Page 1

‫ت‬ ‫ش م رسل آور تہ رسالث پ سآئ مت س م آحدیث وآ ثار‬ ‫)علم روایت کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ(‬

‫‪,‬‬ ‫‪,‬‬ ‫‪,‬‬ ‫پ وآق‪ :‬آثک یدی ختں ک ک ثاب مں ک ہتں ق‬ ‫ج جم م‬ ‫ت ‪8‬‬

‫بعض روایتوں میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ مسلمانوں می ں س ے ای ک )ض رورت من د(‬ ‫نابینا شخص ایک یہودی خاتون کے پاس )ا‪4‬س کی زیر کفالت( رہا کرتا تھ ا ۔ وہ ا‪4‬س ے کھلی ا‬

‫پلیا کرتی اور ا‪4‬س کی مالی مدد کی ا کرت ی تھ ی ۔ ت اہم ا<س س ب کچ ھ ک ے ب اوجود وہ‬ ‫عورت محمد رسول ال صلی ال علیہ وسلم پر سب و شتم کیا کرت ی اور ا<س ط رح ا‪4‬س‬ ‫نابینا مسلمان کو ایذا پہنچاتی تھی ۔ ایک رات جب ا‪4‬س نابینا شخص ن ے ن بی ص لی ال‬ ‫علیہ وسلم کے بارے میں ا‪4‬س کے منہ سے ا<س طرح کی گستاخی س‪4‬نی تو وہ کھڑا ہوا‬ ‫اور ا‪4‬س یھودی خاتون کا گل گھونٹ کر ا‪4‬س ے قت ل ک رڈال ۔ پھ ر اگل ے دن ی ہ قض یہ ج ب‬ ‫رسول ال صلی ال علیہ وسلم کے پاس پہنچ ا ت و آپ ن ے لوگ وں س ے ا‪4‬س خ اتون ک ے‬ ‫معاملے میں تفتیش کی ۔ ا‪4‬س موقع پر وہ نابینا شخص کھڑا ہوا اور ا‪4‬س نے آپ کو بتایا کہ‬ ‫یہ خاتون ال کے نبی پر سب وشتم کیا کرتی اور ا<س معاملے میں ا‪4‬س ے ای ذا پہنچ اتی‬ ‫تھی ۔ چنانچہ ا<س بنا پر ا‪4‬س نے ا<سے قتل کیا ہے ۔ ا‪4‬س کی یہ بات س ن ک ر آپ ن ے ا‪4‬س‬ ‫عورت کے خون کو )بغیر کسی حکم< قصاص کے( رائگاں قرار دیا ۔‬

‫ت‪,‬‬ ‫روآثات ک خری وت‬

‫حدیث کی ا‪4‬م`ہات< کتب‪،‬بالخص وص طبق ہ] اول\ ی ک ے مص ادر عہ د< رس الت ک ے ا<س‬ ‫واقعے کو نقل کرنے میں اگرچ ہ یکس ر خ اموش ہیں‪،‬ت اہم ح دیث وآث ار ک ے دوس رے اور‬ ‫تیسرے طبقے کے بعض مراجع میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ ی ہ واقعہ‪،‬بہرح ال‬ ‫نقل ہوا ہے ۔ جس کی تفصیل حسب< ذیل ہے‪:‬‬

‫م آب آ ‪C‬ب ش ک روآیث‬

‫ا<س واقعے کی روایتوں کو جمع کرنے اور ا‪4‬ن کی بالستیعاب تخریج کرنے س ے ی ہ‬ ‫بات سامنے آتی ہے کہ سب سے پہلے ا<سے تیسری صدی ھجری میں أبو بکر بن أب ی‬ ‫شیبہ )متوفی‪ 235:‬ھ( نے اپنی '' مصنف '' میں‪،‬جسے أصحاب< علم نے کتب< ح دیث ک ے طبق ہ]‬ ‫ثالثہ میں شمار کیا ہے؛ا<سے نسبتا‪ r‬تفصیل کے ساتھ ا<س طرح پیش کیا ہے ‪:‬‬

‫حدثنا جرير‪ ،‬عن مغية‪ ،‬عن الشعبي‪ ،‬قال‪ ”:‬كان رجل‪ 9‬من ال‪0‬مسلمي أعمى‪ ،‬فكان يأ‪0‬وي إلى امرأة& يهودية&‪،‬‬ ‫فكانت تط‪0‬عمه وتسقيه وتحسن إليه‪ ،‬وكانت لا تزال‪ C‬تؤذيه في رسول الل>ه صل>ى ال عليه وسل>م فلما سمع ذلك منها‬


‫ليلة‪ S‬من الل>يالي قام فخنقها حتى قتلها‪ ،‬فرفع ذلك إلى النبي صل>ى ال عليه وسل>م فنشد الناس في أمرها‪ ،‬فقام الرجل‪C‬‬ ‫فأخبره أنها كانت تؤذيه في النبي صل>ى ال عليه وسل>م وتسب‪X‬ه وتقع فيه‪ ،‬فقتلها لذلك‪ ،‬فأبطل النبي‪ X‬صل>ى ال علي[[ه‬ ‫وسل>م دمها “)‪.(1‬‬

