بصرہ‬

‫س‬ ‫(بوٹ‪ :‬افسایہ "بونے حرم" پر اردو نالگر رناض شاہد صاچب نے انک مفصل اور حامع ن بصرہ نحرپر کیا تھا۔ میں یہ مچھیا ہوں کہ افسانے سے‬ ‫قیل اس ن بصرے کا مظالعہ چود افسانے کے شاتھ اٹصاف ہے۔)‬

‫انگرپزی قلم “مسیر نین دی مووی” میں ‪،‬مسیر نین سے عاحز‪ ،‬اس کے آحر اسے ٹظور آرٹ ن بفید ٹگار امرنکہ میں م بعفد ہونے والی انک ٹقرنب‬ ‫ُ‬ ‫ت‬ ‫میں سرکت کے لینے ھچوا د ننے ہیں کہ وہاں چود ہی اس کی تھد اڑے گی اور اس طرح نا اہلی کا الزام لگا کر اسے بوکری سے ٹکالیا آشان ہو‬

‫حانے گا۔ ٹقرنب میں چب مسیر نین سے سوال کیا حانا ہے کہ وہ کام کیا کرنا ہے بو اس کا چواب تھا‪،‬‬ ‫” میں ٹضوپرپں دنکھیا ہوں‪ ،‬دنکھیا ہوں اور دنکھیا رہیا ہوں”‬ ‫ش‬ ‫یہ چواب اگرجہ پہت شادہ سیاٹ اور طچی ہے لیکن ا ننے اندر انک گہرے معنی تھی لینے ہونے ہے۔ مضوری کے کسی نحرندی شہ نارے‬ ‫پر ٹظر ڈا لینے بو پہلی ٹظر میں وہ پہت عام‪ ،‬کچھ نے ہ یگم اور نے پرن نب شا ٹظر آنا ہے۔ وان گوف کی ٹضوپر سیرے نانٹ اس کی عمدہ‬ ‫میال ہے ۔ حاند‪ ،‬سیارے اور آسمان پہانت تھدے اور ٹضوپر بوں محسوس ہوئی ہے جتسے پراتمری کے کسی نچے نے نیائی ہو۔ لیکن اس کے‬

‫ناوچود یہ ٹضوپر آرٹ میں انک شاہکار ٹضور ہوئی ہے۔ اگر اسے‬ ‫زنادہ سہج اور سب ھاو سے‪ ،‬بوجہ سے دنکھا حانے اس ٹضوپر میں‬

‫موچود آسمان گھومنے داپرے تما حکروں کا مچموعہ ہے چو کانیائی‬

‫کہکساوں کے مچموعے سے مساپہت رکھیا ہے اسے عور سے‬ ‫دنکھنے سے ایسان ا ننے آپ کو کانیات کی عطبم وشعت اور‬

‫ننہائی میں نانا ہے‪ ،‬نیال رنگ اداسی کا رنگ ہے‪ ،‬ایسان کی ازلی‬

‫ننہائی اور عدم سے وچود میں آ کر دونارہ عدم میں حانے کی ناتمام‬

‫تمیا کا اظہار ہے۔‬

‫سیرے نانٹ ‪ -‬وان گوف (ٹضوپر یسکریہ‪ :‬وکی میڈنا)‬

‫ش‬ ‫اگر ہم عمر کے زپر ٹظر افسانے کو نیئییگ کی طرح صرف طچی‬ ‫ُ‬ ‫ن‬ ‫ٹظر سے د کھیں بو یہ محض دو دوسنوں کی اس نازار کی انک سرے سے دوسرے سرے نک کی سیر ہے اوربوں اس کا مچموعی ناپر غیر‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫ش‬ ‫ُ‬ ‫م‬ ‫ی‬ ‫ش‬ ‫ع‬ ‫ہ‬ ‫پ‬ ‫ل‬ ‫ہ‬ ‫ت‬ ‫میاپر کن ہے۔ کن اگر عوری طح سے ھوڑا شا آگے اپرا حانے بو ننے نی عیاں ہونے یں۔ سب سے لے بو اس افسانے کا نام پر‬ ‫ُ‬ ‫معنی ہے “بونے حرم” سونے حرم کے وزن پر۔ حرم کے لفظ سے مسلمان کا ذہن اسی حرم کی طرف حانا ہے چسے دنکھنے کی تمیا اس کے‬ ‫ُ‬ ‫دل و دماغ کا طواف تمام عمر کرئی رہنی ہے۔ لیکن حرم کی بو پہیں نلکہ چوسنو ہوئی ہے۔ بونے حرم کے ع نوان سے ہی قاری چونک شا حانا‬ ‫ہے۔‬

‫‪19‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫اس طرح افسانے کے آعاز پر پہلے حملے میں ہی مصبف سوق کی میزل سے گذر کر حرم کی گلی میں کھڑا مضظرب ٹظر آنا ہے۔ یہ ایسان‬ ‫ُ‬ ‫کے اندر موچود نیک ننے رہنے کی آرزو اور گیاہ کی پر ک بف لذت سے آسیا ہونے کی شدند چواہش کا پربو ہے چو ازل سے آدم کے شاتھ لگی‬

‫آئی ہے نلکہ اگر مچھے کہنے کی احازت دپں بو میں یہ کہ نوں گا کہ ج نت میں آدم نے دایہ گیدم پہیں حکھا تھا نلکہ جتس کے مم نوع ت ھل کا‬ ‫مزہ لیا تھا بو نے حا یہ ہو گا۔ جتسی حذنے کی شدت اور طاقت ایسان کے اندر اس قدر طاق نور ہے کہ اگر تھوک کے عالوہ ایسان کے اندر‬ ‫ُ‬ ‫اسی قدر کوئی اور حذیہ تھی رکھ دنا حانا بو یہ زمین شاند اس وقت آناد ہونے کے ٹعد انک دفعہ تھر نے آناد وپرانے میں نیدنل ہو حکی ہوئی۔‬

‫مہاتما ندھ نے ا ننے تھکسووں سے حظاب کرنے ہونے کہا تھا کہ “پروان کے را سنے میں سب سے پڑی رکاوٹ سہوائی جیاالت ہیں ‪ ،‬میری‬ ‫آدھی سے زنادہ فوت ان جیاالت سے مفانلہ کرنے میں صرف ہو گنی تھی۔ اگر جتس جییا طاق نور انک حذیہ اور تھی ہونا بو میں پروان حاصل‬

‫پہیں کر شکیا تھا"۔‬

‫ش‬ ‫عمر کی انک اور حضوصنت لط بف پیرایہ اجییار کرنا تھی ہے‪ ،‬کسی معمولی سی چیز کو دنکھ کر مصبف جیال کی اس طح پر پہنچ حانا ہے چو‬ ‫صوقیا کی راہ ہے۔ نازار سے گذرئی عام عوربوں کو حادر میں لینے دنکھ کر دل میں یہ جیال گذرنا کہ ہم چو بوں نے پردہ اس نازار میں آ گنے‬

‫ہیں بو لوگ کیا سوجنے ہوں گے۔ مالحطہ فرما ننے‪،‬‬ ‫ً‬ ‫” چونکہ ہم حرم کی گلی میں موچود ہیں بو ا ننے نئیں یہ طے کر لیا کہ یہ عورنیں ٹقییا طواٹقیں ہیں۔ سرٹف زادبوں کا تھال پہاں کیا کام؟‬ ‫نبھی اک جیال یہ تھی کوندا کہ یہ عورنیں چو تھی ہوں‪ ،‬حادر ان کا پردہ ہے۔ حادر نے ا ننے اندر ان میں سے ہر انک کی احھان نوں اور پران نوں‬ ‫کو نکساں طور حھیا رکھا ہے۔ اگر آسمابوں میں رب ان کا پردہ دار ہے بو زمین پر یہ حادر ہے چس نے ان کو ڈھانپ رکھا ہے۔ میں اور فرہاد چو‬ ‫بوں اس نازار میں کھلے ڈلے گھس آنے ہیں بو تھال یہ عورنیں اور ارد گرد کی جہل پہل ہماری اس نے پردگی نارے کیا سوجنے ہوں گے؟‬

‫ا ننے نک پہنچ کر انک حھرحھری سی آ گنی” ۔‬ ‫ُ‬ ‫سرٹف آدمی کے اندر گیاہ سے کی پرع نب کی چو طاق نور بو ہوئی ہے اس کا ٹقشہ بوں کھینجا ہے کہ پڑھنے والے کو محسوس ہونا ہے کہ بو‬ ‫ماچول میں پہیں نلکہ ایسان کے اندر ہی ہے۔‬ ‫“سراقت دکھانے کو عوربوں کے ننچ میں سے پہلے فرہاد اور اس کے ننچھے ننچھے میں‪ ،‬چشم سمنٹ کر اور سر حھکانے گزرے۔ گھییا چوسنو سونگھ‬ ‫آئی اور اگلی ہی شاغت نبھ نوں کے اندر نک کھلی نال نوں کی ندبو رچ تھر گنی”‬ ‫حال اور قال صوقیاء کی انک اصظالح ہے چسے اس افسانے میں اسبعمال کرنا عمر کے نحنہ فن کی دلیل ہے‪،‬‬ ‫ً‬ ‫"عالیا طواٹقوں کے ماضی پر نات کرنے کی اب کوئی صرورت پہیں تھی کہ ہم ان کے حال سے گزر رہے ہیں”‬ ‫ایسائی ٹقسیات میں یہ عج نب کچی ہے کہ وہ ان لوگوں کے نارے میں جنہیں وہ پہیں حانیا چود ہی مقروصے طے کر کے ان کے نارے میں‬ ‫انک رانے قاتم کر لییا ہے حاہے اس کا حفابق سے کوئی ٹعلق یہ ہو۔‬ ‫“ہم نے سو کھے تھولوں اور بو کے نل بونے پر طے کر لیا کہ یہ مکان‪ ،‬طواٹقوں کے کو تھے ہی ہیں”‬ ‫افسانے کا اجییام قاری کو چیرت کی اس میزل یہ ال کے تھر حھوڑ د نیا ہے جہاں یہ افسانے کا آعاز ہوا ہے۔‬ ‫‪20‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫"فرہاد چسے میں شاتھ گ ھیر النا تھا‪ ،‬بونے حرم میں لینے کھڑا ہے پر تھر تھی مصر ہے کہ طا ٹقے حرم حھوڑ کر حا حکے ہیں"‬ ‫ُ‬ ‫ایسان ٹقین ہی پہیں کر شکیا کہ کسی ا یسے کوخے میں چس کے نارے مین وہ انک رانے قاتم کر حکا ہے‪ ،‬ذہن میں انک ٹضور پن حکا‬ ‫ہے وہ اس سے مجیلف ہو شکیا ہے ۔ میرے جیال میں آج کے ایسان کا مسیلہ تھی پہی ہے کہ وہم و گمان اور حف بقت کے دوراہے پر‬ ‫کھڑا ایسان آدم سے تھی زنادہ مضظرب ہے کہ چسے کم از کم ٹقین کی دولت بو متسر تھی ۔‬ ‫مچھے ٹقین ہے کہ مسبفیل میں عمر نیگش کی صورت میں اردو افسانے کے افق پر انک نازہ سیارہ حگمگانے گا ۔‬

‫رناض شاہد‬ ‫)‪(riazshahid.com‬‬

‫‪21‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫بونے حرم‬

‫میں چو فرہاد کو شاتھ گ ھیر النا ت ھا‪ ،‬اب حرم کی گلی کے منہ پر کھڑا مضظرب شا ہوں۔‬ ‫کچھ روز قیل‪ ،‬را سنے میں کرسیاں نچھا کر ہونل والے نے جہاں نجاوز کر رکھا ہے‪ ،‬حانے کے دور پر معروف شعراء کے مصرعے احھال کر داد‬ ‫وصول کر حکے بو نات می نو کی آن سروع ہوئی۔ زندی چو دٹکا نیبھا شگرنٹ تھونک رہا تھا ‪،‬کہنے لگا‪،‬‬ ‫"میں اور می نو انک قدر مسیرک رکھنے ہیں" انیا کہہ کر بوفف کیا اورقیل اس کے اسبقسار کیا حانا‪ ،‬چود ہی بوال‪،‬‬ ‫ً‬ ‫"ہم دوبوں نے رنڈبوں کے شاتھ ناش کھیل ر کھے ہیں۔" اس پر فہقہ نلید ہوا بوشاتھ دوسری میز پر پراحمان پزرگوار گھورنے لگے۔ یہ عالیا ہم ال‬ ‫اونال نوں کی حانب ہی کان لگانے نیبھے ت ھے۔ ان کی کسے پرواہ ‪ ،‬سب نارے اس واردات حزنیات نک کی ٹفصیل حانیا حا ہنے تھے۔ فرمایش‬ ‫کی دپر تھی کہ زندی چسکے لے کر فصہ نیان کرنے لگا ۔ سینے والے ٹعض زپر لب مسکرانے‪ ،‬دو انک آزرد تھرے سے زندی کو نکنے لگےاور‬ ‫چو ناقی تھے وہ دم نچود نات سن رہے ۔ فصہ رنڈی کے شاتھ صرف ناش کھیلنے پر تمام ہوا بو ہر طرف فہقہہ گونج گیا۔ فصے میں اگر فحش نیائی‬ ‫تھی بوفہقہہ کہیں پڑھ کر فحش ٹگار نانت ہوا۔ اب کے پزرگوار نے گھورنے کی نجانے رحصت ہونا میاسب جیال کیا۔ زندی کو فصہ وا کرنے‬ ‫کے ٹعد چو داد ملی سو ملی‪ ،‬جید انک نے زندی کو وا فعے کی رنڈبوں کے سمنت بویہ اسبعفار دھرانے ہونے آڑے ھاتھوں لیا۔ یہ اور نات ہے‬ ‫کہ لیاڑنے والوں میں ا یسے تھی ت ھے جن کے نارے سینے ہیں کہ یہ ماضی میں رنڈبوں کے شاتھ سب کچھ ہی کرنے آنے ہیں‪ ،‬یس کبھی‬

‫ناش پہیں کھیلی۔‬

‫زندی کی پڑھک بو رہی انک طرف‪ ،‬میں چو اس گلی کی دہلیز پر موچود ہوں‪ ،‬اس کی انک وجہ چود فرہاد تھی تھا۔ انک شام مچھ سے بوحھنے لگا‪،‬‬

‫"تم نے دلمیر کی لسی ئی ہے؟" میں نے گردن کو اٹکار اور اس نے مابوسی میں حھ بکانا اور سرزیش شا کہا‪" ،‬اونے‪ ،‬بو انیا عرصہ ہوا اس سہر‬ ‫ُ‬ ‫م‬ ‫میں ٹکا ہوا ہے اور کبھی دلمیر کی لسی پہیں آزمائی؟ کھن کا تھوال پیڑا ڈال کر انک پڑا گالس ئی لو بو سرطنہ بوری دو پہر کے لنے سیر ہو حاؤ‬ ‫گے۔" یہ نیانے ہونے فرہاد نے شاتھ انیا بورا نازو تھی ناپ لیا چو لسی کے گالس کا اندازہ تھا۔ لسی سے سروع ہو کر اس نے سہر میں‬ ‫ً‬ ‫کھانے نینے کی ٹقرنیا مشہور حگہیں انک انک کرکے گ نوانیں۔ ان میں سے اکیر کا نام میں پہلی نار سن رہا تھا۔ اس پر فرہاد نے چوان عمری‬ ‫میں بوں میری عزلت یسیدی پر حاصے ناشف کا اظہار کیا اور اب وہ اسی نات کو لے کراننی آوارہ گرد طی بعت کا ذکر کچھ فحر سے کر کے‬ ‫چوڑا ہوا حا رہا ت ھا بو میں نے روک لگانے کو لہجہ اوپرا کر کے درناقت کیا‪،‬‬ ‫"بو کبھی حرم گیا ہے؟"‬ ‫یہ سینے ہی شاتھ نیبھا شقیر سئییا گیااور نے ٹقینی سے مچھے نکنے لگا۔ فرہاد کھسیانا شا ہتس کرکہنے لگا‪" ،‬نچھے سرم بو پہیں آئی ہو گی ناں؟"‬ ‫ً‬ ‫میں چوانا مکر کی ہتسی ہتسا بو فرہاد نے تھی شاتھ دنا چس سے شقیر کا شک نحنہ ہو گیا۔ شقیر نے بوری ٹفئتش سروع کر دی۔ کھل کر نیانا‬ ‫کہ می نو نے رنڈبوں کے شاتھ ناش کھیل ر کھے ہیں اور زندی می نو سے یہ قدر مسیرک رکھیا ہے اور میں حرم گنٹ حانے کی چواہش رکھیا ہوں کہ‬

‫‪22‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫آ نیدہ ناکرا ہو بو کچھ زندی کی کاٹ کر شکوں۔ شقیر کو میری نات کا نالکل ٹقین پہیں آنا۔ چو پہلے کھانے نینے کے م بضونے پر بوٹ رہنے کو‬ ‫ً‬ ‫شاتھ شامل ہوا تھا‪ ،‬حرم کے ارادے پر انک دم ننچھے ہٹ گیا‪ ،‬الننہ فرہاد فورا راضی ہو گیا۔‬ ‫ہم دوبوں پہاں نک نیدل ہی پہنچے تھے اور چونکہ ہمیں پہاں کی طواٹقوں سےکچھ مفضود تھا اور یہ ہی ہم ان کے شاتھ ناش کھیلنے آنے تھے‬ ‫لہذا ہم نے رسنہ تھر صرف اس مجلے کی نارنخ پر نحث کی۔ اس گلی کا نازار عام شا ہے‪ ،‬جتسا کہ کسی تھی نازار کی جہل پہل ہو شکنی ہے۔‬ ‫گلی نیگ ہے اور جہاں نک ٹظر حا رہی ہے‪ ،‬یہ پیڑھی ہونے شاتھ نارنک ہو حائی ہے۔ گلی کے سرے پر سیاہ حادروں میں لینی عورنیں‬ ‫راسنہ تھرے کھڑی ہیں۔ یہ عام سی گھرنلو عورنیں ہی لگنی ہیں اور میں پہیں حانیا کہ یہ حادروں میں ناکدامن عورنیں ہیں نا ناجنے والی‬ ‫ً‬ ‫طواٹقیں؟ چونکہ ہم حرم کی گلی میں موچود ہیں بو ا ننے نئیں یہ طے کر لیا کہ یہ عورنیں ٹقییا طواٹقیں ہیں۔ سرٹف زادبوں کا ت ھال پہاں کیا‬ ‫کام؟ نبھی اک جیال یہ تھی کوندا کہ یہ عورنیں چو تھی ہوں‪ ،‬حادر ان کا پردہ ہے۔ حادر نے ا ننے اندر ان میں سے ہر انک کی احھان نوں اور‬ ‫پران نوں کو نکساں طور حھیا رکھا ہے۔ اگر آسمابوں میں رب ان کا پردہ دار ہے بو زمین پر یہ حادر ہے چس نے ان کو ڈھانپ رکھا ہے۔ میں اور‬ ‫فرہاد چو بوں اس نازار میں کھلے ڈلے گھس آنے ہیں بو تھال یہ عورنیں اور ارد گرد کی جہل پہل ہماری اس نے پردگی نارے کیا سوجنے ہوں‬

‫گے؟ ا ننے نک پہنچ کر انک حھرحھری سی آ گنی۔‬ ‫سراقت دکھانے کو عوربوں کے ننچ میں سے پہلے فرہاد اور اس کے ننچھے ننچھے میں‪ ،‬چشم سمنٹ کر اور سر حھکانے گزرے۔ گھییا چوسنو سونگھ‬ ‫آئی اور اگلی ہی شاغت نبھ نوں کے اندر نک کھلی نال نوں کی ندبو رچ تھر گنی۔ ہم دوبوں انک دوسرے سے کوئی نات ج نت پہیں کر رہے‬ ‫ً‬ ‫ت ھے۔ عالیا طواٹقوں کے ماضی پر نات کرنے کی اب کوئی صرورت پہیں تھی کہ ہم ان کے حال سے گزر رہے ہیں۔ وہ عورنیں اب حاضی‬ ‫ننچھے رہ گنی ہیں۔ اندرون سہر کی اس گلی کسی تھی مجلے کی طرح عمارنیں پرائی مگر نحنہ انی نوں سے ٹعمیر کی گنی تھیں۔ ہر عمارت کے‬

‫دا حلے کی سیڑھیاں گلی کو علنجدہ سے نیگ کر رہی ہیں بو ہر دوسری عمارت کی دبوار گلی کی حد میں ناحاپز ٹصرف کرئی حائی ہے۔ گلیاں‬ ‫تھی نحنہ انی نوں کی ہی ہیں چو حا نجا اکھڑی ہیں اور نالیاں تھی ویسی ہی کھلی اور ندبو دار ہیں۔ پہاں نک میں صرف گلی کا فرش ہی دنکھ نانا‬ ‫ہوں کہ میرا سر چو عوربوں کے ننچ گزرنے حھکا تھا‪ ،‬اب تھی ویسا ہی ہے۔ گلی کا پہال موڑ مڑنے ہی روبق ٹظر آئی۔ انک کرنانے کی دکان‬ ‫ہے چس کے ناہر دکاندار دوسرے کنی لونڈوں کے شاتھ نیبھا گلی کو مزند ناقانل کنے حا رہا ہے۔ میں نے نے حانے بو حھے سر مزند ننچے‬

‫حھکانا بو تھوڑی جتسے سینے میں گڑھ گنی ۔ دکان کے شاتھ انک دروازہ واہے چس کے شا منے سے گزرنے ہونے ہم دوبوں نے انک شاتھ‬ ‫ن‬ ‫سوفین ٹظروں سے اندر حھاٹکا کہ شاند کوئی چوان ناری‪ ،‬سچی ہوئی نالکل شا منے یبھی تماش نی نوں کا ان بظار کر ئی ہو ۔ ہماری مابوسی کے لنے‬ ‫اندر زرد نلب کی روسنی تھیلی تھی چس کے ننچے سنوکر کی میز دھری ہے ۔گلی کے نے مونچھوں جتسے ہی دو حار اندر تھی شعل لگانے ہونے‬ ‫ہیں۔ میں نے کھسیانا ہو کر انکدم نالکل شا منے بوں دنکھا جتسے کوئی چوری نکڑی گنی ہو۔‬ ‫ً‬ ‫شا منے حانا راسنہ دو اور گل نوں میں نٹ حاناہے ‪ ،‬ہم پہانت اطمییان سے نانیں حانب مڑ لنے۔ اس طرف گلی یسییا کھلی اور مکان تھی ننی‬

‫ٹعمیرات لگنے ہیں۔ تھر پہاں نال نوں کی ندبو تھی کم ہے۔ نبھی احانک فرہاد لمجہ تھر کو ت ھہرا اورگہرا شایس لے کر کہنے لگا‪،‬‬ ‫"تم یہ بو سونگھ رہے ہو؟ یہ چیز ہے‪ ،‬پہی!"‬ ‫‪23‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫وہ ا یسے نے صیرا ہو رہا تھا جتسے یہ بو اس کو شاتھ ہی اتھا کر ہوا میں نکھرنے والی ہے۔ میں نے اس کی پیروی میں گہرا شایس کھینجا بو‬ ‫مو ننے‪ ،‬اگرننی اور نالی کی حلط ملط بو نبھ نوں میں تھرئی حلی گنی۔ حاروں حانب مسیاق ٹظرپں دوڑانیں مگر دنکھنے کو عام مکابوں کے عالوہ کچھ‬

‫تھی بو ٹظر پہیں آنا۔ ہر مکان کے ناال حانے کو آنکھوں سے ن نول رہے کہ شاند اوپر کھڑکی میں کوئی اشارہ کر حانے نا تھر کوئی دلقرنب‬ ‫ک‬ ‫وافعہ۔ ہمیں کوئی نالنے اور ہم چو نے مفصد گھومنے آنے تھے بو کسی مفصد سے ھنجنے حلے حانیں۔ ایسا کچھ تھی یہ ہوا‪ ،‬یس کسی کسی‬

‫مکان کے دروازے پر میلے مو ننے کے گحرے ن یگے ٹظر آنے۔ یہ اکا دکا ناہر دروازوں کی شالچوں پر نیگے ہیں‪ ،‬جن میں سے اکیر گزسنہ روز‬ ‫کے معلوم ہونے ہیں۔ گو ہم اب نک کچھ دنکھ پہیں نانے تھے پر تھولوں کے یہ گحرے دنکھ کر فرہاد نے میری طرف معنی چیز ٹظروں‬ ‫سے دنکھا ۔ ہم نے سو ک ھے تھولوں اور بو کے نل بونے پر طے کر لیا کہ یہ مکان‪ ،‬طواٹقوں کے کو تھے ہی ہیں۔ فرہاد اننی دپر ٹعد پہلی نار بوال‪،‬‬

