Issuu on Google+


‫فہرست ‪ ‬‬

‫پيشگفتار‬ ‫وجہ تاليف‬ ‫وجہ تسميہ “نمازکے آداب واسرار‬ ‫رازاطاعت وبندگی‬ ‫‪١‬۔انسان عبادت کے لئے پيداہواہے‬ ‫‪٢‬۔شکرمنعم واجب ہے‬ ‫‪٣‬۔انسان کی فطرت ميں عبادت کاجذبہ پاياجاتاہے‬ ‫‪۴‬۔ پروردگارکی تعظيم کرناواجب ہے‬ ‫‪۵‬۔ہرانسان محتاج اورنيازمندہے‬ ‫عبادت اوربندگی کاطريقہ‬ ‫رازوجوب نماز‬ ‫نمازکی اہميت‬ ‫نمازکی اہميت کے بارے ميں معصومين سے چندروايت ذکرہيں‪:‬‬ ‫تمام انبيائے کرام نمازی تھے‬ ‫نمازاورحضرت س آدم‬ ‫نمازاورحضرت ادريس‬ ‫نمازاورحضرت نوح‬ ‫نمازاورحضرت ابراہيم‬ ‫نمازاورحضرت اسماعيل‬ ‫نمازاوراسحاق ويعقوب وانبيائے ذريت ابراہيم‬ ‫نمازاورحضرت شعيب‬ ‫نمازاورحضرت موسی‬ ‫نمازاورحضرت لقمان‬ ‫عيسی‬ ‫نمازاورحضرت‬ ‫ٰ‬ ‫نمازاورحضرت سليمان‬ ‫نمازاورحضرت يونس‬ ‫نمازاورحضرت زکری‬ ‫نمازاورحضرت يوسف‬ ‫تمام انبياء وآئمہ نے نمازکی وصيت کی ہے‬ ‫نمازکے آثارو فوائد‬ ‫دنياميں نمازکے فوائد‬ ‫برزخ اورقيامت ميں نمازکے فوائد‬ ‫روزانہ پانچ ہی نمازکيوں واجب ہيں‬ ‫ان اوقات ميں نمازکے واجب ہونے کی وجہ‬ ‫تعدادرکعت کے اسرار‬ ‫رازجمع بين صالتين‬ ‫روزانہ نمازکے تکرارکی وجہ‬ ‫نمازکے آداب وشرائط‬ ‫رازطہارت‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫وضوکے اسرار‬ ‫رازوجوب نيت‬ ‫چہره اورہاتھوں کے دھونے اورسروپيرکے مسح کرنے کاراز‬ ‫وضوميں تمام دھوناياتمام مسح کيوں نہيں ہے؟‬ ‫‪۴‬۔خروج پيشاب ‪،‬پيخانہ اورريح سے وضوکے باطل ہونے کی وجہ‬ ‫کھانے ‪،‬پينے سے وضوکے باطل نہ ہونے کی وجہ‬ ‫‪۶‬۔خودوضوکرنے کی شرط کی وجہ‪:‬‬ ‫‪٧‬۔سورج کے ذريعہ __________گرم پانی سے وضوکرنے کی کراہيت کی وجہ‪:‬‬ ‫وضوکے آداب‬ ‫‪١‬۔وضوسے پہلے مسواک کرن‬ ‫‪٢‬۔ وضوکرتے وقت معصوم )عليھ السالم(سے منقول ان دعاؤں کوپﮍھن‬ ‫‪٣‬۔ گٹوں تک دونوں ہاتھ دھون‬ ‫‪۴‬۔ تين مرتبہ کلی کرنااورناک ميں پانی ڈالن‬ ‫‪۵‬۔ چہره اورہاتھوں پردوسری مرتبہ پانی ڈالن‬ ‫‪6‬۔ آنکھوں کوکھولے رکھن‬ ‫‪٧‬۔ عورت ہاتھوں کے دھونے ميں اندرکی طرف اورمردکہنی پرپانی ڈالے‬ ‫‪٨‬۔ چہرے پرخوف خداکے آثارنماياں ہون‬ ‫‪٩‬۔ رحمت خداسے قريب ہونے اوراس مناجات کرنے کا اراده کرن‬ ‫وضو کے آثار وفوائد‬ ‫گھرسے باوضو ہوکرمسجد جانے کاثواب‬ ‫کسی کو وضوکے لئے پانی دينے کاثواب‬ ‫ہرنمازکے لئے جداگانہ وضو کرنے کاثواب‬ ‫کامل طورسے وضوکرنے کاثواب‬ ‫راز تيمم‬ ‫رازوجوب ستر‬ ‫رازمکان و لباس‬ ‫رازطہارت بدن ‪،‬لباس اورمکان‬ ‫مسجد‬ ‫مسجدکی اہميت‬ ‫مسجدکے ميں مختلف حصوں ميں نمازپﮍھنے کی وجہ‬ ‫قبلہ‬ ‫رازتحويل قبلہ‬ ‫اذان واقامت‬ ‫اذان واقامت کے راز‬ ‫بالل کومو ٔذن قراردينے کی وجہ‬ ‫اذان واقامت کانقطہ آٔغاز‬ ‫حديث رؤياکے بارے ميں شيعوں کانظريہ‬ ‫حديث رؤياکے بارے ميں بعض اہل سنت کانظريہ‬ ‫اول وقت‬ ‫نمازکوضائع کرنے کاعذاب‬ ‫نمازجماعت‬ ‫نمازجماعت کی اہميت‬ ‫نمازجماعت کانقطہ آغاز‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫رازجماعت‬ ‫واجبات نمازکے اسرار‬ ‫واجبات نمازگياره ہيں‪:‬‬ ‫رازنيت‬ ‫راز تکبيرة االحرام‬ ‫رازقيام‬ ‫رازقرائت‬ ‫رازاستعاذه‬ ‫ہرسوره کے شروع ميں“بسم ﷲ…”ہونے کی وجہ‬ ‫سورعزائم کے قرائت نہ کرنے کی وجہ‬ ‫رازجہراوخفات‬ ‫حمد کے بعدآمين کہناکيوں حرام ہے‬ ‫سوره حمدکی مختصرتفسير‬ ‫سوره تٔوحيدکی مختصرتفسير‬ ‫اَ َح ْدکہے جانے کی وجہ‬ ‫رازتسبيحات اربعہ‬ ‫رکوع کے راز‬ ‫رازسجده‬ ‫آدم)عليھ السالم( کواوريوسف کے سامنے سجده کرنے کی وجہ‬ ‫سجده گاه کی رسم کاآغاز‬ ‫خاک شفاپرسجده کرنے کاراز‬ ‫رازتشہد‬ ‫راز تورک‬ ‫رازصلوات‬ ‫رازسالم‬ ‫رازقنوت‬ ‫رازنمازقصر‬ ‫حيض کی حالت ميں ترک شده نمازوں کاحکم‬ ‫قبوليت نمازکے شرائط‬ ‫معصومين اورحضورقلب وخشوع‬ ‫نمازقبول نہ ہونے کے اسباب‬ ‫ترک نماز‬ ‫تار ک الصالة کاحکم‬ ‫گناہگار لوگ مومنين کے وجودسے زنده ہيں‬ ‫نمازکے ترک وضائع کرنے کی اسباب‬ ‫تعقيبات نماز‬ ‫تسبيح حضرت فاطمہ زہرا کانقطہ آغاز‬ ‫دعا‬ ‫دعاکے فضائل وفوائد‬ ‫دعاکے آداب وشرائط‬ ‫اوقات دعا‬ ‫دعاکی جگہ‬ ‫کن لوگوں کی دعامستجاب ہوتی ہيں‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫دعامستجاب ہوجائے توکياکرناچاہئے؟‬ ‫دعاکے سايہ ميں تالش وکوشش‬ ‫کن لوگوں کی دعاقبول نہيں ہوتی ہے‬ ‫دعاقبول نہ ہونے کی وجہ‬ ‫قرآنی دعائيں‬ ‫شکر‬ ‫سجده ٔ‬ ‫راززيارت‬

‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬

‫‪ ‬‬

‫مولف ‪ :‬رجب علی حيدری‬

‫پيشگفتار‬ ‫بسم ﷲ الرحمن الرحيم‬

‫‪The link ed image cannot be display ed. The file may hav e been mov ed,‬‬ ‫‪renamed, or deleted. Verify that the link points to the correct file and location.‬‬

‫‪ ‬‬

‫علی اشرف االنبياء والمرسلين ابی‬ ‫الحمد ٰ ّ الّذی جعل الصالةقربان ک ّل تقی واَحد اَرکان دينہ والصّالة والسّالم ٰ‬ ‫ّماعلی علی بن ابيطالب‬ ‫علی اہل بيتہ المعصومين السي‬ ‫ٰ‬ ‫القاسم مح ّمد الذی يقف فی الصالة حتی ترم قدماه والسّالم ٰ‬ ‫الّذی ر ّدالشمس لصالتہ ٰ‬ ‫وعلی علی بن الحسين الذی يقال لہ‬ ‫وعلی الحسين الشہيدالذی قتل مظلومافی حال الصالة‬ ‫ٰ‬ ‫السجادلکثرة السجود ‪ ،‬و علی المہدی حين يصلّی ويقنت وحين يرکع و يسجد‪،‬الّذی تصلّی المسيح ابن مريم خلفہ‬ ‫صالتِہ ْم خَ ا ِشعُون< واللّعنةال ّدائمة ٰ‬ ‫علی اعدائہم اجمعين من‬ ‫يوم ظہوره‪،‬و ٰ‬ ‫علی عبادﷲ الصّالحين> اَلﱠ ِذينَ ہُ ْم فی َ ِ‬ ‫يومنا ٰہ ٰ‬ ‫ذاالی قيام يوم ال ّدين‬

‫‪   ‬‬

‫ا ّمابعد ‪:‬‬ ‫وجہ تاليف‪:‬‬ ‫ہروه شخص جو دين اسالم ميں اصول وفروع دين ميں سے کسی بھی موضوع کے متعلق کوئی کتاب‪ ،‬مقالہ‬ ‫‪،‬مجلہ وغيره کی تاليف کرتاہے توخداوندمتعال دنياميں اس پر اپنی نعمت وکرامات نازل کرتاہے‪ ،‬قبض روح‬ ‫ميں اسانی ہوتی ہے اورآخرت ميں معصومين کے قرب وجوارميں جگہ عنايت کرتاہے ۔ جب تک لوگ اس‬ ‫کی کتاب سے فائده اٹھاتے رہتے ہيں اوراس پرعمل کرتے رہتے ہيں توکتاب کے لکھنے والے کوبھی اس‬ ‫کاثواب ملتارہتاہے پس صدقہ جاری کے طورسے اس کتاب کے تاليف کرنے کوشش کی ہے اورپروردگار‬ ‫سے دعاہے کہ وه ميری اس کوشش کوبحق محمدوآل محمد قبول فرمائے‪ ،‬ہميں اس کتاب پرعمل کرنے کی‬ ‫توفيق عطاکرے اوراسے ہم سب کی بخششکاسامان قراردے۔ قال نبی صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬اذامات االنسان انقطع‬ ‫عملہ ّاالمن ثالث‪:‬صدقة جارية ا ٔوعلم ينتفع بہ ‪ ،‬ا ٔولدصالح يدعولہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله( فرماتے‬ ‫ہيں‪:‬جب انسان مرجاتاہے تواس کے تمام عمل منقطع ہوجاتے ہيں ليکن چيزيں ايسی ہيں جن وجہ سے اسے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫مرنے بعدبھی ثواب پہنچتارہتاہے‬ ‫‪١‬۔صدقہ جاريہ‬ ‫‪٢‬۔علم کہ جس سے لوگ استفاده کرتے ہيں‬ ‫‪٣‬۔فرزندصالح جومرنے کے ‪ :‬بعداپنے والدکے لئے دعائے مغفرت کرتاہے ۔ ‪ .‬عوالی اللئالی ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪۵٣‬‬

‫وجہ تسميہ “نمازکے آداب واسرار“‬ ‫نماز ايک ايسی عبادت ہے جسے انبےائے کرام اورمعصومين نے اپنا سر لوحہ ٔعبادت قرار دےاہے‬ ‫اوراپنے زمانے کے لوگوں کو اس کے بجاالنے کا حکم بھی د ےا ہے انمازتمام انبياء وآئمہ اطہار اورجملہ‬ ‫مومنين ومومنات کی روح وجان ہے ‪،‬ان کی آنکھوں کی روشنی ہے‪،‬معراج امت محمدی ہے ‪ ،‬دردمندوں کے‬ ‫لئے باعث شفاہے ‪،‬ضرورتمندوں کی حاجت کوپوری کرتی ہے ‪،‬انسان کوبرائيوں سے دور رکھتی ہے جس‬ ‫کے ذريعہ دل کوسکون واطمينان روح کوتازگی‪ ،‬رنج وغم سے نجات اورحيات جاودانی نصيب ہوتی‬ ‫ہے‪،‬ليکن يہ يادرہے صرف وہی نمازانسان کوگناہوں سے دورنہيں رکھ سکتی ہے جسے وه اسے اس کے‬ ‫پورے آداب شرائط کے ساتھ اورمحمدوال محمد کی محبت اوران کی واليت کے زيرسايہ انجام ديتاہے۔‬ ‫اس کتاب کانام“نمازکے آداب واسرار”رکھنے کی وجہ يہ ہے کہ اس کتاب ميں تمام افعال واعمال‬ ‫نمازاسرارکو بيان کياگياہے ‪،‬مثالًﷲ کی اطاعت وبندگی کارازکياہے ‪ ،‬روزانہ پانچ ہی نمازيں کيوں واجب‬ ‫قراردی گئی ہيں اس سے کم يازياده کيوں نہيں ‪،‬ان ہی اوقات ميں نمازکوکيوں واجب قراردياگياہے ‪،‬نمازکے‬ ‫لئے طہارت کے واجب قراردئے جانے کی وجہ کياہے ‪،‬نمازکوتکبيرکے ذريعہ کيوں آغازکياجاتاہے…‬ ‫کتاب ہذاميں احکام نمازکوذکرنہيں کياگياہے کيونکہ اگراحکام نمازکوذکرکياجاتاتواس بارے ميں مراجع عظام‬ ‫کے فتووں کے مطابق روايتوں کوذکرکياجاتااوران کے اختالف کوبھی ذکرکياجاتاکہ جسکے لئے ايک مستقل‬ ‫استداللی کتاب کی ضرورت ہے ۔ کتاب ہذاميں تعقيبات نمازکے آداب واسرارکوبھی ذکرکياگياہے مثالتسبيح‬ ‫حضرت زہرا کا آغاز کب اورکيسے ہوا‪،‬دعاکرناکيوں ضروری ہے ‪،‬دعاکرنے کاطريقہ کياہے ‪،‬کن لوگوں کی‬ ‫دعاقبول ہوتی ہے اورکن کی دعاقبول نہيں ہوتی ہے اورمومن کی دعاتاخيرسے کيوں قبول ہوتی ہے۔ اميدہے‬ ‫کہ ميرے محترم قارئين اس کتاب کے ذريعہ تمام اعمال وافعال نمازکے آداب واسرارکے بارے ميں کالم‬ ‫خداورسول وآئمہ اطہارعليہم الصالة والسالم نورانی کلمات سے مستفيض ہونگے اوراپنے آپ کوتحت‬ ‫تاثيرقرارپائيں گے اوراپنے اندرايک عجيب نورانيت محسوس کريں گے اوراميد ہے کہ يہ کتاب بارگاه‬ ‫خداوندی ومعصومين ميں مقبوليّت کا شرف حاصل کرے گی اورناشر ومترجم اوراس کتاب سے فيضياب‬ ‫ہونے والوں کے گناہوں کے لئے بخششکا سبب واقع ہوگی‬ ‫۔ رجب علی حيدری ‪.‬‬ ‫‪/ ١٧‬ربيع االول ‪ ١۴٢۶‬مطابق ‪/ ٢۶‬جنوری ‪٢٠٠۵‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫رازاطاعت وبندگی‬ ‫‪١‬۔انسان عبادت کے لئے پيداہواہے‬ ‫وتعالی نے دنياميں کسی بھی مخلوق کو بے کار و بيہوده خلق نہيں کياہے بلکہ ان سب کی کوئی وجہ خلقت‬ ‫ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫ضرورہے اوران سب چيزوں کے خلق کرنے ميں کوئی راز و فلسفہ و سبب پاياجاتاہے اوروه يہ ہے کہ خداوندعالم نے جن‬ ‫وانس کو اس لئے پيداکياہے کہ وه‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ّ‬ ‫ْ‬ ‫ُ‬ ‫َ‬ ‫ﱠ‬ ‫َ‬ ‫ْ‬ ‫س اِال لِيَعبُدُون‪١ )<.‬‬ ‫اال ن َ‬ ‫اس کی عبادت کريں جيساکہ قرآن کريم ميں ارشادخداوندی ہے‪َ < ( :‬و َما خقلت ال ِجن َو ِ‬ ‫ميں نے جن وانسکونہيں پيدا کيا مگريہ کہ وه) ميری (عبادت وبندگی کريں۔‬ ‫جميل ابن دراج سے مروی ہے ميں نے امام صادق سے اس آيہ ٔمبارکہ کے بارے ميں سوال کيااورکہا‪:‬اے ميرے موال!آپ‬ ‫پرميری جان قربان ہو‪،‬آپ مجھے اس قول خداوندی کے معنی‬ ‫ومفہوم سے آگاه کيجئے ؟امام )عليھ السالم( نے فرمايا‪:‬يعنی خداوندعالم نے تمام جن وانس کوعبادت کے لئے پيداکياہے ‪،‬ميں‬ ‫کہا‪:‬خاص لوگوں ياعام لوگوں کو؟امام )عليھ السالم( نے فرمايا‪:‬عام‬ ‫( لوگوں کواپنی عبادت کے لئے خلق کياہے ۔) ‪٢‬‬ ‫دنياکی ہرشے ٔرب دوجہاں کی تسبيح وتقديسکرتی ہے بعض موجودات ايسے ہيں جو ہميشہ قيام کے مانند کھﮍا رہتے ہيں ﷲ‬ ‫کی حمدوثنا کرتے رہتے ہيں وه درخت وغيره ہيں اوربعض موجودات ايسے ہيں جوہميشہ رکوع کی مانندخميده حالت ميں‬ ‫رہتے ہيں جيسے‬ ‫چوپائے‪ ،‬اونٹ‪ ،‬گائے ‪،‬بھيﮍ‪ ،‬بکرياں‬ ‫‪--------‬‬

‫‪   ‬‬

‫‪(٢ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ١۴‬سوره زاريات‪/‬آيت ‪) ۵۶‬‬

‫وغيره اوربعض ايسے بھی جو ہميشہ زميں پرسجده کے مانندپﮍے رہتے ہيں وه حشرات اورکيﮍے وغيره ہيں اور بعض‬ ‫موجودات ايسے ہيں جوہميشہ زمين پر بيٹھے رہتے ہيں وه حشيش و نبا تات وگل وگيا ه وغيره ہيں جيساکہ قرآن کريم ميں‬ ‫تعالی ہے‪:‬‬ ‫ارشادباری‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫ﱠ‬ ‫ُ‬ ‫ْ‬ ‫ّ‬ ‫ْ‬ ‫ض َوالطي ِْر ٰ‬ ‫ص َالتَہ ( َوتَ ْسبِ ْي َحہ َوﷲُ َعلِ ْي ٌم بِ َمايَف َعلوْ نَ <‪١ ).‬‬ ‫ص آف ا ٍ‬ ‫ت ُکلﱡ قَ ْد َعلِ َم َ‬ ‫<اَلَ ْم تَ َراَ ﱠن ﷲَ يُ َسبﱢ ُح لَہ َم ْن فِ ْی ال ﱠس َم ٰوا ِ‬ ‫ت َواالَرْ ِ‬ ‫کياتم نے نہيں ديکھاہے کہ ﷲ کے لئے زمين وآسمان کی تمام مخلوقات اور فضاکے صف بستہ طائرسب تسبيح کررہے ہيں‬ ‫اورسب اپنی اپنی نمازوتسبيح سے باخبر ہيں اورﷲ بھی ان کے اعمال سے خوب واقف ہے۔‬ ‫‪٢‬۔شکرمنعم واجب ہے‬ ‫زمين وآسمان‪،‬آفتاب وماہتاب‪ ،‬چگمگاتے تارے ‪ ،‬پھول اورپودے ‪،‬پھولوں ميں خوشبو‪ ،‬کليوں ميں مسکراہٹ ‪،‬غنچوں ميں چٹخ‬ ‫‪،‬چﮍيوں ميں چہک ‪،‬زمين ميں ہرے بھرے جنگل ‪ ،‬ميٹھے‬ ‫اوررسيلے پھلوں سے لدے ہوئے درخت ‪،‬يہ موج مارتے درياوسمندر‪ ،‬آسمان ميں اڑتے ہوئے پرندے‪ ،‬چہکتی ہوئی‬ ‫چﮍياں‪،‬آسمان سے نازل ہونے والے برف وبارش کے قطرے‪ ،‬درختوں کے پتے ‪،‬يہ ہيرے وجواہرات‪ ،‬يہ سونے وچاندی‬ ‫اورنمک وکوئلے کی کانيں‪،‬يہ جﮍی بوٹياں اورديگربے‬ ‫شماراوربے حساب نعمتيں جوﷲ کی طرف سے انسان کی پيدائش سے پہلے ہی شروع ہوجاتی ہيں اورپوری زندگی ہرطرف‬ ‫سے اورہرآن ميں نازل ہوتی رہتی ہيں۔‬ ‫اس نے ہميں سوچنے ‪،‬سمجھنے اورغوروفکرکرنے کے لئے عقل وشعور‪،‬علم وفہم‪ ،‬رنگوں اورشکلوں کی پہچان کے لئے‬ ‫قوت بينائی ‪،‬آوازوں کو سننے کے لئے قوت سامعہ‪ ،‬ذائقہ چکھنے لئے زبان‪،‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬سوره نٔور‪/‬آيت ‪) ۴١‬‬

‫خوشبو اور بدبوکی شناخت کے لئے قوت شامہ ‪،‬گرم و ٹھنڈا محسوس کرنے لئے قوت المسہ عطاکی ہے اوراس نے ہميں‬ ‫اس معاشرے ميں عزت وشرافت ‪،‬جود وسخاوت اور مال ودولت وغيره جيسی نعمتيں عطاکی ہيں‪،‬کيا تمام نعمتوں‬ ‫پراسکاشکرادانہ کياجائے‪.‬‬ ‫اگر کوئی بادشاه کسی شخص کوايک تھيلی اشرفی عطاکردے تووه کس قدراس کامريدبن جاتاہے ‪،‬کس قدراسے يادکرتاہے‬ ‫اوراس کی کت نی زياده تعريفيں کرتاہے ليکن جس نے ہميں ان نعمتوں سے ماالمال کياہے اس کی ان تمام نعمتوں کوديکھ‬ ‫کرہماہمارافرض بنتاہے‬ ‫کہ اس کی عطاکی ہوئی بے کراں نعمتوں کا شکراداکريں‪،‬اس کی تعظيم واکرام کريں‪،‬اس کے ہرحکم کے آگے اپناسرتسليم‬ ‫کريں‪،‬اس کی عظمت کی خاطرزمين سجده کے لئے پيشانی‬ ‫رکھديں‪،‬اس کی حمدوثناکريں ‪،‬اس کی عبادت اورپرستش کريں‪،‬ليکن جس نے تمھيں رحم مادرميں جگہ دی ہو اور وہاں چند‬ ‫اندھيرے پردوں ميں تمھاری حفاظت کی ہے خداوندعالم نے قرآن کريم می ‪0‬کرمنعم کوواجب اور کفران نعمت کوحرام‬ ‫قراردياہے ‪:‬‬ ‫< َوا ْش ُکرُوْ لِ ْی َو َالتَ ْکفُرُوْ ِن<) ‪ (١‬تم ميراشکر ادا کرو اورکفران نعمت نہ کرو۔‬ ‫اورسوره قٔريشميں اسی نکتہ کی طرف اشاره کرتے ہوئے ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫ت الّ ِذیْ اَ ْ‬ ‫( <فَ ْليَ ْعبُ ُدوْ ا َربﱠ ٰہ َذ ْ‬ ‫ف<) ‪٢‬‬ ‫ع َوآ َمنَہُ ْم ِم ْن ُخوْ ٍ‬ ‫االبَ ْي ِ‬ ‫ط َع َمہُ ْم ِم ْن جُوْ ٍ‬ ‫اے رسول !اپنے زمانے کے ان لوگوں سے کہديجئے کہ اس گھرکے مالک کی عبادت کروجسکے طفيل ميں يہ تجارت قائم‬ ‫ہے اوريہ امن وامان کی زندگی برقرارہے۔‬ ‫عالمہ ذيشان حيدرجوادی “ترجمہ وتفسيرقرآن کريم”ميں اس آيہ مبارکہ کے ذيل ميں لکھتے ہيں‪:‬‬ ‫چھٹی صدی عيسوی ميں مکہ کی آبادی تين حصوں پرمنقسم تھی ۔نصربن کنانہ کی‬ ‫اوالدقريش ‪،‬قريش کے حليف دوسرے عرب اورغالم ‪،‬مکہ مکرمہ ميں قريش تجارت پيشہ لوگ تھے اوران کے سال ميں‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره ٔبقره‪/‬آيت ‪)١ ( ١۵٣‬سوره ٔقريش‪/‬آيت ‪٣‬۔ ‪) ۴‬‬

‫دوسفرتجارت ہواکرتھے ‪ ،‬سردی ميں يمن کی طرف اورگرمی ميں شام کی طرف ‪،‬يہ اپنی تجارت ميں لئے مضبوط‬ ‫اورکامياب تھے کيونکہ مکہ کے رہنے والے تھے اورشام ويمن کے لوگ ان سے مرعوب رہاکرتے تھے اوردہشت زده بھی‬ ‫تھے ‪،‬ان کے مرعوب رہنے کی ايک وجہ تھی کہ باآلخرانہيں حج کے موسم ميں مکہ جاناپﮍتاہے ل ٰہذاقدرت نے اسی احسان‬ ‫کوياددالکربتالياکہ ہراحسان کاايک تقاضہ ہوتاہے اورہمارے احسان کاتقاضہ يہ ہے کہ اس گھرکے مالک کی عبادت‬ ‫کروجسکے طفيل ميں يہ تجارت قائم ہے اوريہ امن وامان کی زندگی برقرارہے۔‬ ‫رب العالمين نے اپنی عبادت کوشکرکرنے کاطريقہ قراردياہے‪:‬‬ ‫( <بَ ِل ﷲَ فَا ْعبُ ْد َو ُک ْن ِمنَ ال ﱠشا ِک ِر ْينَ <) ‪١‬‬ ‫تم صرف ﷲ کی عبادت کرواوراسکے شکرگزاربندے بن جاؤ۔‬ ‫انبيائے کرام اورآئمہ اطہار سے نہ کوئی خطا سرزد ہوئی ہے اورنہ ہوسکتی ہے کيونکہ وه سب معصوم ہيں اورمعصوم‬ ‫سے کوئی گناه سرزدنہيں ہوسکتاہے ليکن شکرگزاری اوربنده نوازی کے طورسے اس قدر نمازيں پﮍھتے تھے کہ ان کے‬ ‫پيروں پرورم کرجاتے اور پيشانی و زانوئے مبارک پرگٹھے پﮍگئے تھے ۔‬ ‫زہری سے مروی ہے کہ ‪ :‬ميں علی بن الحسين کے ہمرا ه عبدا لملک بن مروان کے پاس‬ ‫پہنچا توجيسے ہی عبدالملک کی نظر امام )عليھ السالم( پر پﮍی تو آپ)عليھ السالم( کی پيشانی پرسجدوں کے نشا ن ديکھ کر‬ ‫تعجب سے کہا ‪:‬‬ ‫اے ابامحمد ! تمھاری پيشانی پر عبادت کے آثا ر نماياں ہيں ‪،‬تمھيں اسقدر نمازيں پﮍھنے کی کيا ضرورت ہے ؟جبکہ‬ ‫خداوندعالم نے تمام خيرو نيکی کوتمھارے مقدرميں لکھ رکھاہے‪ ،‬تم سے نہ کوئی گناه سرزدہواہے اورنہ ہوسکتاہے ‪،‬کيونکہ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫تم پيغمبر خدا کے پاره ت ن ہو‪،‬تمھارا ان سے مضبوط ومحکم رشتہ ہے ‪،‬تم‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬سوره ٔزمر‪/‬آيت ‪) ۶۶‬‬

‫اپنے خاندان اور اپنے زمانے کے لوگوں ميں ايک عظيم مرتبہ رکھتے ہو‪ ،‬وه علم وفضيلت‬ ‫اورتقوی ودين جو تمھارے پاس ہے وه تمھارے خاندان ميں نہ کسی کے پاس تھا اور نہ اس وقت کسی کے پاس موجود‬ ‫ہے‪،‬ان تمام مراتب رکھنے کے باوجودپھربھی تم ات نی نمازيں پﮍھتے ہوکہ پيشانی پرگٹھاپﮍگياہے۔‬ ‫جب عبداالملک نے آپ کی اس طرح بہت زياده مدح سرا ئی کی تواس وقت امام سجاد ‪-‬‬ ‫نے فرمايا‪ :‬يہ خداکے عطاکئے ہوئے تمام فضائل وکماالت جو تو نے ميرے بارے ميں بيان کئے ہيں کيا ان تمام نعمتوں پر‬ ‫شکرخدا نہ کروں ؟ اوراسکے بعدامام )عليھ السالم(نے عبدالملک سے کہا‪:‬‬ ‫نبی اکرم )ص( اس قدرنمازيں پﮍھتے تھے کہ پاہائے مبارک ورم کرجاتے تھے‪ ،‬جب آنحضرتسے کسی نے پوچھا‪:‬اے ﷲ‬ ‫__________کے پيارے نبی! جب خدانے تمھارے اگلے پچھلے تمام گناه) ‪(١‬معاف کردئے ہيں توپھرتمھيں يہ سب زحمت‬ ‫اٹھانے اوراس قدرنمازيں پﮍھنے کی کيا ضرورت ہے؟آنحضرت نے فرمايا ‪:‬‬ ‫”اَفَالاَ ُکونُ َعبْداً ُش ُکوْ راً ”کياﷲ کے ان تمام احسانات پراوراس کی نازل کی ہوئی نعمتوں‬ ‫پراس کاشکرگزاربنده نہ بنوں؟‬ ‫اس کے بعدامام )عليھ السالم( نے عبدالملک ابن مروان سے خطاب فرمايا‪ :‬تعريف کرتاہوں خداکی ہر عطا کی ہوئی نعمت پر‬ ‫کہ جن کے ذريعہ وه ہماراامتحان ليتا ہے ‪ ،‬دنيا و آخرت ميں تمام تعريفيں اسی کے لئے ہيں‪ ،‬خدا کی قسم اس کی عبادت ميں‬ ‫اگر ميرا بدن ٹکﮍے ٹکﮍے ہو جائے‪،‬ميری آنکھيں نکل کرميرے سينہ پرگرجائيں پھربھی اس کی عطاکرده نعمتوں ميں ايک‬ ‫نعمت کاايک دہائی شکرنہيں اداکرسکتاہوں‪ ،‬دنيا ميں جت نے بھی لوگ خداکی حمدوثناکرتے ہيں ان سب کی حمدوثناخداکی‬ ‫ايک نعمت کے برابربھی نہيں ہوسکتی ہے‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١‬سوره ٔفتح ‪/‬آيت ‪.٢‬ميں ذنب سے وه گناه مرادہيں )‬

‫جوکفارکے خيال ميں نبی اکرم پرلگائے جاتے تھے ‪،‬کفارقريش آپ پرجادوگر‪،‬جنون‪،‬شاعر‪،‬کہانت اورہوس اقتدارکے الزام‬ ‫لگاتے تھے۔‬ ‫بس ميری زند گی يہی ہے کہ رات دن اور خلو ت وآشکا ر ميں اس کا ذکر کر تا رہوں ‪،‬بيشک ميرے اہل خانہ اور دوسرے‬ ‫لوگ بھی مجھ پرکچھ حقوق رکھتے ہيں) جن کااداکر نا مجھ پرالزم ہے (اگريہ حقوق ميری گردن پرنہ ہوتے تو ميں اپنی‬ ‫آنکھوں کو آسمان کی طرف اور د ل کو خدا کی طرف متوجہ کر ليتا يہاں تک کہ ميرے بدن سے روح قبض ہو جا تی اور‬ ‫ميں ہر گزاس کی طرف سے اپنے دل اورآنکھوں کو نہ ہٹاتا اور وه بہترين حکم کر نے واال ہے يہ کہہ کے امام ( سجاد‬ ‫رونے لگے اور عبدا لملک بھی رونے لگا۔) ‪١‬‬ ‫‪٣‬۔انسان کی فطرت ميں عبادت کاجذبہ پاياجاتاہے‬ ‫خداوندعالم نے انسان کی طينت وفطرت ميں عبادت کاجذبہ پيداکياہے‪،‬ل ٰہذاانسان دنياميں آنے کے بعدجيسے ہی عقل وشعور‬ ‫کی راه ميں قدم رکھتاہے تواس ميں يہ فطرت پيداہوجاتی ہے کہ مجھے کسی عظيم ذات کی اطاعت وعبادت کرنی چاہئے‬ ‫ل ٰہذاجب انسان اپنی فطرت کے مطابق عبادت کی راه قدم اٹھاتاہے تو وه معبودحقيقی کی عبادت کرتاہے جوراه مستقيم ہے‬ ‫ياپھرگمراہی کاشکارہوکرجھوٹے اورباطل خداؤں کی پوجاکرناشروع کرديتاہے۔ بت ‪،‬چاند‪،‬سورج ‪،‬دريا‪،‬پہاڑ…کی پرستش‬ ‫وعبادت کرنايہ سب باطل اورگمراہی کے نمونے ہيں کيونکہ ان سب چيزوں کوخدانے خلق کياہے اورکسی بھی مخلوق‬ ‫کوخدائی کا درجہ ديناحرام اورباطل ہے ۔‬ ‫( <اِنﱠنِی اَنَاﷲ الاِ ٰلہَ اِ ّالاَنَافَا ْعبُ ْدنِی<) ‪٢‬‬ ‫ميں ﷲ ہوں ميرے عالوه کوئی معبودنہيں ہے پستم ميری عبادت کرو۔‬ ‫اب جولوگ معبودحقيقی کی تالش ميں گمراہی کاشکارہوجاتے ہيں اورﷲ کے عالوه کسی دوسرے کی پرستش کرنے لگتے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ہيں ان کی ہدايت کے لئے خداوندعالم نے بہترين انتظام کياہے‪،‬اس نے ہرزمانہ ميں راه مستقيم سے ہٹ کرچلنے والے اورﷲ‬ ‫کے عالوه کے کسی دوسرے کی عبادت کرنے والے‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره ٰٔ‬ ‫طہٰ‪/‬آيت ‪)١ . ( ١۴‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ۴۶‬ص ‪) ۵۶‬‬

‫لوگوں کوراه حق کی ہدايت کے لئے ايک ہادی بھجتارہاہے۔‬ ‫( < َولَقَ ْد بَ َع ْثنَافِ ْی ُک ّل اُ ﱠم ٍة َرسُوْ ًالاَ ِن ِ◌ ا ْعبُدُواﷲَ َواجْ ت نبُواالطﱠاْ ُغوْ تَ <) ‪١‬‬ ‫ہم نے ہرامت ميں ايک رسول بھيجا)تاکہ وه تم سے کہيں کہ(ﷲ کی عبادت کرو اور‬ ‫طاغوت سے اجت ناب کرو )اورآج بھی اس کاايک ہادی پرده غٔيب ميں ره کرہميں ہدايت کررہاہے (۔‬ ‫اميرالمومنين حضرت علينے نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کے مبعوث کئے جانے کے رازومقصدکو نہج البالغہ ميں اس‬ ‫طرح بيان فرماياہے ‪ ( :‬فَبَ َع َ‬ ‫ان اِ ٰلی عبادتہ۔) ‪٢‬‬ ‫ث ﷲُ ُمح ّمداً ِليَخر َج ِعبا َدهُ ِمن عبا َد ِة االَوثَ ِ‬ ‫ﷲ نے حضرت محمد )صلی ﷲ عليھ و آلھ( کواس لئے مبعوث کياہے تاکہ وه لوگوں کوبت پرستی سے نکال کرخداپرستی کی‬ ‫طرف لے آئيں۔‬ ‫خداوندعالم زمانہ کے ساتھ ساتھ اپنانمائنده اوررہبربھيجتارہاہے‪،‬سب سے پہلے حضرت آدم)عليھ السالم( )عليھ‬ ‫السالم(کوبھيجاتاکہ اپنی اوالدکوکفر سے دوررہنے کی ہدايت کريں‪،‬اسی طرح يکے بعدديگرے ہدايت کے لئے انبياء ورسل‬ ‫آتے رہے اورآخری نبی کے بعدان کی نسل سے آئمہ طاہرين کا سلسلہ شروع ہوااورآج بھی ﷲ کی طرف سے ايک ہادی‬ ‫موجودہے جوپرده غٔيب سے لوگوں ہدايت کرتے رہتے ہيں ليکن اکثرلوگ شيطان کی پيروی کرتے ہوئے ﷲ کے ان بھيجے‬ ‫ہوئے نبيوں کی باتوں کونہيں مانتے ہيں اوردنياميں کسی طاقتورچيزکوديکھ کراسی کی عبادت شروع کرديتے ہيں۔‬ ‫‪۴‬۔ پروردگارکی تعظيم کرناواجب ہے‬ ‫جب انسان کسی عظيم مرتبہ شخصيت سے مالقات کرتاہے اورايک بﮍے عالم وقابل شخص کاديدارکرتا ہے ‪ ،‬تويہ مالقات‬ ‫اورديدارانسان کوتواضع اوراس کے سامنے جھکنے پرآماده کرتی ہے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬نہج البالغہ خطبہ ‪)١ . ( ١۴٧‬سوره نحل‪/‬آيت ‪) ٣۶‬‬

‫ايک عالم وقابل شخص کاديدارانسان کواس کے ادب واحترام وتعظيم وتکريم پرمجبورکرديتا ہے اورانسان اپنے آپ کواس کی‬ ‫عظمت اوراس کے علم وکمال کے آگے خودکوناچيزاورکم علم شمارکرتاہے تواس کاادب وتعظيم کرنے لگتاہے ۔ خداوندعالم‬ ‫تمام عظمتوں اورجاللتوں کامالک ہے ‪،‬وه سب سے بﮍاہے ‪،‬سب سے بﮍاعالم ہے ‪،‬حی ہے‪ ،‬قديرہے‪…،‬يہ تمام صفات ثبوتيہ‬ ‫اورسلبيہ اس کی عظيم ہونے کی واضح دليل ہيں اوروہی سب کاحقيقی موالوآقاہے ل ٰہذاہرانسان پرالزم ہے کہ اپنے حقيقی‬ ‫موالوآقاکی تالش کرے اوراس کاادب واحترام اورتعظيم کرے لہذاجب انسان حقيقی موالکی تالش کرتاہے تواپنے آپ کواس‬ ‫کی عظمت وجاللت کے آگے ناچيزاورکم علم حساب کرتاہے ‪،‬اپنے آپ کوذليل وحقيرپاتاہے تواس کے ادب واحترام ‪،‬اس کی‬ ‫تعظيم وتکريم پرآماده ہوجاتاہے۔‬ ‫‪۵‬۔ہرانسان محتاج اورنيازمندہے‬ ‫اشرف المخلوقات انسان خواه کت نی مال ودولت کامالک بن جائے اورکت نے ہيں عيش‬ ‫وآرام کاسامان جمع کرلے ليکن پھربھی اپنے آپ کوعاجزوانکسار‪،‬ضعيف وناتواں اورمحتاج وضرورتمندمحسوس کرتاہے‬ ‫اورکسی طرح سے اپنی غرض اورضرورت کوحاصل کرنے کی کوشش کرتاہے اورانسان پرالزم ہے کہ اپنی حاجتوں‬ ‫کوپوری کرنے کے لئے کسی ايسی ذات کی طرف رجوع کرے جو کسی کامحتاج نہ ہو‪،‬جودينے سے انکارنہ کرے‬ ‫اورعطاکرنے سے اس کے خزانہ ميں کوئی کمی نہ آسکے اوريہ صرف پروردگارکی ذات ہے جوہرچيزسے بے‬ ‫نيازاورغنی مطلق ہے‪،‬سب کی حاجت اورضرورت کوپوراکرتاہے اورعطاکرنے سے اس کے خزانہ رحمت کوئی نہيں‬ ‫آسکتی ہے اس نے قرآن کريم ميں اپنے بندوں کووعده دياہے کہ ميں تمھاری آوازکوسنتاہوں ل ٰہذاتم اپنی حاجتوں کوصرف ہی‬ ‫ﷲ َوﷲُ ہُ َو ْال َغ ِن ﱡی ْال َح ِم ْي ِد<) ‪١‬‬ ‫سے بيان کرو اورطلب کرو ( < ٰيااَيﱡہَاالنﱠاسُ اَ ْنتُ ُم ْالفُقَ َرآ ُء اِ ٰلی ِ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اے لوگو!تم سب ﷲ کی بارگاه کے فقيرہواورﷲ صاحب دولت اورقابل حمدوثناہے ۔‬ ‫( < َوقَا َل َربﱡ ُک ُم ا ْد ُعوْ نِ ْی اَ ْست َِجبُ لَ ُک ْم<) ‪٢‬‬ ‫اورتمھارے پرودگارکاارشادہے کہ مجھ سے دعاکروميں قبول کروں گا۔‬ ‫عبادت اوربندگی کاطريقہ‬ ‫جب پروردگارنے جن وانس کواپنی عبادت کے لئے پيداکياہے اورطينت وفطرت انسانی ميں عبادت کاجذبہ پيداکياہے‬ ‫اورشکرمنعم کوواجب قراردياہے ان تمام چيزوں سے يہ واضح ہوتاہے کہ ﷲ کی اطاعت وبندگی کرناالزم ہے مگرسوال يہ‬ ‫ہے کس طرح اس اطاعت وبندگی اورتعظيم کرتکريم کی جائے کس طرح اس کاادب واحترام کياہے اگراس کی اطاعت‬ ‫وبندگی کرنے کاکوئی خاص طريقہ ہے تو اپنے بندوں کواس سے آگاه کر ے خداوندعالم نے قرآن کريم کی چندمتعددآيتوں‬ ‫ميں نمازکو شکرنعمت اوربندگی کاطريقہ قراردياہے‪:‬‬ ‫ک ہُ َواالَ ْبتَرُ<) ‪١‬‬ ‫ص ّل لِ َرب َ‬ ‫ک ْال ُکوثَ َرفَ َ‬ ‫( <اِنﱠااَ ْعطَ ْينَا َ‬ ‫ّک َوال ْن َحرْ اِنﱠاشَانِئَ َ‬ ‫اے رسول بر حق بےشک ہم نے تمھيں کوثر عطا کيال ٰہذاتم اپنے رب کے لئے‬ ‫نمازپﮍھواورقربانی دو‪،‬يقيناتمھارادشمن بے اوالدرہے گا۔‬ ‫کتب تفاسير ميں لفظ کوثر کے متعدد معنی ذکرہوئے کئے گئے ہيں‪:‬خيرکثير‪ ،‬بہشت ميں ايک نہر ‪--------‬‬ ‫‪(٢ .‬سوره ٔغافر‪/‬آيت ‪)١ . ( ۶٠‬سوره ٔفاطر‪/‬آيت ‪) ١۵‬‬ ‫‪)١ .‬سوره کٔوثر‪/‬آيت ‪١‬۔ ‪٢‬۔ ‪) ٣‬‬

‫جناب سيدة کی نسل سے اوالد کثير‪ ،‬شفاعت‪،‬قرآن‪ ،‬اسالم‪ ،‬علمائے دين واصحاب وياران باوفا ‪ ،‬نبوت ۔‬ ‫ان مذ کو ر مواردميں سے ہر ايک پر کوثر کا مصداق ہو تا ہے اور ممکن ہے ان سب کے‬ ‫مجموعہ کوکوثر کہا جاتاہوليکن اس ميں کوئی شک نہيں ہے کہ خداوندعالم نے جس قدرخيرکثيراورنعمتيں اپنے حبيب‬ ‫حضرت محمدمصطفی )صلی ﷲ عليھ و آلھ( کوعطاکی ہيں کسی اورکونہيں دی ہيں‪،‬انتہايہ ہے کہ آنحضرت کے دشمنوں‬ ‫کوابتربنادياہے اوران کی نسلوں کومنقطع‬ ‫کرکے اپنے حبيب کی لخت جگرسے ايک ايسی نسل پيداکی جوقيامت تک باقی رہے گی‪ ،‬ل ٰہذاخداوندعالم نے ان تمام نعمتوں‬ ‫کے نازل کرنے پراپنے رسول سے کہا‪ :‬اے ميرے حبيب تم ان نعمتوں کے نزول پر ميرا اس طرح شکر اداکرو‪:‬‬ ‫ک ہُ َواالَ ْبتَرُ>‬ ‫ک َوال ْن َحرْ ‪،‬اِنﱠاشَانِئَ َ‬ ‫ص ّل لِ َربّ َ‬ ‫<ف َ َ‬ ‫اپنے رب کے لئے نمازپﮍھواورقربانی دو‪،‬يقيناتمھارادشمن بے اوالدرہے گا۔‬ ‫اللھنے اپنے حبيب سے ان تمام نعمتوں پر شکراداکرنے کے لئے نمازاورقربانی کامطالبہ کياہے جواس بات کی دليل ہے کہ‬ ‫انسان کوجب بھی کوئی خيرونعمت نصيب ہوتواس کافرض بنتاہے کہ خداکاشکرخدااداکرے اورشکرخداکابہترين طريقہ يہ‬ ‫ہے کہ نمازقائم کرے اورراه خداميں قربانی دے۔‬ ‫( <اِنﱠنِی اَنَاﷲُ الاِ ٰلہَ اِ ّالاَنَافَا ْعبُ ْدنِی َواَقِ ِم الصﱠالةَلِ ِذ ْک ِری <) ‪١‬‬ ‫ميں ﷲ ہوں ميرے عالوه کوئی معبودنہيں ہے پس تم ميری عبادت کرواورميری يادکے لئے نمازقائم کرو۔‬ ‫ان مذکوره دونوں ايتوں سے يہ ثابت ہوتاہے کہ ﷲ کی عبادت اوربندگی کرنے کاايک خاص ‪--------‬‬ ‫‪)١ .‬سوره ٰٔ‬ ‫طہٰ‪/‬آيت ‪) ١۴‬‬

‫طريقہ ہے اوروه يہ ہے کہ اس کے لئے نمازقائم کی جائے تاکہ نمازکے ذريعہ اس کی نعمتوں کاشکراداکياجائے اورنعمتوں‬ ‫کے نزول کاسلسلہ جاری رہنے کے لئے دعاء کی جائے اورنمازکی صورت ميں اس کاادب واحترام کياجائے۔‬ ‫رازوجوب نماز‬ ‫اس سے پہلے کہ ہم نمازکے واجب ہونے کے رازکوذکرکريں خودنمازکے واجب ہونے کو بيان کردينامناسب سمجھتے‬ ‫ٰ‬ ‫کوثروط ٰہ آيت ‪ ١۴‬کے عالوه اوربھی آيتيں ہيں جو نماز کے واجب ہونے پرداللت کرتی ہيں جن ميں سے چندآيت‬ ‫ہيں‪،‬سوره‬ ‫ذکرکررہے ہيں ‪:‬‬ ‫ْ‬ ‫ً‬ ‫ً‬ ‫ُ‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫( <اِ ﱠن الص ٰﱠلوةَ َکانَت َعلی ال ُمو ِمنِ ْينَ ِکتَابا َموقوتا<) ‪١‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫بے شک نمازکوصاحبان ايمان پرايک وقت معين کے ساتھ واجب کياگياہے۔‬ ‫زراره سے مروی ہے کہ امام صادق اس قول خداوندی کے بارے ميں فرماتے ہيں ‪ :‬موقوت ( سے مفروض مرادہے ۔) ‪٢‬‬ ‫( <اَقِ ْي ُموالص ٰﱠلوةَ َواتﱠقُوهُ ہُ َو الﱠ ِذیْ اِلَ ْي ِہ تُحْ َشرُوْ نَ <) ‪٣‬‬ ‫نمازقائم کرواوراللھسے ڈروکيونکہ وه وہی ہے جسکی بارگاه ميں حاضرکئے جاؤگے ۔‬ ‫( < ُمنِ ْيبِ ْينَ اِلَ ْي ِہ َواتﱠقُوْ هُ َواَقِ ْي ُموْ االص ٰﱠلوةَ َو َالتَ ُکوْ نَ ِمنَ ْال ُم ْش ِر ِک ْينَ <) ‪۴‬‬ ‫تم سب اپنی توجہ خداکی طرف رکھواوراس سے ڈرتے رہو‪،‬نمازقائم کرواورخبردارمشرکين ميں سے نہ ہوجانا۔‬ ‫< َوا ِق ْي ُموالص ٰﱠلوةَ َو ٰاتُواال ﱠز ٰکوةَ<) ‪ (۵‬اورنمازقائم کرواورزکات اداکرو۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٣ .‬سوره أنعام‪/‬آيت ‪(٢ . ( ٧٢‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪)١ . ( ٢٧٢‬سوره نٔساء‪/‬آيت ‪) ١٠٣‬‬ ‫‪(۵ .‬سوره ٔبقره ‪/‬آيت ‪ ١١٠‬۔مزمل ‪/‬آيت ‪)۴ . ( ٢٠‬سوره ٔروم‪/‬آيت ‪) ٣١‬‬

‫ان مذکورآيات کريمہ سے نمازکاواجب ہوناثابت ہے اورمعصومين سے ايسی احاديث نقل کی گئی ہيں جن ميں واضح‬ ‫طورسے نمازکے واجب بيان کياگياہے عن عبدﷲ بن سنان عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬ان ﷲ فرض الزکاة کمافرض (‬ ‫الصالة‪١ ).‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬خداوندعالم نے زکات کواسی طرح واجب قراردياہے جس طرح نمازکوواجب قراردياہے ۔ عن الحلبی‬ ‫قال‪:‬قال ابوعبدﷲ عليہ السالم فی الوترقال‪:‬انماکتب ﷲ الخمس وليست‬ ‫( الوترمکتوبة ان شئت صليتہاوترکہاقبيح‪٣ ).‬‬ ‫حلبی سے روايت ہے کہ ميں نے امام صادق سے نمازشب کے بارے ميں معلوم کياتوآپ نے فرمايا‪:‬خداوندعالم نے پانچ‬ ‫نمازيں واجب کی ہيں اورنمازشب کوواجب قرارنہيں دياہے‪ ،‬چاہوتواسے پﮍھوالبتہ نمازشب کاترک کرناقبيح ہے ۔‬ ‫احاديث معصومين ميں نمازکے واجب قرادئے جانے کی اس طرح بيان کی گئی ہيں‪:‬‬ ‫عمربن عبدالعزيزسے روايت ہے ‪،‬وه کہتے ہيں کہ مجھ سے ہشام بن حکم نے بتايا کہ ميں نے امام صادق سے معلوم کيا‪:‬جب‬ ‫نمازوعبادت لوگوں ان کی حاجتوں اورضرورتوں کوپورا کرنے سے دور رکھتی ہے اوران کے بدن کوزحمت مينڈالتی ہے‬ ‫پس خداوندعالم نے نمازکوکيوں واجب قرارديا ہے؟ امام )عليھ السالم( نے فرمايا‪:‬نمازکے واجب قراردئے جانے کی چندوجہ‬ ‫ہيں جن کی وضاحت اس طرح سے ہے‪:‬‬ ‫اگرلوگوں کو اسی طرح چھوڑدےاجاتااورانھيں نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ()اوران کی آل‬ ‫پاک( کے ذکرويادکے بارے ميں کوئی ت نبيہ اورتذکرنہ دےاجاتااورصرف کتاب خداکوان کے ہاتھوں ميں دے‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٣ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪)١ . ( ١١‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٣‬‬

‫دياجاتاتوان لوگوں کاوہی حال ہوتاجواس )اسالم کے قبول کرنے(سے پہلے تھايعنی وه اپنی حالت پرباقی رہتے ‪،‬اورنبی اکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليھ و آلھ()اوران کی آل اطہار (کہ جنھوں نے دين اسالم اپنايااورقبول کےااورکتابوں کوبھی وضع وجعل‬ ‫کيااورلوگوں کواپنے مذہب ميں داخل کيااورانھيں اپنے مذہب کی طرف دعوت دی اورکبھی کبھی دشمنان دين سے جنگ بھی‬ ‫کی ليکن جب وه دنياسے چلے جائيں گے ان کانام صفحہ ہستی سے مٹ جائے گاان کاحکم مندرس ہوجائے گااوروه ايسے‬ ‫ہوجائيں کہ گويااصالوه اس دنياميں موجودہی نہ تھے پس خداوندعالم نے اراده کياکہ حضرت محمد مصطفی )صلی ﷲ عليھ‬ ‫و آلھ(کادين ومذہب اوران کاامرکوباقی رکھاجائے اور بھاليانہ جائے ل ٰہذاخداندعالم نے ان کی امت پرنمازکوواجب قرار ديا‬ ‫اسی نمازميں پوری دنياکے تمام مسلمان روزانہ پانچ مرتبہ بلندآوازسے اس پيغمبرکانام ليتے ہيں اور افعال نمازکوانجام دينے‬ ‫وتعالی کی عبادت کرتے ہيں اوراس کاذکر کرتے ہيں پس ��سی لئے خداوندعالم نے امت محمدی‬ ‫کے ذريعہ خداوندتبارک‬ ‫ٰ‬ ‫پرنمازکوواجب قراردياتاکہ وه آنحضرت )اور‬ ‫ان کی آل پاک ( کے ذکرسے غافل نہ ہوسکيں اور انھيں نہ بھول سکيں اورنہ ان کاذکرمندرس نہ ( ہوسکے۔) ‪١‬‬ ‫محمدبن سنان سے مروی ہے کہ امام ابوالحسن علی موسی الرضا کی خدمت ميں‬ ‫جوخط لکھے گئے ان ميں امام )عليھ السالم( سے متعددسوال کئے گئے جن ميں ايک سوال يہ بھی تھاکہ خداوندعالم نے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫نمازکوکس لئے واجب قراردياہے؟توامام )عليھ السالم(نے خط کے جواب‬ ‫ميں تحريرکيااوراس ميں نمازکے واجب قرادئے جانے کی اس طرح وجہ بيان کی‪ :‬نمازکے واجب ہونے کی وجہ يہ ہے کہ‬ ‫اس کے ذريعہ خداوندعزوجل کی ربوبيت کااقرارکياجائے اورخداکوشريک جاننے سے انکارکياجائے اورنمازکے ذريعہ‬ ‫خداوندجل جاللہ کی بارگاه ميں عجزوانکساری‪ ،‬تواضع ‪ ،‬خضوع اوراعتراف گناه کااظہارکياجائے ‪،‬نمازکے ذريعہ گذشتہ‬ ‫گناہوں کے بارے ميں طلب بخشش کی جائے ‪،‬خداوندعالم کی عظمت کوذہن ميں رکھ کراس‬ ‫کے سامنے روزانہ پانچ مرتبہ پيشانی کوزمين پررکھاجائے ‪،‬انسان خداکے عالوه کسی کی تعريف نہ کرے اورطغيان‬ ‫وسرکشی نہ کرے ‪،‬انسان اپنے آپ کوخداکے سامنے ذليل و حقيرمحسوس کرے اورخداسے دين ودنياکی بھالئی کی‬ ‫تمناکرے‪،‬انسان شب وروزہميشہ اپنے رب کی يادتازه کرے اوراپنے موالومدبراورخالق يکتاکونہ بھول سکے ‪،‬اپنے رب‬ ‫کاذکرکرے اوراس ( کی بارگاه ميں قيام کرے تاکہ گناہوں اورہرقسم کے فسق وفجورسے محفوظ رہے ۔) ‪٢‬‬ ‫نمازکی اہميت‬ ‫قرآن واحاديث ميں نمازکوجواہميت دی گئی ہے وه اس چيزسے معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کريم ميں فروع واحکام دين سے‬ ‫متعلق جو آيات موجودہيں ان ميں جت نی آيتيں نمازکے بارے ميں نازل ہوئی ہيں ات نی مقدارمينفروع دين ميں سے کسی‬ ‫کے بارے ميں موجودنہيں ہيں‪،‬‬ ‫خمس کے بارے ميں ايک ‪ ،‬روزه کے بارے ميں ‪ / ٣١‬حج کے بارے ميں ‪ / ١٨‬اورزکات سے متعلق ‪ ٣٣‬آيتيں موجود ہيں‬ ‫ليکن خداوندعالم نے اس عظيم عبادت )نماز( کے بارے ميں ‪/ ١٢٢‬يااس سے بھی زياده زياده آيتيں نازل کی ہيں کہ جن ميں‬ ‫نماز کی اہميت ا وراس کے اہم احکام ومسائل کو بيان کيا گيا ہے ۔‬ ‫نمازکی اہميت اس چيزسے بھی معلوم ہوتی ہے کہ مکتب تشيع ميں فقہی روايات کا ايک تہائی حصّہ نماز اور مقد ما ت نماز‬ ‫سے مر بوط ہے ‪،‬کتب اربعہ اور “وسا ئل الشيعہ ” اور “ مستدرک الوسائل” کواٹھاکرديکھيں توان ميں سب سے زياده‬ ‫احاديث نمازسے تعلق رکھتی ہيں‪،‬تحقيق کے مطابق “وسا ئل الشيعہ ” اور “ مستدرک الوسائل”دونوں ايسی مفصل کتا بيں‬ ‫ہيں کہ جن ميں مکتب تشيع کی تمام قفہی احاديت وروايات درج ہيں ان دونوں کتابوں کی احا ديث کی تعداد مجموعا ً ساٹھ ہزار‬ ‫ہے اور ان دونوں کتابوں کی ساٹھ ہزار روايتوں ميں بيس ہزار احاديث نماز سے تعلق رکھتی ہيں ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ٢١۴‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٣١٧‬‬

‫فروع دين ميں نمازکواس کی اہميت کی بنيادپرپہلے ذکرکياگياہے اور اصل اسالم قراردياگياہے جيساکہ روايت ميں آياہے‬ ‫حضرت امام محمد باقر فرماتے ہيں‪:‬ايک شخص نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کی خدمت ميں ايااورعرض کيا‪:‬اے ﷲ کے‬ ‫نبی!ميں يہ جانناچاہتاہوں کہ دين اسالم ميں کونسی چيزاصل ہے اورکون اس کی شاخ وفرع ہے اورکون اس کی چوٹی ہے‬ ‫‪،‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے فرمايا‪ :‬نمازدين اسالم کی جﮍہے‪ ،‬زکات اس کی فرع اورشاخ ہے اور جہاد اس کی بلند‬ ‫تر ين چوٹی ہے ( ۔) ‪١‬‬ ‫نمازکی اہميت کے بارے ميں معصومين سے چندروايت ذکرہيں‪:‬‬ ‫‪ (.‬قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬لکل شی ٔوجہة ووجہ دينکم الصالة) ‪٢‬‬ ‫پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬ہرچيزکاايک چہره ہوتاہے اورنمازتمھارے دين کاچہره ہے۔‬ ‫‪ (.‬قال علی عليہ السالم‪:‬الصالة قربان کل تقی) ‪٣‬‬ ‫حضرت عليفرماتے ہيں ‪:‬نمازہرپرہيزگارکاخداوندعالم سے تقرب حاصل کرنے کابہترين ذريعہ ہے۔‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬الدعاء مفتاح الرحمة والوضوء مفتاح الصالة ( والصالة مفتاح الجنة‪۴ ).‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں ‪:‬دعارحمت کی کنجی ہے اوروضونمازکی کنجی ہے اورنمازبہشت کی کنجی ہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪)١ . ( ٢٣٨‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٢۴٢‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪(۴ .‬نہج الفصاحة ‪/‬ح ‪/ ١۵٨٨‬ص ‪)٣ . ( ٣٣١‬نہج البالغہ ‪/‬کلمات قصار‪/‬ش ‪/ ١٣۶‬ص ‪) ٣٨۶‬‬

‫( قال علی عليہ السالم‪:‬الصالة حصن الرحمٰ ن ومدحرة الشيطان‪١ ).‬‬ ‫حضرت عليفرماتے ہيں‪:‬نمازخدائے مہربان کاقلعہ ہے اورشيطان کودورکرنے کابہترين وسيلہ ہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬غررالحکم‪/‬ج ‪/٢‬ش ‪/ ٢٢١٣‬ص ‪) ١۶۶‬‬

‫تمام انبيائے کرام نمازی تھے‬ ‫نمازکی اہميت اس چيزسے بھی معلوم ہوتی ہے کہ تمام اديان ٰالہی ميں نمازکاوجودتھا‪،‬‬ ‫تمام انبياء کی شريعت ميں رائج وموجود تھی اوردنياميں جت نے بھی نبی ورسول آئے سب ﷲ کی عبادت کرتے تھے ‪ ،‬اہل‬ ‫نمازتھے اوراپنی امت کے لوگوں کونمازوعبادت کی دعوت بھی ديتے تھے ليکن ہرنبی کی شريعت ميں نمازوعبادت‬ ‫کاطريقہ طريقہ يکساں نہيں تھا‪،‬جس طرح ہرنبی کے زمانے کاکلمہ يکساں نہيں تھااسی طرح نمازکاطريقہ بھی مختلف تھا‬ ‫‪،‬تمام انبياء کی شريعت ميں نمازکے رائج ہونے کی سب سے يہ ہے کہ خداندعالم نے قرآن وحديث ميں اکثرانبياء کے ساتھ‬ ‫نمازکاذکرکياگياہے اوربيان کياگياہے کہ تمام نبی نمازی تھے اورنمازکی دعوت بھی ديتے تھے ‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫نمازاورحضرت س آدم‬ ‫حسين ابن ابی العالء سے مروی ہے ‪،‬امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬جب خداوندعالم نے آدم)عليھ السالم( کوجنت سے نکال‬ ‫کردنياميں بھيجاتوآپ کے پورے جسم پرسر سے پيروں کے تلووں تک سياه رنگ کے داغ پﮍگئے)جسے عربی ميں شامہ‬ ‫کہتے ہيں( جس کی وجہ سے آپ کے جسم سے بدبوآنے لگی ‪ ،‬حضرت آدم )عليھ السالم(اپنے جسم سے آنے والی بدبوسے‬ ‫پريشان ہوگئے اوربہت زياده غمگين رہنے لگے اوررونے وگﮍگﮍانے لگے ‪،‬ايک دن جبرئيل امين حضرت آدم )عليھ السالم(‬ ‫کے پاس آئے اورپوچھا‪:‬‬ ‫اے آدم! تمھارے رونے کاسبب کياہے ؟حضرت آدم )عليھ السالم(نے جواب ديا‪:‬ان کالے داغ اوران کے اندرپيداہونے والی‬ ‫بدبونے مجھے غمگين کردياہے ‪،‬جبرئيل نے کہا‪:‬اے آدم! اٹھواورنمازپﮍھو کيونکہ يہ پہلی نماز)يعنی نمازظہر(کاوقت ہے‬ ‫‪،‬حضرت آدم)عليھ السالم( نے اٹھ کرنماز)ظہرپﮍھی توفوراًآپ کے جسم سے سروگردن کارنگ بالکل صاف ہوگيااورجب‬ ‫دوسری نماز)يعنی عصر(کاوقت پہنچاتوجبرئيل نے کہا‪:‬اے آدم)عليھ السالم(!اٹھواورنمازپﮍھوکيونکہ اب يہ دوسری‬ ‫نمازکاوقت ہے‪،‬جيسے ہی حضرت آدم)عليھ السالم( نے نمازعصرپﮍھی توناف تک بدن کارنگ صاف ہوگيا‬ ‫اس کے بعدجب تيسری نماز)يعنی مغرب (کاوقت پہنچاتوجبرئيل نے پھرکہا‪:‬اے آدم)عليھ السالم(!‬ ‫اٹھواورنماز)مغرب(پﮍھوکيونکہ اب يہ تيسری نمازکاوقت ہے‪ ،‬جيسے حضرت آدم)عليھ السالم( نے نماز)مغرب( پﮍھی‬ ‫تودونوں گھٹنوں تک بدن کارنگ صاف ہوگيا‪،‬جب چوتھی نماز )يعنی عشا( کاوقت پہنچاتوکہا‪:‬اے آدم)عليھ‬ ‫السالم(!اٹھواورنماز)عشا(پﮍھوکيونکہ اب يہ چوتھی نمازکاوقت ہے ‪،‬حضرت آدم)عليھ السالم( نے نماز )عشا( پﮍھی تو‬ ‫پيروں تک بدن کا رنگ بالکل صاف ہوگيا جب پانچوی نماز)يعنی صبح (کاوقت پہنچاتوکہا‪:‬اے آدم)عليھ السالم(! اٹھو اور‬ ‫نماز )صبح( پﮍھو کيونکہ اب يہ پانچوی نمازکاوقت ہے ‪،‬جيسے ہی حضرت آدم)عليھ السالم( نماز )صبح( سے فارغ ہوئے‬ ‫تومکمل طورسے پورے کارنگ صاف ستھراہوگيااورآپ نے خداکی حمدوثنا کی‪،‬جبرئيل نے کہا‪ :‬اے آدم!تمہاری اوالدکی‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫مثال ان پنجگانہ نمازوں ميں ايسی ہی ہے جس طرح تم نے نمازپنجگانہ کے ذريعہ اس شامہ سے نجات پائی ہے پس تمہاری‬ ‫اوالدميں جوشخص شب وروزميں يہ پانچ نمازيں پﮍھے گاوه گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجائے گاجيسے تم اس شامہ (‬ ‫سے پاک وصاف ہوئے ہو ۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢١۴‬‬