‫ت سآور م‪J‬ر ‪H‬سل روآیث ک ح‬

‫ابن أبی شیبہ کے ا<س طریق کو تحقیق< سند کے معیار پر پرکھا جائے تو واضح ہے‬ ‫کہ یہ سند تابعی عامر بن ش‪w‬راحیل )متوفی‪ 109:‬ھ( شعبی کوفی پر منتہی ہوتی ہے ۔ ع امر‬ ‫شعبی اوساط< تابعین میں سے ہیں ۔ عہد< نبوی ک ا ی ہ واقع ہ وہ ک س ص حابی ی ا ت ابعی‬ ‫سے اخذ کر کے روایت کر رہے ہیں؛یہ س ند ا<س س ے یکس ر خ اموش ہ ے ۔ ج س س ے‬ ‫ثابت ہوا کہ اصل< سند میں انقطاع کی بنا پر یہ ایک غیر متص ل اور '' م‪4‬رس‪ w‬ل'' روای ت ہ ے ۔‬ ‫چنانچہ سند کے ا<س انقطاع کی بنا پر اور درجہ] صحت تک پہنچنے کے لیے اتص ال< س ند‬ ‫کی لزمی شرط کے مفقود ہونے کی وجہ سے یہ سند ''ضعیف'' اور ناقابل اعتبار ہے ۔‬ ‫م‪4‬رس‪w‬ل روایت کے بارے میں یہی رائے ج‪4‬مہور محدثین‪،‬ح‪4‬ف`اظ< حدیث‪،‬ناق دین< آث ار اور‬ ‫اصحاب< ا‪4‬صول وفقہ کی ایک بڑی تعداد نے اختیار کی ہے ۔ حدیث< م‪4‬رس‪w‬ل کو رد کرنے میں‬ ‫ا<ن کی دلیل سند کی بنیاد میں ایک یا ایک سے زیادہ رواۃ کے محذوف ہوج انے ک ی بن ا‬ ‫پر پیدا ہونے والی ناواقفیت ہے ۔ جس میں یہ احتم ال بھ ی بہرح ال موج ود ہوت ا ہ ے ک ہ‬ ‫تابعی نے وہ خبر کسی تابعی ہی سے سنی ہو ۔ اور ا‪4‬س صورت می ں ظ اہر ہ ے ک ہ ا<س‬ ‫بات کا امکان بھی موجود ہوتا ہے ک ہ وہ ت ابعی ک وئی ناقاب ل ا عتب ار راوی ہ و)‪(2‬۔ م‪4‬رس‪ w‬ل‬ ‫روایت کے باب میں ہمارے نزدیک یہی رائے محقق اور راجح ہے ۔‬

‫روآیث ک ح‬

‫علم< روایت کی رو سے ابن أبی شیبہ کی م ذکورہ ب الہ روای ت ک ا ن بی ص لی ال‬ ‫علیہ وسلم سے استناد ثابت نہیں ہوتا ۔ شیخ أبو محمد ا‪4‬سامہ بن ابراہی م ‪ ،‬جنہ وں ن ے‬ ‫عصر حاضر میں "مصنف ابن أب شيبة" پر اپنی تحقی ق لکھ ی ہ ے؛ا<س روای ت ک ے ب ارے می ں‬ ‫ا‪4‬نہوں نے بھی یہی رائے پیش کی ہے‬

‫)‪(3‬‬

‫۔ چنانچہ یہ جاننا چ اہیے ک ہ '' مصنف '' ک ی ی ہ‬

‫روایت عامر شعبی کے ا†رسال کی بن ا پ ر ''منقط ع''‪''،‬ض عیف'' اور ناقاب ل حج ت ہ ے ۔ ا<س‬ ‫سے کسی قسم کا کوئی استدلل کیا جاسکتا‪،‬نہ یہ کسی شرعی حکم کا ماخ ذ ہ ی‬ ‫بن سکتی ہے ۔‬ ‫مصادر< حدیث کے علوہ تیسری صدی ھجری ہی میں ہوبہو یہی متن أبو بکر أحمد‬ ‫بغدادی حنبلی )متوفی‪ 311:‬ھ ( نے بھی اپنی کتاب '' أحكام أهل اللل والردة من الامع لسائل الم[[ام‬ ‫أحد '' میں اپنے طریق سے نقل کیا ہے‬

‫)‪(4‬‬

‫۔ تاہم علم< روایت کی روش نی می ں ا‪4‬س س ند‬

‫کی حیثیت بھی بالکل وہی ہے جو ابن أبی شیبہ کی ا<س سند کی ہے ۔ کیونکہ شعبی‬ ‫کے ا†رسال کی بنا پر ضعف< انقطاع ا‪4‬س طریق میں بھی یکساں طور پر موجود ہے ۔ ج س‬ ‫کی بنا پر وہ راویت بھی ناقابل التفات واستدلل ہے ۔‬


‫س آ ‪C‬ب دآود ک روآیث‬

‫ابن أبی شیبہ کے بعد ا<س واقعے کو تیسری صدی ھجری ہی می ں ا†م ام أب و داود‬ ‫)متوفی‪ 275:‬ھ( نے اپنی ''سنن'' میں‪،‬جسے علماے حدیث طبقہ] ثانیہ ک ے مص ادر< می ں ش مار‬ ‫کرتے ہیں؛اپنے طریق سے قدرے اجمال کے ساتھ ا<س طرح نقل کیا ہے ‪:‬‬