‫"محسوس کرو‪ ،‬یہ چو فصا ہے۔ یہ ان کوتھوں کا حاصہ ہوئی ہے۔ چوسنو‪ ،‬یہ وقت اور حگہ۔۔۔"‬ ‫کھ‬ ‫اس کا لہجہ ایسا حمرواال تھا کہ میں نے چوب کھل کرتھر سے شایس ینچی اور جیال کو جتسا سن رکھا تھا‪ ،‬انک رواننی کو ت ھے کے اندر نک دوڑا‬ ‫گیا۔ رواننی کو ت ھے میں جہاں انک کھلے داالن میں گاؤ نکنہ لگا کرناچ گانے کی محفلیں م بعفد ہوئی ہوں گی اور ہر حانب روسنی اور چوسنو تھیلی‬ ‫ہے۔ تھر جیال اس داالن سے اڑانا ہوا نچھلے کمروں نک تھی لے گیا جہاں دبواروں کے ننچھے مچملیں یسیروں پر کپیرہ گیاہوں کی عل بظ بونلیاں‬ ‫تھری حائی تھیں۔‬

‫جیال بونا بو ذہن عالطت سے ت ھر گیا تھا مگر شکر یہ ہے کہ جتسے جتسے آگے پڑھنے ہیں‪ ،‬فصا ہلکی ہو رہی ہےاورچوسنو گہر رہی ہے۔ پہاں اس‬ ‫کے عالوہ محسوس کرنے کچھ تھی بو پہیں۔‬ ‫اگال موڑ چوک شا تھا۔پہاں جہل پہل اور تھی سوا ہے۔آ منے شا منے کے مکابوں کے ننچ میں حھونا شا مرکز یہ چوک مجلے کی نیبھک معلوم ہونا‬ ‫ہے۔ کنی انک نچے پہاں وہاں دوڑنے تھر رہے ہیں اور را سنے میں آگے ننچھے حلنے کنی لوگ آ حا رہے ہیں۔پہیں‪ ،‬کنی مردوں کے ننچ گھری‬

‫انک چواں عمر لڑکی حلی آ رہی ہے۔ نانکی سی‪ ،‬نتس نانتس کی عمر میں یہ ناری شابولی سی ہے۔ جہرہ نچمی آم جتسا اوپر کو اتھرا ہوا اور تھوڑی‬ ‫ن‬ ‫کے فرنب ہلکا شا جییا ہونا حال حانا ہے۔ ٹقوش سیگھار کی قلم سے واصح کنے ہونے ہیں چس سے آ کھیں پڑی اور ہونٹ نارنک ہو کر تماناں‬ ‫ن‬ ‫ٹظر آنے ہیں۔ روسن آ کھیں معمولی سی حھکی ہوئی ا یسے حرکت کرئی ہیں کہ جیا کے اندر اردگرد ٹظررکھ رہی ہوں۔ ہونٹ گہرے الل سچے ہونے‬ ‫ُ‬ ‫ہیں چو مسکنےکے سنب تھرتھرانے محسوس ہونے ہیں۔ حف بف مگر ننچ میں کہیں کھلنی ہوئی مسکراہٹ کی وجہ سے تھرے ہونے نازہ‬ ‫گالوں کے گرد گوالئی میں مسبفل‪ ،‬حط مسلسل شا گر رہا ہے جتسے شفاف چشمہ حاری ہو۔ انک ادا سے سر کو انک طرف بوں حھکا رکھا ہے‬ ‫ن‬ ‫کہ ننی ہوئی گردن‪ ،‬لمنی صراجی جتسی اور عرناں ٹظر آئی ہے۔ اس کو اگر یست سے د کھیں بو یہ اور تھی واصح ہو حائی ہے۔ گھنی زلقوں کو‬ ‫چوئی سے سمنٹ کر انک تھیدنا شا نیا رکھا ہے۔ اس تھیدنے کو دانیں کیدھے سے ننچے لییا کر بوں گرا رک ھا ہے کہ جتسے کوئی سیاہ زہرنلی‬ ‫ناگن ڈال کے اوپر سے نل کھائی لیکنی ہے اور اک زرا جئتش پر یہ حھائی پر سیدھا ڈنگ مارنے کو لیکے گی۔ اوڑھنی کے نام پر نیلی سی دو ننی‬ ‫ہے چو نانیں کیدھے پر اس طرح ٹکا رکھی ہے کہ سینے پر تھیل کر حھیانے کی نجانے اتھاروں کو مزند تماناں کر د ننی ہے۔ کھلے گلے کے‬ ‫نیگ حامے پہنے چست چشم والی یہ ناری شام کے دھید لکے میں انک شانچی ہوئی جینی مورت جتسی ہے چس کا ندن حلنے ہونے ا یسے لہک رہا‬ ‫‪24‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫ہے کہ کمر سے ننچے کو لہے‪ ،‬ہر اتھنے قدم پر گھوم کر واصع ہو حانے ہیں۔ سنب اس کے چس گ ھیرے میں یہ آگے پڑھ رہی ہے‪ ،‬دنکھنے‬ ‫والوں کے اندر ہنجان کے حھئینے اڑ رہے ہیں۔ مرد اس کو مسلسل ناڑنے ہونے حل رہے ہیں اور واصع طور پر اگر اس کا چشم مرکز ہو بو‬ ‫گ ھیر جہار ت ھیر مردوں کی ہوس سے تھربور ٹظروں کا گ ھیرا اس کے وچود کے شاتھ ج بکا ہوا آگے پڑھ رہا ہے۔ ٹظروں کا یس پہیں حلیا وریہ اس‬ ‫نار کے ندن کی حرارت سے ٹظروں میں ج بگارناں شعلے ننی ہیں‪ ،‬ان سے اس چشم پر جیکے کیڑوں کا آحری جیبھڑا نک حال ڈالیں اور گداز ندن‬ ‫کو کحرکحر کاٹ کھانیں۔ گلی کے منہ پر کھڑی عوربوں کی پہنی گھییا چوسنو کے پرعکس اس نار کی صرف چشم کی ناس ہے۔ جیال بوں ہے‬

‫کہ اسے چوسنو کی حاچت ہی پہیں ہے‪ ،‬اس کا ندن چود چوسنو کا حھوٹکا شا ہے۔ ھاں‪ ،‬چوسنو پہینے کی صرورت شاند کل صنح رہے چب رات‬

‫تھر تھرے گدگدانے چشم کی ناس کھرچ کھرچ کر اس میں ندبو تھردی حانے گی۔‬ ‫فرہاد کی طرح میری بوجہ تھی اس نار سے نب ہنی چب مورت دوسری حانب مڑ گنی۔ مردوں کا آدھا جبھا اس کے شاتھ ہی مڑ گیا اور کچھ‬ ‫آگے پڑھ رہے۔ ہم اس حانب گنے حدھر مو ننے اور اگرننی کی گڈمڈ چوسنو گہری ہوئی حا رہی ہے۔ اب جیال یہ ہے کہ اس بو کے ننچھے اگر‬ ‫ہم حلنے رہیں بو سیدھا طواٹقوں کے کوتھوں میں حا نکیں گے ۔ سوق دو جید ہوا حا رہا ہے۔جتسا سینے آ رہے ہیں کہ کنی گلیاں ہوں گی جن‬ ‫میں جہل پہل کچھ ہٹ کر ہو گی۔ حرام زاد لونڈے نان جیانے گھوم تھر رہے ہوں گے اور شاز کی محفلیں یس حمنے ہی والی ہوں گی۔‬ ‫اوپر ناالحابوں میں گھیگھرو اور ظیلے نجنے اورجتسے می نو کہیا ہے کہ سر یہ پیز نلب حال کر چوان نارناں م نوجہ کرئی ہوں گی۔ امید یہ ہے کہ کچھ‬ ‫پرنا ہو نا کوئی چسیں فصہ پن حانے بو میں کبھی زندی کو حانے کی محفل میں چت کر شکوں۔ اس نے اگررنڈبوں کے شاتھ ناش کھیل رکھی‬ ‫تھی بو میں تھی چسکے لے کر نیا شکوں کہ کتسے انک ناری نے اشارہ کیا تھا‪ ،‬نا تھر ہم کتسے ٹگاہوں کے گ ھیرمیں گھر کر کو تھے پر پہنچے ت ھے‬ ‫اور تھر۔۔۔‬

‫اب ہم چوسنو کے ٹعاقب میں اس طونل گلی کی نکڑ پر آ گنے ہیں۔ پہاں اگر شاتھ والی گلی میں آدھے صقرے کے جتسے وایس مڑپں بو‬ ‫شا منے انک مکان ہے۔ اوپر حڑھنی سیڑھ نوں پر پیز گالئی روسنی تھ یلی ہوئی ہے۔ میں نے فرہاد کو کہنی مار کر م نوجہ کیا بو وہ پہلے ہی اس‬ ‫ً‬ ‫مکان کا حاپزہ لے رہا تھا‪ ،‬فورا ہی جبمی شا ق بصلہ سیانا‪،‬‬ ‫ً‬ ‫"ہمم‪ ،‬یہ وہی ہیں۔ دنکھو‪ ،‬یہ گھر پہیں ہے۔ گالئی روسنی میں چو اوپر کو سیڑھیاں حڑھنی ہیں ٹقییا ناال کسی طواٹف کا کوتھا ہے"‬ ‫اوپر حھانک کر دنکھا بو کچھ دکھائی یہ دنا‪ ،‬سینے کی کوسش کی بو انک دوسرے کے سوا آواز یہ آئی۔ پیز گالئی روسنی دعوت دے رہی ہے بو‬ ‫حاموسی گونا روک لگا رہی ہو۔‬ ‫اس کو ت ھے کوتمسکل ٹظرانداز کر کے ہم گلی میں مڑ گنے۔ دوسرے اور ٹعد دو مکان چو ت ھے پر تھی پہلے کے جتسے کو ت ھے کا ٹقیں ہوا۔ اس‬ ‫گلی میں بو گہری ہے بو جہل پہل تھی اسی نیاسب سے پڑھ رہی ہے ۔ گلی کی دوسری نکڑ پر رش کا دور ٹظر آنا ہے بو میں اور فرہاد ٹصد‬

‫سوق پیز قدم اتھانے حلنے گنے۔ چوسنو اس قدر ہے کہ اب ہمیں ا ننے چشم نک کی سونگھ اوپری لگنے لگی ہے۔ ننچے نال نوں کی ندبو بو نالکل‬ ‫دب کر رہ گنی۔ فرہاد گہرے شایس لے کر تھیلی چوسنو اور فصا میں حرم کا اچساس ا ننے اندر تھرنے لگا۔ مچھے ٹقین تھا کہ جتسے نچھلی گلی‬

‫‪25‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫میں اس نانکی ناری سے ناکرا ہواتھا پہاں اس جتسنوں کی فظار ہو گی ۔جتسے جتسے رش میں گھسنے گنے‪ ،‬سوق اور کچھ ہونے کا اچساس پڑھیا‬

‫گیا۔‬ ‫گلی کی نکڑ میں جہاں رش عروج پر تھا‪ ،‬وہاں پہنچ کرا ننے حال سے تھی حانے رہے۔ کیا دنکھنے ہیں کہ روسنی‪ ،‬روبق اور دپیز ہوئی چوسنو کا‬ ‫می بع حرم کی طواٹقوں کے کو تھے پہیں نلکہ امام نارگاہ کے ناہر‪ ،‬زنارت پر سییکڑوں اگرنییاں حل رہی ہیں۔ کنی مرد‪ ،‬عورنیں اور نچے حمعرات‬ ‫کی شام میں چوق در چوق پڑے اہبمام سے ننچے پر مو ننے کے ہار حڑھا رہے ہیں۔ طی بعت مکدر ہو گنی اور دل نچھ شا گیا۔‬ ‫نبھی میری ٹظر گھوم کر زنارت کے ج نوپرے پر گنی جہاں کالے چوڑے پہن کر اور سجنی سے سر ڈھا ننے چوان لڑکیاں پہانت ادب سے سر‬ ‫ٹکانے میئیں مانگ رہی ہیں۔ میری ٹظر نے اجییار ان کی کالی شلواروں پر حا کر نک گنی ہے۔ می نو ناد آ رہا۔‬ ‫اور فرہاد چسے میں شاتھ گ ھیر النا تھا‪ ،‬بونے حرم میں لینے کھڑا ہے پر تھر تھی مصر ہے کہ طا ٹقے حرم حھوڑ کر حا حکے ہیں۔‬

‫‪26‬‬

‫(اپرنل‪3102 ،‬ء)‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫حادر اور حاردبواری‬

‫شقی کے ناڑے میں چوری ہوئی بو تھانے سےچو ت ھے ہفنے ہی کورا چواب مل گیا۔ حصے پر نلی تھئتس اور نین نکرناں بو گنی ہی تھیں‪ ،‬تھانے‬ ‫کچہری کے حکر اور گاؤں کے عذر بوں کی مدارت میں حمع بونچی‪ ،‬میلی حاندی کا ناری زبور اور ڈپڑھ ماہ کا اناج تھی حرچ ہو گیا۔ اس شارے‬ ‫فصنے میں اسے نازہ مزدوری کا موفع تھی یہ مال بو نینجہ گھر میں کھانے کے اللے پڑ گنے۔ چور ن نٹ کے عالفے سے دھمکے تھے اور وایس وہیں‬ ‫حا حھنے۔ اب درنا کے شاتھ اور ننچ ناٹ کی چسکی میں بولتس اتھیں نالش کرنے سے قاصر تھی۔ قاصر بو ت ھانے والے ر نٹ لکھنے سے تھی‬

‫ت ھے‪ ،‬یس عالفہ تمیردار کی شفارش کام آئی اور ر نٹ درج ہو ہی گنی۔ چب شقی کی ج نب میں ٹکا تھی یہ رہا بو تھانیدار نے اسے یہ کہہ کر‬ ‫ُ‬ ‫کوڑے منہ پرحا دنا کہ اطالع ملی بو وہ چود اسے کہلوا نالنے گا۔ سرزیش علنجدہ سے کی کہ ڈپرے کی گ ھیر حار دبواری ہوئی بو ٹفصان سے نحت‬ ‫ہو شکنی تھی۔‬

‫شقی کا ڈپرہ پڑے نید سے حاصہ ناہر درنا سے کوئی نین م یل پر یسا ہوا تھا اور اس کے ناپ دادا یسنوں سے پہاں یسیا حال آ رہا تھا۔ پڑا نید نارہ‬ ‫قٹ چوڑا اور اس کے د گنے اونجا‪ ،‬دنائی ہوئی منی کی دبوہ بکل دبوار معلوم ہونا تھا۔ اس نید کے اندر سیر ہزار آنادی واال انک سہر اور مال کے‬ ‫رٹکارڈ میں داحل حالتس سے زاند دپہات آناد تھے۔ ننی اور حھوئی حھوئی یسییاں اس کے عالوہ تھیں‪ ،‬چو کبھی کسی سمار میں پہیں رہیں۔ سہر‬ ‫کی سہولت کے لنے سرکار نے ن ید کے اوپر روڑی ڈال کر نکی سڑک تھی نیا دی تھی چو آنادی سے ناہر حھکڑوں کے لنے مییادل را سنے کے‬ ‫کام آئی تھی۔ اب کچھ شال ہونے تھے‪ ،‬درنا کی ندمعاسیاں پہلے سے پڑھ گنی تھیں۔ درنا ہر شال زمین کا کچھ رفنہ کاٹ کر چود میں پہا لییا‬ ‫ن‬ ‫اور ا ننے ننچھے حمکنی مگر نے حان ر نت تھرنا حانا۔ زائی زرعی ورانت بوں ہی عارت ہونے د کھی بو شقی کے ناپ نے تھی درنا کے چواب میں‬ ‫اننی ندمعاسی دکھائی اور درنا سے ہٹ کر سرکاری زمین ہبھیا لی۔ جتسا ناپ‪ ،‬و یسے ہی نینے نے تھی اس حرام کی زمین پر کاست حاری رکھی اور‬ ‫گھر تھر کے ن نٹ کا جہبم حالل اناج اگا کر تھرنے لگا۔ جتسے نتسے ہو‪ ،‬شقی کی ا ننے ہم عصروں سے احھی ہی یسر ہو رہی تھی پر ذمے لگی‬ ‫کے چساب سے اس کی مسکالت ان سے تھر تھی کسی طور کم پہیں تھیں۔ اناج بو ہو حانا تھا مگر ہر شال وہ ا ننے ہاتھ سے شارا ڈپرہ ن بکا‬ ‫ن بکا کر کے اکھاڑنا اورمہی نوں کڈے اور ڈھور ڈنگر سمنت سڑک پر گھییا حادر اور نام پہاد حار دبواری کے آسرے تم نوؤں میں گزارہ کرنا۔ چب‬ ‫درنا کے زور بوٹ رہنے کے دن آنے بو وایس آ کر گیدم اگانے سے پہلے انیا گھر الف سے دونارہ کھڑا کرنے کا احھا حاصہ جین تھی کرنا۔‬ ‫ا یسے حاالت میں تھانیدار کی ڈانٹ کا وہ کیا چواب د نیا کہ اس کے ڈپرے کے گرد حار دبواری ک نوں پہیں تھی اور اس کے ڈھور ڈنگر کاہے‬

‫کو ہ بکانے گنے؟‬

‫چب نک ناپ زندہ رہا‪ ،‬یہ اس کا داناں نازو تھا اور تھر دو تھائی تھی شاتھ تھے بو شالہا شال کی اس ہحر مسق میں کوئی کوقت یہ رہی۔ اب‬ ‫وہ اکیلی حان اور تھرے پرے گھر کی ذمہ داری اس کے کاندھے پر تھی۔ اس کے نئیں ن نوی پرننہ اوالد یہ نیدا کر شکی کہ اس کو چوصلہ‬ ‫رہیا اور چود شقی کے تھائی نید بوچوہ گھر کی عوربوں کی ہی ناحاقی‪ ،‬علنجدہ ہو گنے تھے۔ اس شارے کسٹ سے وہ حاصا ناالں تھا اور اب رہی‬ ‫سہی کسر حار ہفنے پہلے ہوئی چوری نے بوری کر دی۔ کہاں نک پرداست کرنا‪ ،‬اس کی کہو یس ہو گنی۔ وہ انک عرصے سے نید کے اس نار‬ ‫‪27‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫یسنے کی چواہش بو رکھیا تھا پر اس وا فعے کے ٹعد نحنہ ارادہ ناندھ لیا کہ کچھ تھی پن پڑے‪ ،‬مر حانے پر ا ننے ڈپرے کو پڑے نید کی حد میں‬ ‫لے حانے گا۔‬

‫نات صرف ن نٹ کے کچے کی مسکالت کی پہیں تھی‪ ،‬چواہش اس لنے تھی زنادہ تھی کہ کچے کا مییادل‪ ،‬پڑے نید کے اندر احھا حاصا‬ ‫نیدویست تھا۔ سہر اور پڑی سڑک پزدنک ت ھے‪ ،‬آنادی پہپیری اور لوگ حاصے امن میں یس رہے تھے۔ چوکی والوں کو تھی آنادی کی وجہ سے‬ ‫حاصہ جیال رکھیا پڑنا تھا اور موسمی نبماربوں کے نیکے لگانے والے تھی نیگی سے ہی سہی‪ ،‬ناآلحر آ حانے ت ھے۔ یہ سب یہ تھی ہو بو یہ کیا کم‬

‫تھا کہ پڑے نید کی دبوار نے درنا کی ندمعاسی اور ن نٹ کی نیگی کو روک لگائی ہوئی تھی‪ ،‬سرکاری سہول نوں اور چوکی کے امن کو ا ننے اندر کے‬ ‫عالفے میں ت ھہرانا ہوا تھا۔ شقی چب تھی سہر حانا اور پڑے نید کے اس نار آنا ہونا بو ادھر کے ناسنوں سے اسے حدا لگی کی حلن ہوئی۔ حل‬ ‫مرنے کی نات تھی تھی کہ پہاں شال میں دو فصلیں کاست کی حائی تھیں۔ جن میں انک سے ن نٹ اور دوسری سے ج نب تھر رہیا تھا۔‬ ‫تھر نیدویست کا کاسبکار چو تھی کاست کرے‪ ،‬سرکار نچوسی فرصہ دے دنا کرئی۔ سہر کے ن نوناری اسی وجہ سے ادھار پر ننج‪ ،‬کھاد اور حھڑ کنے‬

‫کو دوانیں ننچھے لگ کر ننجا کرنے تھے۔ شقی جتسے کچے کے چواروں کو بو یہ سب ٹفد میں تھی مسکل سے اور کاست کے موسم کے نالکل‬ ‫آحر میں حا کر کہیں منت پرلہ کرنے کے ٹعد متسر آنا تھا۔ سنب اس کے‪ ،‬نچھینی کاست کرئی پڑئی اور حرجہ پڑھ حانا۔ تھر پہاں کھالے‬ ‫ت ھے‪ ،‬جن میں سرکاری نائی تھا چس کے لنے یس کدال سے کھالے کا منہ کھرچواور کھنت میں نائی حاری ہو حانا۔ کچے میں بو ن نوب ونل کا‬ ‫حرجہ ہی انیا ہو رہیا تھا کہ شقی جتسے فشمت کے کھوبوں کے لنے فصل کو نین سے زنادہ نائی نالنا ممکن ہی پہیں تھا۔ بوں فصل نیاسی اور‬ ‫م‬ ‫نچے تھوکے رہ حانے۔ فصل کی سہولت بو تھی ہی‪ ،‬و یسے تھی دنکھو بو لوگ چوسجال اور طمین ٹظر آنے تھے۔ عورنیں تھرے چشموں والی‬

‫اور حاندی سے لدی تھیدی۔ تھر پہاں کے نچے‪ ،‬ن نٹ کے نچوں کی طرح گیدے میدے ہی ت ھے پر فرق یہ تھا کہ یہ گول گنے جتسے‬ ‫تھولے ہونے اور ان کے ن نٹ حالی پہیں ت ھے۔ شقی کے لنے ن ید کے اندر کے نیدویست میں نیاہ تھی‪ ،‬امن کا آسرا تھا اور دنیا میال ج نت‬ ‫ٹ‬ ‫تھی۔ اور یہ سب پڑے نید کی جہار دبوار کی نحسی عمئیں تھی۔‬ ‫نید کے اندر حا یسنے کا سوق انیا نال کہ شقی نے اننی شاری فراغت پرک کی اور سہر میں مزدوری ڈھونڈ لی۔ فصل کے انام کے عالوہ کوئی دن‬ ‫حالی یہ حھوڑا۔ سوپرے منہ اندھیرے گھر سے روایہ ہونا اور دن تھر کی کڑی مزدوربوں میں گھل کررات گنے وایس لونیا ہونا بو چشم حکی میں‬ ‫یسا چورا محسوس ہونا۔ تھک بوٹ حانا مگر سوق اس کو دوڑانے حانا رہا۔ ڈپڑھ شال کی حان بوڑ مزدوری کے عالوہ شقی نے ا ننے بورے کڈے‬ ‫کا ن نٹ کانا‪ ،‬بول مول میں چسب حال ڈنڈی تھی ماری اور دو فصلوں میں جینی ممکن تھی نحت تھی کر ڈالی۔ مگر آحر میں چب چساب‬ ‫شا منے رکھا بو عیاں یہ ہوا کہ اس سب کے ناوچود پڑے نید کے اندر کا آسرا ممکن یہ تھا۔ اس کے اندازوں کے پرعکس نید کے اندر زمین‬ ‫حرندئی انیا سہل پہیں تھا۔ آحر چب مج نور ہوا بوا ننے دادے کا طرٹقہ انیانے کا ق بصلہ کر لیا چو شقی کے ناپ نے پرک کر دنا تھا۔ سیدے‬ ‫ُ‬ ‫ماحھی سے سن گھن لے کر انک رات اسی کی کسنی میں سوار ہوا اور درنا کے ناٹ میں چسک کچے پر اپر گیا۔ رات دوبوں درنا کے شاتھ ہی‬ ‫ت‬ ‫ر نت میں د نکے رہے اور چوں ہی نتسرے پہر موفع مال‪ ،‬چوہدری شالمے کی نین ھئتسیں عارضی ناڑے سے ہانک کر کسنی میں الد النے۔‬

‫‪28‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫ناپ اور دادے کی انیائی عادت ت ھیرنے پر سرمیدگی بو تھی پر کیا کرنا‪ ،‬پڑے نید کے اندر کا شکھ تھی بو آشان پہیں تھا۔ چود کو یسلی بوں‬ ‫تھی دی کہ وہ ناپ کی آل اوالد کے آرام کے لنے ہی بو میکر ہوا تھا وریہ اکیلے ٹقس کو ن نٹ کے کچے میں یس رہنے میں کیا دسواری ہوئی؟‬ ‫شقی نے پڑے نید میں ڈپڑھ نیگھے زمین کا ان بفال ا ننے نام حڑھانا بو ڈھور ڈنگر چوری ہونے دو شال ن نت حکے تھے۔ شقی کے لنے پڑے نید‬