‫نمازاورحضرت ادريس‬ ‫عن الصادق عليہ السالم قال‪:‬اذادخلت الکوفة فات مسجدالسہلة فضل فيہ واسئل ﷲ حاجتک لدينک ودنياک ّ‬ ‫فان مسجدالسہلة بيت‬ ‫ادريس النبی عليہ السالم الذی کان يخيط فيہ ويصلی فيہ ومن دعاﷲ فيہ بمااحبّ قضی لہ حوائجہ ورفعہ يوم القيامة مکاناعلياالی‬ ‫درجة ادريس ( عليہ السالم واجيرمن الدنياومکائد اعدائہ‪١ ).‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جب آپ شہرکوفہ ميں داخل ہوں اورمسجدسہلہ کاديدارکريں تومسجدميں ضرورجائيں اوراس ميں‬ ‫وتعالی کی بارگاه ميں اپنی دينی اوردنياوی مشکالت کوحل کرنے کی‬ ‫مقامات مقدسہ پرنمازپﮍھيں اورﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫دعاکريں‪،‬کيونکہ مسجدسہلہ حضرت ادريس کاگھرہے جس ميں خياطی کرتے تھے اورنمازبھی پﮍھتے تھے جوشخص اس‬ ‫مسجدميں ﷲ‬ ‫تعالی کی بارگاه ميں ہراس چيزکے بارے ميں جسے وه دوست رکھتاہے دعاکرے تواس کی وه حاجت پوری‬ ‫ٰ‬ ‫ہوگی اورروزقيامت حضرت ادريس کے برابرميں ايک بلندمقام سے برخوردارہوگااوراس مسجدميں عبادت کرنے‬ ‫اورنيازمندی کااظہارکرنے کی وجہ سے دنياوی مشکليں اوردشمنوں ( کے شرسے خداکی امان ميں رہے گا۔) ‪١‬‬ ‫نمازاورحضرت نوح‬ ‫عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬کان شريعة نوح عليہ السالم ا ٔن يعبدﷲ بالتوحيد واالخالص وخلع االندادوہی الفطرة التی‬ ‫فطرالناس عليہاواخذميثاقہ علی نوح عليہ السالم والنبيين ا ٔن يعبدوﷲ تبارک وتعالی واليشرکوا بہ شيئاوامره بالصالة‬ ‫واالمروالنہی والحرام ( والحالل‪٢ ).‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪ (٢ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٨‬ص ‪)١ . ( ٢٨٢‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ١١‬ص ‪) ٢٨٠‬‬

‫امام محمدباقر فرماتے ہيں‪:‬حضرت نوح کااصول يہ تھاکہ آپ خدائے يکتاکی عبادت کرتے تھے اس کی بارگاه ميں اخالص‬ ‫کااظہارکرتے تھے ‪،‬اسے بے مثل مانتے تھے اورآپ کی يہ وہی فطرت تھی کہ جس فطرت پرخداوندعالم نے لوگوں‬ ‫وتعالی کی عبادت کريں‬ ‫کوقراردياہے ‪ .‬پروردگارعالم نے حضرت نوح اورتمام انبيائے کرام سے عہدلياہے کہ وه ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫اورکسی بھی چيزکواس کاشريک قرارنہ ديں سے دوری کريں اورخداوندعالم نے حضرت نوح)عليھ السالم( کونمازپﮍھنے‬ ‫‪،‬امربالمعروف ونہی عن المنکرکرنے اورحالل وحرام کی رعايت کرنے کاحکم دياہے۔‬ ‫نمازاورحضرت ابراہيم‬ ‫حضرت ابرہيم اولوالعزم پيغمبر وں ميں سے تھے ا ورآپ کوبت شکن ‪،‬حليم ‪،‬صالح ‪ ،‬مخلص اورموحدجيسے بہترين القاب‬ ‫تعالی وا طاعت‬ ‫سے يادکياجاتاہے ‪،‬آپ نے اپنی عمر کے دوسوبرس کفروشرک سے مقابلہ اور لوگوں کو تو حيدباری‬ ‫ٰ‬ ‫خداوندی کی دعوت کرنے کی راه ميں گزارے ہيں‪ .‬مکتب حضرت ابراہيم ميں آپ کی پير وی کرنے والوں کے درميان نماز‬ ‫وعبادت کو ايک عمده واجبات ميں شمارکياجاتاتھا‪،‬جب خدا نے آپ کو حکم ديا کہ اپنی بيوی ہاجره اور اپنے شيرخوار فرزند‬ ‫اسمعيل )عليھ السالم(کو ساتھ لے کر سرزمين مکہ کی طرف ہجرت کرجائيں ‪،‬آپ نے حکم خدا پر عمل کيااورشام سے مکہ‬ ‫ميں خانہ کعبہ تک پہنچے تو آپ نے وہاں اس آپ وگياه سرزمين پرايک نہايت مختصرطعام اورپانی کے ساتھ زمين پراتارا‪.‬‬ ‫بيوی اوربچے سے خداحافظی کرکے واپسی کاراده کياتوجناب ہاجره نے ابراہيم )عليھ السالم( کادامن پکﮍکرعرض کيا‪:‬ہميں‬ ‫اس بے آب وگياه زمين پرجگہ کيوں چھوڑے جارہے ہو؟جواب دياکہ‪:‬يہ حکم خداہے ‪،‬جيسے ہی ہاجره نے حکم خداکی بات‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫سنی توخداحافظ کہااورعرض کيا‪:‬جب حکم رب ہے تواس جگہ آب وگياه زمين پرہماری حفاظت بھی وہی کرے گا‪،‬جب‬ ‫ابراہيم )عليھ السالم(چلنے لگے توبارگاه خداوندی ميں عرض کيا‪:‬‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫( < َربﱠنّااِنﱠنِ ْی اَ ْس َک ْن ُ‬ ‫ک ال ُم َحر ِﱠم َربﱠنالِيُقِ ْي ُمواالص ٰ‬ ‫ﱠلوةَ<) ‪١‬‬ ‫ع ِع ْن َدبَ ْيتِ َ‬ ‫ت ِم ْن ُذ ﱢر يﱠتِ ْی بِ َوا ٍد َغي ِْر ِذیْ زَ رْ ٍ‬ ‫اے ہما رے پروردگا ر!ميں نے اپنی ذريت ميں سے بعض کو تيرے محترم مکان کے قريب بے آ ب وگياه وادی ميں‬ ‫چھوڑديا ہے تاکہ نمازيں قائم کريں يعنی تاکہ وه يہاں سے لوگوں کو دعوت نماز کی آواز بلند کی کريں اور نماز يں قائم‬ ‫کريں اور قيام نماز کو دينی ذمہ داری سمجھيں اور تو ميری اس ذريت کو نہ ت نہا نماز پﮍھنے والے بلکہ مقيم نماز بھی‬ ‫قرار دے )اور جب نماز قائم ہوئے گی تو لوگ شرک وطغنانی سے پاک ہوجائيں گے (۔ حضرت ابراہيم بارگاه خداوندی ميں‬ ‫بہت زياده دعاکرتے تھے اورآپ کی دعائيں قبول ہوتی تھی ‪،‬آپ کی دعاؤں ميں سے ايک دعايہ بھی ہے کہ آپ بارگاه رب‬ ‫العزت ميں عرض کرتے ہيں ‪:‬‬ ‫( < َربﱢ اجْ َع ْلنِ ْی ُمقِ ْي َم الص ٰﱠلو ِة َو ِم ْن ُذ ﱢريَتِ ْی َربﱠنَا َوتَقَبﱠلْ ُدعَا ِء < ) ‪٢‬‬ ‫پروردگارا!مجھے اورميری ذريّت کونماز قائم کرنے والوں ميں قراردے اور اے پروردگارتوميری __________دعاء‬ ‫کوقبول کرلے۔‬ ‫تاريخ ميں يہ بھی ملتاہے کہ‪ :‬جب اسماعيل )عليھ السالم(کچھ بﮍے ہوئے تو حضرت ابراہم )عليھ السالم( آٹھ ذی الحجہ کو‬ ‫منی کے ميدان ميں پہنچے اور اپنی پيروی کرنے والوں کے‬ ‫ک لبّيک ”ٔکہتے ہوئے ٰ‬ ‫اپنے فرزند کو لے کر“لبّيک الشريک لَ َ‬ ‫ساتھ نماز ظہرين ومغربين باجماعت انجام دی اوراس وقت سے ليکر آج تک واد ی ٔمنی اور صحرائے عرفات ميں بﮍے‬ ‫وقاروعظمت کے ساتھ نماز جماعت برگزار ہوتی ہے اور خدا کی وحدانيت کے نعرے بلند ہوتے ہيں ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(١ .‬سوره أبراہيم‪/‬آيت ‪)١ . ( ۴٠‬سوره أبراہيم ‪/‬آيت ‪) ٣٧‬‬

‫عن جابربن عبدﷲ االنصاری قال‪:‬سمعت رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ( يقول‪:‬مااتخذﷲ ابراہيم خليال‪،‬االالطعامہ الطعام‬ ‫‪،‬وصالتہ بالليل والناس ينام‪١ ).‬‬ ‫رسول خدا )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں ‪ :‬خدا وند متعال نے حضرت ابراہيم کو دوکام انجا م دينے کی وجہ سے اپنا خليل‬ ‫منتخب کيا ہے ‪١‬۔فقيروں ومسکينوں کو کھانادينا ‪٢ ،‬۔ رات ميں نمازشب پﮍھناکہ جب سب لوگ سوتے رہتے ہيں ۔‬ ‫نمازاورحضرت اسماعيل‬ ‫خداوندعالم قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫ق ْال َو ْع ِد َو َکانَ َرسُوْ ًالنﱠبِيًا<) ‪٢‬‬ ‫صا ِد َ‬ ‫ب اِسْمٰ ِعيْل اِنّہ َکانَ َ‬ ‫( < َو ْاذکرْ فِی ْال ِک ٰت ِ‬ ‫اپنی کتاب ميں اسماعيل کاتذکره کروکيونکہ وه وعدے کے سچے اورہمارے بھيجے ہوئے نبی تھے ۔‬ ‫( < َو َکانَ يَاْ ُم ُر اَ ْھلَہُ ِباالص ٰﱠلو ِة َو َکانَ ِع ْن َد َربّ ِہ َمرْ ضيّا ً‪ ٣ )<.‬حضرت اسمٰ عيل ہمشہ اپنے گھروالو ں کو نماز وزکات کا حکم‬ ‫ديتے تھے اور اپنے پر وردگارکے نزديک پسند يد ه تھے۔‬ ‫نمازاوراسحاق ويعقوب وانبيائے ذريت ابراہيم‬ ‫حضرت اسحاق ‪،‬يقوب‪ ،‬لوط اورانبيائے ذريت ابراہيم کے بارے ميں قرآن کريم ميں ارشادخداوندی ہے‪:‬‬ ‫ب نَافِلَةً َو ُکل ا َج َع ْلن ٰ‬ ‫َاصلِ ِح ْينَ َو َج َع ْلناہُ ْم آئ ﱠمةً يﱠ ْہ ُدوْ نَ‬ ‫< َو َوہَ ْبنَالَہ اِس ْٰح َ‬ ‫ق َو ْيقُوْ َ‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره مريم‪/‬آيت ‪)١ . ( ۵٣‬علل الشرايع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٣۵‬‬ ‫‪) ٣ .‬سورئہ مريم آيت ‪) ۵ ۵‬‬

‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫الزکو ِة وکانوالَنَا ٰعب ِد ْينَ <) ‪١‬‬ ‫الصلو ِة َواِيتا َء‬ ‫ت َواِقَا َم‬ ‫( ِبا َ ْم ِرنَا َوا ٔو َح ْينَا اليھم فِ ْع َل الخيرا ِ‬ ‫اورپھر ابراہيم کواسحاق اوران کے بعديعقوب عطاکئے اورسب کوصالح اورنيک کردارقرارديا‪،‬اورہم نے ان سب کو‬ ‫پيشواقرارديا جوہمارے حکم سے ہدايت کرتے تھے اور ان کی طرف کا ر خير کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکات دينے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫__________کی وحی کی اور يہ سب کے سب ہمارے عبادت گذار بندے تھے ۔‬ ‫نمازاورحضرت شعيب‬ ‫جب حضرت شعيب اپنی قوم کو غيرخدا کی عبادت‪،‬مالی فساداور کم فروشی سے منع کيا تو انھوں نے آپ سے کہا‪:‬‬ ‫ص ٰل ُ‬ ‫ک ( َالَ ْنتَ ال َح ِل ْي ُم ال ﱠر َش ْيدُ‪٢ )<.‬‬ ‫فی ا َٔم ْ◌ َوا ِلنَا َما نَ َشؤ اِنﱠ َ‬ ‫ک ا َٔن ْ◌ نَ ْت ُر َ‬ ‫ک تَاْ ُم ُر َ‬ ‫وت ُ◌ َ‬ ‫<يَا ُشعيْبُ اَ َ‬ ‫ک َما يَ ْعبُدُآ بَآ ُؤ نَا ا ْٔو ا ْٔن نﱠ ْفع َل ِ‬ ‫اے شعيب ! کياتمھاری نمازتمھيں يہ حکم ديتی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے معبودوں کو چھوڑديں يااپنے اموال ميں اپنی‬ ‫مرضی کے مطابق تصرف نہ کريں ‪ ،‬تم تو بﮍے بردبار اور سمجھ دار معلوم ہوتے ہو ۔‬ ‫نمازاورحضرت موسی‬ ‫موسی جب کوه طوروسيناپرپہنچے توآپ نے يہ آوازسنی‪:‬‬ ‫اولوالعزم پيغمبرحضرت‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ک فَ ْ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ُ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ﱠ‬ ‫َ‬ ‫ُوحی ( اِنﱠنِ ْی اَنَاﷲُ فَا ْعبُ ْدنِ ْی َواَقِ ِم الص َﱠالةَ‬ ‫َ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫َرْ‬ ‫يَا ُم ٰ‬ ‫ک فاست ِمع ل َماي ٰ‬ ‫ک اِن َ‬ ‫اخلع نعلي َ‬ ‫وسی اِنﱢ ْی اَنَا َربﱡ َ‬ ‫س ط ًوی َوانَااخت ت َ‬ ‫ک بِال َوا ِدال ُمقد ِ‬ ‫لِ ِذ ْک ِریْ <) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪ (٢ .‬سوره ٔہود‪/‬آيت ‪)١ . ( ٨٧‬سوره أنبياء ايت ‪) ٧٣‬‬ ‫‪)٣‬سوره ٰٔ‬ ‫طہٰ ‪/‬آيت ‪ ١٢‬۔ ‪) ١۴‬‬

‫ٰ‬ ‫طوی نام کی مقدس اورپاکيزه وادی ميں ہو‪،‬اورہم‬ ‫موسی!ميں تمھاراپروردگارہوں ل ٰہذاتم اپنی جوتيوں کواتاردوکيونکہ تم‬ ‫اے‬ ‫ٰ‬ ‫نے تم کومنتخب کرلياہے ل ٰہذاجووحی جاری کی جارہی ہے اسے غورسے سنو‪ ،‬ميں ﷲ ہوں ميرے عالوه کوئی خدانہيں ہے‬ ‫پس تم ميری عبادت کرواوريادکے لئے نمازقائم کرو۔‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں ‪ :‬خدا ئے عزوجل نے حضرت موس ٰيپر وحی نازل کی ‪ :‬اے‬ ‫موسی ! کيا تم جانتے ہو ‪ ،‬ميں‬ ‫ٰ‬ ‫نے اپنی پوری مخلوق ميں سے صرف تم ہی کو اپنے سے ہمکالم ہونے کے لئے کيوں منتخب کيا ہے ؟ عرض کيا ‪ :‬پرو‬ ‫درگار ا ! تو نے مجھ ہی کو کيوں منتخب کيا ہے ؟ خدا نے کہا ‪ :‬اے‬ ‫موسی ! ميں نے اپنے تمام بندوں پر نظر ڈالی ليکن‬ ‫ٰ‬ ‫موسی ! جب تم نماز ( پﮍھتے ہو تو اپنے‬ ‫تمھارے عالوه کسی بھی بندے کو تم سے زياده متواضع نہ پايا ‪ ،‬کيونکہ اے‬ ‫ٰ‬ ‫چہرے کو خاک پر رکھتے ہو ۔) ‪١‬‬ ‫نمازاورحضرت لقمان‬ ‫قرآن کريم ميں اياہے کہ حضرت لقمان اپنے فرزندسے وصيت کرتے ہيں‪:‬‬ ‫ک<) ‪٢‬‬ ‫( <يابُنَ ﱠ‬ ‫ف َوا ْنہَ ع َِن ْال ُم ْن َک ِر َواصْ بِرْ ع َٰلی َمااَصابَ َ‬ ‫ی اَقِ ِم الص ٰﱠلوةَ َو ْا ُمرْ بِ ْال َم ْعرُوْ ِ‬ ‫بيٹا!نمازقائم کرو‪،‬نيکيوں کاحکم دو‪،‬برائيوں سے منع کرواوراس راه ميں تم پرجومصيبت بھی پﮍے اس پرصبرکرو۔‬ ‫عيسی‬ ‫نمازاورحضرت‬ ‫ٰ‬ ‫خداوندعالم قرآن کريم ارشادفرماتاہے کہ‪:‬جب حضرت مريم بچے کواٹھائے ہوئے قوم کے پاس آئيں تولوگوں نے کہا‪:‬مريم!يہ‬ ‫تم نے بہت براکام کياہے ‪،‬ہارون کی بہن!نہ تمھاراباپ براآدمی تھااورنہ تمھاری ماں بدکردارتھی ‪،‬پس حضرت مريم اپنے‬ ‫بچہ طرف اشاره کياکہ اس سے معلوم کرليں‪،‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره ٔلقمان‪/‬آيت ‪)١ . ( ١٧‬اصول کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ١٨٧‬‬

‫ميں نے کوئی گناه نہيں کياہے قوم نے کہا‪:‬ہم اس سے کيسے بات کريں جوبچہ ابھی گہواره ميں ہے ‪،‬بچے نے گہواره سے‬ ‫کالم کيا‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫صنِی ِبالصّلوة َوال ّز ٰکوة ( ماَد ُ‬ ‫َاب َو َج َعلَنِ ْی نَ ِبی ا َو َج َعلَنِ ْی ُم ٰب َر ًکااَ ْينَ َما ُک ْن ُ‬ ‫ت َواَوْ ٰ‬ ‫ُمت حيّا ً<) ‪١‬‬ ‫<اِنﱢ ْی َع ْب ُد ﷲِ ا ٰتنِ َی ْال ِکت َ‬ ‫ميں ﷲ کابنده ہوں‪،‬اس نے مجھے کتاب دی ہے اورمجھے نبی بناياہے ‪،‬اورجہاں بھی رہوں بابرکت قراردياہے اور جب تک‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ميں زنده ہوں ‪ ،‬مجھے نماز وزکات کی وصيت کی ہے۔‬ ‫نمازاورحضرت سليمان‬ ‫حضرت سليمان غالباًراتوں کونمازميں گذارتے تھے اورخوف خداميں اپ کی آنکھوں سے انسوں جاری رہتے تھے اور‬ ‫کثرت نمازوعبادت کی وجہ سے لوگوں کے درميان کثيرا الصالة کے نام سے مشہورتھے ‪.‬‬ ‫عالمہ مجلسی “بحاراالنوار”ارشاد القلوب سے ايک روايت نقل کرتے ہيں‪ :‬حضرت سليمان کہ جن کے پاس حکومت‬ ‫وبادشاہت اورہرطرح کے وسائل موجود تھے ليکن آپ بالوں کانہايت ہی ساده لباس پہنا کرتے تھے ‪ ،‬رات ميں کھﮍے ہوکر‬ ‫اپنی گردن کودونوں ہاتھوں کی انگليوں آپس مينڈال کرباندھ لياکرتے تھے اور پوری رات يادخدا ميں کھﮍے ہوکر رويا‬ ‫کرتے تھے ‪.‬‬ ‫حضرت سليمان خرمے کی چھال سے ٹوکرياں بناياکرتے تھے جس کی وجہ سے آپ نے خداسے حکومت وبادشاہت کی‬ ‫درخواست کی تاکہ کافروطاغوت بادشاہوں سرنگوں کر ( سکوں۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ١۴‬ص ‪) ١ . ( ٨٣‬سوره ٔمريم آيت ‪ ٢٧‬۔ ‪) ٣١‬‬

‫نمازاورحضرت يونس‬ ‫خداوندعالم قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫والاَنّہ َکانَ ِمنَ ْال ُم َسب ِﱢحينَ لَلَ ِب َ‬ ‫وم يُ ْب َعثُ ْ‬ ‫( <ل َ َ‬ ‫ون<) ‪١‬‬ ‫ي‬ ‫ی‬ ‫ل‬ ‫ا‬ ‫ث فِی بَطَنِ ِہ‬ ‫َ‬ ‫ِ‬ ‫ِ‬ ‫اگرحضرت يونس تسبيح کرنے والوں ميں سے نہ ہو تے تو قيامت تک شکم ماہی ميں ہی پﮍے رہتے ۔‬ ‫تفسير مجمع البيان ميں قتاده سے نقل کياگياہے کہ تسبيح يونس سے نمازمراد ہے کيونکہ وه نماز گزاروں ميں سے تھے اور‬ ‫نماز ہی کی وجہ سے ان کو خدانے انھيں اس رنج ( ومصيبت سے نجات دی ہے۔) ‪٢‬‬ ‫نمازاورحضرت زکريا‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ب اِ ﱠن ٰ َّ‬ ‫ُ‬ ‫ﱢ‬ ‫ُ‬ ‫ً‬ ‫ً‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫ﱡ‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫حْ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫ﷲ‬ ‫ا‬ ‫ر‬ ‫م‬ ‫ال‬ ‫ی‬ ‫ف‬ ‫ی‬ ‫ل‬ ‫ص‬ ‫ي‬ ‫م‬ ‫ئ‬ ‫ا‬ ‫ة‬ ‫ب‬ ‫ي‬ ‫ط‬ ‫ة‬ ‫ي‬ ‫ر‬ ‫ذ‬ ‫ک‬ ‫ن‬ ‫د‬ ‫ل‬ ‫ن‬ ‫م‬ ‫ی‬ ‫ل‬ ‫◌‬ ‫ب‬ ‫ہ‬ ‫ل‬ ‫ا‬ ���ق‬ ‫ﱠہ‬ ‫ک َدعَا َز َک ِر يا َرب‬ ‫ق‬ ‫و‬ ‫ھ‬ ‫و‬ ‫(‬ ‫ة‬ ‫ک‬ ‫ئ‬ ‫ل‬ ‫م‬ ‫ال‬ ‫ہ‬ ‫ت‬ ‫د‬ ‫َا‬ ‫ن‬ ‫ف‬ ‫ء‬ ‫َا‬ ‫ع‬ ‫د‬ ‫ال‬ ‫ع‬ ‫ي‬ ‫م‬ ‫س‬ ‫ک‬ ‫ن‬ ‫ا‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫َ ﱢ‬ ‫<ہُنَا ِل َ‬ ‫َ َ ٌِ َ ْ ِ ْ َ َ ِ‬ ‫َ َ َ ِ ْ ِ‬ ‫ِ َ ُ َ ِ‬ ‫ﱢَ ِ َ َ ِ‬ ‫يی<) ‪٣‬‬ ‫ک ِبيَحْ ٰ‬ ‫يُبَ ﱢش ُر َ‬ ‫ٰ‬ ‫جس وقت حضرت ذکريانے جناب مريم کے پاس محراب عبادت ميں عنايت الہی کامشاہده کيااورجنت کے کھانے‬ ‫کوديکھاتوآپ نے اپنے پروردگارسے دعاکی کہ ‪:‬مجھے ايک پاکيزه اوالدعطافرماکہ توہرايک کی دعاکاسننے واالہے تو‬ ‫يحيی کی‬ ‫مالئکہ نے انھيں اس وقت آوازدی کہ جب وه محراب عبادت ميں کھﮍے ہوئے نمازميں مشغول تھے کہ خدا تمھيں‬ ‫ٰ‬ ‫بشارت دے رہاہے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫صافات‪/‬آيت ‪ ١۴٣‬۔ ‪) ٣ . ) ١۴۴‬سوره آٔل عمران آيت‪ ٣٨ /‬۔ ‪) ٣٩‬‬ ‫‪(٢ .‬تفسيرمجمع البيان‪/‬ج ‪/٨‬ص ‪)١ . ( ٣٣٣‬سوره ٔ‬

‫نمازاورحضرت يوسف‬ ‫حضرت يوسف کی سوانح حيات ميں ملتاہے کہ آپ کو عزيز مصرنے ايک تہمت لگاکرزندان ميں ڈالديااس وقت‬ ‫عزيزمصرکاايک غالم اپنے آقاکو غضبناک کرنے کی وجہ سے زندان ميں زندگی گزاررہاتھا‪ ،‬وه غالم حضرت يوسف کے‬ ‫بارے ميں کہتا ہے کہ‪ :‬آپ ہميشہ رات ميں نماز پﮍھتے اوراپنے رب کی بارگاه ميں رازونيازکرتے تھے‪ ،‬دن ميں روزه‬ ‫رکھتے تھے ‪ ،‬بيماروں کی عيادت کرتے تھے ‪ ،‬مريضوں کے لئے دوائياں بھی مہياکرتے تھے ‪ ،‬مظلوم وستم ديده لوگوں‬ ‫کوخوشياں عطاکرتے اور تسلی ديا کرتے تھے‪.‬‬ ‫بعض اوقات دوسرے قيديوں کو خداپرستی کی دعوت دياکرتے تھے‪،‬نہايت خوشی سے زندان کے ايک گوشہ ميں اپنے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫معبودکی راه ميں قدم آٹھاتے تھے اور بارگاه خداوندی ميں عرض کرتے تھے ‪:‬‬ ‫ی ِم ﱠما يَ ْد عُونَنِ ْی اِلَ ْي ِہ‪١ )<.‬‬ ‫( < َربﱢ ا ﱢسجْ نُ اَ َحبﱡ اِلَ ﱠ‬ ‫ُ‬ ‫پرودگارا! يہ قيد مجھے اس کام سے زياده مجبوب ہے جس کی طرف يہ لوگ دعوت دے ( رہے ہيں۔) ‪-------- ٢‬‬ ‫‪(٢ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ۵۶١‬ص ‪)١ . ( ١٧٧‬سوره ٔيوسف‪/‬آيت ‪) ٣٣‬‬

‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫تمام انبياء وآئمہ نے نمازکی وصيت کی ہے‬ ‫قرانی آيات اور احاديث معصومين سے يہ ظاہرہے کہ ہرنبی کے زمانے ميں نمازکاوجودتھا اورتمام انبيائے کرام اہل‬ ‫نمازتھے اوراپنی امت کے لوگوں کونمازوعبادت کی دعوت بھی ديتے تھے اورنمازکے بارے ميں وصيت بھی کرتے تھے ۔‬ ‫( < َو َکانَ يَاْ ُم ُر اَ ْھلَہُ ِباالص ٰﱠلو ِة َو َکانَ ِع ْن َد َربّ ِہ َمرْ ضيّا ً‪٣ )<.‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪) ٣ .‬سورئہ مريم آيت ‪) ۵ ۵‬‬

‫حضرت اسمٰ عيل ہمشہ اپنے گھروالو ں کو نماز وزکات کا حکم ديتے تھے اور اپنے پر وردگارکے نزديک پسند يد ه تھے۔‬ ‫ور<) ‪١‬‬ ‫ک اِ ﱠن ٰذلِ َ‬ ‫صابَ َ‬ ‫ف َوا ْنہَ ع َِن ْال ُم ْن َک ِر َواصْ ِبرْ ع َٰلی َمااَ َ‬ ‫< ٰيابُنَ ﱠ‬ ‫ی اَقِ ِم الص ٰﱠلوة َو ْا ُمرْ ِب ْال َم ْعرُوْ ِ‬ ‫ک ِم ْن َع ْز ِم ( ْاالُ ُم ِ‬ ‫حضرت لقمان نے اپنے فرزندسے وصيت کرتے ہيں‪:‬اے بيٹا ! نماز قائم کرو‪ ،‬نيکيوں کا حکم دو ‪ ،‬برائيوں سے منع کرو‪،‬‬ ‫اورجب تم پرمصيبت پﮍے صبر کرو بے شک يہ بہت بﮍی ہمت کا کام ہے۔‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫< َواَوْ َح ْينَااِ ٰلی ُم ٰ‬ ‫وسی َواَ ِخ ْي ِہ اَ ْن تَبَو ٰﱠالِقَو ِم ُک َما ِب ِمصْ َربُيُوْ تًا َواجْ َعلُوابُيُوْ تَ ُک ْم قِ ْبلَةً َواَقِ ْي ُموْ االصﱠلوةَ ( َوبَ ﱢش ِرال ُمو ِٔمنِ ْينَ <) ‪٢‬‬ ‫اورہم نے موسی اوران کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے مصرميں گھربناؤاوراپنے گھروں کوقبلہ‬ ‫قراردواورنمازقائم کرواورمومنين کوبشارت ديدو۔‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬سمعتہ يقول‪:‬احبّ االعمال الی ﷲ عزوجل الصالة وہی ( آخروصايا االنبياء )عليہم السالم(‪٣ ).‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬ﷲ تبارک وتعالی کے نزديک سب سے پسنديده عمل نمازہے اورہرتمام انبيائے کرام نے آخری‬ ‫وصيت نمازکے بارے ميں کی ہے ۔‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪ :‬قال لقمان البنہ …اذاجاء وقت الصالة فالتو ٔخرہالشی ‪ ( ٔ،‬صلہا و استرح منہا‪،‬فانہادين ‪،‬وص ّل‬ ‫فی الجماعة ولوعلی راس زجّ‪۴ ).‬‬ ‫‪--------‬‬

‫‪   ‬‬

‫‪(٢ .‬سوره يونس‪/‬آيت ‪) ١ . ( ٨٧‬سورئہ لقمان آيت ‪(۴ . ) ١٧‬عروة الوثقی ‪/٢ /‬ص ‪)٣ . ( ۴١۶‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢١٠‬‬

‫حضرت امام صادق ‪-‬فرماتے ہيں کہ‪:‬حضرت لقماننے اپنے فرزندسے وصيّت کرتے ہوئے کہا‪:‬اے بيٹا !جب نمازکاوقت پہنچ‬ ‫جائے تواسے کسی دوسرے کام کی وجہ سے تاخيرميں نہ ڈالنابلکہ اول وقت نمازاداکرنااوراس کے ذريعہ اپنی روح‬ ‫کوشادکرناکيونکہ نمازہمارادين ہے اورہميشہ نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرنا خواه تم نيزے پرہی کيوں نہ ہوں۔‬ ‫جابرابن عبدﷲ انصاری سے روايت ہے کہ رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کی وفات کے بعدکعب نے عمرابن خطاب سے‬ ‫پوچھا ‪:‬وه آخری جملہ کياہے جسے رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله( نے انتقال کے وقت بيان کيا تھا ؟ عمرابن خطاب نے‬ ‫کہا ‪:‬اس بارے ميں علی )عليھ السالم(سے معلوم کرو‪،‬جب کعب نے امام علی سے پوچھاتو آپ نے فرمايا‪ :‬اسندت رسول ﷲ‬ ‫علی منک ِبی‪ ،‬فقال‪:‬الصالة الصالة ‪.‬‬ ‫صلی ﷲ عليہ وآلہ الی صدری فوضع راسہ ٰ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫جب رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے انتقال کياتواس وقت آپ کاسرمبارک ميرے شانہ پررکھاتھاميں نے رسول اکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليھ و آلھ(کوان کی عمرکے آخری لمحوں ميں اپنے سينے سے لگايااور آنحضرت نے اپنے سر مبارک کوميرے‬ ‫شانہ پر قرار ديا اورمجھ سے کہا ‪ :‬نماز ! نماز! ( ۔) ‪١‬‬ ‫جابرابن عبدﷲ انصاری سے روايت ہے کہ رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(خطبہ دے رہے تھے کہ حمدوثنائے ٰالہی کے‬ ‫بعد لوگوں کو وصيت کرتے ہوئے فرمايا‪:‬‬ ‫عليکم بالصالة ‪،‬عليکم بالصالة ‪،‬فانّہاعموددينکم۔‬ ‫( تم پرنمازواجب ہے ‪،‬تم پرنمازواجب ہے کيونکہ نمازتمھارے دين کاستون ہے ۔) ‪٢‬‬ ‫روايت ميں اياہے کہ اميرالمومنين حضرت علی نے شہادت کے وقت تين مر تبہ نماز کے‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬مستدرک الوسائل‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪)١ . ( ٢٨‬المراجعات‪/‬ص ‪)٣ . ) ٣٢٩‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٣٠‬‬

‫بارے ميں وصيت کی‪:‬‬ ‫( ”الصالة الصالة الصالة” نماز !نماز !نماز ! ۔) ‪ ٣‬ابوبصير سے مروی ہے‪:‬ميں حضرت امام صادق کی شہادت کے بعد آپ‬ ‫کی زوجہ ا ّم حميده کی خدمت ميں تسليت پيشکرنے کيلئے پہنچا تو انھوں نے رونا شروع کرديا انھيں روتے ہوئے ديکھ کر‬ ‫ميں بھی امام )عليھ السالم(کی ياد ميں رونے لگا اس وقت انھوں نے مجھ سے کہا‪:‬اے ابوبصير! اگر تم امام )عليھ السالم(کی‬ ‫شہادت کے وقت ان کے پاس موجو د ہوتے تو ايک عجيب منظر ديکھتے ‪ ،‬امام نے پروازروح سے قبل اپنی آنکھوں کو‬ ‫کھوال اور فرمايا ‪ :‬ميرے تمام عزيزوں واقارب کوميرے پاس جمع کيا جائے ‪ ،‬کوئی ايساباقی نہ رہاجواس وقت نہ آياہو‪،‬جب‬ ‫سب امام )عليھ السالم(کی خدمت ميں حاضر ہوگئے توامام صادق نے ان کی طرف نگاه کر کے ارشاد فرمايا ‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫ان ّ◌ شفاعت ناالت نال مستخفاًبالصالة‬ ‫نمازکوہلکاسمجھنے والے کوہرگزہماری شفاعت نصيب نہ ہوگی۔ ‪ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٠۶‬‬ ‫نمازمومن کی معراج ہے‬ ‫نمازکی اہميت اس چيزسے بھی معلوم ہوتی ہے خدا وعالم نے دنياميں جت نے بھی نبی اورپيغمبربھيجے ہيں ان ميں سے‬ ‫ہرايک نبی کے لئے ايک خاص معراج مقرر کی ہے اور مو ٔمنين کے لئے بھی ايک معراج معين کی ہے کہ جسے‬ ‫نمازکہتے ہيں حضرت آدم کی معراج يہ تھی کہ خداوندعالم انھيں عدم سے وجو د ميں اليا اور بہشت ميں جگہ ديتے ہوئے‬ ‫ارشادفرمايا‪:‬‬ ‫ْ‬ ‫ک ال َجنّة <) ‪ ٣‬اے آدم ! تم اور تمہاری زوجہ ) حضرت حوا(جنت ميں داخل ہوجاؤ ۔‬ ‫( < ٰيآدم ا ْس ُک ْن اَ ْنتَ َو َزوْ َج َ‬ ‫حضرت ادريس کی معراج يہ تھی کہ آپ ايک فرشتے کے پروں پر سوار ہوئے اور اس سے کہا ‪ :‬کہ مجھ کو آسمان کی‬ ‫سيرکرائے اور بہشت ميں داخل کردے ‪ ،‬اذن پر ور دگار سے ايساہی ہوا ) ‪(۴‬اورہم نے ان کو بلند مقام تک پہنچا يا۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(۴ .‬سوره ٔمريم‪/‬آيت ‪)٣ . ( ۵٧‬سوره ٔبقره ‪/‬آيت ‪) ٣۵‬‬

‫حضرت نوحکی معراج يہ تھی کہ جب آپ ميں اپنی قوم کے ظلم واذيت تحمل کرنے کی قوت باقی نہ رہی اوريہ يقين ہوگياکہ‬ ‫اب صرف ان چندلوگوں کے عالوه کوئی اورشخص ايمان النے واالنہيں ہے توخداکی بارگاه ميں دست دعابلندکئے‬ ‫ٰ‬ ‫اورکہا‪:‬بارالہا!اب کوئی شخص ايمان النے واالنہيں ہے ل ٰہذاتواس قوم پراپناعذاب نازل کردے ‪،‬خدانے آپ کوحکم ديا‪:‬‬ ‫ک ِبا َ ْعيُ ِننَا َو َوحْ ِينَا <) ‪١‬‬ ‫( < َواصْ ن َِع ْالفُ ْل َ‬ ‫اے نوح !ہماری نظارت ميں ہماری وحی کے اشارے پر ايک کشتی بناو ۔ٔ‬ ‫طوفان نوح )عليھ السالم(کی مختصرداستان يہ ہے کہ حضرت نوح )عليھ السالم(نے حکم خداسے ايک کشتی بنائی ‪،‬جب‬ ‫کشتی بن کرتيارہوگئی توت نورسے پانی نکالاورطوفان شروع ہوگيا‪،‬حضرت نوح )عليھ السالم(نے ہرقسم کے‬ ‫جانور‪،‬چرندوپرند اوردرندوں کاايک ايک جوڑا کشتی ميں سوارکيا‪،‬جوآپ پرايمان رکھتے تھے انھيں بھی سوارکيا‬ ‫اورخودبھی اس ميں سوار ہوئے ‪،‬جب کشتی چلنے لگی توآپ نے اس کے ذريعہ پوری دنيا کی سيرکی اورپوری‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫دنياکاچکرلگانے کے بعدکوه جودی پرپہنچ کرکشتی رک گئی ‪،‬حضرت نوح )عليھ السالم( کشتی سے زمين پر آئے اورزمين‬ ‫کو دوباره آبادکيا۔‬ ‫معراج حضرت ابراہيم يہ تھی کہ جس وقت نمرودنے آپ کو منجنيق ميں بٹھا کر آگ ميں ڈاال تو وه آگ حکم خدا سے گلزار‬ ‫ہو گئی ) ‪(٢‬اے آگ !تو ابراہيم کے لئے ٹھنڈی اور سالمت بن جا ۔‬ ‫‪(٢ .‬سوره أنبياء‪/‬آيت ‪)١ . ( ۶٩‬سوره ٔہود‪/‬آيت ‪ ) ٣٧‬معراج حضرت اسمعيل يہ تھی کہ جسوقت آپ کا گال باپ کے خنجر کے‬ ‫نيچے تھا اور وه آپ کو را ه خدا ميں قربان کررہے تھے کہ خدا وند عالم نے جنت سے ايک دنبہ بھيجا جو ذبح ہوگيا اور‬ ‫ذبح عظيم ميں تبديل کرديا ہے ۔‬ ‫اسماعيل بچ گے أور خداوند عالم نے کہا ‪(١ ) :‬ہم نے اسمعيل کی قربانی کو ِ‬ ‫حضرت‬ ‫موسی کی معراج يہ تھی کہ جس وقت آپ مناجات کے لئے کوه طور پر گئے تو ) آپ نے شيرين لہجے ميں خداوند‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫عالم کے کلمات کوسنا ) ‪ ٢‬اورخداوندعالم نے حضرت موسی سے کالم کيا ۔‬ ‫خاتم االنبيا‪ ،‬سرورکائنات حضرت محمدمصطفی )صلی ﷲ عليھ و آلھ( کی معراج يہ ہے کہ خداوندعالم نے آپ کوآسمانوں کی‬ ‫سيرکرائی اورارشادفرمايا‪:‬‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ً‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ْج ِد ْاالَ ْق ٰ‬ ‫ْ‬ ‫صی<) ‪ ٣‬پاک وپاکيز ه ہے وه ذات جو لے گئی اپنے بندے‬ ‫س‬ ‫م‬ ‫ال‬ ‫ی‬ ‫ل‬ ‫ا‬ ‫ام‬ ‫ر‬ ‫ح‬ ‫ال‬ ‫د‬ ‫ْج‬ ‫س‬ ‫م‬ ‫ال‬ ‫م‬ ‫ال‬ ‫ي‬ ‫ل‬ ‫ه‬ ‫د‬ ‫ﱢ نَ َ ِ ِ َ َ ِ ِ‬ ‫( < ُس ْب َحانَ الّ ِ��یْ اَس ْٰری ِب َع ْب ِ ِ‬ ‫َ ِ‬ ‫کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجداالقصی تک۔‬ ‫‪-------‬‬‫صافات‪/‬آيت ‪ . ) ١٠٧‬اسراء‪/‬آيت ‪١‬‬ ‫‪)ُ٣‬سور ٔه ( ‪(٢ .‬سوره نٔساء‪/‬آيت ‪)١ . ( ١۶۴‬سوره ٔ‬

‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کے دل ميں خيال آياکہ خداوندعالم نے ہرنبی کے لئے ايک معراج معين کی ہے ميں يہ‬ ‫چاہتاہوں کہ ميری امت کے مومنين کے لئے بھی کوئی معراج ہونی چاہئے ل ٰہذاآپ نے نمازکومومن کی معراج‬ ‫قرارديااورارشادفرمايا‪:‬‬ ‫( الصالةمعراج المومن ) ‪١‬‬ ‫نمازمومن کی معراج ہے‬ ‫اوردوسری حديث ميں فرماتے ہيں‪:‬‬ ‫( اَلص َﱠالةُ ِم ْع َرا ُج اُ ﱠمتِی) ‪٢‬‬ ‫نماز ميری امت کی معراج ہے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬معراج المومن‪/‬ص ‪)١ . ( ٢‬مستدرک سفينة البحار‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪) ٣۴٣‬‬

‫بچوں کونمازکاحکم دياکرو‬ ‫نمازکی اہميت اس چيزسے معلوم ہوتی ہے کہ احاديث ميں والدين کواس بات کی وصيت کی گئی ہے اپنے بچوں‬ ‫کونمازکاعادی بنائيں اورانھيں نمازکاحکم ديں‪،‬اگربچے نمازنہ پﮍھيں توانھيں ڈرايااورمارابھی جاسکتاہے‬ ‫قال الصادق السالم قال‪ :‬انّانا ٔمرصبياننابالصالة اذاکانوا بنی خمس سنين‪ ،‬فمروا صبيانکم ( بالصالةاذاکانو ابنی سبع سنين ۔) ‪٢‬‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں ‪ :‬جب ہمارے فرزند پانچ سال کے ہو جاتے ہيں ہم ان کو نماز پﮍھنے کا حکم ديتے ہيں اور‬ ‫جب تمہارے فرزندسات سال کو پہنچ جائيں توانھيں نماز پﮍھنے کا حکم دو۔‬ ‫حسن ابن قارون سے مروی ہے کہ‪:‬ميں نے امام علی رضا سے سوال کےا ياکسی دوسرے نے سوال کےا اورميں سن رہاتھا‬ ‫کہ‪:‬ايک شخص ہے جواپنے لﮍکے کوڈانٹ پھٹکارکے ساتھ نمازپﮍھواتا ہے اوروه لﮍکاايک ‪،‬دودن نمازنہيں پﮍھتاہے ‪،‬امام‬ ‫علی رضا نے پوچھا‪:‬اس کالﮍکے کی عمرکت نی ہے ؟جواب ديا‪ :‬اس کی عمر آٹھ سال ‪،‬يہ سن کرامام )عليھ السالم(نے‬ ‫تعجب سے فرمايا‪ :‬سبحان ﷲ ! وه آٹھ سال کا بچہ ہے اور نماز کو ترک کرتا ہے‪،‬ميں نے عرض کيا‪:‬وه بچہ ( مريض ہے‬ ‫‪،‬امام)عليھ السالم( نے فرمايا‪:‬جسصورت ممکن ہواسے اس سے نمازپﮍھوائيں ۔) ‪٣‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪(٢ .‬من اليحضره افقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ٢٨٠‬االستبصار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)٣ . ) ۴٠٩‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ١٣‬‬

‫عن معاوية بن وہب قال‪ :‬سئلت اباعبدﷲ عليہ السالم فی کم يو ٔخذالصبی بالصالة ( ؟فقال‪:‬فيمابين سبع سنين وست سنين۔) ‪١‬‬ ‫معاويہ ابن وہب سے مروی ہے‪:‬ميں نے امام صادق سے پوچھا‪:‬بچوں کوکت نی عمرسے نمازشروع کرناچاہئے ؟امام )عليھ‬ ‫السالم(نے فرمايا‪:‬جب بچہ چھ ‪،‬سات سال کی عمرکوپہنچ جائے ۔ اگرماں باپ نمازی ہيں توبچہ بھی نمازی بنتاہے‪،‬ماں باپ‬ ‫کونمازپﮍھتے ہوئے ديکھ کربچہ بھی نمازکی رغبت پيداکرتاہے کسی بھی نمازی کوديکھ کريہ معلوم ہوتاہے کہ اس کے ماں‬ ‫باپ نمازی ہيں اورانھوں نے بچہ کی اچھی تربيت کی ہے يہ ابوطالب کی تربيت کااثرتھاکہ آج علی کو“کرم ﷲ وجہ”)‬ ‫‪(١‬کانام دياجاتاہے۔‬ ‫تاريخ کے اوراق ميں لکھاہے کہ ‪ :‬امام حسينکی شہادت کے بعدجب ابن زيادکے سپاہيوں نے حضرت مسلم ابن عقيل کے‬ ‫دونوں بچوں کو گرفتارکرکے زندان ميں ڈال ديا‪ ،‬اوررات ميں د ربان نے قيدخانہ ميں پرنگاه ڈالی توديکھاکہ دونوں بچے‬ ‫نمازميں مشغول ہيں‪ ،‬نگہبان دونوں بچوں کو نمازوعبادت کی حالت ميں ديکھ کرسمجھ گياکہ يہ بچے کسی معصوم سے‬ ‫کوئی نسبت ضروررکھتے ہيں ‪،‬ل ٰہذابچوں کے پاس آيااورمعلوم کياتوچالکہ يہ مسلم ابن عقيل کے بچے ہيں پس رات کی‬ ‫تاريکی ميں دونوبچوں کوقيدخانہ سے باہرنکال ديامگرجب ابن زيادکے سپاہيوں نے بچوں کوقيدخانہ ميں نہ پاياتوانھيں جنگل‬ ‫ميں تالش کرکے دوباره گرفتار کرليا ‪،‬ابن زيادنے جالدکودونوں بچوں کاسرقلم کردينے کاحکم ديا‪،‬جب جالدنے دونوں کا‬ ‫سرقلم کرناچاہا تو بچوں نے زندگی کے آخری لمحات ميں نماز پﮍھنے کی مہلت ما نگی ‪ ،‬جب نماز کی مہلت مل گئی تو‬ ‫دونوں بچّے نماز ميں مشغول ہو گئے اور نماز کے بعد دونوں کو شہيد کرديا گيا ۔ ‪)١‬وه ذات کہ جسنے زندگی کبھی بھی بت‬ ‫کے سامنے سرنہ جھکاياہو )‬ ‫نمازکے آثارو فوائد‬ ‫ٰ‬ ‫نمازپﮍھنے ‪،‬روزه رکھنے ‪،‬حج کرنے ‪،‬زکات دينے ‪،‬صدقہ دينے ‪ ،‬اورديگرواجبات ومستحبات الہی کوانجام دينے سے‬ ‫خداکوکوئی فائده نہيں پہنچتاہے اورواجبات ومستحبات کوترک کرنے سے خداکاکوئی نقصان پہنچتاہے بلکہ انجام دينے سے‬ ‫ہم ہی لوگوں کوفائده پہنچتاہے اورترک کرنے پرہماراہی نقصان ہوتاہے ہم اس کی عبادت کريں وه تب بھی خداہے اور نہ‬ ‫کريں وه تب بھی خداہے ‪،‬ہماری نمازوعبادت کے ذريعہ اس کی خدائی ميں کسی چيزکااضافہ نہيں ہوتاہے اورنمازوعبادت‬ ‫کے ترک کردينے سے اس کی خدائی ميں کوئی کمی واقع نہيں ہوسکتی ہے بلکہ اس کی عبادت کرنے سے ہم ہی لوگوں کو‬ ‫فائده پہنچتاہے ‪،‬جب ہم اس کی عبادت کريں گے توہميں اس کااجروثواب ضرورملے گا ‪،‬خداوندعالم کاوعده ہے وه کسی کے‬ ‫نيک کام پراس کے اجروثواب ضائع نہيں کرتاہے ۔‬ ‫ض ْي ُع اَجْ َر ْال ُمصْ ِل ِح ْينَ <) ‪ ١‬اورجولوگ کتاب سے تمسک کرتے ہيں اورانھوں‬ ‫( < َوالّ ِذ ْينَ يُ َم ﱢس ُکوْ نَ ِب ْال ِکتَا ِ‬ ‫ب َواَقَاْ ُموْ االص ٰﱠلوةَ اِنّ َاالنُ ِ‬ ‫نے نمازقائم کی ہے توہم صالح اورنيک کردارلوگوں کے اجرکوضايع نہيں کرتے ہيں۔‬ ‫ُ‬ ‫َ‬ ‫ت َواَقَاْ ُموْ االص ٰﱠلوةَ َوآتُواال ﱠز ٰکوةَ لَہُ ْم اَجْ ُرہُ ْم ِع ْن َد َرب ِﱢہ ْم َو َال َخوْ ٌ‬ ‫<اِ ّن ّ◌◌َ الﱠ ِذ ْينَ آ َمنُوْ ا َو َع ِملُوْ ال ٰ ّ‬ ‫ف َعلي ِْہ ْم ( َو َالہُ ْم يَحْ َزنوْ نَ <) ‪٢‬‬ ‫صلِ ٰح ِ‬ ‫جولوگ ايمان الئے اورانھوں نے نيک عمل کئے ‪،‬نمازقائم کی ‪،‬زکات اداکی ان کے لئے پروردگارکے يہاں اجرہے اوران‬ ‫کے لئے کسی طرح کاخوف وحزن نہيں ہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره ٔبقره‪/‬آيت ‪)١ . ( ٢٧٧‬سوره أعراف ‪/‬آيت ‪) ١٧٠‬‬

‫دنياميں نمازکے فوائد‬ ‫دنياميں نام زنده رہتاہے جب کوئی بنده کسی نيک کام کوانجام ديتاہے توخداوندعالم اسے اس نيکی کااجروثواب دنياميں بھی‬ ‫عطاکرتاہے اورآخرت ميں بھی عطاکرے گادنياميں نمازايک فائده يہ ہے نمازی کانام دنياميں زنده رہتاہے ‪ ،‬تقوی‬ ‫وپرہيزگاری کی وجہ سے اکثرلوگ اسے ايک اچھے انسان کے نام سے يادکرتے ہيں ‪،‬کيونکہ خداوندعالم کاوعده کہ‬ ‫جومجھے يادکرے گاميں بھی اسے يادکروں گااوراس کانام روشن رکھوں گاجيساکہ قرآن کريم ميں ارشادرب العزت ہے‪:‬‬ ‫<فَ ْاذ ُکرُونِی َو ْاذ ُکرْ ُک ْم< ) ‪(١‬تم مجھے ياد کرو ميں تم کو ياد کروں گا۔ ‪--------‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪) ١ .‬سورئہ بقره ‪/‬آيت ‪) ١۵٢‬‬

‫گناہوں سے دورزہتاہے‬ ‫نمازکے لئے شرط ہے کہ نمازی کالباس ‪ ،‬بدن اورمحل سجده پاک ہوناچاہئے ‪،‬نمازی کے لئے باوضوہوناشرط ہے اور‬ ‫وضوميں شرط يہ ہے کہ وضوکا پانی اوراس کابرت ن پاک ہوناچاہئے اورنمازکی ايک شرط يہ بھی ہے کہ وضوکے پانی‬ ‫کابرت ن اورنمازی کالباس اورنمازپﮍھنے کی جگہ مباح ہونی چاہئے ان سب شرائط اورواجبات کی رعايت کرنے کايہ‬ ‫نتيجہ حاصل ہوگاکہ انسان مال حالل وپاک کوذہن ميں رکھے گا‪،‬رزق حالل حاصل کرے گا‪،‬حالل چيزوں کامالک رہے‬ ‫گا‪،‬حالل کپﮍاپہنے گااورگناہوں سے دوررہے گا۔‬ ‫حقيقی نمازانسان کی رفتار‪،‬گفتار‪،‬کرداراوراس کے اعمال افعال پرمو ٔثرہوتی ہے ل ٰہذاجن کی نمازان کے اعمال‬ ‫وافعال‪،‬رفتاروگفتاراورکردارپرمو ٔثرہوتی ہے وه بارگاه ميں ٰالہی قبول ہوتی ہے اورجن کی نماز گناه ومنکرات سے نہيں‬ ‫روکتی ہے ہرگزقبول نہيں ہوتی ہيں ل ٰہذاہم يہاں پران آيات وروايات کو ذکرکررہے ہيں جواس چيزکوبيان کرتی ہيں کہ‬ ‫نمازانسان کوگناه وبرائيوں سے روکنے کی ايک بہترين درسگاه ہے‪:‬‬ ‫َ‬ ‫<اَقِ ِم الصﱠالةَ ‪ ،‬اِ ﱠن الص ٰﱠلوةَ ت ٰنھی ع َِن ْالفَحْ شَا ِء َو ْال ُم ْنکَرْ َولَ ِذ ْک ُرﷲِ اَ ْکبَرُ‪َ ،‬وﷲُ يَ ْعل ُم ( َماتَصْ نَعُونَ <) ‪١‬‬ ‫نمازقائم کروکيونکہ نمازہربرائی اوربدکاری سے روکنے والی ہے اورﷲ کاذکربﮍی شے ہے اورﷲ تمھارے کاروبارسے‬ ‫خوب واقف ہے۔‬ ‫اوراحاديث ميں بھی آياہے کہ نمازانسان کوگناه ومنکرات سے دوررکھتی ہے‬ ‫ْ‬ ‫ﷲ اِ ّالبُعداً۔) ‪٢‬‬ ‫(‬ ‫ن‬ ‫م‬ ‫د‬ ‫ز‬ ‫ي‬ ‫م‬ ‫ع َِن النّ ِبی صلّی ﷲُ َعلَي ِہ َوآ ِل ِہ اَنّہُ قَا َل‪َ :‬من لَم ت نہہ َ‬ ‫ِ‬ ‫صالتَہُ ع َِن ْالفَحْ شَا ِء َو ْال ُم ْن َک ِرلَ َ ِ ِ‬ ‫جس شخص کی نمازاسے گناه و منکرات سے دورنہيں رکھتی ہے ا سے اللھسے دوری کے عالوه کچھ بھی حاصل نہيں ہوتا‬ ‫ہے ۔‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬من احبّ ان يعلم اقبلت صالتہ ام لم تقبل فلينظرہل ( صنعتہ صالتہ من الفحشاء والمنکرمامنعتہ‬ ‫قبلت منہ۔) ‪٣‬‬ ‫ٰ‬ ‫امام صادقفرماتے ہيں‪:‬جوشخص يہ ديکھناچاہتاہے کہ اس کی نمازبارگاه الہی ميں قبول ہوئی ہے يانہيں تووه يہ ديکھے کہ‬ ‫اس کی نمازنے اسے گناه ومنکرات سے دورکياہے يانہيں‪،‬اب جس مقدارميں نمازنے اسے گناه ومنکرات سے دوررکھاہے‬ ‫اسی مقدارميں اس کی نمازقبول ہوتی ہے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬تفسيرنورالثقلين ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪)١ . ( ١۶٢‬سوره ٔعنکبوت‪/‬آيت ‪(٣ . ) ۴۵‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ١۶‬ص ‪( ٢٠۴‬‬

‫عن النبی صلی ﷲ وآلہ انہ قال‪:‬الصلوة لمن لم يطع الصلوة وطاعة الصلوة ان ينتہی عن ( الفحشاء والمنکر۔) ‪١‬‬ ‫رسول خدا )صلی ﷲ عليھ و آلھ( فرماتے ہيں ‪ :‬جو شخص مطيع نماز نہ ہو اس کی وه نماز قبول نہيں ہوتی ہے اور اطاعت‬ ‫نمازيہ ہے کہ انسان اس کے ذريعہ اپنے آپ کوگناه ومنکرات سے دوررکھتاہے )يعنی نمازانسان کوگناه ومنکرات سے‬ ‫دوررکھتی ہے(۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬تفسيرنورالثقلين ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪) ١۶١‬‬

‫جابرابن عبدﷲ انصاری سے مروی ہے کہ‪:‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(سے شکايت کی گئی فالں شخص دن بھرنمازيں‬ ‫پﮍھتاہے اوررات ميں چوری کرتاہے ‪،‬آنحضرت نے يہ بات سن کرفرمايا‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫ان صالتہ لتردعہ‬ ‫يقينااس کی نمازاسے اس کام سے بازرکھے گی )اور پھروه کبھی چوری نہيں کرےگا( ( ۔) ‪١‬‬ ‫گذشتہ گناه بھی معاف ہوجاتے ہيں‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫خداوندعالم قرآن مجيدميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫ک ِذ ْک ٰری ( لِلذا ِک ِر ْينَ <) ‪٢‬‬ ‫ت ذلِ َ‬ ‫ٰار‪َ ،‬و ُز ْلفًا ِمنَ الﱠي ِْل ‪،‬اِ ﱠن ال َح َس ٰن ِ‬ ‫ت يُذ ِہ ْبنَ ال ﱢسيﱢئا ِ‬ ‫<اَقِ ِم الصﱠلوةَ طَ َرفَ ِی النﱠہ ِ‬ ‫(اے پيغمبر(آپ دن کے دونوں حصوں ميں اوررات گئے نمازقائم کروکيونکہ نيکياں برائيوں کوختم اورنابودکرديتی ہيں‬ ‫اوريہ ذکرخداکرنے والوں کے لئے ايک نصيحت ہے ۔ روايت ميں اياہے کہ ايک دن نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے اپنے‬ ‫اصحاب سے پوچھا‪:‬اگرتم ميں سے کسی ��خص کے گھرکے سامنے سے پاک وصاف پانی کی کوئی نہرگزررہی ہواوروه‬ ‫اس ميں روزانہ پانچ مرتبہ اپنے جسم کودھوئے کياپھربھی اس کے جسم پرگندگی رہے گی؟سب نے کہا‪:‬ہرگزنہيں!اسکے بعد‬ ‫آنحضرت نے فرمايا‪:‬‬ ‫نمازکی مثال اسی جاری نہرکے مانندہے ‪،‬جب انسان نمازپﮍھتاہے تودونمازوں کے درميان ( اس سے جت نے گناسرزدہوئے‬ ‫ہيں وه سب معاف ہوجاتے ہيں۔) ‪٣‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره ٔہود‪/‬آيت ‪)١ . ( ١١۴‬تفسيرمجمع البيان‪/‬جج ‪/٨‬ص ‪)٣ . ) ٢٩‬تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٢٣٧‬‬

‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عيہ وآلہ ‪:‬اذاقام العبدالی الصالة فکان ہواه وقلبہ الی ﷲ تعالی ( انصرف کيوم ولدتہ امہ۔) ‪١‬‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪:‬جب کوئی بنده نمازکے لئے قيام کرتاہے اوراس کادل وہواخداکی طرف ہو تووه‬ ‫نمازکے بعدايساہوجاتاہے جيساکہ اس نے ابھی جنم لياہے۔ ابوعثمان سے مروی ہے وه کہتے ہيں کہ‪:‬ميں اور سلمان فارسی‬ ‫ايک درخت کے نيچے بيٹھے ہو تھے جس کے پتّے خشک ہوچکے تھے‪ ،‬سلمان نے درخت کی شاخ کوپکﮍکرہالےااس کے‬ ‫خشک پتّے زمين پر گرنے لگے توسلمان نے کہا ‪ :‬اے ابن عباس !کيا تم درخت کوہالنے کی وجہ نہيں پوچھوگے ؟ ميں نے‬ ‫کہا‪ :‬ضروراس کی وجہ بيان کيجئے ‪،‬سلمان نے کہا‪ :‬ميں ايک روز نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے ساتھ اسی درخت کے‬ ‫نيچے بيٹھا ہوا تھا‪ ،‬آنحضرت نے بھی يہی کام کيا تھا جب ميں نے آنح__________ضرت سے کہا يا رسول ﷲ ! اس کی‬ ‫وجہ بيان فرمائےے ؟توآپنے فرمايا‪:‬‬ ‫اِ ّن العبد المسلم اذاقام الی الصالة عنہ خطاياه کماتحات ورق من الشجرة جب کو ئی مسلما ن بنده نمازکے لئے قيام کرتاہے‬ ‫تواس کے تمام گناه اسی طرح ( گرجاتے ہيں جس طرح اس درخت سے پتے گرے۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬امالی شيخ صدوق‪/‬ص ‪)١ . ( ١۶٧‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨٢‬ص ‪) ٢٣۶‬‬

‫ٰ‬ ‫ااالنادی ملک بين يدی الناس ‪ ( :‬ايہاالناس!قومواالی نيرانکم التی‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬مامن صالة يحضروقتہ‬ ‫اوقدتموہاعلی ظہورکم فاطفئوہابصالتکم۔) ‪ ١‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪:‬جےسے ہی نمازکاوقت شروع ہوتاہے‬ ‫ايک فرشتہ لوگوں کے درميان آوازبلندکرتاہے ‪:‬اے لوگو!اٹھواوروه آگ جوتم نے اپنے پيچھے لگارکھی ہے اسے اپنی‬ ‫نمازکے ذريعہ خاموش کردو ۔‬ ‫حضرت علی فرماتے ہيں ‪:‬ہم پيغمبر اسالم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کے ساتھ مسجد ميں بيٹھے ہوئے تھے اور نماز کے وقت کا‬ ‫انتظار کر ہے تھے کہ ايک مردنے کھﮍے ہوکرکہا‪:‬يارسول ﷲ! ميں ايک گنا ه کا مرتکب ہوگيا ہوں اس کے جبران کے لئے‬ ‫مجھے کيا کام کرنا چاہئے ؟ آنحضرت نے اس سے روگردانی کی اوراس کی بات پر کوئی توجہ نہ کی ‪،‬ےہاں تک کہ‬ ‫نمازکاوقت پہنچ گيااورسب نماز ميں مشغول ہوگئے ‪ ،‬نماز ختم ہونے کے بعد پھراس شخص نے اپنے گناه کے جبران کے‬ ‫بارے ميں پوچھا تورسول خدا )صلی ﷲ عليھ و آلھ( نے فرمايا‪ :‬کيا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہيں پﮍھی کےاتم نے مکمل‬ ‫طورسے وضونہيں کےا؟اس نے عرض کيا ‪ :‬ہاں ! يا رسول ﷲ ‪،‬آنحضرت نے فرمايا ‪ :‬تيری يہی نماز تيرے گناه کا کفّاره‬ ‫ہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬تفسيرمجمع البيان‪/‬ج ‪/۵‬ص ‪)١ . ( ٣۴۵‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢٠٨‬‬