‫حدثنا عث‪0‬مان‪ C‬بن أبي شيبة ‪ ،‬وعبد الل>ه بن ال‪0‬جراح ‪ ،‬عن جرير&‪ ،‬عن مغية ‪ ،‬عن الشعبي ‪ ،‬عن علي‪ j‬رض[[ي‬ ‫الل>ه عنه‪ ” ،‬أن> يهودية‪ S‬كانت تشتم النبي صل>ى ال عليه وسل>م وتقع فيه فخنقها رجل‪ 9‬حتى ماتت فأبطل رسول‪ C‬الل>[[ه‬ ‫صل>ى ال عليه وسل>م دمها “‪.‬‬

‫)‪(5‬‬

‫تس‬

‫ا†مام أ بو داود کی یہ سند ہمارے نزدیک دو پہلو]وں سے قابل تحقیق ہے ۔ ایک ض بط‬ ‫رواۃ کے پہلو سے اور دوسرے اتصال< سند کے پہلو سے ۔‬

‫ضبط رواۃ‬

‫ا<س روایت کی سند پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہ ے ک ہ ا†م ام أب وداود اپن ے ب را <ہ‬ ‫راست شیوخ کے طبقے میں دو راویوں کا استناد بیان کر رہے ہیں ۔ ایک عثم ان ب ن أب ی‬ ‫شیبہ اور دوسرے عبد ال بن الجر`اح التمیمی` ۔ ا<ن دو شیوخ کی بنا پر سند آگے دو طرق‬ ‫میں منقسم ہوگئی ہے ۔ ت اہم أب و داود ک ے ا<ن دون وں ہ ی ش یوخ ک ی س ند اوپ ر بالک ل‬ ‫یکساں ہے ۔ یہاں قابل غور بات صرف یہ ہے کہ عثمان بن أبی شیبہ اور س ند ک ے ب اقی‬ ‫تمام رواۃ تو بل شبہ ہر لحاظ سے ثقہ ہیں ۔ جس کی بنا ا<س طری ق می ں ک م س ے ک م‬ ‫ضبط< روای کے پہلو سے تو کوئی کمزوری موجود نہی ں ہ ے ۔ البت ہ دوس رے طری ق می ں‬ ‫خود عبد ال بن الجر`اح التمیمی` پر علماے رجال نے ضبط< روایت ہی ک ے پہل و س ے کلم‬ ‫کیا ہے ۔ ا†مام ابن أبی حاتم رازی اور ابن حجر عسقلنی ا<ن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ‬ ‫یہ باوجود اپنی صفت< صداقت کے کثیر الخطا ہیں)‪ (6‬۔ ا<س سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ طریق‬ ‫عبد ال بن الجر`اح کی بنا پر ضبط< راوی کے پہلو سے بہرحال مجروح ہ ے ۔ اور یہ ی وج ہ‬ ‫ہے کہ محققین< حدیث نے ا<س طریق کو ''حسن'' کا درجہ دیا ہے)‪ (7‬۔‬

‫اتصال سند‬

‫ا†مام أبو داود کی ا<س سند ک ا اص ل قاب ل تحقی ق وتجزی ہ پہل و ج س پ ر اص ل‪ r‬ا<س‬ ‫روایت کے قابل اعتبار ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے؛وہ یہ ہے کہ شعبی کے ا†رسال کی بنا‬ ‫پر جو ضعف< انقطاع ابن أبی شیبہ کے طریق میں موجود تھا‪،‬وہ یہاں أب و داود ک ے طری ق‬ ‫میں بظاہر نظر نہیں آرہا ہے ۔ یعنی ا<س طریق میں شعبی نے یہ واضح کردیا ہے کہ عہ د<‬ ‫رسالت کے ا<س واقعہ کی خبر ا‪4‬نہوں نے سیدنا علی رضی ال عنہ سے اخ ذ ک ی ہ ے ۔‬ ‫تاہم علم< رجال کی روشنی میں یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہ ے ۔ وہ ی ہ ک ہ عل م< روای ت‬ ‫کی بنیاد پر عامر شعبی کا سیدنا علی کے استناد ک و بی ان کردین ا آی ا واقعت ا‪ r‬ا<س س ند‬


‫کے انقطاع کو دور کردیتا ہے ؟ علم< رجال کی رو س ے آی ا ع امر ش عبی ک ا س یدنا عل ی‬ ‫سے اخذ< علم ثابت بھی ہے یا نہیں ؟‬

‫‪,‬‬ ‫ثاب عمش ‪R‬عتی ک سثا ع س روآیث )ع تی(‬

‫خاص ا<س سوال پر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ بعض اہل عل م ن ے عل ی‬ ‫رضی ال عنہ سے ا‪4‬ن کے سماع کو مانا ہے‪،‬ت اہم ا<س رائے ک ے ح ق می ں ک وئی واض ح‬ ‫دلیل راقم الحروف کو میسر نہیں ہوسکی ۔ دوسری طرف اکثر علمائے حدیث‪،‬ائمہ] رج ال‬ ‫اور محققین کی رائے کے مطابق شعبی نے سیدنا علی رضی ال عن ہ ک و دیکھ ا ض رور‬ ‫ہے‪،‬لیکن علمی طور شعبی کا ا‪4‬ن سے اکتساب <علم قطعا‪ r‬ثابت نہیں ہے ۔‬ ‫بر بنائے تحقیق ہمارے نزدیک یہ ی دوس ری رائے محق ق اور راج ح ہ ے ۔ ا<س ک ے‬ ‫حق میں ائمہ] حدیث کے اقوال حسب ذیل ہیں ‪:‬‬