‫کے گ ھیرے میں زمین کا نکڑا مل یا ج نت میں نافوت سے نیا فرش عظا ہونے جتسے تھا۔ ڈپڑھ شال کی سحت مزدوری‪ ،‬ناپ کے منہ کی نات رد‬ ‫کرنے کے عالوہ نید کے اندر کے زمییداروں کو زمین ننجنے پر راضی کرنا احھا حاصہ پردد تھا۔ اور ن نواربوں کی حھڑکیاں اور مال کے متسنوں کا نجکم‬

‫اس تمام کے عالوہ۔ اس نے بو احھی حاضی قیامت کا صراط تھگیا کر یہ زمین حاصل کی تھی۔ اننی ج نت نائی تھی۔ اب پڑے نید کی دبوار‬ ‫کے اندر امان مل گنی تھی۔ یس حھوئی سی حلش تھی کہ جییا نتشہ وہ حرچ کر نانا تھا ا ننے میں یہ زمین کا نکڑا اسے آنادی کی آحری یسنی سے‬ ‫تھی کوئی ڈپڑھ میل دور مال تھا۔ شقی اس نانت چود کو بوں سیبھاال دے رہا کہ پڑے نید کے اندر کوئی تھی چیز کم مانیگ پہیں ہوئی۔‬ ‫پہاں وہ ا ننے ارمابوں کا مسبفل مکان کھڑا کر شکیا تھا اور ایسا کر تھی دکھانا۔ ا ننے ہاتھ سے نییادپں کھودپں اور اس پر جہبم جتسی نینی‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫دوپہروں میں تھی نک ننہا کچی انیئیں دھوپ میں شکھا کرچود ہی دبوارپں جئیں۔ اندر کی لییا بوئی اور شدھار میں ن نوی اور نئی نوں نے ہاتھ نیانا۔‬ ‫ُ‬ ‫ح ھت نا ننے کو انک گدھا گاڑی کا ان بظام کر کے ن نٹ سے جن کر پرانے ڈپرے کا کاتھ اتھا النا۔‬ ‫انیا گھر اگر حگرے کا چوصلہ نیا تھا بو پڑے نید کی دبوار کا شقی کے دل میں گھر تھا۔ یہ دبوہ بکل دبوار‪ ،‬جتسے کہ طاہر تھا امن اور حفاطت‬ ‫ک‬ ‫کی ضمانت تھی اوریہ تھی ناڑ رکھا تھا کہ پڑے نید کے اندر کی جینی آنادناں تھیں اس میں ہر مکان کی اننی حار دبواری ھنچی ہوئی تھی۔ ن نٹ‬ ‫کے کچے میں اس کے کڈے کا بو انک تھی کواڑ نک کورا پہیں تھا۔ ن نٹ میں حار دبوار کا کوئی قاندہ رہا ہو نا پہیں‪ ،‬یہ ممکیات میں پہرحال‬ ‫پہیں تھا کہ ہر شال فصل سے پہلے وہ تمسکل کو تھے کی دبوارپں جن نانا تھا‪ ،‬حار دبواری کہاں سےاتھانا؟ نیدویسنی لوگ نے شک چود کی‬

‫ہوسیاربوں کے سنب سہولت سے یسنے ہوں پر یہ نات طے تھی کہ ان کی زندگ نوں میں یہ امن پڑے نید کی دبوار نے ہی کرامت کیا تھا۔‬ ‫پڑا نید لوگوں کے دبونا جتسے تھا۔ یہ دبونا اگر ان نیدویسی نوں کے لنے کچے کی مسکالت کے شا منے ن یا کھڑا تھا بو وہیں ہر سہولت اتھانے شا منے‬ ‫کوریش نجا رکھیا تھا۔ چس کے لنے پہاں کا ہر گھر دبونا کی شکر گزار پرستش میں حاردبواری صرور کھینجیا ہے۔ یہ حار دبواری نید کو ہر نیدویسنی‬ ‫گھر کی نلی تھی‪ ،‬چو ان گھروں کو پہلے سے پڑھ کر نحفظ نحسنی تھی۔ نید کے اندر اس رواج کے ناس میں شقی نے تھی ننے گھر کی حاردبواری‬ ‫ک‬ ‫ھینجنے کی سوچ لی۔‬ ‫جتسے نیدویست میں زمین کا سوق اس کے لنے کبھن تھا و یسے ہی گھر کی حار دبواری تھی لوہا ٹگلنے جتسا نانت ہوا۔ دوبوں ہی کام اس کی‬ ‫ن‬ ‫اننی مرضی ت ھے۔ اننی مرضی ہمتشہ ا ننے شاتھ لچی الئی ہے۔ رع نت بو تھی مگر شکرگزار ہونا اور نے مصرف ٹظر آنے والی سہولت پر حرجیا انیا‬ ‫آشان پہیں ہونا۔ جتسے سبظان پہکانا ہے‪ ،‬من تھی تھاؤال ہو حانا ہے۔ شکرگزاری کی حاردبواری گو مزند امن د ننی‪ ،‬یہ عیادت جتسے مسکل ہی‬ ‫محسوس ہوئی۔ انک نار تھر گھر کا ن نٹ کانیا پڑا‪ ،‬جید ماہ کبھن مزدوری اور اب کی نار فصل کی نجانے اننی بوڑھی ماں کے عالج میں ڈنڈی مار‬ ‫گیا۔ اس کا انیا گھر جتسے نتسے ٹعمیر ہو گیا تھا اور اس میں چو تھی پیڑھ تھی ہوئی رہے‪ ،‬یہ ر نت رسم اورعید عیاد کا معاملہ تھا بو اس کے لنے‬ ‫ُ‬ ‫انک بورا ہقنہ مسیری تھی نالنا کہ کوڑ کونچھ رہنے کی گنجایش یہ رہے۔ بوں گھر کے حار جہار آتھ قٹ اونچی دبوارکھڑی ہو گنی۔‬ ‫‪29‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫تھر آرایش کی ناری آئی بو وہ تھی پرالے ڈھیگ سی کی۔ ن نوی اور نئییاں گارا گھول کر اسے تھمانیں اور وہ دبوار پر پرمی سے لنپ تھوپ کر‬ ‫ً‬ ‫گھی نوں لکڑی کا گرماال ت ھیر کر پراپرناں کرنا رہا۔ چونا گھول کر جہاں ناقی گھر میں انک پرت ت ھیرا بو حار دبواری پرحضوصا اندر سے دو اور ناہر نین‬ ‫پرت گرانے۔ اسی طرح مزند سوق میں ناہر دھارناں ڈال کر ڈپزاپن تھی نیانے۔ پڑے سہر کے مکابوں کی ٹفل میں نازار سے کانچ کی ڈپڑھ‬

‫سییکڑا بونلیں اتھا النا اور کرجی کرجی‪ ،‬ھاتھ پر موئی رپڑ کے دسیانے حڑھا‪ ،‬شاری کانچ حار دبوار ی کی مونائی میں گاڑھ دپں۔ نانحریہ کاری‬ ‫کے سنب ہاتھ حا نجا حر کر لہولہان ہو گنے اور تھر کنی ہفنے درد سے کراہیا معذور ہوا تھرنا رہا۔‬ ‫م‬ ‫جید ماہ میں گھر ہر لجاظ سے کمل تھا۔ پہاں ماں کے لنے علنجدہ کمرہ تھا۔ اننی ن نوی کے شاتھ ا ننے کمرے میں سونا تھا اور نئی نوں کے لنے‬ ‫نتسرا پڑا کمرہ الگ تھا چو دن میں نیبھک نیا دنا حانا۔ ہر کمرے کا انیا کواڑ تھی تھا اور پرآمدہ ہر وقت حھاڑو ت ھیر کر اور نائی حھڑکے نازہ رہیا‬ ‫ُ‬ ‫ق‬ ‫تھا۔ شقی نے گھر کے اندر کچھ تھل دار درج نوں کی لمیں اور کونے میں مرلہ دو پر سیزناں تھی تھی اگا لی تھیں اور ادھار پر نلکا تھی کھدوا‬ ‫لیا۔ ڈھور ڈنگر کے لنے تھی ناڑے کا ح ھیر علنجدہ نیا‪ ،‬چس کے اندر کھرلی اور نائی کا ناالب سبمنٹ سے ن نوانا۔ اب شقی بوری بوجہ سے فصل‬

‫کو وقت د نیا اور سہر فرنب تھا بو مرضی سے مزدوری کرنا۔‬ ‫یہ سب کرامت تھی۔ عظا تھی۔ یہ سب ٹفدپرکا لک ھا اور ندپیر کا کھرحا ہوا اسم تھا۔ پڑے نید کا شایہ اور حار دبواری کا نحفظ اس کی زندگی میں‬ ‫ت‬ ‫امن اور شکون بو النا ہی‪ ،‬شاتھ دولت تھی آنے لگی۔ شال تھر ٹعد ہی گھر کے ناڑے میں دو ھئتسیں نیدھی تھیں اور کنی نکرناں ممیا رہیں۔‬ ‫صرف یہ ہی پہیں نلکہ اس نے اننی نئی نوں کے لنے کچھ جہیز کا شامان‪ ،‬گونے والے کیڑوں کے چوڑے اور اننی جئی نت کے مظابق حاندی‬ ‫تھی حڑوا لی تھی۔ شقی کو چود کی فشمت پر ناز تھا اور حا ننے والے اس کی عفلمیدی کی میالیں دنا کرنے‪ ،‬یہ سب سوچ سن کر شقی کا اندر‬ ‫ُ‬ ‫تھول کر کیا ہو حانا۔‬ ‫چب ندپیر‪ ،‬ٹفدپر سے پرپر لگنے لگے بو ایسا ہو ہی حانا ہے۔ روز و سب بوں ہی یسر ہونے حانے ت ھے مگر انک رات چب دوسر پہر گزرنا ہو گا‪،‬‬ ‫شقی ا ننے کمرے میں ن نوی سے لییا سونا پڑا تھا کہ ناہر کچھ آہٹ سیائی دی۔ ن نٹ کا کجا ہونا بو ہڑپڑا کر اتھ نیبھیا مگر چب سے حاردبواری‬ ‫صامن ہوئی تھی‪ ،‬یہ عادت تھی آئی گنی ہوئی۔ دوسرے کمرے سے ماں نے ٹکار کر ہوسیار تھی کیا پر شقی نے بوجہ یہ دی۔ کچھ ہی دپر‬

‫ہوئی تھی کہ شقی کے کمرے کی شاٹگل انک حھیاکے سے حھ یکے کے شاتھ اکھڑی اور کواڑ دھماکے سے حار وا ہو گیا۔ یہ دوبوں بوکھال کر‬ ‫حاگے بوکیا دنکھنے ہیں کہ دو ٹفاب بوش کمرے میں گھسے حلے آرہے ہیں۔ دانیں طرف والے نے نیدوق آگے کو حھکا کر گگھو کی طرح‬ ‫گھمائی۔ نیدوق کا دسنہ شقی کے کیدھے میں ہبھوڑے کی طرح رسید ہوا اور یہ کراہیا ہوا فرش پر نیبھ کے نل گر گیا۔ ٹفاب بوسوں نے تھر‬ ‫اسے اوپر اتھرنے کا موفع پہیں دنا اور ن نٹ ن نٹ کر ادھ مونا کردنا۔ اسی دوران انک ٹفاب بوش نے گھگھیائی ہوئی ن نوی کو چوئی سے نکڑ کر‬

‫کونے میں دٹکا لیا اور اس پر نیدوق نان‪ ،‬ہاتھ ناؤں ناندھے اور منہ میں اسی کی حادر تھویس دی۔ انک انک کمرے کی نالسی لی گنی اور چو‬ ‫کچھ ہاتھ آنا رہا‪ ،‬گبھ نوں میں تھرنے گنے۔‬ ‫ُ‬ ‫حملہ آور حلنے اور حال ڈھال سے ن نٹ کے کچے والے دکھنے تھے پر چس اطمییان سے وہ لوٹ مار کر رہے تھے اور بوں نے دھڑکے گھر کے‬ ‫اندر گھسے‪ ،‬یہ کسی طور تھی ان کا طربق پہیں تھا۔ کچے فرش پر ننے ہونے چشم سے نتسنے درد کو ٹگلنے اتھی شقی اسی نکنے پر وحار کر رہا تھا‬ ‫‪30‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫کہ پراپر کے کمرے سے پڑی نینی کی دنائی جنخ سیائی دی۔ اسے سینے ہی ن نوی پڑپ کر اتھی بو اس کے سر میں نیدوق کی نال سے وار ہوا۔‬ ‫یہ وہیں گر پڑی اور لگیا تھا کہ اب یہ اتھ شکے گی۔ اس سے حھیک کر شقی نے تھر دنکھا کہ بوڑھی ماں کو انک ٹفاب والے نے لڑھکا کر‬ ‫پرآمدے میں آن ڈھانا ہے۔ ن نوی کا حال دنکھ کر اس نے اتھنے کی ہمت ہی یہ کی مگر چب ٹفاب بوسوں نے ناہر کھلے صحن میں اس حگہ‬ ‫پر جہاں ناہر کے لنے نیلوں پر سے تھی حاردبواری کی بوری اوٹ تھی‪ ،‬اس کی دوسری نینی کے شاتھ ناری ناری زپردسنی کرنے کو حادر‬ ‫کھ‬ ‫ینچی بو شقی اک زرا اوپر کو اتھرا اور و یسے ہی وایس گرانا گیا۔ آنکھوں کے شا منے اب نارے ناچ گنے اور ہلنے سے تھی رہ گیا۔ چوں چوں نینی‬ ‫کی جنچیں اونچی ہوئی گئیں‪ ،‬ہولے ہولے اس کے دل کی دھڑکن چواب د ننی حلی گنی اور ناآلحر سینے کو تھامے شقی کا چشم انک طرف کو‬

‫لڑھک کر تھیڈا ہو گیا۔‬ ‫اگلی صنح لوگوں نے دنکھا کہ شقی کے گھر میں کچھ ڈھور ڈنگر بوویسا ہی کھرلی سے لگا حر رہا ہے مگر زنایہ حادروں کے جیبھڑے حاردبواری کی‬ ‫کانچ میں الچھ کر نار نار ہو رہے ہیں۔ چو شکون اور نحفظ شقی نے حار دبواری سے ا ننے آنگن میں نانا تھا‪ ،‬نچھلی رات اس سے کہیں زنادہ نے‬ ‫ک‬ ‫چوف ہو کر ٹفاب بوش گھر کی عزت سے حادرپں ھینچ کر اسے بوجنے رہے۔‬

‫(اپرنل‪3102 ،‬ء)‬

‫‪31‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫چوکیدار کاکا‬

‫ُ‬ ‫درمیایہ قد‪ ،‬کونا چشم اور گہرارنگ چو وقت کے شاتھ حھلس کرمزند نک گیا تھا۔ نکھری اور نے ہ یگم داڑھی جتسے نارپں‪ ،‬دانیں آنکھ کائی‪ ،‬شا منے‬ ‫کا دانت ادھ بونا اور نانگ پر کنے کے کانے کا دھنہ۔ سر پر ہمتشہ میلی بوئی ٹکانے‪ ،‬کنی چوڑے کیڑے پہییا‪ ،‬جن میں اوپر میال اور ننچے‬

‫سبھرے چوڑے۔ تھر گرمی نا سردی‪ ،‬میلی کجیلی ہی واشکٹ پہنے چوکیدار کاکا ہی نت شا ٹظر آنا تھا۔ نیدایش آزادی سے حاضی پہلے کی تھی‪،‬‬ ‫سو عمر کا اندازہ پہیں۔ ہمارے پہاں وہ حھئتس پرس رہا‪ ،‬چس میں میری اتھارہ پرس عمر اس کو گواہ رہی۔‬

‫چوکیدار کاکا کے نارے وافعہ بوں ہے کہ انا میڈٹکل کالج سے قارغ ہو کر سرکاری تھرئی ہونے بو شال دو میں ہی اکیا کر بوکری حھوڑ دی۔‬ ‫ا ننے ہسییال کی ٹعمیر سروع کروائی بو رات کے چوکیدارے واشطے کسی کی صرورت تھی۔ یہ چوان‪ ،‬چس کا ٹعلق کاعان کے مصاقائی‬

‫عالفے حرند سے تھا اور مزدوری واشطے یسنب کے عالفے میں آن یسا تھا‪ ،‬تھرئی کر لیا۔ شادہ دور تھا‪ ،‬تھوڑے پر چوش رہنے کی لوگوں کی‬ ‫حصلت تھی۔ یہ ٹعمیر کے دوران دلچمغی سے اننی زمہ داری نبھانا رھا اور چب ہسییال کی ٹعمیر ہو گنی بو اس نے انا سے رحصت حاہی۔ انا‬ ‫نے احازت یہ دی کہ ہسییال کے ٹعد گھر کی ٹعمیر سروع ہونے کو تھی۔ بوں چوکیدارہ جید شال مزند حاری رہا۔‬ ‫اب کا دور ایسا ہے کہ دہانیاں گزر حائی ہیں اور معین سی آسیائی نک پہیں ہو نائی۔ نب لوگ دو حار شالوں کے ٹعلق میں ا ننے نحنہ ہو‬ ‫حانے ت ھے کہ چس در سے عزت اور کرتمت ملنی یس اسی کے ہو رہنے۔ چوکیدار کاکا تھی اسی گھر کا ہو رہا۔ پہجان کے لنے چوکیدارکا نام نحنہ‬ ‫پڑ حکا تھا۔‬

‫چوکیدار کاکا کے رہنے کے لنے گھر کے شاتھ کجا مکان محضوص تھا۔ اس مکان کا انک ہی کمرہ تھا‪ ،‬چس کے ناہر پرآمدہ اور ڈبوڑھی چس پر‬ ‫انک نیدور دنا تھا۔ ڈبوڑھی نالن کی لکڑبوں سے تھری رہنی اور نیدور کا کڑا علنجدہ سے حگہ گ ھیرے ہونے ت ھا بو کاکا کے لنے انک پرآمدہ اور کمرہ‬ ‫نچ رہنے۔ کمرے میں روسیدان یہ تھا بو نارنک سیاہ اور اندر ٹعمیرائی لکڑی کے پڑے پرگ سمونے ت ھے۔ اس کمرہ میں چوکیدار کاکا کے سوا کسی‬ ‫کو حانے کی شغی یہ تھی۔ اس کمرے کے نچھلے کونے میں شکھوں کے شاتھ جیگ کے انک سہید کی نادگار تھی‪ ،‬چس کا احاطہ انک‬ ‫ج نوپرے پرطے تھا۔ لوگ کہنے کہ یہ سہید رات میں‪ ،‬اور نالحضوص حمعرات کی رات میں شفید بورائی کفن پہنے وہاں آنا ہے اور ج نوپرے پر‬ ‫نیبھا رہیا ہے اور فحر سے پہلے جتسے آنا‪ ،‬و یسے نیدل حال حانا ہے۔ دوسرا‪ ،‬سینے تھے کہ اس کمرے کی ح ھت میں انک شانپ کا یسیرا ہے۔‬ ‫شانپ بو کبھی ٹظر پہیں آنا یس شال تھر میں اس کی انک کھوحلی سی مل حائی تھی نا کبھی کبھار اندر پرگوں میں سپ سیا سی آہٹ سیائی‬

‫د ننی جتسے کوئی سے لیک کر ر ن یگ گنی ہو۔ عرصے نک مشہور رہا کہ یہ شانپ چوکیدار کاکا نے نال رکھا ہے چو اسے کچھ زک پہیں پہنجانا اور‬ ‫یہ تھی اس کا پرا پہیں کرنا۔ پرآمدے کے انک کونے میں کجا چولہا تھا چو چیر چیرات میں دنگ کا نائی گرم کرنے کو اسبعمال ہونا تھا نا تھر‬

‫شدند سردی میں چوکیدار کاکا نا ننے کو آگ کا نیدویست کرنا۔ چو لہے کے نالکل ناس حارنائی نچھی رہنی چس کے سر کی حانب کیڑے کی‬ ‫تھیلی ل بکائی رہنی‪ ،‬چس میں حلم کا تمیاکو تھرا ہونا۔ یسیر ا یسے تھا کہ رات میں پہہ در پہہ نالنیاں اور اوپر اوڑھنے کو رصائی تھ یل حانیں اور صنح‬ ‫ہونے ہی سوپرے پڑکے کو چوکیدار کاکا یہ سب لی نٹ کر گوالئی میں کس کر ناندھ د نیا اور اسے حارنائی کی نانینی پر ٹکا د نیا۔ اس سے انیا پڑا‬ ‫‪32‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫گولہ پن حانا کہ نانینی کے سوا تھی آدھی حارنائی تھر حائی۔ اس کسے ہونے یسیر کے ننچ وہ ا ننے نئیں اسبعمال کی قبمنی چیزپں جتسے آ نننہ‪،‬‬ ‫کی‬ ‫گھی‪ ،‬تمیاکو کی اصاقی تھیلی‪ ،‬حمع کنے ہونے نے مصرف میلے کاعذ وں کے ڈھیر‪ ،‬جید رونے اور دو انک اور تھیلیاں جن میں تھی اال نال‬

‫تھرا ہونا‪ ،‬عین درمیان میں تھویس د نیا۔ یہ اس کی نچوری جتسی محقوظ حگہ تھی کہ کسا یسیر اس کے عالوہ کوئی کھول ہی یہ شکیا تھا۔ ہر گرہ‬ ‫ا یسے ڈالی ہوئی کہ ول نے ول گھما تھرا کر سوپر کی رسی حلد آزاد یہ ہوئی اور رسی کی ہر نان ا یسے ننی ہوئی کہ ر یسے صاف انک دوسرے‬

‫میں ن نوست ٹظر آنے۔ تھر لکڑی کی پرائی میز تھی‪ ،‬چس پر میل کی پہیں حڑھنی رہئیں۔ میال کجیال شلور کا حگ گالس اور میز کے شاتھ‬ ‫ننچے کچے فرش پر تھی حلم کی ناس واال نائی‪ ،‬تمیاکو کی تھانک اور ماچس کی حلی نیلیاں نکھری رہئیں۔ حلم کی نلکی کو دھائی نارپں لی نٹ کر‬ ‫ُ‬ ‫ن‬ ‫گ‬ ‫حقت کر رکھا تھا اور تمیاکو کی کنی اور ننچے نائی کی ڈولی پر طرح طرح کی ر گین کیڑے کی دھارناں نیا کر ایسی ل بکائی ہونیں جتسے لی میں‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫ہ‬ ‫ک‬ ‫ل‬ ‫گھومیا فقیر انیا بومنہ سجانا ہے۔ حلم کی تمیاکو والی نی پر منے سحت دھاگے میں ماچس کی ڈنیا پروئی ر نی‪ ،‬چو زاند نیلیاں تھویسنے کی وجہ سے‬ ‫تھول حائی چس کی وجہ سے انک آدھ دن میں ہی ننی ماچس پروئی پڑ حائی اور ننی ماچس کا ن نٹ پہلی والی سے زنادہ اتھر آنا۔ گرم نوں میں یہ‬ ‫حارنائی‪ ،‬میز‪ ،‬حگ گالس اور تمیاکو کی تھانک اوپر گھر کے پرآمدے میں تھ یل حانیں اور یہ وہیں یسار رہیا۔‬ ‫اس کی ذمہ دارناں کبھی کسی نے طے پہیں کیں۔ گھر سے ناہر اس نے سب کچھ چود ہی اننی زمہ داری نیانا ہوا تھا۔ نازار سے سودا‬ ‫شلف ڈھونا‪ ،‬لکڑناں چیرنا‪ ،‬گتس کے شلیڈر تھروا کر النا‪ ،‬حکی سے آنا یسوانا اور اگر ہاری گدھا النے میں دپر کرنا بو چود ہی نیبھ پر الدے پڑپڑانا ہو‬

‫ا اننی نیبھ پر ڈھو د نیا۔ فصل کی چیر کو زمی نوں میں نال ناعہ حکر لگانا اور روز کے روز ہاری کی شکانت کرنا اس کے دلتسید مسعلوں میں سے‬ ‫ُ‬ ‫تھا۔ گھی نوں کھی نوں میں ک ھپ کر شاگ جییا اور گھر میں گبھڑبوں کی گبھڑناں پڑی سوکھنی رہئیں۔ نچے گھر میں رونے بو ناہر اس کی گود‬

‫میں کھالنے کو نچھوا دنے حانے اور یہ اتھیں کو تھے کی میڈپر پراتھانے گھومیا رہیا۔ وہ نچے چو گود البق یہ تھے ان پر تھی پراپر ٹظر رکھیا۔‬ ‫منی کھانے ہونے اس نے مچھے انک دن نکڑا بو پہلے م بع کیا‪ ،‬دوسرے دن حماٹ رسید کی اور نتسرے دن میں اس کو دنکھنے ہی تھا گنے لگا‬ ‫م‬ ‫بو وہ ننچھے ہٹ گیا۔ اگلے ہی روز یبھی گولیاں ال کر مچھے کھالنیں کہ اس سے میری منی کھانے کی عادت حھوٹ حانے گی۔ عالوہ اس سب‬ ‫کے‪ ،‬اشکی انک ذمہ داری اور تھی چس سے مچھے سحت حڑ تھی۔ نینی دوپہروں کو ہم ح ھپ کر ندی میں پہانے حانے بو یہ ہمیں ڈھونڈ کر‬ ‫ک‬ ‫زپردسنی وایس ھینچ النا۔ چونکہ وایسی پر نیائی ٹقینی ہوئی بو ہم رسنے میں اس سے حان حھڑانے کو تھلے اس کی داڑھی بوچ ڈالیں‪ ،‬کاٹ لیں نا‬ ‫م‬ ‫سر پر مکے پرشانیں یہ نے عم ا ننے کیدھے پر الدے نا ٹعل میں دانے طمین حلیا حانا اور ہم بوبوں کی طرح اس کے شاتھ ل یکے‪ ،‬جنجنے اور‬ ‫ہاتھ پیر حالنے رہ حانا۔‬