‫حضرت علينہج البالغہ ميں ارشادفرماتے ہيں‪:‬‬ ‫وانہالتحت الذنوب حت الورق وتطلقہااطالق الربق وشبہہارسول ﷲ بالحمة تکون علی ( باب الرجل فہويغتسل منہااليوم والليل‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫خمسمرات فماعسی ان يبقی عليہ من الدرن۔) ‪ ١‬نماز گنا ہوں کو اسی طرح پاک کرديتی ہے جيسے درخت سے پتّے صاف‬ ‫ہوجاتے ہيں اور انسا ن کو گناہوں سے اسی طرح آزاد کر ديتی ہے جيسے کسی کورسّی کے پھندوں سے آزادکردياجائے‬ ‫اور رسول خدا )صلی ﷲ عليھ و آلھ( نے پنچگانہ نمازوں کواس گرم پانی کی نہرياچشمہ سے مثال دی ہے کہ جو کسی انسان‬ ‫کے گھر کے سامنے ہو ا ور وه اس ميں روزا نہ پانچ بار __________نہا تا ہوتو اسکے بد ن پر ذره برابر کثافت وگندگی‬ ‫باقی نہيں رہے گی ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬نہج البالغہ‪/‬خطبہ ‪/ ١٩٩‬ص ‪) ١٧٨‬‬

‫چہرے پرنوربرستاہے‬ ‫ا بان ابن تغلب سے روايت ہے کہ ميں نے امام صادق سے پوچھا ‪:‬اے فرزندرسول خدا حضرت فاطمہ کو زہرا يعنی‬ ‫درخشاں کيوں کہا جاتاہے ؟امام )عليھ السالم( نے فرما يا ‪ :‬کيونکہ جناب فاطمہ کے چہره مبارک سے روزانہ تےن مرتبہ‬ ‫اےک نورساطع ہوتا تھا‪:‬‬ ‫پہلی مرتبہ اس وقت جب آپ نماز صبح کے لئے محراب عبادت ميں کھﮍی ہوتی تھيں تو آپ کے وجود مبارک سے ايک‬ ‫سفيدنور سا طع ہوتاتھاجس کی سفيدی سے مدينہ کا ہر گھرنورانی ہو جاتاتھا‪،‬اہل مدينہ اپنے گھروں کونورانی ديکھ کر‬ ‫نہاےت تعجب کے ساتھ رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کی خدمت ميں حاضرہوتے اور اپنے گھر وں کے منّور ہوجانے‬ ‫کی وجہ دريا فت کر تے تھے‪،‬آنحضرت انھيں جواب ديتے تھے‪:‬تم ميری لخت جگر کے دروازه ے پر جا ؤاوران سے اس‬ ‫کی وجہ دريافت کرو‪ ،‬جيسے ہی لوگ ان کے دروازه پر پہنچتے تھے تومعلوم ہوتاتھاکہ بانو ئے دوعالم محراب عبادت ميں‬ ‫نمازوعبادت ا ٰلہی ميں مشغول ہيں اور چہرے سے ايک نور سا طع ہے جسکی روشنی سے مدينہ کے گھر چمک رہے ہيں۔‬ ‫دو سری مرتبہ اس وقت جب آپ نمازظہرين اداکر نے کے لئے محراب عبادت ميں قيا م کرتی تھيں توچہره اقدس سے پيلے‬ ‫رنگ کانورظاہر ہو تاتھااوراس نورکی زردی سے اہل مدينہ کے تمام گھرنورانی ہوجاتے تھے يہاں تک کہ ان کے چہرے‬ ‫اورلباس کارنگ بھی زردہوجاتاتھال ٰہذالوگ دوڑے ہوئے آنحضرت کے پاس آتے تھے اوراس وجہ معلوم کرتے تھے‬ ‫توآنحضرتانھيں اپنی کے گھرکی طربھيج دياکرتے تھے‪،‬جيسے ہی لوگ ان کے دروازه پر پہنچتے تھے توديکھتے تھے کہ‬ ‫بانو ئے دوعالم محراب عبادت ميں نمازوعبادت ا ٰلہی ميں مشغول ہيں اور چہرے سے ايک زردرنگ کانور سا طع ہے‬ ‫اورسمجھ جاتے تھے ہمارے گھرجناب سيده کے نورسے چمک رہے ہيں۔‬ ‫تيسری مرتبہ اس وقت کہ جب سورج غروب ہوجاتاتھااورآپ نماز مغربين ميں مشغول عبادت ہوتی تھيں توچہره اقدس سے‬ ‫سرخ رنگ کانورساطع ہوتاتھااوريہ آپ کے بارگاه رب العزت ميں خوشی اورشکرگزاری کی عالمت تھا‪،‬جناب سيده کے اس‬ ‫سرخ رنگ کے نورسے اہل مدينہ کے تمام گھرنورانی ہوجاتے تھے اوران کے گھروں کی ديواريں بھی سرخ ہوجاتی تھی‬ ‫‪،‬پسلوگ آنحضرت کے پاس آتے تھے اوراس کی وجہ دريافت کرتے تھے توآپانھيں اپنی لخت جگر کے گھرطرف بھيج‬ ‫دياکرتے تھے‪،‬جيسے ہی لوگ ان کے دروازه پر پہنچتے تھے توديکھتے تھے کہ سيدةنساء العا لمين محراب عبادت ميں‬ ‫ٰ‬ ‫وتمجيدالہی ميں مشغول ہيں اورسمجھ جاتے تھے ان کے نورسے ہمارے گھرنورانی ہوجاتے ہيں۔‬ ‫تسبيح‬ ‫پيشانی مبارک سے چمکتارہتاتھا اورجب‬ ‫حضرت امام صادق ‪ -‬فرماتے ہيں ‪:‬يہ نورہرروزتين مرتبہ اسی طرح سے ان کی‬ ‫ٔ‬ ‫امام حسين‪ -‬متولدہوئے تووه نور امام حسين‪ -‬کی جبين اقدس ميں منتقل ہوگيا اور پھربطور سلسلہ ايک امام سے دوسرے امام‬ ‫کی پيشا نی ميں منتقل ہورہا ہے اور جب بھی ايک امام )عليھ السالم(نے دنياسے رخصت ہواتوان کے بعدوالے امام )عليھ‬ ‫السالم(کی پيشانی ہوتاگيايہاں تک کہ جب امام زمانہ ظہور کريں گے تو ان کی پيشانی سے وہی نورساطع ( ہوگا۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ١٨٠‬‬

‫بے حساب رزق ملتاہے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫محمدمصطفی )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کی لخت جگرکے گھرميں دودن سے ميں کھانے‬ ‫روايت ميں آياہے کہ حبيب خداحضرت‬ ‫ٰ‬ ‫پينے کے لئے کوئی سامان موجودنہيں تھا‪،‬جوانان جنت کے سردار حسنين رات ميں کھانا کھائے بغيرہی سوجاياکرتے‬ ‫کرتھے ‪ ،‬جب تيسرادن ہوااورامام علی سے کچھ کھانے پينے کاانتظام کرسکے لہٰذاتاکہ بچوں کے سامنے شرمند نہ ہوناپﮍے‬ ‫توشام کے وقت مسجدپہنچے اوراپنے رب سے رازونيازکرتے رہے يہاں تک کہ مغرب کی نمازکاوقت ہوگيا‪،‬نبی اکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليھ و آلھ(کی اقتداميں جماعت سے نمازاداکی ‪،‬نمازختم ہونے کے بعدنبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ( نے حضرت‬ ‫عليسے عرض کيا ‪:‬يا علی ! ميں آج کی رات آپ کے گھرمہمان ہوں جبکہ امام )عليھ السالم( کے گھر کھا نے کا کچھ بھی‬ ‫انتظام نہيں تھا اور فاقے کی زندگی گزار رہے تھے ليکن پھربھی امام )عليھ السالم( نے پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(سے عرض کيا ‪ :‬يا رسول ﷲ !آپ کا ہمارے گھرتشريف النا ہمارے لئے ارجمند و بز رگواری کاباعث ہو گا ‪.‬‬ ‫نبی اورامام دونوں مسجدسے خارج ہوئے ليکن راستہ ميں امام )عليھ السالم(کی حالت يہ تھی کہ جسم سے عرق کی بونديں‬ ‫ٹپک رہی تھی اور سوچ رہے تھے کہ آج حبيب خداکے سامنے شرمندگی کاسامناکرناپﮍے گا‪،‬ل ٰہذاجيسے ہی گھرپہنچے‬ ‫توحضرت فاطمہ زہرا سے کہا ‪:‬‬ ‫اے رسول خداکی لخت جگر ! آج تمھارے باباجان ہمارے گھرمہما ن ہيں اورمگر اس وقت گھرميں کھانے کے لئے کچھ بھی‬ ‫موجودنہيں ہے ‪ ،‬جناب سيده نے باباکا ديدارکيااوراس کے بعدايک حجرے ميں تشريف لے گئيں اورمصلے پرکھﮍے ہوکردو‬ ‫رکعت نماز پﮍھی‪،‬اور سالم نماز پﮍھنے کے بعد اپنے چہره ٔمبارک کو زمين پر رکھ کر بارگاه رب العزت ميں عرض کيا ‪:‬‬ ‫پروردگا را! آج تيرے حبيب ہمارے گھر مہمان ہيں‪،‬اورتيرے حبيب کے نواسے بھی بھوکے ہيں پس ميں تجھے تيرے حبيب‬ ‫اوران کی آل کاواسطہ ديتی ہوں کہ توہمارے لئے کوئی طعام وغذانازل کردے ‪،‬جسے ہم ت ناول کرسکيں اور تيرا شکر‬ ‫اداکريں۔‬ ‫حبيب خدا کی لخت جگر نے جيسے ہی سجده سے سربلند کياتوايک لذيذ کھانے کی خوشبوآپ کے مشام مبارک تک پہنچی‬ ‫‪،‬اپنے اطراف ميں نگاه ڈالی توديکھا کہ نزديک ميں ايک بﮍاساکھانے کا طباق حاضر ہے جس ميں روٹياں اور برياں گوشت‬ ‫بھراہوا ہے‪،‬يہ وه کھاناتھاجو خدا ئے مہربان نے بہشت سے بھيجا تھا اور فاطمہ زہرا نے پہلے ايسا کھانا نہيں ديکھا تھا ‪،‬آ پ‬ ‫نے اس کھانے کواٹھاکردسترخوان پررکھااور پنجت ن پاک نے دستر خوان کے اطراف ميں بيٹھ کر اس بہشتی کھانا کو ت‬ ‫ناول فرمايا ۔‬ ‫روايت ميں آياہے کہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے اپنی پاره جگرسے پوچھا‪:‬اے ميرے بيٹی ! يہ لذےذاورخوشبودار‬ ‫کھانا آپ کے لئے کہا ں سے آيا ہے ؟ بيٹی نے فرمايا‪ :‬اے باباجان! ( <ھُ َو ِم ْن ِع ْن ِدﷲ اِ ﱠن ﷲ يَرْ زَ ُ‬ ‫ب‪١ )<.‬‬ ‫ق َم ْن يَشا َ ُء ِب َغي ِْر ِح َسا ٍ‬ ‫يہ کھانا ﷲ کی طرف سے آيا ہے خدا جسکو چاہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے۔‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے اپنی لخت جگرسے مخاطب ہوکر فرمايا‪:‬تمھارايہ ماجرابالکل مريم‬ ‫اورذکرياجيساماجراہے اوروه يہ ہے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫< ُکلﱠ َما َد َخ َل َعلَ ْيھَا َز َک ِري ْ‬ ‫ً‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ّ‬ ‫ٰ‬ ‫ُ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫ب‪)<.‬‬ ‫ک ھذا قالت ھ َو ِمن ِعن ِدﷲِ ( اِن اللھَيَرْ زق َمن يﱠشَا ُء بِ َغي ِْر ِح َسا ٍ‬ ‫َارزقا ق َ‬ ‫ﱠاال َمح�� َر َ‬ ‫ال ي َمرْ يَ ُم انی ل ِ‬ ‫اب َو َج َد ِعن َدھ ِ‬ ‫‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره آٔل عمران‪/‬آيت ‪)١ . ( ٣٧‬سوره آٔل عمران‪/‬آيت ‪) ٣٧‬‬

‫جب بھی حضزت زکريا )عليھ السالم(حضرت مريم )س (کی محراب عبادت ميں داخل ہوتے تھے تو مريم کے پاس طعام‬ ‫وغذا ديکھا کر تے تھے اور پو چھتے تھے ‪ :‬اے مريم ! يہ کھانا کہاں سے آياہے ؟ مريم)س(بھی يہی جواب ديتی تھيں‪ :‬يہ‬ ‫سب خداکی طرف سے ہے بے شک خدا جسکو چاہے بے حساب رزق عطا کرتاہے ۔‬ ‫جنت سے کھانانازل ہونے ميں دونوں عورتوں کی حکايت ايک جيسی ہے جس طرح نماز وعبادت کے وسيلہ سے حضرت‬ ‫مريم )س(کے لئے بہشت سے لذيذکھاناآتاتھااسی طرح جناب سيده کے لئے بھی جنت سے لذيذ اورخوشبودار غذائيں نازل‬ ‫ہوتی تھيں ليکن اس کوئی شک ( نہيں ہے کہ جناب سيده کا مقام تواسسے کہيں درجہ زياده بلندو با ال ہے) ‪١‬‬ ‫حضرت مريم)س(صرف اپنے زمانہ کی عورتوں کی سردار تھيں ليکن جناب سيّده دونوں جہاں کی عورتوں کی سردار ہيں‬ ‫‪،‬جبرئيل آپ کے بچوں کوجھوالجھالتے ہيں‪،‬گھرميں چکياں پيستے ہيں‪،‬درزی بن جاتے ہيں اسی لئے آپ کوسيدة نساء‬ ‫العالمين کے لقب سے يادکياجاتاہے۔‬ ‫وه خاتون جودوجہاں کی عورتوں کی سردارہو‪،‬وه بچے جوانان جنت کے سردارہوں‪،‬وه گھرکہ جسميں ميں فرشے چکياں‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫پيستے ہوں‪،‬جن بچوں کوجبرئيل جھوالجھالتے ہيں‪…،‬خدااس گھرميں کس طرح فاقہ گذارنے دے سکتاہے ‪،‬ہم تويہ کہتے‬ ‫ہيں کہ خداوندعالم انھيں کسی صورت ميں فاقہ ميں نہيں ديکھ سکتاہے بلکہ يہ فاقہ فقط اس لئے تھے خداوندعالم اس کے‬ ‫مقام ومنزلت کوبتاناچاہتاتھاورنہ مال ودولت توان ہی کی وجہ سے وجودميں آياہے ‪،‬يہ تووه شخصيت ہيں کہ اگرزمين‬ ‫پرٹھوکرماريں تووه سوناچاندی اگلنے لگے ۔‬ ‫رزق ميں برکت ہوتی ہے‬ ‫عن ضمرة بن حبيب قال‪:‬سئل النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ عن الصالة فقال‪:‬الصالة من ( شرايع دين …وبرکة فی الرزق…۔) ‪۴‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(سے نمازکی فضليت کے بارے ميں پوچھاگياتوآپ نے فرمايا‪:‬نمازشريعت دين اسالم ميں سے‬ ‫ہے…اورکے ذريعہ نمازی کے رزق ميں برکت ہوتی ہے‬ ‫‪-------‬‬‫‪)۴ .‬الخصال شيخ صدوق‪/‬ص ‪) ۵٢٢‬‬

‫دعائيں مستجاب ہوتی ہيں‬ ‫قال رسول ﷲ صلی عليہ وآلہ‪:‬من ادی الفريضة فلہ عنداللھدعوة مستجابة۔‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪:‬جوشخص فريضہ ٰالہی )نماز(کوانجام ديتاہے‬ ‫تعالی سے کوئی چيزطلب کرتاہے تو(اس کی دعابارگاه خداوندی ميں ( ضرورمستجاب ہوتی ہيں۔)‬ ‫)اوراس کے بعدﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٧٩‬ص ‪) ٢٠٧‬‬

‫رحمت خدانازل ہوتی ہے‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫ف َويَنہَوْ نَ ع َِن‬ ‫ت بَ ْع ُ‬ ‫ْض يَا ٔمرُوْ نَ ِبال َم ْعرُوْ ِ‬ ‫خدا وندعالم قرآن کريم ميں ارشاد فرماتا ہے‪َ < :‬وال ُمو ِمنوْ نَ َوال ُمو ِمنَا ِ‬ ‫ضہُ ْم اوْ لِيآ ُء بَع ٍ‬ ‫ﱠ‬ ‫رْ‬ ‫ﷲ‬ ‫م‬ ‫ہ‬ ‫م‬ ‫ح‬ ‫ي‬ ‫س‬ ‫ک‬ ‫َز ْي ٌز َح ِک ْي ٌم<) ‪٢‬‬ ‫ع‬ ‫ﷲ‬ ‫ن‬ ‫ا‬ ‫ُ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ْال ُم ْن َک ِر َويُ ِق ْي ُموْ نَ ( الص ٰﱠلوةَ َويُوتُونَ ال ﱠز ٰکوةَ َوي ُِط ْيعُوْ نَ ﷲَ َو َرسُوْ لَہُ اُو ٓل ِئ َ‬ ‫ِ‬ ‫ُ ُُ‬ ‫َ ِ‬ ‫__________مومن مرداورمومنہ عورتيں آپس ميں سب ايک دوسرے کے ولی ومددگارہيں کيونکہ يہ سب ايک دوسرے‬ ‫کونيکيوں کاحکم ديتے ہيں اوربرائيوں سے روکتے ہيں ‪،‬نمازقائم کرتے ہيں ‪،‬زکات اداکرتے ہيں اورﷲ ورسول کی اطاعت‬ ‫کرتے ہيں ‪،‬يہی سب وه لوگ ہيں جن پر خدارحمت نازل کرے گا۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره تٔوبہ ‪/‬آيت ‪)١ . ( ٧١‬ہزاريک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪) ٢٢۴‬‬

‫( <اَ ِق ْي ُموْ االص ٰﱠلوةَ َوآتُوال ﱠز ٰکوةَ َواَ ِط ْيعُوْ ا ال ﱠرسُوْ َل لَ َعلﱠ ُک ْم تُرْ َح ُموْ نَ <) ‪١‬‬ ‫نمازقائم کرو ‪،‬زکات اداکرواوررسول کی اطاعت کروکہ شايداسی طرح تمھارے حال پررحم کياجائے۔‬ ‫( قال علی عليہ السالم‪:‬الص ّٰلوة ينزل الرحمة۔) ‪٢‬‬ ‫حضرت عليفرماتے ہيں‪:‬نمازرحمت خداکے نازل ہونے کا سبب واقع ہوتی ہے۔ ‪--------‬‬ ‫‪(٢ .‬ميزان الحکمة ‪/‬ج ‪/۵‬ص ‪)١ . ( ٣۶٧‬سوره نٔور‪/‬آيت ‪) ۵۶‬‬

‫قال الصادق عليہ السالم‪:‬اذاقام المصلی الی الصالة نزلت عليہ الرحمة من اعيان السماء ( الی االرض وحفت بہ المالئکة ونادی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ملکٌ‪:‬لويعلم المصلی مالہ فی الصالة ماا ْنفتل۔) ‪۴‬‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جب نمازگزارنماز کے لئے کھﮍہوتاہے آسمان سے لے‬ ‫کرزمين تک اس پررحمت نازل ہوتی رہتی ہے اورفرشتے اسے اپنے احاطہ ميں لے ليتے ہيں اورايک فرشتہ‬ ‫آوازبلندکرتاہے ‪:‬اگراس نمازگزارکريہ معلوم ہوجائے کہ نمازميں کياکياچيزيں ہيں توہزگزنمازسے نہيں رک سکتاہے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)۴ .‬آثارالصادقين ‪/‬ج ‪/ ١١‬ص ‪) ٩٩‬‬

‫دل کوسکون ملتاہے اوررنج وغم دورہوتے ہيں‬ ‫نمازايسی واجب ٰالہی ہے کہ جس کے ذريعہ نمازی دل کوسکون ملتاہے کليجہ کوٹھنڈک محسوس ہوتی ہے ‪،‬رنج وغم‬ ‫دورہوتاہے کيونکہ خداوندعالم قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪< ( :‬اَال ِب ِذ ْک ِرﷲ ت ْ‬ ‫َط َم ِئنَ ْالقُلُوب<) ‪١‬‬ ‫آگاه ہوجاؤ! ﷲ کے ذکرسے دلوں کوسکون ملتاہے۔‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪ :‬جب بھی تمھيں دنياميں کوئی مشکل پيش آئے تووضوکرکے مسجدجاؤاور دورکعت‬ ‫نمازپﮍھواورنمازميں دعاکروکيونکہ خداوندعالم قرآن مجيدميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫( < َوا ْستَ ِع ْينُوابِال ﱠ‬ ‫صب ِْر َوالصﱠال ِة<) ‪ ( ٢‬نمازاورصبرکے ذريعہ اللھسے مددطلب کرو۔) ‪٣‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٣ .‬مجمع البيان ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪(٢ . ( ١٩۴‬سوره بقره ‪/‬آيت ‪)١ . ( ۴۵‬سوره رعد‪/‬آيت ‪) ٢٨‬‬

‫عورت کی عزت آبروقائم رہتی ہے‬ ‫عورت پرواجب ہے کہ نمازکی حالت ميں اپنے پورے جسم کوچھپائے يہاں تک کہ بالوں کوبھی خواه اسے کوئی نہ ديکھ‬ ‫رہاہو‪،‬صرف چہره اورگٹوں تک ہاتھ وپاؤں کاکھالرہناجائزہے ‪،‬نمازکايک فائده يہ بھی ہے کہ عورت نمازکے ذريعہ پرده‬ ‫کی عادی بن جاتی ہے ‪،‬نمازی وپرہيزگارعورت گھرسے باہر)گلی ‪،‬کوچہ ‪،‬محفل اورمجلس ميں(بھی اپنے پردے کاخيال‬ ‫ضروررکھتی ہے۔‬ ‫بے حجاب عورت کی مثال پھلدار درخت کی اس شاخ کے مانند ہے جو کسی باغ ياگھرکی چہارديواری سے باہرنکلی ہوئی‬ ‫رہتی ہے کہ جسپاسسے گذرنے ہرشخص اس شاخ کی طرف دست درازکرتاہے اوراس کے پھل کوتوڑکرکھانے کی کوشش‬ ‫کرتا ہے اوربے حجاب عورت کی مثال چمن کھلے ہوئے اس پھول کے مانندہے جس کی رنگت اورخوبصورتی کوديکھ‬ ‫کرہرشخص کے دل ميں اس پھول کوچھونے ‪ ،‬مس کر نے اوراس کی خوشبو سونگھے کی رغبت پيداہوتی ہے يہاں تک کہ‬ ‫بعض لوگ اس قدرتجاوزکرجاتے ہيں کہ اس پھول کوشاخ سے توڑکراس کی خوشبوسے فائده اٹھاتے ہيں۔‬ ‫حجاب عورت کے لئے ايک ايسا حصا ر و حافظ ہے جو عورت کو بيگانہ اور اجنبی لوگوں کے خوف وخطرسے محفوظ‬ ‫رکھتا ہے ‪ ،‬حجاب کا درس حاصل کرنے اور اس کی عادت ڈالنے کی بہتر ين درسگاه نماز ہے کيونکہ ہرمسلمان عورت پر‬ ‫واجب ہے کہ وه روزانہ پانچ مرتبہ حجاب کا مل کے ساتھ خدائے وحده الشريک کی بارگاه ميں کھﮍی ہوکر نماز پﮍھے اور‬ ‫اپنے رب کے ساتھ رازونياز کرے ۔‬ ‫قرآن کريم متروک ہونے سے محفوظ رہتاہے‬ ‫نمازکے فوائدميں سے ايک يہ بھی ہے کہ قرآن کريم اس کے ذريعہ متروک ہونے سے محفوظ رہتاہے اورنمازميں اسی لئے‬ ‫قرئت کوواجب قراردياگياہے تاکہ قران متروک ہونے سے محفوظ رہے کيونکہ ممکن ہے انسان کسی کام ميں مشغوليت کی‬ ‫بناپر‪،‬ياکسالت اورسستی کی وجہ سے روزانہ قرآن کريم کی تالوت نہ کرے ليکن خدوندعالم نے اس لئے تاکہ انسان تالوت‬ ‫کے اجروثواب اوراس کے فوائدسے محروم نہ رہے نمازميں نمازميں قرئت کوواجب قراردے ديا‪،‬اس بات کومکمل طورسے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫رازقرائت ميں ذکرکريں گے۔‬ ‫قبض روح ميں اسانی ہوتی ہے‬ ‫ايک شخص نے امام صادق سے مومن کی موت کے بارے ميں سوال کياتوامام )عليھ السالم( نے فرمايا‪:‬‬ ‫( ِل ْل ُمو ِمن َکاَ ْ‬ ‫طيَب ِريح يَش ّمہ‪ ،‬فَيَ ْن َع ُس ِل ِطي ِب ِہ ‪َ ،‬ويَ ْنقَ َ‬ ‫ب َو ْاالَلَم ُکلّہُ َع ْنہُ ۔) ‪ ١‬مومن کی موت ايک خوشبودارپھول سونگھنے کے‬ ‫ط ِع التّ َع َ‬ ‫مانندہے‪ ،‬موت آتے ہی اس کے تمام رنج وغم ختم ہوجاتے ہيں۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬معانی االخبار‪/‬ص ‪) ٢٨٧‬‬

‫برزخ اورقيامت ميں نمازکے فوائد‬ ‫انسان کے مرنے کے بعددنيااورتمام عزيزواقارب سے ہرطرح کاتعلق منقطع ہو جاتے ہيں ‪،‬دنياکی کوئی چيزاس کے ساتھ‬ ‫قبرميں نہيں جاتی ہے بلکہ ماں باپ‪،‬بھائی بہن‪ ،‬مال ودولت ‪،‬اوالدوہمسر‪…،‬سب کادامن ہاتھ سے چھٹ جاتاہے اورجب تمام‬ ‫عزيزواقارب اسے دفن کرکے واپس چلے جاتے ہيں تو ميت پراس ت نگ اوراندھيری کوٹھری ميں ت نہائی کی وجہ سے‬ ‫ايک ہولناک وخوفناک وحشت طاری ہوتی ہے اورجب کوئی اسے اس وحشت سے نجات دالنے واالنہيں ملتاہے تواس کی‬ ‫نمازاسے قبرکی ت نہائی سے نجات دالتی ہے ‪،‬عالم برزخ ميں نمازکے مونسہونے کے بارے ميں چندحديث مندرجہ ذيل‬ ‫ذکرہيں‪:‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪:‬ان الصالة تاتی الميت فی قبره بصورة شخص ( انوراللون يونسہ فی قبره ويدفع عنہ اہوال‬ ‫البرزخ۔) ‪١‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں ‪:‬عالم برزخ ميں نمازايک نورانی اورخوبصورت شخص کی شکل ميں قبرميں‬ ‫داخل ہوتی ہے جوقبرميں انسان کی مددگارثابت ہوتی ہے اوربرزخ کی وحشت کواس سے دورکرتی ہے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬الخصال شيخ صدوق‪) ۵٢٢ /‬‬

‫عن ضمرة بن حبيب‪ ،‬قال‪ :‬سئل النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ عن الصالة فقال‪ :‬الصالة من شرايع دين وشفيع بينہ وبين ملک الموت‬ ‫‪،‬وانس فی قبره ‪،‬وفراش تحت جنبہ‪،‬وجواب ( لمنکرونکير…۔) ‪١‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(سے نمازکی فضليت کے بارے ميں پوچھاگياتوآپ نے فرمايا‪:‬نمازشريعت دين اسالم ميں سے‬ ‫ہے…نمازوه ہے کہ جوملک الموت اوراس نمازی کے درميان شفيع واقع ہوتی ہے ‪،‬قبراس کی مددگارثابت ہوتی ہے ‪،‬اوراس‬ ‫کے لئے بہترين بچھوناہوتی ہے ‪،‬منکرونکيرکے سوالوں کاجوابگوہوتی ہے …۔‬ ‫ليکن يہ بات يادرہے کہ ہرنمازانسان کوبرزخ ميں قبرکی وحشت سے نجات نہيں دالسکتی ہے بلکہ صرف وه نمازکام آئے‬ ‫گی جوپورے آداب وشرائط کے ساتھ انجام دی گئی ہوخصوصاًوہی نمازکام آئے گی جومحمدوآل کی محبت کے ساتھ انجام‬ ‫دی گئی ہو۔ عبدالرحمن ابن سميرسے مروی ہے ‪:‬ايک دن ہم چند لوگ رسولخدا )صلی ﷲ عليھ و آلھ( کی خدمت ميں جمع‬ ‫تھے ‪ ،‬آنحضرت نے فرمايا ‪ :‬ميں نے کل رات ايک عجيب خواب ديکھا ہے ‪ ،‬ميں نے عرض کيا ‪ :‬يا رسول ﷲ ! آپ پر‬ ‫ہماری اور ہماری اوالد کی جانيں قربان ہو جائيں آپ ہميں بتائيں کہ خواب ميں کيا ديکھا ہے ؟ پيغمبراکرم )ص��ی ﷲ عليھ و‬ ‫آلھ(نے خواب بيان کرنا شروع کيا اورفرمايا‪ :‬ميں نے ايک مرد کو ايسی حالت ميں ديکھا کہ عذاب کے فرشتوں نے اس کا‬ ‫محاصره ( کررکھا ہے اسی وقت اس شخص کی نماز آئی اور اسے عذاب کے فرشتوں سے آزاد کر ايا ۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ١٨٣‬الخصال شيخ صدوق‪) ۵٢٢ /‬‬

‫ايک دن جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(سے نمازکی فضليت کے بارے ميں پوچھاگياتوآپ نے فرمايا‪ :‬نمازشريعت دين‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اسالم ميں سے ہے…اورروزمحشرنمازی کے سرکاتاج ہوگی ‪،‬نمازی کے چہرے پرنوربرستاہوگا‪،‬نمازاس کے بدن کالباس‬ ‫ہوگی اورجنت وجہنم کے درميان ايک حجاب وسپر واقع ہوگی ‪،‬نمازی اورخدائے عزوجل کے درميان حجت ہوگی ‪،‬اس کے‬ ‫جسم کونارجہنم سے نجات دالئے گی اورپل صراط سے آسانی سے گزرنے کاسبب واقع ہوگی ‪،‬نمازجنت کی ( کنجی ہے‬ ‫اورنمازگزارنمازکے وسيلے سے بلندمقام تک پہنچے گا ۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪) ١ .‬الخصال شيخ صدوق‪) ۵٢٢ /‬‬

‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں ‪ :‬روزقيامت ايک بوڑھے شخص کو حاضر کيا جائے گا اور اس کا نامہ أعمال اس کے‬ ‫ہاتھوں ميں ديا جائے گا اورسب اس کو ديکھتے ہو نگے ‪،‬اسے اپنے نامہ أعمال ميں گناہوں کے عالوه کچھ بھی نظر نہ آئے‬ ‫گا‪ ،‬جب حساب ليتے ہو ئے بہت دير ہو جائے گی تو وه بوڑھا شخص کہے گا ‪ :‬بارالہا ! مجھ کو ايسالگتا ہے کہ تو مجھے‬ ‫دوزخ ميں ڈالنے کا حکم دينے واالہے ؟ خطاب ہو گا ‪ :‬اے بوڑھے انسان مجھے تجھ پر عذاب نازل کرتے ہوئے حيا آتی ہے‬ ‫‪ ،‬کيونکہ تو نے دنيا ميں نمازيں پﮍھی ہيں اس کے بعد پرور دگار اپنے فرشتہ ( سے کہے گا ‪ :‬مير ے اس بند ے کو بہشت‬ ‫ميں لے جاؤ۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)٢ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٢٧‬‬

‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫روزانہ پانچ ہی نمازکيوں واجب ہيں‬ ‫خداووندعالم نے روزانہ پانچ نمازوں کوواجب قراردياہے‪:‬ظہروعصر‪،‬مغرب‪ ،‬عشا اور صبح کی نماز‪،‬قرآن کريم اورروايت‬ ‫ميں پانچ ہی نمازوں کاذکرہواہے قال ابوعبدﷲ عليہ السالم فی الوتر‪:‬انماکتب ﷲ الخمس وليست الوترمکتوبة ان شئت‬ ‫صليتہاوترکہاقبيح‪.‬‬ ‫امام صادق نمازوتر کے بارے مينفرماتے ہيں‪:‬خداوندعالم نے پانچ نمازيں واجب قراردی ہيں اورنمازوترواجب نہيں‬ ‫ہے‪،‬اگرچاہيں تواسے پﮍھيں اورنمازوترکاترک کرناقبيح ہے۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/٢ /‬ص ‪١١‬‬ ‫عن معمريحيی قال‪:‬سمعت اباجعفر عليہ السالم يقول‪:‬اليسئل ﷲ عبدا عن صالة بعدالخمس‪.‬‬ ‫معمربن‬ ‫يحيی سے مروی ہے کہ ميں نے امام محمدباقر عليہ السالم کويہ فرماتے سناہے ‪):‬روزقيامت( کسی بھی بندے سے‬ ‫ٰ‬ ‫پانچ نمازوں کے عالوه کسی بھی نمازکے متعلق سوال نہيں کياجائے گا۔‬ ‫‪--------‬‬

‫‪   ‬‬

‫تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪١۵۴‬‬

‫زراره سے مروی ہے‪ :‬ميں نے امام محمدباقرسے پوچھا‪:‬خدانے روزانہ کت نی نمازيں واجب قراردی ہيں؟امام )عليھ السالم(‬ ‫نے فرمايا‪:‬اسنے ايک شبانہ روزميں پانچ نمازيں واجب قراردی ہيں‪،‬ميں نے امام)عليھ السالم( سے دوباره پوچھا‪:‬‬ ‫کياخداوندمتعال نے ان نمازوں کے ناموں کوبھی بيان کياہے اورانھيں اپنی کتاب )قرآن مجيد(ميں ذکرکياہے؟امام)عليھ السالم(‬ ‫وتعالی اپنے نبی سے ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫نے فرمايا‪ :‬ہاں ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ق اللّي ِْل <) ‪ ١‬زوال آفتاب سے رات کی تاريکی تک نمازقائم کرو ۔‬ ‫( <اَ ِق ِم الص ٰﱠلوةَ ِل ُدلُ ِ‬ ‫س اِ ٰلی َغ َس ِ‬ ‫وک ال ﱠش ْم ِ‬ ‫آيہ مبارکہ ميں لفظ “دلوک” زوال کے معنی ميں استعمال ہواہے ‪،‬زوال آفتاب سے لے کرآدھی رات تک چارنمازيں پﮍھی‬ ‫جاتی ہيں جن نمازوں کاﷲ‬ ‫تعالی نے ايک مخصوص نام رکھاہے اوران کااپنی کتاب ميں ذکرکياہے اورہرنمازوقت کابھی‬ ‫ٰ‬ ‫بيان کياہے اور “غسق ليل ”سے آدھی رات مرادہے۔‬ ‫اور ايک نمازجوصبح کے وقت پﮍھی جائے جسے خداوندعالم نے قرآن فجرکانام دياہے اورکہاہے‪:‬‬ ‫( < َوقُرْ آنَ ْالفَجْ ِر‪،‬اِ ﱠن قُرْ آنَ ْالفَجْ ِر َکانَ َم ْشہُودا <) ‪١‬‬ ‫اورنمازصبح بھی پﮍھاکروکيونکہ نمازصبح کے لئے گواہی کاانتظام کياگياہے۔ امام )عليھ السالم(فرماتے ہيں کہ قرآن‬ ‫فجرسے نمازصبح مرادہے اوريہ پانچ نمازيں ہيں جن کانام خداوندعالم نے قرآن کريم ميں ذکرکياہے ۔‬ ‫اس کے بعدامام صادق نے ارشادفرمايا‪:‬ان ہی پانچ نمازوں کے نام اوراورقات کے بارے ميں خداوندعالم قرآن کريم ميں‬ ‫دوسری جگہ ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫ً‬ ‫ُ‬ ‫ار َوزلفا ِمنَ اللي ِْل<) ‪٢‬‬ ‫( < َواَقِ ِم الصﱠلوةَ طَ َرفَ ِی النﱠہَ ِ‬ ‫دن کے دونوں کنارے ميں اور رات گئے تک نمازقائم کرو۔ آيہ مبارکہ ٔميں دن کے دونوں کناروں سے مراديہ ہے کہ سورج‬ ‫ڈوبنے کے بعداورطلوع ہونے سے پہلے نمازقائم کرو‪،‬سورج ڈوبنے کے بعدپﮍھی جانے والی نماز کو نماز مغرب کہتے ہيں‬ ‫اورسورج طلوع ہونے سے پہلے پﮍھی جانے والی نمازکونمازصبح کہتے ہيں اوررات گئے پﮍھی جانے والی‬ ‫نمازکونمازعشاء کہتے ہيں۔‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ُ‬ ‫ت َوال ﱠ‬ ‫اس کے بعدامام صادق فرماتے ہيں‪:‬خداوندعالم ايک اور آيت ميں ارشادفرماتاہے‪َ < ( :‬حافِظوا َعلَی ال ﱠ‬ ‫ص َال ِة ال ُوسْطی‬ ‫صلَ َوا ِ‬ ‫نمازوسطی کی محافظت اور پابندی کرواورﷲ کی بارگاه ميں خضوع وخشوع‬ ‫َوقُوْ ُموا ِ ٰ ّ ِ قَانِتِ ْينَ <) ‪ ٣‬اپنی نمازوں بالخصوص‬ ‫ٰ‬ ‫کے ساتھ کھﮍے ہوجاؤ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره ٔہود‪/‬آيت ‪)١ . ( ١١۶‬سوره اسراء ‪/‬آيت ‪)٣ . ) ٧٨‬سوره ٔبقره ‪/‬آيت ‪) ٢٣٨‬‬

‫وہی صالة الظہر‪ ،‬وہی اوّل صالة صالہارسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪ ،‬وہی وسط النہارووسط الصالتين بالنہارصالة الغداة‬ ‫وصالة العصر۔‬ ‫نمازوسطی سے نمازظہر مرادہے اوريہ پہلی نمازہے جسے رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے سب پہلے‬ ‫آيہ ٔمبارکہ ميں‬ ‫ٰ‬ ‫پﮍھااوريہ نمازدن کے درميانی حصے ميں اوردن کی دونمازوں کے درميان پﮍھی جائے اوروه دونمازيں صبح اورعصر‬ ‫کی نمازہيں۔‬ ‫نمازوسطی سے نمازعصرمراد ہے کيونکہ نمازعصروه نمازہے‬ ‫اورامام )عليھ السالم(نے فرمايا‪:‬بعض قرائت کے مطابق‬ ‫ٰ‬ ‫جونمازيوميہ کی پانچ واجب نمازوں ميں درميانی نمازہے دونمازيں)صبح اورظہر(اس سے پہلے پﮍھی جاتی ہيں‬ ‫اوردونمازيں)مغرب وعشا(نمازعصرکے بعدپﮍھی جاتی ( ہيں ) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٢٧١‬‬

‫اگرکوئی يہ سوال کرے کہ خداوندعالم نے روزانہ پانچ ہی نمازوں کوکيوں واجب قراردياگياہے اس سے کم يازياده کيوں‬ ‫نہيں؟تواس جواب يہ ہے جوہم ايک روايت کے ضمن ميں پيشکررہے ہيں‪:‬‬ ‫روايت ميں آياہے کہ‪:‬جس وقت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(معراج پر تشريف لے گئے توپروردگارعالم نے آپ کو حکم ديا‬ ‫‪:‬اے رسول! آپ اپنی امت سے کہد يجئے کہ ہرروزوشب پچاس نماز پﮍھا کر يں اس کے بعدجب آنحضرت معراج سے واپس‬ ‫موسی ابن عمرانکے پاس پہنچے‬ ‫ہورہے تھے توہرنبی کے پاس سے گزرہواکسی نے کچھ نہيں کہايہاں تک کہ حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫توحضرت‬ ‫موسی نے پوچھا‪ :‬پروردگارنے تمھيں کس چيزکاحکم دياہے ؟)اور تمھاری امت پر کت نی نمازوں کوواجب‬ ‫ٰ‬ ‫موسی نے کہا‪:‬اپنے پروردگارسے تخفيف طلب‬ ‫قراردياہے( آنحضرت نے کہا‪:‬پچاس نمازيں پﮍھنے کاحکم دياہے ‪،‬حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫کيجئے تمھاری امت کے لئے واجب نمازوں کی يہ تعداد بہت زياده ہے کيونکہ وه روزانہ ات نی نمازيں پﮍھنے کی قوت‬ ‫نہيں رکھتے ہيں ل ٰہذا اپنے رب سے تخفيف کی درخواست کيجئے ۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫موسی کی فرمائش کو قبول کيا اور بارگاه رب العالمين‬ ‫پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے امت اسالم کی خاطرحضرت‬ ‫ٰ‬ ‫ميں تخفيف کا مطالبہ کيا تو خدانے ان کی تعدادميں دس نمازيں کم کردی اس کے بعدنبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(واپس‬ ‫موسی ابن عمران ‪-‬کے پاس‬ ‫ہوئے تودوباره ہرنبی کے پاس سے گزرہواکسی سے کوئی سوال نہيں کيايہاں تک کہ حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫آئے توحضرت موسی )عليھ السالم(نے دوباره پوچھا‪:‬اب کت نی نمازوں کاحکم دياہے؟آنحضرت نے کہا‪:‬چاليس نمازوں‬ ‫کاحکم دياہے حضرت موسی )عليھ السالم(نے کہا‪ :‬اب بھی تعدادزياده ہے‪،‬آنحضرت نے دوباره خداسے تخفيف چاہی تو‬ ‫موسی نے پھرکہا‪:‬يہ بھی زياده ہے الغرض خدانے بيس کودس سے بدالاس‬ ‫خدانے چاليس کوتيس ميں تبديل کرديا‪،‬حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫کے بعد دس کوپانچ ( ميں تبديل کيااورواجب نمازوں کی تعدادکم کرتے کرتے پچاس سے پانچ ہوگئی ۔ ) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ١٩٧‬۔ ‪) ١٩٨‬‬

‫زيد ابن علی بن الحسين سے مروی ہے ‪:‬ميں نے اپنے والدسيدالعابدين )حضرت امام زين العابدين(سے سوال کيااورکہا ‪:‬اے‬ ‫ميرے والد محترم آپ مجھے اس بات سے آگاه کريں کہ جب ہمارے جدبزرگوار) نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ((آسمان‬ ‫پرمعراج کے لئے گئے اورپروردگارنے آنحضرت کوپچاس نمازيں پﮍھنے حکم دياتواسی وقت پروردگارسے نمازميں‬ ‫موسی نے‬ ‫تخفيف کامطالبہ کيوں نہيں کيا ليکن جب معراج سے واپس ہوئے توحضرت موسی سے مالقات ہوئی ‪،‬حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫آنحضرت سے کہا ‪ :‬اپنی امت کے لئے خداسے تخفيف کراؤکيونکہ تمھاری امت اس قدرنمازيں پﮍھنے کی قوت نہيں رکھتی‬ ‫ہے) پسآنحضرت نے خداسے نمازوں ميں تخفيف کرائی يہاں تک واجب نمازوں کی تعدادپچاس سے کم ہوتے ہوتے پانچ ره‬ ‫گئی(؟‬ ‫امام زين العابدين نے فرمايا‪:‬اے ميرے بيٹا!نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(اپنی طرف سے خداسے کوئی فرمائش نہيں‬ ‫کرناچاہتے تھے ل ٰہذاجب معراج سے واپس ہوئے اورحضرت‬ ‫موسی نے کہا‪:‬تم اپنی امت‬ ‫موسی سے مالقات ہوئی توحضرت‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫کے شفيع ہوپس تم اپنی امت کی شفاعت کے لئے خداسے نمازوں ميں تخفيف کراؤکيونکہ تمھاری امت اس قدر نمازيں‬ ‫پﮍھنے کاحوصلہ نہيں رکھتی ہے ل ٰہذاپيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے خداسے نمازوں ميں تخفيف کرائی يہاں تک کہ‬ ‫واجب نمازوں کی تعدادپانچ ره گئی ‪.‬‬ ‫زيدابن علی کہتے ہيں کہ ‪:‬ميں نے اپنے والدسے دوباره پوچھا‪:‬آنحضرت نے امت اسالم کے لئے پانچ سے بھی کم نمازوں‬ ‫کا تقاضا کيوں نہيں کيا ؟ امام زين العابديننے جواب ديا‪ :‬اے بيٹا! رسول __________خدا )صلی ﷲ عليھ و آلھ( نے پا نچ پر‬ ‫اس لئے اکتفاء کی کيونکہ انہی پا نچ نمازوں کے ذريعہ پچاس نماز وں کا اجر و ثواب حاصل ہو سکتا ہے جيساکہ‬ ‫خداوندعالم قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ہے ‪:‬‬ ‫( < َم ْن َجا َء بِ ْال َح َسنَ ِة فَلَہُ َع ْش ُراَ ْمثَالِھَا < ) ‪١‬‬ ‫جو شخص بھی کوئی ايک نيکی کرے گا اسے اس کادس برابراجروثواب ملے گا اس کے بعدامام )عليھ السالم(نے کہا‪:‬اے‬ ‫بيٹا!کياتم نہيں جانتے ہوکہ جب ہمارے جدحضرت نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(آسمانوں کی سيرکرکے زمين پرتشريف‬ ‫الئے ت��جبرئيلنازل ہوئے اورکہا‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫يامحمد!ان ربک يقرئک السالم ويقول‪:‬انّہاخمس بخمسين‪،‬مايبدل القول لدی وماانابظالم للعبيد۔‬ ‫اے محمد!تمہاراپروردگارتم پردرودوسالم بھيجتاہے اورکہتاہے‪:‬يہ پانچ نمازيں پچاس نمازوں ( کے برابرہيں )اور انھی پانچ‬ ‫نمازوں کے ذريعہ پچاس نمازوں کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے( ) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ١٣٣‬سوره أنعام ‪/‬آيت ‪) ١۶٠‬‬

‫ان اوقات ميں نمازکے واجب ہونے کی وجہ‬ ‫گذشتہ مطالب اورروايت سے يہ واضح ہوگياہے کہ روزانہ پانچ نمازيں واجب ہيں مگراب سوال يہ پيداہوتاہے کہ خداوندعالم‬ ‫نے ان پانچ نمازوں کے لئے الگ الگ وقت کيوں معين کياہے‪ ،‬پانچوں نماز کوايک ہی وقت ميں کيوں واجب قرارنہيں‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ديا‪،‬پانچوں نمازکو صبح ميں يادوپہرميں ياعصرميں يارات ميں کسی بھی وقت واجب قراردے ديتا‪،‬ياکہہ ديتاکہ جسکے پاس‬ ‫رات دن ميں جب بھی وقت مل جائے پانچوں نمازيں ايک ساتھ پﮍھ لياکرے ‪ ،‬مگرخدانے ايسانہيں کيااور پانچوں نمازکوالگ‬ ‫وتعالی نے ايک‬ ‫الگ وقت ميں واجب قرارديا اس کی کياوجہ ہوسکتی ہے اوراس ميں کيارازپاياجاتاہے کہ ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫نمازکوزوال کے وقت ‪،‬دوسری عصرکے وقت ‪،‬تيسری مغرب کے وقت ‪،‬چوتھی رات کی تاريکی ميں اورپانچوی‬ ‫نمازکوسورج طلوع ہونے سے پہلے پﮍھنے کاحکم دياہے ؟اس بارے ميں چندروايت ذکرہيں ‪:‬‬ ‫پہلی روايت‬ ‫امام حسنسے مروی ہے کہ يہوديوں کی ايک جماعت رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کی خدمت ميں آئی اوراس جماعت‬ ‫کے سب سے بﮍے عالم نے آنحضرت سے چندسوال کئے جن ميں ايک سوال يہ بھی تھا‪ :‬آپ ہميں اس چيزکے بارے ميں‬ ‫خبرديجئے کہ خداوندعالم نے آپ کی امت پرروزانہ ان پنچگانہ نمازوں کو ان ہی پانچ وقتوں ميں کيوں واجب قراردياہے ؟‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے اس يہودی عالم کے سوال کاجواب ديااورپنچگانہ نمازوں کوان پانچ اوقات ميں واجب‬ ‫قراردئے کی وجہ بيان کی اورفرمايا‪:‬‬ ‫زوال کے وقت سورج کے لئے ايک حلقہ ) ‪(١‬بن جاتاہے جس ميں وه داخل ہوجاتاہے اورجيسے ہی سورج اس دائرے ميں‬ ‫داخل ہوتاہے توعرش کے عالوه اس کے نيچے موجوددنياکی ہر چيزخدائے عزوجل کی تسبيح کرنے لگتی ہيں اوريہ وہی‬ ‫گھﮍی ہے کہ جب ميراپروردگارمجھ پردرودبھيجتاہے ل ٰہذاخدائے عزوجل نے مجھ پراورميری امت پراس وقت نمازميں‬ ‫کوواجب قرارديااورفرمايا‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ّ‬ ‫ق الليْل<) ‪١‬‬ ‫( < َواَقِ ِم الص ٰﱠلوةَ لِ ُدلُ ِ‬ ‫وک ال ﱠش ْم ِ‬ ‫س اِلی َغ َس ِ‬ ‫نمازقائم کروزوال آفتاب سے رات کی تاريکی تک۔‬ ‫يہ وہی گھﮍی ہے کہ جس وقت روزقيامت جہنم کو سامنے الياجائے گا‪،‬پس جومومن‬ ‫شخص بھی )دنياميں( زوال کے وقت سجده يارکوع ياقيام کی حالت ميں رہتاہوگاخداوندعالم اس کے جسم کونارجہنم پرحرام‬ ‫قراردے گا۔‬ ‫‪)١‬حلقہ سے دائره نٔصف النہار مرادہے اور يہ وه وقت ہے جب سورج نصف النہارکے ) دائرے ميں داخل ہوجاتاہے‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬سوره أسراء ‪/‬آيت ‪) ٧٨‬‬

‫وقت نمازکے بارے ميں پنچگانہ نمازوں کے وقت کياہيں اوران ہی اوقات ميں نمازکے قراردئے جانے کی وجہ کياہے‬ ‫اورہرنمازکے لئے ايک مخصوص وقت کيوں معين کياگياہے ؟ اس کے بعدنبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے نمازعصرکے‬ ‫واجب قراردئے جانے کی يہ وجہ بيان فرمائی‪:‬‬ ‫نمازعصرکاوقت وه وقت ہے کہ جب آدم )عليھ السالم(نے ممنوعہ درخت سے پھل توڑکرکھاياتوخدانے انھيں جنت سے‬ ‫باہرنکال ديااوران کی ذريت پرروزقيامت تک اس وقت ميں نمازکوواجب قرارديااورخدانے اسی وقت ميں نماز)ظہر(کوميری‬ ‫امت پربھی واجب قراردياکيونکہ يہ نمازﷲ کے نزديک سب سے زياه محبوب ہے اورمجھے )پنچگانہ نمازوں(اس وقت کی‬ ‫نماز کے پابندرہنے کی بہت زياده نصيحت اوروصيت کی گئی ہے۔‬ ‫اس کے بعدنبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے نمازمغرب کے واجب قراردئے جانے کی يہ وجہ بيان فرمائی‪:‬‬ ‫وتعالی نے حضرت ادم )عليھ السالم(کی توبہ قبول کی اورحضرت آدم )عليھ‬ ‫نمازمغرب کاوقت وه وقت ہے کہ جب ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫السالم(کے درخت سے پھل توڑکرکھانے ميں اوران کی توبہ قبول ہونے ميں دنياکے تين سوسال کافاصلہ‬ ‫تھااورنمازعصرومغرب کے درميان قيامت کے ايک دن )جوکہ دنياکے ايک ہزارسال کے برابرہے (کے برابرکافاصلہ‬ ‫تھااورآدم )عليھ السالم(نے توبہ قبول ہوتے ہی تين رکعت نمازپﮍھی ‪،‬ايک رکعت اپنے خطااورلغزش کی بناپرجوآپ سے‬ ‫سرزدہوئی تھی اوردوسری رکعت حوا کے گناه کے جبران کی وجہ سے اورتيسری رکعت بارگاه خداوندی ميں توبہ قبول‬ ‫ہوجانے کے شکرکی وجہ سے ل ٰہذاخداوندمتعال نے ميری امت پران تين رکعت نمازوں کوواجب قرارديااوريہ وقت ايساہے‬ ‫کہ جس ميں دعائيں مستجاب ہوتی ہيں ل ٰہذاميرے پروردگارنے مجھے وعده دياہے کہ جوشخص اس وقت دعا کرے گاميں‬ ‫اس کی دعاکوضرورقبول کروں گااوريہ وہی وقت ہے کہ جب ميرے پروردگارنے مجھے حکم ديا‪:‬‬ ‫( <فَ ُس ْب َحانَ الل ِھ ِح ْينَ تُ ْمس ْ‬ ‫ُون َو ِح ْينَ تُصْ ِبحُونَ <) ‪١‬‬ ‫تم لوگ تسبيح پروردگارکرواس وقت جب شام کرتے ہوجب صبح کرتے ہو۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬سوره ٔروم ‪/‬آيت ‪) ١٧‬‬

‫اس کے بعدنبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے نمازعشاکے واجب قراردئے جانے کی يہ وجہ بيان فرمائی‪:‬‬ ‫خداوندعالم نمازعشاکواس لئے واجب قراردياتاکہ انسان اس نمازکے ذريعے آخرت کويادکرے کيونکہ قبرميں اندھيراہوتاہے‬ ‫اورقيامت ميں بھی اندھيراہوگاپس پروردگارعالم نے مجھ پراورميری امت پررات کے وقت ميں نمازعشا کو واجب‬ ‫قراردياتاکہ انسان اس نمازکے ذريعہ قبرکومنورکرسکے اورميری امت اس نمازکی روشنی ميں پل صراط سے گزرسکے‬ ‫ل ٰہذاجولوگ اس نمازکوپرھنے کے لئے قدم اٹھاتے ہيں خدائے عزوجل ان کے جسم کوآتش جہنم پرحرام کرديتاہے اوريہ وه‬ ‫نمازہے جسے پروردگارنے اپنے ذکرکے لئے مجھ سے پہلے والے نبيوں پرواجب قراردياتھا ۔‬ ‫اس کے بعدنبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے نمازصبح کے واجب قراردئے جانے کی يہ وجہ بيان فرمائی‪:‬‬ ‫صبح کے وقت نمازکواس لئے واجب قراردياہے کيونکہ صبح ميں جب سورج طلوع ہوتاہے توشيطان کے دونوں شاخ‬ ‫ظاہروآشکارہوجاتے ہيں اسی لئے پروردگارنے مجھے سورج طلوع ہونے سے پہلے نمازصبح پﮍھنے کا حکم ديااورصبح‬ ‫کے وقت نمازکواس لئے واجب قراردياکيونکہ جب سورج طلوع ہو تا ہے توکافروآفتاب پرست سورج کو سجده کرتے ہيں‬ ‫ل ٰہذاس سے پہلے کہ کافر سورج )بت اورشيطان وغيره ( کو سجده کريں خداوندعالم نے ميری امت پرنمازصبح کوواجب‬ ‫قرارديااورنمازصبح کاوقت ﷲ کے نزيک محبوب ترين وقت ہے اورنمازصبح وه نمازہے جس ميں رات اوردن دونوں کے‬ ‫مالئکہ شاہداورحاضررہتے ہيں )يعنی رات والے مالئکہ بھی اس نمازکوآسمان پرلے جاتے ہيں اوردن کے مالئکہ بھی‬ ‫جسسے نمازی کودوبرابراجروثواب ملتاہے ) جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(پانچ نمازوں کے وقت کے رازکوبيان‬ ‫کرچکے تواس يہودی آنحضرت سے عرض کيا‪:‬‬ ‫ص ّدقت يامحمد !‬ ‫( اے محمد!آپ نے يہ رازبالکل صحيح فرمائے ہيں۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢١٢‬‬

‫دوسری روايت‬ ‫حسين ابن ابی العالء سے مروی ہے ‪،‬امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬جب خداوند عالم نے آدم )عليھ السالم( کوجنت سے نکال‬ ‫کردنياميں بھيجاتوآپ کے پورے جسم پرسر سے پيروں کے تلووں تک سياه رنگ کے داغ پﮍگئے)جسے عربی ميں شامہ‬ ‫کہتے ہيں( جس کی وجہ سے آپ کے جسم سے بدبوآنے لگی ‪ ،‬حضرت آدم )عليھ السالم(اپنے جسم کی يہ حالت ديکھ‬ ‫کراورزياده غمگين ہوگئے اورجب ايک درازمدت تک روتے وگﮍگﮍاتے رہے توجبرئيل نازل ہوئے اورپوچھا‪ :‬اے آدم!‬ ‫تمھارے رونے کاسبب کياہے ؟حضرت آدم )عليھ السالم(نے جواب ديا‪:‬ان کالے داغ اوران کے اندرپيداہونے والی بدبونے‬ ‫مجھے غمگين کردياہے ‪،‬جبرئيل نے کہا‪:‬اے آدم! اٹھواورنمازپﮍھوکيونکہ يہ پہلی نماز)يعنی نمازظہر(کاوقت ہے ‪،‬حضرت‬ ‫آدم)عليھ السالم( نے اٹھ کرنماز)ظہرپﮍھی توفوراًآپ کے جسم سے سروگردن کارنگ بالکل صاف ہوگيا‪،‬جب دوسری‬ ‫نماز)يعنی عصر(کاوقت پہنچاتوجبرئيل نازل ہوئے اور کہا‪:‬اے آدم)عليھ السالم(! اٹھو اور نمازپﮍھوکيونکہ اب يہ دوسری‬ ‫نمازکاوقت ہے‪،‬جيسے ہی حضرت آدم)عليھ السالم( نے نمازعصرپﮍھی توناف تک بدن کارنگ صاف ہوگيا‪،‬جب تيسری‬ ‫نماز)يعنی مغرب (کاوقت پہنچاتوجبرئيل آئے اورکہا‪:‬اے آدم)عليھ السالم(! اٹھواورنماز)مغرب(پﮍھوکيونکہ اب يہ تيسری‬ ‫نمازکاوقت ہے ‪،‬جيسے حضرت آدم)عليھ السالم( نے نماز)مغرب( پﮍھی تو دونوں گھٹنوں تک بدن کارنگ صاف ہوگيا‪،‬جب‬ ‫چوتھی نماز)يعنی عشا(کاوقت پہنچاتوکہا‪:‬اے آدم)عليھ السالم(! اٹھو اورنماز)عشا(پﮍھوکيونکہ اب يہ چوتھی نمازکاوقت ہے‬ ‫‪،‬حضرت آدم)عليھ السالم( نے نماز)عشا(پﮍھی توپيروں تک بدن کارنگ بالکل صاف ہوگيا‪،‬جب پانچوی نماز)يعنی صبح‬ ‫(کاوقت پہنچاتوجبرئيل نے کہا‪:‬اے آدم)عليھ السالم(! اٹھواورنماز)صبح( پﮍھوکيونکہ اب يہ پانچوی نمازکاوقت ہے ‪،‬جيسے‬ ‫ہی حضرت آدم)عليھ السالم( نماز)صبح(سے فارغ ہوئے تومکمل طورسے پورے کارنگ صاف ستھراہوگيااورآپ نے خداکی‬ ‫حمدوثنا کی‪،‬جبرئيل نے کہا‪ :‬اے آدم!تمہاری اوالدکی مثال ان پنجگانہ نمازوں ميں ايسی ہی ہے‬ ‫جس طرح تم نے نمازپنجگانہ کے ذريعہ اس ان دانوں سے نجات پائی ہے پس تمہاری اوالدميں جوشخص شب وروزميں يہ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫پانچ نمازيں پﮍھے گاوه گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجائے گاجيسے ( تمھارابدن ان دانوں سے پاک وصاف ہوگياہے ۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢١۴‬‬

‫تيسری روايت‬ ‫فضل بن شاذان سے روايت ہے کہ امام رضا فرماتے ہيں‪ :‬اگرکوئی تم سے يہ معلوم کرے کہ ان ہی اوقات ميں نمازکوکيوں‬ ‫واجب قرار ديا گيا ہے اورانھيں ان کے اوقات سے نہ پہلے بجاالياجاسکتاہے اورنہ مو ٔخرکياجاستاہے يعنی قدم کياپہلے نہ‬ ‫بعدپہلے انھيں وقت سے پہلے يابعدميں کيوں پﮍھاجاسکتاہے؟اس کاجواب يہ ہے کہ چاراوقات ايسے مشہوراورمعروف‬ ‫اوقات ہيں جوکره أرض پررہنے والے تمام لوگوں کواپنے دائرے ميں شامل کرتے ہيں اورہرجاہل وعالم ان اوقات سے مطلع‬ ‫ہے اوروه اوقات يہ ہيں‪ :‬غروب مشہورومعروف وقت ہے لہٰذااس وقت ميں نمازوغرب پﮍھی جائے ‪،‬سقوط شفق بھی‬ ‫مشہوروقت ہے لہٰذااس وقت ميں نمازعشا پﮍھی جائے ‪،‬طلوع فجربھی مشہوروقت ہے لہٰذااس وقت ميں نمازصبح پﮍھی‬ ‫جائے ‪،‬آفتاب کازوال کرنااورسايہ اپنی کمی کوپہنچنے کے بعدمشرق کی طرف بﮍھناشروع کرنامشہورومعروف وقت ہے‬ ‫ل ٰہذاانسان پرواجب ہے کہ اس وقت نمازظہرپﮍھے اورعصرکاوقت بھی بہت زياده مشہورہے اس وقت ميں نمازپﮍھنے‬ ‫کانظيرموجودنہيں ہے لہٰذااس نمازکے وق�� کوپہلی نماز)ظہر(کے ختم ہونے کے بعدرکھاگياہے کہ جب ہرچيزکاسايہ‬ ‫چاربرابرہوجائے ۔‬ ‫ان اوقات ميں نمازکے واجب قراردئے جانے کی ايک علت يہ بھی ہے کہ خداوند عزوجل اس چيزکوبہت زياده دوست‬ ‫رکھتاہے کہ لوگ اپنے روزانہ کے ہرعمل کی ابتدااس کی اطاعت اورعبادت کے ساتھ انجام ديں اسی لئے حکم دياکہ انسان‬ ‫دن کی ابتدہوتے ہی )صبح سويرے نيندسے بيدارہوکر( پہلے اس کی عبادت کرے اوراس کے بعدکسب معاش کی تالش ميں‬ ‫گھرسے باہرقدم نکالے ‪،‬پس نمازصبح کواس لئے واجب کياگياتاکہ انسان عبادت خداوندی کے ساتھ اپنے آرام کوترک کرے‬ ‫اوراپنے دن اورکام کی ابتدااس کے نام سے کرے اورخداکويادکرکے گھرسے باہرقدم نکالے۔‬ ‫جب دن اپنے درميان کوپہنچتاہے يعنی جب آدھادن گذرجاتاہے تولوگ اپنے شغل وحرفہ سے ہاتھ روک ليتے ہيں اوربدن‬ ‫سے اس کام کے لباس کواتارديتے ہيں اور دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے اورتھوڑاسا آرام کے لئے گھر آتے ہيں ‪،‬قيلولہ بھی‬ ‫کرتے ہيں ل ٰہذاخداوندعالم نے حکم دياصبح سے مشغول کام کونماز ظہر کے ذريعہ ختم کريں اور دوپہر کے ان کاموں کوﷲ‬ ‫کی عبادت کے ذريعہ شروع کريں‬ ‫جب ظہرکاوقت گذرجائے اورلوگ اپنے گھروں سے دن کے دوسرے حصہ ميں کام کرنے کے لئے نکلناچاہتے ہيں‬ ‫توپھراپنے کام کی ابتداحق‬ ‫تعالی کے عبادت کے ذريعہ کريں‪،‬اس کے بعداپنے کام پرجائيں ل ٰہذاخداوندعالم نے اس وقت ميں‬ ‫ٰ‬ ‫نمازکوواجب قرارديا جيسے ہی سورج ہوتاہے توانسان دن کے دوسرے حصہ ميں کام سے فارغ ہوکراپنے گھرکی طرف‬ ‫آتاہے تواسے چاہئے کہ تو کام کی انتہانماز مغرب کے ذريعہ کرے اس کے بعد رات کا کھانا کھائے لہٰذااس وقت خداوندعالم‬ ‫نے نمازمغرب کوو اجب قرارديا اور جب انسان بستر پر ليٹنا چاہے تو رات کے آرام کی ابتدا بھی نماز کے ذريعہ کرے‬ ‫تعالی کی عبادت کرے اسی لئے اس وقت خداوندعالم نے نماز عشاکوواجب قرارديا‬ ‫اورليٹنے سے پہلے حق‬ ‫ٰ‬ ‫اس ميں کوئی شک نہيں ہے کہ جب لوگ اس دستورپرعمل کريں گے اوراپنے ہرکام کی ابتدا عبادت خداوندی سے شروع‬ ‫کريں گے اورنمازکوبتائے گئے طريقہ سے انجام ديں گے اوراس کے بعداپنے دنياوی حاجتوں ميں کی تالش ميں نکليں گے‬ ‫توہرگزخداکونہيں بھول سکيں گے اوراس کے ذکرسے غافل نہيں رہيں گے توہرگزدل ميں قساوت نہيں رہے گی اورميل‬ ‫ورغبت بھی ( کم نہيں ہوسکے گی ۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢۶٣‬‬