‫‪,‬‬ ‫ش‬ ‫ئ رجل ک آقآل ک روش م(‬ ‫سع ع)آ ‪8‬‬ ‫‪R‬عتی ک سثا ع س ]‬

‫‪ 1‬۔ ا†مام ابن أبی حاتم رازی )متوفی‪ 327:‬ھ( نے اپنی کتاب '' الراسيل '' میں عامر ش عبی‬

‫کی سیدنا علی سے روایت کے بارے میں ا†مام أحمد بن حنبل کی یہ رائے نقل کی ہ ے‬ ‫کہ شعبی اگر ا‪4‬ن کی نسبت سے کوئی روایت بیان کریں تو ا‪4‬س کی کوئی حیثیت نہی ں‬ ‫ہے)‪(8‬۔‬ ‫‪ 2‬۔ ا†مام دار قطنی )متوفی‪ 385:‬ھ( نے اپنی کتاب '' العلل الواردة ف الحاديث النبوية '' میں ی ہ‬ ‫بات پورے وثوق سے کہی ہے کہ عامر شعبی نے سیدنا علی سے سوائے ای ک ح دیث‬ ‫کے کبھی کچھ نہیں سنا)‪ (9‬۔‬ ‫‪ 3‬۔ ا†مام أبو عبد ال حاکم‬

‫)متوفی‪ 405:‬ھ(‬

‫'' معرفة علوم الديث '' میں فرم اتے ہی ں ‪ :‬ع امر‬

‫شعبی نے سوائے حضرت أنس رضی ال عنہ کے‪،‬کسی صحابی سے کچھ نہیں س نا ؛‬ ‫نہ سیدہ عائشہ سے‪،‬نہ حضرت عبد ال بن مسعود سے‪،‬نہ أسامہ ب ن زی د س ے اور ن ہ‬ ‫سیدنا علی سے ۔ حضرت علی کو ا‪4‬نہوں نے کسی موقع پر بس دیکھا ہی ہ ے ۔ ش عبی‬ ‫نے معاذ بن جبل اور زید بن ثابت سے بھی کبھی کوئی سماعت< علم نہیں کی )‪ (10‬۔‬ ‫‪ 4‬۔ ا†مام أبو بکر حازمی )متوفی‪ 584:‬ھ( نے اپنی کتاب '' العتبار ف الناسخ والنسوخ '' فرمای ا‬ ‫ہے‪ :‬شعبی کے حضرت علی سے سماع کو ائمہ] حدیث نے ثابت قرار نہیں دیا ہے‬ ‫‪ 5‬۔ ا†مام ذھبی‬

‫)متوفی‪ 748:‬ھ(‬

‫)‪(11‬‬

‫۔‬

‫'' سي أعلم النبلء '' میں فرماتے ہیں ‪ :‬ش عبی ن ے س یدنا‬

‫علی کو دیکھا ہے اور ا‪4‬ن کے پیچھے نماز بھی پڑھی ہے)‪ (12‬۔‬ ‫لیکن ظاہر ہے کہ ا<س سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ سیدنا علی سے ا‪4‬نہ وں ن ے‬ ‫ب علم بھی کیا ہے ۔ کیونکہ علی رضی ال کو ا‪4‬نہ وں ن ے بچپ ن می ں دیکھ ا ہ ے ۔‬ ‫اکتسا <‬ ‫وکیع بغدادی )متوفی‪ 306:‬ھ( اپنی کتاب '' أخبار القضاة '' میں شعبی سے روایت کرت ے ہی ں ک ہ‬


‫ا‪4‬نہوں نے)خود اپنا ایک واقعہ یوں( بیان کیا ‪ :‬بچپن می ں ای ک موق ع پ ر ہ م حض رت عل ی ک ے‬ ‫صحن میں داخل ہوگئے تھے ۔ ا‪4‬نہوں نے ہمیں دیکھا تو کہا ‪ :‬نکلو یہاں سے نکلو! )‪ (13‬۔‬ ‫‪ 6‬۔ ا†مام ابن رجب حنبلی‬