‫ہماری مدرسے سے وایسی عساء کے ٹعد ہوئی۔ کھانا کھا کر ہینے بو چوکیدار کاکا کے لنے کھانا تھما دناحانا۔ یہ گرم نوں میں ناہرپرآمدے اور‬ ‫سردبوں میں ننچے کو تھے میں پڑا رہیا۔ آہٹ سینے ہی اتھ نیبھیا۔ یہ ک ھانا کھانے حانا اورہم اس کے ناس نیبھے اس کے منہ‪ ،‬زنائی گھڑے‬

‫ہونے فصے سینے۔ دن تھر کے ٹعد رات کا یہ ایسا وقت ہونا ت ھا چب اس کی نانت ہمارے من میں کچھ تھی یہ رہیا۔ دن شکول کے ناعنچے‬ ‫میں اس کا زپردسنی کھانا کھالنے پر عصہ‪ ،‬دوپہر میں ندی سے وایس گھسئینے کا کرودھ اور یہ ہی شام میں گھر سے ناہر قدم رکھنے ہی اس کی‬ ‫حاسوس ٹظر کا ڈر۔ رات کے اس پہر یہ تھی مزے مزے سے فصے سیانا۔ جتسے انک کردار "پرناپڑو" کا تھا۔ اس کے ٹقول یہ انک نال تھا چو‬ ‫‪33‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫کہیں سے تھی زمین کو تھاڑنا ہوا کسی کی تھی شکل دھارے‪ ،‬دہاڑ لگانے ٹکل شکیا تھا اور آن کی قان کسی کو تھی ہڑپ کر حانے‪ ،‬اسے‬ ‫فرق پہیں۔ کالے سیاہ پرناپڑو کسی سے پہیں ڈرنا تھا اور ٹعض اوقات وہ اشارہ کر کے شا منے کے پہاڑ کی حانب اٹگلی اتھانا کہ پرناپڑو کا‬ ‫ن‬ ‫تھکایہ وہاں کالے ج بگل میں ہے۔ میں پرناپڑو کے ذکر سے سہم حانا اور اس کا طربق نیان ا یسے ہونا کہ میری آ کھیں ننچے فرش کے جنے جنے‬ ‫کا طواف کرنیں کہ پرناپڑو پہاں سے پرآمد ہو گا نا وہاں سے ٹکلے۔ جتسے جتسے فصہ آگے پڑھیا‪ ،‬میں سمٹ کر اس کے شاتھ حڑنا حانا۔ ٹعض‬ ‫رابوں کو چب اندھیرا کچھ گہرا شا ہونا اور زرد روسنی میں چوکیدار کاکا آگے کو حھک کر بوالے جیانے نات کرنا بو اس کی شکل نگڑ حائی۔ چود اس‬ ‫پر پرناپڑو کا گماں ہونا۔ میں پرپن وہیں حھوڑ کر اندر دوڑ لگا د نیا اور گھر میں دنک حانا۔ اس پر وہ زور سے فہقہہ لگانا بو آواز اندر نک گونج حائی۔‬ ‫روسن رابوں میں ہم اس کو ح ھیڑنے کہ "یہ چو پرناپڑو ہر حا سے اتھر شکیا ہے بو کیا مسجد کا فرش تھی تھاڑ شکیا ہے؟ حدا سے بو وہ ڈرنا ہی‬ ‫ہو گا ناں!" اس پر وہ تھوڑا کھسیانا ہو حانا اور اننی نانگ پر کنے کے کانے کا یسان دکھا کر ہمیں حمکارنے ہونے سمچھانا کہ یہ پرناپڑو نے‬

‫مسجد کے دروازے میں نب وار کیا تھا چب وہ ناہر فرش پر قدم ٹکانے ہی واال تھا۔‬ ‫اس کے منہ‪ ،‬مسجد کا صرف پہی ذکر سیا۔ اس کے ہاں‪ ،‬حدا کے گھر کی یس پہی پرکت تھی۔ تھر تھی انک حھوئی یسینح چس کی لڑی میل‬ ‫سے کالی سیاہ اورلکڑی کے م یکے گھس گنے تھے‪ ،‬اس کی ج نب میں دھری رہنی۔ جتسے چوکیدار کاکا کا وچود تھا‪ ،‬و یسے ہی اس یسینح سے تھی‬ ‫تمیاکو کی بو کے تھبھوکے اڑنے رہنے۔ دو انک نار کے سوا کبھی میں نے اسے مسجد حانے پہیں دنکھا۔ گرم نوں میں انک نار‪ ،‬صنح سوپرے‬ ‫اس کے من میں حدا حانے کیا آئی کہ مسجد حا پہنجا۔ فحر ادا کی اور وایس آنا بو اس کا پڑوسی شانیں کاکا چو ننج وقنی تمازی مشہور تھا‪ ،‬اس روز‬ ‫ً‬ ‫اس کی آنکھ یہ کھل شکی اور وہ حماغت سے رہ کر ح ھت پر سونا پڑا تھا۔ چوکیدار کاکا چو عالیا پہلی نار اننی رع نت سے ناحماغت فحر پڑھ کر آنا‬ ‫تھا‪ ،‬حارنائی کو زور سے ہالنا اور شانیں کو پہوکا دنا۔ اونچی آواز میں پرا تھال کہا کہ‪" ،‬او شانیاں!نچھے اتمان کی کوئی قکر تھی ہے نا پہیں؟ بوں‬ ‫ہی مردار پڑا رہے گا نا حاگ کر حدا کی عیادت تھی کرے گا؟" شانیں ہڑپڑا کر اتھ نیبھا اور چوکیدار کاکا کے نازہ اتمان افروز انداز پر ناس‬ ‫گلی میں گزرنے تمازی ہتس کر دوہرے ہو گنے۔‬

‫ا یسے ہی چب اس سے بوحھا حانا کہ‪" ،‬کاکا‪ ،‬بو یہ ا ننے چوڑے کیڑوں کے ک نوں پہنے تھرنا ہے؟ صرف انک چوڑا پہن‪ ،‬ناقی سیبھال کر رکھ"۔‬ ‫اس پر وہ پہانت سنجیدگی سے آ گاہ کرنا کہ "کھلے پڑے رہ رہ کر دھول پڑئی ہے‪ ،‬کیڑے حراب ہو حانے ہیں۔ کیڑا ُنک لگا شکیا ہے اور تھر‬

‫چوری کا ڈر علنجدہ کا عم ہونا ہے"۔ اس پر لوگ ہتس پڑنے اور وہ یس گھورناں دنے حانا۔‬ ‫حلم کا سوق انیا کہ ہر نتس منٹ ٹعد شلگا کر نیبھ حانا۔ ہم اس کے فرنب کھڑے اس کو دنکھنے کہ کتسے عرق ہو کر وہ تمیاکو ہبھیلی پر‬ ‫ُ‬ ‫ش‬ ‫ن‬ ‫ل‬ ‫رگڑنا اور کنی میں تھر کر ماچس کی ڈنیا سے طح پراپر کرنا اور اوپر کی تھانک ننچے گرانا۔ انک ھاتھ سے کی تھامے‪ ،‬اسے منہ سے چوڑ کر‬ ‫ُ‬ ‫ش‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫ک‬ ‫ح‬ ‫شل‬ ‫ن‬ ‫ن‬ ‫ح‬ ‫ل‬ ‫ل‬ ‫ھ‬ ‫ماچس کی تھڑکنی نیلی کنی کی طح پر ت ھیرنا اور انکدم کی سے دھواں ینجیا بو لم پڑ پڑ کرئی گنی لی حائی۔ منہ کی پر ٹکانے‪ ،‬چب پیز پیز‬ ‫ً ن‬ ‫ُ‬ ‫شایس لییا بو اس قدر دھواں تھیلیا کہ چشم کا اوپری حصہ مرعولوں میں لمچے تھر کو عانب ہو حانا اور نینجیا آ کھیں سرخ ہو حانیں۔ ہم نبھ نوں‬ ‫ُ ُ‬ ‫ک‬ ‫سے دھواں ٹکا لنے کی فرمایش کرنے بو وہ شایس ھینچ کر دھواں سینے میں حھونکیا اور آہسنہ آہسنہ نبھ نوں سے دپر نک تھوں تھوں دھواں‬

‫‪34‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫اڑانا۔ ہم اس کو دنکھ کر ہتسنے بو دھواں اڑانے ہمارے شاتھ ہتسنے کی کوسش کرنا بو اس کی شایس اکھڑ حائی۔ تھر نحنہ مگر نے صرر کھایسی‬

‫دپر نک انک رو میں حاری رہنی۔‬ ‫چوئی رسنوں میں ایسا پہیں تھا کہ کاکا الوارث ہو۔ مہینے دو تھر میں یہ ا ننے گھر حکر لگانا اور نین حار دن یسر کر کے وایس آ حانا۔ ماں ناپ‬ ‫عرصہ پہلے حل یسے تھے بو انک تھائی اور تھینچے کا حاندان اس کا چون تھے۔ کچھ زمین والدپن نے ورانت میں حھوڑی تھی چس پر اگر حاہیا‬ ‫بو کاست کرکے چود سے انیا گزارہ کر شکیا تھا مگر حانے اس سحص کے من میں کیا آئی کہ انا کے انک کہے پر اس نے اننی حانیداد اور گھر‬ ‫نار سب میروک کر دنا۔ کبھی شادی تھی پہیں کی۔‬ ‫انا سے اس کو نا معلوم کتسی ایسنت تھی۔ انا ہقنہ کی شام کو آنے اور ابوارکا دن گزار کر شام کو تھر لوٹ حانے۔ یہ ولی ہقنہ والے روز‬ ‫دوپہر سے نیاری میں چٹ حانا۔ ناہر کچے کوتھوں پر صفائی کر د نیا‪ ،‬نیبھک میں نار نار حانا اور پرن نب دنکھیا کہ موچود اور سہی رہے۔ شام‬

‫پڑنے ہی حا میڈپر پر نیبھیا۔ ہمیں تھی انا کا ان بظار ہونا بو کاکا کے پہلومیں حا گھسنے۔ گھر اوپر چوئی پر تھا بو سہر ننچے قدموں میں ٹظر آنا۔ دپر‬ ‫نک نیبھنے سے حمار شا آ حانا اور ہم ادھر ادھر اندھیرا نکنے۔ نبھی حانے اسے کتسی چیر تھی کہ اننہائی وبوق سے حالنا‪" ،‬ڈاکیر صاچب‪ .‬روسنی‬

‫ان کی گاڑی کی ہی ہے۔" ہم مزاق اڑانے کہ نین حار م یل دور سڑک پر تھاگنی پرٹفک چس کی صرف روسییاں ٹظر آئی ہوں‪ ،‬ان میں‬ ‫انک گاڑی کی کتسی پہجان ہو شکنی ہے۔ مگر ہمتشہ اس کااندازہ درست ٹکلیا اور تھوڑی دپرمیں اوپر گھرکی سڑک پر انا کی گاڑی ھارن نجانے‬ ‫مڑئی ٹظر آئی۔ یہ لیک کر پہنجیا اور گاڑی سے شامان انار کر ڈھونا‪ ،‬اور ہم انا کوحھوڑ گاڑی سے حمٹ حانے۔‬ ‫دوسرے دن شام نک یہ انا کے شاتھ شانے کی طرح حمیا رہیا‪ ،‬انا حانے حانے اس کو کچھ رقم د ننے؛ کینی رقم‪ ،‬کبھی علم یہ ہوا۔ حلم اور‬

‫تمیاکو اس کی عادت تھی بوانا اشکو عالوہ تھی کچھ نتسے دے د ننے۔ یہ اگال بورا ہقنہ اس رقم سے نازار میں حانے اڑانا‪ ،‬تمیاکو کی تھیل یاں تھرنا‪،‬‬ ‫م‬ ‫ہم نچوں کو یبھی گولیاں اور مونگ ت ھلیاں کھالنا اور ناقی کی رقم گھر میں حرچ کر د نیا۔ پہپیرا م بع کرنے مگر یہ ناز یہ آنا۔‬ ‫انا کے شاتھ یہ حکم کا نانید جن ہونے رہیا تھا۔ وہ فوت ہونے بو لوگوں کو میں نے رونے دنکھا‪ ،‬ٹعض نے نین کی اور کچھ نے حال‬ ‫ہونے۔ جیازے کے شاتھ آہسنہ آہسنہ حلنے میں نے اسے دھیدلی آنکھوں لڑکھڑانے ہونے حانا‪ ،‬یس حھلک سی دنکھا اور تھر نین دن یہ مچھے‬ ‫کہیں ٹظر پہیں آنا۔ چو تھے دن شام کے وقت کیا دنکھیا ہوں کہ چب راسنہ اور فیرسیان دوبوں وپران ت ھے‪ ،‬وہ انا کی فیر پر نیبھا ہلکے ہلکے رو رہا‬

‫تھا اور فیر کی نازہ منی کو درمیان میں دوبوں ہاتھوں سے تھیکیاں دنے حانا تھا۔ میں دور سے اسے ویسا ہی مصروف حھوڑ کر وایس ہو لیا۔ ٹعد‬ ‫اس روز کے‪ ،‬میں نے اسے کبھی رونے ہونے پہیں دنکھا۔‬ ‫انا کی وقات کے ٹعد اس کا معمول ہو گیا کہ وہ ہماری چیرگیری کو ہفنے میں انک نار صرور شقر کرنا۔ مگر انا کے ٹعد اس کی ہمت جتسے چواب‬ ‫د ننی حلی گنی۔ ہر حڑھنے دن کے شاتھ پڑھانے نے جتسے در کر اسے گ ھیرا‪ ،‬اس کی میال پہیں۔ چب تھی آنا ا ننے شاتھ کچھ یہ کچھ ڈھو‬ ‫کر النا۔ میں شکول سے وایس پہنجیا بو وہ اوپر نالکوئی میں ناہر کو ک ھاٹ ڈالے یست پڑا ہونا۔ مچھے دنکھنے ہی احک کر نیبھ حانا اور اننی میلی‬ ‫م‬ ‫م‬ ‫واشکٹ سے یبھی گولیاں‪ ،‬نیاسے نا یسا اوقات تھنی مونگ تھلی ٹکال کر ہاتھ پر دھر د نیا۔ میں اسے م بع کرنا کہ اب میری عمر یبھی گولیاں‬ ‫کھانے کی پہیں ہے بو وہ میری نیبھ تھئیبھا کر ہتس رہیا۔ اب پڑھانے کے سنب روز پروز اس کی صحت چواب دے رہی تھی اور چب اس‬ ‫‪35‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫کے نال‪ ،‬سب شفید ہونے بو وہ زنادہ نبمار اور العر رہنے لگا۔ انک بو پہلے انک آنکھ سے معذور تھا تھر دوسری میں تھی روسنی کم ہوئی حائی‬ ‫تھی‪ ،‬ہاں سیائی اسے اب تھی چوب د نیا ت ھا۔ ھاں وزن ڈھونے اور گھومنے سے وہ نب تھی ناز یہ آنا تھا اور م بع کرنے کے ناوچود نازار میں‬

‫اال نال کھانا رہیا۔ انک روز اسے نجار اور ننحسوں نے آ لیا۔ دوا کرنے تھے بو وہ کڑکڑائی سردی میں حا کر نخ نائی سے پہا کر آحانا۔ گھر میں ٹکا کر‬ ‫مجدود کرنے بو تھڑ حانا۔ بوں چو تھے دن ہی کہو بو نجک کر آدھے سے تھی کم رہ گیا۔‬ ‫جید دن میں طی بعت بو قدرے سیبھل گنی مگر دنکھو اس کو کیا سوحھی؟ ا ننے گھر کے حکر زنادہ کانیا سروع ہوگیا اور ہر دوسرے روز ا ننے‬ ‫تھائی تھینچے سے ملنے پہنچ حانا۔ ا ننے چون کی ناد کے عالوہ اس کو ڈر تھا کہ وہاں اس کی حانیداد پر ق بصہ ہو حانے گا۔ میں نے انک روز بوحھا‬ ‫کہ "کاکا نچھے کیا حاچت ہے حان یداد کی؟ نیدہ حدا‪ ،‬ہم اور ہمارا سب کچھ‪ ،‬پیری حانیداد ہی بو ہیں۔" اس نےحذب میں آ گاہ کیا کہ وہ اننی‬ ‫ٹ‬ ‫زمین ننچ کر میرے پڑے تھائی کے لنے دکان کھولے گا‪ ،‬اسے پہاں وہاں علبم اور بوکری کے لنے چواری کرنے کی کوئی صرورت پہیں۔‬ ‫ہم اس کی نات پر ہتس پڑے اور دوسروں نے یہ سیا بو یہ چو اس کا حلوص تھا‪ ،‬نچھلی عمر میں سبھیا حانا سمچھا کہ اب وہ ٹعض اوقات ادھر‬ ‫ً‬ ‫ادھر کی زنادہ ہا نکنے لگا تھا۔ میال انک روز ذکر اقیال کا ہو رہا تھا بو چوکیدار کاکا نے لقمہ دنا‪" ،‬ڈاکیر مچمد عالمہ اقیال‪ ،‬پہت پڑا ڈاکیر تھا۔ ناف کا‬ ‫عالج کرنا تھا اور اس کے لنے وہ کاعان نک حانا کرنا ت ھا۔" ایسی نابوں پر آ س ناس لوگ ہتسنے بو وہ ا ننے آپ پر قابو پہیں رکھ نانا‪ ،‬حڑحڑا‬ ‫حانا۔‬

‫‪3113‬ء کا وافعہ ہے‪ ،‬انا کی وقات کو شات شال ہونے کو آنے تھے۔ انک روز دوپہر کے کھانے میں قدرے دپر ہو گنی بو ٹعیر نیانے‬ ‫پڑپڑانا ہوا اتھ کرناہر ٹکل گیا۔ میں کھانا لے کر ٹکال بو وہ کھاٹ پر موچود پہیں تھا۔ ٹعد اس روز‪ ،‬چوکیدار کاکا کا کچھ ننہ پہیں حال۔ اس کے‬

‫گھر چیر لینے گیا‪ ،‬اس کے تھینچے کے مدرسے سے معلومات لیں اور تھانے میں گمسدگی کی ر نٹ تھی لکھوا لی اور اک عرصے نک سیاجنی کارڈ‬ ‫پر جتسے درج ت ھا‪ ،‬مچمد فرندون کو ہسییالوں میں نالش کرنا رہا‪ ،‬مگر اس نے یہ ملیا تھا‪ ،‬پہں مال۔ اور بو کچھ پہیں‪ ،‬اس کے بوں حلے حانے سے‬ ‫انک چوتھ سی تھی چو دل کو اندر ہی اندر سے گالنے حائی تھی۔ انک اچساس حرم تھا چو جین سے نیبھنے پہیں دے رہا تھا۔‬ ‫نب‪ ،‬اتھی دبوں انک رات چوکیدار کاکا میرے چواب میں آنا۔ کیا دنکھیا ہوں کہ چس را سنے سیا تھا کہ گیا ہے‪ ،‬اسی پر دھیرے دھیرے‬ ‫نیک لگانا وایس آ رہا ہے۔ میں دبوانے وار دوڑ کر اس سے لنٹ گیا اور رونے ہونے اس سے بوں حلے حانے کا گلہ کرنے لگا۔ اس نے‬ ‫ت‬ ‫مچھے کس کر ھینچ لیا جتسے وہ کبھی ندی پر نال سنے ہی حکڑ لیا کرنا تھا‪ ،‬تھر میری نیبھ سہالنے ہونے پہانت مجنت سے گونا حمکارنے ہونے‬

‫بوال‪" ،‬ارے‪ ،‬میں پہیں بو ہوں۔ یس‪ ،‬چپ کر حا۔۔۔ ت ھال ا یسے نچوں کی طرح تھی کوئی رونا کرنا ہے؟"۔ اور میری ہجکیاں تھیں کہ تھمنے‬ ‫میں یہ آئی تھیں۔‬

‫حاگا بو رو رو کر ہلکان ہو رہا تھا۔ اس چواب سے من ننی کے موافق ہلکا ہو رہا اور کچھ جین تھی آ گیا پر اب عور کرنا ہوں بو سمچھ میں آنا ہے‬ ‫کہ اتھارہ پرس اس کے شاتھ نییا کر تھی وہ اجینی ہی بو رہا۔ ہم چو کاکا سے آسیا ت ھے‪ ،‬مچمد فرندون کو کہاں سمچھ نانے؟ مچمد فرندون کو لوگ‬ ‫ہمارے گھر کی یسنت سے حا ننے تھے‪ ،‬چوکیدار کاکا کو کہاں نالش کرنے؟‬

‫‪36‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫ُ‬ ‫نات اننی سی ہے کہ چوکیدار کاکا چب اور حدمت کی ایسی بود تھا چسے عالوہ اس کے کچھ سروکار یہ رہا۔ یہ میال وادی کے ج بگل کی طرح رہا‬ ‫چو رفنہ گ ھیرے نے مصرف شا ٹظر آنا ہے۔ اس ج بگل کی چوائی دھرئی کو غیر محسوس انداز میں شکھ نا نینے اور زمین کی شان پڑھانے ن نت‬ ‫حائی ہے جیکہ پڑھانا حل کر سردبوں میں تھبھربوں کو گرمانے ہونے کٹ حانا ہے۔ آحر کو یس راکھ نچ رہنی ہے چو زمانے کی منی میں نکھر‬ ‫کر بوں گیدھ حانے کہ وچود بو کہیں ناقی پہیں رہیا الننہ موچود نادپر کھئی نوں کو زرچیز رکھیا ہے۔‬

‫(مارچ‪3102 ،‬ء)‬

‫‪37‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫نئتس میل‬

‫اگر گاڑی کاانحن عوں عوں کرنا ٹکلنے کو نے جین تھا بو گاڑی کے اندرالگ ہڑبونگ مچ رہی تھی۔ شقر نئتس(‪ )32‬میل تھر کا ہی ت ھا پر‬ ‫ہ بگامہ گونا ہمتشہ سے پرنا ہو اور بوں ہی حاری رہے گا۔ ونگن کا ڈران نور نکی عمر کا‪ ،‬دھکم نیل سے وافف معلوم ہونا تھا‪ ،‬جبھی اطمییان‬ ‫سےاننی یشست پر نیبھا شکون سے شگرنٹ تھونک رہا تھا۔ گاہے ٹگاہے ا ننے اردگرد ٹصب گا ڑی کے رہبمائی والے آ نینے ہال حال کرا ننے‬ ‫ُ‬ ‫چساب سے پراپر کرنا اور تھر شگرنٹ کا کش لگا‪ ،‬جیکی نجانا تھر سےآ نی نوں کے شاتھ مسعول ہو حانا۔ تھوڑا سر میں آنا بو ہلکے سے گاڑی کے‬ ‫ُ ُ‬ ‫ُُ‬ ‫انکسلرپیر کو داب د نیا اور گاڑی کا انحن کھڑے کھڑے عوں عوں کی آواز دے کر تھر سے پڑپڑ کرنے میں ُچت رہیا۔‬ ‫ڈران نور‪ ،‬لوگوں کے ہ بگامہ سے نے نیاز تھا بو ا یسے کو نتسے‪ ،‬لوگ تھی اس کے مسعوالت کو حاطر میں یہ النے تھے۔ پہی پہیں اس ونگن کی‬ ‫نیدرہ سوارناں اس نات سے تھی نے نیاز تھیں کہ چس گاڑی میں وہ شقر کرنے حا رہےہیں‪ ،‬آنا وہ م بکانکی لجاظ سے چست ہے اور اس‬ ‫مسین میں کوئی نکییکی حرائی پہیں۔ یہ تھروشہ کنے‪ ،‬اسے ا یسے ہی ٹظرانداز کنے ا ننے ہ بگامے میں مسعول تھے۔‬

‫کوئی شامان ح ھت پر نیدھوا رہا ہے بو دوسرا اننی ننی بونلی دلہن واشطے تھیڈی پرف کی ڈلیاں یسواسرنت ڈھو رہا تھا۔ انک کشمیری ا ننے نچوں کی‬