‫چوتھی روايت‬ ‫فطوبی لمن رفع‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪ :‬اذازالت الشمس فتحت ابواب السماء وابواب ( الجنان واستجيب الدعاء‬ ‫ٰ‬ ‫لہ عمل صالح ۔) ‪ ١‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪:‬جب زوال کاوقت پہنچتاہے توآسمان اوربہشت کے تمام‬ ‫دروازے کھول دئے جاتے ہيں اودعائيں قبول ہوتی ہيں اوريہ خوشحالی ہے ان لوگوں کے لئے کہ جن کے اعمال صالح‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اوپرپہنچتے ہيں ۔‬ ‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢١۴‬‬ ‫پانچوی روايت‬ ‫ّ‬ ‫الفجر‪،‬ان ﷲ‬ ‫عن اسحاق بن عمارقال‪:‬قلت البی عبدﷲ عليہ السالم‪:‬اخبرنی عن افضل المواقيت فی صالةالفجر؟ قال‪:‬مع طلوع‬ ‫تعالی يقول‪ :‬يعنی صالة الفجرتشہدمالئکة الليل ومالئکة النہار‪ ،‬فاذا صلی العبد صالة الصبح مع طلوع الفجر اثبت لہ مرتين تثبتہ‬ ‫ٰ‬ ‫مالئکة الليل ومالئکة النہار‪.‬‬ ‫اسحاق ابن عمارسے مروی ہے کہ ميں امام صادق سے پوچھا‪:‬نمازصبح کاافضل ترين وقت کياہے؟امام )عليھ السالم(نے‬ ‫فرمايا‪:‬نمازصبح کاافضل ترين وقت فجريعنی صبح صادق ہے کيونکہ خداوندعالم قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫( <اِ ّن قَرْ آنَ ْالفَجْ ِر َکانَ َم ْشہُوداً<) ‪١‬‬ ‫نمازصبح بھی پﮍھاکروکيونکہ نمازصبح کے لئے گواہی کاانتظام کياگياہے آيہ مبارکہ ميں قرآن فجرسے نمازصبح مرادہے‬ ‫کہ جس وقت کی نمازکی گواہی کے لئے رات کے مالئکہ حاضرہوتے ہيں اوردن والے مالئکہ بھی حاضرہوجاتے ہيں پس‬ ‫جب کوئی بنده فجرکے وقت نمازصبح اداکرتاہے تواس نمازکاثواب دومرتبہ اس کے نامہ اعمال ميں لکھاجاتاہے ‪،‬رات کے‬ ‫مالئکہ ( بھی اس کے ثواب کونامہ اعمال ميں درج کرتے ہيں اوردن کے مالئکہ بھی۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪)١ . ( ٣٧‬سوره أسراء ‪/‬آيت ‪) ٧٨‬‬

‫تعدادرکعت کے اسرار‬ ‫جب يہ ثابت ہوگياکہ روزانہ پانچ نمازيں)ظہروعصر‪،‬معرب وعشااورصبح(واجب ہيں اوريہ بھی معلوم ہوگياکہ ان اوقات ميں‬ ‫نمازکوکيوں واجب قراردياگياہے اب سوال پيداہوتاہے کہ ان ميں ہرنمازکت نی رکعت ہے اورات نی رکعت قراردئے جانے‬ ‫کی وجہ ہے مثالنمازظہرسفرميں اورحضرميں کت نی رکعت ہے اوراس کی وجہ کياہے‪،‬نمازصبح سفراورحضردونوں ميں‬ ‫دوہی رکعت ہے اس کی کياوجہ ہے؟ ۔‬ ‫جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(معراج پرگئے توخداوندعالم نے آنحضرتپرپانچ نمازوں کوواجب قرارديااور‬ ‫ہرنمازکودورکعتی طورپرواجب قرارديا‪،‬اس طرح پانچوں نمازکی رکعتوں کی تعداددس ہوتی ہے مگرجب پيغمبراکرم )صلی‬ ‫ﷲ عليھ و آلھ( مکہ سے مدينہ ہجرت کی اورامام حسين کی والدت ہوئی جب امام حسن اورامام حسين اس دنياميں آگئے‬ ‫اورخداوندعالم نے پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کوکھلی ہوئی تبليغ کاحکم دياتوآنحضرت نے سات رکعت کااضافہ‬ ‫کيا‪،‬اوراس طرح سے روزانہ ستره رکعات نمازواجب ہوتی ہے اس بارے ميں ميں چندروايت قصرکی بحث ميں ذکرکريں‬ ‫گے اورچندروايت يہاں پرذکرہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔فضيل ابن يسارسے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق کو اپنے بعض اصحاب سے يہ فرماتے سناہے‪:‬کہ خداوندعالم نے‬ ‫پنچگانہ نمازوں ميں سے ہرنمازکودودورکعت واجب قراردياہے‪ ،‬اس طرح پنجگانہ نمازوں کی رکعتوں کی تعداددس ہوتی‬ ‫ہے ‪،‬اس کے بعدرسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ( نے )نمازصبح اورمغرب کے عالوه نماز ظہر و عصر اور عشا کی (‬ ‫ہردورکعت کے ساتھ دورکعت کااضافہ کيااورنمازمغرب ميں ايک رکعت کااضافہ کيااوريہ سات ر کعت کہ جنھيں‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے اضافہ کياہے انھيں کی طرح واجب ہيں يعنی جس طرح وه دس رکعتيں واجب ہيں اسی‬ ‫يہ سات رکعت بھی واجب ہيں‪ ،‬سفرکے عالوه کسی بھی حالت ميں ان سات رکعت کاترک کرناجائزنہيں ہے البتہ سفرکی‬ ‫حالت ميں نمازمغرب کواسی حالت ميں رکھناہے يعنی نمازگزارچاہے سفرميں ياحضرميں دونوں حالتوں ميں نمازمغرب‬ ‫کومکمل انجام ديناہے اورخداوندعالم نے آنحضرت کواضافہ کرنے کی ترخيص دی ہے لہٰذااس زيادتی کے ساتھ واجب‬ ‫نمازستره رکعت ہوتی ہے ۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢۶۶‬‬ ‫‪٢‬۔امام محمدباقرعليہ السالم فرماتے ہيں‪):‬ﷲ کی طرف سے (روزانہ دس رکعت نمازواجب قراردی گئی تھی ‪،‬ظہرکی‬ ‫دورکعت ‪،‬عصرکی دورکعت‪،‬صبح کی دورکعت‪ ،‬مغرب کی دورکعت ‪،‬عشاکی دورکعت‪،‬يہ دس رکعات نمازايسی ہيں کہ جس‬ ‫ميں چون وچراکی گنجائش نہيں ہے ‪،‬اگرکوئی ان ميں سے کسی چيزکے بارے ميں کوئی چون وچراکرے گويااس نے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫نمازسے روگردانی کی ہے اوريہ وه نمازہے جسے خدائے عزوجل نے قرآن کريم ميں مومنين پرواجب قراردياہے‬ ‫اورحضرت محمدمصطفی )صلی ﷲ عليھ و آلھ( کی طرف واگذارکياہے پس نبی اکرم نے ان دس رکعات ميں سات رکعات‬ ‫کااضافہ کيااوريہ سات رکعتيں سنت ہيں اسی لئے تيسری اورچوتھی رکعت ميں قرائت نہيں ہے بلکہ ان سات رکعتوں ميں‬ ‫تسبيح وتہليل اورتکبيرودعاہے ‪،‬ہاں اس چيزميں اشکال کرسکتے ہيں کہ پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے مسافرين کے‬ ‫عالوه حاضرين پردورکعت ظہرميں ‪،‬دورکعت عصرميں ‪،‬دورکعت عشاکی نمازميں اضافہ کياہے اورنمازمغرب ميں‬ ‫مسافرومقيم دونوں پرايک کااضافہ کياہے ۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢٧٣‬‬ ‫‪٣‬۔امام محمدباقر فرماتے ہيں‪ :‬جب پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(معراج پر گئے توخداوندعالم نے دس رکعت‬ ‫نمازدودورکعت کرکے واجب قراردی ليکن جب امام حسن اورامام حسين کی والدت ہوئی توآنحضرت نے شکرخداکے‬ ‫خاطران دس رکعتوں ميں سات رکعت کااضافہ کےا کےونکہ خداوندعالم نے آنحضرت کواضافہ کرنے کی ترخيص دی ہے‬ ‫‪،‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے نمازصبح ميں کسی رکعت کااضافہ نہيں کيابلکہ اسے ضيق وقت کی وجہ سے اسی‬ ‫طرح رہنے دياکيونکہ صبح کے وقت رات کے مالئکہ بھی حاضررہتے ہيں اوردن کے مالئکہ بھی حاضرہوتے ہيں ‪،‬جب‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے سات رکعت کااضافہ کياتوخداوندعالم نے حکم دياکہ سفرميں نمازکوآدھی پﮍھاجائے‬ ‫ل ٰہذاپيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے زياده کی گئی رکعتوں ميں چھ رکعت کوکم کرديالےکن نمازمغرب سے اضافہ کی‬ ‫گئی رکعت کوکم نہيں کيابلکہ اسے اسی طرح رہنے ديا‪،‬سفرکی حالت ميں پيغمبر کی اضافہ کی ہوئی سات رکعتوں ميں سے‬ ‫چھ رکعت نمازترک کرناواجب ہے ‪،‬پس جوشخص نمازکی اصلی دورکعتوں ميں شک کرتاہے گوياوه نمازکامنکرہے۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٨٧‬‬ ‫‪۴‬۔سعدابن مسيب سے مروی ہے کہ ميں نے امام علی بن الحسين سے پوچھا ‪ :‬يہ نمازکہ جسے ہم سب اس کيفيت کے ساتھ‬ ‫پﮍھتے ہيں اسے خداوندعالم نے مسلمانوں پرکس وقت واجب قراردياہے ؟امام )عليھ السالم(نے فرمايا‪:‬جب رسول اسالم‬ ‫)صلی ﷲ عليھ و آلھ(کوکھلی ہوئی تبليغ کاحکم مالاوراسالم قوی ہوگياتوخداوندعالم نے مسلمانوں پرنمازکوواجب‬ ‫قرارديا‪،‬اورجس وقت ﷲ‬ ‫تعالی نے مسلمانوں پرجہادکوواجب کياتوپيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے )دس رکعت ميں (سات‬ ‫ٰ‬ ‫رکعت کااضافہ کيا‪،‬دورکعت کونمازظہرميں ‪،‬دورکعت کونمازعصرميں ‪ ،‬ايک رکعت کونمازمغرب ميں اوردورکعت‬ ‫کونمازعشا ميں اضافہ کيااورنمازصبح کواسی طرح دورکعت رہنے دياجس طرح سے واجب کياگياتھا) ‪(١‬اورنمازصبح ميں‬ ‫کسی رکعت کااس لئے اضافہ نہيں کياکيونکہ رات کے مالئکہ کوآسمان کی طرف پلٹنے کی جلدی ہوتی ہے تاکہ دن کے‬ ‫مالئکہ بھی جلدی زمين پرپہنچ جائيں اوررات کے مالئکہ بھی پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کے ساتھ نمازصبح کی‬ ‫تعالی قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪< :‬قُرْ آنَ ْالفَجْ ِر‪ِ ،‬ا ﱠن قُرْ آنَ ْالفَجْ ِر َکانَ َم ْشہُودا>‬ ‫شہادت ديتے ہيں اسی لئے ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫نمازصبح بھی پﮍھاکروکيونکہ نمازصبح کے لئے گواہی کاانتظام کياگياہے۔‬ ‫مسلمان بھی اس کی شہادت ديں گے اورشب وروزکے مالئکہ بھی شہادت ديں ( گے۔) ‪٢‬‬ ‫‪) ١‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے مکہ سے مدينہ ہجرت کرنے کے بعد سات رکعت ) نمازکااضافہ کياہے اوراس طرح‬ ‫پنجگانہ نمازوں کی رکعتوں کی تعدادستره قرارپائی ہے ۔‬ ‫‪)٢ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ۴۵۵‬‬ ‫‪۵‬۔فضل بن شاذان سے مروی ہے امام علی رضا فرماتے ہيں‪:‬اگرکوئی يہ اعتراض کرے کہ خداندعالم نے اصل‬ ‫نمازکودودورکعتی کيوں واجب قراردياہے)ايک رکعتی __________يااسسے بھی کم کيوں نہيں(؟ اورپھربعدميں) نبی اکرم‬ ‫وتعالی نے نمازميں اضافہ کی ترخيص دی ہے (کسی نمازميں ايک رکعت‬ ‫)صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے کہ جنھيں ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫اورکسی ميں دورکعت کااضافہ کيااورکسی نمازميں ايک رکعت بھی اضافہ نہيں کی‪،‬اس وجہ کياہے؟‬ ‫امام )عليھ السالم(فرماتے ہيں‪:‬اس کاجواب يہ ہے کہ‪:‬اصل نمازکودورکعتی واجب قراردئے جانے کی وجہ يہ ہے کہ اصل‬ ‫ميں نمازايک رکعتی ہے کيونکہ اصل عددايک ہے ‪،‬اگرايک ميں سے کچھ کم کرلياجائے تووه عددنہيں کہالتاہے اسی طرح‬ ‫اگرنماز کوايک رکعت سے بھی کم رکھاجاتاتووه رکعت نہ کہالتی اس لئے نمازکوايک رکعت سے کم نہيں‬ ‫قراردياگيااورنمازکوايک رکعتی اس لئے قرارنہيں دياگياہے کيونکہ ‪،‬خداوندعالم اس چيزکاعلم رکھتاتھاکہ اس کے بندے ايک‬ ‫رکعت نمازکوزياده اہميت نہيں ديں گے اوراسے مکمل وتمام)آداب شرائط کے ساتھ( ادانہيں کرسکتے ہيں اوراس کے‬ ‫اداکرنے ميں دلچسپی نہيں رکھيں گے اوراس ميں حضورقلب نہيں رکھ سکيں گے ل ٰہذاخداوندعالم نے ايک کے سات ايک‬ ‫اوررکعت کااضافہ کياتاکہ دوسری رکعت رکعت اول کے نقص کوپوراکرسکے اوراس طرح سے ہرنمازدورکعتی قرارپائی‪.‬‬ ‫پس حقيقت يہ ہے کہ خداوندعالم نے ہرنمازکودورکعتی قراردياليکن پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(بھی اپنی امت کے بارے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ميں اس چيزکاعلم رکھتے تھے ﷲ کے بندے ان دورکعت کوتمام طورسے جس طرح حکم دياگياہے اسے‬ ‫کامالًاورتماماًادانہيں کرسکتے ہيں ل ٰہذاآنحضرت نے ظہروعصراورعشاکی نمازميں ہرايک کے ساتھ دودورکعت کاضميمہ‬ ‫کياتاکہ شروع کی دورکعتيں مکمل ہوجائيں اورآنحضرت يہ بھی جانتے تھے کہ مغرب ايک ايساوقت ہے کہ جس وقت‬ ‫غالباًلوگوں کونمازپﮍھنے کے عالوه اوراپنے گھروں ميں کام مينزياده مصروف رہتے ہيں‪،‬مثالًافطارکرنا‪،‬کھاناپينا‪،‬وضو‬ ‫کرنا‪،‬مقدمات استراحت آماده کرنااورسونے کی تياری کرناجيسے کام ميں مشغول رہناپﮍتاہے ل ٰہذاتاکہ لوگوں کوآسانی رہے‬ ‫نمازمغرب ميں صرف ايک رکعت کااضافہ کيا‪.‬‬ ‫نمازمغرب ميں ايک اضافہ کرنے کی دوسری وجہ يہ ہے کہ شبانہ روزکی پانچ نمازوں ميں سے ايک نمازطاق رہے‬ ‫نمازصبح کو اسی حالت پرچھوڑديايعنی اس کی دورکعت ميں کسی رکعت کاضميمہ نہيں کيااس کی ايک وجہ يہ ہے کہ‬ ‫صبح کے وقت انسان زياده مشغول رہتاہے کيونکہ اسے اپنے کاروبارکی طرف جانے کے لئ__________ے جلدی بھی‬ ‫ہوتی ہے اوردوسری وجہ يہ ہے کہ اس وقت انسان کادل دماغ فکروخياالت سے خالی رہتاہے کيونکہ رات ميں ايسے وقت‬ ‫پر لوگوں سے معامالت کم ہوتے ہيں ‪،‬لينادينابھی کم ہوتاہے‪ ،‬ل ٰہذاانسان کادل اس نمازميں دوسری نمازکے مقابلہ ميں انسان‬ ‫دل خداکی طرف زياده رہتاہے اسلئے اسميں کسی رکعت کااضافہ نہيں کيا ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪  ٢۶١‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫رازجمع بين صالتين‬ ‫زوال کے بعدجب چاررکعت نمازپﮍہنے کاوقت گذرجائے نمازعصرکاوقت بھی شروع ہوجاتاہے‪،‬اس وقت سے لے کرجب‬ ‫سورج غروب ہونے ميں صرف چاررکعت نمازکاوقت باقی ره جائے تواس وقت تک نمازظہروعصرکامشترک وقت ہوتاہے‬ ‫اسی طرح سورج غروب ہونے کے بعدجب تين رکعت نمازپﮍھنے کاوقت گذرجائے تونمازعشاکاوقت بھی شروع ہوجاتاہے‬ ‫اس وقت سے لے کرجب آدھی رات ہونے صرف چاررکعت نمازپﮍھنے کاوقت باقی ره جائے تواس وقت نمازمغرب‬ ‫اورعشاکامشترک وقت ہوتاہے لہٰذانمازظہرکے فوراًبعدنمازعصرکاپﮍھناصحيح ہے اورنمازمغرب کے‬ ‫فوراًبعدنمازعشاکاپﮍھناصحيح ہے ۔‬ ‫ً‬ ‫نمازظہرکے فوراًبعدنمازعصر پﮍھنے اوراسی طرح نمازمغرب کے فورا بعد نماز عشا کے پﮍھنے کوجمع بين صالتين‬ ‫کہاجاتاہے اس ميں کوئی فرق نہيں انسان کسی حال ميں ہو سفرميں ہوياحضر‪،‬دونمازوں کے مشترک وقت ميں پہالوقت‬ ‫ہوياآخری وقت ‪،‬دين اسالم نے جمع بين صالتين کو جائز قراردياہے جس کی دليل يہ ہے کہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و‬ ‫آلھ(بارش وباران اورموسم کی خرابی کی وجہ سے نمازظہرکے بعد نماز عصر پﮍھتے تھے اورنمازمغرب بعدعشاکی‬ ‫نمازپﮍھتے تھے اورموسم کی خرابی کے بغير اختياری وعادی حالت ميں بھی نمازظہرکے بعدعصراورنمازمغرب کے‬ ‫بعدعشاکی نماز پﮍھتے تھے ‪،‬اس بارے ميں اہل سنت کی روايتيں موجودہيں‪،‬احمدابن حنبل نے اس بارے ميں متعددروايتيں‬ ‫نقل کی ہيں اورصحيح مسلم وصحيح بخاری ميں بھی انکا ذکر موجود ہے ‪،‬خودصحيح مسلم اورسنن دارمی وغيره جيسی‬ ‫کتابوں ميں “الجمع بين صالتين فی الحضر”کے نام سے ايک باب موجودہے‪،‬جمع بين صالتين سے متعلق مکتب تشيّع وتسنن‬ ‫چند روايت ذکرتے ہيں کہ جن ميں جمع کرنے کی وجہ بھی ذکرکی گئی ہے‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬کان رسو ل ﷲ صلی عليہ وآلہ اذاکان فی سفرا ٔوعجلت بہ حاجة يجمع بين الظہروالعصروبين‬ ‫المغرب والعشاء اآلخرة‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(جب کبھی سفرميں ہوتے تھے ياحضرميں کسی حاجت کی جلدی ہوتی‬ ‫تھی توظہروعصرکوايک ساتھ جمع کرتے تھے اورمغرب وعشاء کوايک ساتھ جمع کرتے تھے ۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪ ۴٣١‬۔تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢٣٣‬‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫عن جعفربن محمدعن ابيہ عن علی عليہم السالم قال‪:‬کان رسو ل ﷲ صلی عليہ وآلہ يجمع بين المغرب والعشاء فی الليلة المطيرة‬ ‫وفعل ذلک مرارا‪.‬‬ ‫حضرت علی فرماتے ہيں‪:‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ( بارانی راتوں ميں نمازمغرب وعشاء کوجمع کرتے تھے اوراس کام‬ ‫کوچندبارانجام دياہے ۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪١۶٠‬‬ ‫عن عبدﷲ بن سنان عن الصادق عليہ السالم‪ :‬انرسو ل ﷲ صلی عليہ وآلہ جمع بين الظہروالعصرباذان واقامتين و جمع بين‬ ‫المغرب والعشاء فی الحضرمن غيرعلة باذان واحد واقامتين‪ .‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و‬ ‫آلھ(نمازظہروعصرکوايک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرتے تھے اورمغرب وعشاء کوبغيرمجبوری حضرميں بھی‬ ‫ايک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرتے تھے ۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٨٧‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪ :‬ان رسو ل ﷲ صلی عليہ وآلہ صلی الظہر والعصر فی مکان واحدمن غيرعلة والسبب فقال‬ ‫ُ‬ ‫اردت ان اوسع علی امتی‪.‬‬ ‫عمروکان اجرء القوم عليہ ‪:‬احدث فی الصالة شی ؟ٔقال)ص(ال‪،‬ولکن‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے نمازظہروعصرکوايک ہی جگہ پرکسی مجبوری وسبب کے‬ ‫بغيرايک ساتھ پﮍھاتوعمرابن خطاب نے کہا‪:‬امت اسی پر عمل کرنے لگے گی اورايک نئی چيزايجادکردے گی ؟آنحضرت‬ ‫نے فرمايا‪:‬ايسانہيں ہے بلکہ ميں نے اپنی امت پرتوسعہ کرنے کااراده کياہے يعنی تاکہ ميری امت پرنمازميں اسانی ہوجائے ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣٢١‬‬ ‫َ‬ ‫عن سعيد بن جبيرعن ابن عباس قال‪:‬جمع رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ بين الظہروالعصرمن غيرخوف والسفرفقال‪:‬ارادان‬ ‫اليحرج علی احد من امتہ‪ .‬ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے بغيرکسی خوف اورسفرکے‬ ‫نمازظہروعصرکويکے بعدديگرے پﮍھااورابن عباس نے فرماياکہ ‪:‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کااراده يہ تھاکہ ان کی‬ ‫امت ميں کسی شخص نمازپﮍھنے ميں کوئی حرج پيشنہ آئے۔‬ ‫علل الشرائع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣٢١‬‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫ُ‬ ‫يرعن ابن عبّاس قال‪:‬صل ٰی رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وسلم‬ ‫ح ّدثنايحيی بن يحيی قال‪:‬قرات علی‬ ‫ٍ‬ ‫مالک عن ابی الزبيرعن سعيدبن ُجبَ ٍ‬ ‫والسفر۔) ‪١‬‬ ‫غيرخوف‬ ‫(‬ ‫فی‬ ‫جميعا‬ ‫والعشاء‬ ‫الظّہ َروالعص َرجميعاًوالمغرب‬ ‫ٍ‬ ‫ٍ‬ ‫ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے بغيرکسی خوف اور سفرکے نمازظہروعصرکويکے‬ ‫بعدديگرے اورنمازمغرب وعشاکوبھی يکے بعدديگرے پﮍھا۔ ح ّدثنااحمدبن يونس وعون بن ٰ ّ‬ ‫سالم جميعاًعن ُزہيرقال ابن يونس‪:‬‬ ‫غيرخوف‬ ‫والعصرجميعاًبالمدينة فی‬ ‫ح ّدثناابوال ّزبيرعن سعيدبن جُبيرعن ابن عبّاس قال‪:‬صلّ ٰی رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وسلم الظّہ َر‬ ‫ٍ‬ ‫َ‬ ‫ً‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫بير‪:‬فسئلت سعيداً ِل َم فَ َع َل ٰذلک (‬ ‫ُحر َج اَ َحدا ِمن ا ّمتہ ‪٢ ).‬‬ ‫والسفر‪.‬قال ابوال ّز‬ ‫ٍ‬ ‫؟فقال‪:‬سئلت ابن عبّاس کماسئلت نی فقال‪:‬اَرا َداَ ْن الي ِ‬ ‫ابوزبيرسے مروی ہے کہ سعيدابن جبيرنے ابن عباس سے نقل کياہے ‪:‬وه کہتے ہيں کہ پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے‬ ‫مدينہ ميں بغيرکسی خوف اورسفرکے نمازظہروعصرکو يکے بعدديگرے انجام ديا‪ ،‬ابوزبيرکہتے ہيں کہ ميں نے سعيدسے‬ ‫پوچھا‪:‬آنحضرت نے ايساکيوں کيا؟توسعيدنے مجھے جواب ديا‪:‬جوسوال تونے مجھ سے کياہے يہی سوال ميں نے ابن عباس‬ ‫سے کياتھاتوانھوں نے جواب دياتھا‪ :‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(يہ چاہتے تھے کہ ان کی امت ميں کوئی شخص کسی‬ ‫تکليف اورزحمت سے دوچارنہ ہو۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬صحيح مسلم ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪)١ . ( ١۵١‬صحيح مسلم ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ١۵١‬‬

‫ح ّدثناابوبکربن ابی شيبة وابوکريب قاال‪:‬ح ّدثناابومعاوية وح ّدثناابوکريب وابوسعيداالشجع واللفظ البی کريب قاال‪:‬ح ّدثناوکي ٌع‬ ‫کالہماعن االعمش عن حبيب ابن ابی ثابت عن سعيدبن جبيرعن ابن عباس قال‪َ :‬ج َم َع رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وسلم بَينَ‬ ‫ُ‬ ‫والمطر)فی حديث وکيع(‬ ‫خوف‬ ‫غير‬ ‫قال‪:‬قلت البن عباس ‪:‬لِ َم فَ َع َل ٰذلک ؟قال‪:‬کی (‬ ‫ہر َو‬ ‫ٍ‬ ‫العصروالمغر ِ‬ ‫ٍ‬ ‫ب َوالعشا ِء بِالمدين ِة فی ِ‬ ‫ِ‬ ‫الظّ ِ‬ ‫ُحر َج ا ّمتہ ‪ ١ ).‬سعيدابن جبيرابن عباس‬ ‫اليحرج امتہ))وفی حديث ابی معاوية(قي َل البن عباس ‪:‬مااراداِ ٰ‬ ‫لی ذلک؟قال‪:‬اَرا َداَ ْن الي ِ‬ ‫سے نقل کرتے ہيں ‪:‬وه کہتے ہيں کہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نے نمازظہروعصراور مغرب وعشاء کوبغيرکسی خوف‬ ‫وبارش کے ايک ساتھ اداکيا)وکيع کی روايت ميں آياہے(سعيدنے کہا‪:‬ميں نے ابن عباس سے معلوم کيا‪:‬پيغمبراسالم )صلی ﷲ‬ ‫عليھ و آلھ(نے ايساکيوں کيا؟ جواب ديا‪:‬اس لئے تاکہ آپ کی امت کسی مشقت ميں نہ پﮍے )ابومعاويہ کی روايت ميں آياہے(‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ابن عباس سے پوچھا‪ :‬آنحضرت نے ايساکيوں کيا؟کہا‪:‬تاکہ آپ کی امت کوکوئی زحمت ومشقت نہ ہو۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬صحيح مسلم ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ١۵٢‬‬

‫روزانہ نمازکے تکرارکی وجہ‬ ‫اگرکوئی شخص پنجگانہ نمازوں کے بارے ميں يہ سوال کرے کہ روازنہ گذشتہ نمازکی تکرارہوتی ہے جب دن بدل جاتاہے‬ ‫تونمازميں تبديلی کيوں نہيں ہوتی ہے ؟ ہرروزگذشتہ روزکی طرح صبح وشام کی بھی تکرارہوتی ہے اسی لئے نمازکی بھی‬ ‫تکرارہوتی ہے مگراس سوال کاحقيق جواب يہ ہے کہ انسان حضورقلب کے ساتھ جت نی زياده نماز يں پﮍھتے جائيں گے‬ ‫‪،‬ات ناہی زياده انسان کا مرتبہ بلند ہوتا جائے گا اوراس کے اندرات ناہی زياده خالص پيداہوتاجائے گا‪،‬وه ﷲ تبارک تعالی‬ ‫سے ات ناہی زياده قريب ہوتاجائے گا۔ اس مطلب کوواضح کرنے کے لئے تين بہترين مثال ذکرہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔وه شخص جوکسی بلندی پرجانے کے لئے زينہ کی پہلی پيﮍی پرقدم رکھتاہے اس کے بعددوسری پيﮍی پرقدم رکھتاہے‬ ‫پھر تيسری پيﮍی پرقدم رکھتاہے اوراسی طرح قدم رکھنے کی تکرارکرتاجاتاہے اورجت نابلندہوتاجاتاہے ہمت ات نی زياده‬ ‫بﮍھتی جاتی ہے پہاں تک کہ وه اپنے مقصدتک پہنچ جاتاہے ‪،‬نمازبھی زينہ پرقدم رکھنے کے مانندہے ‪،‬جت نازياده نمازکی‬ ‫تکرارکی تکرارکرتے جائيں گے ات ناہی ايمان ميں تازگی پيداہوتی رہے اورخداسے قربت بھی حاصل ہوتی جائے ۔‬ ‫‪٢‬۔وه شخص جوپانی حاصل کرنے کے لئے کسی بيلچہ ياکسی مشينری کااستعمال کرتاہے اورزمين کوکھودناشروع کرتاہے ‪،‬‬ ‫کنواں کھودنے کے لئے زمين ميں بيلچہ مارناظاہراً ايک تکرار ی کام ہے ليکن بيلچہ کے ذريعہ جت نازياده زمين‬ ‫کوکھودتے جائيں گے اور مٹّی باہر نکا لتے رہيں گے اسی مقدار ميں پانی سے نزديک ہوتے جا ئيں گے يہاں تک ايک‬ ‫روزاپنے مقصدميں کامياب ہوجائيں گے‬ ‫ہر بيلچہ مارنے پر ايک قدم پانی سے قريب ہوتے جائيں گے اسی طرح جت نی زياده نماز يں پﮍھتے جائيں گے ات ناہی‬ ‫زياده خدا سے قريب ہوتے جائيں گے۔ ‪٣‬۔اگر کوئی شخص کسی ايسے کنو يں کے اندر موجو دہے کہ اوروه ہاتھوں سے‬ ‫رسی کوپکﮍاوپرکی طرف آتارہے تواسے ہاتھوں کے چالنے کی تکرارکرے گااورکنويں کے کنارے سے قريب ہوتاجائے‬ ‫گاليکن ہاتھوں کی اس تکرارکی وجہ سے وه جت نازياده قريب ہوتاجائے گااس کے دل ميں خوف وہراس زياده پيداہوتاجائے‬ ‫گاکہ ہاتھ سے رسی چھٹ گئی توکنويں گرمرجائے گاياہاتھ پيرٹوٹ جائيں گے ل ٰہذارسی کومضبوطی سے پکﮍنے کی کوشش‬ ‫کرے گاکيونکہ يہ رسی اس کی حيات کی ضامن ہے بس يہی حال نمازکابھی ہے جب تک اس کی روزانہ تکرارہوتی رہی‬ ‫گی توانسان کے ايمان ميں تازگی ‪ ،‬دل ميں خوف خدااورزياده پيداہوتاجائے گااوراسی مقدارميں خداسے قريب ہوتاجائے گا۔‬ ‫نمازکے آداب وشرائط‬ ‫نمازکے کچھ آداب وشرائط ايسے ہيں کہ جن کالحاظ کرنااوران کی رعايت کرناواجب والزم ہے اورکچھ آداب ايسے ہيں کی‬ ‫رعايت کرناسنت مو کٔده ہے اورايسے ہيں جن کاترک کرنامستحب ہے اورانجام دينامکروه ہے وه شرائط کہ جن کی رعايت‬ ‫کرناواجب ہے ان ميں ايک وقت ہے جس کے بارے ميں ذکرکرچکے ہيں اوراس کے اسرارکوبھی بيان کرچکے ہيں‪،‬اوربقيہ‬ ‫شرائط کوبھی يکے بعدديگرے ذکرکررہے ہيں‬

‫رازطہارت‬ ‫طہارت کی دوقسم ہيں ‪١ :‬۔ظاہری طہارت ‪٢‬۔باطنی طہارت‬ ‫باطنی طہارت‬ ‫طہارت باطنی يہ ہے کہ جوحالل رزق وروزی اورگناہوں سے دوری کرنے کے ذريعہ حاصل ہوتی ہے‪،‬يہ طہارت جہنم کی‬ ‫آگ کوخاموش کرنے صالحيت رکھتی ہے اورباطنی طہارت حاصل کرنے کے کچھ شرائط ہيں جوحسب ذيل ذکرہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔گذشتہ ميں انجام دئے گئے گناہوں پرنادم ہونا۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪٢‬۔ تہہ دل سے توبہ کے ذريعہ اعضاء وجوارح کوشرک جيسی نجاست سے پاک کرنا جسے خدوندعالم نے ظلم عظيم سے‬ ‫تعبيرکياہے‪(١ ) :‬اورخداوندعالم نے مشرک کونجس قراردياہے ‪(٢ ) :‬اورسوره ٔيوسف ميں ارشادفرماياکہ‪ :‬اکثرلوگ ايسے‬ ‫ہيں جوايمان بھی التے ہيں توشرک کے ساتھ ‪:‬‬ ‫ُم ْش ِر ُکوْ نَ <) ‪(٣‬اوران لوگوں ميں اکثريت ايسی ہے جوخداپرايمان بھی التے ہيں توشرک کے ساتھ ايمان التے ہيں۔‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کی صحبت ميں بيٹھنے والے کچھ صحابی ايسے بھی تھے جوتہہ دل سے خداورسول‬ ‫پرايمان نہيں رکھتے تھے فقط ظاہری طورسے اللھورسول اورقرآن پرايمان رکھتے تھے اورباطنی طورسے شرک جيسی‬ ‫نجاست سے آلوده تھے پس وضوکرنے والے کے لئے ضروری ہے وه اپنی اندرونی نجاست کوبھی پاک کرے اوراپنے قلب‬ ‫کوغيرخداسے مکمل طورسے خالی کرے تاکہ پروردگارسے مناجات ميں ّ‬ ‫لذت حاصل کرے اوريکتاپرستی کاثبوت بھی دے‬ ‫سکے۔‬ ‫‪٣‬۔زبان کومخلوق کی حمدوستائشسے پاک کرنا‪.‬‬ ‫‪۴‬۔نفسکوصفات ذميّہ سے پاک کرنا‪.‬‬ ‫‪۵‬۔قلب کوماسوی ﷲ کی يادسے خالی کرنا‪.‬‬ ‫‪.۶‬دل سے کينہ اوربغض وحسددورکرنا‪.‬‬ ‫‪٧‬۔ اپنے دل ودماغ کوعداوت اہلبيت اطہار سے اچھی طرح پاک کرنا۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٣ .‬سوره ٔيوسف ‪/‬آيت ‪(٢ . ( ١٠۶‬سوره تٔوبہ ‪/‬آيت ‪)١ . ( ٢٨‬سوره ٔلقمان ‪/‬آيت ‪) ١٣‬‬

‫ظاہری طہارت‬ ‫ظاہری وه ہے کہ جوآب وخاک کے ذيعہ )وضووغسل وتيمم کی شکل ميں(حاصل ہوتی ہے اوراسی آب وخاک کے ذريعہ‬ ‫حدث وخبث کی نجاست کودورکياجاتاہے اورآب وخاک دونوں ايسی چيزيں ہيں جوآتش دنياکو خاموش کرنے کی صالحيت‬ ‫رکھتی ہيں اسی لئے خدانے آب وخاک کوطہارت کاذريعہ قراردياہے ل ٰہذاانسان خداکی بارگاه ميں حاضرہونے کے لئے‬ ‫اعضائے وضوکوپانی سے دھوئے اوراگرپانی ميسرنہ ہوتوتيمم کرے ۔‬ ‫نمازکی حالت ميں انسان کے بدن‪،‬لباس اورمکان کاظاہری اورباطنی طورسے پاک ہوناواجب ہے يعنی لباس کاپاک ومباح‬ ‫ہوناواجب ہے جيساکہ ہم آئنده ذکرکريں گے ان تينوں چيزوں کے پاک ہونے کی وجہ يہ ہے‪ :‬کيونکہ خدوندعالم پاک وپاکيزه‬ ‫ہے اورپاک وپاکيزه رہنے والوں کودوست بھی رکھتاہے‪،‬خداوندعالم نظيف ہے اورنظافت کودوست رکھتاہے کيونکہ وه اپنی‬ ‫کتاب قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫( <اِ ﱠن ﷲُ ي ُِحبّ التﱠوﱠا ِب ْينَ َوي ُِحبﱡ ْال ُمتَطَہﱢ ِر ْينَ <) ‪١‬‬ ‫خداتوبہ کرنے اورپاکيزه رہنے والوں کودوست رکھتاہے۔ ‪ .‬سوره بقرة‪/‬آيت ‪٢٢٣‬‬ ‫اورسوره تٔوبہ ميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫( < َوﷲُ ي ُِحبﱡ ْال ُمطﱠہﱢ ِر ْينَ <) ‪٢‬‬ ‫خداپاکيزه رہنے والوں کودوست رکھتاہے۔ ‪ .‬سوره تٔوبہ‪/‬آيت ‪  ١٠٨‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫وضوکے اسرار‬ ‫خداوندعالم پاک وپاکيزه ہے اورپاکيزگی کودوست رکھتاہے لہٰذااس نے اپنی بارگاه ميں حاضرہونے والوں کوحکم ديا‪:‬‬ ‫ق ( َوا ْم َسحُوا ِبرُو ِٔس ُک ْم َواَرْ ُجلِ ُک ْم اِ ٰلی ْال َک ْعبَي ِْن<) ‪١‬‬ ‫< ٰيااَيﱡہَاالﱠ ِذ ْينَ آ َمنُوااِ َذاقُ ْمتُ ْم اِ ٰلی الص ٰﱠلو ِة فَا ْغ ِسلُوا ُوجُوہَ ُکم َواَ ْي ِديَ ُک ْم اِ ٰلی ْال َم َرافِ ِ‬ ‫اے ايمان والو!جب بھی تم نمازکے لئے اٹھوتوپہلے اپنے چہروں اورکہنيوں تک ہاتھوں کودھولياکرواوراپنے سراورگٹّے‬ ‫تک پيروں کامسح کرو۔ ‪)١ .‬سوره مائده ‪/‬آيت ‪) ۶‬‬ ‫اس آيہ مبارکہ سے يہ ثابت ہے کہ نمازکے لئے وضوکرناواجب ہے اوراس کے بغيرپﮍھنی جانے والی نمازباطل ہے‬ ‫اورسنت ميں بھی اسکے واجب ہونے کوبيان کياگياہے قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪ :‬مفتاح الصالة الطہور‬ ‫َوتحري ِمہا التکبير ‪ ( ،‬وتحليلہاالسّالم ‪ ،‬واليقبل ﷲ صالةبغيرالطہور‪٢ ).‬‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪:‬طہارت نمازکی کنجی ہے اورتکبير )ﷲ اکبر(اس کی تحريم ہے اورسالم‬ ‫نمازاس کی تحليل ہے)جوچيزيں نمازکے منافی ہيں وه تکبيرکے ذريعہ حرام ہوجاتی ہيں اورسالم کے بعدحالل ہوجاتی‬ ‫ہيں(اورخداوندعالم بے طہارت لوگوں کی نمازقبول نہيں کرتاہے۔‬ ‫‪ /٣١۶.‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪ ٧٧‬قال اميرالمومنين علی عليہ اسالم ‪ :‬افتتاح الصالة الوضوء ‪ ،‬وتحريمہا التکبير‪ ،‬وتحليلہ االتسليم‪.‬‬ ‫موالئے متقيان حضرت علی فرماتے ہيں‪:‬وضو نمازکی کنجی ہے اورتکبير )ﷲ اکبر(اس کی تحريم اورسالم اس کی تحليل‬ ‫ہے۔‬ ‫اسی حديث کومرحوم شيخ کلينی نے کتاب کافی ميں نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ( کی زبانی نقل کياہے‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ٣٣‬۔کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪ ( ۶٩‬عن ابی جعفرعليہ السالم قال ‪ :‬الصالة ا ّال بطہور‪ ١ ).‬امام باقر‬ ‫فرماتے ہيں‪:‬وضوکے بغيرنمازہی نہيں ہے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ١۴٠‬‬

‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬ايک متقی وعالم شخص کوجب قبرميں رکھ دياگياتوﷲ کی طرف سے مو کٔل فرشتوں ميں ايک فرشتہ‬ ‫نے کہا‪:‬ہميں تيرے جسم پر سوتازيانے لگانے کاحکم دياگياہے اس نے کہا‪:‬ميرے جسم ميں ات نے تازيانہ کھانے کی ہمت‬ ‫نہيں ہے ‪،‬فرشتہ نے کہا‪:‬ہم ايک تازيانہ کم کرديتے ہيں ‪،‬کہا‪:‬اب بھی زياده ہيں ‪،‬خداوندعالم اس وجہ سے کہ وه اخيارلوگوں‬ ‫ميں سے تھاتعدادکے کم کرنے قبول کرتاگيا يہاں تک کہ جب ‪/ ٩٩‬تازيانے کم کردئے گئے تواس شخص نے جب آخری‬ ‫تازيانہ کے معافی چاہی توفرشتہ نے کہا‪:‬اس کوہرگزمعاف نہيں کياجاسکتاہے اوريہ تازيانہ ضرورلگناہے ل ٰہذايہ تازيانہ‬ ‫توضرورکھاناپﮍے گا‪،‬اس شخص نے پوچھا‪:‬آخروه کونساگناه ہے کہ جس کی سزا کو معاف نہيں کياجاسکتاہے ‪،‬فرشتہ نے‬ ‫جو اب ديا‪:‬تونے ايک روزوضوکئے بغيرنمازپﮍھی تھی اورتوايک مظلوم ضعيف کے پاس سے گزراليکن تونے اس کی‬ ‫کوئی مددنہيں کی ‪،‬جيسے ہی اس کے جسم پر تازيانہ ماراگياتوقبرسے آگ ( بھﮍک اٹھی۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ۵٨‬‬

‫وضوميں چار چيزيں واجب ہيں‪١ :‬۔نيت ‪٢‬۔چہرے کادھونا‪،‬وضوميں چہره دھونے کے لئے ضروری ہے کہ لمبائی ميں‬ ‫چہرے کوپيشانی کے اوپرسے )جہاں سے سرکے بال اگتے ہيں( ٹھوڑی کے نيچے تک اورچوڑائی ميں بيچ والی انگلی‬ ‫اورانگوٹھے کے درميان جت ناحصہ آجائے دھوناضروری ہے اگراس بتائی گئی مقدارميں سے تھوڑا سا بھی حصہ نہ‬ ‫دھوياجائے تووضوباطل ہے ليکن يہ يقين پيداکرنے کے لئے کہ چہرے کا پورا حصہ دھولياگياہے بہترہے کہ بتائی گئی‬ ‫مقدارسے تھوڑازياده دھوياجائے ۔‬ ‫‪٣‬۔ دونوں ہاتھوں کادھونا‪،‬اورہاتھوں کواس دھوياجائے کہ انسان اپنے دائيں ہاتھ کواس طرح دھوئے کہ بائيں ہاتھ کے ذريعہ‬ ‫داہنے ہاتھ کی کالئی پرپانی ڈالے اوراسے اوپرسے نيچے کی طرف انگليوں کے سرے تک ملے ‪،‬اگرکوئی اس کی خالف‬ ‫ورزی کرے يعنی ہاتھوں کودھونے ميں انگليوں کی طرف سے پانی ڈالے يانيچے سے کہنی طرف ہاتھ پھيرے تواس‬ ‫کاوضوباطل ہے ۔‬ ‫‪۴‬۔ہاتھوں کے دھونے کے بعدوضوکے پانی تری جوہاتھ ره گئی ہے اسی سے سرکے اگلے حصہ کامسح کرناچاہئے اوريہ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ضروری نہيں ہے کہ اوپرسے نيچے کی طرف کيابلکہ نيچے سے اوپرکی طرف بھی مسح کرناجائزہے ۔‬ ‫‪۵‬۔سرکامسح کرنے کے بعدہاتھ ميں باقيمانده تری سے پيروں کی انگليوں کے سرے سے پيرکی پشت کے ابھارتک مسح‬ ‫کرناواجب ہے‬ ‫رازوجوب وضو‬ ‫ْ‬ ‫ُ‬ ‫امام علی رضا نے وضوکے واجب قراردئے جانے کی چندمندرجہ ذيل وجہ بيان کی ہيں ‪ :‬انّماامربِال ُوضو ِء َوبد َء ب ِہ ‪:‬الَن‬ ‫يدی الجبار عندَمناجات ِہ ايّاه ‪ ،‬مطيعاًلہ فيماامره ‪ ،‬نقياًمن االدناس والنجاسة مع مافيہ من ذہاب الکسل‬ ‫يکون العبد طاہراًاِذاقا َم بينَ‬ ‫ِ‬ ‫وطردالنعاس وتزکية الفوادللقيام بين يدی الجبار۔‬ ‫نمازکے لئے وضوکو اس لئے واجب قرار دياگيا ہے کہ جب بنده خدائے جبارکی بارگاه ميں مناجات کے لئے قيام کرے‬ ‫تواسے پاک وپاکيزه ہوناچاہئے ‪،‬اور چونکہ اس نے ادناس ونجاسات سے دوری کاحکم دياہے اس لئے وضوکاحکم دياہے‬ ‫تاکہ بنده اُس کے اس حکم پرعمل کرسکے اورتاکہ اس کے ذريعہ انسان اپنے آپ سے نينداورکسالت سے دورکرسکے‬ ‫اورقلب کوباطنی قذورات ونجاست سے پاک کرکے خدائے جبارکی بارگاه قيام کرے ۔‬ ‫انسا ن کوچاہئے کہ بار گاه رب العزت ميں کھﮍے ہو نے سے پہلے اپنے حقيقی موالکے امرکی اطاعت کرنے اورپليدگی‬ ‫ونجاست سے دورہنے کی خاطر اپنے جسم وروح سے ناپاکی وآلودگی کو برطرف کرے۔‬ ‫اس حديث يہ واضح ہے کہ وضوکے واجب ہونے کاايک رازيہ بھی ہے تاکہ نماز شروع کرنے پہلے انسان کے جسم سے‬ ‫کسالت دورہوجائے اور چہره شاداب ہوجائے تاکہ خضوع ونشاط کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرسکے اور باوضوہوکر‬ ‫بارگاه خدا وندی ميں قيام کرنے سے انسان کا دل نورانی ہوجاتاہے۔‬ ‫ﱞ‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ٢۵٧‬عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬انّماالوضوء حد ِمن حدو ِدﷲ‪،‬ليعلم ﷲ َمن يطيعہ و من ( يعصيہ‪۴ ).‬‬ ‫امام محمدباقر فرماتے ہيں‪ :‬وضو خداوند متعال کی حدو د ميں سے ايک حد ہے ‪)،‬جسے اللھنے اس لئے واجب قرار ديا‬ ‫ہے(تاکہ يہ معلوم ہوجائے کہ کون لوگ اس کی اطاعت وبندگی کرتے ہيں اور کون اس کے حکم کی خالف ورزی‬ ‫اورسرکشی کرتے ہيں اوربيشک مومن کوئی چيزنجسنہيں کرسکتی ہے ۔‬ ‫‪) ۴ .‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٢١‬‬ ‫رازوجوب نيت‬ ‫انسان جس کام کوانجام ديتاہے اس کی طرف متوجہ ہونے اوراس کے مقصدسے آگاه ہونے کونيت کہاجاتاہے يعنی اس کام‬ ‫کے انجام کادل ميں اراده کرنے اوراس کے مقصدآگاہی رکھنے کونيت کہاجاتاہے اورہرکام کے انجام پرثواب وعقاب کاتعلق‬ ‫نيت سے ہوتاہے ‪،‬اس ميں کوئی شک نہيں ہے کہ انسان کی جيسی نيت ہوتی ہے اسی کے مطابق اسے اجربھی دياجاتاہے‬ ‫‪،‬اگردل ميں خداسے قربت حاصل کرنے کاقصدکياہے تواسے عبادت ميں لطف آئے گااورخداسے قريب ہوجائے گاليکن‬ ‫اگردل ميں رياکاری ‪،‬خودنمائی ياچہره اورہاتھوں کوٹھنڈک پہنچانے کااراده کياہے تووضوباطل ہے اوراس کام پرﷲ سے‬ ‫دوری کے عالوه کوئی اجرنہيں ملتاہے‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫غزی ابتغاء ( ماعندﷲ فقدوقع اجره علی ﷲ‪،‬ومن‬ ‫مانوی‪،‬فمن‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪ :‬انّمااالعمال بالنيات ولک ّل امر ٍء‬ ‫غزی يريدعرض الدنياا ٔو ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫نوی عقاالًلم يکن لہ ّاالمانواه۔) ‪ ١‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪:‬انسان کے ہر عمل‬ ‫کاتعلق اس کی نيت سے ہوتاہے اور عمل کی حقيقت نيت کے ذريعہ معلوم ہوتی ہے اورثواب بھی نيت کے حساب دياجاتاہے‬ ‫‪،‬اس کے نصيب ميں وہی ہوتاہے جس چيزکاوه قصدکرتاہے ‪،‬پس وه جو شخص رضای ٰالہی کی خاطرجنگ کرتاہے اورکسی‬ ‫نيک کام خداکی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انجام ديتاہے توخداوندعالم اسے اس کااجروثواب عطاکرتاہے‬ ‫ضروراجرعطاکرتاہے اورجوشخص متاع دنياکوطلب کرتاہے اسے اس کے عالوه جسچيزکی اس نے نيت کی ہے کچھ بھی‬ ‫نصيب نہيں ہوتاہے۔‬ ‫اگرکوئی شخص قصدقربت کے ساتھ کسی رياکاری کابھی قصدرکھتاہووه شخص مشرک ہے اورشرک حرام ہے جب شرک‬ ‫ّ‬ ‫قال‪:‬لوان عبدا عمل عماليطلب بہ وجہ ﷲ عزوجل والداراآلخرة (‬ ‫حرام وه اسکاوه عمل بھی بيکارہے عن ابی جعفرعليہ السالم‬ ‫فادخل فيہ رضی احدمن الناس کان مشرکا‪٢ ).‬‬ ‫اگرکوئی شخص کسی عمل خيرکوانجام دے اوراس ميں خداسے قربت اورعاقبت بخيرکااراده کرے اوراس کے ساتھ کسی‬ ‫شخص کی رضايت حاصل کرنے کابھی قصدرکھتاہوتووه شخص مشرک ہے ۔‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪)١ . ( ١٨۶‬تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ٨٣‬۔ج ‪/۴‬ص ‪) ١٨۶‬‬

‫چہره اورہاتھوں کے دھونے اورسروپيرکے مسح کرنے کاراز‬ ‫وضو ميں چہره اورہاتھوں کے دھونے اورسروپاؤں کے مسح کرنے کی وجہ کے بارے ميں چندروايت ذکرہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔روايت ميں اياہے کہ ايک دن يہودی کی ايک جماعت نبی اکرم پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کی خدمت ميں مشرف‬ ‫ہوئی اوران سب سے بﮍے عالم نے آنحضرتسے مختلف چيزوں کے بارے ميں سواالت کئے اورمتعددمسائل کی علت بھی‬ ‫دريافت کی‪،‬انھوں نے آنحضرت سے ايک سوال يہ بھی کيا‪:‬اے محمد!آپ ہميں اس چيزسے مطلع کريں کہ وضوميں چہره‬ ‫اورہاتھوں کے دھونے اورسروپيرکے مسح کرنے کارازکياہے جبکہ يہ انسان کے بدن کے نظيف اورپاکيزه ترين اعضا‬ ‫ہيں؟آنحضرت نے ان سے فرمايا‪:‬‬ ‫جہ ِہ ‪،‬ث ّم قام ومشی اليہاوہی اوّل قدم مشت الی‬ ‫س ال ﱠشيطَان اِ ٰلی آدَم عليہ السالم دَنا ِمنَ ال ﱠشجر ِة فَنَظَ َراِلَ ْيہَا فَ َذ ہَ َ‬ ‫سو َ‬ ‫ل ّمااَن َو َ‬ ‫ب ماء َو ِ‬ ‫ّ‬ ‫َ‬ ‫الخطيئة ث ّم ت ناول بيده منہامماعليہاواکل فطارالحلی والحل عن جسده فوضع آدم يده علی راسہ وبکی فل ّماتاب ﷲ عزوجل‬ ‫فرض ﷲ عليہ وذريتہ تطہيرہذه الجوارح االربع فاَمرﷲ تعالی لغسل الوجہ ل ّمانظرالی الشجرة ‪،‬واَمره بغسل اليدين الی المرفقين‬ ‫ل ّمات نامنہا‪،‬واَمره بمسح الراس ل ّماوضع يده علی ام راسہ ‪،‬واَمره بمسح القدمين لما مشی بہا الی الخطيئة‪.‬‬ ‫جب شيطان نے حضرت آدم )عليھ السالم(کے دل ميں وسوسہ ڈاالاورآپ کواس درخت سے قريب کردياکہ جس کے قريب‬ ‫جانے سے منع کياگياتھا‪،‬جيسے ہی آدم )عليھ السالم(نے اس درخت پرنگاه ڈالی توآپ کے چہرے کی رونق ونورانيت چلی‬ ‫گئی ‪،‬اس کے بعدآپ کھﮍے ہوگئے اورپھر درخت کی جانب حرکت کی ‪،‬عالم ہستی ميں کسی خطاکی طرف اٹھنے واال سب‬ ‫سے پہالقدم تھا‪،‬پھرآپ نے ہاتھوں سے درخت سے ميوه توڑکرت ناول کياتوآپ کے جسم سے لباس وزينت اترگئے جس کی‬ ‫وجہ سے آپ اپنے سرپہ ہاتھ رکھ کربيٹھ گئے اورروکرتوبہ کرنے لگے‪،‬جب خداوندعالم نے آدم کی توبہ قبول کی توآپ‬ ‫پراورآپ کی اوالدپران چاراعضا کے دضودينے کوواجب قرارديا۔‬ ‫خداوندعالم نے حضرت آدم)عليھ السالم( کوچہره دھونے کاحکم اس لئے دياکيونکہ آپ نے اس درخت کی جانب نگاه کی تھی‬ ‫تواس کی وجہ سے چہره کی رونق چلی گئی تھی اورکہنيوں سميت دونوں ہاتھوں کے دھونے کاحکم اس لئے دياکيونکہ آپ‬ ‫نے ہاتھوں کے ذريعہ درخت سے پھل توڑکرت ناول کياتھااورسرکے مسح کرنے کاحکم اسلئے دياکيونکہ جب آپ برہنہ‬ ‫ہوئے تواپنے سرپر ہاتھ رکھ کربيٹھ گئے تھے جس کی وجہ سے خدانے سرکے مسح کرنے کاحکم ديااورچونکہ آدم )عليھ‬ ‫السالم( اپنے ان دونوں پيروں کے ذريعہ چل کرممنوعہ درخت کی جانب ( گئے تھے توخدانے حکم ديا‪:‬اے آدم!اپنے دونوں‬ ‫پاؤں کابھی مسح کرو۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪) ١ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ۵۶‬‬

‫روايت ميں آياہے ‪ :‬رسول خدا )صلی ﷲ عليھ و آلھ(نماز صبح کے بعد بين الطلوعين)طلوع فجروطلوع آفتاب( مسجد ميں‬ ‫بيٹھتے تھے اور لوگوں کے سوالوں کا جواب دے ديتے تھے کہ ايک دن دولوگوں نے اپنے سوال کوآنحضرت کی خدمت‬ ‫ميں مطرح کر ناچاہا توجس شخص کی نوبت پہلے تھی آنحضرت نے اس سے فرمايا ‪ :‬اے بھائی!اگر چہ تم اپنے اس‬ ‫دوسرے بھائی پر مقدم ہو اگر اجازت ہو تو اپنی نوبت اس شخص کو ديدو کيونکہ اسے ايک بہت ضروری کام درپيش ہے‬ ‫اس شخص نے آنحضرت کی فرما ئش کو قبول کيا‪،‬اس کے بعدآپ نے فرمايا ‪ :‬اے بھائی! ميں بتاؤ تم مجھ سے کيامعلوم کرنا‬ ‫چا ہتے تھے ياخودہی بتاناپسندکروگے ؟ دونوں نے عرض کيا ‪ :‬يارسول ا ! آپ ہی بيان کيجئے ‪ ،‬رسول خدا )صلی ﷲ‬ ‫عليھ و آلھ( نے فرمايا‪ :‬تم ميں ايک شخص حج کے بارے ميں سوال کرناچاہتاہے اور دوسرا شخص ثواب وضو سے مطع‬ ‫ہونا چاہتا ہے ‪،‬پہلے آپ نے ثواب وضوسے مطلع ہونے شخص کاجواب دياتاکہ دوسراشخص بھی اس سے مطلع ہوجائے‬ ‫ل ٰہذاآپ نے فرمايا‪:‬‬ ‫وضوميں چہره اور ہاتھوں کے دھونے اور سروپيروں کا مسح کرنے ميں ايک راز پاياجاتاہے‪ ،‬وضو ميں چہره دھونے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ٰ‬ ‫بارالہا!ميں تيری بارگاه ميں کھﮍے ہوکر عبادت کررہا ہوں اور پاک پيشانی کے ساتھ خاک پر سررکھتاہوں ‪،‬‬ ‫کارازيہ ہے‬ ‫وضو ميں ہاتھوں کا دھونے کے معنی يہ ہيں‪ :‬خدايا !ميں ان ہاتھوں کے ذريعہ انجام پانے والے گناہوں کو ترک کررہاہوں‬ ‫اور اب تک ان ہاتھوں کے ذريعہ جن گنا ہوں کا مرتکب ہواہوں ان سب نادم ہوں اورانھيں اپنے ان ہاتھوں سے پاک کرہا ہوں‬ ‫ٰ‬ ‫بارالہا ! وه خيا ل باطل اور نا پاک ارادے جوميں نے اپنے سرميں داخل‬ ‫‪ ،‬وضو ميں سرکا مسح کرنے کامعنی ہيں‪ :‬يعنی‬ ‫کئے ہيں ان سب ناپاک ارادوں کو ذہن سے خارج کرتا ہوں‪ ،‬پيروں کا مسح کرنے کے معنی ہيں‪ :‬بارلہا ! ميں اپنے ان قدموں‬ ‫کوہر برائی کی طرف جانے سے اپنے قدموں کو محفوظ رکھوں گا اور جت نے بھی گناه ان پيروں سے سرزدہوئے ہيں ان‬ ‫سب کو اپنے ( آپ سے دورکرتا ہوں۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪) ١ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ١۶٧‬ص ‪) ۵٣‬‬