‫)متوفی‪ 795:‬ھ(‬

‫'' فتح الباری فی شرح البخاری '' می ں لکھت ے ہی ں‪:‬‬

‫شعبی نے حضرت علی کو ا‪4‬س موق ع پ ر دیکھ ا ہ ے ج ب وہ ش‪ 4‬راحہ ہ‪w‬م دانیہ ن امی ای ک‬ ‫خاتون کو ر‪w‬جم کر رہے تھے ۔ شعبی نے ا<س واقعے کو روایت بھی کیا ہے۔تاہم یعقوب ب ن‬ ‫شیبۃ فرماتے ہیں کہ شعبی کے سیدنا علی سے سماع کو ثابت مانا نہیں گیا ہے)‪(14‬۔‬ ‫‪ 7‬۔ا†مام ابن رجب اپنی کت اب '' شرح علل الترمذی '' می ں فرم اتے ہی ں ‪ :‬ش عبی ن ے‬ ‫سوائے حضرت أنس کے‪،‬کسی صحابی سے کچھ نہیں سنا؛نہ س یدہ عائش ہ س ے‪،‬نہ‬ ‫حضرت عبد ال بن مسعود سے‪،‬نہ أسامہ بن زید سے ۔‬ ‫ا<سی طرح ایک مقام پر وہ لکھتے ہیں کہ ا†مام ترم ذی ک ے کلم س ے معل وم ہوت ا‬ ‫ہے کہ وہ شعبی کی م‪4‬رس‪w‬لت کو ضعیف قرار دیتے ہیں ۔ کیونکہ شعبی ای ک ط رف ج ابر‬ ‫ج‪4‬عفی کی تکذیب کرتے ہیں اور دوسری طرف ا‪4‬ن سے روایت بھ ی کرت ے ہی ں ۔ چن انچہ‬ ‫ا<سی بنا پر ا‪4‬ن کی م‪4‬رس‪w‬ل روایات ''ضعیف'' قرار پاتی ہیں)‪ (15‬۔‬ ‫‪ 8‬۔ عصر حاضر کے ایک محدث شیخ عب د العزی ز ب ن م رزوق الطریف ی اپن ی کت اب‬ ‫''التحجيل ف تريج ما ل يرج من الحاديث والثار ف إرواء الغليل'' میں لکھتے ہی ں ‪ :‬ع امر ش عبی ک ا‬ ‫سیدنا علی کو دیکھنا اگرچہ ثابت ہ ے ۔ اور ب اوجود ا<س ک ے ک ہ وہ عل ی رض ی ال عن ہ‬ ‫سے کثرت سے روایت کرنے والے رواۃ میں سے ہیں‪،‬مگر یہ ای ک حقیق ت ہ ے ک ہ وہ ا‪4‬ن‬ ‫سے روایت کرنے میں احتیاط اور معیار< روایت کو ب ر ق رار نہی ں رکھت ے ۔ کی ونکہ وہ بع ض‬ ‫ضعیف راویوں کی وساطت واستناد پر بھی حض رت عل ی ک ی نس بت س ے روای ت بی ان‬ ‫کردیتے ہیں ۔ چنانچہ شعبی کی ا<س طرح کی روایتوں پ ر ا‪4‬س وق ت ت ک توق ف اور ا‪4‬ن ک ا‬ ‫عدم قبول لزم ہے‪،‬جب تک کہ ا‪4‬ن کے ساتھ ایسے قرائن موجود نہ ہوں جن سے ا‪4‬ن ک ی‬ ‫صحت پر ہمیں گمان< غالب حاصل ہوجائے ۔‬ ‫شیخ طریفی ایک مقام پ ر مزی د لکھت ے ہی ں ک ہ ش عبی ک ے س یدنا عل ی س ے‬ ‫سماع پر اگرچہ اختلف ہے‪،‬تاہم صائب رائے یہی ہ ے ک ہ ا‪4‬نہ وں ن ے حض رت عل ی س ے‬ ‫کبھی کچھ نہیں س‪4‬نا)‪ (16‬۔‬ ‫‪ 9‬۔ عصر حاضر ہی کے ایک محقق ڈاکٹر عبد الملک بن عبد ال بن دھیش؛جنہ وں‬ ‫نے ضیاء الدین مقدسی حنبلی )متوفی‪ 643:‬ھ( کی کتاب '' الحاديث الختارة '' پ ر تحقی ق لکھ ی‬ ‫ہے؛ا‪4‬ن کی رائے کے مطابق بھی سیدنا علی سے شعبی کا سماع ثابت نہیں ہے)‪(17‬۔‬

‫ن ت آورس آ ‪C‬ب دآود ک روآیث ک ح‬ ‫‪8‬‬

‫أ ئمہ] رجال اور محققین< حدیث کے مذکورہ بالہ اقوال وآرا س ے ث ابت ہ وا ک ہ علم ی‬ ‫طور پر تابعی عامر بن شراحیل شعبی کا سیدنا عل ی رض ی ال عن ہ س ے ب راہ< راس ت‬


‫ب علم اور اخذ< حدیث ثابت نہیں ہے ۔ نتیجتا‪ r‬وہ ا‪4‬ن کی نس بت س ے ک وئی روای ت‬ ‫اکتسا <‬ ‫بیان کردیں؛تب بھی علم< روایت کی بنیاد پر وہ سند ''منقطع'' اور ''ض عیف'' ہ ی ق رار پ ائے‬ ‫گی ۔‬ ‫ا<س تمام تفاصیل سے ثابت ہوا کہ سنن أب وداود ک ی موض وع< بح ث روای ت ظ اہری‬ ‫اتصال< سند کے باوجود درجہ] صحت کو نہیں پہنچتی ۔ کی ونکہ حقیقت ا‪ r‬ی ہ بھ ی ای ک غی ر‬ ‫متصل اور ''ضعیف'' روایت ہے ۔ موضوع< بحث روایت کے ا‪4‬س ی ض عف< انقط اع ک ی بنی اد پ ر‬ ‫جس کی طرف راقم الحروف نے اوپر اشارہ کیا ہے؛ا<س روایت کے ب ارے می ں بھ ی ع دم<‬ ‫صحت کی یہی رائے مندرجہ ذیل معاصر علماے حدیث نے بھی پیش کی ہے ۔‬

‫آ ‪C‬بدوآد ک روآیث ک ث‪R‬ارے م مص عے حیث ک آ رآ‬ ‫‪ 1‬۔ مح دث العص ر ا†م ام ناص ر ال دین ألب انی‬ ‫داود''میں ا<سے ''ضعیف ال†سناد'' قرار دیا‬

‫ہے)‪(18‬‬

‫)مت‬

‫وفی‪ 1420:‬ھ( ن ے بھ ی''ضعيف سنن أب‬

‫۔‬

‫‪ 2‬۔ عصر حاضر کے ایک اور محقق شیخ أیمن صالح شعبان نے بھی ابن أثیر‬ ‫‪ 606‬ھ( کی کتاب '' جامع الصول ف أحاديث الرسول '' پر اپنی تعلیق ات می ں س نن أب ی داود ک ی‬ ‫)متوفی‪:‬‬