‫مجائی نین رونے سے پیزار ہو کر گاڑی سے ہٹ کر کھڑا تھا اور اس کی ن نوی انک طرف نچوں کو حمکارئی اور دوسری حانب ا ننے سیاہ پرفعے‬ ‫کو سیبھا لنے میں چوار تھی۔ دو سرمیلے سے بوچوان لڑکے نکٹ حرندے ٹعیر ہی آن نیبھے تھے جبھیں اڈہ متسی کے حھونے نے ڈانٹ کر ننچے‬ ‫ً‬ ‫انارا اور نکٹ والوں کو حکم دے کر گاڑی میں سوار کرانا۔ دو لونڈے عالیا سیر سیانے واشطےآنے ت ھے اور نے وجہ سور شا مجا رکھا ت ھا۔ تھوڑے‬ ‫تھوڑے و فقے سےان کی یشست پر فہقہہ نلید ہونا بو نالکل ان کی اگلی یشست پر پراحمان پزرگ منہ ہی منہ میں کچھ پڑپڑانے۔ سوانے اس‬ ‫شفید ریش پزرگے کے‪ ،‬انک سے دوسرے‪ ،‬اور نتسرے کو چو تھے کی قکر یہ تھی۔ ڈران نور چب ہلکے سے گاڑی کا انحن عرانا بو اندر ناہر تمام‬

‫سواربوں پر ت ھیڑ سی مچ حائی کہ گاڑی اب روایہ ہوئی کہ نب ہوئی۔‬ ‫ی‬ ‫حدا حدا کر‪ ،‬گا ڑی میں سب نیبھ رہے اور اڈہ متسی نے گاڑی کا چساب نے ناک کیا بو نئتس (‪ )32‬میل شقر کا آعاز ہوا۔ انک ن ل بغی نے‬ ‫نلید آواز میں سب کو شقر کی دعا سیائی اور گاڑی میں ٹعد اس کے انک دم حاموسی حھا گنی۔ ہ بگامہ انکدم سے تھم گیا۔ شامان لنٹ کر اننی‬ ‫ت‬ ‫حگہ پر حال گیا اور سوارناں انک سے دوسرے میں ھتسی گونا دعا کے ادب میں حاموش ہو گئیں۔ ہارن ج بگاڑا۔ ڈران نور نے ننچھے انک ٹگاہ‬ ‫دوڑائی اور گاڑی الری اڈے کے ناہر حانے والے رسنے پر آگے پڑھا دی۔‬ ‫پہال میل ا یسے ہی طے ہوا۔ سوار تمام افراد حاموسی میں ڈونے‪ ،‬عرق دکھائی د ننے۔ ایسا معلوم ہونا تھا کہ ہر انک اس نانت سوچ رہا ہے کہ‬ ‫وہ ناالحر اس شقر پر روایہ بو ہو حکے ہیں بو اس کے لنے اتھوں نے کیا کیا کست پہیں اتھانے؟ نیدرہ لوگ‪،‬جن کا یس م بظر مج یلف تھا‪،‬‬ ‫شقر کا مفصد تھی حدا تھا‪ ،‬مگر چس دھکم نیل سے ہو کر وہ پہاں نک پہنچے تھے وہ انک شا پہیں تھا۔ میزل پہرطور انک ہی مفضود تھی اور‬ ‫پ‬ ‫اسی وجہ سے اکبھے اس آہنی ح ھت کے ننچے حمع تھے۔ پہاں نک ہنجنے میں ان کی کوسسیں تھیں چو ناآلحر نارآور نانت ہوئی تھیں‪ ،‬مگر‬ ‫ہرسواری کا ہم یشست اس کو فشمت سے ہی مال تھا۔ق بصلہ کر‪ ،‬ندپیرکے اوزار حال ‪،‬وہ گاڑی نک پہنچ ہی گنے۔حرام نا حالل جتسا مال تھا‬ ‫‪38‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫حرچ کر نکٹ نک حرند لیا مگر ہمسقر‪ ،‬ٹفدپر نے جنے۔ اس میں وہ حا ہنے بو کچھ معاملہ کر ردندل کر شکنے تھے‪ ،‬دعا نا تھر ڈران نور کے زر ٹعے اڈہ‬ ‫ً‬ ‫متسی کی منت کر کے اننی من یسید سواری کے شاتھ یسرٹف بو رکھ شکنے تھے‪ ،‬مگر یہ صروری پہیں کہ الزما ایسا ہو‪ ،‬ٹفدپر آحری حرف تھا۔ تھر‬ ‫ٹصنب‪ ،‬کچھ اصولوں کا تھی عمل دحل بوں تھا کہ نے وجہ نین ڈا لنے نچوں کی ماں‪ ،‬نچوں سےحھ بکارا پہیں نا شکنی تھی۔ وہ ا ننے ٹصنب‬ ‫لے کر گاڑی میں سوار ہوئی تھی۔ سیر سیانےوالے دل سے حا ہنے ت ھے کہ ان کو ناری چوان لڑکی کے پہلو میں نیبھیا ٹصنب ہو مگر طاہر‬ ‫ہے‪ ،‬معاسرہ ایسا ہے بو یہ ہر گز ممکن پہیں تھا۔ بو‪ ،‬لے دے کر ناری کے نالکل نچھلی یشست پر نیبھنے کا شامان کر دنا‪ ،‬جہاں سے اور‬ ‫کچھ پہیں بو کالی حادر سے حھانکنی گوری گردن اور نیبھ کی حلد کو گرجہ دنکھ یہ شکنے تھے پر محسوس کر شکنے تھے۔ اس چسین چشم کی ناس‬ ‫ا ننے نبھ نوں میں سمو شکنے ت ھے۔ڈران نور کے پہلو میں نیبھے فرنٹ سنٹ پر دو پڑی عمر کے اصجاب پہاں نیبھنے کو اننی اہمنت سے ٹعپیر‬ ‫کرنے‪ ،‬گردن میں سرنا حڑھانے محسوس ہونے۔‬

‫دوسرے اور نتسرے میل‪ ،‬لوگوں کے ماچول سے آسیائی ہونے ہی تھر سے حرکت سروع ہو گنی۔ گاڑی کے ستسے ح ھپ حھیاک کھلنے اور‬ ‫نید ہونے لگے‪ ،‬نچوں کے سورمیں کبھی کبھار لے مدھم اور لونڈوں کے فہقہے تھمنے بو دو سنٹ حھوڑ نیبھے نیل بع نوں کی ایسان کے اس دنیا میں‬ ‫وارد ہونے کی وجہ پر ہو رہی نحث صاف سنی حا شکنی تھی۔ یہ گفیگو‪ ،‬حالص پیرک میں لینی کافور کی مسک جتسی ہے۔ اور نبھی اگر کوئی‬ ‫کان لگانے ر کھے بو لونڈوں کے آحری فہقہے کی وجہ تھی نیا شکیا ہے۔ یہ اس لط بقے کا زکر کر رہے ہیں چب انک قاچشہ عورت کا کسی‬ ‫مولوی کو انڈز میں مییال کرنے کا ذکر ہو رہا تھا۔ انک ہی ح ھت نلے دو اننہانیں انک ہی میزل کی حانب رواں دواں ہیں۔‬ ‫چو تھے م یل پر کچھ دپر سے حاموش نچوں میں انک انک نے تھر سے آہسنہ آہسنہ نین کرنے ہونے لے نکڑی۔ ماں اس کو پہالنے نے‬ ‫یسی سے اس کے ناپ کی طرف دنکھنے لگی چو شامان کو شا منے کی سنٹ کے ننچے گھسیڑنے کی ناکام کوسش کر رہا تھا۔ ننچھے کی یشست پر‬ ‫انک چوان لڑکے نے مسورہ دنا کہ وہ شامان اوپر ح ھت پر رکھوا د ننے بو پہیر رہیا۔ اس پر کشمیری نے حل کر چواب دنا‪،‬‬

‫"سر پر الدے گھوم بو رہا ہوں‪ ،‬اب کیا چود میں گھسیڑ دوں؟"‬ ‫ن‬ ‫بوچوان ا ننے ن یکھے چواب پر کچھ سنخ نا شا ہو گیا۔ فرنب تھا کہ ان دوبوں کے ننچ لچی ہوئی‪ ،‬ناقی کے مسافروں نے معاملہ رفع دفع کروا دنا۔‬ ‫س‬ ‫نچوں کی ماں‪ ،‬سوہر کے شامان کو سر پر الدے تھرنے کا ن بعور‪ ،‬طیز مچھی بو نچھ سی گنی اور ٹعد اس کے نین کی لے پیز ہو نا معدوم پڑ‬

‫حانےاس نے نچے حمکارنا نید کر دنا۔‬ ‫اگلے جید میل‪ ،‬گاڑی فرانے تھرنے ہونے تھاگنی رہی۔ راسنہ ہموار ‪ ،‬حاالت موزوں اور ڈران نور پہانت مہارت سے انحن کی رقیار کے پرت‬ ‫کھولے حا رہا تھا۔ سہر سے حاصے ناہر ٹکل کر م بظر دلقرنب ہونا سروع ہوا بو لونڈے اتھی سے سیر سیانے میں مسعول ہو گنے۔ نچے فرانے‬ ‫ً‬ ‫تھرئی گا ڑی سے محظوظ ہونے لگے اور ناقی افراد چونکہ نے عم ت ھے بو ان موصوعات کو ح ھیڑ کر نیبھ گنے جن سے ان کا فطعا کوئی سروکار‬ ‫پہیں تھا۔ یہ حھ آتھ میل‪ ،‬کچھ ا یسے نینے کہ وقت کا کچھ اندازہ یہ ہوا۔ انک لمچے کو بو ا یسے لگا کہ قٹ سے ٹفانا شقر تھی بوں ہی طے ہو‬ ‫گا‪ ،‬طمان نت ہمتشہ ا یسے ہی پرفرار رہے گی اور حال چوں کا بوں رہے گا۔ ہر سواری چوش تھی۔ پہاں نک کہ کینے سے پیزار کشمیری اب‬ ‫سیبھل گیا تھا اور پڑھ حڑھ کر گفیگو میں حصہ لینے لگا۔ بوچوان چس نے شامان نارے لقمہ دنا تھا‪ ،‬کرودھ تھوک رہا اور ماں پر نچوں پر حانے‬ ‫‪39‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫م‬ ‫کتسے مجنت وایس در آئی تھی۔ یہ اب اننی بونلی سے کھانے کی چیزپں ٹکال ٹکال نچوں میں نا نینے حا رہی تھی۔ نچے تھی مزے سے یبھی‬ ‫ُ‬ ‫گولیاں‪ ،‬انلی ح ھلیاں اور تھنے جنے جیانے‪ ،‬اتھکیلیاں کرنے گاڑی کی عوں ع ُوں جتسا ہلکارے لے رہے تھے۔ ڈران نور‪ ،‬چوں کا بوں سنجیدگی‬ ‫سے گاڑی تھگانے حا رہا تھا اور اس کو ننچھے کی یشسنوں پر تھیلی طمان نت سے جیداں عرض یہ تھی ٹعننہ و یسے ہی جتسے اس کو پہلے کے‬

‫ہ بگام اور تھر حاموسی سے کچھ واشطہ پہیں رہا تھا۔‬ ‫یہ پیرہواں میل تھا چب سڑک میں نل آنا سروع ہو نے۔ گا ڑی میں دھرے لوگوں اور شامان کا بوازن کبھی بوں اور تھر دوسری حانب‬

‫لڑھکنے لگا۔ جتسے جتسے گاڑی آگے اونجائی کی حانب پڑھنی حائی تھی گاڑی کی رقیار دھبمی پڑئی رہی اور تھر بونت ر نیگنے نک آ گنی۔ انحن جی‬ ‫ک‬ ‫حان کا زور لگا کر گاڑی اور ماقنہا کو ھینجنے کی چست میں گال تھاڑے حا رہا ت ھا۔ اوپر ہی اوپر حڑھنے‪ ،‬نل کھانے موڑوں میں کبھی دانیں بو تھر‬

‫نانیں حھکاؤ آنا۔ وقت تھا گونا تھم شا گیا ہو۔ گاڑی کی فصا بوح ھل ہونا سروع ہو گنی۔ نحث اب گھمپیر ہو گنی اور نات لعن طعن نک پہنچ‬ ‫ُ‬ ‫گنی۔ وہ چو تھوڑی دپر پہلے نک سیر و شکر نات کنے حانے تھے‪ ،‬انکدم سے حاالت کو کوسنے د ننے لگے‪ ،‬اور کچھ نے سر میں نال ملکی قیادت‬ ‫کوعل بظ الفانات بواز کرچوڑی۔ نچے‪ ،‬اب نین بو پہیں کر رہے ت ھے۔ یس‪ ،‬مسلسل حھول اور نے در نے موڑوں کا اپر یہ ہوا کہ اتھی اتھی‬ ‫کھائی سوعانیں انک انک کر کے فے کی صورت وایس اگلنے حانے اور ان کا ناپ تھوڑی تھوڑی دپر ٹعد ڈران نور سے مبمیا کر کاعذ کی گبھیاں‬ ‫طلب کرنا اور نچوں کو فہر تھری ٹظروں سے دنکھیا حانا۔ نچوں کی ماں کھسیائی سی ہو کر بونلیاں شامان میں اور کاعذ کی تھری تھیل یاں ناہر‬ ‫ہوا میں احھالنی رہی۔ لونڈوں کی دلحسنی م بظر میں اب تھی پرفرار تھی مگر اب وہ زنادہ بوجہ سیگ میلوں پر دے رہے تھے۔ اس ر ن یگ پن‬

‫سے ان پر کچھ پیزاری سی حھائی بو وہ نے جین سے ہو گنے۔ جتسے ہی سڑک پر کوئی سیگ م یل ٹظر آنا بو نیک وقت حالنے‪ ،‬جتسے۔۔۔‬ ‫"آتھ میل رہ گیا!"۔‬ ‫اگلی یشست کے پزرگ پڑپڑانے اور یہ تھر سے چیڑ کے درج نوں میں کھو حانے۔‬ ‫"شات میل ‪ ،‬اور یس!"۔ اب پزرگ پڑپڑانے اور ڈران نور کے شاتھ پراحمان صاچب نے حملہ کسا‪،‬‬ ‫"مسییڈوں کو دنکھو‪ ،‬یہ پہیں سہہ نا رہے اور ارادہ اسی میل مزند شقر کا ہے۔"‬ ‫دانیں والے نے نالکل پرا پہیں میانا اور گال تھاڑ کر فہقہہ نلید کیا اور ننچ اس کے کہا‪،‬‬

‫"پزرگو‪ ،‬ان کھان نوں سے کیا ڈرنا۔ یس عادت پہیں ہے۔۔۔۔"‬ ‫آگے کی نات کی کسی کو تھیک پہیں لگی وریہ وہ منہ ننچے حھکا کر دئی آواز میں پہاڑوں اور ان میں یسنے والوں کی شان میں حرام کے ٹطقے‬ ‫کا کچھ عمل دحل نیان کر رھا تھا۔‬ ‫ڈران نور کی سنجیدگی اس دوران دنکھنے البق تھی‪ ،‬وہ اننی سر دھڑ کی نازی لگا کر ان نل کھانے موڑوں سے گاڑی کو صاف ٹکال النے کو اننی‬ ‫تھربور کوسش کر رہا تھا اور ایسا محسوس ہونا تھا کہ اس کا دھیان نیا پہیں اور میزل کھوئی ہوئی پہیں۔ نیدرہ سوار ‪ ،‬نئتس (‪ )32‬م یل کے‬ ‫اس شقر کا یہ حال دنکھ‪ ،‬ا ننے ا ننے انداز میں واونال کنے حانے ت ھے مگر حھوڑ د نیا ان کے یس میں پہیں تھا۔ جتسے گا ڑی ج نوننی کے جتسے‬ ‫ک ک‬ ‫ر نیگ رہی تھی‪ ،‬ہر سوار تھی چود کو جتسے ھینچ ھینچ کر اس کے شاتھ نار کرا رہاتھا۔‬ ‫‪40‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫انحن ج بگاڑنے ج بگاڑنے تھکا شا لگ رہا تھا اور و یسے ہی ہر سوار جتسے ہمت کا نلو حھوڑنے واال تھا کہ نب اتھارہوں میل پر سب ہوا ہو گیا۔‬ ‫پ‬ ‫چوئی پر ہنجنے ہی گونا سب شانت ہو گیا اور انک میل کا شقر اوپر کےمیدان میں بوں طے ہوا کہ میال حال میں ہوں۔ انکدم سے شارا عیار‬

‫ح ھٹ گیا۔ وہ انحن چو لمچے پہلے ج بگاڑ کر حان حھڑانا معلوم پڑنا تھا‪ ،‬اب وچود ہی یہ رکھیاہو۔ ہوا کے ت ھپیڑے منہ پر ا یسے لگنے جتسے لوری‬ ‫سیانے ہوں‪ ،‬چوئی کے دوبوں طرف کھانیاں تھیں اور م بظر ایسا کہ دل مجل حانا۔ جی حاہیا کہ اح ھل کر اس سب کو چود میں سمو لیں۔‬ ‫لونڈے چو اس واردات پر اٹگلیاں منہ میں دنانے نیبھے تھے‪ ،‬ان میں سے انک نے شاچنہ بوال‪" ،‬شالی‪ ،‬الٹف پہاں ہے۔ بو فور سنون ہنی‬ ‫مون ہے‪ ،‬ہنی مون!" دوسرے نے دم نچود کھڑکی سے ناہر ٹکل کر چیڑ کے ج بگل میں صاف شفاف ہوا تھیبھڑوں میں تھری بو وایس اس‬ ‫دھڑام سے یشست پر گرا‪ ،‬جتسے سرابوں کے کتسیر انڈنل نیبھا ہو۔ سیاچوں کی اس حرکت پر گا ڑی میں اب کے ان کی نجانے ناقی سواربوں‬ ‫کے فہقہے نلید ہونے۔ چود اعبماد لونڈے حھی نپ سے گنے۔‬

‫انتسوپں میل پر ڈران نور نے شگرنٹ شلگا لی اور حراماں حراماں اپرائی میں گاڑی اسی رقیار سے انارنے لگا چس پیزی سے وہ اس چوئی پر پہنجا‬ ‫تھا۔دوبوں حانب کا فرق یہ تھا کہ چب اونجائی کے لنے یہ گا ڑی رواں تھی بو کسی کو اس حمار‪ ،‬حال کا علم یہ تھا چو چوئی پر ان کے لنے‬ ‫نیار تھا‪ ،‬مگر اب آہسنہ آہسنہ چب یہ گاڑی ننچے ڈھلک رہی تھی بو ہر کوئی اس حمار‪ ،‬یشہ میں تھا۔ کسی کو تھی پرواہ یہ تھی۔ سب سرابور‬ ‫ً‬ ‫ت ھے‪ ،‬اور دو میل کی اپرائی یسییا زنادہ ر نیگ کر طے ہوئی پر پرواہ کس کو تھی؟ نچے اب نیید سے بوحھل‪ ،‬ماں کی زابوں پر سر دھرے‬ ‫ُ‬ ‫ہونے تھے۔ چوان لونڈے حھوم حھوم کر انک دوسرے کو سر مال کر واہیات گانے سیانے تھے اور ناقی کی سوارناں دلحسنی سے اتھیں‬ ‫ن‬ ‫حھومنے د کھی حائی تھی۔ مفامی سواربوں کی گردنیں پن سی گئیں کہ وہ کس ج نت کے ناسی ہیں اور پڑپڑانا پزرگ جتسے اس ٹعمت پر حدا کا‬

‫شکر ادا کرنا ہو۔‬ ‫آحری دو میل نچ رہے بو گاڑی میں اداسی حھا گنی۔ انحن نک کی آوازاب جتسے معموم سی تھی۔ میزل پہانت فرنب آ گنی تھی اور گاڑی انک‬ ‫میدان میں دوڑے حانے ہونے فصا کو مزند اداس کر رہی تھی۔ ناس پہیا درنا‪ ،‬میدان کے کھنت کھلیان‪ ،‬شا منے وادی کے پرف سے ڈ ھکے‬ ‫پ‬ ‫پہاڑ اور درمیان میں لکیر سی سڑک پر انک اداس انحن‪ ،‬نیدرہ سواربوں کو میزل پر لے کر ہنجنے کو پڑھیا حانا تھا۔ سوارناں چو انیا انیا مفصد لنے‬ ‫انک ہی میزل کے واشطے سوار ہوئی تھیں اور شقر سروع ہونے پرانک دوخے سے ناالں‪ ،‬ہ بگام پرنا کنے روایہ ہوئی تھیں اب افسردہ دکھائی‬ ‫ن‬ ‫د نئیں۔ انک لونڈا‪ ،‬کھڑکی کے ستسے سے سر ٹکانے نکیکی ناندھے ناہر دوڑنے م بظرمیں کھییا حانا تھا اور دوحا ا ننے آگے یبھی ناری چسننہ کی‬ ‫یست پر ٹظرپں ٹکانیں نیبھا تھا۔ شقر کے شارے دور میں کسی کو چیر پہیں ہوئی کہ کس کمال حاموسی سے اس پردیسی نابو نے ناری پر چود‬ ‫پ‬ ‫کو وار دنا اور اب جیکہ شقر جبم ہونے کو تھا بو میزل پر ہنجنے ہی ان کی راہیں الگ الگ ہو حانیں گی۔ نچے سو حکے تھے اور ماں شامان‬ ‫سمئینے میں مصروف تھی۔ ناپ دھبما شا ہو کر دروازے سے لگ کر نیبھ گیا تھا ۔ ننچھے کی سواربوں میں کچھ سر اگلی یشسنوں پر ٹکانے سوچ‬

‫میں عرق تھیں بو ناقی چسرت سے جتسے چوئی کے حال کو ناد کنے حائی دکھائی د ننی تھیں۔ دور پرف سے ڈ ھکے پہاڑ‪ ،‬سب کے لنے نکساں‬ ‫سے تھے۔ کنی پہاڑ‪ ،‬جن میں سے ہر انک پر وہی حال اب تھی پرنا تھا چو وہ دپر قیل محسوس کر کے آنے تھے۔ چسرت یہ تھی کہ وہ ان کی‬ ‫پہنچ سے دوراور ناقانل حاصل ت ھے۔‬

‫‪41‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫ًم‬ ‫نئتس (‪ )32‬میل کا شقر ٹقرنیا کمل ہونے کو تھا۔ نیدرہ ہمسقر جن کا یس م بظر حدا‪ ،‬مفصد علنجدہ اور میزل انک تھی۔ کوئی دوسرے کو‬ ‫کچھ عظا کرنے چوگا کبھی پہیں رہا؛کسی نے ان نئتس (‪ )32‬میلوں میں وصل کا مزہ حکھا تھا بو دوسرے نے اس شارے دوراں میں‬ ‫پ پ‬ ‫حاموسی طاری کنے رکھی۔ انک ناہر کے میاطر کے عسق میں مییال ہوا بو دوسرا میزل نک ہنجنے ہنجنے گاڑی کے اندر نینی مجدود دایش سمنٹ‬ ‫حکا تھا۔ دو انک نالکل آگے کی پرشکون یشست پر پراحمان ہونے کے یسے میں گردن اکڑانے محروم رہے اور ننچھے کونے میں ہجکولے کھانا‬

‫انک عاحز اس سب سے لطف اندوز ہو گیا۔ نچے ماں کی گود میں سہولت اورشکون جیکہ ناپ کی آنکھ میں وچست اور مج نوری‪ ،‬سب دنکھ کر‬ ‫سو تھی لنے۔ پزرگ جتسے پڑپڑانے سوار ہونے ت ھے و یسے ہی پڑپڑ کرنے اپر تھی گنے۔ڈران نور‪ ،‬جتسا نے ٹعلق اور سنجیدہ سوار ہوا تھا و یسے ہی‬ ‫نے نیاز انیا کام کر کے ٹکل گ یا۔ کسی نے دوسرے کو کچھ عظا پہیں کیا۔ حا ہنے‪ ،‬یہ حا ہنے۔۔۔ گاڑی رواں دواں رہی ‪ ،‬میزل پر نیدرہ‬ ‫کے نیدرہ ہ بکانے ہونے پہنجانے گنے۔‬ ‫اہم‪ ،‬وقت تھا چو سب کا نیا۔ حال چو سب پر نکساں طاری ہوا مگر ردعمل‪ ،‬حدا رہا۔‬

‫(مارچ‪3102 ،‬ء)‬

‫‪42‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫رنل نال‬

‫"میں نے رنل پر شقر پہیں کیا پر اسے تھک تھک کرنے حانے دنکھا ہے۔" صقوت مچھے نیا رہا تھا کہ‪" ،‬تھانک نا تھر سڑک کے ناس سے‬ ‫پیڑی پر گزرنے ہونے دنکھا ہے۔ ملیان سے مطقرگڑھ کی حانب ٹکلو بو سیرشاہ نائی ناس پر رنل کی پیڑی اور سڑک کنی میل نک شاتھ حلنے‬

‫ہیں۔ رنل گزر نے ہونے کنی نار اننی گاڑی کی رقیار پڑھا دی کہ اس کے شاتھ دوڑ شکوں۔ لمجہ تھر کو ایسا ہونا ہے کہ رنل اور گاڑی انک‬ ‫ہی رقیار سے حلنے ہیں اور تھر رنل کی پیڑی مڑئی حائی ہے۔ آپ انک حانب اور رنل دوسری طرف پڑھ حائی ہے۔" میں اکیانا شا اس کو سن‬