‫فضل بن شاذان سے روايت ہے ‪:‬امام علی رضا فرماتے ہيں‪:‬اگرکوئی تم سے يہ معلوم کرے کہ چہره اورہاتھوں‬ ‫کادھونااورسروپاؤں کامسح کرناکيوں واجب ہے تواسے اس طرح جواب دو‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫الن العبداذاقام بين يدی الجبارقائماينکشف من جوارحہ ويظہرماوجب فيہ الوضوء وذلک انہ بوجہہ يستقبل ويسجدويخضع وبيده‬ ‫يسئل ويرغب ويرہب ويتبتل وبراسہ يستقبل فی رکوعہ وسجوده وبرجلہ يقوم ويقعد‪.‬‬ ‫جب بنده اپنے رب کی بارگاه ميں قيام کرتاہے تواپنے اعضاء وجوارح سے مانع اورحاجب کودورکرتاہے اوروه اعضاکہ جن‬ ‫کووضوميں دھوناہے يامسح کرناواجب ہے ان کے ذريعہ بندگی کااظہارکرتاہے‪،‬کيونکہ نمازميں چہرے کاقبلہ کی سمت‬ ‫رکھناواجب ہے اوراس کے ذريعہ سجده کياجاتاہے اورخضوع وخشوع کااظہارکياجاتاہے اورہاتھوں کے ذريعہ بارگاه‬ ‫ربوبيت ميں سوال کياجاتاہے ‪،‬حاجتوں کوطلب کياجاتاہے اورغيرخداکواپنے آپ سے منقطع قراردياجاتاہے اورہاتھوں ہی کے‬ ‫ذريعہ ايک حالت سے دوسری ميں منتقل ہوجاتاہے اوررکوع و سجودميں جانے کے لئے اورقيام وقعودکے بھی دونوں‬ ‫ہاتھوں کاسہارالياجاتاہے ‪ ،‬اورسرکے ذريعہ اپنے آپ کورکوع وسجودميں قبلہ کی سمت رکھناواجب ہے اورپيروں کے‬ ‫ذريعہ اٹھااوربيٹھاجاتاہے اسی لئے وضوميں چہره اورہاتھوں کے دھونے اورسروپاؤں کے مسج کرنے حکم دياگياہے۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢۵٧‬‬ ‫وضوميں تمام دھوناياتمام مسح کيوں نہيں ہے؟‬ ‫وضوميں چہره اورہاتھوں کادھونااورسروپاو ٔں کامسح کرناواجب قرار ديا گيا ہے‪،‬وضوميں نہ تمام دھوناہے اورنہ تمام‬ ‫کومسح کرناہے بلکہ بعض کودھوياجاتاہے اوربعض کومسح کياجاتاہے اگرکوئی شخص يہ اعتراض کرے کہ وضوميں تمام‬ ‫اعضا کودھوناکيوں نہيں ہے ياتمام کومسح کومسح کرناکيوں نہيں ہے اس کی وجہ اوررازکياہے؟‬ ‫فضل ابن شاذان سے مروی ہے کہ امام علی رضا نے وضوميں چہره اورہاتھوں کا دھونے اورسروپاو ٔں کامسح کرنے کی‬ ‫چندوجہ بيان کی ہيں‪:‬‬ ‫‪١���۔رکوع وسجوديہ دونوں ايسی عظيم وبرترعبادت ہيں کہجنھيں چہرے اوردونوں ہاتھوں سے انجام دياجاتاہے نہ‬ ‫سراوردونوں پاو ٔں کے ذريعہ ل ٰہذاواجب ہے کہ وضوميں چہره اوردونوں ہاتھوں کودھوياجائے تاکہ اس ذريعہ سے اورزياده‬ ‫طہارت اورپاکيزگی حاصل ہوجائے ۔ ‪٢‬۔انسان روزانہ چندمرتبہ اپنے سراوردونوں پاو ٔں کودھونے کی قوت نہيں رکھتاہے‬ ‫کيونکہ سردی گرمی‪،‬سفروحضر‪،‬صحت وبيماری ‪،‬رات اور دن وغيره جيسے تمام حاالت ميں سراورپاو ٔں کے دھونے ميں‬ ‫دشواری ہے ليکن سروپاو ٔں کے دھونے کے مقابلہ ميں چہره اورہاتھوں کاکوئی مشکل کام نہيں ہے اورسروپاؤں کے‬ ‫دھونے سے بہت زياده آسان ہے اسی لئے وضوميں چہره اورہاتھوں کودھونے اورسروپاو ٔں کے دھونے کاحکم دياگياہے ۔‬ ‫‪٣‬۔ چہره اوردونوں ہاتھ غالباًکھلے رہتے ہيں ليکن سرٹوپی‪ ،‬عمامہ ياپگﮍی سے چھپارہتاہے اورپاو ٔوں بھی جوتے اورموزه‬ ‫سے چھپے رہتے ہيں اس لئے وضوميں چہره اورہاتھوں کودھوياجاتاہے اورسروپاو ٔوں پرفقط مسح کياجاتاہے۔‬ ‫‪ .‬عيون اخبارالرضا ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١١١‬‬ ‫وضوميں چہره اورہاتھوں کے دھونے اورسروپاؤں کے مسح کرنے کے چند علل واسباب اوربھی ذکرکئے گئے ہيں‬ ‫جومندرجہ ذيل ذکرہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔ چونکہ انسان ان اعضاء کو بہت زياده بروئے کارالتاہے اوران کواپنے کاموں ميں بہت زياده استعمال کرتاہے اس لئے‬ ‫خدانے بعض اعضاء کے دھونے اوربعض کے مسح کرنے کاحکم دياہے ۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪٢‬۔ انسان دوسرے اعضاء کے مقابلے ميں ان اعضاء کے ذريعہ گناہوں کازياده مرتکب ہوتاہے جسکی وجہ سے يہ اعضاء‬ ‫آلوده ہوجاتے ہيں۔‬ ‫‪٣‬۔ وضوميں چہره اورہاتھوں کے دھونے کواس لئے واجب قرادياگياہے تاکہ انسان اپنے دل ميں يہ خيال پيداکرے کہ جس‬ ‫طرح ان اعضاء کودھوناضروری ہے دل ودماغ کوگناہوں کی گندگی سے پاک کرنااس سے کہينزياده ضروری ہے کيونکہ‬ ‫تعالی کی متوجہ ہوتاہے اورخدالوگوں کے چہروں کونہيں ديکھتا بلکہ دلوں پرنگاه‬ ‫انسان دل ہی کے ذريعہ نمازميں باری‬ ‫ٰ‬ ‫ڈالتاہے کيونکہ دل تمام اعضائے بدن کابادشاه اورفرمانرواہوتاہے اوراعضائے وضودل ہی کے حکم سے گناہوں کی طرف‬ ‫ٰ‬ ‫کويادالہی سے غافل کرتے ہيں ل ٰہذاان اعضاء کودھونے سے پہلے قلب کودھوليناچاہئے تاکہ‬ ‫حرکت کرتے ہيں اورانسان‬ ‫انسان ظاہری اورباطنی پليدگی سے پاک ہوکرمعبودحقيقی کی عبادت کرے۔‬ ‫‪۴‬۔ ان اعضاء دھونے کاايک رازيہ بھی ہے کہ ہاتھ اورچہره کے دھو نے کامقصديہ ہے کہ ہم دنياسے ہاتھ دھورہے ہيں‬ ‫اورغيرخداکی طرف ہونے سے منھ پھيررہے ہيں۔ انسان کوسعادت اورخوش بختی اسی وقت نصيب ہوسکتی ہے جب اس‬ ‫کے ہاتھ اورصورت دنياوی پليدگی ميں آلوده نہ ہوں کيونکہ دنياوآخرت دوايسی چيزيں ہيں کہ انسان ان دونوں ميں سے جس‬ ‫سے جت نازياده قريب ہوتاجائے گا دوسری سے ات ناہی زياده دورہوتاجائے گال ٰہذاانسان کوچاہئے کہ بارگاه خداوندی ميں‬ ‫قيام کرنے سے پہلے دنياسے ہاتھ دھوئے اوراسسے اپنامنھ پھيرلے۔‬ ‫‪۵‬۔ وضوميں سب سے پہلے چہره دھوياجاتاہے جس کاراز يہ ہے کہ ظاہری صورت باطنی صورت کاآئينہ ہوتی ہے‬ ‫اورچہرے پرخداکی طرف متوجہ ہونے کے آثاردوسرے اعضاء وضو کے مقابلہ مينزياده نماياں ہوتے ہيں اسی لئے‬ ‫وضوميں چہره دھونے کومقدم کياگياہے۔ ‪۶‬۔وضوميں ہاتھوں کے کہنيوں سميت دھونے کواس لئے واجب قراردياگياہے‬ ‫کيونکہ يہی ہاتھ ہوتے ہيں جودوسرے اعضاء کے مقابلے ميں دنياوی امورکی طرف زياده درازہوتے ہيں اور گناہوں ميں‬ ‫آلوده ہوتے ہيں لہٰذاخداوندمتعال کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے ہاتھوں کوآلودگی سے پاک کرليناضروری ہے۔‬ ‫‪٧‬۔سرکے مسح کرنے کافلسفہ يہ ہے کہ دماغی طاقت اسی کے اندرواقع ہے اوردنياوی)ما ّدی وشہوتی( مقاصدحاصل کرنے‬ ‫کااراده اسی کے ذريعہ شروع ہوتاہے اورما ّدی وشہوتی امورکی طرف متوجہ ہونامعنوی توجہ پيدانہ کرنے کاسبب واقع‬ ‫ہوتی ہيں اورمادی وشہوتی امورکی طرف سرہی کے ذريعہ متوجہ ہواجاتاہے ل ٰہذاسرکے مسح کرنے کامقصديہ ہے کہ ہم‬ ‫ما ّدی وشہوتی امورکی طرف متوجہ ہونے سے دوری اختيارکررہے ہيں اوراپنارخ خداکی جانب کررہے ہيں۔‬ ‫‪٨‬۔ پيروں کے مسح کرنے کارازيہ ہے کہ انسان انھيں کے ذريعہ تمام دنياوی مقاصدکی جانب بﮍھتاہے اورانھيں حاصل‬ ‫کرنے کی کوشش کرتاہے ل ٰہذاہم سرکے اگلے حصہ پرمسح کے ذريعہ اپنی جہت کوبدل رہے ہيں اور خداکی جانب حرکت‬ ‫کررہے ہيں کيونکہ عبادت خداکے ذريعہ اسی وقت سعادت نصيب ہوسکتی ہے اورﷲ کے ذکرسے اسی وقت دل کوآرام مل‬ ‫سکتاہے ( جب ہم اپنی راه کودنياوی مقاصدسے خداکی طرف موڑديں۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪) ١ .‬قصص الصالة‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪ ٢۴‬۔ ‪) ٢۶‬‬

‫محمدبن سنان سے مروی ہے کہ امام ابوالحسن علی موسی الرضا کی خدمت ميں جوخط لکھے گئے ان ميں ايک خط ميں‬ ‫امام )عليھ السالم( سے متعددسوال کئے گئے جن ميں ايک سوال يہ بھی تھاکہ وضوميں چہره اوراہاتھوں کے دھوے‬ ‫اورسروپاؤں کے مسح کرنے کی وجہ کياہے؟توامام )عليھ السالم(نے اس خط کے جواب ميں تحريرکيااوراس طرح وجہ بيان‬ ‫کی‪ :‬وضوميں چہره اوردونوں ہاتھوں کے دھونے اورسروپاؤں کے مسح کرنے کوواجب قراردياگياہے جس کی وجہ يہ ہے‬ ‫تعالی کی بارگاه ميں قيام کرتاہے توان چاراعضاوجوارح سے اس سے مالقات کرتاہے ‪،‬چہرے کے دھونے‬ ‫کہ جب حق‬ ‫ٰ‬ ‫کواس واجب قراردياگياہے کيونکہ اس کے ذريعہ سجوداورخضوع کرناواجب ہے اوردونوں ہاتھوں کے دھونے کااس لئے‬ ‫حکم دياگياہے کيونکہ انھيں حرکت دی جاتی ہے اوران کے ہی ذريعہ ميل ورغبت ‪،‬خوف وحشت اورقطع کرناوجداکرناانجام‬ ‫پاتاہے ل ٰہذاان دونوں کے دھونے کوواجب قرارديا گياہے اورسرودونوں پاؤں کے مسح کرنے کااس لئے حکم دياگياہے‬ ‫کيونکہ يہ دونوں ظاہرومکشوف يعنی کھلے رہتے ہيں اورتمام حاالت ميں ان کے ذريعہ استقبال کياجاتاہے اوروه خضوع‬ ‫خشوع جوچہرے اوردونوں ميں نہيں پائی جاتی ہے وه ان دونوں ميں پائی جاتی ہے ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٨٠‬‬ ‫مرحوم کلينی نے اپنی کتاب “الکافی” ميں ايک روايت نقل کی ہے‪:‬ابن اذينہ سے مروی ہے کہ ايک دن امام صادق نے مجھ‬ ‫سے فرمايا‪:‬يہ ناصبی لوگ کس طرح کی روايت نقل کرتے ہيں؟ميں نے کہا‪:‬آپ پرقربان جاؤں کس بارے ميں؟آپ )عليھ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫السالم( نے فرمايا‪ :‬اذان‪ ،‬رکوع ‪،‬سجودکے بارے ميں؟ ميں عرض کيا‪:‬وه لوگ کہتے ہيں کہ ان تمام مسائل کو“ابی ابن کعب”‬ ‫نے خواب ميں ديکھاہے ‪،‬امام )عليھ السالم( نے فرمايا‪:‬‬ ‫وه جھوٹ کہتے ہيں‪ ،‬دين خداتو خواب ميں ديکھنے سے بھی کہيں درجہ بلندوباالہے ‪،‬راوی کہتاہے کہ اسی وقت‬ ‫سديرصيرفی نے امام )عليھ السالم( سے عرض کيا‪:‬ہم آپ پرقربان جائيں !آپ ہمارے لئے اس بارے ميں کچھ بيان کيجئے‬ ‫‪،‬امام )عليھ السالم( نے فرمايا‪:‬جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(معراج پرگئے اورساتوے آسمان پرپہنچے …آنحضرت‬ ‫سے کہاگيا‪:‬اے محمد!اپنے سرکوبلندکرواوراوپرکی طرف نگاه کرو‪،‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(کہتے ہيں کہ ‪:‬ميں نے‬ ‫جيسے ہی سربلندکياتوديکھاکہ آسمان کے تمام طبقے شکافتہ ہوگئے ہيں اورآسمان کے تمام پردے اٹھالئے گئے ہيں ‪،‬اسکے‬ ‫بعدمجھ سے کہاگيا‪:‬‬ ‫اے محمد!اب نيچے کی طرف بھی ديکھو!ميں نے جيسے نيچے کی طرف نگاه ڈالی توخانہ کٔعبہ کے مانند ايک‬ ‫گھرنظرآيااورمسجدالحرام کے مانندايک حرم ديکھا‪،‬اگرميں اس وقت اپنے ہاتھ سے کوئی چيزنيچے کی طرف چھوڑتاتووه‬ ‫سيدھی اسی حرم ميں آکرگرتی ‪،‬اس وقت مجھ سے کہاگيا‪:‬‬ ‫يامحمدااِ ّن ہذالحرم وانت الحرام ولکل مثل مثال ث ّم اوحی ﷲ ال ّی ‪:‬يامحمد! ادن من “صاد”فاغسل مساجدک وطہرہاوص ّل لربّک۔‬ ‫اے محمد!يہ حرم ہے اورتومحترم اورہرايک چيزکی ايک مثالی تصويرہوتی ہے ‪،‬اس کے بعدمجھ پروحی نازل ہوئی‬ ‫اورمجھ سے کہا گيا ‪:‬اے محمد!صاد) ‪(١‬کے قريب جاؤاوراپنے اعضاء سجده کوپانی سے دھوؤاوراپنے پروردگارکے لئے‬ ‫نمازپﮍھو‪،‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(صادکے قريب پہنچے اوردائيں ہاتھ کی چلّوميں پانی ليا ‪،‬چونکہ نبی نے دائيں ہاتھ‬ ‫سے پانی چلوميں لياتو اسی لئے دائيں ہاتھ سے وضوکرناسنت قرار پايا‪ ،‬پھر خدا نے وحی نازل کی‪ :‬اغسل وجہک فانک ت‬ ‫ٰ‬ ‫اليمنی‬ ‫نظرالی عظمتی ث ّم اغسل ذراعيک‬ ‫واليسری فانّک تلقی بيدک کالمی ث ّم امسح راسک بفضل مابقی فی يدک من الماء‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫الی کعبيک۔ اپنے چہره دھوؤکيونکہ تم اس کے ذريعہ ميری عظمتوں کامشاہده کرتے ہو‪،‬اس کے بعداپنے دائيں‬ ‫ورجليک ٰ‬ ‫اوربائيں ہاتھ کوکہنيوں سميت دھوؤکيونکہ تم ان ہی ہاتھوں کے ذريعہ ميرے کالم کوحاصل کرتے ہو‪،‬اس کے بعدہاتھ‬ ‫پرباقيمانده پانی کی رطوبت کے ذريعہ سرکا اورپيروں کاکعبين تک مسح کروپھرميں تمھيں ايک خوشی طعاکروں‬ ‫گااورتمھارے قدموں کووہاں تک پہنچادوں گاکہ ( جہان پرآج تک کسی نے قدم نہيں رکھاہے) ‪١‬‬ ‫‪)١‬صادوه پانی ہےجوعرشکی بائيں پنڈلی سے جاری ہے‪(١ ).‬کافی ‪/‬ج ‪ /٣‬ص ‪) ۴٨۵‬‬ ‫‪۴‬۔خروج پيشاب ‪،‬پيخانہ اورريح سے وضوکے باطل ہونے کی وجہ‬ ‫پيشاب ‪،‬پيخانہ ‪،‬ريح کے خارج ہونے اورمجنب ہوجانے سے وضوباطل ہوجاتی ہے خداوندعالم قرآن کريم ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫<اَوْ َجآ َء اَ َح ٌد ﱢمن ُک ْم ِمنَ ْالغَائِ ِط اَوْ َال َم ْستُ ُم النﱢ َسا َء‪ >.‬وضوکرو!اگرتم ميں سے کسی پاخانہ نکل آئے ياعورت کولمس کرو)اورمنی‬ ‫نکل ) توطہارت کرو(۔‬ ‫‪ .‬سوره نٔساء‪/‬آيت ‪ ۴٣‬۔سوره ٔمائده‪/‬آيت ‪۶‬‬ ‫ُ‬ ‫قال‪:‬قلت البی جعفر‪،‬وابی عبدﷲ عليہماالسالم ‪:‬ماينقض الوضوء ؟ فقاال‪:‬مايخرج من طرفيک االسفلين ‪ :‬من‬ ‫عن زرارة‬ ‫الذکروالدبر ‪ ،‬من الغائط والبول ‪ ،‬ا ٔوالمنی ا ٔوريح ‪ ،‬والنوم حتی يذہب العقل‪.‬‬ ‫زراره سے مروی ہے کہ ميں نے امام محمدباقر اورامام جعفرصادق ‪+‬سے پوچھا‪:‬کن چيزوں کے ذريعہ وضوباطل‬ ‫ہوجاتاہے ؟پس دونوں امام )عليھ السالم(نے فرمايا‪:‬وه چيزکہ جوتمھارے نيچے کے دونوں حصے آلہ ت ناسل اوردبرسے‬ ‫خارج ہوتی ہيں يعنی پيشاب اورپاخانہ ‪،‬منی ‪،‬ريح‪،‬ايسی نيندکہ جسکے ذريعہ عقل ضائع ہوجائے۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٣۶‬‬ ‫امام علی رضا فرماتے ہيں‪:‬اگرکوئی شخص يہ اعتراض کرے کہ وه چيزيں جوطرفين سے يعنی قُبل ودُبرسے خارج ہوتی‬ ‫ہيں ان کے ذريعہ اورنيندکے ذريعہ وضوباطل ہو جاتی ہے کسی دوسری چيزکے ذريعہ وضوکيوں باطل نہيں ہوتی ہے ؟اس‬ ‫کاجواب يہ ہے‪ :‬کيونکہ طرفين يعنی قُبل ودُبردوايسے راستے ہيں جن کے ذريعہ نجاست خارج ہوتی ہے اورانسان ميں ان‬ ‫دوراستوں کے عالوه نجاست خارج ہونے کے لئے کوئی راستہ نہيں ہے جوانسان سے خودبخودلگ جائے اوراسے مت‬ ‫نجس کردے ل ٰہذاجس وقت ان دوراستوں سے نجاست خارج ہوتی ہے توانسان پاک ہوتاہے اوران دوراستوں کے ذريعہ‬ ‫نجاست نکلتے ہيں مت نجسہوجاتاہے ل ٰہذاطہارت حکم دياگياہے ۔‬ ‫ليکن نيندکہ جب وه انسان پرغالب آجاتی ہے تواس کے ذريہ بھی وضوباطل ہوجاتی ہے کيوں نکہ جوچيزانسان ميں‬ ‫منافذہوتی ہے وه کھل جاتی ہيں اورسست ہوجاتی ہيں اورغالباًايسے حال ميں چندچيزيں خارج ہوتی ہيں کہ جسکی وجہ سے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫وضوکرناواجب ہوتاہے ۔ ‪ .‬عيون اخبارالرضا ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١١١‬‬ ‫کھانے ‪،‬پينے سے وضوکے باطل نہ ہونے کی وجہ‬ ‫کسی چيزکے کھانے پينے سے وضوباطل نہيں ہوتی ہے ‪،‬اس کی وجہ حديث ميں اس طرح بيان کی گئی ہے ۔‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪ :‬توضو أممايخرج منکم ‪ ،‬والتوضو أ ممايدخل فانہ يدخل طيبايخرج خبيثا‪.‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪:‬ان چيزوں کی وجہ سے باطل ہوجاتاہے کہ جوتمھارے بدن سے خارج ہوتی ہيں‬ ‫اوران چيزوں سے وضوباطل نہيں ہوتاہے کہ تمھارے بدن ميں داخل ہوتی ہيں کيونکہ بدن ميں پاک چيزجاتی ہے اوربدن‬ ‫سے خارج ہونے والی چيزخباثت کاحکم رکھتی ہيں۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٨٢‬‬ ‫آب وضوکے پاک‪ ،‬مباح اورمطلق ہونے اوربرت ن کے مباح ہونے کی وجہ‬ ‫جس پانی سے وضوياغسل کرتے ہيں اس کاپاک ‪،‬مطلق اورمباح ہوناضروری ہے ‪ ،‬اگرانسان عمداًياسہواًنجس ‪ ،‬مضاف‬ ‫ياغصبی پانی سے وضوياغسل کرے تووه وضواورغسل باطل ہے اوراس سے پﮍھی جانے والی نمازيں بھی باطل ہيں‪،‬خواه‬ ‫نمازکے لئے وقت باقی ہويانہ ہواورچاہے پہلے سے پانی کے نجس ياغصبی ہونے کاعلم رکھتاہويانہ کيونکہ نجس ياغصبی‬ ‫پانی سے وضوکرنے سے خداسے تقرب حاصل نہيں ہوسکتاہے بلکہ خداسے تقرب حاصل کرنے کے لئے طہارت شرط ہے‬ ‫۔‬ ‫غصبی پانی ياغصبی برت ن سے وضوکے باطل ہونے کاسبب يہ ہے کيونکہ اگرغيرمباح ظرف ياپانی سے وضوکياجائے‬ ‫تواسے تصرف غصبی ميں شمارہوجائے گااورتصرف غصبی حرام ہے پس جب تصرف حرام ہے توعبادت بھی باطل ہے‬ ‫دوسرے يہ کہ وضوميں قصدقربت شرط ہے ‪،‬غصبی پانی کے ذريعہ وضو کرنے سے قصدقربت حاصل نہيں ہوسکتی ہے‬ ‫پس جب قصدقربت کاوجودنہيں ہے تووضوباطل ہے ۔‬ ‫قال اميرالمومنين عليہ السالم ‪ّ :‬‬ ‫تعالی فرض الوضوء علی عباده بالماء الطاہروکذلک الغسل من الجنابة‪.‬‬ ‫ان ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫حضرت علی فرماتے ہيں‪:‬خداوندعالم نے اپنے بندوں پرواجب قراردياہے کہ وضوکوپاک پانی کے ذريعہ انجام اووراسی‬ ‫طرح غسل جنابت کو۔‬ ‫‪۶‬۔خودوضوکرنے کی شرط کی وجہ‪:‬‬ ‫وضوکے شرائط ميں ايک يہ بھی ہے کہ انسان اپناوضوخودکرے يعنی اپنے چہرے‪ ،‬دونوں ہاتھوں کوخود دھوئے‬ ‫اورسروپاو ٔں کامسح بھی خودکرے ‪،‬اگرکوئی شخص بغيرکسی مجبوری کے کسی دوسرے سے وضوکرائے يعنی کوئی‬ ‫دوسراشخص اس کے چہرے کوياہاتھوں کودھوئے ‪،‬سرياپيرکامسح کرے تواس کی وضوباطل ہے مگريہ کہ خودوضوکرنے‬ ‫کی قدرت نہيں رکھتاہواوربغيرکسی مجبوری کے کسی دوسرے سے پانی وضوکے لئے پانی ڈلوانامکروه ہے جسکی وجہ‬ ‫قرآن وسنت اس طرح بيان کی گئی ہے‪:‬‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫صالِحًاوﱠاليُش ِرک بْ ِ◌ ِعبَا َد ِة َربﱢ ِہ ا َحدًا> جوبھی اپنے رب سے مالقات کااميدوار ہے اسے‬ ‫<فَ َم ْن َکانَ يَرْ جُوْ ا ِلقَا َء َربﱢ ِہ فَ ْليَ ْع َملْ َع َمالً َ‬ ‫چاہئے کہ عمل صالح کرے اورکسی کواپنے پروردگارکی عبادت ميں شريک قرارنہ دے ۔ ‪ .‬سوره کٔہف‪/‬آيت ‪١١٠‬‬ ‫شيخ صدوقنے “من اليحضره الفقيہ”ميں ايک روايت نقل کی ہے‪ :‬کان اميرالمومنين عليہ السالم اذاتوضا ٔلم يدع يصب عليہ‬ ‫الماء قال‪:‬الا ٔحبّان اشرک فی صالتی احداً‪.‬‬ ‫اميرالمومنين حضرت عليجب بھی وضوکرتے تھے توکسی کوپانی ڈالنے کی اجازت نہيں ديتے تھے اورفرماتے تھے ‪:‬ميں‬ ‫اپنی نمازوعبادت ميں کسی کوشريک کرناپسندنہيں کرتاہوں۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪۴٣‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬خصلتان الاُحب ان يشارکنی فيہمااحد‪:‬وضوئی فانہ من صالتی وصدقتی فانہامن يدی الی‬ ‫يدالسائل فانہاتقع فی يدالرحمن‪ .‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪:‬دوخصلت ايسی ہيں کہ ميں ان ميں کسی دوسرے‬ ‫کوشريک کرناپسندنہيں کرتاہوں‪ :‬ايک ميراوضوکيونکہ وه ميری نمازکاحصہ ہے دوسرے ميراصدقہ کيونکہ ميرے ہاتھوں‬ ‫سے سائل کے ہاتھوں ميں پہنچتاہے اورچونکہ وه خدائے کے ہاتھوں ميں پہنچتاہے۔‬ ‫‪ .‬خصال )شيخ صدوق(ص ‪٣٣‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪٧‬۔سورج کے ذريعہ __________گرم پانی سے وضوکرنے کی کراہيت کی وجہ‪:‬‬ ‫سورج کے ذريعہ گرم شده پانی سے کوئی حرج نہيں ہے البتہ مکروه ہے قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪ :‬الماء الذی‬ ‫تسخنہ الشمس التتوضو أ بہ ‪ ،‬والتغسلوا بہ والتعجنوا بہ ‪ ،‬فانہ يورث البرص‪ .‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪:‬وه‬ ‫پانی کہ جسے سورج نے گرم کردياہے اس سے وضونہ کرواورغسل بھی نہ کرواوراس کے ذريعہ آٹے کوخميربھی نہ‬ ‫کروکيونکہ اس کے ذريعہ برص کے مرض کاخطره ہے ۔‬ ‫علل الشرائع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪  ٢٨١‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫وضوکے آداب‬

‫‪١‬۔وضوسے پہلے مسواک کرنا‬ ‫وتعالی‬ ‫مستحب ہے کہ جب انسان نمازکااراده کرے تووضوسے پہلے مسواک کرے اور پاک ومعطردہن کے ساتھ ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫کی بارگاه ميں قدم رکھے کيونکہ معصومين کی يہی سيرت رہی ہے کہ وه وضوسے پہلے مسواک کرتے تھے اورمسواک‬ ‫کرنے کی فرمائش ونصيحت بھی کرتے تھے ۔‬ ‫قال رسوللله صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلّم لِعل ّی فی وصيّتہ‪:‬عليک بالسواک عندوضوء ک ّل ( صالة ) ‪١‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(موالئے کائنات حضرت علی سے وصيت کرتے ہوئے فرماتے ہيں ‪:‬اے علی! تم ہر نماز سے‬ ‫وضوکرتے وقت مسواک ضرورکياکرو۔‬ ‫ّ‬ ‫ياعلی !عليک بالسواک وان استطعت ان التقل منہ فافعل ّ‬ ‫فان کل صالة تصليہابالسواک ( تفضل علی التی تصليہابغيرسواک‬ ‫اربعين يوما‪٢ ).‬‬ ‫اے علی ! ميں تم کو مسواک کے بارے ميں وصيت کرتا ہوں اور اگرتم اس کے بارے ميں کسی سے کچھ نہيں کہہ سکتے‬ ‫تو خوداسے انجام ديتے رہوکيونکہ ہر وه نمازکہ جس سے پہلے مسواک کی جاتی ہے وه نماز ان چاليس دن کی نماز وں‬ ‫سے افضل ہيں جو نماز بغير مسواک پﮍھی جاتی ہيں ۔‬ ‫‪(٢ .‬مکارم االخالق ‪/‬ص ‪)١ . ( ۵١‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ( ) ۵٣‬عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬رکعتان بالسواک افضل‬ ‫من سبعين رکعة بغيرسواک ‪ ١ ).‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬مسواک کے ذريعہ دورکعت پﮍھی جانے والی نماز بغير مسواک‬ ‫کے پﮍھی جانے والی سترنمازوں سے افضل ہے ۔‬ ‫قال سول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪ :‬لوالان اشق علی امتی المرتہم بالسواک مع ( کل صالة ‪٢ ).‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے ہيں‪ :‬اگرميری امت پرمسواک کرناباعث مشقت نہ ہوتاتوميں انھيں ہرنمازکے ساتھ‬ ‫مسواک کرنے کوالزم قرارديتا۔ ‪)٢‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪)١)( ٢٢‬‬

‫‪   ‬‬

‫‪٢‬۔ وضوکرتے وقت معصوم )عليھ السالم(سے منقول ان دعاؤں کوپﮍھنا‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬ايک دن اميرالمومنيناپنے فرزند“محمدابن حنفيہ ”کے ساتھ بيٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمايا‪:‬اے‬ ‫محمد!ميرے لئے ايک ظرف ميں پانی لے کرآو تٔاکہ ميں نمازکے لئے وضوکروں‪،‬محمدپانی لے کرآئے اور امام)عليھ‬ ‫السالم( نے دائيں ہاتھ سے بائيں ہاتھ پرپانی ڈاالاوريہ دعاپﮍھی‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫بسم اللھوباللھوالحمد‬ ‫الذی جعل الماء طہوراًولم يجعلہ نجساً۔‬ ‫اس کے بعدامام)عليھ السالم( نے اسنتجاکيا اوريہ دعاپﮍھی‪:‬‬ ‫اللّہم حصّن فرجی َواَ ِعفّہ ‪َ ،‬واسترعورتی َوحرّمنی علی النّار‪.‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اس کے بعد)تين مرتبہ کلی کی (اوريہ دعاپﮍھی‪:‬‬ ‫اللّہم لقّنی ُحجّتی يوم اَ ْلقاک واطلق لسانی بذکراک واجعلنی ممن ترضی عنہ۔‬ ‫اس کے بعد ناک ميں پانی ڈاال اورپروردگارسے عرض کيا‪:‬‬ ‫اللّہم التحرّم عل ّی ريح الجنّة َواجْ علنی م ّمن يش ّم ريحہاوروحہاوطيبہا۔‬ ‫اس کے بعدچہره دھويااوريہ دعاپﮍھی‪:‬‬ ‫اللّہم بيّض وجہی يوم تسو ّدفيہ الوجوه والتسوّدوجہی يوم تبيضّ فيہ الوجوه‪.‬‬ ‫اس کے بعد داہناہاتھ دھوتے وقت يہ دعاپﮍھی‪:‬‬ ‫اللّہم اعطنی کتابی بيمينی والخلد فی الجنان بيساری وحاسبنی حساباًيسيرا‪ً.‬‬ ‫بائيں ہاتھ کودھوتے وقت يہ دعاپﮍھی‪:‬‬ ‫الی عنقی واعوذبک)ربی( من مقطعات النيران‪.‬‬ ‫اللّہم التعطنی کتابی بيساری والتجعلہامغلولة ٰ‬ ‫سرکامسح کرتے وقت بارگاه خداوندی ميں عرض کيا‪:‬‬ ‫اللّہم غشنی برحمتک وبرکاتک وعفوک‪ .‬دو‬ ‫نوں پيرکامسح کرتے وقت يہ دعاء پﮍھی‪:‬‬ ‫اللّہم ثبت نی ٰ‬ ‫ّ‬ ‫علی الصراط يوم تزل فيہ االقدام‪،‬واجعل سعيی فيمايرضيک عنی)ياذوالجالل واالکرام)‪.‬‬ ‫ضاَبمثل َماتوض ُ‬ ‫جب وضوسے فارغ ہوئے توسربلندکرکے“محمدابن حنفيہ ”سے مخاطب ہوکرارشادفرمايا‪ :‬يامحمد !من تو ّ‬ ‫ّات‬ ‫َوقا َل مثل ماقُ ُ‬ ‫لت خلق ﷲ من ک ّل قطرة ملکاًيقدسہ ويسبحہ ويکبّره ويہللہ ويکتب لہ ثواب مثل ٰذلک‪.‬‬ ‫اے محمد!جوشخص ميری طرح وضوکرے اوروضوکرتے وقت ميری طرح ان اذکار کو زبان پرجاری کرے خداوندمتعال‬ ‫اس کے آب وضوکے ہرقطرے سے ايک فرشتہ خلق کرتا ہے تسبيح ( وتقديساورتکبيرکہتارہتاہے اوراسکے لئے قيامت تک‬ ‫اس کاثواب لکھتا رہتا ہے) ‪ ١‬زراره سے مروی ہے امام محمدباقرفرماتے ہيں‪:‬جب تم اپنے ہاتھ کوپانی ميں قرارديں توکہيں‪:‬‬ ‫“بسم اللھوبا اجعلنی من التّوابين واجعلنی من المطہّرين”اورجب وضو سے فارغ ( ہوجاو تٔو“الحمد ٰ ّ ربّ العالمين”کہيں۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪/ ۴٢‬حديث ‪) ٨۴‬‬ ‫‪(__________٢ .‬تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪( ٧۶‬‬

‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬من توضا فٔذکر اسم اللھطہرجميع جسده وکان الوضوء ( الی الوضوء کفّارة لمابينہما من الذنوب‬ ‫ومن لم يسم لم يطہرمن جسده ّاال ما اصابہ الماء‪ ١ ).‬اگر کوئی شخص وضو کرے اور خداکا نام زبان پر جاری کرے تو اس کا‬ ‫پورا جسم طيب وطاہر ہوجاتا ہے اور ہر وضو بعدوالی وضو کے انجام دينے تک ان گناہوں کا کفاره ہوتاہے جو دونوں‬ ‫وضوکے درميان سرزد ہوئے ہيں اوراگرنام خدازبان پرجاری نہيں کرتاہے تواس کے بدن کا وہی حصّہ پاک ہوتاہے جسپروه‬ ‫پانی ڈالتاہے۔‬ ‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ۵٠‬‬ ‫‪٣‬۔ گٹوں تک دونوں ہاتھ دھونا‬ ‫اگرانسان نيندسے بيدارہونے ‪ ،‬يااسنتجاکرنے کے بعدوضوکرے تومستحب ہے پہلے ايک مرتبہ دونوں ہاتھوں کوگٹوں تک‬ ‫دھوئے اوراگرپاخانہ سے فارغ ہونے کے بعدوضوکرے تودومرتبہ دھوئے اوراگرمجنب ہونے کے بعدوضوکرتاہے توتين‬ ‫مرتبہ ہاتھوں کودھوئے‬ ‫عبدﷲ ابن علی حلبی سے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق پوچھا‪:‬اس سے پہلے کہ انسان وضوکے لئے برت ن ہاتھ ڈالے‬ ‫اسے اپنے دائيں ہاتھ کوکت نی مرت��ہ دھوناچاہئے ؟امام )عليھ السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫( واحدة من حدث البول واثنتان من حدث الغائط وثالث من الجنابة‪ ١ ).‬اگرپيشاب کے بعدوضوکرے توايک مرتبہ حدث مرتبہ‬ ‫‪،‬پاخانہ کے بعددومرتبہ اوراگرجنابت کے وضوکرے توتين مرتبہ دھوئے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬استبصار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ۵٠‬۔تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٣۶‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪۴‬۔ تين مرتبہ کلی کرنااورناک ميں پانی ڈالنا‬ ‫دونوں ہاتھوں کوگٹوں تک دھونے کے بعدمستحب ہے کہ تين مرتبہ کلی کی جائے اس کے تين مرتبہ ناک ميں پانی‬ ‫ڈاالجائے ‪،‬اگرکوئی شخص وضوميں کلی کرناياناک ميں ڈالنابھول جائے توکوئی حرج نہيں ہے‬ ‫عن ابی جعفروابی عبدﷲ عليہم السالم انہماقاال‪:‬المضمضة واالست نشاق ليسامن ( الوضوء النّہمامن الجوف‪١ ).‬‬ ‫امام محمدباقر فرماتے ہيں‪:‬کلی کرنااورناک ميں پانی ڈالنا)واجبات (وضوميں سے نہيں ہيں کيونکہ دودونوں باطن وضوميں‬ ‫محسوب ہوتے ہيں اوراعضائے وضوظاہرہوتے ہيں۔ ‪)١ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢٨٧‬‬ ‫‪۵‬۔ چہره اورہاتھوں پردوسری مرتبہ پانی ڈالنا‬ ‫واجب ہے کہ چہره اورہاتھوں پرايک مرتبہ پانی ڈاالجائے اوردوسری مرتبہ مستحب ہے ليکن تيسری مرتبہ پانی ڈالناحرام‬ ‫وبدعت ہے‬ ‫ّ‬ ‫السالم‪:‬ان ﷲ تعالی وت ٌر يحب الوتر فقديجزيک من الوضوء ثالث غرفات ‪ :‬واحدة للوجہ ‪ ،‬واثنتان للذراعين ‪،‬‬ ‫قال ابوجعفرعليہ‬ ‫وتمسح ببلة يمناک ناصيتک ومابقی من بلة يمناک ظہرالقدمک ( اليمنی ‪ ،‬وتمسح ببلة يسراک ظہرقدمک اليسری ‪١ ).‬‬ ‫امام محمدباقر فرماتے ہيں‪:‬خدايکتاويگانہ ہے اوريکتائی کوپسندکرتاہے ل ٰہذاوضوميں تمھارے لئے تين چلوپانی کافی ہے ‪،‬ايک‬ ‫چلوچہره کے لئے ‪،‬ايک دائيں ہاتھ اورايک بائيں ہاتھ کے لئے ‪،‬اب وه تری جوتمھارے دائيں ہاتھ ميں ہے اس سے سرکے‬ ‫اگلے حصہ کامسح کريں‪،‬اس بعدجوتری دائيں باقی ره گئی ہے اس سے دائيں پيرکامسح کريں اوروه تری جوتمھارے بائيں‬ ‫ہاتھ پرلگی ہے اس کے ذريعہ بائيں پيرپرمسح کريں۔‬ ‫( عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬الوضوء واحدة فرض ‪ ،‬واثنتان اليوجر ‪ ،‬والثالث بدعة‪ ٢ ).‬امام صادق فرماتے‬ ‫ہيں‪:‬وضوميں)چہره وہاتھوں کا( ايک مرتبہ دھوناواجب ہے اوردوسری دھونے ميں کوئی اجرنہيں ملتاہے ليکن تيسری مرتبہ‬ ‫دھونابدعت ہے‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪)١ . ( ۴٠١‬کافی ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ٢۵‬۔تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٣۶٠‬‬

‫شديدتقيہ کی صورت ميں جبکہ جان ‪،‬مال ‪،‬عزت وآبروکاخطره ہوتو تين مرتبہ دھوناجائزہے بلکہ واجب ہے اسی طرح‬ ‫دونوں پيروں کادھوناواجب ہے‬ ‫رويات ميں آياہے کہ علی ابن يقطين نے امام علی ابن موسی الرضا کے پاس ايک خط لکھاکہ اصحاب کے درميان پيروں‬ ‫کے مسح کرنے کے بارے ميں اختالف پاياجاتاہے ‪،‬ميں آپ سے التجاکرتاہوں کہ آپ ايک خط اپنے ہاتھ سے تحريرکيجئے‬ ‫اوراس ميں مجھے بتائيں کہ ميں کس طرح وضوکروں؟امام )عليھ السالم(نے علی ابن بقطين کوخط کے جواب ميں‬ ‫تحريرکيااورلکھا کہ ميں سمجھ گياہوں ميں کہ اصحاب وضوکے بارے ميں اختالف رکھتے ہيں ل ٰہذاميں تمھيں جو حکم دے‬ ‫رہاہوں تم اسی طرح کرنااوروه حکم يہ ہے کہ تم اس طرح وضوکرو‪:‬‬ ‫تمضمض ثالثا ‪ ،‬وتست نشق ثالثا ‪ ،‬وتغسل وجہک ثالثا ‪ ،‬تخلل شعرلحيتک وتغسل يديک الی المرفقيہ ثالثا ‪ ،‬ومسح راسک کلہ‬ ‫‪ ،‬وتمسح ظاہراذنيک وباطنہما ‪ ،‬وتغسل رجليک الی الکعبين ثالثا ‪ ،‬والتخالف ذلک الی غيره‬ ‫اے علی ابن يقطين !تين مرتبہ کلی کرو ‪،‬تين مرتبہ ناک ميں پانی ڈالو ‪ ،‬تين مرتبہ چہره دھوو ‪ ٔ،‬اورپانی کواپنی ڈاڑھی کے‬ ‫بالوں کوجﮍوں تک پہنچاؤاور تين مرتبہ ہاتھوں کوکہنيوں تک دھوو ‪ ٔ،‬پورے سرکااس طرح مسح کرو کہ کانوں‬ ‫پردونونطرف ظاہری وباطنی حصہ پرہاتھ پھيرو ‪ ،‬اور اپنے دونوں پيروں کوٹخنوں تک تين مرتبہ دھوو ‪ٔ،‬اوراپنے‬ ‫وضوکودوسروں کے وضوسے فرق ميں نہ رکھواوريادرکھو!اس حکم کے خالف نہ کرنا‪.‬‬ ‫جب يہ خط علی ابن يقطين کے پاس پہنچاتواسے پﮍھ کربہت تعجب کياکہ يہ بالکل شيعوں خالف حکم دياہے ‪،‬ل ٰہذادل ميں‬ ‫سوچا‪:‬ميرے امام بہترجانتے ہيں اورحاالت سے وافق ہيں لہٰذااس کے بعدعلی ابن يقطين امام )عليھ السالم(کے فرمان کے‬ ‫مطابق وضوکرنے لگے ہارون رشيدپاس يہ خبرپہنچی کہ علی ابن يقطين رافضی ہے اوروه تيرامخالف ہے ‪،‬ہارون رشيدنے‬ ‫اپنے ايک خواص سے کہا‪:‬تم علی ابن يقطين کے بارے ميں بہت باتيں بناتے ہواوراس پر رافضی ہونے کی تہمت لگاتے ہو‬ ‫جبکہ ميں اس کی ديکھ بھال کرتاہوں‪،‬ميں چندمرتبہ اس کاامتحان لے چکاہوں‪،‬يہ تہمت جوتم اس پرلگارہے ہوميں نے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ايسابالکل نہيں ديکھاہے ‪،‬ميں اسے وضوکرتے ہونئے ديکھتاہوں‪،‬جھوٹاہے وه شخص جويہ کہتاہے کہ علی ابن يقطين‬ ‫رافضی ہے اگرامام رضا علی ابن يقطين کواس طرح وضوکرنے کاحکم نہ ديتے توہارون رشيدکومعلوم ہوجاتاکہ يہ شخص‬ ‫رافضی ہے اورفوراًقتل کراديتا‬ ‫جب علی يقطين کے بارے ميں ہارون رشيد کے نزديک صفائی ہوگئی تو علی ابن يقطين نے دوباره امام )عليھ السالم(کے‬ ‫پاس خط لکھااوروضوکاطريقہ معلوم کياتوامام )عليھ السالم(نے لکھا‪:‬تم اس طرح وضوکروجسطرح خدانے وضوکرنے‬ ‫کاحکم دياہے يعنی‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫اغسل وجہک مرة فريضة ‪،‬‬ ‫واخری اسباغا ‪ ،‬واغتسل يديک من المرفقين کذلک وامسح بمقدم راسک وظاہرقدميک من فضل‬ ‫نداوة وضوئک فقدزال ماکنانخاف عليک والسالم ‪ .‬اے علی ابن يقطين!چہره کوايک مرتبہ واجبی طورسے دھوو ‪ ٔ،‬اوردوسری‬ ‫مرتبہ اسباغی و تکميل کی نظرسے ‪ ،‬اپنے دونوں ہاتھوں کہنيوں سے انگليوں کے پوروں تک دھوو أوراسی آب وضوکی‬ ‫تری سے سرکے اگلے حصہ کااورپيروں کے اوپری حصہ کامسح کرو‪،‬جس چيزکاہميں ( خوف تھاوه وقت تمھارے سرسے‬ ‫گذرگياہے والسالم عليکم ۔) ‪١‬‬ ‫‪6‬۔ آنکھوں کوکھولے رکھنا‬ ‫مستحب ہے کہ چہره دھوتے وقت آنکھوں کوبندنہ کريں بلکہ کھولے رکھيں ليکن آنکھوں کے اندرپانی کاپہنچاناواجب نہيں‬ ‫ہے اورآنکھوں کے کھلے ر’ہنے وجہ اس طرح بيان کی گئی ہے ‪:‬‬ ‫( قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬افتحواعيونکم عندالوضوء لعلہاالتری نارجہنم ‪ ٢ ).‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليھ و آلھ(فرماتے‬ ‫ہيں ‪:‬وضوکرنے وقت اپنی آنکھوں کوکھولے رکھواس لئے تاکہ تم نارجہنم کونہ ديکھ پاو ۔ٔ‬ ‫‪٧‬۔ عورت ہاتھوں کے دھونے ميں اندرکی طرف اورمردکہنی پرپانی ڈالے‬ ‫مردکے لئے مستحب ہے کہ دائيں اوربائيں ہاتھ کودھونے کے لئے جب پالی مرتبہ پانی ڈالے کہنی کی طرف پانی ڈالے‬ ‫اورجب دوسری مرتبہ پانی ڈالے تواندرکی طرف ڈالے اورعورت کے لئے مستحب ہے وه مردکے برخالف کرے يعنی جب‬ ‫پہلی مرتبہ اندرکی طرف پانی ڈالے اوردوسری مرتبہ باہرکی طرف ۔‬ ‫عن ابی الحسن الرضاعليہ السالم قال‪:‬فرض ﷲ علی النساء فی الوضوء للصالة ان ( يبتدئن بباطن اذرعہن وفی الرجل‬ ‫بظاہرالذراع ‪٣ ).‬‬ ‫جب عورت نمازکے لئے وضوکرے تواس کے لئے مستحب ہے کہ اپنی کہنی اندرکی طرف سے پانی ڈالے اورمردکے لئے‬ ‫مستحب ہے کہ ہاتھ باہری حصہ پرپانی ڈالے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ۵٠‬ارشاد)شيخ مفيد(‪/‬ص ‪)٣ . ) ٣١۴‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪ ٢٩‬۔تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٧٧‬‬

‫‪٨‬۔ چہرے پرخوف خداکے آثارنماياں ہونا‬ ‫مستحب ہے کہ انسان اپنے چہرے پرخوف خداکے آثارنماياں کرے ( کان اميرالمومنين عليہ السالم اذااخذت الوضوء‬ ‫تعالی) ‪ ١‬جس وقت امير المومنين حضرت علی وضوکرتے تھے ‪ ،‬خوف خداميں آپ کے چہرے کا‬ ‫يتغيّروجہہ من خيفة ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫رنگ متغيرہوجاتا تھا۔‬ ‫ٰ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ْ‬ ‫ﱞ‬ ‫علی ذی‬ ‫کان حسين بن علی عليہماالسالم ‪:‬اذااخذت الوضوء يتغيرلونہ ‪،‬فقيل لہُ فی ذلک ( ؟فقال‪:‬حق َمن ارا َدان يدخ َل ٰ‬ ‫ال َعرْ ِشيتغيّرلہُ‪٢ ).‬‬ ‫حضرت امام حسين کے بارے ميں روايت نقل ہوئی ہے کہ ‪ :‬جب بھی آپ وضو کرتے تھے تو پورابدن کانپ چاتاتھا اور‬ ‫چہرے کا رنگ متغير ہو جاتا تھا ‪ ،‬جب لوگ آپ سے اس کی وجہ معلوم کرتے تھے تو امام)عليه السالم( فرماتے تھے ‪ ،‬حق‬ ‫يہی ہے کہ جسوقت بنده ٔمومن خدا ئے قہّا ر کی بار گاه ميں قيام کرے تو اس کے چہرے کا رنگ متغيّر ہو جائے اور اس‬ ‫کے جسم ميں لرزاں پيدا ہو نا چاہئے ۔‬ ‫( کان الحسن )ع(اذافرغ من وضوئہ يتغير) ‪٣‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫امام حسنجب وضوسے فارغ ہوتے تھے توآپ کے چہرے کارنگ متغيرہوتاتھا۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪) ١ .‬عدة الداعی ‪/‬ص ‪ ١٣٨‬۔بحاراالنواپر‪/‬ج ‪/ ٨٠‬ص ‪ (٢ . ) ٣۴٧‬الخصائص الحسينيّہ‪/‬ص ‪)٣ . ( ٢٣‬ميزان الحکمة ‪/‬ج ‪/٢‬ح ‪) ١٠۶٠٨‬‬

‫‪٩‬۔ رحمت خداسے قريب ہونے اوراس مناجات کرنے کا اراده کرنا‬ ‫ّ‬ ‫اللھفان ﷲ تعالی قدجعل الماء مفتاح قربتہ‬ ‫قال الصادق عليہ السالم ‪:‬اذااردت الطھارة واالوضوء فتقدم الی الماء تقدمک الی رحمة‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫العبادفکذلک نجاسات الطاہرة يطہرالماء الغيرفطہرقلبک بالتقوی‬ ‫ودليالالی بساط خدمتہ وکماان رحمتہ تطہرذنوب‬ ‫ومناجاتہ‬ ‫واليقين عندطہارة ( جوارحک۔) ‪١‬‬ ‫حضرت امام صادق فرما تے ہيں ‪ :‬جب آپ وضو وطہارت کا اراده کر يں تو يہ سو چ کر پانی کی طرف قدم بﮍ ھا ئيں کہ‬ ‫رحمت خدا سے قريب ہورہے ہيں کيو نکہ پانی مجھ سے تقرب ومنا جا ت حاصل کر نے کی کنجی ہے اور ميرے آ ستا نے‬ ‫ٰ‬ ‫تقوی ويقين سے پاک کرليا کر يں ‪ ١٠‬۔‬ ‫پر پہنچنے کے لئے ہدايت ہے ل ٰہذا اپنے بد ن وا عضا ء کو دھوتے وقت اپنے قلب کو‬ ‫پانی ميں صرفہ جوئی کرنا‬ ‫سوال يہ ہے کہ جب ہم پاک صاف ہوکر ﷲ کی بندگی کرتے ہيں توخداہماری دعاؤں کومستجاب کيوں نہيں کرتاہے‬ ‫؟اکثرمومنين جب وضوکرتے ہيں توپانی کابہت زياده اسراف کرتے ہيں اوردين اسالم ميں اسراف کرنے کوسختی سے منع‬ ‫کياگياہے اورنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(اسراف کومدنظر رکھتے تھے اوروضوميں اس مقدارميں پانی خرچ کرتے تھے‪:‬‬ ‫عن ابی بصيرقال‪:‬سئلت اباعبدﷲ عليہ السالم عن الوضوء فقال‪:‬کان رسول ﷲ صلی ﷲ ( عليہ وآلہ وسلم يتوضا ِٔبمد من ما ٍء‬ ‫بصاع‪٢ ).‬‬ ‫ويغتسل‬ ‫ٍ‬ ‫ابوبصيرسے مروی ہے ‪:‬ميں نے امام صادق سے آب وضوکی مقدارکے بارے پوچھاتوامام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(ايک م ّد‪،‬پانی سے وضوکرتے اورايک صاع پانی سے غسل کرتے تھے ‪ ،‬مديعنی تين‬ ‫چلّوپانی ‪،‬صاع ‪،‬يعنی تين کلوپانی‪ ،‬پس آنحضرتوضوميں ايک چلّوپانی چہرے پراورايک داہنے پراورايک بائيں ہاتھ پرڈالتے‬ ‫تھے اورغسل ميں تين کلوپانی استعمال کرتے تھے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬استبصار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ١٢١‬۔تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ١٣۶‬مصباح الشريعة‪/‬ص ‪) ١٢٨‬‬

‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪ :‬الوضوء مد ‪ ،‬والغسل صاع وسياتی اقوام بعدی ( يستقلون ذلک ) ‪١‬‬ ‫رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله( فرماتے ہيں ‪ :‬وضوکرنے کے لئے دس سير اور غسل کرنے کے لئے تين کلو پانی کافی ہے‬ ‫ليکن آئنده ايسے بھی لو گ پيدا ہونگے جو اس مقدا ر کو غير کا فی سمجھيں گے) اور صرفہ جوئی کے بد لے اسراف کريں‬ ‫گے ( اور وه لوگ ميری روش اور سيرت کے خالف عمل کريں گے ۔‬ ‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪  ) ٣۴‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫وضو کے آثار وفوائد‬ ‫ُ‬ ‫ً‬ ‫ّ‬ ‫رويناعن علی ‪ ،‬عن رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ سلم انہ قال‪ :‬يحشره ﷲ ا ّمتی يوم ( القيامة بين االمم ‪ ،‬غ ّرا ُمحجّلين ِمن‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫آثارالوضوء‪٢ ).‬‬ ‫حضرت عليسے مروی ہے کہ پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬خداوندعالم روزقيامت ميری امت کودوسری‬ ‫امتوں کے درميان اس طرح محشورکرے گاکہ ميری امت کے چہروں پروضوکے آثارنماياں ہونگے اورنورانی چہروں کے‬ ‫ساتھ واردمحشرہونگے۔ ‪) ٢ .‬دعائم االسالم ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ١٠٠‬‬ ‫حضرت امام باقر فرماتے ہيں ‪ :‬ايک روز نمازصبح کے بعدسيدالمرسلين حضرت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(اپنے‬ ‫اصحاب سے گفتگو کر رہے تھے‪ ،‬طلو ع آفتاب کے بعد تمام اصحاب يکے بعد اٹھ کراپنے گھرجاتے رہے ليکن دو شخص‬ ‫)انصاری وثقفی(آنحضرت کے پاس بيٹھے ره گئے ‪ ،‬پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے ان دونوں سے مخاطب ہو کر‬ ‫فرمايا ‪ :‬ميں جانتاہوں تم مجھ سے کچھ سوال کرنا چاہتے ہيں ‪ ،‬اگرتم چاہو تو ميں دونوں کی حاجتوں کوبيان کرسکتا ہوں کہ‬ ‫تم کس کام کے لئے ٹھہرے ہوئے ہواوراگرتم چاہوتوخودہی بيان کرو ‪ ،‬دونوں نے نہايت انکساری سے کہا‪ :‬يارسول ﷲ ! آپ‬ ‫ہی بيان کيجئے ‪ .‬آنحضرت نے انصاری سے کہا‪:‬تمھاری منزل نزديک ہے اورثقفی بدوی ہے ‪،‬انھيں بہت جلدی ہے اورکوئی‬ ‫ضروری کام ہے ل ٰہذپہلے ان کے مسئلہ کاجواب دے دوں اورتمھارے سوال کاجواب دوں گا‪،‬انصاری کہا‪:‬بہت اچھا‪،‬پس‬ ‫آنحضرت نے فرمايا ‪ :‬اے بھائی ثقفی ! تم مجھ سے اپنے وضوونمازاوران کے ثواب کے بارے ميں مطلع ہوناچاہتے ہوتو‬ ‫جان لو‪:‬‬ ‫جب تم وضوکے لئے پانی ميں ہاتھ ڈالتے ہواور“بسم ﷲ الرحمن الرحيم ”کہتے ہوتوتمھارے اپنے ان ہاتھوں کے ذريعہ انجام‬ ‫دئے گئے تمام گناه معاف ہوجاتے ہيں اورجب اپنے چہرے کودھوتے ہوتوجوگناه تم نے اپنی ان دونوں انکھوں کی نظروں‬ ‫سے اوراورمنھ کے ذريعہ بولنے سے انجام دئے ہيں سب معاف ہوجاتے ہيں اورجب اپنے دونوں ہاتھوں کودھوتے ہوتووه‬ ‫گناه جوتمھارے اپنے دائيں وبائيں پہلوسے سرزدہوئے ہيں معاف ہوجاتے ہيں اورجب تم اپنے سروپاو ٔں کامسح کرتے‬ ‫ہوتووه تمام گناه کہ جن طرف تم اپنے ان پيروں کے ذريعہ گئے ہوسب ( معاف ہوجاتے ہيں‪،‬يہ تھاتمھارے وضوکاثواب‬ ‫‪،‬اسکے بعدآنحضرت نے نمازکے ثواب کاذکرکيا۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٢٠٢‬‬

‫قال اميرالمومنين عليہ السالم البی ذر‪:‬اذانزل بک امر عظيم فی دين او دنيا فتوضا وارفع ( يديک وقل ‪:‬ياﷲ سبع مرّات فانّہ‬ ‫يستجاب لک۔) ‪ ٢‬حضرت علی نے ابوذر غفاری سے فرمايا ‪ :‬جب بھی تمھيں دينی يا دنياوی امور ميں کوئی مشکل پيش آئے‬ ‫تو وضو کرو اور درگاه ٰالہی ميں اپنے دونوں ہاتھو ں کو بلند کر کے سات مرتبہ“ يَا َﷲُ ” کہو! يقينًا خداوندعالم تمھاری‬ ‫دعامستجاب کرے گا۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪) ٢ .‬بحاراالنوار‪/ ٨٠ /‬ص ‪) ٣٢٨‬‬

‫گھرسے باوضو ہوکرمسجد جانے کاثواب‬ ‫عن النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم قال‪ّ :‬‬ ‫ان ﷲ َوع َد اَن يدخل الجنّة ثالثة نفربغيرحساب‪،‬ويشفع کل واحد منہم فی ثمانين‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫الفا‪:‬المؤذن‪،‬واالمام‪،‬ورجل يتوضا ٔث ّم دخل ( المسجد‪،‬فيصلی فی الجماعة) ‪١‬‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪ :‬پروردگارعالم کا وعده ہے کہ تين لوگوں کو بغير کسی حساب وکتاب کے‬ ‫بہشت ميں بھيجا جائے گا اور ان تينوں ميں سے ہر شخص‪ ٨٠ /‬ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا وه تين شخص يہ ہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔ مو ّٔذن ‪٢‬۔ امام جماعت ‪٣‬۔ جوشخص اپنے گھر سے با وضو ہو کر مسجدميں جاتاہے اور نماز کو جماعت کے ساتھ‬ ‫اداکرتاہے ۔‬ ‫فطوبی لمن تطہرث ّم زارنی وح ّ‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬مکتوب فی التوراة ّ‬ ‫ق علی الزور‬ ‫ان بيوتی فی االرض المساجد‪( ،‬‬ ‫ٰ‬ ‫اَن يکرم الزائر‪ ٣ ).‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬توريت ميں لکھاہے ‪:‬مساجدزمين پرميرے گھرہيں‪ ،‬خوشخبری ہے ان لوگوں کے‬ ‫لئےخوشبحال ہے جواپنے گھرميں وضوکرتے ہيں اس کے بعدمجھ سے مالقات کے ميرے گھرآئے ‪،‬مزورکاحق ہے کہ وه‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اپنے زائر کااحترام واکرام کرے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪ (٣ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ٣١٨‬مستدرک الوسائل‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪) ۴۴٩‬‬

‫کسی کو وضوکے لئے پانی دينے کاثواب‬ ‫حضرت صادق فرماتے ہيں ‪ :‬روزقيامت ايک ايسے شخص کو خدا کی بار گاه خداوندی ميں حاضرکياجائے گاکہ جس کے‬ ‫اعمال نامہ ميں کوئی نيکی نہ ہوگی اور اس نے دنيا ميں کو ئی کارخير انجا م نہيں ديا ہوگا ‪،‬اس سے پوچھاجائے گا ‪ :‬اے‬ ‫شخص ! ذرا سو چ کر بتا کيا تيرے دنياميں کوئی نيک کام انجام دياہے ؟ وه اپنے اعمال گذ شتہ پر غور وفکر سے نگاه ڈال‬ ‫کر عرض کرے گا ‪ :‬پرور دگار ا! مجھے اپنے اعمال ميں ايک چيز کے عالوه کوئی نيک کام نظرنہيں آتا ہے اوروه يہ ہے‬ ‫کہ ايک دن تيرافالں مومن بنده ميرے پاس سے گذررہاتھا ‪،‬اس نے وضوکے لئے مجھ سے پانی کاطلب کيا‪ ،‬ميں نے اسے‬ ‫ايک ظرف ميں پانی ديا اور اس نے وضو کرکے تيری نمازپﮍھی ‪ ،‬اس بنده کی يہ بات سن کرخدا وند عالم کہے گا‪:‬ميں‬ ‫تجھے تيرے اس نيک کام کی وجہ سے بخش ديتاہوں اورپھرفرشتوں کو حکم دے گاميرے اس بند ے کو بہشت ميں لے جاؤ‬ ‫( ۔) ‪١‬‬ ‫ہرنمازکے لئے جداگانہ وضو کرنے کاثواب‬ ‫ہرنمازکے __________لئے جداگانہ طورسے وضوکرنامستحب ہے اورہمارے رسول وآئمہ اطہار بھی ہرنمازکے لئے‬ ‫الگ وضوکرتے تھے جيساکہ روايت ميں آياہے‪ٕ :‬ا ّن النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪ :‬کان يجددالوضوء لکل فريضة ولکل صالة‬ ‫پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(تمام فريضہ ٰالہی اورنمازکوانجام کودينے کے لئے تجديد ( وضو کرتے تھے ۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪ (٢ ..‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ١ . ( ٣٩‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨٢‬ص ‪) ٢٠۶‬‬

‫عن علی عليہ السالم انّہ کان يتوضا ٔلک ّل صال ٍة ويقرء‪ “ :‬اذاقمتم الی الصالة ( فاغسلواوجوہکم” ) ‪١‬‬ ‫حضرت علی ہر نماز کے لئے جداگا نہ وضو کرتے تھے اورآيہ “ٔياايہاالذين آمنوا اذاقمتم الی الصالة فاغسلوا وجوہکم”کی‬ ‫تالوت کرتے تھے ۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٩٣‬‬ ‫ٌعلی نو ٌر ( رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪:‬الوضوء علی الوضوء نور ٰ‬ ‫علی نور” ہے۔ ) ‪۴‬‬ ‫وضو پر وضو کرنا “ نو ٌر ٰ‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬من ج ّددوضوئہ لغيرحدث ج ّددﷲ توبتہ من ( غيراستغفار‪۵ ).‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جوشخص نمازکے عالوه کسی دوسرے کام کے لئے تجديدوضوکرتا ہے خداوندمتعال استغفارکئے‬ ‫بغيرہی اسکی توبہ قبول کرليتاہے۔ ( قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪:‬من توضاعلی طہرکتب لہ عشرحسنات۔) ‪ ۶‬نبی‬ ‫اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪:‬جوشخص وضوپروضوکرے اس کے لئے دس لکھی جاتی ہيں۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪) ۴ .‬محجة البيضاء‪/‬ج ‪/١‬ص ‪(۶ . ) ٣٠٢‬وسائل الشيعہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)۵ . ( ٢۶۴‬ثواب االعمال وعقاب االعمال‪/‬ص ‪) ٣٨‬‬

‫حکايت کی گئی ہے کہ ايک مومن بنده ہميشہ باوضورہتاتھاجب وه اس دارفانی سے کوچ کرگياتوايک دوسرے مومن نے‬ ‫اسے خواب ميں ديکھاکہ اس کاچہره نورانی ہے اوربہشت کے باغات ميں سيرکررہاہے ‪ ،‬ميں نے اس سے معلوم کيا‪:‬اے‬ ‫بھائی! تم دنياميں ات نابﮍے متقی وپرہيزگارتونہيں تھے پھرتم دنياميں ايساکونسا کام کرتے تھے جس کی وجہ سے تجھ کويہ‬ ‫منزلت حاصل ہوئی اورتم يہ پر نورانيت کس طرح آئی؟اس نے جواب ديا‪:‬اے بھائی ! ميں دنياميں ہميشہ باوضورہتا تھاجس‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫کی وجہ سے خداوندمتعال نے ميرے ان اعضاء کونوربخشا‬ ‫‪-------‬‬‫( ال ُمتَطَہّ ِرين<) ‪ (١‬اورخداپاک رہنے والوں کودوست رکھتاہے‪٢ ).‬‬ ‫‪ (١ .‬نماز‪،‬حکايتہاوروايتہا‪)١ . ( ١۵ /‬سوره تٔوبة ‪/‬آيت ‪) ١٠٨‬‬

‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬يااَنس!اکثرمن __________الطہوريزيده اللھفی عمرک‪،‬وان استتطعت ان تکون بالليل‬ ‫ّ‬ ‫علی طہار ٍة شہيداً‪.‬وعنہ ( صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬من احدث ولم يتوضا فٔقد جفانی‪).‬‬ ‫والنہارعلی طہارة فافعل‪،‬فانّک تکون‬ ‫اذامت ٰ‬ ‫‪١‬‬ ‫پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرما تے ہيں ‪ :‬اے انس!اکثراوقات باوضو رہاکرو تاکہ خدا آپ کی عمرمينزيادتی کرے اور‬ ‫اگر ہوسکے تو دن اوررات وضو سے رہو کيونکہ اگر تمھيں وضوکی حالت ميں موت آگئی تو تمھاری موت شہيدکی موت‬ ‫ہوگی اورآنحضرتدوسری حديث مينفرماتے‬ ‫ہيں‪:‬اگر کسی شخص سے حدث صادرہوجائے اوروه وضونہ کرے توگويااس نے مجھ پرجفاکی۔ قال النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ‬ ‫تعالی‪:‬من احدث ولم يتوضا فٔقدجفانی ومن احدث ويتوضا ٔولم يص ّل رکعتين فقدجفانی ومن احدث ويتوضا ٔوص ّل‬ ‫وسلّم ‪:‬يقول ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫ُ‬ ‫جاف‪٢ ).‬‬ ‫ولست برب‬ ‫رکعتين ودعانی ولم اَجبہ ( فيماسئلنی من اَمردينہ ودنياه فقدجفوتہ‬ ‫ٍ‬ ‫حديت قدسی شريف ميں آيا ہے خدا وند متعال فرماتا ہے ‪:‬اگر کسی سے حدث صادرہوجائے اوروه وضونہ کرے توگويااس‬ ‫نے مجھ پرجفاکی اور اگرکسی کوحدث صادرہوجائے اوروضوبھی کرلے ليکن وه دورکعت نماز نہ پﮍھے تواس نے بھی‬ ‫مجھ پر جفا کی‪ ،‬اگرکسی کوحدث صادرہوجائے اوروه وضوبھی کرے اوردورکعت نمازبھی پﮍھے اس کے بعد مجھ سے‬ ‫کسی چيزکاسوال کرے اورميں اس کے سوال امر دين و دنيا کوپورانہ کروں تو گويااس شخص پرجفاکی اور ميں جفا کار پر‬ ‫ور دگار نہيں ہوں ۔‬ ‫‪)٢ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢۶٨‬‬ ‫کامل طورسے وضوکرنے کاثواب‬ ‫ً‬ ‫کامل طورسے وضوکرنے سے مرادکياہے اس چيزکوہم اسی موردکے فورا بعد ذکر کريں گے ليکن يہاں پرفقط کامل‬ ‫طورسے وضوکرنے کاثواب ذکرکررہے ہيں‬ ‫ٰ‬ ‫ّ‬ ‫موسی عليہ السالم ( قال‪:‬الہی َما َجزَاء َم ْن اَتَ ّم الوضوء ِم ْن‬ ‫عن ابی الحسن العسکری عليہ السالم قال‪:‬لما کلم ﷲ ع ّزوجل‬ ‫ٰ‬ ‫ِخ ْشيَتِک؟قال‪:‬اَ ْب َعثہ يوم القيامة ولہُ نورٌبين عينيہ يتال ٔال ‪ ١ )ٔ.‬امام حسن عسکری فرماتے ہيں ‪:‬جب)کوه طورپر( خداوندعالم‬ ‫موسی نے بارگاه ربّ العزت ميں عرض کی ‪ :‬پروردگار ا ! اگر کوئی تيرے خوف‬ ‫حضرت موسی سے ہمکالم ہواتوحضرت‬ ‫ٰ‬ ‫ميں مکمل طور سے وضوکر�� اسکا اجروثواب کياہے ؟ خداوند عالم نے فرمايا ‪ :‬روزقيامت اس کو قبرسے اس حال ميں‬ ‫بلند کروں گا کہ اس کی پيشانی سے نور ساطع ہوگا ۔‬ ‫فی الخبراذاطہرالعبديخرج ﷲ عنہ کل خبث ونجاسة ّ‬ ‫وان من توضافاحسن الوضوء خرج من ( ذنوبہ کيوم ولدتہ من امہ۔) ‪٢‬‬ ‫روايت ميں آياہے جب کوئی وضوکرتاہے توخداوندعالم اسے ہرنجاست وخباثت سے پاک کرديتاہے اورجوشخص مکمل‬ ‫طورسے وضوکرتاہے توخدااسے گناہوں سے اس طرح پاک کرديتاہے جيسے اس نے ابھی ماں کے پيٹ سے جنم لياہو۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬مستدرک الوسائل‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ١ . ( ٣۵٨‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٧٧‬ص ‪) ٣٠١‬‬