‫ا<س روایت کو ''ضعیف'' قرار دیا ہے)‪ (19‬۔‬ ‫‪ 3‬۔ ڈاکٹر عبد الملک بن عبد ال ب ن دھی ش ن ے بھ ی ض یاء ال دین مقدس ی ک ی‬ ‫کتاب '' الحاديث الختارة '' پر اپنی تحقیق میں ا<س سند کو ''منقطع'' قرار دیا ہے )‪ (20‬۔‬ ‫یہاں قارئین کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ض یاء ال دین مقدس ی ن ے ا<س روای ت‬ ‫کے اثبات میں اپنی جو سند پیش ک ی ہ ے؛ا‪4‬س می ں ا<س ض عف< انقط اع ک ے علوہ ای ک‬ ‫ضعیف راوی '' عم ر ب ن محم د ال دارقزی '')‪ (21‬ک ی موج ودگی ن ے ا‪4‬س ے مزی د کم زور اور‬ ‫ناقابل اعتبار بنادیا ہے ۔ لہذا احادیث باب کا وہ طریق بھی کسی درجے میں قابل التف ات‬ ‫نہیں ہے ۔‬

‫س ب ک روآیث‬

‫ا†مام أبو داود کے بعد پانچویں صدی ھجری میں ا†مام بیھقی )مت وفی‪ 458:‬ھ( ن ے اپن ی‬ ‫''سنن کب}ی'' میں‪،‬جسے أصحاب< ح دیث طبق ہ] ث الثہ ک ے مراج ع می ں ش مار کرت ے ہی ں‪،‬دو‬ ‫مقامات پر ا<سی واقعے کو ا†مام أبوداود ہی کی مانند مدرجہ ذی ل س ند ومت ن ک ے س اتھ‬ ‫پیش کیا ہے ‪:‬‬

‫[ن‬ ‫[ه ب[‬ ‫[د الل>[‬ ‫أخبرنا أبو علي‪ j‬الر‪X‬وذ‪0‬باري‪ ، X‬أنبأ محمد بن بك‪0‬ر&‪ ،‬ثنا أبو داود ‪ ،‬ثنا عث‪0‬مان‪ C‬بن أبي شيبة ‪ ،‬وعب[‬ ‫ال‪0‬جراح ‪ ،‬عن جرير& ‪ ،‬عن مغية ‪ ،‬عن الشعبي ‪ ،‬عن علي‪ j‬رضي الل>ه عنه ” أن> يهودية‪ S‬كانت تشتم النبي ص[[ل>ى ال‬ ‫عليه وسل>م وتقع فيه‪ ،‬فخنقها رجل‪ 9‬حتى ماتت‪ ،‬فأبطل النبي‪ X‬صل>ى ال عليه وسل>م دمها “)‪.(22‬‬ ‫ا†مام بیہقی کی ا<س سند کو ہم اگر دقت< نظر سے دیکھیں تو بیہقی کے پہل ے دو‬ ‫واسطوں کے بعد تیسرا استناد ا†مام أبوداود ہی کا ہے ۔ جس کے بعد باقی س ند ہ و بہ و‬


‫وہی ہی ہے جسے ا†مام أب و داود ن ے اپن ی ''سنن'' می ں پی ش کی ا ہ ے ۔ اور ا‪4‬س س ند پ ر‬ ‫تفصیلی کلم کے بعد ظاہر ہے کہ یہاں اب مزید کسی تحقی ق وکلم ک ی ض رورت ب اقی‬ ‫نہیں رہ جاتی ۔ کیونکہ دونوں أسانید کا حکم یکساں ہے ۔‬

‫ئب‬ ‫ن ]‬

‫عہد< رسالت میں یہودی خاتون کے نابینا مسلمان کے ہاتھوں قت ل کی ے ج انے اور‬ ‫نبی صلی ال علیہ وسلم کی جانب سے ا‪4‬س کے خون کو رائگ اں ق رار دی ے ج انے ک ے‬ ‫واقعے کی مذکورہ بالہ تخریج وتحقیق کے نتیجے می ں من درجہ ذی ل حق ائق ث ابت ہ وتے‬ ‫ہیں‪:‬‬ ‫ا ۔ طبقہ] اول\ی کے مصادر< حدیث یعنی مؤطأ إمام مالك‪،‬صحيح باري اور صحيح مسلم می ں‬ ‫یہ واقعہ کہیں روایت نہیں ہوا ہے ۔ وہ ا<س کے بیان سے بالکل خاموش ہیں ۔‬ ‫ب ۔ طبقہ] ثانیہ میں بھی محض ا†مام أبو داود نے ا<سے اپنی سنن میں نقل کی ا ہ ے۔‬ ‫مسند أحد‪،‬سنن نسائی‪،‬جامع ترمذی بھی ا<س واقعے سے بالکل ساکت ہیں ۔‬