‫ت‬ ‫رہا تھا‪" ،‬رنل پڑی عج نب چیز ہوئی ہے‪ ،‬تھس تھس کرنا انحن بوگ نوں کے لوہے کو ننچے نچھے لوہے پر رڑھیا حانا ہے۔ مھیں ننہ لیڈی کونل نا‬ ‫تھر وھاں نلوچسیان میں کوئی حگہ‪،‬وہاں رنل کے آگے ننچھے دو انحن ٹصب ہونے ہیں۔ اگال انحن کھینجیا ہے اور نچھال دھکیلیا حانا ہے‪ ،‬بو ہی‬ ‫رنل پہاڑوں پر اوپر ہی اوپر حل شکنی ہے‪،‬وریہ بو انحن آگے ٹکل حانے اور رنل کی بوگیاں ننچھے لڑھکنی رہیں۔ مفصد بورا ہی یہ ہو اور‬ ‫ٹفصان۔۔۔۔"‬ ‫" اونے۔۔۔ تھوننی کے!" میں نالکل اکیا گیا بو ہبھے سے اکھڑا‪"،‬بو رنل پر کبھی سوار پہیں ہوا اور ٹفصیل ا یسے نیا رہا ہے جتسے پہلی رنل‬ ‫ُ ُ‬ ‫پیرے ناوا نے ہی روایہ کی تھی۔ نید کر یہ حر حر‪ ،‬مچھے کوئی دلحسنی پہیں۔"‬ ‫اسے بوک کر حانے کی نیالی میں نے وایس منہ سے لگائی بو دور کہیں رنل کی حھک حھک سیائی دے رہی تھی۔ کمرے میں نیبھ‪ ،‬یہ‬

‫حا ننے ہونے تھی کہ رنل اسے ٹظرپہیں آنے گی پر تھر تھی وہ احک کر کھڑکی سے لگ کر کھڑا ہوگیا اور میں نے اسے منہ تھر کر گالی دی‬ ‫بو حھی نپ کر وایس میرے ناس آن نیبھا۔ دپر نک ہم اکبھے رہے‪ ،‬وہ مجذوب شا ُچپ نیبھا اور میرا وچود اس کے لنے عل بظ گالی نیا اس کا منہ‬ ‫حڑانا رہا۔‬

‫صقوت میرا ہم عمر ہی ہو گا۔ ناٹکا شا‪ ،‬چوان آدمی۔ ہم انک سے ت ھے‪ ،‬انک جتسے جیال رکھنے والے مگر اس میں پڑی حرائی تھی۔ کسی تھی‬ ‫سے ننچھے لگیا بو جتسے چود اور وقت کو پرناد کر نے کی حد نک ننچھے ہو لییا۔ اس کو پرواہ ہی یہ ہوئی کہ دنیا اور تھی معامالت‪ ،‬اس یاء سے‬

‫تھری پڑی ہے۔ اس کے دماغ میں کچھ سما حانا بو جتسے اسی کا ہو کر رہ حانا۔ جتسے آحکل اتھنے نیبھنے اس کے سر رنل گاڑبوں کا سودا‬ ‫سمانا ہوا تھا۔ صنح سے شام نک وہ یس رنل کی نانیں کرنا رہیا اور ہر نار گھننہ دو گھننہ ٹعد مچھ سے عل بظ گالیاں سییا بو کہیں حا کر اس کو‬ ‫ً‬ ‫ُچپ لگنی۔ مچھے یہ ما ننے میں کوئی عار پہیں کہ جی دار نیدہ تھا نبھی ہم اکبھے تھے۔ کام انک ہی دفیر میں بو اس لجاظ سے ٹقرنیا دن کے‬ ‫چونتسوں گھینے شاتھ نئینے اور حلد ہی ہمارا انک دوسرے سے طرز نجاطب آپ سے بو‪ ،‬پڑاک نک پہنچ گیا۔ ہم کوئی عرصہ نین شال سے شاتھ‬ ‫رہ رہے ت ھےاور میں نے ہمتشہ ایسا ہی دنکھا۔ نیبھے نبھانے اس کے دماغ میں کچھ سمانا اور تھر دبوں‪،‬ہف نوں اور یسا اوقات مہی نوں وہ اسی‬ ‫کا ہو رہیا۔‬

‫‪43‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫انک دن چب وہ رنل کی پ ؑیڑی کے ننچ لگی لکڑی پر حدا حانے کینی دور کی کوڑی ڈھو ڈھو مچھ پر انڈنل رہا تھا بو میں نے اس کو بوکا دنا‪"،‬انے‬ ‫او ‪،‬شکر کر بو کسی ناری چسننہ کے ننچھے کبھی چوار پہیں ہوا۔۔۔ پہی دنکھ اتھی‪ ،‬پیری رنل کی ماں کی آنکھ نارے ہم ہف نوں سے سن رہے‬

‫ہیں۔ نب بو یہ شاری زندگی کا روال ہو حانا۔ ہللا معاف کرے‪ ،‬نچ ھے کون پرداست کرنا؟"‬ ‫صقوت نے آنکھ منچ کر کہا‪ "،‬نچے‪ ،‬بو مچھے کیا حانے میں بو پہہ نک سے ٹکال النا چس کے ننچھے لگ حانا۔ اور دنکھ لنج نو ‪،‬پیری تھاتھی تھی‬

‫ُ‬ ‫ا یسے ہی ڈھونڈ ڈھانڈ کر الؤں گا۔تھر تھرنے رہ نو‪ ،‬ا ننے اس جہرے پر اورتھی نچوست اتھانے‪ ،‬پیری۔۔۔"پڑکہ لگا نے کو اس نے شاتھ جن‬ ‫کر گالی تھی دے ڈالی۔ میں کمییگی سے ھتسی ھتس رہا۔‬ ‫اس کا کہیا تھا کہ اس کا کبھی رنل سے واشطہ پہیں پڑا مگر اسے رنلوں سے بولو بو عسق ہو گیا ہے۔ اب تھلے رنل سے کسی کو کیا دلحسنی‬ ‫ہو شکنی ہے؟ مچھے معلوم تھا کہ میں اس سے بوحھوں گا بو وہ گھی نوں رنلوں نارے نے مصرف معلومات مچھ پر احھالیا رہے گا اور مجال‬

‫ہے کہ مچھے میرے سوال کا وہ سیدھا شادہ چواب انک آدھ فقرے میں دے ڈالے ۔ گھمانا تھرانا‪ ،‬انک سے دوسری معلومات کو شاتھ‬ ‫ً‬ ‫چوڑنا۔۔۔ کہائی سی نیا کر آگے ننچھے پرونا ہوا سب کی سب نانیں نیانا رہیا۔ اس نات کی فطعا کوئی پرواہ یہ ہوئی کہ شا منے نیبھا سحص شاند‬

‫اس نانت وافف ہو گا نا اسے اس معلومات سے جیداں دلحسنی یہ ہو۔ صرف پہی پہیں‪ ،‬میال اب کے اگر رنل سے اس کو ننہ پہیں کیا‬ ‫رع نت ہوئی تھی بو وہ رنل کو ا یسے دنکھیا‪ ،‬اس نارے ا یسے بوجہ سے نات کرنا کہ کچھ پہلو یسنہ یہ صرف اس سے رہ یہ حانے‪ ،‬نلکہ اس کا‬ ‫شامع تھی محروم پہیں حانا حا ہنے۔‬

‫کڑوا گھونٹ تھا مگر انک دن میں نے جی کڑا کر کے اس سے بوحھ ہی لیا‪" ،‬بو رنلوں نارے انیا کاہے کو جی حالنا رہیا ہے۔ رنل ہے‪ ،‬مسافر‬ ‫ڈھوئی ہے۔ انحن بوگیاں کھینجیا ہے‪ ،‬لوہے کی لمنی سی ندشکل گاڑی ہےاور کسی کو کیا دلحسنی ہو شکنی ہے اس میں؟"‬ ‫ُ‬ ‫صقوت شاند سر میں تھا بو گال کھ بکار کر بوال‪" ،‬ہوپہہ‪ ،‬بو کیا حانے رنل گاڑی کتسی نیاری چیز ہے۔ نچھے اننی شکل جتسے ہر چیز میں نچوست‬ ‫ہی ٹظر آئی۔ یہ تھلے جتسی ہو۔۔۔ دنکھ بو سہی کتسے صیر سے حھکا حھک حھکا حھک انک ہی رو ‪،‬اننی ہی دھن میں حلنی حائی ہے۔نانک پن‬

‫دنکھ اس کی‪ ،‬تم سڑک پر گا ڑی میں حاؤ نا نیدل حلو۔۔۔ تم اس سے حال مال شکنے ہو وہ تم سے کبھی حال پہیں مالنے گی۔" چونکہ اب وہ‬ ‫رواں ہو حکا تھا اور اس نار رنل کی حصلت پر نیان کر رہا تھا بو میں نے دلحسنی سے شگرنٹ شلگا لیا‪" ،‬رنل کی سب سے پڑی چوئی اس کی‬

‫نے نیازی ہے‪ ،‬وہ مج نوب ہوئی ہے۔ تم اس کے قدموں میں قدم رکھو گے اور یہ طے ہے۔ میں اننی گاڑی تھگا کر اس کی رقیار نکڑوں گا‪،‬‬ ‫وہ میری پہیں۔ تھانک آنا بو مچھے رکیا پڑے گا اسے پہیں۔ تم ہمتشہ اس کی زنان بو لنے ہو اور وہ تمھاری زنان کبھی پہیں بولے گی۔" ادھ‬ ‫حال شگرنٹ مچھ سے ہبھیا نا اور مزند بوال‪" ،‬رنل نانکی ہوئی ہے بو اس کی پرواہ کرئی پڑئی ہے‪ ،‬پرواہ یہ کرو گے بو دنکھو‪ ،‬اس کے شاتھ سے‬ ‫ت‬ ‫محروم ہو حاؤ گے۔ ہر چیز ناپ بول کر نالکل اسی کے ٹعدد میں ہر وقت مھیں رواں رکھنی پڑئی ہے‪ ،‬جتسے وہ چود ناپ بول کر حلنی ہے۔"‬

‫اس کی نابوں میں دلحسنی بو تھی پر اب میں اکیا رہا تھا بو اس نے تھانپ کر نات جبم کر دی‪" ،‬رنل کے شاتھ کبھی اسی کی رقیار سے حلو‪،‬‬ ‫اس کے رنگ میں رنگ کر بو دنکھو۔ انکدم سے جتسے تم اور وہ انک حان ہو حانے ہو۔ تم نالکل رنل شا محسوس کرنے ہو؛ نے نیاز‪ ،‬ناٹکا‪،‬‬ ‫ُ‬ ‫من موج۔حھکاحھک حھکا حھک۔۔۔ بوووووں!"‬ ‫‪44‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫اس کے منہ سے اس آحری احمفایہ رنل کی آواز پر میں نے اسے عل بظ گالی دی اور شگرنٹ کا بونا چو اس نے ننچے فرش پر گرانا تھا‪ ،‬کوڑے‬ ‫کے ڈنے میں تھی بکا اور محفل پرحاست کر دی۔‬ ‫یہ صقوت کا ناگل پن تھا۔ ہر سے چس میں اس کی دلحسنی ہوئی اس کو پہہ نک کرند کرند کر حانیا‪ ،‬اس نارے نانیں کرنا رہیا اور اب جتسے‬ ‫رنل نارے انک قلسقہ گھڑ رکھا تھا ویسی ہی عحب حصلت نانیں کرنا رہیاچو کم از کم میں کبھی پہیں سمچھ شکیا تھا۔ رنل میرے لنے انک‬

‫سہولت تھی مگر اس نے اسے چود کے لنے کیا سے کیا نیا لیا تھا؟ میں اس کی اس عادت سے پہت زچ رہیا۔ نات صرف سینے کی پہیں‬ ‫تھی‪ ،‬اس میں انیا ہنجان پرنا ہونا کہ ناق نوں کا جییا حرام کر د نیا۔ تھلے آپ اسے الکھ سمچھانے تھرپں۔ وہ یسا اوقات مروت میں چوک تھی حانا‬ ‫مگر ناز کبھی یہ آنا۔ کنے کی ُدم۔‬

‫نب رنلوں نارے ہی اننی پرائی نال تھر سیائی۔ کہنے لگا‪" ،‬کیا تم حا ننے ہو رنل جتسا تم حل صرور شکنے ہو‪ ،‬مگر زنادہ دپر اس کی رقیار میں رقیار‬ ‫پہیں مال شکنے۔ تم اس کے جتسے ہو شکنے ہو مگر زنادہ دپر یہ ک بف نت پرفرار پہیں رکھ شکنے۔ ایسا کرو گے بو منہ کے نل گرو گے۔ یس‪ ،‬وہ جید‬ ‫لمچے ہی ہونے ہیں چو تم اس کے جتسے‪ ،‬اس کے ٹعدد پر گزار شکنے ہو‪ ،‬یہ کم اور یہ ہی زنادہ۔ کم گزارو گے بو یسیگی اور زنادہ کی کوسش میں‬ ‫س‬ ‫منہ کی کھاؤ گے۔" اب اس کی یہ نییا کون مچھیا؟‬ ‫اسی روز وہ ملیان سے راجن بورحانے کو شام میں اکیال ٹکال بو میری گالیاں سن کر ہی روایہ ہوا تھا‪ ،‬نب تھی سر میں رنل کی نال االپ رہا‬

‫تھا۔ کوئی گھننہ تھر ہی گزرا ہو گا کہ ہسییال سے ن بعام موصول ہوا۔ صقوت حادنے کا شکار ہو گیا۔ دوڑا دوڑا ھسییال پہنجا بو وہ شدند زحمی‬ ‫حالت میں ڈاکیروں اور مسی نوں کے رحم و کرم پر تھا۔ کوئی حھ گھینے نک میں کبھی ناہر اور تھر اندر حکر لگانا رہا اور چب رات گنے اس کی‬ ‫حالت کچھ سیبھلی بو مچھے تھی سیبھاال ہوا۔ اس کا انک تھائی کے عالوہ کوئی یہ تھا چو پیرون ملک رہایش نذپر تھا۔ اس کو اطالع کر دی گنی‬ ‫۔ دو دن نک میں اس کی دنکھ تھال کرنا رہا اور چب اس کو ہوش آنا بو میں اس کے سرہانے تھا۔ ڈاکیر اس کا معاننہ کر کے ٹکلے بو میں‬ ‫اس کے پہلو میں حا نیبھا۔‬ ‫نب‪ ،‬اس نے پڑی ہمت حمع کی۔ ناوچود میرے م بع کرنے کے وہ رک رک کر بوال‪،‬‬

‫"رنل تھی‪ ،‬ز نیا جتسی ہی ٹکلی!"۔‬ ‫"ز نیا کون؟"‬

‫مچھے ٹظرانداز کر کے تھر گونا ہوا‪" ،‬ز نیا تھی ایسی تھی‪ ،‬نانکی نے ن یاز۔" شایس تھر حمع کی‪" ،‬میں اس شا ہونے کی حاہ کرنا رہا۔ اس کے‬ ‫رنگ میں رنگنے کی۔۔۔۔۔" صقوت کھایسنے لگا۔ میں نے اس کے سرکو سہارا دنا اور نیبھ پر ہلکے سے تھیبھیانا بو کچھ تھما۔ بو لنے سے ناز تھر‬ ‫تھی یہ آنا‪" ،‬میں اس جتسا کبھی یہ رہ شکا۔ اس کی حال میں حال بو مگر حال پرفرار یہ رکھ شکا۔ وہ مچھ سے انیا آپ ک نونکر ہم آہیگ کرئی؟ رنل‬ ‫تھی‪ ،‬ز نیا جتسی ٹکلی۔ رنل کے شاتھ تھاگا مگر وہ من موج‪ ،‬ز نیا کی طرح ا ننے ہی را سنے مڑ گنی۔ میں تھر منہ کے نل گر گیا۔ میں شا۔۔۔"‬ ‫اس کی شایس اکھڑ گنی۔ ڈاکیر کو تھر سے طلب کیا اور کوئی دو گھینے ٹعد اس کی حالت سیبھلی بو تمسکل شالنا۔‬

‫‪45‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫صقوت نے پہلی نار مچھے گالی د ننے چوگا تھی یہ حھوڑا تھا‪ ،‬اور اب جیکہ میں اس سے گھی نوں نات کرنا حاہیا تھا۔ اس نے پہلی نار کوئی‬ ‫حف بقت مچھ سے ناننی تھی۔ سیدھا چواب دنا تھا۔ میں اس کو یسلی د نیا حاہیا تھا‪ ،‬اس کی حالت نانییا حاہیا تھا مگر افسوس اس رات وہ چو‬

‫تمسکل شالنا گیا تھا‪ ،‬دوسرے دن ڈاکیروں کی سربوڑ کوسش پر تھی یہ حاگ شکا۔‬ ‫صقوت‪ ،‬رنل نال کی ناب یہ ال کر ہالک ہو گیا۔‬

‫‪46‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫کنہار کا کیارہ‬

‫اوپر کے پہاڑوں سے پہیا ہے اور اتھی پہاڑوں میں ا ننے سے پڑے درنا میں حا گرنا ہے۔ پہت سور مجانا ہے بو اس کے فرنب ہوں نا دور‪ ،‬ٹظرانداز‬ ‫پہیں کر شکنے۔ اسے سییا پہت مسکل کام ہے‪ ،‬اور تھر اسی کی رقیار سے اس کے شاتھ حلنے حانا اور تھی دسوار۔ اس کی دوسنی احھی اور یہ ہی‬

‫دسمنی۔ ایسا کہنے‪ ،‬زنادہ فرنب ہونے بو پہے پہیں‪ ،‬دور گنے بو جنے پہیں۔‬ ‫حف بقت یہ ہے کہ کنہار کسی کام کا پہیں‪ ،‬سور مجانے ہونے یس پہیا حال حانا ہے۔ اکھڑ شا ہے۔ ا ننے فرنب کسی کو تھیکنے نک پہیں د نیا‪ ،‬کھنت‬ ‫اس سے سیراب پہیں ہو شکنے اور ہ بگام دنکھو بو گونا شاری دھرئی سر پر دھرے تھرنا ہو۔ پہ یا اس ت ھاتھ سے ہے جتسے اس شا دوسرا کوئی یہ ہوگا۔‬ ‫عارت ہو کہ درنا ہونے کا فرننہ اسے ہے ہی پہیں‪ ،‬نبھر حانے بو کسی کو حاطر میں پہیں النا مگر تھر تھی لوگ ہیں کہ اس کی حانب کھنچے حلے‬ ‫حانے ہیں۔‬

‫اب میں صرف پرائی ک نوں کروں‪ ،‬ٹظارے میں کچھ تھال شا ہے بو لوگ نبھی اس کی حانب م نوجہ رہنے ہیں۔ سوپر ہوئی پہیں اور کنی من‬

‫حلے اس کے کیارے شاتھ چشم سنوا کرنے ہیں۔ ننہائی یسیدوں کی یہ شام میں یسیدندہ حا ہے بو حلوت کے مارے‪ ،‬سور کے دبوانے شارا‬ ‫دن اس کی طرف دوڑے حلے آنے ہیں۔ چو پہاں کے مفامی پہیں بو وہ شال میں جتسے نتسے ہو شکے انک نار پروابوں کی صورت اس کی‬

‫پ‬ ‫زنارت کو ہنجنے نالصرور ہیں۔ ان دبوں میں دنکھو بو بول نوں کی بولیاں کنہار کیارے کو آناد رکھنی ہیں۔ روبق تھلی معلوم ہوئی ہے اور یہ نل کھانا‬ ‫ہوا‪ ،‬سور مجانا اننی ہی دھن میں دھیا جتسے جتسے یہ پہیا حانا ہے لوگ اس کی حال سے منہوت ہونے یس اس کے کیارے نیبھے اس کو‬

‫ناڑنے رہنے ہیں۔ ہمارا کنہار ناٹکا شا ہےبو کوئی تھی اس مونے کو ٹظرانداز پہیں کر نانا۔‬ ‫نچین میں کبھی اس کے فرنب حانے کی احازت پہیں دی گنی۔ وجہ گ نوائی حائی تھی کہ یہ قا نل کسی کو پہیں نحسیا اور نچوں کو بو نالکل‬ ‫ُ‬ ‫تھی پہیں حانے دے ہے‪ ،‬ان کو گ ھیر لییا ہے۔ جتسے اور‪ ،‬و یسے میں ناعی۔ اس کے فرنب حانے سے چوکا پہیں۔ نینی دوپہروں میں گھر‬ ‫سے ٹظر نجا کر ٹکلیا اور اس کی طرف دوڑ لگا د نیا۔ شام نک اس کے آس ناس کبھی پہاں اور نبھی وہاں‪ ،‬اب کے یہ نبھر تھال نگنے اور تھر‬ ‫تھیلی ر نت میں لونیا اس کو سور مجانے سییا رہیا اور چب تھک ہار کر گھر لونیا‪ ،‬بو اس نافرمائی پر سزا کا حفدار تھہرنا۔ کنہار کے لنے چوسی‬ ‫چوسی التھیاں ک ھانا اور اگلی دوپہر تھر کنہار واشطے مجل کر دبوایہ وار کیارے پہنچ حانا۔ چود کے قانل ہوا بو التھیاں پرسیا بو پرک ہونیں مگر کنہار‬ ‫کا جتسے مئننہ کیا تھا‪ ،‬اس نے نحسا پہیں۔ میرا من شفاف لہکنی ہوئی نانکی لہروں میں انک کر رہ گیا۔‬ ‫اس کا فضور پہیں‪ ،‬کنہار کیارے نیبھ کر میں نے اس کی شفید حھاگ سے اتھکیلیاں کی ہیں‪ ،‬ر نت پر دراز ہو کر شگرنٹ کے کش پر کش‬ ‫اڑانے ہیں اور اس کے د ھلے نب ھروں کی اوٹ میں اس سے راز و نیاز کیا ہے۔ کنہار ناروں کا نار‪ ،‬دل کا دلدار اور میرے رازوں میں رازداں‬ ‫ہے ۔ یہ نےکار‪ ،‬تھلے کسی کام کا یہ ہو۔۔۔ میرا سرنک پن گیا۔‬ ‫سی‬ ‫ارے صرف پہی پہیں‪ ،‬میں نے مجنت تھی بو کنہار سے ہی کھی تھی۔ مج نوب کون ہونا ہے‪ ،‬کنہار کو دنکھ کر ناد آنا تھا۔‬

‫فصہ کچھ بوں ہے اک روز میں نے کنہار کیارے ر نیلے نیلے میں دراز کیکر کی حھاوں نلے تھیڈی ہوا کے حھونکوں سے مچمور‪ ،‬زائی شا سوال‬

‫کیا‪،‬‬

‫‪47‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫"میاں‪ ،‬یہ چو تم نا نکے ننے تھرنے ہو اور قاندہ کسی کو دو نکے کا پہیں پہنجانے۔ لوگوں کو دنکھو کہ تھر تھی پیرے واری حلے حانے‬ ‫ہیں۔۔۔ بو پیری نے نیازی اور یہ رویہ کچھ غیر شا پہیں؟"‬ ‫کنہار جتسے شانے احکانا ہو‪ ،‬تھیڈی تھار لہر‪ ،‬ننچ کے ڈھلکے نبھر کے اوپر سے مچھ پر اڑائی اور ففط انیا کہا‪،‬‬

‫"میں لوگوں نارے کیا حابوں‪ ،‬میں بو ا ننے من کا موجی ہوں"۔‬

‫"بو ان کا مج نوب ہے؟"‪ ،‬میں نے ر نت پر سیدھے نیبھ کر سنجیدگی سے بوحھا بو وہ حھی نپ گیا۔‬ ‫حدا حانے اس معمولی نات پر اس کے من میں کیا سمائی؟ بورے نین دن نک نچوں کی طرح نے وجہ سور مجانا رہا۔ ہللا عارت کرے‪ ،‬کابوں‬ ‫میں پڑی آواز پہیں سیائی د ننی تھی۔ اور تھر اسی حالت میں چو تھے روز وادی میں وہ طوقان پرنا کیا کہ سبھی عاحز آ گنے۔ کنہار نبھر گیا۔‬ ‫آنادبوں کو لیاڑنا‪ ،‬زمین کی منی کانیا گیا‪ ،‬درچت پہانے بورے دو دن اور نین رانیں اس نے سب کو ہراشاں کنے رکھا۔ میں نے ٹقینی سے‬ ‫یس اس کے یہ رنگ دنکھیا رہا اور اس کی اجئی نت کا کچھ تھی یہ کر شکا۔‬

‫اور چب سب شانت ہوا بو میں نچھا نچھا حا کر اس کے پہلو میں حا نیبھا۔ کنہار نے ا ننے کیارے پرات ھل نبھل کر کے رکھ دنا تھا۔ ہللا کی‬ ‫ُ‬ ‫ت‬ ‫ع‬ ‫ن‬ ‫نیاہ‪ ،‬ایسی نے پرنینی تھی کہ مچھے کیارے کا شارا ٹقشہ نک تھول گیا۔ من عصے میں ھن گیا۔ اندازہ کرو‪ ،‬شاری مر چس کیارے کے ا ک‬