‫( قال النّبی صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلّم ‪ٰ :‬يااَنس اَسبغ الوضوء تمرﱡ علی الصراط مرٌالسحاب‪ ٢ ).‬رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله(‬ ‫فرماتے ہيں ‪ :‬اے انس ! وضو کومکمل اوراس کے تمام آداب شرائط کے ساتھ انجام دياکرو تا کہ تم تيز ر فتا ر با دل کے‬ ‫مانند پل صراط سے گزر سکو ۔ ‪)٢ .‬خصال)شيخ صدوق(‪/‬ص ‪) ١٨١‬‬ ‫آب وضوسے ايک يہودی لﮍکی شفاپاگئی‬ ‫مجتبی کی صاحبزادی تھيں‪،‬آپ‬ ‫جناب نفيسہ خاتون جوکہ اسحاق بن امام جعفرصادق کی زوجہ اورحسن بن زيد بن امام حسن‬ ‫ٰ‬ ‫ايک عظيم و با ايمان خاتو ن تھيں اور مدينہ ميں زندگی بسرکرتی تھيں‪،‬اس عظيم خاتون نے پورا قرآن مع التفسير حفظ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫کررکھاتھا ‪ ،‬دن ميں روزه رکھتی اور راتوں کو عبادت ومناجات کرتی تھيں‪،‬آپ تيس مرتبہ حج بيت ا للھسے مشرف ہوئيں‬ ‫اور غالبا ً سفرحج کو پيدل طے کرتی تھيں جبکہ آپ بہت زياده صاحب ثروت تھيں ليکن اپنے مال ودولت کوبيماروں‬ ‫وحاجتمندوں پرخرچ کرتی تھيں‬ ‫يحيی ”کہتی ہيں کہ ‪:‬ميں نے اپنی زندگی کے چاليسبرس اپنی پھو پھی کی خدمت ميں گذارے ہيں‪،‬‬ ‫آپ کی بھتيجی “زينب بنت‬ ‫ٰ‬ ‫اس مدت کے دوران ميں نے انھيں رات ميں کبھی سوتے ہوئے اور دن ميں کوئی چيز کھاتے ہوئے نہيں ديکھا ہے ‪،‬آپ رات‬ ‫ميں عبادت کرنے اور دنوں ميں روزه رکھنے کی وجہ سے بہت زياده کمزور ہوچکی تھيں ايک دن ميں ان سے کہا‪ :‬آپ اپنا‬ ‫عالج کيوں نہيں کرتی ہيں ؟ جواب ديا‪ :‬ميں اپنے نفس کا عالج کس طرح کروں ابھی تو راستہ بہت دشوار ہے اوراس راستہ‬ ‫سے فقط ناجی لوگ ہی گزرسکتے ہيں۔‬ ‫مجتبی( کے ہمراه حضرت ابراہيم کی قبر کی زيارت‬ ‫ايک سال جب جناب نفيسہ نے اپنے شوہر )حسن بن زيد بن امام حسن‬ ‫ٰ‬ ‫کے لئے فلسطين کا سفر کيا اورزيارت کے بعدسفرسے واپسی کے درميان مصرميں قيام کيا‬ ‫آپ کے ہمسايہ ميں ايک يہو دی رہتا تھاجس کے گھرميں ايک نابينا لﮍکی تھی ‪،‬ايک دن اس يہودی لﮍکی نے نفيسہ کے‬ ‫وضو کے پانی کو بعنوان تبرک اپنی آنکھوں پر ڈاال توفوراً شفاپاگئی جب اس خبرکومصرکے يہوديوں نے سناتو ان ميں سے‬ ‫اکثرنے دين اسالم قبول کيا اور وہاں کے اکثر لوگ آپ کے عقيدتمندہوگئے‪ ،‬جب آپ نے مدينہ واپس جا نے کا اراده کيا تو‬ ‫اہل مصرنے اصرارکيا کہ آپ يہيں پر قيام پذيرہوجائيں ‪،‬آپ نے ان کی درخواست کو منظور کر ليااوروہيں پرزندگی گذارنے‬ ‫لگيں ۔‬ ‫جناب نفيسہ نے مصرميں اپنے ہاتھوں سے ايک قبربنارکھی تھی اور سفر آخرت کا انتظا ر کرتی تھيں ‪ ،‬روزانہ اس قبر ميں‬ ‫داخل ہوتی اور کھﮍے ہوکر نماز پﮍ ھتی تھيں اور اسی قبرميں بيٹھ کر چھ ہزار مرتبہ اور ايک روايت کے مطابق ‪١٩٠‬‬ ‫‪/‬مرتبہ قرآن ختم کيا ہے اور آپ ماه رمضان المبارک ‪ ٢٠٨‬ئھ ميں‬ ‫( روزے کی حالت ميں قرآن کريم کی تالوت کرتے ہوئے داربقاء کی طرف کوچ کر گئيں۔) ‪١‬‬ ‫آب وضوسے درخت بھی پھلدارہوگيا‬ ‫جوادا آل ئمہ حضرت امام محمدتقی کی تاريخ حيات ميں لکھا ہے کہ ‪ :‬جس وقت آپ اپنے شيعوں کی ايک جماعت کے ہمراه‬ ‫بغدادسے مدينہ کا سفر طے کررہے تھے تو غروب آفتاب کے وقت کوفہ کے قريب پہنچے اورايک جگہ پرجس کا‬ ‫نام“دارمسيب”ہے قيام کيا اوروہاں کی مسجد ميں داخل ہوئے کہ مسجدکے صحن مسجد ميں ايک درخت تھا جس پرکوئی‬ ‫پھل نہيں لگتاتھا‬ ‫حضرت امام محمدتقی نے ايک برت ن ميں پانی طلب کيا اور اس درخت کے نيچے بيٹھ کر وضوکيا اور نمازمغرب کو اوّل‬ ‫وقت اداکيااورلوگوں نے آپ کی اقتداء ميں جماعت سے نمازپﮍھی ‪،‬امام )عليه السالم(نے پہلی رکعت ميں حمدکے بعد‬ ‫“اذاجاء نصرﷲ…” اور دوسری رکعت ميں حمدکے بعد“ قل ھوﷲ احد …” کی قرائت کی اورسالم نماز کے بعد ذکرخدا‬ ‫اور تسبيح ميں مشغول ہوگئے اس کے بعد چار رکعت نافلہ نمازپﮍھی اور تعقيبات نمازپﮍھ کر سجده شکر ادا کيا‪،‬اورنماز‬ ‫عشاکے لئے کھﮍے ہوگئے ‪،‬جب لوگ نمازودعاسے فارغ ہونے کے بعد اٹھ کرمسجد سے باہرآنے لگے اور صحن مسجد‬ ‫ميں پہنچے تو ديکھا کہ اس درخت پر پھل لگے ہوئے ہيں اس معجز ے کو ديکھ کر سب کے سب حيرت زده ہوگئے اور‬ ‫سب نے درخت سے پھل توڑکر کھاناشروع کيا تو ديکھا کہ ميوه بہت ہی زياد ه ميٹھا ہے اور اس کے اندر کوئی گٹھلی بھی‬ ‫نہيں ہے اس کے بعد امام محمدتقی )عليه السالم(اپنے ساتھيوں کے ہمراه مد ينہ کی طرف ( راوانہ ہوگئے ۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬سفينة البحار‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪ ۶٠۴‬۔ ثواب االعمال وعقاب االعمال‪/‬ص ‪) ٢ (. ) ٣۶‬ارشادشيخ مفيد‪/‬ص ‪) ۶٢٨‬باب ‪) ٢۵‬‬

‫راز تيمم‬ ‫اگروضوکے لئے پانی کاملناممکن نہ ہو‪،‬ياپانی تک رسائی نہ ہو‪،‬ياپانی کااستعمال مضرہو‪،‬ياکسی نفسکے لئے خطره ہوتوان‬ ‫صورتوں ميں وضوکے بجائے تيمم کرناواجب ہے قرآن کريم ارشادباری تعالی ہے‪:‬‬ ‫ضی اَوع َٰلی َسفَ ٍراَوْ َجا َء اَ َح ٌد ﱢم ْن ُک ْم ﱢمنَ ْالغَائِ ِط اَوْ َ ْ‬ ‫طيﱢبًافَا ْم َسحُوابِ ُوجُوْ ِہک ْمُ‬ ‫ص ِع ْيدًا َ‬ ‫< َواِ ْن ُک ْنتُ ْم ﱠمرْ ٰ‬ ‫ال َم ْستُ ْم النﱢ َسآ َء فَلَ ْم ت َِجدُوا َمآ ًء ( فَتَيَ ﱠم ُموا َ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫َواَ ْي ِد ْي ُک ْم ِم ْنہُ <) ‪ ١‬اگرتم مريض ہوياسفرکے عالم ہوياپاخانہ وغيره نکل آياہے ياعورتوں کوباہم لمس کياہے اورپانی نہ ملے‬ ‫توپاک مٹی سے تيمم کرلواوربھی اس طرح سے اپنے چہرے اورہاتھوں کامسح کرلو۔‬ ‫‪)١ .‬سوره ٔمائده ‪/‬آيت ‪) ۶‬‬ ‫اس آيہ مبارک ميں تيمم کاطريقہ يہ بيان کياگياہے کہ تيمم کی نيت کرکے دونوں ہاتھوں کوگرد‪،‬خاک ‪،‬ريت‪،‬ڈھيلے‬ ‫‪،‬پتھرپرماريں اوراس کے بعددونوں ہاتھ کی ہتھيليوں کوپوری پيشانی اوراس دونونطرف جہاں سے سرکے بال اگتے‬ ‫ہيں‪،‬ابرووں تک اورناک اوپرتک پھيريں‪،‬اس کے بعددائيں ہاتھ کی ہتھيلی کوبائيں ہاتھ کی پشت پرگٹے سے انگليوں کے‬ ‫سرے تک پھيريں‪،‬اس کے بعداسی طرح بائيں ہاتھ کی ہتھيلی کودائيں ہاتھ کی پشت پرپھيريں۔ جسچيزپرتيمم کياجائے اس‬ ‫کاپاک ہوناضروری ہے کيونکہ خداوندعالم نے آيہ ٔمبارکہ ميں “صعيداًطيبا ً” کہاہے‬ ‫رازتيمم يہ ہے کہ‪:‬جب آپ کووضوکے لئے پانی دستياب نہ ہوسکے توخاک کوجوکہ پست ترين پديده ٔجہان ہے اپنے ہاتھ‬ ‫اورچہرے پر مليں تاکہ آپ کے اندرسے غروروتکبّراورشہوت نفسانی اورشيطانی خواہشيں دور ہوجائيں اورشايدخداکوآپ‬ ‫کی اس تواضع وخاکساری پررحم آجائے اورراه راست کی ہدايت کردے۔‬ ‫خداوندعالم نے آب وخاک کوطہارت کاذريعہ کيوں قراردياہے اوران دونوں کووسيلہ ٔ‬ ‫طہارت قراردينے کی کياوجہ کياہے؟‬ ‫کشف االسرارميں اسحکم خداکی دو حکمت اس طرح بيان کی ہيں‪١ :‬۔ خداوندعالم نے انسان کو پانی اور مٹّی سے پيدا کيا ہے‬ ‫‪،‬ان دونوں نعمتوں پرخداکاشکر کرناچاہئے اسی لئے آب وخاک کوطہارت کاذريعہ قراردياہے تاکہ ہم اس مطلب کو ہميشہ ياد‬ ‫رکھيں اور ان دونوں نعمتوں کوديکھ کرخداکا شکرخدا کريں ‪٢‬۔ دوسری حکمت اس طرح بيان کی جاتی ہے‪ :‬خداوندعالم نے‬ ‫آب وخاک کو طہارت کا ذريعہ اس لئے قرارديا ہے کہ انسان اس کے ذريعہ دنياوی آگ )آتش شہوت( اور آخرت کی آگ‬ ‫)نارجہنم وعقوبت(کو خاموش کرسکے کيونکہ مومن کے لئے دوآگ درپيش ہيں ‪١ :‬۔دنياوی آگ جسے شہوت نفسانی کی آگ‬ ‫کہاجاتاہے ‪٢‬۔ آخرت کی آگ جسے نارعقوبت و جہنم کہاجاتاہے ( اورانسان آب وخاک کے ذريعہ دنيوی اوراخروی آگ‬ ‫کوخاموش کرسکتاہے۔) ‪١‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬کشف االسرار‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪ ۴٩‬۔ ‪) ۵٠‬‬

‫امام محمدباقر فرماتے ہيں‪:‬سرکے بعض اورپيروں کے بھی بعض حصے کے مسح کرنے کی سب سے بﮍی دليل يہ ہے کہ‬ ‫خداوندعالم نے آيہ مبارکہ پانی نہ ملنے کی صورت ميں دھونے کے وجوب کوساقط کرديااوراسکے بدلے ميں کرناواجب‬ ‫کرديااورفرمايا‪“ :‬فامسحوابوجوہکم” يعنی اپنے چہرے کامسح کرواوراس کے بعدفرمايا‪“:‬وايديکم”يعنی اپنے ہاتھوں کابھی‬ ‫مسح کرو‪،‬ہاتھوں کے مسح کرنے کوچہرے کے مسح کرنے عطف کيااوراس کے بعد“منہ” فرمايا‪:‬يعنی پانی نہ ملنے کی‬ ‫صورت ميں خاک پاک پرتيمم کرواوراپنے چہرے اورہاتھوں پرتھوڑی سی خاک ملو‬ ‫اب يہ جوکہاجاتاہے کہ چہرے اورہاتھوں پرتھوڑی سی خاک ملواس کی وجہ يہ ہے کہ خداوندعالم جانتاہے کہ پورے چہرے‬ ‫پرخاک نہيں ملی جاتی ہے کيونکہ جب ہاتھوں کوخاک پرمارتے ہيں توتھوڑی سی خاک ہاتھوں پرلگ جاتی ہے اوربقيہ‬ ‫تواپنی جگہ پررہتی ہے اورہاتھوں پرنہيں لگتی ہے ل ٰہذاجب ہاتھوں چہرے پرملتے ہيں تواس ميں سے کچھ خاک چہرے‬ ‫ج>‬ ‫پرلگ جاتی ہے نہ کہ پوری خاک‪ ،‬اس کے بعدخداوندعالم ارشادفرماتاہے‪َ < :‬ماي ُِر ْي ُدﷲَ لِيَجْ َع َل َعلَ ْي ُک ْم ِم ْن َح َر ٍ‬ ‫خداوندعالم تمھيں کسی مشکل ميں نہيں ڈالناچاہتاہے ۔ ‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٣٠‬‬ ‫رازوجوب ستر‬ ‫مردکے لئے واجب ہے کہ نمازکی حالت ميں اپنی شرمگاه ) آگے پيچھے کاحصے(کو چھپائے چاہے اسے کوئی ديکھ‬ ‫رہاہويانہ‪ ،‬اوربہترہے کہ ناف سے زانوتک چھپائے ۔ عورت کے لئے واجب ہے کہ نمازکی حالت ميں اپنے پورے بدن‬ ‫کوچھپائے يہاں تک کہ اپنے بال اورسرکوبھی چھپائے ‪،‬صرف چہره اورگٹوں تک ہاتھ پاؤں کھلے ره سکتے ہيں ليکن يہ‬ ‫يقين کرنے کے لئے کہ مقدارواجب کوچھپالياگياہے تھوڑاساچہرے کے اطراف اورگٹوں سے نيچے کوبھی چھپائے ۔‬ ‫جب ہم کسی کی مہمانی ميں جاتے ہيں توعقلمنداورصاحب عفت انسان کی عقل يہی حکم ديتی ہے کہ بہترين لباس پہن‬ ‫کرجائيں اوروه بھی ايسالباس کہ جس سے لوگ ہمارے جسم کے قبائح پرنظرنہ ڈال سکے ‪،‬اگرکوئی بغيرلباس کے مہمانی‬ ‫ميں جائے توصاحب خانہ اوروہاں پرموجودلوگ اس کے جسم پرنگاه نہيں کريں گے؟اسی لئے نمازکی حالت ميں‬ ‫سترکوواجب قراردياگياہے تاکہ اپنے رب کی مہمانی ميں بغيرکسی خوف کے خضوع وخشوع کے ساتھ نمازپﮍھ سکے ۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫نمازکی حالت ميں بدن کے ڈھانپنے کی وجہ روايت ميں اس طرح بيان کی گئی ہے‪ :‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬مومنين کامزين‬ ‫ٰ‬ ‫تقوی وہيزگاری کالباس ہے اوران کالطيف ترين لباس ايمان وعقيده کالباس ہے جيساکہ خداوندمتعال اپنی کاتا ميں‬ ‫ترين لباس‬ ‫ارشادفرماتاہے ‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫( < ِلبَاسُ التﱠ ْق ٰ‬ ‫تقوی بہترين لباس ہے ‪،‬ليکن لباس ظاہر�� خداوندعالم کی نعمتوں سے کہ جسے‬ ‫ک َخ ْيرٌ<) ‪ ١‬لباس‬ ‫ل‬ ‫ذ‬ ‫وی ِ َ‬ ‫اوالدآدم)عليه السالم( کے لئے ساترقراردياگياہے ‪،‬اوالدآدم کوچاہئے کہ لباس کے ذريعہ اپنی عورت کوچھپائے ذريت‬ ‫آدم)عليه السالم( کے لئے سترعورت ايک خاص کرامت ہے جسے انسان کے عالوه کسی بھی موجودات عطانہيں کياگياہے‬ ‫پس مومنين پرواجب ہے کہ اسے واجبات ٰالہی کوانجام دينے ميں ضروراستعمال کرے ‪،‬اورتمھارابہترين لباس وه ہے کہ‬ ‫جوتمھيں يادخداسے غافل نہ کرے اوردوسرے کام ميں مشغول نہ کرے بلکہ شکروذکراوراطاعت پروردگارسے نزديک‬ ‫کرے ‪،‬پس ايسے لباس سے پرہيزکياجائے جوانسان کويادپروردگارغافل اوردوری کاسبب بنے ‪،‬اورجان لوکہ لباس بلکہ تمام‬ ‫مادی امورہيں کہ جوانسان کے ذات پروردگارسے دوری اوراشتغال دنياکاسبب واقع ہوتے ہيں اورتمھارے اس نازک سے دل‬ ‫ميں ايک برااثرڈالتے ہيں اوررياکاری ‪،‬فخر‪،‬غرورميں مبتالکرتے ہيں‪،‬يہ سب دين تمھارے دين کونابودکرنے والے ہيں‬ ‫اوردل ميں قساوت پيداکرتے ہيں‬ ‫جب تم اس ظاہری لباس کواپنے ت ن پرڈالوتواس چيزکويادکروکہ خداوندمتعال اپنی رحمت کبريائی سے تمھارے گناہوں‬ ‫کوچھپاتاہے ليکن بہ بھی يادرہے ظاہری پہنے کے ساتھ باطنی لباس سے غفلت نہ کرو‪،‬جس طرح تم ظاہری طورسے اپنے‬ ‫آپ کوچھپارہے ہوباطنی طورسے بھی ملبس کرو‪،‬تمھيں چاہئے کہ جس طرح تم ظاہری طورسے کسی خوف کی بناپراپنے‬ ‫آپ کوملبس کرتے ہواسی باطنی ميں ملبس کرواوراپنے رب کے فضل وکرم سے عبرت حاصل کروکہ اس نے تمھينظاہری‬ ‫لباس عطاکياتاکہ تم اپنے ظاہری عيوب کوپوسيده کرسکو‪،‬اس نے تمھارے لئے توبہ کادوروازه کھول رکھاہے تاکہ تم اپنی‬ ‫باطنی شرمگاہوں کوبھی لطف گناہوں اوربرے کارناموں سے پوشيده کرسکو‪،‬يادرکھوکسی ايک رسوانہ کرناتاکہ‬ ‫تمھارپروردگارتمھيں رسوانہ کرے ‪،‬اپنے عيوب کی تالش کروتاکہ تمھاری اصالح ہوسکے اورچيزتمہاری اعانت نہ‬ ‫کرسکے اس سے صرف نظرکرو‪،‬اوراس چيزسے دوری کروکہ تم دوسروں کے عمل کی خاطراپنے آپ کوہالکت‬ ‫مينڈالواوردوسرے کے اعمال کانتيجہ تمھارے نامہ اعمال ميں لکھاجائے اوروه تمھارے سرمايہ ميں تجاوزکرنے لگيں اورتم‬ ‫اپنے آپ کوہالک کرلو‪،‬کيونکہ انجام دئے گئے گناہوں کو بھول جانے سے ايک خداوندعالم دنياميں اس پرايک سخت عقاب‬ ‫نازل کرتاہے اورآخرت ميں بھی اس کے لئے دردناک عذاب ہے‬ ‫جب تک انسان اپنے آپ کوحق تعالی کی اطاعت سے دوررکھتاہے اوراپنے آپ کودوسروں کے عيوب کی تالش ميں گامزن‬ ‫رکھتاہے اورجب تک انسان اپنے گناہوں بھولے رکھتاہے اوراندرپائے جانے والے عيوب کونہيں جانتاہے اورفقط قوت‬ ‫پراعتمادرکھتاہے وه کبھی بھی نجات نہيں پاسکتاہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪ .‬سوره اعراف ‪/‬آيت ‪ . ٢۶‬مصباح الشريعة ‪/‬ص ‪٣٠‬‬

‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫رازمکان و لباس‬ ‫‪   ‬‬

‫رازطہارت بدن ‪،‬لباس اورمکان‬ ‫نمازی کے بدن اورلباس کاپاک ہوناشرط صحت نمازہے‪،‬خواه انسان واجبی نمازپﮍھ رہاہويامستحبی ‪،‬اگربدن يالباس پرنجاست‬ ‫لگی ہوتواس کاپاک کرناواجب ہے خواه بال ياناخن ہی نجسہوں سجده کرنے کی جگہ پاک ہوناچاہئے اگرسجده گاه نجس‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ہوچاہے ہوخشک ہی کيوں نہ ہونمازباطل ہے البتہ سجده گاه کے عالوه دوسری جگہ کاپاک ہوناضروری نہيں ہے اگرنمازی‬ ‫کی جگہ سجده گاه کے عالوه نجس ہو تووه ايسی ترنہ ہوکہ اس کی رطوبت بدن يالباس سے لگ جائے ورنہ نمازباطل ہے‬ ‫البتہ اگرنجاست کی مقدارمعاف ہونے کے برابرہے تونمازصحيح ہے ۔ نمازکی حالت ميں انسان کے بدن ولباس اورمکان‬ ‫کاظاہری اورباطنی طورسے پاک ہوناواجب ہے يعنی لباس کاپاک ومباح ہوناواجب ہے ان تينوں چيزوں کے پاک ہونے کی‬ ‫وجہ يہ ہے‪ :‬کيونکہ خدوندعالم پاک وپاکيزه ہے اورپاک وپاکيزه رہنے والوں کودوست بھی رکھتاہے‪،‬خداوندعالم نظيف ہے‬ ‫اورنظافت کودوست رکھتاہے کيونکہ وه اپنی کتاب قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫( <اِ ﱠن ﷲُ ي ُِحبّ التﱠوﱠا ِب ْينَ َوي ُِحبﱡ ْال ُمتَطَہﱢ ِر ْينَ <) ‪١‬‬ ‫خداتوبہ کرنے اورپاکيزه رہنے والوں کودوست رکھتاہے۔ ‪ .‬سوره بقرة‪/‬آيت ‪٢٢٣‬‬ ‫اورسوره تٔوبہ ميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫( < َوﷲُ ي ُِحبﱡ ْال ُمطﱠہﱢ ِر ْينَ <) ‪٢‬‬ ‫خداپاکيزه رہنے والوں کودوست رکھتاہے۔ ‪ .‬سوره تٔوبہ‪/‬آيت ‪١٠٨‬‬ ‫رازاباحت لباس ومکان‬ ‫انسان جس لباس ميں اورجس جگہ پرنمازپﮍھ رہاہے __________ان دونوں کامباح ہوناواجب ہے ‪،‬اگردونوں ميں ايک‬ ‫چيزبھی غصبی ہوتونمازباطل ہے اورمباح لباس ومکان ميں نمازکااعاده کرناواجب ہے کيونکہ نمازميں بدن کاچھپاناواجب‬ ‫ہے اورکسی حرام چيزکے ذريعہ بدن کوچھپاناحرام ہے اورکسی حرام کام کے ذريعہ واجب کوادانہيں کياجاستاہے کيونکہ‬ ‫نمازميں نيت ضروری ہے اورنيت ميں قربت ہوناضروری ہے اورحرام کام کے ذريعہ قربت کاحاصل کرناغيرممکن ہے‬ ‫پسقربت حاصل نہيں ہوسکتی ہے ۔‬ ‫چوری اورغصب حرام اورقبيح ہيں ‪ ،‬اورنمازميں قربت کی نيت ضروری ہے اورقباحت وقربت ايک ساتھ جمع نہيں‬ ‫ہوسکتے ہيں پسنمازباطل ہے ۔‬ ‫اگرکسی شخص پرخمس يازکات واجب ہے اور وه خمس يازکات نہ نکالے اور اس خمس کے مال سے کوئی لباس يامکان‬ ‫خريدے اوراس ميں نمازپﮍھے تووه نماز باطل ہے کيونکہ اس لباسيامکان ميں دوسرے کاحق ہے جسے ادانہيں کياگياہے‬ ‫گويااسکے اس خريدے ہوئے لباس يامکان ميں دوسروں کاپيسہ بھی شامل ہے جسے اس نے غصب کرلياہے اوراس ميں‬ ‫نمازپﮍھ رہاہے لہٰذااس کی يہ نمازباطل ہے ۔‬ ‫اميرالمومنين حضرت عليجناب کميل سے وصيت کرتے ہوئے فرماتے ہيں‪:‬‬ ‫( ياکميل ! انظرفی ماتصلی وعلی ماتصلی ان لم يکن من وجہہ وحلہ فالقبول۔) ‪ ١‬اے کميل! تم ذرايہ ديکھاکروکہ کس لباس‬ ‫ميں اورکس جگہ پر نمازپﮍھ رہے ہو‪،‬اگروه تمھارے لئے مباح وحالل نہيں ہے توتمھاری نمازقبول نہيں ہے ۔ عن النبی صلی‬ ‫ﷲ عليہ وآلہ وسلم قال‪:‬المسلم اخوالمسلم اليح ّل مالہ ّاالعن طيب ( نفسہ۔) ‪٢‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪:‬مسلمان آپس ميں ايک دوسرے کے بھائی ہيں ‪،‬کسی شخص کے لئے مالک کی‬ ‫رضايت کے بغيراسکے مال کاستعمال کرناجائزنہيں ہے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪)١ . ( ٣٣١‬وسائل الشيعہ ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ۴٢٣‬‬

‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬ايمارجل اتی رجالفاستقرض منہ ماالوفی نيتہ ان اليو ٔديہ فذلک اللص‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬کت نے لوگ ايسے ہيں جوکسی دوسرے شخص کے پاس جاتے ہيں اورکوئی مال ادھارليتے ہيں‬ ‫ليکن معاوضہ دينے کی نيت نہيں رکھتے ہيں‪،‬ايسے لوگ چورشمارہوتے ہيں۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪١٨٣‬‬ ‫نمازی کالباس مرده حيوان سے نہ بناہو‬ ‫نمازی کالباس خون جہنده رکھنے والے مرده حيوان کے کسی ايسے اجزاء سے نہ ہوکہ جن ميں حيات حلول کرتی ہے‬ ‫جيسے کھال چاہے اسے پيراستہ کردياگياہوليکن وه اجزاء کہ جن ميں حيات حلول نہيں کرتی ہے ان ميں نمازپﮍھناجائزہے‬ ‫جيسے بال اوراون جبکہ وه حالل گوشتی جانورسے اخذکی گئی ہو۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫نمازی کے پاس کسی مردارکے ان اجزاء ميں سے کوئی چيزنہ ہوجوروح رکھتی ہيں ليکن وه اجزاء کہ جن ميں روح نہيں‬ ‫ہوتی ہے جيسے بال اون اگريہ نمازی کے ہمراه ہوں ہوتوکوئی حرج نہيں ہے ۔‬ ‫موسی )عليه السالم(سے کہا‪:‬‬ ‫امام صادق سے اس قول خداوندی کے بارے ميں پوچھاگياکہ جواس نے حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫ک فَ ْ‬ ‫ص َالةَ‬ ‫ُوحی ( اِنﱠ ِن ْی اَنَاﷲُ فَا ْعبُ ْد ِن ْی َواَ ِق ِم ال ﱠ‬ ‫يَا ُم ٰ‬ ‫ک فَا ْستَ ِم ْع لَ َماي ٰ‬ ‫اخلَ ْع نَ ْعلَ ْي َ‬ ‫وسی اِنﱢ ْی اَنَا َربﱡ َ‬ ‫س طَ ًوی َواَنَااَ ْختَرْ تُ َ‬ ‫ک اِنﱠ َ‬ ‫ک ِب ْال َوا ِد ْال ُمقَ ﱠد ِ‬ ‫لِ ِذ ْک ِریْ <) ‪١‬‬ ‫ٰ‬ ‫اے‬ ‫موسی!ميں تمھاراپروردگارہوں ل ٰہذاتم اپنی جوتيوں کواتاردوکيونکہ تم طوی نام کی مقدس اورپاکيزه وادی ميں ہو۔‬ ‫ٰ‬ ‫امام )عليه السالم( نے فرمايا‪ :‬کانتامن جلدحمارميت‪.‬‬ ‫( وه دونوں جوتياں مرده گدھے کی کھال سے بنی ہوئی تھيں۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ٢۴٨‬سوره ٰٔ‬ ‫طہٰ ‪/‬آيت ‪) ١٢‬‬

‫حرام گوشت جانورکے اجزابنے سے لباس ميں نمازکے باطل ہونے کی وجہ‪:‬‬ ‫نمازی کالباس حرام گوشت جانورکی کھال‪،‬بال ‪،‬اون وغيره سے نہ بناہوبلکہ اگرحرام گوشت جانورکے بال بھی نمازی کے‬ ‫ہمراه ہوں تونمازباطل ہے اسی طرح حرام گوشت جانورکالعب دہن ‪،‬ناک ياکوئی دوسری رطوبت نمازی کے بدن يالباس‬ ‫پرلگی ہوتو نمازباطل ہے اوراسی طرح اگرحالل گوشت جانورکہ جسے غيرشرعی طورسے ذبح کياگياہواس کی‬ ‫کھال‪،‬بال‪،‬اون وغيره سے بھی بنائے گئے لباس ميں پﮍھی جانے والی نمازباطل ہے‪،‬ليکن حالل گوشت جانورکے بال‪،‬کھال‬ ‫‪،‬اون وغيره کے لباس ميں نمازپﮍھناجائزہے جبکہ اسے تذکيہ کياگياہو‬ ‫اسی بارے ميں چنداحاديث مندرجہ ذيل ذکرہيں‪:‬‬ ‫الی ابی عبدﷲ عليہ السالم‬ ‫حدثناعلی بن احمدرحمہ ﷲ قال‪:‬حدثنامحمدبن عبدﷲ بن محمدبن اسماعيل باسناديرفعہ ٰ‬ ‫قال‪:‬اليجوزالصالة فی شعرووبرمااليوکل لحمہ ّ‬ ‫الن ( اکثرہامسوخ۔) ‪١‬‬ ‫حرام گوشت جانورکی کھال وبال ميں نمازپﮍھناجائزنہيں ہے کيونکہ وه جانورکہ جن کاگوشت کھاناحرام ہے ان ميں سے‬ ‫اکثرجانورمسخ شده ہيں۔ ‪)١ .‬علل الشرايع ‪/‬ص ‪) ٣۴٢‬‬ ‫مردکا لباس سونے اورخالصريشم کانہ ہو‬ ‫مردکالباس سونے نہ ہونے کی وجہ يہ ہے کيونکہ مردوں کااپنے آپ کوسونے سے زينت ديناحرام ہے مثالسونے کی‬ ‫انگوٹھی يازنجيرپہننا‪،‬گھﮍی کابندسونے کاہونايہ سب نمازاورغيرنمازحالت ميں حرام ہيں خواه وه سونے کی چيزيں ظاہرہوں‬ ‫ياپنہاں ہوں نمازباطل ہے ليکن عورتوں اورلﮍکيوں کے لئے نمازاورغيرنمازکی حالت ميں اپنے آپ کوسونے سے زينت‬ ‫ديناجائزہے ۔‬ ‫سونے کے تاروں سے بنے ہوئے لباس مردوں کے لئے حرام ہيں‪،‬خواه ظاہرہوں ياپنہاں ہوں ‪،‬اگرکسی کااندرونی لباس‬ ‫مثالبنيان وغيره سونے سے بناہواوروه دکھائی نہ ديتاہوتوتب بھی نمازباطل ہے يعنی معيارسوناپہنناہے خواه وه دکھائی‬ ‫ديتاہويانہ عن ابی عبدﷲ)ع( قال‪:‬قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم الميرالمومنين ( )ع(‪:‬التختم بالذہب فانّہ زينتک فی‬ ‫اآلخرة ۔) ‪٢‬‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(اميرالمومنين علی ابن ابی طالب ‪+‬سے فرماتے ہيں ‪:‬سونے کی انگوٹھی نہ پہنناکيونکہ يہ‬ ‫تمھارے لئے آخرت کی زينت ہے۔ ‪)٢ .‬کافی ‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪) ۴۶٨‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬الحديد انہ حلية اہل النار ‪ ،‬والذہب حلية اہل الجنة ‪ ،‬وجعل ﷲ الذہب فی الدنيازينة النساء فحرم‬ ‫علی الرجال لبسہ والصالة فيہ‪ .‬امام صادقفرماتے ہيں‪:‬لوہااہل جہنم کازيورہے اور سونااہل بہشت کازيورہے ��ورخداوندعالم نے‬ ‫دنياميں سونے کوعورت کازيورقراردياہے اورمردکے لئے سوناپہننااوراس ميں نمازپﮍھنا حرام ہے ۔‬ ‫تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٢٧‬‬ ‫نمازی کے لئے مستحب ہے کہ نمازپﮍھتے وقت تحت الحنک کے ساتھ سر پر عمامہ لگائے ‪،‬دوش پرعباڈآلے خصوصا ً پيش‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫نماز‪،‬پاکيزه اورسفيدلباس پہنے‪ ،‬عطر و خوشبو لگائے ‪،‬عقيق کی انگوٹھی پہنے۔‬ ‫مستحب ہے کہ جب انسان اپنے گھرسے نمازکے لئے مسجدکی طرف روانہ ہو تو بہترين لباس پہن کراورعطر وخوشبو‬ ‫لگاکرمسجدميں آئے اوراگرگھرميں بھی نمازپﮍھے توخشبولگاکرنمازپﮍھے‪،‬عورت کے لئے مستحب ہے کہ جب گھرميں‬ ‫نمازاداکرے توعطرخوشبوکااستعمال کرے ‪،‬عطرلگاکرنماز پﮍھنے کے بارے ميں روايت ميں آياہے‪ :‬قال رسول ﷲ صلی ﷲ‬ ‫علی اثرطيب افضل من سبعين رکعة ( ليست کذلک ) ‪١‬‬ ‫عليہ وآلہ وسلم رکعتان ٰ‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬خوشبوکے ساتھ دورکعت نمازپﮍھناان ستررکعت نمازوں سے افضل ہيں‬ ‫جوعطرلگائے بغير پﮍھی جاتی ہيں ۔ قال الرضاعليہ السالم ‪:‬کان يعرف موضع جعفرعليہ السالم فی المسجد بطيب ريحہ (‬ ‫وموضع سجوده ۔) ‪٢‬‬ ‫حضرت امام صادقکے بارے ميں امام رضا فرماتے ہيں‪:‬کہ امام صادق کی محل نمازوسجده کومسجدميں ان کی خوشبوکے‬ ‫ذريعہ پہچان لياجاتاتھا۔‬ ‫حسين ديلمی نے اپنی کتاب“ہزارويک نکتہ درباره ”ميں ايک روايت نقل کی ہے کہ حضرت امام زين العابدين جب بھی نماز‬ ‫پﮍھنے کا اراده کرتے تھے اور محل نمازپر کھﮍے ہوتے تھے تو ( اپنے آپ کو اس عطرسے جو آپ کے مصلّے ميں رکھا‬ ‫رہتا تھا معُطّرکر تے تھے۔) ‪٣‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٣ .‬ہزارويک نکتہ درباره نماز‪/‬ش ‪/ ٢٢٣‬ص ‪)١ . ( ۶٩‬آثارالصادقين ‪/‬ج ‪/ ١٢‬ص ‪)٢ . ) ١٠٢‬مکارم االخالق ‪/‬ص ‪) ۴٢‬‬

‫حمام ‪ِ ،‬گل‪،‬نمک زارزمين‪،‬کسی بيٹھے ياکھﮍے ہوئے انسان کے مقابلے ميں‪،‬کھلے ہوئے دروازے کے سامنے ‪،‬شاہروں‬ ‫اورسﮍکوں پر‪،‬گليوں ميں جبکہ آنے جانے والے کے لئے باعث زحمت نہ ہو‪ ،‬اگرباعث زحمت ہوتوحرام ہے‪،‬آگ اورچراغ‬ ‫کے سامنے ‪،‬باورچی خانہ ميں‪،‬جہاں اگ کی بھٹی ہو‪ ،‬کنويں کے سامنے ‪،‬ايسے گﮍھے کے سامنے کہ جہاں حمام وليٹرين‬ ‫وغيره کاپانی پہنچتاہے ‪،‬ذی روح کی تصويريامجمسہ کے سامنے‪،‬جس کمره ميں مجنب موجودہو‪ ،‬قبرکے اوپرياقبرکے‬ ‫سامنے ياقبرستان ميں نمازپﮍھنامکروه ہے۔‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬عشرة مواضع اليصلی فيہا‪:‬الطين والماء والحمام والقبورومسان الطريق وقری النمل ومعاطن‬ ‫االبل ومجری الماء والسبخ والثلج‪ .‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬دس مقام ايسے کہ جہاں نمازنہ پﮍھی جائے ‪ِ :‬گل‪،‬پانی‪،‬حمام‪،‬قبور‪،‬‬ ‫گذرگاه ‪،‬چيونٹی خانہ ‪،‬اونٹوں کی جگہ ‪)،‬گندے (پانی کی نالی ياگﮍھے کے پاس ‪،‬نمک زارزمين پر‪،‬برف پر۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴۴١‬‬ ‫عن معلی بن خنيس قال‪:‬سئلت اباعبدﷲ عليہ السالم عن الصالة علی ظہرالطريق؟فقال‪:‬ال‪،‬اجت نبواالطريق‪.‬‬ ‫معلی بن خنيس سے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق سے راستے پر نمازکے پﮍھنے کے بارے ميں سوال کياتوآپ نے‬ ‫فرمايا‪:‬صحيح نہيں ہے ‪،‬او رفرمايا‪:‬راستے پرنمازپﮍھنے سے پرہيزکرو۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴۴۶‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬التصل فی بيت فيہ خمروالمسکرالن المالئکة التدخلہ‪ .‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬کسی ايسے‬ ‫گھرنمازنہ پﮍھوکہ جس ميں شراب ياکوئی مسکرشے ٔموجودہوکيونکہ ايسے گھروں ميں مالئکہ داخل نہيں ہوتے ہيں۔‬ ‫‪ .‬استبصار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١٨٩‬‬ ‫مسجد‬