‫ج ۔ طبقہ] ثالثہ کی کتب< حدیث میں بھی محض مصنف ابن أب شيبة اور بیہقی کی سنن‬ ‫کب}ی ہیں‪،‬جن میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے ۔ باقی مسانید‪،‬مص نفات‪،‬جوامع اور کت ب طح اوی‬ ‫بھی ا<س روایت کے ذکر سے خاموش ہیں ۔‬ ‫د ۔ حدیث کے أصل مراجع کے علوہ یہ واقعہ ثانوی طور پر یا م‪4‬ک ر˜رات ک ی حی ثیت‬ ‫سے اگرچہ بعض دیگر کتب اور متاخرین کے مرتب کردہ بعض مجموعات< حدیث میں بھ ی‬ ‫بیان ہوا ہے‪،‬تاہم یہ جاننا چاہیے کہ اپنی أصل حیثیت میں ا<س کے ما™خذ وہی تین ہیں جو‬ ‫اوپر بیان ہوئے ہیں ۔‬ ‫ھ ۔ موضوع< بحث واقعے کے تمام طرق کو جمع کرنے سے یہ بات ث ابت ہ وتی ہ ے‬ ‫کہ تعدا <د رواۃ کے لحاظ سے ا<س کی سندی حیثیت نہ صرف یہ کہ خ بر واح د ک ی ہ ے‪،‬‬ ‫بلکہ غریب مطلق ہونے کی بنا پر أخبار آحاد میں بھی ا<س کی وقعت تیسرے درجے کی‬ ‫ہے ۔ کیونکہ طبقہ] صحابہ میں یہ واقعہ س وائے س یدنا عل ی رض ی ال عن ہ ک ے کس ی‬ ‫دوسرے صحابی کی نسبت سے کہیں نقل نہیں ہوا ہے ۔ پھر مزید یہ ک ہ ا<س ک ے تم ام‬ ‫طرق میں 'غ‪w‬رابت' محض طبقہ] صحابہ ہی میں نہیں ہے‪،‬بلک ہ ا‪4‬س ک ے بع د بھ ی متع دد‬ ‫طبقات میں محض ایک ای ک راوی ہ ی عہ د< نب وی ک ے ا<س واقع ے ک و بی ان ک ر رہ ا ہ ے ۔‬ ‫شعبی‪،‬مغیرۃ اور جریر تینوں ہی اپنے اپنے طبقے میں ا<س واقعہ کے تنہا رواۃ ہیں ۔‬ ‫و ۔ ر‪w‬د` وق‪4‬بول کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ واقعہ ہے کہ ا<س روایت کا ک وئی‬ ‫ایک طریق بھی ''صحیح'' کے درجے میں ثابت ہوتا ہے‪،‬نہ''حسن''ہی کے درجے میں ۔ ا<س‬ ‫غریب روایت کی ہ ر س ند ''ض عیف'' اور ناقاب ل حج ت ہ ے ۔ اور س بب< ض‪ 4‬عف ت ابعی ع امر‬ ‫شعبی کا ا†رسال اور سیدنا علی سے ا‪4‬ن کے سماع< حدیث کا عدم ثبوت ہے ۔ جس ک ی‬


‫وجہ سے ا<س روایت کی ہر سند میں موجود انقطاع بأدن\ی تامل واضح ہوجاتا ہے ۔‬ ‫ز ۔ عصر حاضر کے متعدد علماے حدیث اور اہل تحقیق نے ا<سے ''ض عیف ال†س ناد''‬

‫قرار دیا ہے ۔‬ ‫ح ۔ جو أصحاب< علم عہد< رسالت کے بایں طور مروی واقعات ک و آس مانی ش ریعت‬ ‫کے أحکام کا ماخذ مانتے اور حدود وتعزیرات کے باب میں ا<ن س ے اس تدلل کرت ے ہی ں؛‬ ‫نبی صلی ال علیہ وسلم کی نسبت سے موضوع< بحث قضیے کے عدم ثبوت کے واضح‬ ‫ہوجانے کے بعد کم سے کم ا<س واقعے کو بطور مستدل پیش کرنے ک ی ک وئی گن ایش‬ ‫ا‪4‬ن کے لیے اب باقی نہیں رہ جاتی ۔‬

‫هذا ما عندي والعلم عند ال ‪.‬‬ ‫عامرگزدر‬ ‫‪/۱۵‬فروری‪۲۰۱۱/‬‬

‫کتابیات‬ ‫‪ 1‬۔ ‪،301/7‬رقم الحدیث‪ 36279:‬۔ مکتبۃ الرشد‪،‬الریاض ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 1409:‬ھ ۔‬ ‫‪ 2‬علوم الحدیث‪،‬ابن صلح ص‪ 31:‬۔ مکتبۃ الفارابی‪،‬العین‪،‬ال†مارات ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 1984:‬م ۔ ج امع التحص یل‬ ‫فی أحک ام المراسیل‪،‬أب و س عید علئی‪،‬ص‪ 30،31:‬۔ع ال‪w‬م الکت ب‪،‬بیروت ۔ طبع ہ] ث انیہ‪ 1407 :‬ھ ۔ تیس یر‬ ‫مصطلح الحدیث‪،‬دکتور محمود طحان‪،‬ص‪ 51:‬۔ مرکز الھ‪4‬د\ی للدراسات‪،‬ال†سکندیۃ ۔ طبعہ] سابعہ‪ 1405:‬ھ ۔‬ ‫تحریر علوم الحدیث‪،‬عبد ال بن یوسف الج‪4‬دیع‪ 946-943 / 2:‬۔ مو]سسۃ الری`ان للطب اعۃ والنش ر والتوزی ع‪،‬‬ ‫بیروت ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 1424:‬ھ ۔‬ ‫‪ 3‬۔ مصنف اب ن أب ي ش یبة بتحقی ق أب ي محم د أس امة ب ن ا†براہی م ۔ ‪ 400-399/،12‬۔ الف اروق الح دیثیۃ‬ ‫للطباعۃ والنشر‪،‬القاھرۃ ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 2008:‬م ۔‬ ‫‪ 4‬۔ ص‪ ، 257:‬رقم الحدیث ‪ 730 :‬۔ دار الکتب العلمیۃ‪،‬بیروت ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 1414:‬ھ ۔‬ ‫‪ 5‬۔ ‪ ، 728/2‬رقم الحدیث‪ 4362:‬۔ دار الفکر‪،‬سوریا ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی ۔‬ ‫‪ 6‬۔ تھذیب الکمال‪،‬أبو الحجاج یوسف المزی‪،362،361/14،‬رق م‪ 3199:‬۔ مو]سس ۃ الرسالۃ‪،‬بی روت ۔ طبع ]‬ ‫ہ‬ ‫ا‪4‬ول\ی‪ 1400:‬ھ ۔ تقریب التھذیب‪،‬ابن حجر عسقلنی‪،298/2،‬رقم‪ 3248:‬۔ دار الرشید‪،‬حل ب‪،‬سوریا ۔ طبع ہ]‬ ‫ا‪4‬ول\ی‪ 1406:‬ھ ۔‬ ‫‪ 7‬۔ تحریر تقریب التھذیب‪،‬الدکتور بشار عو`اد والشیخ شعیب الرناو]وط‪،‬الجزء الثانی‪،‬رقم‪ 3248:‬۔ مو]سس ۃ‬ ‫الرسالۃ‪،‬بیروت ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 1417:‬ھ ۔‬