‫انک نبھر‪ ،‬ر نت کی پہوں اور نیلے کے بونے بونے نک وافف تھا‪ ،‬دو دن میں سب عارت ہو گیا۔‬ ‫چوب لعن طعن کر حکا بو یہ پہانت میانت سے میرے پیر گدگدا کربوال‪،‬‬

‫"بو نے ایسا ک نوں کیا؟"‬ ‫اب یہ اس کی ادا تھی‪ ،‬چود اس کی مجنت میں چور نا لہچے میں عاحزی‪ ،‬میرا دل یسنج گیا۔ شارا کرودھ ہوا ہو گیا اور من میں عصے کی حگہ یس‬ ‫تھیڈک تھر گنی۔ میں نے نے اجییار اس کی گیلی ر نت سے لییا مار لیا۔ کنہار کی ہر دلعزپز تھیڈک میری رپڑھ کی ہڈی میں سرانت ہوئی بو‬ ‫میری گرمایش اس کے وچود کو نگھال گنی۔ کنہار‪ ،‬دھاڑپں مار کر رونا اور چب من نیکھ کے جتسے ہلکا ہو حکا بو آہسیگی سے ر نت کی پہہ کے‬ ‫ننچے سے تھیڈی لہروں سے میری نیبھ تھیبھائی اور ٹفصیل سے بوحھنے لگا‪،‬‬ ‫"بو نے ایسا ک نوں کیا‪ ،‬مجنت کو میرے منہ پر ک نوں ال کھڑا کیا؟" میں اس کی نات پہیں سمچھا بو تھہر تھہر کر سمچھانے لگا‪" ،‬میں چوفزدہ ہو‬ ‫گیا تھا‪ ،‬شارا نانک پن ہوا ہو گیا۔۔۔ اس روز بوری رات پہیا رھا اور مچھے چیر نک یہ ہوئی کہ کب میرے اندر نالطم پرنا ہوا۔ حدا حانیا ہے کہ‬ ‫کیا ہوا اور صنح نک مج نوب ہونے کا اچساس میرے اندر اس قدر چوف تھر گیا کہ میں نے اجییار ا ننے کیارے سے تھوٹ پڑا۔ بو تھی بو دنکھ‪،‬‬ ‫کییا سور مجانا‪ ،‬نچھے ٹکارنا رہا مگر بو تھی بو لوٹ کر پہیں آنا اور میں نے ناچق لوگوں کو پریسان کر دنا‪ ،‬بو نے ایسا ک نوں کیا؟"‬ ‫میں الچواب شا ہو کر ُچپ حاپ اس کے پہلو سے اتھ کھڑا ہوا اور ا ننے چشم پر لگی تھیگی ر نت نک پہیں حھاڑی۔ بوں ہی وایس لوٹ آنا۔‬

‫شارے رسنے پیز ہوا کنہار کی ر نت کے زروں کو شکھا شکھا کر گرائی رہی۔ اور جتسے ہی کوئی ر نت کا زرہ ُسوکھ کر میرے وچود سے ننچے گرنا‬ ‫شاتھ ہی میرا اندر تھی زرہ زرہ ہو کر نکھرنا حال گیا۔ میں بورے دو ہفنے شامیا پہیں کر نانا۔ دور کہیں اس کا یس دھبما شا سور سیائی د نیا تھا اور‬

‫ٹعض اوقات میں چود ایسا ماؤف ہو حانا کہ چود کو یہ سن نانا بو کجا اس کی آواز؟‬ ‫‪48‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫تھر انک روز ہمت مجبمع کی۔ گم سم‪ ،‬حانے ہی اس کے نخ پہلو میں دھڑام سے گر گیا اور میرا بورا وچود اس کے لمس کی تھیڈک سے حمیا‬ ‫حال گیا۔ یہ اس کا لمس تھا چس نے میری کنہار سے مجنت پر مہر ن نت کر دی۔ میں کنہار سے دور پہیں رہ شکیا تھا‪ ،‬اور کنہار تھا کہ اس‬

‫نات سے نبھر حانا ت ھا کہ وہ میرا مج نوب ہے۔ ہم دوبوں میں ہی مجنت کو ق نول کرنے کی ہمت یہ تھی اور مجنت کو دنکھو بو وہ شا منے کھڑی‬ ‫ہمارا منہ حڑائی تھی۔‬

‫تھک ہار کر نڈھال ہونے بو کنہار ہی کہنے لگا‪،‬‬ ‫"مجنت طالم ہوئی ہے‪ ،‬کہیں کا پہیں حھوڑئی۔ اس سے حھ بکارا ممکن ہی پہیں۔ انک دوخے سے فرار کی شغی ہمیں پرناد کر دے گی۔ بو چود‬ ‫کے اندر ہی اندر عرق ہو حانے گا اور میں ا یسے ہی ا ننے کیاروں سے نبھر کر تھونیا رہا ہوں گا۔ ہمیں مجنت کو ق نول کرنا ہو گا۔ اس کو چود‬ ‫میں حگہ د ننی ہو گی اور اس کے ناز اتھانے ہوں گے‪ ،‬اس کے عالوہ کوئی حارہ پہیں"۔‬ ‫میں نلید فہقہہ ہتسا بو وہ تھوڑا پریسان ہو گیا۔‬

‫ن‬ ‫"ہتس ک نوں رہا ہے نے؟" پہانت تھیا کر بوال بو میں نے انیا سر ر نت سے اتھا کر ننچے کہنی سمو کر اس کی اتھنی لہروں سے آ ک ھیں مال‬ ‫کرنیانا‪،‬‬

‫"میاں‪ ،‬میری بو چیر ہے۔ نچھ سے مجنت ہے اور میں نیدہ یسر شا ہوں۔ میرا حمیر ہی ایسا ہے بو مچھے مجنت ق نول کرنے میں کوئی عار پہیں۔‬ ‫ن‬ ‫گھینے نیکنے میں شاند کچھ یس و نتش کروں مگر ناالحر ق نول کر لوں گا‪ ،‬گھل ہی ح َاوں گا۔ اس ا ڑی کرنے والی مجنت کے دامن میں گرنا حال‬ ‫حاؤں گا۔ مسیلہ تمھارا ہے‪ ،‬انک بو تم اکھڑ ہو اور تھر مج نوب ہو گنے۔ تمھاری شان پرالی اور تم حاطر میں کسی کو پہیں النے۔ مچھے‪ ،‬تم پر‬ ‫ہتسی آئی ہے‪ ،‬تمھارا کیا ننے گا؟" اس پر کنہار کا رنگ فق ہو گیا۔ سئییا گیا اور تھر تھوڑی دپر میں سیبھال بو بوں بول کر ہارا کہ‪،‬‬ ‫ُ ُ‬ ‫"دنکھو‪ ،‬مچھے ق نول کرنے دو۔ مچھے گھینے نیکنے دو۔ کہاں کا مج نوب۔۔۔ میں بو چود پیری مجنت میں چور چور ہوں۔ نچھ میں اور مچھ میں کچھ تھی‬ ‫بو فرق پہیں رھا۔ میں اکھڑ حل ہوں بو کیا ہوا اور تم زرچیز حاک سہی بو تھر تھی کیا؟ ہم مجنت کے حمیر میں گیدھ کر انک ہو حانیں بو انک‬ ‫ہی ہیں۔ نانکین‪ ،‬میری حصلت ہے اور ٹفانا رہے گی۔ میں نچھ پر واری حاؤں گا مگر دنیا واشطے وہی نکبھو مگر سحر انگیز رہوں گا۔ اس مجنت‬ ‫کے واشطے‪ ،‬پیری نات حدا ہے۔ پیرے لنے اننی حصلت سے ہٹ حانا تھی مچھے درست لگے ہے۔" اس پر میں چونک رہا بو یہ مچھے بوک کر‬

‫تھر بوال‪،‬‬

‫"مچھے مجنت ق نول ہے‪ ،‬مچھے بو ق نول ہے ۔ اور مچھے انیا آپ ق نول ہے۔ اب مچھے اس سے چوف پہیں آنا۔ میں نے یس ہو گیا ہوں‪ ،‬تھاگ‬ ‫حانا کوئی حل پہیں‪ ،‬اس سے مزند حرائی ہو حاوے ہے۔ بو مچھے‪ ،‬ا ننے رنگ میں رنگ گیا۔۔۔ میں بو میری حان اب ا ننے اندر ہر دم پیری‬

‫مجنت کا سوندھ پن سمونے پہیا ہوں۔ میں ایسا ہی ہوں وریہ پیرا کیا جیال ہے کہ لوگ مچھ سے نکمے پر واری ک نوں حلے حانے ہیں؟" مچھے‬ ‫الچواب ہونا دنکھ کر تھی وہ ُچپ یہ ہوا۔ مزند کہنے لگا‪،‬‬

‫‪49‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫"میرے عزپز‪ ،‬ہر نار ق نول کرنا مسکل رہیا ہے مگر گھینے میں نب ہی نیک حانا ہوں چب کوئی میرے شا منے مجنت ال کھڑی کرنا ہے۔ اب‬ ‫نک بو یس کہو بو‪ ،‬پیرے لنے چود کو۔۔۔ ہر سے‪ ،‬درست نا علط سے ناالپر ہو کر نیار کنے حانا تھا۔ مچھے ق نول ہے‪ ،‬مچھے نچھ سے مجنت‬ ‫ہے!۔"‬

‫ت‬ ‫انیا کہا اور اس نے مچھے گیلی ر نت سے اتھا کر اننی نخ لہروں کے حصار میں ھینچ لیا۔ میرے چشم سے تھوننی حرارت اور اس کی لہروں کی‬ ‫میں دئی ہوئی مجنت کی تھیکیاں ہم دوبوں کو ہی دھیرے دھیرے شانت کرئی حلی گنی۔ میرا حاکی وچود کنہار کی شفاف آئی لہروں میں جتسے‬ ‫ُ‬ ‫ح‬ ‫گیدھیا ال گیا۔‬ ‫میرے واشطے اب تھی کنہار نکیا ہے اور وہ مج نوب شا ہے۔ اب تھی کبھی کبھار نبھر حانے بو میں حان حانا ہوں کہ صرور تھر کسی نے‬ ‫مجنت کو اس کے منہ پر ال کھڑا کیا ہے۔‬

‫(فروری‪3102 ،‬ء)‬

‫‪50‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫ک نواں کود لوں؟‬

‫ُ‬ ‫"تھادوں کی جتس پری ہوئی ہے" بولی بو ناک مزند حڑھا لیا‪" ،‬چواہ مچواہ کی چپ چپ اور تھر نیدہ کہیں آنے حانے کا تھی پہیں رہیا"۔‬ ‫"آنے حانے کا کیا ہے کبھی تھی‪ ،‬کہیں تھی حانا حاشکیا ہے" میں نے اسے رد کیا بو تھڑ گنی‪،‬‬

‫"ندھو یہ پن۔ نارسیں سروع ہوئی ہیں بو ہوئی ہی حلی حائی ہیں۔ آنا حانا جبم۔ یس گھر میں گھس کر نیبھ رہواور وہاں جتس جین پہیں لینے‬ ‫د ننی۔ تھر دنکھو‪ ،‬میں تم سے ملنے کو کتسے کتسے جین پہیں کرئی۔ بورے انک ہفنے ٹعد موفع مال ہے۔ گھر سے ٹظر نجائی ‪ ،‬ماں کو الگ رام کیا‬ ‫اور تھر یہ راسنہ۔ بویہ‪ ،‬کییا کنحڑ ہو حانا ہے۔ فصل‪ ،‬وہ تھی نک رہی ہے بو جتس علنجدہ۔ یہ تھادوں پہت پرا ہونا ہے‪ ،‬آنا حانا مسکل کر د نیا‬ ‫ہے۔" اننی نات کا رد ہونا‪ ،‬اسے حڑا د نیا اور ا یسے میں چب وہ بولے بو بولنی ہی حلی حائی ‪،‬‬ ‫ت‬ ‫" مھیں بو کوئی پرواہ ہی پہیں ہے۔ تم سے کون بوحھیا ہے‪ ،‬وہاں مونے موپرشان بکل پر سوار ہونے اور فر سے پہاں آن نیبھنے ہو۔ کوئی‬

‫ت‬ ‫روک بوک پہیں‪ ،‬منہ اتھا کر کہیں تھی گھس حاؤ‪ ،‬جتسے میرے جی میں گھس گنے۔ میں نا دوسرے مھیں زنادہ سے زنادہ کیا کہیں گے‪،‬‬ ‫ت‬ ‫لوفر؟ مھیں کیا ننہ‪ ،‬مچھ سے بوحھو یہ آنا حانا کییامسکل ہے‪ ،‬مچھے کیا کیا مسیلے ہیں؟"‬ ‫"احھا میری ماں! معاف کر دے۔ نات ٹکلنی پہیں منہ سے کہ تم احک لینی ہو۔ ہر وقت ہی چواہ مچواہ تھڑئی ہو"‪ ،‬میں جنچھالہٹ میں بوال بو‬ ‫ن‬ ‫اس کو روک لگی۔ مگر تھر انک دم سے سیدھی ہو کر یبھی‪ ،‬بو اب کے ن نور کچھ اور تھے‪،‬‬ ‫"دنکھ گڈو‪ ،‬بو مچھے ا یسے مت کہا کر‪،‬مچھے ٹکل بف ہوئی ہے۔ مولونائی کہنی ہے کہ اننی ماں سے تھڑوں بو مچھے گیاہ پڑے گا‪ ،‬انا کے شا منے‬ ‫سرنک پہیں ات ھا شکنی اور تھائی بو ہر وقت میری حان کو آنے ہیں‪ ،‬ہمت ہی پہیں پڑئی۔ اب بو تھی مچھے ایسا کہے گا بو بول میں کدھر‬ ‫حاؤں‪ ،‬نچھ سے تھی یہ تھڑوں بو نیا۔۔۔ ک نواں کود لوں؟"‬ ‫وہ ایسی ہی تھی۔ سوخ ‪ ،‬ہتسنی نال کا اور ہر وقت ۔ حلد گیدمی مگر جتسے سرجی کا پرت حڑھا ہو‪ ،‬اور ڈنل ڈول سے کہو بو مومن کافر کر‬ ‫دے۔ کحر کحر زنان حلنی اور بولنی بو یس یہ کرئی‪ ،‬مگر تھر چب چپ لگنی تھی بو مت بوحھو۔ شایہ آحانا اس پر‪ ،‬گیدمی حلد کی سرجی دنکھنے‬ ‫ن‬ ‫ہی دنکھنے میلی زردی میں ندل حائی اور آ کھیں اننی گہری ہو حانیں کہ ان میں حھانک کر دنکھنے کی ناب یہ ہوئی۔ ایسا وہ ہمتشہ میرے‬ ‫شاتھ ہی کرئی تھی‪ ،‬الچھنے ہی اس کی ہر نار نات پہیں آن کر دم بوڑئی کہ نچھ سے تھی یہ تھڑوں بو نیا۔۔۔ک نواں کود لوں؟‬ ‫یہ معلوم‪ ،‬یہ اس نے کہاں سے سیکھ لیا تھا‪ ،‬ک نواں کودنا۔ نب بوک حھونک چوب ہوئی تھی‪ ،‬میں نے ح ھیڑا‪،‬‬

‫"ک نواں ہی ک نوں‪ ،‬کوئی زہر کھا مرو‪ ،‬کوئی ن یکھا لیک کر جتسے؟" بو نیک کر بولی‪،‬‬ ‫"ہے ہے‪ ،‬میں کوئی کوہڑی تھوڑی ہوں کہ ایسی ذلیل موت مر حاؤں۔ ک نواں کودوں گی نا دنکھ لنج نو‪ ،‬مری بو درنا میں پیرئی ملوں گی۔ دفع‬ ‫دور‪ ،‬زہر کھانا تھی کوئی موت ہوئی؟"‬ ‫میں اسے کبھی حان پہیں نانا۔ چب وہ مرنے کی نات کرئی بو مچھے کجا قکر یہ ہوئی‪ ،‬مگر چب یہ کہنی کہ‬

‫‪51‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫"نچھ سے تھی یہ کہوں بو نیا۔۔۔ک نواں کودلوں؟ " بو جتسے میرے حھرحھری سی آ حائی۔ میں ڈر حانا ۔ یہ اننہائی غیر معمولی سی نات تھی‪،‬‬ ‫نالحضوص چس ٹقین سے وہ مچھ پر یہ چق جیائی نب یہ نالکل تھی معمولی نات یہ رہنی تھی۔‬

‫اس کی ماں گھرنلو سی تھی‪ ،‬اپیر پڑھی ہوئی مگر ا ننے نچوں کی چوب پرن نت کی۔ انک ہی نینی تھی‪ ،‬چس کو اس نے دل کھول کر‪ ،‬لڑ تھڑ کر‬ ‫ٰ‬ ‫پڑھانا۔ روز صنح چود اس کو حجاب میں حھیا کر‪ ،‬ناکید سے پڑھنے کو رحصت کرئی تھی اور شارا دن اننی عزت کی حفاطت کو مصلی پر پڑی‬

‫رہنی۔ انا نیکس افسر تھےاور تھیبھ مذہنی۔ چوددار اور حالل کما کر کھانے واال ‪ ،‬چس کی عالفہ تھر میں اتمانداری پر لوگ منہ پر چوب عزت‬ ‫کرنے‪ ،‬پر نیبھ پڑنے ہی ن نوفوف حا ننے۔دو تھائی ت ھے‪ ،‬چوب نابو سے ‪ ،‬ماشاء ہللا پڑھے پڑھانے مگر پہن سے زنادہ‪ ،‬اتھیں اس کے پردے‬ ‫س‬ ‫کی قکر کھانے حائی تھی۔ دے دال کر یہ تھا کہ اس کی ماں اس کی ہمراز تھی چو نات بوجہ سے سینی‪ ،‬اس کو مچھنی تھی۔ مگر تھر تھی چب‬ ‫وہ مچھ سے کہیں الچھ حائی بو عحب انداز میں اننہائی جیا کر کہنی کہ‪،‬‬

‫"نچھ سے تھی یہ کہوں بو نیا۔۔۔ ک نواں کود لوں؟"‬ ‫پہی پہیں‪ ،‬وہ یہ حانے کتسے نکدم ہی میرے فرنب پر آ گنی تھی۔ ہمیں ملے تمسکل اتھی حار ماہ تھی بورے پہیں ہونے ہوں گے کہ وہ مچھ‬ ‫سے ا یسے گھل مل گنی ‪ ،‬جتسے پرسوں سے حاننی ہو۔ پہلی نار میں نے اسے کمینی ناغ میں دنکھا اور چب دوسری نار وہاں گیا بو وہ میرا راسنہ‬ ‫ن‬ ‫دنکھ رہی تھی۔ ویسی ہی‪ ،‬حادر میں لینی ہوئی وہ دپر نک چپ حاپ میرے ناس یبھی رہی اور ت ھر چود ہی اتھ کر حل دی۔ جتسے‪ ،‬چود کو‬ ‫چوالے کر گئ ہو۔ ٹعیر کہے سب کچھ طے کر کے اتھ گنی اور میں وہیں منہوت نیبھا رہ گیا۔ جتسے پن کچھ ما نگے‪ ،‬ٹعیر کسی وجہ کے غیر‬ ‫مسروط وہ انیا آپ میرے چوالے کر گنی ہو۔ میں رات دپر نک وہیں ناغ کے نینچ پر نیبھا نارنکی میں چود کو ن نولیا رہا۔ نجانے کیا تھا کہ نب‬ ‫میں ڈر کے مارے تھر تھر کانییا رہا تھا۔ ٹعد اس واردات وہ دبوں نک عانب رہی‪ ،‬پر چب وایس آئی بو جنجل سی‪ ،‬لڑنے تھڑنے والی اور کحر‬ ‫کحر زنان ‪ ،‬گیدمی حلد پر سرجی کی پرت والی۔ گھی نوں اننی نانیں کرئی رہی اور مجال ہے کہ مچھ سے میری نانت انک تھی سوال کرے۔‬ ‫جتسے وہ میرے نارے سب کچھ حاننی ہے۔ مچھے پہہ نک حاننی ہو۔ اسے میری نانت کچھ تھی بوحھنے کی حاچت پہیں ہوئی مگر پڑی بوجہ سے‬ ‫انک انک ٹفصیل اننی نیان کرئی حلی حائی پہاں نک کہ میری دلحسنی جبم ہو حائی۔‬ ‫نتسری دفعہ چب وہ مچھے ملی بو آنے ہی مئننہ کیا۔‬ ‫"دنکھ‪ ،‬میں نچھ پر واری حلی حاؤں گی۔۔۔پر مچھے حان لنج نو‪ ،‬میں عام لڑکی پہیں ہوں"۔ میں نے چیرانگی سے بوحھا‪"،‬کتسی عام لڑکی پہیں‬

‫ہو؟" پہلی نار مچھے اس نے گڈو کہہ کر مجاطب کیا ‪،‬‬ ‫"دنکھ گڈو‪ ،‬میں اننی ماں کی عزت ہوں اور انا کی سہرت۔ تھائی میرے پردے پر واری حانے ہیں اور میں پیرے واری حلی حاؤں گی‪ ،‬میرا‬ ‫کچھ تھی پہیں پر بو ان کا صرور ہی جیال کربو"۔ میں انجان پن کر نیبھ گیا۔ نحکار کر بولی‪،‬‬ ‫"مچھے پڑا مان ہے نچھ پر‪ ،‬مگر نچھے نیانا صروری ہے"۔‬ ‫میں تھڑک ات ھا‪ ،‬اننی پرن نت کا ن یارہ ح ھٹ سے اس کے شا منے وا کیا اور چب لمنی نحث جبم ہوئی بو وہ پہی کہے حائی تھی‪" ،‬نچھ سے تھی یہ‬ ‫کہوں گی بو نیا۔۔۔ ک نواں کود لوں؟" نب سے یہ اس کا معمول ہو گیا۔‬ ‫‪52‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫ُ‬ ‫میں سمچھا‪ ،‬اس نے یہ نحث اسی واشطے کی تھی کہ عین موفع پر وہ مچھ پر یہ چق تھی واصع کر دے۔ اس پرش نحث کے ٹعد‪ ،‬اہم پرپن‬ ‫وافعہ یہ ہوا کہ اجئی نت نالکل ہوا ہو گنی۔ میں اس کے لنے گڈو ہو گیا اور ا ننے نئیں سمچھا کہ اسے حا ننے لگا ہوں‪ ،‬اور میری نانت اس‬ ‫کے لنے تھی پہی جیال تھا وریہ اس کی نات کچھ اور تھی۔ وہ پہلے دن سے ہی جتسے میرے نارے بورا حان حکی تھی۔ ٹعیر نیانے اس کو‬ ‫میری ہر نات سے آ گاہی تھی۔ وہللا علم‪ ،‬کتسے اس نے میری طی بعت نک سے آسیائی کر لی تھی۔‬ ‫ُ‬ ‫اتھیں مجنت ہو حانے بو ڈھل حائی ہیں۔ چود کو ا یسے وا کرئی ہیں کہ کوچ کر ا ننے اندر سے ناقی سب کچھ ٹکال دپں۔ مجاور ہو حائی ہیں‪،‬‬ ‫انیا آپ نک تھال د ننی ہیں۔ ا یسے تھال د ننی ہیں کہ آپ ان کی ُرو ُرو میں یس رہیں ‪،‬پر آپ کو یہ دور سے کہیں ‪ ،‬آپ پر انیا آپ نچھاور کرئی‬

‫صرف دکھائی د ننی ہیں۔ واحد رسنہ وہ رہیا ہے چو آپ سے اسنوار کر دپں‪ ،‬ناقی سب سے اجئی نت نان کر آپ کی آسیا پن حائی ہیں۔ آپ کو‬ ‫مرکز مان لینی ہیں اور چود گ ھیر در گ ھیر حکر لگائی ہیں۔ اسی وجہ سے میں اسے کبھی حان پہیں نانا‪ ،‬مچھے کبھی تھی وہ سمچھ پہیں آئی۔ انک‬

‫دن اسی نات کا شکوہ کیا بو پڑی میانت سے جتسے کچھ عرض کرے‪ ،‬کہنے لگی‪،‬‬ ‫"گڈو‪ ،‬بو صرف مچھے سیا کر۔ میرے الفاظ پہیں‪ ،‬میری آواز۔۔۔" اور میں دپر نک ہوبق نیا اسے دنکھیا رہا۔‬