‫مسجدکی اہميت‬ ‫مسجدروئے زمين پرﷲ کاگھرہے اورزمين کی افضل ترين جگہ ہے ‪،‬اہل معارف کی جائيگاه اورمحل عبادت ہے‪،‬صدراسالم‬ ‫سے لے کرآج تک مسجدايک دينی وال ٰہی مرکزثابت ہوئی ہے‪،‬مسجد مسلمانوں کے درميان اتحادپيداکرنے کامحورہے اوران‬ ‫کے لئے بہترين پناہگاه بھی ہے‪ ،‬مسجدخانہ ہدايت و تربيت ہے مسجدمومنين کے دلوں کوآباداورروحوں کوشادکرتی ہے‬ ‫اورمسجدايک ايساراستہ ہے جوانسان کوبہشت اورصراط مستقيم کی ہدايت کرتاہے ۔ دين اسالم ميں مسجد ايک خاص احترام‬ ‫ومقام رکھتی ہے ‪ ،‬کسی بھی انسان کو اس کی بے حرمتی کرنے کا حق نہيں ہے اور اسکا احترام کرنا ہر انسان پر واجب‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ہے ۔ ا بو بصير سے مروی ہے‪ :‬ميں نے حضرت امام صادق سے سوال کيا کہ‪ :‬مسجدوں کی تعظيم واحترام کاحکم کيوں‬ ‫دياگياہے ؟آپ )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫( انّماامربتعظيم المساجدالنّہابيوت اللھفی االرض۔) ‪١‬‬ ‫مسجدوں کے احترام کا حکم اس لئے صادرہواہے کيونکہ مسجديں زمين پر خداکا گھر ہيں اور خدا کے گھر کا احترام‬ ‫ضروری ہے۔‬ ‫‪)١ .‬علل الشرئع ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٣١٨‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(اپنے ايک طوالنی خطبہ اورگفتگوميں ارشادفرماتے ہيں‪ :‬من‬ ‫مشی الی مسجد من مساجدﷲ فلہ‬ ‫ٰ‬ ‫بکل خطوة خطاہاحتی يرجع الی منزلہ عشرحسنات ‪،‬ومحی عنہ عشرسيئات ‪ ،‬ورفع لہ عشردرجات‪.‬‬ ‫ہروه جوشخص کسی مسجدخداکی جانب قدم اٹھائے تواس کے گھرواپسی تک ہراٹھنے والے قدم پردس نيکيان درج لکھی‬ ‫جاتی ہيں اوردس برائياں اس نامہ أعمال سے محوکردی جاتی ہيں اوردس درجہ اس کامقام بلندہوجاتاہے۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال‪/‬ص ‪٢٩١‬‬ ‫قال النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬من کان القرآن حديثہ والمسجدبيتہ بنی ﷲ لہ بيتافی الجنة‪.‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬جس شخص کی گفتگوقرآن کريم ہواورمسجداس کاگھرہوتوخداوندعالم اس کے لئے‬ ‫جنت ميں ايک عاليشان گھرتعميرکرتاہے۔ ‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢۵۵‬‬ ‫ّ‬ ‫واليابساالسبحت لہ االرض الی االرض السابعة‪.‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬من مشی الی المسجد لم يضع رجالعلی رطب‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جوشخص مسجد کی طرف قدم اٹھائے اب وه زمين کی جس خشک وترشے ٔبھی قدم رکھے‬ ‫توساتونزمين تک ہرزمين اس کے لئے تسبيح کرے گی۔ ‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢۵۵‬‬ ‫ٰ‬ ‫السالم‪:‬ثلثة يشکون الی ﷲ عزوجل مسجدخراب اليصلی فيہ اہلہ ( وعالم بين الجہال ومصحف معلق قدوقع‬ ‫عن الصادق عليہ‬ ‫عليہ غباراليقرء فيہ۔) ‪١‬‬ ‫امام جعفر صادق فرماتے ہيں ‪ :‬تين چيزيں ﷲ تبارک وتعالی کی بار گاه ميں شکوه کرتی ہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔ويران مسجدکہ جسے بستی کے لوگ آباد نہيں کر تے ہيں اور اس ميں نماز نہيں پﮍھتے ہيں‬ ‫‪٢‬۔وه عالم دين جو جاہلوں کے درميان رہتا ہے اور وه لوگ اس کے علم سے فائده نہيں اٹھاتے ہيں‬ ‫‪٣‬۔ وه قرآن جو کسی گھر ميں گرد وغبارميں آلوده باال ئے تاق رکھا ہوا ہے اور اہل خانہ ميں سے کوئی شخص اس کی‬ ‫تالوت نہيں کرتا ہے۔‬ ‫ّ‬ ‫قال النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪:‬من سمع النداء فی المسجد فخرج من غيرعلة ( فہومنافق االان يريدالرجوع اليہ۔) ‪٢‬‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪ :‬منافق ہے وه شخص جو مسجد ميں حاضر ہے اور اذان کی آواز سن کر بغير‬ ‫کسی مجبوری کے نماز نہ پﮍھے اور مسجد سے خارج ہو جائے مگر يہ کہ وه دوباره مسجد ميں پلٹ آئے۔‬ ‫‪(٢ .‬امالی)شيخ صدوق (‪/‬ص ‪)١ . ( ۵٩١‬سفينة البحار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ) ۶٠٠‬قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪:‬ان اللھجل جاللہ‬ ‫ی اہل قرية قداسرفوافی المعاصی وفيہاثالثة نفرمن المومنين ناداہم جل جاللہ وتقدست اسمائہ‪:‬يااہل معصيتی !لوال َمن فيکم‬ ‫اذارا ٔ‬ ‫ْ‬ ‫ت َع َذابِ ْی ث ﱠمُ‬ ‫ً‬ ‫‪،‬الَنزَل ُ‬ ‫ِمن المومنين المتحابّين بجاللی العامرين بصلواتہم ارضی ومساجدی والمستغفرين ( باالسحارخوفا ِمنّی َ‬ ‫الاُبَالِی۔) ‪١‬‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬جب خداوندعالم کسی بستی کے لوگوں کوگناہوں ميں آلوده ديکھتاہے او راس‬ ‫بستی ميں فقط تين افرادمومن باقی ره جاتے ہيں تواس وقت خدائے عزوجل ان اہل بستی سے کہتاہے‪:‬‬ ‫اے گنا ہگا ر انسانو ! اگرتمھارے درميان وه اہل ايمان جوميری جاللت کے واسطے سے ايک دوسرے کودوست رکھتے‬ ‫ہيں‪،‬اورميری زمين ومساجدکواپنی نمازوں کے ذريعہ آبادرکھتے ہيں‪،‬اورميرے خوف سے سحراميں استغفارکرتے ہيں نہ‬ ‫ہوتے توميں کسی چيزکی پرواه کئے بغيرعذاب نازل کرديتا۔‬ ‫‪) ١ .‬علل الشرايع ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ۵٢٢‬‬ ‫وه لوگ جومسجدکے ہمسايہ ہيں مگراپنی نمازوں کومسجدميں ادانہيں کرتے ہيں ان کے بارے ميں چندروايت ذکرہيں‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫لجارالمسجداالفی المسجده۔ ‪ .‬وسائل الشيعہ ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٧٨‬‬ ‫قال النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬الصالة‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬مسجد کے ہمسايو ں کی نماز قبول نہيں ہوتی ہے مگر يہ کہ وه اپنی نمازوں کو‬ ‫اپنی مسجد ميں اداکريں۔ عن الصادق عليہ السالم انہ قال‪::‬شکت المساجدالی ﷲ الّذين اليشہدونہامن جيرانہافاوحی ﷲ‬ ‫اليہاوعزتی جاللی القبلت لہم صلوة واحدة والاظہرت لہم __________فی الناس عدالة ( والنالتہم رحمتی والجاورنی فی‬ ‫الجنة ۔) ‪١‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں‪ :‬مسجد وں نے ان لوگوں کے بارے ميں جو اس کے ہمسايہ ہيں اور بغير کسی مجبوری کے‬ ‫نماز کے لئے مسجد ميں حاضر نہيں ہو تے ہيں درگاه خداوندی ميں شکايت کی ‪،‬خدا وندعالم نے ان پر الہام کيا اور فرمايا ‪:‬‬ ‫ميں اپنے جالل وعزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں ‪ ،‬ميں ايسے لوگوں کی ايک بھی نماز قبول نہيں کر تا ہوں اور ان کو معا‬ ‫شرے ميں اور نيک اورعادل آدمی کے نام سے شہرت وعزت نہيں ديتا ہوں اور وه ميری رحمت سے بہره مندنہ ہونگے‬ ‫اوربہشت ميں ميرے جوار ميں جگہ نہيں پائيں گے ۔‬ ‫‪)١ .‬سفيتة البحار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ۶٠٠‬‬ ‫عن ابی جعفرعليہ السالم انہ قال‪:‬الصالة لمن اليشہدالصالة من جيران المسجد ّاالمريض ا ٔومشغول‪.‬‬ ‫امام محمدباقر فرماتے ہيں‪:‬ہروه مسجدکاہمسايہ جونمازجماعت ميں شريک نہيں ہوتاہے اس کی نمازقبول نہيں ہوتی ہے‬ ‫مگريہ کہ وه شخص مريض ياکوئی عذرموجہ رکھتاہو۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٧۶‬‬ ‫مسجدکوآبادرکھنااورکسی نئی مسجدکی تعميرکرنابہت زياده ثواب ہے‪،‬اگرکوئی مسجدگرجائے تواس کی مرمت کرنابھی‬ ‫مستحب ہے اوربہت زياده ثواب رکھتاہے‪ ،‬اگر مسجد‬ ‫چھوٹی ہے تواس کی توسيع کے لئے خراب کرکے دوباره وسيع مسجدبنانابھی مستحب ہے <اِنﱠ َمايَ ْع ُم ُر َم َساْ ِجد ٰ ِّ‬ ‫َﷲ َم ْن ٰا َمنَ ِبا ٰ ِّ‬ ‫ش اِ ّال ٰ ّ‬ ‫ک اَ ْن يَ ُکوْ نُوا ِمنَ ْال ُم ْھتَ ِد ْينَ ‪٢ ) <.‬‬ ‫ﷲَ ( فَ َع َس ٰی اُوْ ٰلئِ َ‬ ‫اآلخر َواَقَا َم الص ٰﱠلوةَ َو ٰاتَی ال ﱠز ٰکوةَ َولَ ْم يَ ْخ َ‬ ‫َو ْاليَوْ ِم ِ‬ ‫ﷲ کی مسجدوں کوصرف وه لوگ آباد کرتے ہيں جو خدا اور روزآخرت پر ايمان رکھتے ہيں اورجنھوں نے نمازقائم کی ہے‬ ‫اورزکات اداکی ہے اور خداکے عالوه کسی سے نہيں ڈرتے ہيں يہی وه لوگ ہيں جو عنقريب ہدايت يافتہ لوگوں ميں‬ ‫شمارکئے جائيں گے۔‬ ‫‪)٢ .‬سوره تٔوبہ‪/‬آيت ‪) ١٨‬‬ ‫بنی مسجدا بنی ( اللھلہ بيتاًفی الجنة۔) ‪٢‬‬ ‫عن ابی عبيدة الحذاء قال سمعت اباعبدﷲ عليہ السالم يقول ‪:‬من ٰ‬ ‫ابوعبيده سے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق کويہ فرماتے سناہے‪:‬ہروه شخص جو کسی مسجدکی بنيادرکھے توخداوندعالم‬ ‫اسکے لئے بہشت ميں ايک گھربناديتاہے ۔‬ ‫تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢۶۴‬‬ ‫تاريخ ميں لکھاہے کہ جس وقت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(مکہ سے ہجرت کرکے مدينہ پہنچے تو آپ نے سب سے‬ ‫پہلے ايک مسجدکی بنيادرکھی )جو مسجد النبی کے نام سے شہرت رکھتی __________ہے (اوراس کے تعميرہونے کے‬ ‫بعدحضرت بالل ‪/‬نے اس ميں بلندآوازسے لوگوں کونمازکی طرف دعوت دينے کاحکم ديا ۔‬ ‫عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬اذادخل المہدی عليہ السالم الکوفة قال الناس‪ :‬ياابن رسول ﷲ)ص( ّ‬ ‫ان الصالة معک تضاہی‬ ‫الصالة خلف رسول ﷲ)ص(‪ ،‬وہذا المسجد اليسعنا فيخرج الی العزی فيخط مسجدا لہ الف باب يسع الناس ويبعث فيجری خلف‬ ‫قبر الحسين عليہ السالم نہرايجری العزی حتی فی النجف‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جب امام زمانہ )ظہورکے بعد(کوفہ ميں واردہونگے تووہاں کے لوگ آپ سے نماز پﮍھانے کی‬ ‫فرمائش کريں گے ‪،‬اورکہيں گے آپ پيچھے نمازپﮍھنارسول خدا)ص(کے پيچھے نمازپﮍھنے کے مانندہے مگريہ مسجد بہت‬ ‫ٰ‬ ‫عزی کے جانب حرکت کريں گے اورزمين ايک خط کھينچ کرمسجدکاحصاربنائيں‬ ‫چھوٹی ہے پ‪،‬يہ سن کرامام )عليه السالم(‬ ‫گے اوراس مسجدکے ہزاردروازے ہونگے جس ميں تمام )شيعہ(لوگوں کی گنجائش کی جگہ ہوگی اورسب لوگ اس ميں‬ ‫حاضرہوجائيں‪،‬امام حسينکی قبرمطہرکی پشت سے ايک نہرجاری ہوگی جوعزی تک پہنچے گی يہاں تک کہ شہرنجف ميں‬ ‫بھی جار ی ہوگی۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٩٧‬ص ‪٣٨۵‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬ان قائمنااذاقام يبنی لہ فی ظہرالکوفة مسجدلہ الف باب‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جب امام زماں قيام کريں گے توپشت کوفہ ميں ايک مسجدتعميرکريں گے جسکے ہزاردروازے‬ ‫ہونگے ۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٩٧‬ص ‪٣٨۵‬‬ ‫مساجدفضيلت کے اعتبارسے‬ ‫سنت مو کٔده ہے کہ انسان اپنی نمازوں کومسجدميں اداکرے اورمسجدوں ميں سب سے افضل مسجدالحرام ہے جس ميں‬ ‫نمازپﮍھناسوہزارثواب رکھتاہے اس کے بعدمسجدالنبی )صلی ﷲ عليه و آله(ہے اس کے مسجدکوفہ اس کے بعدبيت المقدس‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اس کے بعدہرشہرکی جامع مسجداس کے بعدمحلہ اوربازار کی مسجدہے اورجيسے ہی مسجدميں داخل ہوتودورکعت‬ ‫نمازتحيت مسجدپﮍھے۔‬ ‫عن النبی صلی ﷲ عليہ انہ قال‪:‬اذادخل احدکم المسجد فاليجلسحتی يصلی رکعتين رسول اسالم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے‬ ‫ہيں‪:‬تم ميں جب بھی کوئی شخص مسجد ميں داخل ہو تومحل نمازپر بيٹھنے سے پہلے دورکعت نماز)تحيت مسجد( پﮍھے ۔‬ ‫‪ .‬المبسوط‪/‬ج ‪/٨‬ص ‪٩٠‬‬ ‫مسجدالحرام ميں نمازپﮍھنے کاثواب‬ ‫عن ابی جعفرعليہ السالم انہ قال‪:‬من صلی فی المسجد الحرام صالة مکتوبة قبل اللھبہامنہ کل صالة صالہامنذيوم وجبت عليہ‬ ‫الصالة وکل صالة يصليہاالی ان يموت‪ .‬امام باقر فرماتے ہيں‪:‬جوشخص مسجدالحرام ميں ايک واجب کواداکرے توخداوندعالم‬ ‫اس کی ان تمام نمازوں کوجواس نے واجب ہونے کے بعدسے اب تک انجام دی ہيں قبول کرتاہے اوران تمام کوبھی قبول‬ ‫کرليتاہے جووه آئنده مرتے دم تک انجام دے گا۔ ‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٢٨‬‬ ‫قال محمدبن علی الباقرعليہ السالم‪ :‬صالة فی المسجدالحرام ا فٔضل من مئة الف صالة ( فی غيره من المساجد۔) ‪١‬‬ ‫امام باقر فرماتے ہيں‪:‬مسجدالحرام ميں ايک نمازپﮍھنادوسری مسجدوں ميں سوہزار نمازيں پﮍھنے سے افضل ہے۔‬ ‫‪)١ .‬ثواب االعمال ‪/‬ص ‪) ٣٠‬‬ ‫مسجدالنبی )صلی ﷲ عليه و آله(ميں نمازپﮍھنے کاثواب‬ ‫ّ‬ ‫المساجداالمسجدالحرام ّ‬ ‫فان‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬صالة فی مسجدی تعدل عندﷲ عشرة آالف ( فی غيره من‬ ‫الصالة فيہ تعدل ما ئٔة ا ٔلف صالة ۔) ‪ ١‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬ميری مسجد)مسجدالنبی(ميں ايک‬ ‫نمازپﮍھنامسجدالحرام کے عالوه دوسری مساجدميں ايک ہزارنمازپﮍھنے سے افضل ہے کيونکہ مسجدالحرام ميں ايک‬ ‫نمازپﮍھنادوسری مساجدميں سوہزارنمازيں پﮍھنے سے افضل ہے۔ ‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٢٨‬‬ ‫قال ابوعبدﷲ عليہ السالم ‪ :‬صالة فی مسجد النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ تعدل بعشرة آالف صالة‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬مسجدالنبی )صلی ﷲ عليه و آله(ميں ايک نمازپﮍھناہزارنمازوں کے برابرہے۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪۵۵۶‬‬ ‫مسجدکوفہ ميں نمازپﮍھنے کاثواب‬ ‫مسجدکوفہ وه مسجدہے کہ جس ايک ہزارانبيا ء اورايک ہزاراوصياء نے نمازيں پﮍھيں ہيں ‪،‬وه ت نوربھی اسی مسجدميں‬ ‫ہے کہ جس سے حضرت نوح کے زمانے ميں پانی کاچشمہ جاری ہوااورپوری دنياميں پانی ہی پانی ہوگياتھا‪،‬يہ وه جگہ ہے‬ ‫کہ جہاں سے کشتی نوح )عليه السالم(نے حرکت کی اوراس ميں سوارہونے والے لوگوں نے نجات پائی‪،‬يہ وه مسجدہے کہ‬ ‫جسے معصومين نے جنت کاايک باغ قراردياہے ‪،‬يہ وه مسجدہے کہ جس ميں امام اول علی ابن ابی طالب کو شہيدکياگياہے‬ ‫‪،‬اس مسجدميں نمازپﮍھنے کے بارے ميں روايت ميں اياہے‪ :‬عن محمدبن سنان قال‪ :‬سمعت اباالحسن الرضاعليہ السالم‬ ‫يقول‪:‬الصالة فی مسجدالکوفة فرداا فٔضل من سبعين صالة فی غيرہا جماعة ۔‬ ‫ٰ‬ ‫فرادی‬ ‫محمدبن سنان سے مروی کہ ميں نے امام علی رضا کويہ فرماتے ہوئے سناہے‪ :‬مسجدکوفہ ميں‬ ‫نمازپﮍھنا)بھی(دوسری مساجدميں جماعت سے سترنمازيں پﮍھنے سے افضل ہے ۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨٠‬ص ‪٣٧٢‬‬ ‫عن المفضل بن عمرعن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬صالة فی مسجدالکوفة تعدل الف صالة فی غيره من المساجد۔‬ ‫مفضل ابن عمر سے مروی کہ امام صادق فرماتے ہيں‪ :‬مسجدکوفہ ميں ايک نمازپﮍھنادوسری مساجدميں جماعت سے‬ ‫پﮍھنے سے افضل ہے ۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال‪/‬ص ‪٣٠‬‬ ‫عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬صالة فی مسجدالکوفة‪،‬الفريضة تعدل حجة مقبولة والتطوع فيہ تعدل عمرة مقبولة‬ ‫امام محمدباقر فرماتے ہيں‪:‬مسجدکوفہ ميں ايک واجب نمازپﮍھناايک حج مقبولہ کاثواب ہے اورايک مستحبی نمازپﮍھناايک‬ ‫عمره ٔمقبولہ کاثواب ہے۔‬ ‫‪ .‬کامل الزيارات‪/‬ص ‪٧١‬‬ ‫امام صادق سے مروی ہے ‪:‬حضرت علی مسجدکوفہ ميں بيٹھے ہوئے تھے کہ ايک شخص مسجدميں داخل ہوااورکہا‪“:‬السالم‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫عليک يااميرالمومنين ورحمة ﷲ وبرکاتہ ”امام علی )عليه السالم(نے اس کے سالم کے جواب ديا‪،‬اس کے بعداس شخص نے‬ ‫مسجداالقصی جانے کااراده کياہے ‪،‬ل ٰہذاميں نے سوچاکہ آپ کو سالم‬ ‫عرض کيا‪:‬اے ميرے موال! آپ پرقربان جاؤں‪،‬ميں نے‬ ‫ٰ‬ ‫اورخداحافظی کرلوں ‪،‬امام )عليه السالم( نے پوچھا‪:‬تم نے کس سبب سے وہاں جانے کاقصدکياہے ؟جواب ديا‪:‬خداکافضل کرم‬ ‫ہے اوراس نے مجھے ات نی مال ودولت عطاکی ہے مينفلسطين جاکرواپسآسکتاہوں ‪،‬پسامام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫ہذاالمسجدفان الصالة المکتوبة فيہ مبرورةوالنافلة عمرة مبرورة۔‬ ‫فبع راحلتک وک ّل ذادک وص ّل فی‬ ‫تم اپنے گھوڑے اورزادسفرکوفروخت کردواوراس مسجدکوفہ ميں نمازپﮍھوکيونکہ اس مسجدميں ايک واجب نمازاداکرناايک‬ ‫مقبولی حج کے برابرثواب رکھتاہے اورمستحبی نمازپﮍھناايک مقبولی عمره کے برابرثواب رکھتاہے۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/١‬ص ‪۴٩١‬‬ ‫قال النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬لمااسری بی مررت بموضع مسجدکوفة واناعلی البراق ومعی جبرئيل عليہ السالم‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫فصليت‪ .‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬جب مجھے آسمانی‬ ‫فنزلت‬ ‫فقال‪:‬يامحمد!انزل فصل فی ہذاالمکان ‪ ،‬قال‪:‬‬ ‫معراج کے لئے لے جاياگياتوميں براق پہ سوارتھااورجبرئيل )عليه السالم(بھی ميرے ساتھ تھے ‪،‬جب ہم مسجدکوفہ کے‬ ‫اوپرپہنچے توجبرئيل )عليه السالم( نے مجھ سے کہا‪:‬اے محمد!زمين پراترجاؤاوراس جگہ پرنمازپﮍھو‪،‬مينزمين پرنازل‬ ‫ہوااور)مسجدکوفہ ميں(نمازپﮍھی۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٣١‬‬ ‫حرم آئمہ اطہار ميں نمازپﮍھنے کاثواب‬ ‫آئمہ اطہار کے حرم ميں نمازپﮍھنابہت ہی زياده فضيلت رکھتاہے ‪،‬يہ وه مقامات ہيں کہ جہاں نمازپﮍھنے کابہت زياد ه ثواب‬ ‫ہے ‪ ،‬دعائيں مستجاب ہوتی ہيں‪،‬رويات ميں اياہے کہ امام علی کے حرم ميں ايک نمازپﮍھنادوالکھ نمازوں کے برابرثواب‬ ‫رکھتاہے۔ حرم آئمہ اطہار ميں نمازپﮍھنے اوردعاکرنے کے بارے ميں دعاکے باب ميں ذکرکريں گے۔‬ ‫مسجدقبااورمسجدخيف ميں نمازپﮍھنے کاثواب‬ ‫ٰ‬ ‫ّ‬ ‫مدينہ ميں ايک مسجدقباہے کہ جس کی بنيادروزاول تقوی وپرہيزگاری پررکھی گئی ہے ‪ ،‬مسجدفضيح جسے مسجدردشمس‬ ‫بھی کہاجاتاہے اسی مسجدکے پاس ہے مسجدقباميں نمازپﮍھنے کے بارے ميں روايت ميں اياہے‪:‬‬ ‫اتی مسجدی قبافصلی فيہ رکعتين رجع بعمرة‪ .‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬من ٰ‬ ‫ہيں‪:‬جوشخص ميری مسجدمسجدقباميں دورکعت نمازپﮍھے وه ايک عمره کے برابرثواب لے کرواپسہوتاہے ۔ ‪ .‬من اليحضره‬ ‫الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٢٩‬‬ ‫مسجدخيف وه مسجدہے کہ جومنی ميں واقع ہے اوراس مسجدميں ايک ہزارانبياء نے نمازيں پﮍھی ہيں اوربعض روايت کے‬ ‫مطابق اس ميں سات سوانبيائے ٰالہی نے نمازپﮍھی ہيں معاويہ ابن عمارسے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق سے معلوم‬ ‫کيا‪:‬اس مسجدکومسجدکہنے وجہ کياہے ؟امام )عليه السالم( نے فرمايا‪ :‬النہ مرتفع عن الوادی وکل ماارتفع عن الوادی سمی‬ ‫خيفا‪ .‬کيونکہ يہ مسجدوادی منی کی بلندجگہ ہے اوروادی ميں جوچيزبلندہوتی ہے اسے خيف کہتے ہيں‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪۴٣۶‬‬ ‫عن ابوجمزة الثمالی عن ابی جعفرعليہ السالم انہ قال‪:‬من فی مسجد الخيف بمنی مئة رکعة قبل ان يخرج منہ عدلت سبعين عاما‬ ‫ومن سبح فيہ مئة تسبيحة کتب لہ کاجرعتق رقبة ‪ .‬ابوحمزه ثمالی سے روايت ہے امام باقر فرماتے ہيں‪:‬جوشخص مسجدخيف‬ ‫ميں منی ميں اس سے باہرآنے سے پہلےسورکعت نمازپﮍھے اس کی وه نمازسترسال کی عبادت کے برابرثواب رکھتی ہے‬ ‫اورجوشخص اس ميں سومرتبہ تسبيح پروردگارکرے اس کے لئے راه خداميں ايک غالم آذارکرنے کاثواب لکھاجاتاہے۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٣٠‬‬ ‫مسجدسہلہ ميں نمازپﮍھنے ثواب‬ ‫مسجدسہلہ کوفہ ميں واقع ہے ‪،‬جس ميں حضرت ابراہيماورحضرت ادريس کاگھرہے ‪،‬روايت ميں اياہے کہ وه سبزپتھرکہ‬ ‫جس پرتمام انبيائے کرام کی تصويربنی ہے اسی مسجدميں واقع ہے اوروه پاک پتھربھی اسی مسجدميں ہے کہ جس کے‬ ‫نيچے کی خاک سے خداوندعالم نے انبياء کوخلق کياہے۔‬ ‫ّ‬ ‫عن الصادق عليہ السالم قال‪:‬اذادخلت الکوفة فات مسجدالسہلة فضل فيہ واسئل ﷲ حاجتک لدينک ودنياک فان مسجدالسہلة بيت‬ ‫ادريس النبی عليہ السالم الذی يخيط فيہ ويصلی فيہ ومن دعا فيہ بمااحبّ قضی لہ حوائجہ ورفعہ يوم القيامة مکاناعلياالی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫درجة ادريس عليہ السالم واجيرمن الدنياومکائد اعدائہ‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جب آپ شہرکوفہ ميں داخل ہوں اورمسجدسہلہ کاديدارکريں تومسجدميں ضرورجائيں اوراس ميں‬ ‫وتعالی کی بارگاه ميں اپنی دينی اوردنياوی مشکالت کوحل کرنے کی‬ ‫مقامات مقدسہ پرنمازپﮍھيں اورﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫دعاکريں‪،‬کيونکہ مسجدسہلہ حضرت ادريس کاگھرہے جسميں خياطی کرتے تھے اورنمازبھی پﮍھتے تھے‬ ‫تعالی کی بارگاه ميں ہراس چيزکے بارے ميں جسے وه دوست رکھتاہے دعاکرے تواس کی وه‬ ‫جوشخص اس مسجدميں ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫حاجت پوری ہوگی اورروزقيامت حضرت ادريس کے برابرميں ايک بلندمقام سے برخوردارہوگااوراس مسجدميں عبادت‬ ‫کرنے اورنيازمندی کااظہارکرنے کی وجہ سے دنياوی مشکليں اوردشمنوں کے شرسے خداکی امان ميں رہے گا۔ ‪.‬‬ ‫بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ١١‬ص ‪٢٨٠‬‬ ‫ّ‬ ‫روی ان الصادق عليہ السالم انہ قال‪:‬مامن مکروب ياتی مسجدسہلة فيصلی فيہ رکعتين بين العشائين ويدعوﷲ عزوجل االفرج‬ ‫ﷲ کربتہ‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬ہروه شخص جوکسی بھی مشکل ميں گرفتارہو مسجدسہلہ ميں ائے اورنمازمغرب وعشاکے ميں‬ ‫درميان دورکعت نمازپﮍھ کرخدائے عزوجل سے دعاکرے توخداوندعالم اس کی پريشانی دورکردے گا۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪٣٨‬‬ ‫قال علی بن الحسين عليہماالسالم ‪:‬من صل فی مسجدالسہلة رکعتين ‪ ،‬زادﷲ فی عمره سنتين‪.‬‬ ‫امام زين العابدين فرماتے ہيں‪:‬جوشخص مسجدسہلہ ميں دورکعت نمازپﮍھے ‪،‬خداوندعالم اس کی عمرميں دوسال کااضافہ‬ ‫کرديتاہے۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴١٧‬‬ ‫مسجدبراثاميں نماپﮍھنے کاثواب‬ ‫عيسی کی زمين ہے ‪،‬جب حضرت‬ ‫مسجدبراثاعراق کے شہربغداميں واقع ہے ‪،‬اس مسجدکی چندفضيلت يہ ہيں کہ يہ حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫علی جنگ نہروان سے واپس ہورہے تھے اوراس جگہ پرپہنچے توآپ نے يہاں پرنمازپﮍھی اورحسن وحسين ‪+‬نے بھی اس‬ ‫عيسی کوقراردياتھا‪،‬اسی جگہ‬ ‫مسجدميں نمازپﮍھی ہے ‪،‬اس مسجدميں ايک پتھرہے کہ جس پرحضرت مريم نے حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫پرحضرت مريم کے لئے چشمہ حاری ہواتھا‪،‬يہ وه جگہ ہے جہاں حضرت علی کے لئے سورج پلٹااورآپ نے‬ ‫نمازعصرکواس کے وقت ميں اداکيا‪ ،‬اورکہاجاتاہے کہ حضرت يوشع اسی مسجدميں دفن ہيں‬ ‫‪ .‬رہنمائے زائرين کربال‪/‬ص ‪٢۵‬‬ ‫بيت المقدس ‪ ،‬مسجدجامع ‪،‬محلہ وبازارکی مسجدميں نمازپﮍھنے کاثواب عن السکونی عن جعفربن محمدعن آبائہ عن علی‬ ‫عليہم السالم قال‪:‬صالة فی البيت المقدس تعدل ا ٔلف صالة ‪ ،‬وصالة فی مسجداالعظم مائة صالة ‪ ،‬وصالة فی المسجدالقبيلة خمس‬ ‫وعشرون صالة ‪ ،‬وصالة فی مسجدالسوق اثنتاعشرة صالة ‪ ،‬وصالة الرجل فی بيتہ وحده صالة واحد۔‬ ‫حضرت عليفرماتے ہيں‪:‬بيت المقدس ميں ايک نمازپﮍھناہزارنمازوں کے برابرہے اورشہرکی جامع مسجد ميں ايک‬ ‫نمازپﮍھناسونمازوں کے برابرہے اورمحلہ کی مسجدميں ايک نمازپﮍھنا پچيس نمازوں کے برابرہے اوربازارکی مسجدميں‬ ‫ايک نمازپﮍھناباره نمازوں کے بابرہے اورگھرميں ايک نمازپﮍھناايک ہی نمازکاثواب رکھتاہے ۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال ‪/‬ص ‪٣٠‬‬ ‫مسجدکے ميں مختلف حصوں ميں نمازپﮍھنے کی وجہ‬ ‫جب انسان مسجدميں جائے اوراپنی نمازکی جگہ کوبدلنامستحب ہے يعنی دوسری کودوسری پرپﮍھے‬ ‫عن الصادق جعفربن محمد عليہما السالم انّہ قال‪:‬عليکم ِبا ْتيَان ْالمساجد فانّہابيوت ﷲ فی االرض‪َ ،‬من اَتاہامتطہراًطَہره ﷲ ِمن‬ ‫ذنوبہ‪،‬وکتب من زوّار ِه‪ ،‬فاکثروفيہامن الصالة والدعاء وصلوا المساجدفی بقاع المختلفة فان کل بقعة تشہد للمصلی عليہايوم‬ ‫القيامة تم مسجد ميں حاضر ہوا کروکيونکہ مسجد يں زمين پر خدا کا گھر ہيں پس جو شخص طہارت کے ساتھ مسجدميں‬ ‫داخل ہو تا ہے خدا وند عالم اس کے تمام گناہوں کو بخش ديتا ہے اور اس کا نام زائرين خدا ميں لکھاجاتاہے پس تم مسجدميں‬ ‫بہت زياده نمازيں پﮍھاکرواوردعائيں کرواورمسجدميں مختلف جگہوں پرنمازپﮍھاکروکيونکہ مسجدکاہرقطعہ روزقيامت اپنے‬ ‫اوپرنمازپﮍھنے والے کے لئے نمازکی گواہی دے گا۔‬ ‫‪ .‬امالی)شيخ صدوق (‪/‬ص ‪۴۴٠‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫مسجدداخل ہوتے دائيں قدم رکھنے کی وجہ‬ ‫مستحب ہے کہ مسجدميں داخل ہوتے وقت پہلے داہناقدم اندررکھيں اورمسجدسے نکلتے وقت باياں قدم باہررکھيں کيونکہ‬ ‫داہناقدم بائيں قدم سے اشرف ہوتاہے‪،‬اورتاکہ خداوندعالم اسے اصحاب يمين ميں قراردے اورقدم رکھتے وقت بسم ﷲ کہيں‬ ‫‪،‬حمدوثنائے ٰالہی کريں محمدوآل محمد عليہم الصالة والسالم پردرودبھيجيں اورخداسے اپنی حاجتوں کوطلب کريں عن يونس‬ ‫عنہم عليہم السالم قال قال‪:‬الفضل فی دخول المسجد ان تبدا ٔبرجلک اليمنی اذادخلت وباليسری اذاخرجت‪.‬‬ ‫يونس سے روايت ہے ‪،‬معصوم)عليه السالم( فرماتے ہيں‪:‬مسجدميں داخل ہونے کے لئے بہترہے کہ آپ دائيں پيرسے داخل‬ ‫ہواکريں اوربائيں پيرسے باہرآياکريں۔ ‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٣٠٩‬‬ ‫روايت ميں اياہے کہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(مسجدميں داخل ہوتے تھے وقت “بسم ﷲ اللہ ّم صل علی محمدوآل محمد ‪،‬‬ ‫واغفرلی ذنوذبی وافتح لی ابواب رحمتک”اورمسجدسے کے باہرآتے وقت دروازے کے پاس کھﮍے ہوکر“اللہ ّم اغفرلی‬ ‫ذنوذبی وافتح لی ابواب فضلک”کہتے تھے‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٣٩۴‬‬ ‫اہل مدينہ کی ايک بزرگ شخصيت ابوحفص عطارسے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق کويہ فرماتے ہوئے سناہے ‪:‬رسول‬ ‫اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬جب بھی تم ميں سے کوئی شخص نمازواجب پﮍھے اورمسجدسے باہرآنے لگے‬ ‫ک َوا ْنتَشَرْ ُ‬ ‫صلﱠي ُ‬ ‫تودروازه ميں کھﮍے ہوکريہ دعاپﮍھے‪ :‬اَ ٰللّہُ ﱠم َدعَوْ ت نی فَا َ َجب ُ‬ ‫نی‬ ‫ک َک َمااَ َمرْ ت ْ‬ ‫ض َ‬ ‫ْت َم ْکتُوْ بَتَ َ‬ ‫ک َو َ‬ ‫ْت َد ْع َوتَ َ‬ ‫ت فِ ْی اَرْ ِ‬ ‫ٰ‬ ‫ترجمہ‪:‬بارالہا!تونے مجھے دعوت‬ ‫ک‪.‬‬ ‫ْصيَ ِت َ‬ ‫ک َواجْ ت َ‬ ‫ک ْال َع َم َل ِبطَا َع ِت َ‬ ‫ک ِم ْن فَضْ ِل َ‬ ‫فَا َ ْسئَلُ َ‬ ‫ک َو ْال ِکفَافَ ِمنَ الرﱢ ز ْق ِ◌ ِب َرحْ َم ِت َ‬ ‫ناب َمع ِ‬ ‫دی ‪،‬پس ميں نے تيری دعوت پرلبيک کہااورتيرے واجب کواداکيااورميں تيرے فرمان کے مطابق تيری زمين پر)روزی کی‬ ‫تالش ميں(نکال‪ ،‬پس ميں تيرے فضل وکرم سے تجھ سے اپنے عمل ميں تيری اطاعت کی درخواست کرتاہوں اورگناه‬ ‫ومعصيت سے دوری چاہتاہوں اورتجھ سے تيری رحمت کے وسيلے سے رزق وروزی ميں کفاف ( چاہتاہوں۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ۵١٧‬‬ ‫مسجدکے صاف وتميزرکھنے کی وجہ‬ ‫مسجدميں جھاڑولگانااوراس کی صفائی کرناسنت مو کٔده ہے اوراسے نجس کرناحرام ہے۔‬ ‫مسجدمينصفائی کرنے اوراس ميں چراغ کے جالنے سے انسان کے دل ميں نورانيت پيدا‪،‬خضوع وخشوع اورتقرب ٰالہی‬ ‫ہوتی ہے اورلوگ اسے ايک اچھاانسان محسوب کرتے ہيں قال رسول ﷲ صلی ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬من کنس فی المسجديوم‬ ‫الخميس ليلة ( الجمعة فاخرج منہ التراب قدرمايذر فی العين غفرﷲ لہ۔) ‪ ١‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے‬ ‫ہيں‪:‬جوشخص جمعرات کے دن شب جمعہ مسجدميں جھاڑولگائے اورآنکھ ميں سرمہ لگانے کے برابرگردوخاک‬ ‫کومسجدسے باہرنکالے توخداوندعالم اس کے گناہوں بخشديتاہے ۔‬ ‫‪)١ .‬ثواب االعمال‪/‬ص ‪) ٣١‬‬ ‫حکايت کی گئی ہے کہ ايک مجوسی اپنی کمرپرمجوسی کمربندباندھے اورسرپرمجوسی ٹوپی لگائے ہوئے مسجدالحرام ميں‬ ‫داخل ہوا‪،‬جب وه خانہ کعبہ کے گردگھوم رہاتھاتواس نے ديکھاکہ ديوارکعبہ پرکسی کالعاب دہن لگاہواہے ‪،‬اس نے ديوارکعبہ‬ ‫سے لعاب دہن کوصاف کرديااورمسجدالحرام سے باہرنکل آيا‪،‬جيسے ہی وه باہرآياتوناگہان ہواکاايک تيزجھونکاآيااوراس کے‬ ‫سرپہ لگی ہوئی ٹوپی ہواميں اڑھ گئی‪،‬اس نے اپنی ٹوپی کوہرچندپکﮍنے کی کوشش کی مگروه اس کے ہاتھ نہ آئی ‪،‬ناگاه‬ ‫ہاتف غيبی سے ايک آوازاس کے کانوں سے ٹکرائی ‪:‬جب تجھے ہمارے گھرپہ کسی کالعاب دہن لگے ہوئے ديکھناپسندنہيں‬ ‫ہے توہميں بھی تيرے سرپرکفرکی نشانی لگے ہوئے ديکھناپسندنہيں ہے ‪،‬يہ بات سن کراس آتش پرست نے ( اپنی کمرسے‬ ‫وه کمربندبھی کھول کرپھينک ديااورمسلمان ہوگيا۔) ‪٣‬‬ ‫‪)٣ .‬نماز‪،‬حکايتہاوروايتہا‪/‬ص ‪) ١۴‬‬ ‫رويت ميں آياہے کہ ايک بوڑھی اوربےنوا عورت اس مسجد ميں کہ جس ميں پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله( نمازپﮍھتے‬ ‫تھے ‪ ،‬جھاڑو لگا يا کرتی تھی اورمسجدکوصاف رکھتی تھی ‪،‬وه عورت بہت ہی زياده غريب وفقيرتھی اورمسجد کے کسی‬ ‫ايک گوشہ ميں سويا کرتی تھی ‪ ،‬نمازجماعت ميں حاضرہونے والے لوگ اس کے لئے آب وغذا کا انتظام کرتے تھے ‪،‬ايک‬ ‫دن پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله(اور مسجد ميں داخل ہوئے اوراس ضعيفہ کو مسجد ميں نہ پاياتومسجدموجودلوگوں سے‬ ‫اس عورت کے بارے ميں دريافت کيا‪،‬حاضرين مسجدنے جواب ديا‪:‬‬ ‫يانبی ﷲ! وه عورت شب گذشتہ انتقال کر گئی ہے اور اسے دفن بھی کرديا گيا ہے ‪،‬پيغمبر اسالم )صلی ﷲ عليه و آله( اس‬ ‫کے انتقال کی خبر سن کر بہت زياده غمگين ہوئے اور کہا ‪ :‬تم نے مجھ تک اس کے مرنے کی خبر کيوں نہيں پہنچائی تھی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫تم مجھے اس عورت کی قبرکاپتہ بتاؤ‪ ،‬ان لوگوں نے آنحضرت کو اس ضعيفہ کی قبرکاپتہ بتايااورنمازکے بعدچندلوگ آپ‬ ‫کے ہمراه اس کی قبر پرپہنچے ‪،‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے اس کی قبرنمازپﮍھنے کے لئے کہا‪،‬آنحضرت آگے‬ ‫کھﮍے ہوئے اورآپ کے ساتھ آئے ہوئے لوگ صف باندھ کرپيچھے کھﮍے ہوگئے اور سب نے پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه‬ ‫و آله(کے ساتھ کھﮍے ہوکرنمازميت پﮍھی اور ( اس کی مغفرت کے لئے دعائيں مانگی ۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬ہزاريک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ٧۵٨‬ص ‪) ٢٣٨‬‬ ‫بدبودارچيزکھاکرمسجدميں انے کی کراہيت کی وجہ‬ ‫مسجدميں کوئی ايسی چيزکھاکرآناياساتھ ميں النامکروه ہے کہ جس کی بوسے مومنين کواذيت پہنچے ‪ ،‬لہسن ياپيازوغيره‬ ‫کھاکرمسجدميں آنے سے پرہيزکياجائے ۔ عن محمدبن مسلم عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬سئلتہ عن اکل الثوم فقال‪:‬انمانہی‬ ‫رسول صلی ﷲ عليہ والہ عنہ لريحہ فقال‪:‬من اکل ہذه البقلة المنت نة فاليقرب مسجدنا‪ .‬محمدابن مسلم سے مروی ہے کہ ميں‬ ‫امام باقر سے لہسن کے بارے ميں معلوم کياتوامام )عليه السالم( نے فرمايا‪ :‬نبی اکرم )صل�� ﷲ عليه و آله(‪:‬نے اس کی‬ ‫بدبوکی وجہ سے )اسے کھاکرمسجدميں جانے کو(منع کياہے اورفرماياہے ‪:‬جوشخص اس بدبودارگھاس کوکھائے تووه‬ ‫ہمارے مسجدوں کے قريب بھی نہ آئے ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪۵١٩‬‬ ‫عم محمدبن سان قال‪:‬سئلت اباعبدﷲ عليہ السالم عن اکل البصل الکراث‪ ،‬فقال‪:‬الباس باکلہ مطبوخاوغيرمطبوخ ‪،‬ولکن ان اکل‬ ‫منہ مالہ اذافاليخرج الی المسجد کراہية اذاه علی من يجالس‪.‬‬ ‫محمدابن سان سے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق سے پيازاورتره کے بارے ميں سوال کياتوامام )عليه السالم( نے‬ ‫فرمايا‪:‬ان دوچيزوں کے کھانے ميں کوئی حرج نہيں ہے خواه پختہ استعمال کياجائے ياغيرپختہ ‪ ،‬ليکن اگر انھيں‬ ‫کھاکرمسجدميں نہ جائے کيونکہ اس کی بدبوسے مسجدميں بيٹھے والوں کواذيت ہوتی ہے۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪۵٢٠‬‬ ‫مسجدوں کااس طرح بلندبناناکہ اس سے اطراف ميں موجودگھروں کے اندرنی حصے نظرآتے ہوں مکروه ہے‬ ‫عن جعفربن محمد عن ابيہ عليہ السالم ‪ّ :‬‬ ‫ی مسجدا بالکوفة قدشرف فقال‪:‬کانہابيعة ‪،‬وقال‪:‬ان المساجدالتشرف تبنی جما‪.‬‬ ‫ان عليارا ٔ‬ ‫روايت ميں آياہے کہ حضرت علی نے کوفہ ميں ايک مسجدکو اطراف کے گھروں سے بلندديکھاتوآپ نے فرمايا‪:‬يہ‬ ‫ٰ‬ ‫گرجاگھر)معبديہودونصاری (ہے اورفرمايا‪:‬مسجدوں کوبلندنہيں بناناچاہئے بلکہ انھيں پست وکوتاه بناياجائے۔ ‪ .‬علل الشرئع‪/‬‬ ‫‪/٢‬ص ‪  ٣٢٠‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫قبلہ‬ ‫جب بنده مومن اس چيزکاعلم رکھتاہے کہ خداوندعالم ہرجگہ اورہرسمت ميں موجودہے‪،‬نہ اس کے رہنے کی کوئی جگہ‬ ‫مخصوص ہے وه المکان ہے ‪،‬ہم جدھربھی اپنا رخ رکھيں وه ہميں ديکھ رہاہے اورسن رہاہے پھرکياضروری ہے کہ انسان‬ ‫کسی ايک مخصوص سمت رخ کرکے پروردگارکی عبادت کرے اوراس سے رازونيازکرے؟ صرف ظاہری طورسے جس‬ ‫طرف بھی کھﮍے ہوکر نمازپﮍھنے ‪،‬رکوع وسجودکرنے کوعبادت نہيں کہتے ہيں بلکہ باطنی طورسے بھی عبادت‬ ‫کرناضروری ہے يعنی دل کوپروردگارعالم کی طرف متوجہ کرناضروری ہے ‪،‬اگردل خداکی طرف نہ ہوتواسے عبادت‬ ‫نہيں کہتے ہيں‬ ‫خداوندعالم يہی چاہتااوردوست رکھتاہے اوراسی چيرکاامرکرتاہے ميرابنده باطنی طورسے بھی ميری ہی عبادت کرے‬ ‫اورظاہری طورکے عالوه معنوی اعتبارسے بھی ميری طرف توجہ رکھے اورغيرخداکاخيال بھی نہ کرے ل ٰہذاپروردگارنے‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫زمين پرايک جگہ معين کياتاکہ بندے اس طرف رخ کرکے اس کی عبادت کريں اوراپنے دل مينغيراخداکااراده بھی نہ کريں۔‬ ‫خداوندعالم کی حمدوثنااورتسبيح وتقديس کرنے ميں کسی دوسرے کادل ميں خيال بھی نہيں آناچاہئے بلکہ دل کوپروردگار‬ ‫کی طرف مائل رکھنازياده ضروری ہے ‪،‬کيونکہ اگرکتاب وسنت کی طرف رجوع کياجائے توسب کاحکم يہی ہے کہ انسان‬ ‫رب دوجہاں کی عبادت کرنے ميں اپنے دل کوبھی متوجہ رکھے بلکہ کتاب وسنت ميں دل وباطن کوخداکی طرف متوجہ‬ ‫رکھنے کوزياده الزم قراردياگياہے‬ ‫قرآن وسنت ميں کسی چيزکوقبلہ قراردينے کاجوحکم دياگياہے اس کی اصلی وجہ دل وباطن کوخداکی طرف توجہ‬ ‫کرنامقصودہے‪ ،‬تاکہ انسان کے تمام اعضاوجوارح مينثبات پاياجائے کتاب وسنت ميں ايک مخصوص سمت رخ کرکے‬ ‫نمازپﮍھنے کاحکم ديا ہے کيونکہ جب دل ايک طرف رہے گاتواس مينزياده سکون واطمينان ليکن اگراعضاوجوارح مختلف‬ ‫جہت وسمت ميں ہوں توپھردل بھی ايک طرف نہيں رہے گااوربارگاه خداوندی ميں حاضرنہيں ره سکے گااورعبادت ميں‬ ‫اصلی چيزدل وباطن کوخداکی طرف توجہ کرناہے اوروه آيات وروايات کہ جن ميں ذکروعبادت اورتقوائے ٰالہی اختيارکرنے‬ ‫کی تاکيدکی گئی ہے وه سب قلب کے متوجہ ہونے کوالزم قرارديتی ہيں۔‬ ‫جس سمت رخ کرکے تمام مسلمان اپنی نمازوں اورعبادتوں کوانجام ديتے ہيں ‪،‬اورجس کی طرف اپنے دلوں کومتوجہ کرتے‬ ‫ہيں اسے قبلہ کہاجاتاہے اسی لئے کعبہ کوقبلہ کہاجاتاہے کيونکہ تمام مسلمان اپنی نمازوعبادت کواسی کی سمت انجام ديتے‬ ‫ہيں خانہ کعبہ مکہ مکرمہ ميں واقع ہے جوپوری دنياتمام مسلمانوں کا مرکزاورقبلہ ہے خانہ کعبہ کے بارے ميں چند اہم‬ ‫نکات وسوال قابل ذکرہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔خانہ کعبہ کوکعبہ کيوں کہاجاتاہے؟‬ ‫اس بارے ميں روايت ميں آياہے کہ يہوديوں کی ايک جماعت پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی خدمت ميں ائی اورانھوں‬ ‫نے آنحضرتسے چندسوال کئے ‪،‬ان ميں سے ايک يہودی نے معلوم کيا‪:‬کعبہ کوکعبہ کيوں کہاجاتاہے ؟نبی اکرم )صلی ﷲ‬ ‫عليه و آله(نے فرمايا‪ :‬النّہاوسط الدنيا۔ کيونکہ کعبہ دنياکے درميان ميں واقع ہے ۔‬ ‫‪ .‬امالی )شيخ صدوق (‪/‬ص ‪٢۵۵‬‬ ‫‪٢‬۔خانہ کعبہ کے چارگوشہ کيوں ہيں؟‬ ‫يہودی نے بنی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سے معلوم کيا‪:‬خانہ کعبہ کوچارگوشہ بنائے جانے کی وجہ کياہے؟ پيغمبراکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(نے فرمايا‪:‬کلمات اربعہ)سبحان ﷲ ‪ ،‬والحمد ‪ ،‬والالہ ّاال ‪ ،‬وﷲ اکبر(کی وجہ سے ۔‬ ‫‪ .‬امالی )شيخ صدوق (‪/‬ص ‪٢۵۵‬‬ ‫روايت ميں آياہے کہ کسی نے امام صادق سے معلوم کيا‪:‬کعبہ کوکعبہ کيوں کہاجاتاہے ؟آپ نے فرمايا؟کيونکہ کعبہ کے‬ ‫چارگوشہ ہيں‪،‬اس نے کہا‪:‬کعبہ کے چارگوشہ بنائے جانے کی وجہ کياہے ؟ امام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬کيونکہ کعبہ بيت‬ ‫المعمور کے مقابل ميں ہے اوراس کے چارگوشہ )ل ٰہذاکعبہ کے بھی چارگوشہ ہيں(اس نے معلوم کيا‪:‬بيت المعورکے‬ ‫چارگوشہ کيوں ہيں؟فرمايا‪:‬کيونکہ وه عرش کے مقابل ميں ہيں اوراس کے چارگوشہ ہيں )لہٰذابيت المعمور کے بھی‬ ‫چارگوشہ ہيں(روای نے پوچھا‪:‬عرش کے چارگوشہ کيوں ہيں؟فرمايا‪:‬کيوں وه کلمات کہ جن پراسالم کی بنيادرکھی گئی ہے‬ ‫وه چارہيں جوکہ يہ ہيں‪:‬‬ ‫سبحان ﷲ ‪ ،‬والحمد ‪ ،‬والالہ ّاال ‪ ،‬وﷲ اکبر‪.‬‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣٩٨‬‬ ‫‪٣‬۔خانہ کعبہ کو“بيت ﷲ الحرام ”کيوں کہاجاتاہے؟‬ ‫حسين بن وليدنے حنان سے روايت کی ہے وه کہتے ہيں کہ‪:‬ميں نے امام صادق سے معلوم کيا‪:‬خانہ کعبہ کو“بيت ﷲ الحرام‬ ‫”کيوں کہاجاتاہے ؟امام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬کيونکہ اس ميں مشرکوں کاداخل ہوناحرام ہے اس لئے کعبہ کو“بيت ﷲ‬ ‫الحرام” کہاجاتاہے‬ ‫‪۴‬۔خانہ کعبہ کوعتيق کيوں کہاجاتاہے ؟‬ ‫ابوخديجہ سے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق سے معلوم کيا‪:‬خانہ کعبہ کوعتيق کيوں کہاجاتاہے ؟ آپ نے فرمايا‪…:‬کعبہ‬ ‫اس لئے عتيق کہاجاتاہے کہ يہ جگہ سيالب ميں عرق ہونے سے آزاداورمحفوظ ہے )جب طوفان نوح )عليه السالم(‬ ‫آياتھاتواسوقت بھی کعبہ غرق نہيں ہواتھااورنوح نے کشتی ميں بيٹھے ہوئے کعبہ کاديدارکياتھا)‬ ‫‪ .‬علل الشرئع ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣٩٨‬‬ ‫ابن محاربی سے مروی ہے امام صادق فرماتے ہيں‪:‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫خداوندعالم نے حضرت نوح کے زمانہ مينطوفان کے وقت کعبہ کے عالوه پوری زمين کوپانی‬ ‫مينغرق کردياتھااسی لئے اس بقعہ مبارکہ کوبيت عتيق کہاجاتاہے کيونکہ يہ جگہ اس وقت بھی غرق ہونے سے آزادومحفوظ‬ ‫تھی ‪،‬راوی کہتاہے کہ ميں نے امام )عليه السالم( سے عرض کيا‪:‬کيايہ بقعہ مبارکہ اس دن آسمان پرجالگياتھاجوغرق ہونے‬ ‫سے محفوظ رہا؟امام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬نہيں بلکہ اپنی جگہ پرتھااورپانی اس تک نہيں پہنچااوريہ بيت پانی سے مرتفع‬ ‫قرارپايا۔‬ ‫‪ .‬تفسيرنورالتقلين‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٩۵‬‬ ‫ابوحمزه ثمالی سے مروی ہے کہ ميں نے امام محمدباقر سے معلوم کيا‪ :‬خداوند عالم نے کعبہ کوعتيق کے نام سے کيوں‬ ‫ملقب کياہے ؟آپ )عليه السالم(نے فرمايا‪ :‬خداوندعالم نے روئے زمين پرجت نے بھی گھربنائے ہيں ہرگھرکے لئے ايک‬ ‫مالک اورساکن قراردياہے مگرکعبہ کاکسی کومالک وساکن قرارنہيں ديابلکہ پروردگاراس گھرکامالک وساکن ہے اورامام‬ ‫)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬خداوندعالم نے اپنی مخلوقات ميں سب سے پہلے اس گھرپيداکيااس کے بعدزمين کواس طرح‬ ‫وجودميں الياکہ کعبہ کے نيچے سے مٹی کوکھينچااورپھراسے پھيالديا۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪١٨٩‬‬ ‫کعبہ کب سے قبلہ بناہے؟ کيا اسالم کے آغازہی سے پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(اورتمام مسلمان خانہ کعبہ کی طرف‬ ‫نمازپﮍھتے آرہے ہيں اورکياخانہ کعبہ اول اسالم سے مسلمانوں کاقبلہ ہے ياکعبہ سے پہلے کوئی دوسرابھی قبلہ تھااوراس‬ ‫طرف نمازپﮍھی جاتی تھی اوربعدميں قبلہ تبديل کردياگياہے؟‬ ‫جس وقت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(درجہ رسالت پرمبعوث ہوئے تواس وقت مسلمانوں کاقبلہ بيت المقدس تھاجسے قبلہ‬ ‫اوّل کہاجاتاہے ليکن بعدميں خداکے حکم سے قبلہ کوبدل دياگيا اورخانہ کعبہ مسلمانوں کادوسراقبلہ قرارپايا نبی اکرم )صلی‬ ‫ﷲ عليه و آله(نے درجہ نبوت پرفائز ہونے کے بعد ‪/ ١٣‬سال تک مکہ مکرمہ ميں قيام مدت کے درميان بيت المقدس کی‬ ‫سمت نماز پﮍھتے رہے اور مدينہ ہجرت کرنے کے بعد بھی ستره مہينہ تک اسی طرف نماز يں پﮍھتے رہے ۔‬ ‫معاويہ ابن عمارسے مروی ہے کہ ‪ :‬ميں نے امام صادق معلوم کياکہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے چہرے کوکس وقت‬ ‫کعبہ کی طرف منصرف کياگيا؟امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫بعدرجوعہ من بدر‪،‬وکان يصلی فی المدينة الی بيت المقدس سبعة عشرشہرا ث ّم ( اعيدالی الکعبة ۔) ‪١‬‬ ‫جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(جنگ بدرسے واپس ہوئے توقبلہ کو تغيير کرديا گيا __________اورمدينہ ہجرت کے‬ ‫بعدآنحضرت ستره مہينہ تک بيت المقدس کی طرف رخ کرکے نمازپﮍھتے رہے اس کے بعد قبلہ کوکعبہ کی طرف‬ ‫گھمادياگيا۔‬ ‫‪)١‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٢١۶‬‬ ‫ابوبصيرسے مروی ہے کہ ميں نے امام باقرياامام صادق ‪+‬ميں کسی ايک امام )عليه السالم(سے معلوم کہا‪ :‬کياخداوندعالم‬ ‫بيت المقدس کی سمت رخ کرکے نمازپﮍھنے کاحکم دياتھا؟امام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬ہاں‪،‬کياتم نے يہ آيہ مبارکہ نہيں‬ ‫پﮍھی ہے‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ُ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ً‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫تَ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫ﱠ‬ ‫< َو َما َج َع ْلنَا القِبلةالتِی کن َعليہَااِاللِنعل َم َمن يتِبِ ِع الرسُول ِم ّمن ينقلِبُ عَلی َعقِبَي ِہ َواِن ( کانَت لکبِي َرة اِال َعلی ال ِذينَ ہُدَی ﷲُ َو َماکانَ‬ ‫ُضي َع اِ ْي َمانَ ُک ْم …<) ‪١‬‬ ‫ﷲُ لِي ِ‬ ‫اور ہم نے پہلے قبلہ )بيت المقدس( کو صرف اس لئے قبلہ بنايا تھا تاکہ ہم يہ ديکھيں کہ کون رسول! کا اتباع کرتا ہے اور‬ ‫پچھلے پاؤں جاتاہے گرچہ يہ قبلہ ان لوگوں کے عالوه سب پر گراں ہے جن کی ﷲ نے ہدايت کردی ہے اور خدا تمہارے‬ ‫ايمان کو ضايع نہيں کرناچاہتا تھا ‪ ،‬وه بندوں کے حال پر‬ ‫‪-------‬‬‫( مہربان اور رحم کرنے واالہے ۔) ‪(٢ . ٢‬وسائل الشيعہ ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪)١ . ( ٢١۶‬سوره ٔبقره‪/‬آيت ‪) ١۴٣‬‬

‫نبی اکرم )صلی ﷲ علي�� و آله(کعبہ کوبہت زياده دوست رکھتے تھے اورمدينہ ہجرت سے پہلے مکہ ميں جب بيت المقدس‬ ‫کی سمت نمازپﮍھتے تھے توکعبہ کواپنے اوربيت المقدس کے درميان کرتے تھے‬ ‫حمادحلبی سے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق سے معلوم کيا‪:‬کيانبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(بيت المقدس کی سمت‬ ‫نمازپﮍھتے تھے ؟فرمايا‪:‬ہاں‪ ،‬ميں نے کہا‪:‬کيا اس وقت خانہ کٔعبہ آنحضرت کی کمرکے پيچھے رہتاتھا؟فرمايا‪:‬جسوقت آپ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫مکہ ميں رہتے تھے توکعبہ کوکمرکے پيچھے قرارنہيں دياکرتے تھے ليکن مدينہ ہجرت کرنے کے بعدکعبہ کی طرف قبلہ‬ ‫تحويل ہونے تک کعبہ کواپنی پشت ميں قرارديتے تھے ۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢٨۶‬‬ ‫رازتحويل قبلہ‬ ‫تحويل قبلہ کے بارے ميں چار اہم سوال پيداہوتے ہيں‪ :‬قبلہ بيت المقدس سے کعبہ طرف کب اورکيوں تحويل ہواہے‬ ‫اورخداوندعالم نے روزاول ہی سے کعبہ کی سمت نمازپﮍھنے کاحکم کيوں نہيں ديا؟اوربيت المقدس کی سمت پﮍھی گئی کی‬ ‫تکرارواجب ہے يانہيں ؟ پہلے سوال کے جواب ميں تفسيرمنہج الصادقين ميں لکھاہے کہ‪ :‬جس دن ﷲ کی طرف سے‬ ‫تغييرقبلہ کاحکم نازل ہوااس دن نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(مسجدنبی سلمہ ميں تشريف رکھتے تھے اور مسلمان‬ ‫مردوعورتوں کے ہمراه بيت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ظہر پﮍھنے ميں مشغول تھے اور دوسری رکعت کے رکوع‬ ‫ميں تھے کہ جبرئيل امين نے آنحضرت کے دونوں بازو پکﮍ کر آپ کا چہره کعبہ کی سمت کرديااورجومردوعورت آپ کے‬ ‫پيچھے نمازپﮍھ رہے تھے ان سب کے چہروں کوبھی کعبہ کی سمت کرديا اورمردعورتوں کی جگہ اورعورتيں ( مردوں‬ ‫کی جگہ پرکھﮍے ہوگئے ۔) ‪١‬‬ ‫اس مسجدکو“ذوالقبلتين”دوقبلہ والی مسجدکہاجاتاہے کيونکہ يہی وه مسجدہے کہ جس ميں ﷲ کے آخری نبی حضرت‬ ‫محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله( نمازظہر اداکررہے تھے کہ جبرئيل نے آنحضرت کے چہره کارخ دونوں شانے‬ ‫پکﮍکربيت المقدس سے کعبہ کی طرف کرديا ‪،‬پيغمبرکی يہ آخری نمازتھی جوبيت المقدس کی طرف پﮍھی گئی اوريہ پہلی‬ ‫نمازتھی جوکعبہ کی سمت پﮍھی گئی تھی ‪،‬آنحضرت نے اس نمازکودوقبلہ کی طرف انجام دياپہلی دورکعت بيت المقدس کی‬ ‫طرف اوردوسری دورکعت نمازکعبہ کی سمت اداکی ل ٰہذايہ وه مسجدہے کہ جس ميں ايک ہی نمازکودوقبلہ کی طرف رخ‬ ‫کرکے پﮍھاگياہے اسی لئے اس مسجدکو “ذوالقبلتين” کہاجاتاہے ۔‬ ‫‪)١ .‬تفسيرمنہج الصادقين ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٣۴١‬‬ ‫قبلہ کے تحويل کرنے کی چندوجہيں بيان کی گئی ہيں ‪:‬‬ ‫پہلی وجہ‬ ‫کتب تفاسير ميں لکھاہے‪ :‬کہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے درجہ نبوت پرفائز ہونے کے بعد ‪/ ١٣‬سال تک مکہ مکرمہ‬ ‫ميں قيام مدت کے درميان بيت المقدس کی سمت نماز پﮍھتے رہے اور مدينہ ہجرت کرنے کے بعد بھی ستره مہينہ تک اسی‬ ‫طرف نماز يں پﮍھتے رہے جوروزاول سے يہوديوں کاقبلہ تھااوريہودی اسے اپنے قبلہ مانتے تھے لہٰذا وه لوگ رسول خدا‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(وان کی پيروی کرنے والوں کو طعنہ ديا کرتے تھے اورکہتے تھے کہ ‪ :‬تم مسلمان تو ہمارے قبلہ کی‬ ‫رخ کرکے نماز ھتے ہيں اور ہماری پيروی کرتے ہيں‪ ،‬اور کہتے تھے کہ‪ :‬جب تم ہمارے قبلہ کو قبول رکھتے ہو اور اسی‬ ‫کی طرف رخ کرکے نمازيں پﮍھتے ہوتو پھرہمارے مذہب کو کيوں قبول نہيں کرليتے ہو؟۔‬ ‫ہجرت کرنے کے بعدبھی پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله(گرچہ بيت المقدس کی سمت شوق سے نماز يں پﮍھتے تھے اور‬ ‫دل وجان سے حکم خداپرعمل کرتے تھے مگر دشمنوں کی طعنہ زنی سے رنج بھی اٹھا تے تھے اور غمگين رہتے تھے‬ ‫تعالی ہم‬ ‫پس جب دين اسالم قدرے مستحکم ہوگياتوايک دن آپ نے جبرئيل سے کہا ‪:‬ميری يہ خواہشہے کہ ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫مسلمانوں کو قبلہ ٔيہودکی طرف کھﮍے ہوکرنماز پرھنے سے منع کرے اورہمارے لئے ايک مستقل قبلہ کی معرفی کرے‬ ‫‪،‬جبرئيل نے عرض کيا ‪ :‬ميں بھی آپ کی طرح ايک بندئہ خدا ہوں مگر آپ خداوندعالم کے نزديک اولوالعزم پيغمبر ہيں ل ٰہذا‬ ‫آپ خوددعا کريں اور اپنی آرزوکو پروردگار سے بيان کريں‬ ‫ليکن رسول اکرام )صلی ﷲ عليه و آله( اپنی طرف سے کوئی تقاضا نہيں کرنا چاہتے تھے‪ ،‬فقط جس کام کا خدا آپ کو حکم‬ ‫ديتا تھا وہی انجام ديتے تھے اور جس بارے ميں فرمان خدا ابالغ نہيں ہو تا تھا اس کے انتظار ميں رہتے تھے ‪ ،‬تبديل قبلہ‬ ‫کے بارے ميں بھی وحی ال ٰہی کے منتظر تھے‪ ،‬ل ٰہذاايک دن نمازظہرکے درميان جبرئيل امين وحی لے کرنازل ہوئے‪:‬‬ ‫کش ْ‬ ‫ْج ِد ( ال َح َر ِام َو َحي ُ‬ ‫ک ِق ْبلَةً تَرْ ٰ‬ ‫ْث َما ُک ْن ُم فَ َولﱡوْ ا َوجُوھَ ُک ْم‬ ‫ضھَا فَ َو ﱢل َوجْ ھَ َ‬ ‫فی ال ﱠس َمآ ِء فَلَنُ َو لﱢيَنَ َ‬ ‫ب َوجْ ِھ َ‬ ‫< َوقَ ْد نَ َر ٰی تَقَلﱡ َ‬ ‫َط َر ْال َمس ِ‬ ‫ک ِ‬ ‫ش ْ‬ ‫َط َرهُ<) ‪١‬‬ ‫ترجمہ‪:‬اے رسول! ہم آپ کا آسمان کی طرف متوجہ ہونے کوديکھ رہے ہيں ‪،‬ہم عنقريب آپ کو اس قبلہ کی طرف موڑديں‬ ‫گے جسے آپ پسندکرتے ہيں ل ٰہذا اپنا رخ مسجد الحرام کی جہت کی طرف موڑديجئے اور جہان بھی رہئے اسی طرف رخ‬ ‫کيجئے ۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪-------‬‬‫‪(٢‬نورالثقلين ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ١٣٧‬۔مجمع البيان‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ١٩١‬۔ الميزان ( ‪)١ .‬سوره ٔبقره‪/‬آيت ‪/ . ) ١۴۴‬ج ‪/١‬ص ‪٣٢٨‬‬

‫دوسری وجہ‬ ‫تبديل قبلہ کے بارے ميں جواسراربيان کئے جاتے ہيں ان ميں ايک يہ بھی ہے کہ خداوندعالم تبديل کی وجہ سے پہچان‬ ‫کراناچاہتاتھا کہ کون لوگ حقيقت ميں پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی پيروی کرتے ہيں اور کون حکم خدا ورسول کی‬ ‫خالف ورزی کرتے ہيں جيساکہ خدا وند معتال قرآن مجيد ميں فرماتا ہے ‪:‬‬ ‫ﱠ‬ ‫ّ‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ً‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫َی‬ ‫د‬ ‫ﷲ‬ ‫ک‬ ‫ا‬ ‫م‬ ‫و‬ ‫ﷲ‬ ‫ہ‬ ‫ي‬ ‫ذ‬ ‫ال‬ ‫ی‬ ‫ل‬ ‫ع‬ ‫ال‬ ‫ا‬ ‫ة‬ ‫ر‬ ‫ي‬ ‫ب‬ ‫ک‬ ‫ل‬ ‫َت‬ ‫ن‬ ‫ا‬ ‫ک‬ ‫ن‬ ‫ا‬ ‫و‬ ‫ہ‬ ‫ِ نَ ُ‬ ‫ِ َ ِ َ‬ ‫ُ َ َ انَ ُ‬ ‫< َو َما َج َع ْلنَا ْال ِق ْبلَةَاَلّ ِتی ُک ْنتَ َعلَ ْيہَااِ ّاللِنَ ْعلَ َم َم ْن يﱠ ِت ِب ِع ال ّرسُول ِم ّم ْن يّ ْنقَ ِلبُ ع َٰلی َع ِقبَ ْي ِ َ ِ‬ ‫ُضي َع اِ ْي َمانَ ُک ْم>…‬ ‫لِي ِ‬ ‫اور ہم نے پہلے قبلہ )بيت المقدس( کو صرف اس لئے قبلہ بنايا تھا تاکہ ہم يہ ديکھيں کہ کون رسول! کا اتباع کرتا ہے اور‬ ‫پچھلے پاؤں جاتاہے گرچہ يہ قبلہ ان لوگوں کے عالوه سب پر گراں ہے جن کی ﷲ نے ہدايت کردی ہے اور خدا تمہارے‬ ‫ايمان کو ضايع نہيں کرناچاہتا تھا ‪ ،‬وه ( بندوں کے حال پر مہربان اور رحم کرنے واالہے ۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬سوره ٔبقره‪/‬آيت ‪) ١۴٣‬‬ ‫امام جعفرصادق فرماتے ہيں‪ :‬ہذابيت استعبد ﷲ تعالی بہ خلقہ ليختبربہ طاعتہم فی اتيانہ فحثہم علی تعظيمہ وزيارتہ وجعلہ‬ ‫محل انبيائہ وقبلة للمصلين لہ‪.‬‬ ‫يہ گھرات نابلند ہے کہ ﷲ تبارک وتعالی نے اپنے بندوں سے مطالبہ کياہے وه اس کے واسطے سے ميری عبادت کريں تاکہ‬ ‫اس کے ذريعہ لوگوں کاامتحان لے سکوں اوريہ پتہ چل جائے کہ کون اس کی عبادت کرتے ہيں اورکون عبادت کوترک‬ ‫کرتے ہيں اسی لئے ميں نے کعبہ کی تعظيم وزيارت کاحکم دياہے اوراسے انبياء کرام کامحل اورنمازگزاروں کاقبلہ‬ ‫قراردياہے ۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٢۵٠‬‬ ‫اس آيہ ٔمبارکہ اورحديث شريفہ سے واضح ہوتا ہے کہ پيغمبر اسالم )صلی ﷲ عليه و آله(کے زمانے ميں دوطرح کے‬ ‫مسلمان تھے ‪ ،‬کچھ ايسے لوگ تھے جو آسانی سے فرمان خداکو نہيں مانتے تھے اوررسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے‬ ‫قول وفعل پراعتراض اورچون وچراکرتے تھے ‪،‬وه لوگ نبی کی ہربات کونہيں مانتے تھے اور خانہ کعبہ کو قبلہ ماننے کے‬ ‫لئے تيار نہيں تھے ۔‬ ‫کچھ لوگ ايسے بھی تھے جو يقين سے ﷲ ورسول اور قرآن پرايمان رکھتے تھے اوراس چيزپراعتقادرکھتے تھے کہ رسول‬ ‫اسالم اپنی مرضی سے نہ کچھ کہتے ہيں اور نہ کرتے ہيں بلکہ وہی کرتے اور کہتے ہيں جسکا م کا خدا آپ کو حکم ديتا‬ ‫ہے اور وه لوگ دل و جان سے حکم ال ٰہی کو اجرا کرتے تھے جيسے ہی ان لوگوں تک تبديل قبلہ کی خبر ہوئی تو انھوں نے‬ ‫اپنے رخ کعبہ کی طرف کرلئے ليکن جومنافق تھے انھوں نے اعتراض شروع کردئے ۔‬ ‫تيسری وجہ‬ ‫عالمہ ذيشان حيدرجوادی ترجمہ وتفسير قرآن کريم ميں لکھتے ہيں‪:‬تحويل قبلہ کاايک رازيہ بھی ہے کہ اس طرح يہوديوں‬ ‫کاوه استدالل ختم گياکہ مسلمان ہمارے قبلہ کی اتباع کررہے ہيں‪،‬اوريہ دليل ہے کہ ہمارامذہب برحق ہے اوراس کے عالوه‬ ‫کوئی مذہب خدائی نہيں ہے ‪،‬قرآن کريم واضح کردياکہ بيشک بيت المقدس ايک قبلہ ہے ليکن جس خدانے اسے قبلہ بناياہے‬ ‫اسے تبديل کرنے کاحق بھی رکھتاہے ‪،‬اگريہوديوں کاايمان خداپرہے توجس طرح پہلے حکم خداکوتسليم کياتھااسی طرح‬ ‫دوسرے حکم کوبھی تسليم کرليں۔‬ ‫روزاول ہی کعبہ کوقبلہ کيوں قرارنہيں ديا؟‬ ‫اگرکوئی يہ سوال کرے ‪:‬کياوجہ ہے کہ خدا وند عالم نے نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(اوران کی اتباع کرنے والوں کو پہلے‬ ‫بيت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پﮍھنے کا حکم ديا اور اس کے بعد خانہ کعبہ کی طرف نماز اداکرنے کا حکم جاری‬ ‫کيا اور بيت المقدس کی طرف نماز پﮍھنے سے منع کرديا؟‬ ‫جس وقت پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله( نے اپنی رسالت کا اعالن کيا تو مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم تھی اور مسلمان‬ ‫کے پاس کوئی طاقت وغيره نہيں تھی ليکن يہودومسيح کی تعداد بہت زياده تھی اور طاقت بھی انہی لوگوں کے پاس تھی‬ ‫اگرخداوندعالم اسی وقت کعبہ کی طرف نمازپﮍھنے کاحکم جاری کرديتااور مسلمان ان کے قبلہ کی مخالفت کرديتے اور‬ ‫بيت المقدس کی طرف نماز نہ پﮍھتے توان کے اندر غصّہ کی آگ بھﮍک جاتی اور اسی وقت مسلمانوں کی قليل جماعت کو‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ختم کرکے اسالم کونابودکرديتے اسی لئے خدا نے مسلمانوں کو پہلے بيت المقدس کی طرف نماز پﮍھنے کا حکم ديا تاکہ‬ ‫قوم يہود ومسيح )جو بيت المقدس کا بہت زياده احترام کرتے تھے ( مسلمانوں کو بغض وکينہ کی نگاہوں سے نہ ديکھيں‬ ‫اورانھيں اپنا دشمن شمار نہ کريں اور ان کو قتل کرنے کا اراده بھی نہ بنائيں ليکن جب روز بر وزقرآن واسالم کی پيروی‬ ‫کرنے والوں کی تعداد ميں اضافہ ہوتاگيا اور مسلمان طاقتور ہوتے گئے اور رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی رہبری ميں‬ ‫ايک مستقل حکومت کے قابل ہو گئے تواس وقت خداوندعالم نے قبلہ بدلنے کا حکم جاری کيا اور کہا کہ آج کے بعدتمام‬ ‫مسلمان مستقل ہيں اور ان کا قبلہ بھی مستقل ہو گا‪ ،‬قبلہ تبديل ہونے کے بعد اگر دشمن مخالفت بھی کرتے تھے تو مسلمانوں‬ ‫پر کوئی اثرنہيں ہو تا تھا ۔‬ ‫قبلہ اول کی سمت پﮍھی گئی نمازوں کاحکم کياہے ؟‬ ‫جب حکم خداسے قبلہ تبديل ہوگيا تومسلمانوں کے ذہن ميں يہ سوال پيدا ہواکہ ہم نے اب تک جت نی بھی نمازيں بيت المقدس‬ ‫کی سمت رخ کر کے پﮍھی ہيں ان کا کيا حکم ہے ‪،‬ہماری وه نماز يں صحيح ہيں يا باطل ہيں اوران کادوباره پﮍھناواجب ہے‬ ‫؟ ل ٰہذاکچھ لوگوں نے اس مسئلہ کو پيغمبر اسالم )صلی ﷲ عليه و آله( کی خدمت ميں مطرح کيا اور آنحضرت سے پوچھا‬ ‫‪:‬يانبی ﷲ!ہم نے وه تمام نمازيں جوبيت المقدس کی طرف رخ کرکے انجام دی ہيں کياوه سب قبول ہيں ياان کااعاده‬ ‫کرناضروری ہے ؟‬ ‫ُ‬ ‫ﱠ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫اس ل َر ُء وْ ٌ‬ ‫ف َرحْ ي ٌم <) ‪١‬‬ ‫جبرئيل امين وحی لے کرنازل ہوئے اورفرمايا‪َ < ( :‬و َما کانَ ﷲ ل ُِ◌يُضْ ي َع اِ ْي َما نَک ْم اِ ﱠن ﷲَ بِالن ِ‬ ‫جان ليجئے کہ وه نمازيں جوتم نے قبلہ اوّل )بيت المقدس( کی طرف انجام ديں ہيں وه سب صحيح ہيں خدا تمھارے ايمان‬ ‫)نماز( کو ضايع نہيں کرتا ہے کيونکہ وه بندوں کے حال پر مہربان اور رحم کرنے واالہے۔‬ ‫حضرت امام جعفرصادق فرماتے ہيں ‪ :‬اس آيہ ٔمبارکہ ٔميں نماز کو ايمان کا لقب ديا گيا ( ہے۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬نورالثقلين‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ١٣٧‬سوره بقره ‪/‬آيت ‪) ١٣٨‬‬

‫اذان واقامت‬ ‫وتعالی کی عبادت کرنے‬ ‫وه چيزکہ جس کے ذريعہ لوگوں کونمازکاوقت پہنچنے کی اطالع دی جاتی ہے اور ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫ونمازپﮍھنے کی طرف دعوت دی جاتی ہے اسے اذان کہاجاتاہے ۔ لغت قاموس ميں“ ّ‬ ‫ﱢ‬ ‫َ‬ ‫اذن ‪،‬اُذان‪،‬اذن…”کے معنی‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫ت )اَعلَ ُ‬ ‫اعالن‪،‬دعوت اوربالنابيان کئے گئے ہيں اور “مصباح المنير”ميں اس طرح لکھاہے‪“:‬آ َذنتُہُ اِي َذانا ً َوتَا ٔذ ْن ُ‬ ‫الموذنُ‬ ‫مت( َوا ٔذن‬ ‫بالصالةا ٔعلم بِہا…” ميں نے اعالن کيااورمو ٔذن نے اذان دی يعنی لوگوں کونمازکی طرف دعوت دی اورقرآن کريم ميں بھی‬ ‫لفظ “ ّ‬ ‫اذن واذان ”اعالن کرنے کے معنی ميں استعمال ہواہے‬ ‫اس ِب ْال َحجﱢ‪<.‬اورلوگوں کے درميان حج کااعالن کرو۔) ‪َ < ( ١‬واَ َذ ٌ‬ ‫اس يَوْ َم ْال َح ﱢج ْاالَ ْکبَرْ <)‬ ‫ان ِمنَ الل ِھ َو َرسُوْ لِ ِہ اِلَی النﱠ ِ‬ ‫( < َواَ ﱢذ ْن فِی النﱠ ِ‬ ‫‪٢‬‬ ‫اوراللھورسول کی طرف سے حج اکبرکے دن انسانوں کے لئے اعالن عام ہے‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سوره تٔوبہ آيت ‪)١ . ( ٣‬سوره ٔحج آيت ‪) ٢٧‬‬