‫‪ 8‬۔ ص‪ 160:‬۔ رقم‪ 595:‬۔ مو]سسۃ الرسالۃ‪،‬بیروت ۔ طبعہ] ثانیہ‪ 1418:‬ھ ۔‬ ‫‪ 9‬۔ ‪ 97/4‬۔ دار طیبۃ‪،‬الریاض ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 1405،‬ھ ۔‬ ‫‪ 10‬۔ ص‪ 164:‬۔ دار الکتب العلمیۃ‪،‬بیروت ۔ طبعہ] ثانیہ‪ 1397:‬ھ ۔‬ ‫‪ 11‬۔ ص‪ 201:‬۔ دائراۃ المعارف العثمانیۃ‪،‬حیدر آباد‪،‬دکن ۔ طبعہ] ثانیہ‪ 1359:‬ھ ۔‬ ‫‪ 12‬۔ ص‪ 601:‬۔ رقم‪ 113:‬۔ مو]سسۃ الرسالۃ‪،‬بیروت ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی ۔‬ ‫‪ 13‬۔ ‪ 428/2‬۔ المکتبۃ التجاریۃ الکبر\ی‪،‬مصر ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 1366:‬ھ ۔‬ ‫‪ 14‬۔ ‪ 511/1‬۔ دار ابن الجوزی‪،‬الدمام ۔ طبعہ] ثانیہ‪ 1422:‬ھ ۔‬ ‫‪ 15‬۔ ص‪ 42:‬۔ ص‪ 195:‬۔ دار الملح للطب اعۃ والنش ر ۔ طبع ہ] ا‪4‬ول\ ی‪ 1398 :‬ھ ۔ مص در الکت اب ‪ :‬المکتب ۃ‬ ‫الشاملۃ ‪.‬‬ ‫‪ 16‬۔ ‪،51/1‬کتاب الطھارۃ ۔ ‪،286/1‬کتاب الفرائض ۔ مکتبۃ الرشد‪،‬الریاض ۔ طبعہ] ثانیہ‪ 1425:‬ھ ۔‬ ‫‪ 17‬۔ الحاديث المختارة للمقدسي بتحقیق الدكتور عبد الملك بن عبد ال بن دھی ش‪ 169/2،‬۔ دار خض ر‬ ‫للطباعۃ والنشر والتوزیع‪،‬بیروت ۔ طبعہ] رابعہ‪ 1421:‬ھ ۔‬ ‫‪ 18‬۔ رقم الحدیث ‪ 4362 :‬۔ ص‪ 357:‬۔ مکتبۃ المعارف للنشر والتوزیع‪،‬الریاض ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 1419:‬ھ ۔‬ ‫‪ 19‬۔ رقم الحدیث‪ 257/10 ، 7784:‬۔ مکتبۃ دار البیان ۔ طبعہ] ا‪4‬ول\ی‪ 1392:‬ھ ۔‬ ‫‪ 20‬۔ رقم الحدیث ‪ 169/2 ، 547:‬۔ الحاديث المختارة للمقدسي بتحقیق الدكتور عبد الملك بن عبد ال‬ ‫بن دھیش‪ 169/2،‬۔ دار خضر للطباعۃ والنشر والتوزیع‪،‬بیروت ۔ طبعہ] رابعہ‪ 1421:‬ھ ۔‬ ‫‪ 21‬۔ لسان المیزان‪،‬ابن حجر عسقلنی‪،329/4،‬رقم ‪ 933:‬۔ مو]سسۃ العلمی للمطبوعات‪،‬بیروت ۔ طبع ہ]‬ ‫ثالثہ‪ 1406:‬ھ ۔‬ ‫‪ 22‬۔ رقم الحدیث‪ 18489،13154:‬۔ ‪ 200/9 ، 60/7‬۔ مکتبۃ دار الباز‪،‬مکۃ المکرمۃ ۔ ‪ 1414‬ھ ۔‬


Research Paper  

Research of the riwayat which suggest death penalty on blasphemy.

Read more
Read more
Similar to
Popular now
Just for you