‫چب من میدر میں کوئی مچھے بوج یا ہو‪ ،‬بو اس یسے میں کہاں سمچھ رہنی ہے کہ مجاطب کو کیا کیا مسیلے درنتش ہیں؟ مجنت کی دلیذپر تھیڈک‬ ‫چب حادر نان لے بو کون حانے کہ تھادوں کی جتس کتسی پری ہوئی ہے؟ انیا آپ نک وار د ننے واالچب موچود ہو بو کس کو پرواہ ہے کہ‬ ‫قاصلے کیا معنی رکھنے ہیں؟ اس نے پہت پڑی علطی کر دی‪ ،‬مچھے اننی عادت نیا لیا اور میں لت کی طرح اس کی حان کوحمٹ گیا۔‬ ‫چب اندازہ ہوا بو پہت دپر ہو حکی تھی۔ پہلی یسائی گیدمی حلد پر سرجی کے میلی زردی میں ڈھلنے کی صورت طاہر ہوئی اور نب وہ گہری‬

‫آنکھوں میں ڈرا د ننے جتسا نانال لے کر پہلے پہل ٹقین مگر اواحر دور میں اننہائی نے یسی سے کہنی حائی‪،‬‬ ‫"میں کہاں حاؤں‪ ،‬نچھ سے تھی یہ کہوں بو نیا ۔۔۔ ک نواں کود لوں؟"۔‬

‫‪53‬‬

‫(سبمیر‪3103 ،‬ء)‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫ٹعارف‬

‫اگر آپ چیزوں کو سرسری دنکھنے کے عادی ہیں بو میرا مسورہ ہے کہ عمر نیگش کو آپ یہ پڑھیں بو پہیر ہے۔ عمر نیگش چب کہائی لکھیا‬ ‫ہے بو اننی ٹفصیل سے لکھیا ہے جتسے وہ نتسل اور فننہ لنے وہاں موچود تھا اور ہر چیز کی لمیائی چوڑائی ماپ کر اس نے ایسا م بظر ن یانا ہے‬ ‫کہ گونا آپ چود اس لمچے وہاں موچود تھے۔ اگر آپ سر حھکانے حلنے کے عادی ہیں بو عمر کی کہائی آپ کے لنے پہیں ک نونکہ وہ آپ کو‬

‫نیانے گا چب آپ سیزی والے کی سیزی کے نازہ نا ناسی ہونے کے حاپزے میں مصروف تھے بو شاتھ ہی انک ج نب کیرا آپ کے ن نوے‬ ‫کو حرٹصایہ ٹگاہ سے دنکھ رہا تھا‪ ،‬سیزی والے کے عین اوپر کمرے میں انک عورت رو رہی تھی کہ اس کے سوہر کا کسی کے شاتھ حکر‬

‫ہے‪ ،‬آپ کے شاتھ سیزی لییا سحص دراصل کسان ہے چس کی چود کی سیزی نارش پرد ہو حکی ہے‪ ،‬وہ چو نجہ تھیک مانگ رہا ہے دراصل‬ ‫شام کو ن نوسن پڑھنے تھی حانا ہے اور وہ تھیک میں دس رونے سے زنادہ تھی پہیں لییا‪ ،‬چس سیزی والے سے آپ سیزی لے رہے ہیں‬ ‫اس کی پہن کسی امیر کے گھر کام کرئی ہے اور وہ کسی شاتھی بوکر کے شاتھ تھا گنے کا نالن نیا حکی ہے لیکن آپ ہیں کہ سوچ رہے‬

‫ہیں نین ناؤ آلو لیں کہ انک کلو۔‬ ‫ک‬ ‫عمر نیگش انک ایسا فوبو گرافر ہے چس کو چو م بظر تھال لگیا ہے وہ اس کی ٹضوپر ھینچ ڈالیا ہے اور اس کو نتش کر د نیا ہے۔ وہ اس میں‬ ‫کھ‬ ‫گھومنے والے افراد کو ٹضوپر کی چوٹضورئی کے ڈر سے کم پہیں کرنا‪ ،‬وہ شام کو ینچی ٹضوپر کو روسن کرنے کی کوسش پہیں کرنا وہ حاند کی‬ ‫ٹضوپر کے گرد ہالہ پہیں ڈالیا وہ سورج کی حمک کو کم کر کے ناقی چیزوں کو دکھانے کی کوسش پہیں کرنا۔وہ ایسا ق بکار ہے چو ند صورت‬ ‫جہرے کو ا یسے ہی نتش کرنا ہے جتسا وہ ہے۔ میک اپ اور گراقکس سے حدا کی نجل نق میں نے اتمائی پہیں کرنا اور پہی اس کی سب سے‬ ‫پڑی چوئی ہے کہ لوگ وہ دکھانے ہیں جتسا وہ سوجنے ہیں ج یکہ عمر وہ کچھ دک ھانا ہے چو وہ دنکھیا ہے۔‬ ‫کرداروں کی فراوائی عمر کی کہان نوں میں اکیر ٹظر آئی ہے اور ان کو انک ہی نار میں پرونے رکھیا تھی عمر کا ہی کمال ہے کہ کوئی دایہ نکھرا نا‬ ‫نے مجل ٹظر پہیں آنا۔‬

‫عمر نیگش کی ندفشمنی ہے کہ وہ اردو میں لکھیا ہے چس کو پڑھنے والے کم ہی متسر ہیں کہ پہاں نام اہمنت رکھیا ہے نحرپر پہیں اور اردو کی‬ ‫ند فشمنی ہو گی اگر وہ عمر نیگش کو وہ رننہ یہ دے شکی چس کا وہ چق دار ہے۔‬

‫٭٭٭٭٭‬

‫علی چسان‬

‫عمر ‪ ،‬مچھ سے پرانا نالگر ہے۔ پہلی دفعہ چب میں نے اس کے نالگ پر اس کی نحرپر پڑھی بو نے شاچنہ میرے ذہن میں چو پہال جیال آنا وہ‬ ‫پہی تھا کہ یہ نیدہ لکھنے کے لنے ہی نیدا ہوا ہے۔ اس وقت کے ن بصروں میں شاند میں نے اس نات کا اظہار تھی کیا تھا۔ پہرک بف‪ ،‬عمر کی‬ ‫اس کیاب کا تھوڑا پہت کرنڈٹ میں تھی لییا حاہیا ہوں کہ میں ہمتشہ اصرار کرنا تھا کہ بو پہت احھا اور پہت شارا لکھ شکیا ہے اور نچھے لکھیا‬ ‫‪54‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫حا ہنے۔ اس کی پہلی کہائی "ک نواں کود لوں؟"‪ ،‬سے اب نک کی آحری کہائی "حالل رزق"‪ ،‬نک اس نے نانت کیا ہے کہ وہ اردو ادب کی‬ ‫"نیکسٹ نگ تھیگ" ہوشکیا ہے۔ یہ میری رانے ہے چو ٹقییا م بعصب ہے ک نونکہ عمر‪ ،‬حائی ہے۔‬

‫حعقر چسین‬

‫٭٭٭٭٭‬

‫ُ‬ ‫کہنے کو بو افسایہ اس کہائی کو کہا حانا ہے چسےلکھاری کی چساس سحصنت معاسرے میں عام آدمی سے زنادہ گہرائی میں حاکے پ کرھنے کے ٹعد‬ ‫ُ‬ ‫نجل نق کرئی ہے‪ ،‬اور معاسرے کے کسی حز کے گرد گھومنی ہوئی قاری کو اس حف بقت سے روسیاس کرحائی ہے چو وہ محسوس پہیں کرنانا ہونا‪ ،‬نا‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫اس طرح پہیں دنکھ شکا ہونا۔ لیکن میرے جیال میں افسایہ ادب کا وہ نل صراط ہونا ہے چس کی انک طرف کہائی اور دوسری حانب ڈراما‬ ‫ُ‬ ‫ہے‪ ،‬اگر لکھنے واال ذرا تھر تھی چوک حانے بو افسایہ مع نو نت کھود نیا ہے۔ اور پہی نات اس صبف کو کہائی‪ ،‬ڈرامے اور ناول سے ممیاز کرئی‬ ‫ہے۔‬

‫ن‬ ‫اس نیاطر میں اگر ہم عمر احمد ن یگش صاچب کے افسابوں کو د کھیں بو سب سے پہلے چو نات ذہن میں آئی ہے وہ ان کی م بظر ٹگاری ہے‪،‬‬ ‫ً‬ ‫ُ‬ ‫س‬ ‫چسے پڑھنے واال یہ صرف محسوس کرنا ہے نلکہ چود کو تھی اسی فوس فزح کا مسافر مچھیا ہے‪ ،‬میال افسایہ نئتس میل – کہنے کو بو انک معمولی شا‬ ‫شقر ہے چو انک آدھ گھینے پر مج بط ہے‪ ،‬لیکن ٹقول چود اپہیں کے "اہم ‪،‬وقت تھا چو سب کا نیا۔ حال چو سب پر نکساں طاری ہوا مگر‬ ‫ردعمل‪ ،‬حدا رہا" ‪ -‬اب یہ فقرہ انک دفعہ تھر شقر کی سروعات نک پہنجا د نیا ہے اور وہی شارے میاطر قلم کی طرح حلنے لگنے ہیں۔ ۔۔ رزق‬

‫حالل‪ ،‬یہ تھی ایسان کی ٹقسیات ‪ ،‬مج نوربوں‪ ،‬حھنی ہوئی اور یہ کہی حانے والی چواہسات‪ ،‬امید اور قیاغت کے گرد گھومیا ہے۔ اس افسانے کو‬ ‫پڑھنے ہونے مچھے اردو ادب میں صبف م بظر ٹگاری کی کمی محسوس ہوئی‪ ،‬ک نونکہ چس چوٹضورئی اور مج بصر ٹفصیل سے ماچول اور حاالت کو نیان کیا‬ ‫ُ‬ ‫گیا ‪ ،‬اسے انک ا یسے اجییام پر النا کہ افسانے کا رنگ تھی میاپر یہ ہو‪ ،‬ن بعام پڑھنے والے نک پہنچ حانے اور قاری بور نت کا شکار تھی یہ ننے‪،‬‬ ‫ُ‬ ‫پڑا مسکل ہونا ہے۔۔۔ بونے حرم‪ ،‬اس پر رناض شاہد صاچب کے ٹفصیلی ن بصرے کے ٹعد کچھ کہنے کی اگر گنجایش رہنی ہے بو وہ انک نا دو‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫حرقی ٹعرٹف ‪ ،‬ک نونکہ نازار کے اس شقر میں پڑھنے واال چود شامل شقر ہونا ہے۔ رنل نال‪ ،‬ک نواں کود لوں‪ ،‬ناٹکا اور چوکیدار کاکا۔۔ جتسے ان سب‬ ‫کے ع نوانات روانت سے ہٹ کے ہیں و یسے ہی دنا حانے واال ن بعام تھی میاپرکن ہے۔ سب سے پڑی نات یہ تھی ہے کہ کسی افسانے کو‬ ‫پڑھ کے نیدہ ڈپریشن کا شکار پہیں نییا‪ ،‬نلکہ انک ننی جہت سے روسیاس ہونا ہے۔ اور آج کل کے حاالت میں اس نات کی ہمارے‬

‫معاسرے میں صرورت پڑھ گنی ہے۔‬ ‫ً‬ ‫ان کے ٹقرنیا تمام افسابوں کا نیک گراؤنڈ انک بو دپہی ہے چو نذات چود سحر انگیز ہونا ہے۔ دوسرا‪ ،‬ایسان کی فظری چواہسوں‪ ،‬اننی ذات سے‬ ‫ُ‬ ‫ناہر ٹکلنے‪ ،‬آزاد فصاؤں میں اڑنے اور اس پرم بظر ٹگاری۔۔۔۔یہ سب مل کر پڑھنے والے کو آحری شظر نک چود میں سمونے رکھنے ہیں۔آحر میں‬ ‫ٰ‬ ‫تھر وہی نات‪ ،‬کہ ا ننے کم الفاظ میں سبھی سمو د نیا کوزے میں درنا نید کرنے کے میرادف ہے۔ ہللا ٹعالی عمر نیگش کو اور اس قلم کو مزند‬ ‫پ ّرقی عظا فرمانے ۔ آمین!‬ ‫وجید شلظان‬ ‫‪55‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں)‬

‫٭٭٭٭٭‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫عمر نیگش صاچب کی نحرپر کے نارےمیں حا ننے کے لنے راقم و دنگر ن بصرہ ٹگاروں کے کلتسے ن بصرہ حات پڑھنے سے احھا ہے کہ آپ صاچب‬ ‫کیاب کا انک افسایہ چود ہی پڑھ لیں۔ اگر آپ کو سوکی کا کردار "آرگییک" نا لگے‪ ،‬گاؤں کی م بظر کسی سے منی کی سوندھی چوسنو نا آنے‪ ،‬مو ننے‬

‫کے میلے گحروں کی یساند ہر شایس میں محسوس نا ہو‪ ،‬پہلی صف میں حھوڑا اکیر حان کا حال پر کرنے کی ہمت نیدا ہو حانے نا چوک یدار کاکا کو پڑھ‬ ‫ن‬ ‫کر آ کھیں سوکھی رہیں بو نے شک اس پرقی کیاب کو حھوڑ کر نانا صاجیا اتھا لیں کہ شاند معاسرے کے آ ننے کا یہ ٹفلیدی‪ ،‬پر حف بقت یسید‬

‫زٹگار آنکو پڑا تھدا لگے گا۔‬ ‫عمر احمد نیگش کا قلم اصیاف کے اعییار سے رحعت یسید ہے۔ اس نے نئتس م یل کا طے بو کیا مگر ادئی مساہیر کے کیدھوں پر‪ ،‬معاصرپن‬ ‫میں نیگش صاچب کا اشلوب حداگایہ بو تھہرا مگر نحرپر میں ندرت جیال حال حال دکھائی د ننی ہے۔ میں اکیر سوجیا ہوں کہ اردو افسایہ کب‬ ‫طواٹقوں کے کوتھوں اور کالی شلواروں اور وڈپرے کی حارنان نوں سے ناہر ٹکلے گا اور کب ہمیں الکبمسٹ کا شان نیاگو‪ ،‬فیزچیرالڈ کا گایسنی‪ ،‬ناناکو‬ ‫ن‬ ‫کی لولییا‪ ،‬نا ہارپر لی کا دیسی قنچ ملے گا؟ نیگش صاچب کا قلم رواں ہے‪ ،‬د کھیں کب وہ روانت کے حصار بوڑنا ہے اور قارنین کو صرپر حامہ سے‬ ‫بوانے سروش ہتش نیگ ‪#‬ٹعیر کے شاتھ سیائی د ننی ہے۔‬

‫عدنان مسعود‬

‫‪56‬‬

‫‪omerbangash.com‬‬


)‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں‬

‫عمر احمد نیگش‬

‫"صلہ عمر" نارے‬ ‫ ہر لجاظ سے میری تمام پر رناصنوں کا مچور ہے کہ چس نے مچھے آج پہاں اس طور ال کھڑا کیا ہے۔‬،‫ء سے موچود ہے۔ یہ نالگ‬3112 ،"‫"صلہ عمر‬ ً ‫ میرے کنی عم نا ننے ہیں اور‬،‫میں اس نانت اگر لکھیا سروع کروں بو عالیا لکھیا حال حاؤں کہ اس کرسمہ نے نیک وقت مچھے کنی لطف عظا کنے ہیں‬

‫ چو انگرپزی‬،‫میری پرن نت کا شامان مہیا کیا ہے۔ مچھے سوجنے کے ننے زاونے عظا کنے ہیں۔ کچھ عرصہ قیل مچھے یہ سہولت ہوئی کہ عظوفہ نج نب‬ ‫ حامعہ میں ایسائی حقوق کے فورم سے ٹظور معاون نحف نق کار متسلک ہیں اور آزاد نتشہ لکھاری ہیں۔ اتھوں نے ا ننے نالگ پر "صلہ‬،‫ادب کی طال بعلم‬ ‫ چو من و عن پہاں ٹعارف کے طور پر شامل کیا حا رہا ہے۔‬،‫عمر" کا انگرپزی زنان میں مفصل نحزیہ نتش کیا ت ھا‬ A review of Omer Bangash’s blog: “Sila e Omer – Sila jo hum naiN omer say paya” (www.omerbangash.com)

Omer is man who I find is the one who learned a lot from life experiences and took them on his heart and there lies a deep world in him. According to me he is the one who lives with sorrows in his heart and smile on his face. Ah what a deceptive world it is. I met him on twitter and while having conversation with Omer, I found him a good soul. He is Urdu blogger and quite expressive one. In his posts he used the technique of asking question in the end that is a modern technique as it gives reader a broad platform to think act and react accordingly. Internal monologue are seen too. All the posts are pithy as there is no exaggeration seen. Blend of emotionalism is seen which I think is beauty of writing.

His blog includes different categories, ‫( آپ نینی‬his own stories), ‫( طیز و مزاح‬Satire), ‫( معاسرہ‬society), ‫مذہب‬ (Religion), ‫( س یاست‬Politics), ‫( ن بصرہ‬Discussions), ‫کنب‬

‫( پرقی‬e-books) and, ‫( ج نوئی ننجاب میں‬In South Punjab).

I will tell you generally because if I’ll tell you about every post then nothing will be left for you there; so I want to keep the element of curiosity alive. Things I noticed in his posts are that he satires quite well and using common thing from surroundings use them for the purpose of satire like he did in his post

‫کراجی کی‬

‫ یساوری آیسکرتم‬،‫مشہور‬. Then ‫ ح ھیر اور ح ھیرول‬good one, he wrote about the irresponsible attitude of department of Police, that how they misconduct with others. And ‫ اج یاروں پر‬،‫ نکوڑے‬in which in a beautiful manner e says that never just overlook anything go for its details too.

Best parts of his blogs are ‫( آپ نینی‬his own stories). Other categories are worth reading too. The thing which I liked was the mentioning of time as mostly people forget or in fact never mention time. Well coming back to the post reviews ‫ الشہ‬I started reading it. It was about the first ever murder attempted by the son of Adam. It is indirectly related to the recent event of Hazara Community here in Quetta Pakistan. omerbangash.com

57


)‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں‬

‫عمر احمد نیگش‬

Later on I read the post named ‫قاقلۂ نکہت عم‬. It’s my most favorite one. So I would love to give in-depth

analysis of it. Well its starting line was just so realistic that it made me feel something way too different and just hit me that:

‫ چو بوڑ تھوڑ د نیا ہے‬،‫عم ایسان کو بوڑ تھوڑ کر رکھ د ننے ہیں۔ میرا مانیا ہے کہ یہ عم پہیں ہونے نلکہ عم کا اچساس ہونا ہے‬

The observable facts in his this post are that the way Omer defined sorrow and its way of expression, his feeling when his father died, how one can express his or her sorrow, how he tries to overcome it and what pinches him the most. About expression of feeling especially sorrow he tells it with the fact that women can cry easily when ever or where ever she wants to. But man they can’t do it so openly. Well I second with his this notion. Like I use to say that “I cannot bawl or cry but yes can weep…” this thing is noticeable here. Reference from his post is here:

ُ ُ ‫ تھوں تھوں رو رو کر‬،‫ میں نے لوگوں کو دنکھا ہے۔ عورنیں چب عمیاک ہوئی ہیں بو نین کر کے‬،‫سب کے شاتھ ایسی واردات پہیں ہوئی‬ ‫ ا ننے آپ کو‬،‫ کنی مرد آنے سے ناہر ہو کر اونچی آواز میں اظہار کر گزرنے ہیں اور کنی ا یسے ہیں چو ننہ پہیں کتسے‬،‫انیا من ہلکا کر د ننی ہیں‬ ‫سیبھاال دے نانے ہیں۔ کنی عمیاک لوگوں کو میں نے دنکھا ہے کہ عم کی حالت میں ان کے جہرے پر وہ کرب ہونا ہےکہ اتھی کے‬ ‫اتھی ان کا جہرے کی دراڑپں گہری ہوں گی اور شارا جہرہ یس پڑکیا حال حانے گا۔‬

Well then later own he says that how does it feel like to be when u lost your dear ones. Hmm I know seriously how does it feel the lines which I’ll mention from his text are true reflection of it when my Grandpas (nana jan and dada jan) left me. They were my mentors *sniff sniff*. Now seriously I am feeling sad too. Text quoted:

‫لوگوں کے نچھڑنے کا عم سب سے مہلک نانت ہوا ہے‬

Later he says that,

‫ ان سے انک نار نچھڑ حاؤں بو ایسا محسوس ہونا ہے کہ اند نک ان کی ناد میرے اندر ہی اندر مچھے بوحھل کرئی‬،‫اس لنے جن سے مابوس ہوں‬ ‫رہے گی‬

Well we also see the escapist attitude in his style when he tries to escape from the world of suffering and misery. But in the end he says he want to be here but wants his company to understand him. He told that he is just not so expressive the way mostly people are:

‫س‬ ‫س‬ ‫س‬ ‫ مچھے نے پرواہ یہ مچھو۔ میں پہت سوں سے‬،‫ مچھے چود عرض یہ مچھو۔ میرا جیال کرنے والو‬،‫ مچھے ق نوطی یہ مچھنے۔ میرے نیارو‬،‫صاجیان‬ ‫ مگر الچھ حانا ہوں۔‬،‫ ان کو سییا حاہیا ہوں۔ ان سے ا ننے دل کا حال نیان کرنا حاہیا ہوں‬،‫پہت کچھ کہیا حاہیا ہوں‬

And so this sadness which is prevailing in his soul is written beautifully. What I think those who can’t express via talking or speaking heart out they can do this job via pen. In the same context he wrote ‫کا حال‬

‫ نے سنب‬in which he said that how does it feel like when he is not able

to tell what he feels like he feel helpless and he is sad without knowing the reason. In this thing the omerbangash.com

58


)‫افسانے (پہلی صف اور دوسری کہانیاں‬

‫عمر احمد نیگش‬

observable fact is how he has use the apologetic tone in narration. The confusion is prevailing that why this sadness is overtaking him. Quote from text

‫یہ الم کی داسیان ہے۔ قدرت پہانت تھیانکر کھ یل کھیلنی ہے۔ ہم چوش ناش نانال میں گرے حلے حارہے ہیں مگر عحب معاملہ ہے۔‬

‫ ک نواں‬is there too. Well such a good plot. His posts are not to be overlooked which includes,‫ زندگی کی روح‬..‫ نامعلوم کی حانب‬..‫ گدھا اور ت ھڑا‬..‫نحس‬..‫مجنت؟‬.. Well moving further his Afsana ‫کود لوں؟‬

While going through all the comments which I found worth quoting are here. First is of Jafar’s, that is:

‫طیزیہ انداز نحرپر تھی انک حڑنا کا نام ہونا ہے۔‬

And the comment of Abu Shamil, who says:

‫آپ نے نالکل درست فرمانا۔ دوسروں کے نارے میں سوجنے کا یہ ٹظریہ ہی ہے چس سے مجنت جبم لینی ہے۔ آپ دنیا کو ا یسے لوگوں کی‬ ‫ نان نان نوں اور حمعداروں کو‬،‫ رنگ شازوں‬،‫ معماروں‬،‫ٹظر سے دنکھنے کی کوسش کرپں جنہیں عام طور پر لوگ ٹظر انداز کرنے ہیں۔ مزدوروں‬ ‫دنکھ کر سوجیں کہ دنیا ان کی ٹظر سے کتسی ہوگی؟ کچھ عرصے ٹعد آپ کو ان لوگوں سے مجنت ہو حانے گی۔‬ ‫ہللا آپ کے قلم میں مزند طاقت دے۔ اور یہ ہمتشہ ا ح ھے مفاصد کے لنے اسبعمال ہونا رہے۔ آمین‬

And Zia ul Hassan said and I quote that he writes in "bindas" fashion.

Well I ain’t denying yes they all are right. So in the end I would like to say that he is the man with the eye of a keen observer, who sense wrong, feel it and then jot them down at one place and yes that is his blog. I would recommend you all to have a look and do read his blog its worth reading and worth spending time. So it is must to read. At such a young age Sila e Omer is really thoughtful and guiding for those who want to understand the inner deep meaning. May you write more and Allah bless us all to understand it. Stay blessed.

omerbangash.com

59


‫"صلہ عمر" پر۔۔۔‬ ‫"شل بقے سے لکھیا کمال فن ہے اور اس فن میں مہارت کوسش در کوسش‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫سے آئی ہے ۔عمر نیگش کی کمٹ منٹ اور ادب سے لگاؤ اس کی نجارپر میں‬ ‫حھلکیا ہے" ‪ -‬چسنب جیات‬ ‫"بونے حرم‪ ،‬نالگی اردو افسانے میں انک اہم سیگ میل ہے" ‪ -‬رناض شاہد‬ ‫"آپ کے طرز نحرپر میں شالست ‪ ،‬روائی اور پرچسیگی کے شاتھ ایسائی حذنات‬ ‫کی پرحمائی دکھائی د ننی ہے"۔ عدنان مسعود‬

‫‪omerbangash.com |obangash@gmail.com |twitter.com/obangash |fb.com/sila.e.omer‬‬

Afsanay - Pehli Sa'f aur Doosri KahaniaN افسانے: پہلی صف اور دوسری کہانیاں  

A collection of Urdu Short Stories by Omer Bangash

Read more
Read more
Similar to
Popular now
Just for you