‫اذان واقامت کی اہميت‬ ‫مستحب ہے کہ بلکہ سنت مو کٔده ہے کہ نمازگزاراپنے اپنی روزانہ کی پانچوں واجب نمازوں کواذان واقامت کے ساتھ‬ ‫پﮍھے خواه انسان ان نمازوں کوان کے وقت ميں اداکررہاہو ياان کی قضابجاالرہاہو البتہ اگرنمازجماعت ہورہی ہے‬ ‫توجماعت کی اذان واقامت پراکتفاء کرناصحيح ہے‪،‬خواه اس نے نمازجماعت کی اذان واقامت کوسناہويانہ سناہو‪،‬اذان واقامت‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫کے وقت مسجدميں حاضرہويانہ ہو۔‬ ‫نمازجمعہ سے پہلے بھی اذان واقامت کہناسنت مو کٔده ہے اور عيدالفطر و عيداالضحی کی نمازکے لئے تين مرتبہ “الصالة‬ ‫” کہاجائے ۔ خداوندعالم قرآن کريم ميں اذان کامسخره کرنے والوں کوغيرمعقول انسان قرارديتے ہوئے ارشادفرماتا ہے‪:‬‬ ‫ک ِباَنﱠھُ ْم قُو ٌم َالَ یْ ◌َ ْقلُوْ ِ◌نَ > اور جب تم نماز کے لئے اذان ديتے ہو تو يہ اس کا‬ ‫< َواِ َذا نَا َد ْيتُم اِ ٰ‬ ‫لی الصﱠل ٰو ِة اتﱠخذو ٰھا ھُ ُزواً َولَ ِعبا ً ٰذ ِل َ‬ ‫مذاق اور کھيل بنا ليتے ہيں کيونکہ يہ با لکل بے عقل قوم ہيں۔‬ ‫‪ .‬سوره ٔمائد ه آيت ‪۵٨‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬مريض کوبھی چاہئے کہ جب نمازپﮍھنے کااراده کرے تو اذان واقامت کہہ کرنمازپﮍھے خواه آہستہ‬ ‫اوراپنے لئے ہی کہے ‪)،‬اگراپنے بھی اذان واقامت کے کلمات کوزبان سے اداکرنے کی قدرت نہ رکھتاہوتودل سے اذان‬ ‫اقامت کہے(کسی نے پوچھااگرانسان بہت زياده مريض ہوتو کياپھربھی اسے اذان واقامت کہناچاہئے ؟امام)عليه السالم( نے‬ ‫فرمايا‪:‬ہرحال ميں اذان اقامت کہناچاہئے کيونکہ اذان واقامت کے بغيرنمازہی نہيں ہے ۔‬ ‫‪)٣ .‬استبصار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٣٠٠‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪ :‬من ولدلہ مولودفليو ٔذن فی اذنہ اليمنی باذان ( الصالة واليقم فی اذنہ اليسری‬ ‫فانّہاعصمہ من الشيطان الرجيم۔) ‪ ٢‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬کسی بھی گھرميں جب کوئی بچہ دنياميں‬ ‫آئے تو اس کے دائيں کان ميں اذان اوربائيں کان ميں اقامت کہی جائے کيونکہ اس کے ذريعہ وه بچہ شيطان رجيم کے‬ ‫شرسے محفوظ رہتاہے ۔‬ ‫‪)٢ .‬کافی ‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪) ٢۴‬‬ ‫علی ابن مہزيارنے محمدابن راشدروايت کی ہے وه کہتے ہيں کہ مجھ سے ہشام ابن ابراہيم اپنے بارے ميں بتاياہے کہ ميں‬ ‫امام علی رضا کی خدمت ميں مشرف ہوئے اوراپنے مريض و بے اوالدہونے کے بارے ميں شکايت کی توامام)عليه السالم(‬ ‫نے مجھے حکم دياکہ اے ہشام!تم اپنے گھرميں بلندآوازسے اذان کہاکرو‬ ‫ہشام کا بيان ہے کہ ‪:‬ميں نے امام )عليه السالم(کے فرمان کے مطابق عمل کيااورخداوندعالم نے اس عمل کی برکت سے‬ ‫مجھے اس بيماری سے شفابخشی اور کثيراوالدعطا کی‪.‬‬ ‫محمدابن راشدنے کہتے ہيں کہ ‪:‬ميں اورميرے اہل خانہ اکثربيماررہتے تھے ‪،‬جيسے ہی ميں نے ہشام سے امام )عليه السالم(‬ ‫کی يہ بات سنی توميں نے بھی اس پرعمل کياتوخداوندعالم نے مجھ اورميرے عيال سے مريضی دورکرديا۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪۵٩‬‬ ‫امام علی ابن ابی طالب فرماتے ہيں ‪:‬جوشخص اذان واقامت کے ساتھ نمازپﮍھتاہے مالئکہ کی دو صف اس کے پيچھے‬ ‫نمازپﮍھتی ہيں کہ جن کے دونوں کنارے نظرنہيں آتے ہيں اورجوشخص فقط اقامت کے ساتھ نمازپﮍھتاہے توايک فرشتہ‬ ‫اسکے پيچھے نمازپﮍھتاہے ۔‬ ‫‪)٢ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢٨٧‬‬ ‫مفضل ابن عمرسے مروی ہے حضرت امام صادق عليہ السالم فرماتے ہيں‪ :‬اگر کوئی شخص واجب نمازوں کو اذان واقامت‬ ‫کے ساتھ انجام ديتا ہے ‪ ،‬مال ئکہ کی دوصفيں اس کی افتداء کرتی ہيں اورجوشخص فقط اقامت کہہ کرنمازپﮍھتاہے تو‬ ‫مالئکہ کی ايک صف اس کے پيچھے نماز پﮍھتی ہے‪ ،‬ميں نے پوچھا‪:‬اس کی مقدارکت نی ہے ؟ امام )عليه السالم( نے‬ ‫جواب ديا‪:‬اس مقدارحداقل مشرق ومغرب کے درميان کی زمين ہے اورحداکثرزمين وآسمان کے درميان ہے ۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال‪/‬ص ‪٣٣‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی مسجدکی ديوارآدمی کے برابرتھی ‪،‬رسولخدابالل سے کہتے‬ ‫تھے ‪:‬اے بالل!ديوارکے اوپرجاؤاورکھﮍے ہوکر بلندآوازسے اذان کہوکيونکہ خداوندعالم نے ايک ہواکومعين کرکھاہے‬ ‫جواذان کی آوازکوآسمان تک پہنچاتی ہے اورجب مالئکہ اہل زمين سے اذان کی آوازسنتے ہيں توکہتے ہيں ‪:‬يہ حضرت‬ ‫محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله(کی امت کی آوازہے جوﷲ کی وحدانيت کانعره لگارہی ہے اوروه فرشتے اللھسے امت‬ ‫محمدی کے لئے اس وقت تک استغفارکرتے رہتے ہيں جب تک وه اپنی نمازسے فارغ ہوتے ہيں۔‬ ‫‪)٢ .‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٣٠٧‬‬ ‫مو ٔذن کے فضائل‬ ‫روايت ميں اياہے کہ شام سے شخص ايک امام حضرت امام صادق کی خدمت ميں مشرف ہوا‪،‬آپ نے اس مرد شامی سے‬ ‫الی الجنة باللٌ‪،‬قال‪:‬ولِ َم؟قال‪:‬النّہ اوّل من ّ‬ ‫فرمايا ‪ّ :‬‬ ‫اذنَ ۔ حضرت بال ل وه شخص ہيں جو سب سے پہلے بہشت‬ ‫ان اوّل من سبق ٰ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ميں داخل ہونگے اس نے پوچھا ! کسلئے ؟ آپ نے فرمايا ‪ :‬کيونکہ بالل وه شخصہيں جنھوں نے سب سے پہلے اذان کہی‬ ‫ہے۔‬ ‫تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٢٨۴‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪ :‬مو ٔذن اذان واقامت کے درميان اس شہيدکاحکم رکھتاہے جوراه خداميں اپنے خون‬ ‫ميں غلطاں ہوتاہے پس حضرت علی سے آنحضرتسے عرض کيا‪:‬آپ نے اذان کہنے کی ات نی بﮍی فضليت بيان کردی ہے‬ ‫کہ مجھے خوف ہے کہ آ پ کی امت کے لوگ اس کام کے لئے ايک دوسرے پر شمشير چالئيں گے )اور مو ٔذن بننے کے‬ ‫لئے ايک دوسرے کا خون بہائيں گے(‪ ،‬آنحضرت نے فرمايا ‪:‬وه اس کام کوضعيفوں کے کاندھوں پررکھ ديں گے )اذان کہنا‬ ‫ات نا زياده ثواب و فضيلت رکھنے کے با وجود ضعيف لو گو ں کے عالوه دوسرے حضرات اذان کہنے کی طرف قدم نہيں‬ ‫بﮍھائيں گے(اورمو ٔذن کاگوشت وه ہے کہ جسپر جہنم کی آگ حرام ہے جواسے ہرگزنہيں جالسکتی ہے۔‬ ‫‪) ٢ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬باب االذان واالقامة‪/‬ص ‪) ٢٨٣‬‬ ‫ٰ‬ ‫جابرابن عبدﷲ سے مروی ہے کہ‪:‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے مو ٔذن کے لئے تين باردعاکی ‪ :‬بارالہا!مو ٔذن لوگوں‬ ‫کوبخش دے‪،‬جابرکہتے ہيں ميں نے کہا‪:‬يارسول ﷲ!اگرمو ٔذن کايہ مقام ہے توايسالگتاہے کہ اذان کہنے کے لئے لوگوں کے‬ ‫درميان تلواريں چالکريں گی ؟آنحضرت نے فرمايا‪:‬‬ ‫اے جابر!ايک وقت ايسابھی آئے گا کہ اذان کاکام بوڑھوں کے کاندھوں پرڈال دياجائے گا )اورجوان لوگ اذان کہنااپنے لئے‬ ‫عيب شمارکريں گے(اورسنو!کچھ گوشت ايسے ہيں جن پرآتش جہنم حرام ہے اوروه مو ٔذن لوگوں کاگوشت ہے۔‬ ‫‪)١ .‬مستدرک الوسائل‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪) ٢٢‬‬ ‫ٔ‬ ‫قال علی عليہ السالم‪:‬يحشرالمو ٔذنون يوم القيامة طوال االعناق۔ حضرت عليفرماتے ہيں‪:‬مو ذن لو گ روزقيامت‬ ‫سرافرازاورسربلندمحشورہونگے۔ ‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨٣‬ص ‪١۴٩‬‬ ‫ايک يہودی نے نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سے مو ٔذن کی فضيلت کے بارے ميں سوال کياتوآپ نے فرمايا‪:‬ميری امت‬ ‫کے مو ٔذن روزقيامت کے دن انبياء وصادقين اورشہداء کے ساتھ محشورہونگے۔‬ ‫‪ .‬الخصال‪/‬ص ‪٣۵۵‬‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪ :‬خدا وندمتعال کا وعده ہے کہ تين لوگوں کو بغيرکسی حساب کے داخل بہشت‬ ‫کيا جائے گا اور ان تينوں ميں سے ہر شخص ‪ / ٨٠‬ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا اور وه تين شخص يہ ہيں‪١ :‬۔ مو ّٔذن ‪٢‬۔‬ ‫امام جماعت ‪٣‬۔ جوشخص اپنے گھر سے با وضو ہو کر مسجدميں جاتاہے اور نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرتاہے۔ ‪.‬‬ ‫مستدرک الوسائل‪/‬ج ‪/١‬ص ‪۴٨٨‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬من اذان فی مصرمن امصارالمسلمين وجبت لہ الجنة‪ .‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(فرماتے ہيں‪:‬جوشخص )اپنے (مسلمان بھائيوں کے کسی شہرميں اذان کہے تواس پرجنت واجب ہے۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال‪/‬ص ‪٣١‬‬ ‫اذان واقامت کے راز‬ ‫فضل بن شاذان نے اذان کی حکمت کے متعلق امام علی رضا سے ايک طوالنی حديث نقل کی ہے کہ جس ميں امام )عليه‬ ‫السالم( فرماتے ہيں‪ :‬خداوندتبارک‬ ‫وتعالی کی جانب سے لوگوں کواذان کاحکم دئے جانے کے بارے ميں بہت زياده علت‬ ‫ٰ‬ ‫وحکمت پائی جاتی ہيں‪،‬جن ميں چندحکمت اس طرح سے ہيں ‪:‬‬ ‫‪١‬۔اذان‪ ،‬بھول جانے والوں کے لئے ياددہانی اورغافلوں کے لئے بيداری ہے ‪،‬وه لوگ جونمازکا وقت پہنچنے سے بے‬ ‫خبررہتے ہيں اوروه نہيں جانتے ہيں کہ نمازکاوقت پہنچ گياہے ياکسی کام ميں مشغول رہتے ہيں تووه اذان کی آوازسن‬ ‫کروقت نمازسے آگاه ہوجاتے ہيں‪،‬مو ٔذن اپنی اذان کے ذريعہ لوگوں کوپروردگاريکتاکی عبادت کی دعوت ديتاہے اوران ميں‬ ‫عبادت خداکی ترغيب وتشويق پيداکرتاہے‪ ،‬توحيدباری تعالی کے اقرارکرنے سے اپنے مومن ومسلمان ہونے کااظہارکرتاہے‬ ‫‪،‬غاف�� لوگوں کووقت نمازپہنچنے کی خبرديتاہے ۔ ‪٢‬۔مو ٔذن کومو ٔذن اس لئے کہاجاتاہے کہ وه اپنی اذان کے ذريعہ‬ ‫نمازکااعالن کرناہے ‪٣‬۔تکبيرکے ذريعہ اذان کاآغازکياجاتاہے اس کے بعدتسبيح وتہليل وتحميدہے ‪،‬اس کی وجہ يہ ہے کہ‬ ‫خداوندعالم نے پہلے تکبيرکوواجب کياہے کيونکہ اس ميں پہلے لفظ “ﷲ” آياہے اورخداوندعالم دوست رکھتاہے کہ اس کے‬ ‫نام ابتدا کی جائے اوراس کايہ مقصدتسبيح )سبحان ﷲ(اورتحميد)الحمد (اورتہليل )الالہ االﷲ(ميں پورانہيں ہوتاہے ان کلمات‬ ‫کے شروع لفظ “ﷲ”نہيں ہے بلکہ آخرميں ميں ہے ۔‬ ‫‪۴‬۔اذان کے ہرکلمہ کودودومرتبہ کہاجاتاہے ‪،‬اس کی وجہ يہ ہے تاکہ سننے والوں کے کانوں ميں اس کی تکرارہوجائے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اورعمل ميں تاکيدہوجائے تاکہ اگرپہلی مرتبہ سننے مينغفلت کرجائيں تودوسری مرتبہ ميں غفلت نہ کرسکيں اوردوسری‬ ‫وجہ يہ ہے کيونکہ دودورکعتی لہذااذان کے کلمات بھی دودوقراردئے گئے ہيں۔‬ ‫‪۵‬۔اذان کے شروع ميں تکبيرکوچارمرتبہ قرادياگياہے اس کی وجہ يہ ہے کہ اذان بطورناگہانی شروع ہوتی ہے ‪،‬اس سے‬ ‫پہلے کوئی کالم نہيں ہوتاہے کہ جوسننے والوں کوآگاه ومت نبہ کرسکے ‪،‬پس شروع ميں پہلی دوتکبيرسامعين کومت نبہ‬ ‫وآگاه کرنے کے لئے کہی جاتی ہيں تاکہ سامعين بعدوالے کلمات کوسننے کے لئے آماده ہوجائيں۔ ‪۶‬۔تکبيرکے‬ ‫بعد“شہادتين”کومعين کئے جانے کی وجہ يہ ہے ‪:‬کيونکہ ايمان دوچيزوں کے ذريعہ کامل ہوتاہے‪:‬‬ ‫‪١‬۔ توحيداورخداوندعالم کی وحدانيت کااقرارکرنا۔‬ ‫‪٢‬۔نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی رسالت کی گواہی ديناکيونکہ خداورسول کی اطاعت اورمعرفت شناخت ايک دوسرے‬ ‫سے مقرون ہيں يعنی خداکی وحدانيت کی گواہی کے ساتھ اس کے رسول کی رسالت کی گواہی ديناضروری ہے کيونکہ‬ ‫شہادت اورگواہی اصل وحقيقت ايمان ہے اسی لئے دونوں کی شہاد ت دوشہادت‬ ‫قراردياگياہے يعنی خداکی واحدانيت کااقرابھی دومرتبہ ہوناچاہئے اوراس کے رسول کی رسالت کااقراربھی دومرتبہ‬ ‫ہوناچاہئے جس طرح بقيہ حقوق ميں دوشاہدکے ضروری ہونے کو نظرميں رکھاجاتاہے ‪،‬پس جيسے ہی بنده خداوندعالم کی‬ ‫وحدانيت اوراس کے نبی کی رسالت کااعتراف کرتاہے توپورے ايمان کااقرارکرليتاہے کيونکہ خدااوراس کے رسول‬ ‫کااقرارکرنااصل وحقيقت ايمان ہے ۔‬ ‫‪٧‬۔پہلے خداورسول کا اقرارکياجاتاہے اس کے بعدلوگوں نما__________زکی طرف دعوت دی جاتی ہے ‪،‬اس کی وجہ يہ‬ ‫ہے‪:‬حقيقت ميں اذان کونمازکے لئے جعل وتشريع کياگياہے کيونکہ اذان کے معنی يہ ہيں کہ مخلوق کونمازکی طرف دعوت‬ ‫دينا‪،‬اسی لئے لوگوں کونمازکی طرف دعوت دينے کواذان کے درميان ميں قرار دياگياہے يعنی چارکلمے اس سے پہلے ہيں‬ ‫اورچارکلمے اس کے بعدہيں‪،‬دعوت نمازسے پہلے کے چارکلمے يہ ہيں‪ :‬دوتکبيراوردوشہادت واقرار‪،‬اوردعو ت نمازکے‬ ‫بعدکے چارکلمے يہ ہيں‪:‬لوگوں کوفالح وکاميابی کی طرف دعوت دينااوراس کے بعد بہترين عمل کی طرف دعوت ديناتاکہ‬ ‫لوگوں ميں نمازپﮍھنے کی رغبت پيداہو‪،‬اس کے بعدمو ٔذن ندائے تکبيربلندکرتاہے اوراس کے بعدندائے تہليل)الالہ‬ ‫االﷲ(کرتاہے‪،‬پس جس طرح دعوت نماز) ح ّی علی الصالة(سے پہلے چارکلمے کہے جاتے ہيں اسی طرح اس کے بعدبھی‬ ‫چارکلمے ہيں اورجس طرح مو ٔذن ذکروحمدباری‬ ‫تعالی سے اذان کاآغازکرتاہے اسی طرح حمدوذکرباری پرختم کرتاہے ۔‬ ‫ٰ‬ ‫‪٨‬۔اگرکوئی يہ کہے کہ ‪:‬اذان کے آخرميں تہليل)الالہ االﷲ( کوکيوں قرادياگياہے اورجس طرح اذان کے شروع ميں‬ ‫تکبيرکورکھاگياتھاتوآخرميں کيوں نہيں رکھاگياہے ؟ اذان کے آخرميں تہليل )الالہ اال ( کوقراردياگياتکبيرکونہيں اورشروع‬ ‫ميں تکبيرکورکھاگياہے تہليل کونہيں‪،‬اس کی وجہ ہے کہ‪ :‬خداوندعالم يہ چاہتاہے کہ آغازاورانجام اس کے نام وذکر سے‬ ‫ہوناچاہئے‪ ،‬تکبيرکے شروع ميں لفظ “ﷲ”ہے اورتہليل کے آخرميں بھی لفظ “ﷲ ”ہے پس اذان کاپہاللفظ بھی “ﷲ”ہے‬ ‫اورآخری لفظ بھی اسی لئے اذان کے شروع ميں تکبيرکواورآخرميں تہليل کوقراردياگياہے ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢۵٨‬‬ ‫حضرت امام حسين فرماتے ہيں کہ‪ :‬ہم مسجد ميں بيٹھے ہوئے تھے کہ مسجدکی مينارسے مو ٔذن کی آوازبلندہوئی اوراس نے‬ ‫“ ﷲ اَکبَ َ‬ ‫ر‪،‬ﷲُ اَ کبَر” کہا تو اميرالمو منين علی ابن ابی طالب اذان کی آواز سنتے ہی گريہ کرنے لگے ‪ ،‬انھيں روتے ہوئے‬ ‫ٔ‬ ‫ديکھ کر ہماری بھی آنکھوں ميں آنسوں اگئے ‪،‬جيسے ہی مو ذن نے اذان تمام کی توامام )عليه السالم( ہمارے جانب متوجہ‬ ‫ہوئے اور فرمايا ‪:‬کيا تم جانتے ہو کہ مو ٔذن اذان ميں کياکہتا ہے اوراس کاہرکلمہ سے کيارازاورمقصدہوتاہے؟ ہم نے عرض‬ ‫کيا ‪ :‬ﷲ اور اس کے رسول اوروصی پيغمبر ہم سے بہتر جانتے ہيں‪،‬پسآپ)عليه السالم( نے فرمايا ‪:‬‬ ‫لوتعلمون مايقول‪:‬لضحکتم قليال َو ِلبَ َکيْتم کثراً۔ اگر تمھيں يہ معلوم ہوجائے کہ مو ٔذن اذان ميں کيا کہتا ہے توپھر زندگی بھر کم‬ ‫ہنسيں گے اور زياده روئيں گے ‪ ،‬اس کے بعد موال ئے کا ئنات اذان کی تفسيراوراس کے رازواسراربيا ن کرنے ميں مشغول‬ ‫ہوگئے اورفرمايا‪:‬‬ ‫” َ ّٰ‬ ‫ﷲُ اَ ْکبَر“‬ ‫اس کے معنی بہت زياده ہوتے ہيں جن ميں چندمعنی يہ بھی ہيں کہ جب مو ٔذن “ﷲ اکبر” کہتاہے تووه خداوندمتعا ل کے قديم‬ ‫‪ ،‬موجودازلی وابدی ‪ ،‬عالم ‪،‬قوی ‪ ،‬قادر‪،‬حليم وکريم‪ ،‬صاحب جودوعطا اورکبريا ہونے کی خبرديتاہے ل ٰہذاجب مو ٔذن پہلی‬ ‫مرتبہ “ﷲ اکبر” کہتاہے تواس کے يہ معنی ہوتے ہيں‪:‬‬ ‫خداوه ہے کہ جوامروخلق کامالک ہے ‪،‬تمام امروخلق اس کے اختيارميں ہيں ہرچيزاس کی مرضی واراده سے وجودميں اتی‬ ‫ہے اوراسی کی طرف بازگشت کرتی ہے‪ ،‬خداوه ہے کہ جوہميشہ سے ہے اورہميشہ رہے گا‪،‬جوہرچيزے سے پہلے بھی‬ ‫تھااورہرچيزکے فناہوجانے کے بعدبھی رہے گا‪،‬اس کے عالوه دنياکی تمام چيزوں کے لئے فناہے وه ہرچيزسے پہلے بھی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫تھااورہرچيزکے بعد بھی رہے گا‪ ،‬وه ايساظاہرہے کہ جوہرشے ٔپرفوقيت رکھتاہے اورکوئی اسے درک نہيں کرسکتاہے ‪،‬وه‬ ‫باطن ہرشے ہے کہ جونہيں رکھتاہے پس وه باقی ہے اوراس کے عالوه ہرشئ کے لئے فناہے ۔‬ ‫جب موذن دوسری مرتبہ “ﷲ اکبر” کہتاہے تواسکے يہ معنی ہوتے ہيں‪ :‬العليم الخبير ‪ ،‬علم بماکان ويکون قبل ان يکون يعنی‬ ‫خداوندعالم ہرچيزکاعلم وآگاہی رکھتاہے ‪،‬وه ہراس چيزکاجوپہلے ہوچکی ہے اورجوکام پہلے ہوچکاہےپہلے سے علم‬ ‫رکھتاتھااورجوکچھ آئنده ہونے واالہے ياوجودميں انے واالہے اس کابھی پہلے ہی علم رکھتاہے ۔‬ ‫جب تيسری مرتبہ “ﷲ اکبر” کہتاہے تواسکے يہ معنی ہيں‪ :‬القادرعلی کل شئيقدرعلی مايشاء ‪،‬القوی لقدرتہ‪،‬المقتدرعلی خلقہ‪،‬‬ ‫القوی لذاتہ‪ ،‬قدرتہ قائمة علی اشياء کلّہا‪،‬۔ خداوه ہے کہ جوہرشے ٔپراختياروقدرت رکھتاہے ‪،‬وه اپنی قدرتے بل بوتے پرسب‬ ‫سے قوی ہے ‪ ،‬وه اپنے مخلوق پرصاحب قدرت ہے ‪،‬وه بذات خودقوی ہے اوريہ قدرت اسے کسی عطانہيں ہے ‪،‬اس قدرت‬ ‫تمام پرمحکم وقائم ہے ‪،‬وه جب چاہے کسی امرکاحکم دے سکتاہے اورجيسے ہی وه کسی امرکافيصلہ کرتاہے اوراس کے‬ ‫ہونے اراده کرتاہے تووه صرف “ ُکن ”يعنی ہوجاکہتاہے اوروه چيزہوجاتی ہے۔‬ ‫جب چوتھی مرتبہ “ﷲ اکبر” کہتاہے توگوياوه __________يہ کہتاہے‪ :‬خداوندعالم حليم وبردبارہے اوربﮍا کرامت واالہے‬ ‫‪،‬وه ايسااس طرح مددوہمراہی کرتاہے کہ انسان کواس کی جبربھی نہيں ہوتی ہے اورنہ وه دکھائی ديتاہے ‪،‬وه عيوب اس‬ ‫طرح چھپاتاہے کہ انسان اپنے آپ کوبے گناه محسوس کرتاہے ‪،‬وه اپنے حلم وکرم اورصفاحت کی بناپرجلدی سے عذاب بھی‬ ‫نازل نہيں کرتاہے۔ ” ﷲ اکبر”کے ايک معنی بھی ہيں کہ خداوندعالم مہربان ہے ‪،‬عطاوبخشش کرنے واالہے اورنہايت کريم‬ ‫ہے ۔‬ ‫” ﷲ اکبر”کے ايک معنی بھی ہيں کہ خداوندعالم جليل ہے اور جن صفات کامالک ہے صفت بيان کرنے والے بھی اس‬ ‫موصوف کامل صفت بيان نہيں کرسکتے ہيں اوراس کی عظمت وجاللت کی قدرکوبھی بيان نہيں کرسکتے ہيں‪،‬خداوندعالم‬ ‫علووکبيرہے ‪،‬صفت بيان کرنے صفات کے بيان کرنے بھی اسے درک نہيں کرسکتے ہيں پس مو ٔذن “ﷲ اکبر”کے ذريعہ يہ‬ ‫بيان کرتاہے ‪:‬‬ ‫اعلی واج ّل ہے‪،‬سب سے بلندوبرترہے ‪ ،‬وه اپنے‬ ‫خداوندعالم‬ ‫خلقہ‬ ‫اعمال‬ ‫الی‬ ‫بہ‬ ‫الحاجة‬ ‫‪،‬‬ ‫عباده‬ ‫عن‬ ‫وھوالغنی‬ ‫‪،‬‬ ‫اعلی وجل‬ ‫ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫بندوں سے بے نيازہے ‪،‬وه بندوں کی عبادت سے بے نياز ہے ) وه اس چيزکامحتاج نہيں ہے کہ بندے اس کی عبادت کريں‬ ‫‪،‬کوئی اس کی عبادت کرے وه جب بھی خداہے اورکوئی اس کی نہ کرے وه تب بھی خداہے ‪،‬ہماری عبادتوں سے اس کی‬ ‫خدائی ميں کوئی زيادتی نہيں ہوسکتی ہے اورعبادت نہ کرنے سے اس کی خدائی ميں کوئی کمی نہيں آسکتی ہے (۔‬ ‫”اشھدان ال ا ٰلہ ٰاالّﷲ“‬ ‫جب پہلی مرتبہ اس کلمہ شہادت کوزبان پرجاری کرتاہے تواس چيزکااعالن کرتاہے کہ پر وردگا ر کے يکتا ويگا نہ ہونے‬ ‫کی گواہی دل سے معرفت وشناخت کے ساتھ ہونی چا ہئے دوسرے الفاظ ميں يہ کہاجائے کہ مو ٔذن يہ کہتاہے کہ‪ :‬ميں يہ‬ ‫جانتاہوں کہ خدا ئے عزوجل کے عالوه کوئی بھی ذات الئق عبادت نہيں ہے اور ﷲ تبارک‬ ‫وتعالی کے عالوه کسی بھی‬ ‫ٰ‬ ‫چيزکومعبودومسجودکے درجہ ديناحرام اورباطل ہے اورميں اپنی اس زبان سے اقرارکرتاہوں کہ ﷲ کے عالوه کوئی‬ ‫معبودنہيں ہے اوراس چيزکی گواہی ديتاہوں کہ ﷲ کے عالوه ميری کوئی پناگاه نہيں ہے اورﷲ کے عالوه کوئی بھی ذات‬ ‫ہميں شريرکے شرسے اورفت نہ گرکے فت نہ سے نجات دينے واالنہيں ہے ۔‬ ‫جب دوسری مرتبہ “اشھدان ٰ‬ ‫الالہ االّﷲ”کہتاہے تواس کی معنی اورمراديہ ہوتے ہيں ‪ :‬ميں گواہی ديتاہوں کہ خدا کے عالوه‬ ‫کو ئی ہدا يت کر نے واال موجود نہيں ہے اوراس کے کوئی راہنمانہيں ہے ‪،‬ميں ﷲ کوشاہدقرارديتاہوں کہ اس کے عالوه‬ ‫ميراکوئی معبودنہيں ہے ‪،‬ميں گواہی ديتاہوں کہ تمام زمين وآسمان اورجت نے بھی ان انس وملک ان ميں رہتے ہيں اوران‬ ‫ميں تمام پہاڑ‪ ،‬درخت ‪،‬چوپايہ ‪،‬جانور‪،‬درندے ‪،‬اورتمام خشک وترچيزيں ان سب کاﷲ کے عالوه کوئی خالق نہيں ہے ‪،‬اورﷲ‬ ‫کے عالوه نہ کوئی رازق ہے اورنہ کوئی معبود‪،‬نہ کوئی نفع پہنچانے واالہے اورنہ نقصان پہنچانے واال‪،‬نہ کوئی قابض ہے‬ ‫نہ کوئی باسط‪،‬نہ کوئی معطی ہے اورنہ کوئی مانع ‪،‬نہ کوئی دافع ہے اورنہ کوئی ناصح ‪،‬نہ کوئی کافی ہے اورنہ کوئی‬ ‫شافی ‪،‬نہ کوئی مقدم ہے اورنہ کوئی مو ٔخر‪،‬بس پروردگارہی صاحب امروخلق ہے اورتمام چيزوں کی بھالئی ﷲ تبارک‬ ‫وتعالی کے اختيارميں ہے جودونوں جہاں کارب ہے ۔‬ ‫ٰ‬ ‫” اشھدان محمدًا رسول ﷲ“‬ ‫جب مو ٔذن پہلی مرتبہ اس کلمہ کوزبان پرجاری کرتاہے تواس چيزکااعالن کرتاہے کہ ‪:‬ميں ﷲ کوشاہدقرارديتاہوں گواہی‬ ‫ديتاہوں کہ ﷲ کے عالوه کوئی معبودنہيں ہے اورحضرت محمد )صلی ﷲ عليه و آله( اس کے بندے اور اس کے رسول‬ ‫وتعالی نے تمام لوگوں کی ہدايت کے دنياميں بھيجاہے ‪،‬انھيں دين‬ ‫وپيامبر ہيں اورصفی ونجيب خداہيں‪،‬کہ جنھيں ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫حق دياہے تاکہ اسے تمام اديان پرآشکارکريں خواه مشرکين اس دين کوپسندنہ کريں ‪،‬اورميں زمين وآسمان ميں تمام انبياء‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ومرسلين ا ورتمام انس وملک کوشاہدقرارديتاہوں کہ ميں يہ گواہی دے رہاہوں کہ حضرت محمد )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(سيداالولين واآلخرين ہيں۔‬ ‫جب مو ٔذن دوسری مرتبہ کلمہ“ اشھدان محمدًا رسول ﷲ ” کوزبان جاری کرتاہے تووه يہ کہتاہے کہ کسی کوکسی کی‬ ‫ضرورت نہيں ہے بلکہ سب کوﷲ کی ضرورت ہے‪ ،‬وه خداکہ جوواحدو قہارہے اوراپنے کسی بندے بلکہ پوری مخلوق ميں‬ ‫کسی کامحتاج نہيں ہے ‪،‬خداوه ہے کہ جس نے لوگوں کے درميان ان کی ہدايت اور تبليغ وترويج دين اسالم کے لئے حضرت‬ ‫محمد )صلی ﷲ عليه و آله(بشيرونذيراورروشن چراغ بنا کر بھيجا ہے‪ ،‬اب تم ميں جو شخص بھی حضرت محمد )صلی ﷲ‬ ‫عليه و آله(اوران کی نبوت ورسالت کاانکا ر کرے اور آنحضرتپرنازل کتاب )قرآن مجيد( پر ايمان نہ الئے توخدا ئے ع ّزوجل‬ ‫اسے ہميشہ کے لئے واصل جہنم کردے گا اور وه ہرگزناراپنے آپ کونارجہنم سے نجات دالسکے‬ ‫علی الصال ة“‬ ‫”ح ّی ْ‬ ‫جب پہلی مرتبہ اس کلمہ کوزبان کہتاہے تواس کی مراديہ ہوتی ہے ‪:‬اے لوگو! اٹھو اور بہتر ين عمل )نماز( کی طرف دوڈو‬ ‫اور اپنے پرور دگا ر کی دعوت کو قبول کرو اور اپنی نجش کی خاطراپنے رب کی بارگاه ميں جلدی پہنچو‪،‬اے لوگو!‬ ‫اٹھواور وه آگ جوتم نے گناہوں کو انجام دينے کی وجہ سے اپنے پيچھے لگائی ہے اسے نماز کے ذريعہ خاموش‬ ‫کرو‪،‬اوراپنے آپ کوگناہوں سے جلدی آزادکراؤ‪ ،‬صرف خداوندعالم تمھيں برائيوں سے پاک کر سکتاہے ‪،‬وہی تمھارے‬ ‫گناہوں کومعاف کرسکتاہے ‪،‬وہی تمھاری برائيوں کونيکيوں سے بدل سکتاہے کيونکہ وه بادشاه کريم ہے ‪،‬صاحب فضل‬ ‫وعظيم ہے ۔‬ ‫علی الصال ة ” کہتاہے تواس کے يہ معنی ہوتے ہيں‪:‬اے لوگو!اپنے رب سے مناجات کے لئے‬ ‫جب دوسری مرتبہ “ ح ّی ْ‬ ‫اٹھواوراپنی حاجتوں کواپنے رب کی بارگاه ميں بيان کرو‪،‬اپنی باتوں کواس تک پہنچاؤاوراس سے شفاعت طلب کرو‪،‬اس‬ ‫کاکثرت سے ذکرکرو‪،‬دعائيں مانگواورخضوع وخشوع کے ساتھ رکوع وسجودکرو۔‬ ‫علی الفالح“‬ ‫”ح ّی ْ‬ ‫جب مو ٔذن پہلی مرتبہ اس کلمہ کوکہتاہے تووه لوگوں سے يہ کہتا ہے ‪ :‬اے ﷲ کے بندو !راه بقا کی طرف آجاؤ کيونکہ اس‬ ‫راستے ميں فنانہيں ہے اوراے لوگو!راه نجات کی طرف آجاؤ کيونکہ اس راه ميں کوئی ہال کت وگمرا ہی نہيں ہے ‪،‬اے‬ ‫لوگو!راه زندگانی کی طرف آنے ميں جلدی کروکيونکہ اس راه ميں کوئی موت نہيں ہے‪ ،‬اے لوگو! صاحب نعمت کے پاس‬ ‫آجاؤکيونکہ اس کی نعمت ختم ہونے والی نہيں ہے ‪،‬اس بادشاه کے پاس آجاؤکہ جس کی حکومت ابدی ہے جوکبھی ختم نہيں‬ ‫ہوسکتی ہے ‪،‬خوشحالی کی طرف آؤکہ جس کے ساتھ کوئی رنج وغم نہيں ہے ‪،‬نورکی طرف آؤکہ جس کے ساتھ کوئی‬ ‫تاريکی نہيں ہے ‪،‬بے نيازکی طرف آؤکہ جس کے ساتھ فقرنہيں ہے ‪،‬صحت کی طرف آؤکہ جس کے ساتھ کوئی مريضی‬ ‫نہيں ہے ‪،‬قوت کے پاس آؤکہ جس کے ساتھ کوئی ضعف نہيں ہے اوردنياوآخرت کی خوشحالی کی طرف قدم بﮍھاؤاورنجات‬ ‫آخرت کاسامان کرو۔‬ ‫علی الفالح ”کہتاہے تواس کی مراديہ ہوتی ہے ‪:‬اے لوگو!آؤاوراپنے آپ کو خدا سے قريب کرو اورجس‬ ‫جب دوسری “ح ّی ْ‬ ‫چيزکی تمھيں دعوت دی گئی ہے اس کی طرف چلنے ميں ايک دوسرے پر سبقت حاصل کرو اور فالح ورستگاری کے‬ ‫ساتھ حضرت محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله()اورائمہ اطہار (کے قرب وجوارجگہ حاصل کرو ۔‬ ‫”ﷲ اکبر“‬ ‫جب مو ٔذن اذان کے آخرميں پہلی مرتبہ “ ﷲ اکبر ” کہتاہے تووه يہ جملہ کہہ کر اس بات کا اعال ن کرتا ہے کہ ذا ت‬ ‫پروردگار اس سے کہينزيادہبلند وبرتر ہے کہ اس کی مخلوق ميں کوئی يہ جانے اس کے پاس اپنے اس بندے کے لئے‬ ‫کياکيانعمت وکرامتيں ہيں جو اس کی دعوت پرلبيک کہتاہے ‪،‬اس کی پيروی کرتاہے‪،‬اس کے ہرامرکی اطاعت کرتاہے ‪،‬اس‬ ‫کی معرفت پيداکرتاہے ‪،‬اس کی بندگی کرتاہے ‪،‬اس کا ذکرکرتاہے ‪،‬اس سے انس ومحبت کرتاہے ‪،‬اسے اپنی پناگاه‬ ‫قرارديتاہے ‪،‬اس پراطمينان کامل رکھتاہے ‪،‬اپنے دل ميں اس کاخوف پيداکرتاہے اوراس کی مرضی پرراضی رہتاہے تو خدا‬ ‫ومتعال اس پراپنا رحم وکرم نازل کرتا ہے۔ جب مو ٔذن اذان کے آخرميں دوسری مرتبہ “ ﷲ اکبر ” کہتاہے تووه اس کلمہ‬ ‫کے ذريعہ اس بات کااعالن کرتا ہے کہ ذا ت پروردگار اس سے کہينزياده بلند وبرتر ہے کہ اس کی مخلوق ميں کوئی يہ‬ ‫جانے اس کے پاس اپنے اپنے اولياء اوردوستوں کے لئے کس مقدارميں کرامتيں موجودہيں اور اپنے دشمنوں کے لئے اس‬ ‫کے پاس کت ناعذاب وعقوبت ہے ‪،‬جواس کی اس کے رسول کی دعوت پرلبيک کہتاہے اورحکم خداورسول کی اطاعت‬ ‫کرتاہے ان کے لئے اس کی عفووبخشش کت نی ہے اورکت نی نعمتيں ہيں اورشخص اس کے اوراس کے رسول کے حکم‬ ‫کوماننے سے انکارکرتاہے اس کے لئے کت نابﮍاعذاب ہے ۔‬ ‫” َالاِ ٰلہ اِ ّالﷲ“‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫جب مو ٔذن “ َالاِ ٰلہ اِ ّالﷲ ” کہتاہے تو اس کے يہ معنی ہوتے ہيں‪:‬خدا وند عالم لوگو ں کے لئے رسول ورسالت اوردعوت‬ ‫وبيان کے ذريعہ ايک دليل قاطع ہے کيونکہ اسنے لوگوں کی ہدايت کے لئے رسول ورسالت کابہترين انتظام کياہے ‪،‬پس‬ ‫جواس کی دعوت پرلبيک کہتاہے اس کے لئے نوروکرامت ہے اورجوانکارکرتاہے چونکہ خداوندعالم دوجہاں سے بے‬ ‫نيازہے لہٰذااس کاحساب کرنے ميں بہت جلدی کرتاہے ۔‬ ‫”قدقامت الصالة“‬ ‫جب بنده نمازکے لئے اقامت کہتاہے اوراس ميں “ قدقامت الصالة ”کہتاہے تواس کے يہ معنی ہيں‪:‬‬ ‫حان وقت الزيارة والمناجاة ‪ ،‬وقضاء الحوائج ‪ ،‬ودرک المنی والوصول الی ﷲ عزوجل والی کرامة وغفرانہ وعفوه ورضوانہ‬ ‫يعنی پروردگارسے مناجاتاوراس سے مالقات کرنے ‪،‬حاجتوں کے پوراہونے ‪،‬آرزو ٔں کے پہنچنے ‪،‬بخشش‪،‬کرامت‬ ‫‪،‬خوشنودی حاصل کرنے کاوقت پہنچ گياہے ۔ شيخ صدوق اس روايت کے بعدلکھتے ہيں‪ :‬اس حديث کے راوی نے تقيہّ ميں‬ ‫علی خيرالعمل” کا ذکر نہيں کيا ہے کہ حضرت علينے اس جملہ کياتفسيرکی ہے ليکن اس‬ ‫رہنے کی وجہ سے جملہ “ح ّی ٰ‬ ‫ّ‬ ‫خبرآخر‪:‬ان الصادق عليہ االسالم عن “حی علی خيرالعمل”‬ ‫جملہ کے بارے ميں دوسری حديثوں ميں آياہے‪ :‬روی فی‬ ‫فقال‪:‬خيرالعمل الوالية‪ ،‬وفی خبرآخرخيرالعمل بر فاطمة وولدہا عليہم السالم‪ .‬روايت ميں آيا ہے کہ حضرت امام صادق‬ ‫علی خيرالعمل”يعنی واليت اہل بيت ۔ اور‬ ‫علی خيرالعمل”کے بارے ميں سوال کيا گيا ‪ ،‬حضرت نے فرمايا ‪“ :‬ح ّی ٰ‬ ‫سے“ح ّی ٰ‬ ‫علی خيرالعمل”يعنی حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے فرزندں کی نيکيونطرف آؤ۔‬ ‫دوسری روايت ميں لکھا ہے ‪“:‬ح ّی ٰ‬ ‫‪-------‬‬‫‪ .‬نوحيد)شيخ صدوق(‪ /‬ص ‪. ٢٣٨‬۔معانی الخبار ‪/‬ص ‪ ۴١‬۔بحاراالنوار‪/ ٨١ ./‬ص ‪١٣١‬‬

‫عن محمدبن مروان عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬ا تٔدری ماتفسير“حی علی خيرالعمل” قال‪:‬قلت ال‪ ،‬قال‪:‬دعاک الی البر‪ ،‬ا تٔدری‬ ‫برّمن؟قلت ال‪ ،‬قال‪:‬دعاک الی برّفاطمة وولدہا عليہم السالم‪.‬‬ ‫محمدابن مروان سے مروی ہے کہ امام محمدباقر نے مجھ سے فرمايا‪:‬کياتم جانتے ہوکہ “حی علی خيرالعمل ”کے کيامعنی‬ ‫ہيں؟ميں نے عرض کيا‪:‬نہيں اے فرزندرسول خدا‪،‬آپ نے فرمايا‪ :‬مو ٔذن تمھيں خيرونيکی کی طرف دعوت ديتاہے ‪،‬کياتم‬ ‫جانتے ہووه خيرنيکی کياہے؟ميں نے عرض کيا‪ :‬نہيں اے فرزندرسول خدا ‪ ،‬توامام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬وه تمھيں‬ ‫حضرت فاطمہ زہرا اوران کی اوالداطہار کے ساتھ خيرونيکی کاحکم ديتاہے۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣۶٨‬‬ ‫بالل کومو ٔذن قراردينے کی وجہ‬ ‫اذان واقامت ميں شرط يہ ہے کہ مو ٔذن وقت شناس ہواورنمازکاوقت شروع ہونے کے بعداذان واقامت کہے ‪،‬وقت داخل ہونے‬ ‫سے پہلے کہی جانے والی اذان واقامت کافی نہيں ہے‪ ،‬اگروقت سے پہلے کہہ بھی دی جائے تووقت پہنچنے کے بعددوباره‬ ‫کہاجائے ‪،‬بالل وقت شناس تھے ‪،‬اورکبھی وقت سے پہلے اذان نہيں کہتے تھے اورنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(بالل کی‬ ‫اذان وآوازکودوست رکھے اسی لئے بالل کوحکم دياکرتے تھے اورکہتے تھے‪ :‬اے بالل!جيسے نمازکاوقت شروع ہوجائے‬ ‫تو مسجدکی ديوارپرجاؤاوربلندآوازسے اذان کہو۔‬ ‫ايک اورروايت ميں آياہے کہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے پاس دومو ٔذن تھے ايک بالل اوردوسرے ابن ام مکتوم ‪،‬ابن‬ ‫ام مکتوم نابيناتھے جوصبح ہونے سے پہلے ہی اذان کہہ دياکرتے تھے اورحضرت بالل طلوع فجرکے وقت اذان کہاکرتے‬ ‫تھے ‪،‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے فرمايا‪:‬‬ ‫ان ابن مکتوم يو ٔذن بليل‪ ،‬اذاسمعتم اذانہ فکلواواشربواحتی تسمعوااذان بالل‪ .‬ابن مکتوم رات ميں اذان کہتے ہيں لہٰذاجب تم ان‬ ‫کی اذان سنو تو کھانا پينا کيا کرو يہاں تک کہ تمھيں بالل کی اذان کی آوازآئے )ليکن اہل سنت نے پيغمبر کی اس حديث‬ ‫کوپلٹ دياہے __________اورکہتے ہيں کہ بالل رات ميں اذان دياکرتے تھے‪،‬اورکہتے ہيں‪:‬نبی نے فرماياہے کہ‪ :‬جب‬ ‫بالل کی اذان سنوتوکھاناپيناکرو( ۔‬ ‫‪ .‬من اليجضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص‪٢٩٧ /‬‬ ‫مو ٔذن کے مرد‪،‬مسلمان اورعاقل ہونے کی وجہ‬ ‫اذان واقامت کہنے والے کامردہوناچاہئے اورکسی عورت کااذان واقامت کہناصحيح نہيں ہے کيونکہ مردوں کاعورت کی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اذان واقامت پراکتفاکرناصحيح نہيں ہے ليکن عورت کاعورتوں کی جماعت کے لئے اذان واقامت ذان جماعت کہناصحيح‬ ‫اورکافی ہے ليکن شرط يہ ہے کہ اذان واقامت کہنے والی عورت آوازات نی بلندرہے کہ اس کی آوازمردوں کے کانوں تک‬ ‫نہ پہنچے کيونکہ عورتوں کواپنی آوازکوبھی پروده ميں رکھناچاہئے اسی لئے عورت عورت کوچاہئے کہ جہری نمازوں‬ ‫اگرنامحرم آوازکوسن رہاہوتوآہستہ پﮍھے جيساکہ ہم رازجہرواخفات ميں ذکرکريں گے۔‬ ‫زاراه سے مروی ہے کہ ميں نے امام باقر سے پوچھا‪:‬کياعورتوں کوبھی اذان کہناچاہئے ( ؟امام)عليه السالم( )عليه‬ ‫السالم(نے فرمايا‪:‬ان کے لئے شہادتين کہناہی کافی ہے ۔) ‪ ١‬قال الصادق عليہ السالم‪:‬ليسعلی النساء ا ٔذان والاقامة والجمعة‬ ‫والجماعة‪ .‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬عورتوں کے لئے نہ اذان ہے نہ اقامت ‪،‬اورنہ جمعہ ہے نہ جماعت۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ٢٩٨‬تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ۵٨‬‬

‫مو ٔذن کے لئے ضروری ہے کہ عاقل وباايمان ہواگرکوئی مجنون ياغيرمومن اذان يااقامت کہے تووه قبول نہيں ہے کيونکہ‬ ‫قلم تکليف اٹھالياگياہے البتہ مو ٔذن کابالغ ہوناشرط نہيں ہے بلکہ نابالغ بچہ کی اذان واقامت صحيح ہے جبکہ وه بچہ مميزہو۔‬ ‫اذان کے کلمات کی تکرارکرنے کومستحب قراردئے جانے کی وجہ‬ ‫جولوگ اذان کی آوازکوسن رہے ہيں ان کے لئے مستحب ہے کہ جب مو ٔذن اذان کہہ رہاہوتو اس وقت خاموش رہيں اور‬ ‫اذان کے کلمات کوغورسے سنيں اورمو ٔذن کی زبان سے اداہونے والے کلموں کی تکرارکريں‪،‬يہاں تک اگرانسان بيت‬ ‫الخالميں بھی اذان کی آوازسنے تواس کی تکرارکرے‬ ‫قال ابوعبدﷲ عليہ السالم ‪:‬ان سمعت االذان وانت علی الخالء فقل مثل مايقول المو ٔذن والتدع ذکراﷲ عزوجل فی تلک الحال‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬اگرتم بيت الخالميں ہواوراذان کی آوازسنوتومو ٔذن کے کلمات کی تکرارکرواوراس حال ميں‬ ‫ذکرخداسے غفلت نہ کرو۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٨۴‬‬ ‫سليمان ابن مقبل مدائنی سے روايت ہے وه کہتے ہيں کہ ميں نے امام موسی کاظمسے پوچھا‪ :‬حديث ميں آياہے ‪:‬مستحب ہے‬ ‫کہ جب مو ٔذن اذان کہے تو اذان سننے واال اذان کے کلموں کی تکرارکرے خواه اذان کوسننے واالبيت الخالميں ہی کيوں نہ‬ ‫بيٹھاہو ‪،‬اس کے مستحب ہونے کی کياوجہ ہے ؟امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫ان ذلک يزيدفی الرزق‬ ‫( کيونکہ اذان کے کلموں کی حکايت اورتکرارکرنے سے رزق وروزی ميں اضافہ ہوتاہے ۔) ‪) ٢ . ٣‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج‬ ‫‪/٣‬باب االذان واالقامة‪(٣ ) .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨۴‬ص ‪ ) ١٧۴‬ايک شخص حضرت امام جعفرصادق کی خدمت ميں آياکہا‪:‬اے‬ ‫ميرے موالميں بہت ہی غريب ہوں اپ مجھے کوئی ايساچيز بتائيں کہ جس سے ميری يہ فقيری ختم ہوجائے ‪،‬امام )عليه‬ ‫السالم(نے اس فرمايا ‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫ا ٔﱢذ ْن ُکلّماسمعت االذان کمايو ٔذن المو ٔذن۔ جب بھی تم اذان کی آوازسنوتو اسے مو ٔذن کی طرح تکرارکرو۔‬ ‫‪ .‬مکارم االخالق ‪/‬ص ‪٣۴٨‬‬ ‫اذان واقامت کانقطہ آٔغاز‬ ‫اذان واقامت کہ جس کی اہميت اوراس کے فضائل وفوائد اوراس کے احکام کے متعلق آپ نے ات نی زياده نے مالحظہ‬ ‫فرمائيں ان چيزوں سے يہ معلوم ہوتاہے کہ اس نقطہ آٔغازوحی ٰالہی ہے ‪،‬تمام علماء وفقہائے شيعہ اثناعشری کااس بات اتفاق‬ ‫وعقيده ہے کہ دين اسالم ميں اذان واقامت کاآغازوحی ٰالہی کے ذريعہ ہواہے کيونکہ ہمارے پاس کے بارے ميں‬ ‫معتبرروايتيں موجودہيں جواس چيزکوبيان کرتی ہيں کہ اذان اقامت کاآغازاورمشروعيت وحی کے ذريعہ ہوئی ہے ليکن‬ ‫علمائے اہل سنت اکثريت اس بات پرعقيده رکھتی ہے کہ اذان واقامت کاعبدﷲ ابن زيدکے خواب کے ذريعہ ہواہے جسے‬ ‫حديث رو ٔياکانام دياگياہے اورکہتے ہيں کہ اذان واقامت کے متعلق ﷲ کی طرف کوئی نازل نہيں ہوئی ہے۔‬ ‫وه احاديث جووحی کواذان واقامت کے نقطہ آغازقرارديتی ہيں‪ :‬عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬لما اسری برسول ﷲ صلی ﷲ‬ ‫عليہ وآلہ وسلم الی السماء فبلغ البيت المعموروحضرت الصالة ّ‬ ‫فاذن جبرئيل عليہ السالم واقام فتقدم صلی ﷲ عليہ ( وآلہ وسلم‬ ‫وصف المالئکة والنبيون خلف محمدصلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم۔) ‪ ٢‬حضرت امام باقرفرماتے ہيں‪:‬جب شب معراج پيغمبراسالم‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫)صلی ﷲ عليه و آله(کو آسمان کی سيرکرائی گئی اوربيت المعمورميں پہنچے ‪،‬جب وہاں نمازکاوقت پہنچاتوﷲ کی طرف‬ ‫سے جبرئيل امين )عليه السالم(نازل ہوئے اوراذان واقامت کہی ‪،‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نمازجماعت کے لئے آگے‬ ‫کھﮍے ہوئے اورانبياء ومالئکہ نے حضرت محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله(کے پيچھے صف ميں کھﮍ ے ہوکرجماعت‬ ‫سے نمازپﮍھی ۔ ‪)٢‬کافی )باب بدء االذان واالقامة(۔ من اليحضره الفقيہ)باب االذان االقامة( )‬ ‫‪-------‬‬‫۔استبصار‪/‬ج ‪)١‬عدد فصول االذان واالقامة(‪/‬ص ‪ ٣٠۵‬۔ تہذيب ‪/‬ج ‪)١‬باب عددفصول االذان ‪ .‬واالقامة(‪/‬ص ‪۶٠‬‬

‫زراره اورفضيل ابن يسارنے امام محمدباقر سے روايت کی ہے جسميں آپ فرماتے ہيں‪ :‬جب شب معراج نبی اکرم )صلی ﷲ‬ ‫عليه و آله(کو آسمان کی سيرکرائی گئی اوربيت المعمورميں پہنچے اورنمازکاوقت پہنچاتوﷲ کی طرف سے جبرئيل امين‬ ‫)عليه السالم(نازل ہوئے اوراذان واقامت کہی ‪،‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نمازجماعت کے لئے آگے کھﮍے ہوئے‬ ‫اورانبياء ومالئکہ نے آنحضرتکے پيچھے جماعت سے نمازپﮍھی ‪،‬ہم نے امام باقر سے پوچھا‪:‬جبرئيل نے کس طرح اذان‬ ‫ّ‬ ‫اشہدان‬ ‫واقامت کہی؟آپ )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬اس طرح سے‪ :‬ﷲ اکبر‪،‬ﷲ اکبر‪،‬ا شٔہدان الالہ ّاالﷲ ‪،‬ا شٔہدان الالہ ّاالﷲ ‪،‬‬ ‫ّ‬ ‫اشہدان محمدارسول ﷲ ‪،‬ح ّی علی الصالح‪ ،‬ح ّی علی الصالح‪،‬ح ّی علی الفالح‪،‬ح ّی علی الفالح‪،‬ح ّی علی‬ ‫محمدارسول ﷲ ‪،‬‬ ‫خيرالعمل ‪،‬ح ّی علی خيرالعمل ‪ ،‬ﷲ اکبر‪،‬ﷲ اکبر‪،‬الالہ ّاالﷲ‪،‬الالہ ّاالﷲ۔ اوراقامت بھی اذان کی طرح کہی بس ات نے فرق‬ ‫کے ساتھ کہ“ح ّی علی خيرالعمل” اور“ﷲ اکبر”کے درميان “ قدقامت الصالة ‪،‬قدقامت الصالة ” کہا۔ امام صادق فرماتے ہيں‬ ‫کہ‪:‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے بالل ‪ /‬کو اذان کی تعليم دی اور پيغمبرکے زمانہ ميں اسی طرح اذان ہوتی رہی يہاں‬ ‫تک کہ آنحضرت اس دنياسے ( رخصت ہوگئے ۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬استبصار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ . ٣٠۵‬۔ تہذيب ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ۶٠‬‬ ‫علی رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم کان راسہ فی‬ ‫باالذان‬ ‫السالم‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬لماہبط جبرئيل عليہ‬ ‫ٰ‬ ‫حجرعلی عليہ السالم فاذن جبرئيل واقام فلما انبتہ رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم قال‪:‬ياعلی سمعت ؟قال‪:‬نعم ‪،‬قال حفظت‬ ‫؟قال‪:‬نعم ( ‪،‬قال‪:‬ادع لی بالالًنعلمہ فدعاعلی عليہ السالم بالالًفعلمہ۔) ‪١‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جس وقت جبرئيل اذان لے کر نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(پرنازل ہوئے تواس وقت آنحضرت‬ ‫)کعبہ کے سايہ ميں(امام علی )عليه السالم(کے زانوئے اقدس پرسر پررکھے ہوئے آرام کررہے تھے ‪،‬جبرئيلنے اذان‬ ‫واقامت کہی ‪،‬جيسے رسول ﷲ )صلی ﷲ عليه و آله(بيدارہوئے اورکہا‪:‬ياعلی)عليه السالم(!جبرئيل نے جوکچھ مجھ سے‬ ‫کہاکياوه سب کچھ تم نے بھی سناہے؟حضرت علينے جواب ديا‪:‬جی ہاں‪،‬آنحضرت نے کہا‪:‬کيااسے حفظ کيا؟ فرمايا‪:‬جی‬ ‫ہاں‪،‬اس کے بعدآنحضرت نے کہا‪:‬اے علی )عليه السالم(!بالل کوبالؤاورانھيں اس کی تعليم دو‪،‬امام علی نے بالل‬ ‫کوباليااورانھيں اذان کی تعليم دی۔ وه اذان واقامت جوجبرئيل نے شب معراج کہی تھی خودنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے‬ ‫لئے کہی تھی ليکن جب دوسری مرتبہ اذان واقامت لے کرنازل ہوئے تووه لوگوں تک پہچانے اوراسے شرعی قراردينے‬ ‫کے لئے لے کرنازل ہوئے ۔‬ ‫‪)١‬کافی )باب بدء االذان واالقامة(ج ‪/٣‬ص ‪ ٣٠٢‬۔من اليحضره الفقيہ)باب االذان )‬ ‫‪ .‬واالقامة(‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٨١‬‬ ‫احاديث اہل سنت‬ ‫علمائے اہل سنت والجماعت کی کتابوں ميں ايسی احاديث موجودہيں جواس بات کوبيان کرتی ہيں کہ اذان واقامت کاآغازوحی‬ ‫پروردگارکے ذريعہ ہواہے اورحديث رؤياکوباطل اوربے بنيادقرارديتی ہيں‬ ‫شہاب الدين ابن حجرعسقالنی “فتح الباری ”ميں لکھتے ہيں‪ّ :‬‬ ‫ان االذان شرع بمکة قبل الہجرة‬ ‫ہجرت سے پہلے مکہ ميں اذان کا شرعی طورسے حکم نازل ہوچکاتھاکيونکہ طبرانی نے سالم ابن عبدﷲ ابن عمرنے اپنے‬ ‫والدسے يہ روايت نقل کی ہے‪ :‬لما اسری بالنبی صلی ﷲ عليہ وسلم اوحی ﷲ اليہ االذان فنزل بہ فعلمہ بالال‪ .‬جسوقت نبی اکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(معراج پرگئے تو خداوندعالم نے ان پروحی کے ( ذريعہ اذان نازل کی اورآنحضرت )زمين پر(اذان لے‬ ‫ض ْ‬ ‫کرنازل ہوئے اوراس کی بالل کوتعليم دی ۔) ‪ ( ١‬عن انس ّ‬ ‫ت‬ ‫‪:‬ان جبرئيل اَ َم َرالنّبی صلّی ﷲ عليہ وسلم ِب‬ ‫االذان حين فُ ِر َ‬ ‫ِ‬ ‫الصّالةُ‪ ٢ ).‬انس سے مروی ہے‪:‬جب نمازواجب ہوئی توجبرئيل نے نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کواذان کاحکم ديا۔‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬فتح الباری شرح بخاری ‪/‬ج ‪//٢‬ص ‪)١ . ( ۶٢‬فتح الباری شرح بخاری ‪/‬ج ‪//٢‬ص ‪) ۶٢‬‬

‫( عن عائشة‪:‬لما اُسری بی ّ‬ ‫صلّ ْي ُ‬ ‫ت‪ ٣ ).‬عائشہ سے روايت ہے کہ‪:‬نبی اکرم‬ ‫اذن جبرئيل فظنّت المالئکة انّہ يصلّی بہم فق ّد َمنِی فَ َ‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(نے فرماياہے ‪:‬جب مجھے معراج پرلے جاياگياتووہاں جبرئيل )عليه السالم(نے نمازکے لئے اذان کہی‬ ‫تومالئکہ نے گمان کياکہ پيغمبر ہمارے ساتھ نمازپﮍھناچاہتے ہيں ليکن انھوں نے مجھے آگے کيا‪،‬پھرميں نے نمازپﮍھی ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)٣ .‬فتح الباری ابن حجرعسقالنی‪/‬ج ‪//٢‬ص ‪ ۶٢‬۔د ّر منثور)جالل الدين سوطی(‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪) ١۵۴‬‬

‫بزازنے عليسے روايت کی ہے‪:‬جب خداوندعالم نے اپنے رسول کواذان کی تعليم دينے کااراده کياتوجبرئيل نبی اکرم )صلی‬ ‫ﷲ عليه و آله(کے لئے ايک براق نامی سواری لے کرآئے اور آنحضرت اس پرسوارہوئے اورجيسے ہی اس حجاب تک‬ ‫پہنچے کہ جوخدائے رحمن سے مالہواتھا‪،‬ايک فرشتہ اس پرده سے باہرآيااوراس نے “ﷲ اکبر‪،‬ﷲ اکبر”کہاتوپردے کے‬ ‫پيچھے سے آوازآئی‪:‬ميرابنده صحيح کہتاہے ‪،‬ميں ہی سب سے بﮍاہوں ‪ ،‬ميں ہی سب سے بﮍاہوں اس کے بعدملک نے‬ ‫“اشہدان الالہ االﷲ”کہاتوپردے کے پيچھے سے آوازآئی‪:‬ميرابنده صحيح کہتاہے ‪،‬ميں ہی معبودبرحق ہوں اورميرے عالوه‬ ‫کوئی معبودنہيں ہے اس کے بعدملک نے“اشہدان محمدارسول ﷲ ”کہاتوپردے کے پيچھے سے آوازآئی‪:‬ميرابنده صحيح‬ ‫کہتاہے ‪،‬ميں نے محمد کورسول بناکربھيجاہے اس کے بعدملک نے “حی الصالح ‪ ،‬حی علی الفالح ‪ ،‬قدقامت الصالة”‬ ‫کہااوراس کے بعد“ﷲ اکبر‪،‬ﷲ اکبر”کہاتوپردے کے پيچھے سے آوازآئی‪ :‬ميرابنده صحيح کہتاہے ‪،‬ميں ہی سب سے بﮍاہوں‬ ‫‪ ،‬ميں ہی سب سے بﮍاہوں‪،‬اس کے بعدملک نے “ الالہ االﷲ”کہاتوپردے کے پيچھے سے آوازآئی‪:‬ميرابنده صحيح کہتاہے‬ ‫‪،‬ميں ہی معبودبرحق ہوں اورميرے عالوه کوئی معبودنہيں ہے۔‬ ‫اس کے بعداس فرشتے نے آنحضرت کاہاتھ پکﮍا اور آگے بﮍھايااورتمام اہل آسمان نے کہ ( جن ميں ادم ونوح بھی تھے آپ‬ ‫کی امامت ميں نمازجماعت اداکی ۔) ‪۴‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)۴ .‬ينابيع المودة ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ۶۶‬۔درمنثور‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪) ١۵۴‬‬

‫سفيان الليل سے مروی ہے کہ‪:‬جب امام حسن )اورمعاويہ کے درميان صلح(کاواقعہ رونماہوا‪ ،‬ميں اسی موقع مدينہ ميں آپ‬ ‫کی خدمت ميں شرفياب ہوا‪،‬اس وقت آپ کے اصحاب بھی بيٹھے ہوئے تھے ‪ ،‬کافی ديرتک آپ)عليه السالم( سے باتيں ہوتی‬ ‫رہيں‪ ،‬راوی کہتاہے ‪:‬ہم نے ان کے حضورميں اذان کے بارے ميں گفتگوچھيﮍدی توہم سے ميں سے بعض لوگوں نے‬ ‫کہا‪:‬اذان کاآغاز عبدﷲ ابن زيدابن عاصم کے خواب کے ذريعہ ہواہے تو حسن ابن علی )عليه السالم(نے ان سے فرمايا‪:‬‬ ‫اذان کامرتبہ اس سے کہينزياد�� بلندبرترہے ‪،‬جبرئيل )عليه السالم(نے )شب معراج(آسمان ميں دومرتبہ اذان کہی اوراسے نبی‬ ‫اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کوتعليم دی ( اورايک مرتبہ اقامت کہی اوراسکی بھی رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله(کو تعليم دی‬ ‫۔)‪١‬‬ ‫‪)١ .‬المستدرک )حاکم نيشاپوری(‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ١٧١‬‬ ‫ان رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم عُلمّ‬ ‫”درمنثور”اور“کنزالعمال ”ميں حضرت علی سے يہ روايت نقل کی گئی ہے ( ّ‬ ‫ض ْ‬ ‫ت عليہ الصّالةُ‪ ١ ).‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کومعراج کی شب اذان کی تعليم دی گئی‬ ‫ی ِب ِہ َوفُ ِر َ‬ ‫ْر َ‬ ‫االذان ليلة اُس ِ‬ ‫اورآپ پرنمازواجب کی گئی۔‬ ‫‪)١ .‬کنزالعمال‪/‬ج ‪/ ١٢‬ص ‪/ ٣۵٠‬ح ‪ ٣۵٣۵۴‬۔درمنثور‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪) ١۵۴‬‬ ‫ابوالعالء سے مروی ہے وه کہتے ہيں کہ‪:‬ميں نے محمدابن حنفيہ سے کہا‪:‬ہم لوگ کہتے ہيں کہ اذان کاآغازايک انصاری کے‬ ‫خواب کے ذريعہ ہواہے يہ بات سنتے ہی محمدابن حنفيہ نے ايک شديدچيخ مارکرکہا‪ :‬کياتم لوگوں نے شريعت اسالم کے‬ ‫اصولوں ميں ايک اصل اوراپنے دين کی عالمتوں ميں سے ايک عالمت کوہدف قراردياہے اوريہ گمان کرتے ہوکہ يہ ايک‬ ‫انصاری کے خواب سے ہواہے جواس نے اپنی نيندميں ديکھاہے جبکہ خواب ميں سچ اورجھوٹ دونوں کاامکان پاياجاتاہے‬ ‫‪،‬کبھی باطل خياالت بھی ہوسکتے ہيں‪،‬ميں نے محمدابن حنفيہ سے کہا‪:‬يہ حديث تولوگوں کے درميان عام اورمشہورہے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪،‬انھوں نے جواب ديا‪:‬خداکی قسم يہ عقيده بالکل باطل ہے ( ۔) ‪٢‬‬ ‫ا ہل سنت کی ان مذکوره احاديث اس بات کوثابت کرتی ہيں کہ دين اسالم ميں نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی ہجرت سے‬ ‫کئی سال پہلے مکہ ميں شب معراج وحی کے ذريعہ اذان کاآغاز ہوچکا تھا اور عبدﷲ ابن زيدکے خواب کاواقعہ جونقل‬ ‫کياجاتاہے وه نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے مدينہ ہجرت کرنے کے کافی عرصہ بعدکاواقعہ ہے ۔‬ ‫‪)٢ .‬السيرة الحلبيہ ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪، ٣٠٠‬منقول ازکتاب االعتصام ‪/‬ص ‪) ٢٩‬‬ ‫حديث رؤيا‬ ‫اکثرعلمائے اہل سنت کہتے ہيں کہ اذان واقاامت کاآغازعالم رؤياميں ہواہے اوراذان واقامت کے متعلق ﷲ کی طرف سے‬ ‫کوئی وحی نازل نہيں ہوئی ہے بلکہ اذان اقامت کاآغازعبدﷲ ابن زيدکے خواب سے ہواہے جسے حديث رو ٔياکانام دياگياہے‬ ‫اورعمرابن خطاب نے اس کے خواب کی تائيدکی ہے اوروه حديث رؤيايہ ہے‪:‬‬ ‫عبدﷲ ابن زيدسے روايت ہے کہ جس وقت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے ناقوس بنانے کاحکم دياتاکہ اس کے ذريعہ‬ ‫لوگوں کونمازکے لئے جمع کياجائے ‪،‬ميں اس وقت سورہاتھاتوميں نے خواب ميں ديکھاکہ ايک شخص اپنے ہاتھ ميں ناقوس‬ ‫لئے ہوئے ميرے گردگھوم رہاہے ‪،‬ميں نے اس سے کہا‪:‬اے ﷲ کے بندے! کيايہ ناقوس بيچناپسندکروگے؟اس نے کہا‪:‬تم اس‬ ‫کا کياکروگے ؟ميں نے کہا‪:‬اس کے ذريعہ لوگوں کونمازکے لئے بالؤں گا‪،‬اس نے کہا‪:‬کياتم نہيں چاہتے ہوکہ ميں تمھيں‬ ‫ناقوس سے بہترچيزکی راہنمائی کروں؟ ميں نے کہا‪:‬ہاں!اس نے کہا‪:‬لوگوں کونمازکے لئے جمع کرنے کے لئے اس طرح‬ ‫کہو ﷲ اکبر‪،‬ﷲ اکبر‪،‬ﷲ اکبر‪،‬ﷲ اکبر‪،‬اشہدان الالہ االﷲ‪،‬اشہدان محمدارسول ﷲ‪،‬حی علی الصالح ‪،‬حی علی الصالح ‪،‬حی‬ ‫علی الفالح ‪،‬حی علی الفالح ‪ ،‬ﷲ اکبر‪،‬ﷲ اکبر‪،‬الالہ االﷲ۔ عبدﷲ ابن زيدکا کہناہے کہ جب وه شخص ميرے پاس سے جانے‬ ‫لگاتوکچھ دورچل کربوال‪ :‬اورجب تم نمازکے لئے کھﮍے ہوجاؤ تواس طرح اقامت کہو‪ :‬ﷲ اکبرﷲ اکبر‪،‬اشہدان الالہ‬ ‫االﷲ‪،‬اشہدان محمدارسول ﷲ‪،‬حی علی الصالح حی علی الفالح ‪،‬قدقامت الصالة قدقامت الصالة ‪،‬ﷲ اکبرﷲ اکبر‪،‬الالہ االﷲ ‪.‬‬ ‫عبدﷲ ابن زيدکہتاہے کہ ميں صبح ہوتے ہی نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی خدمت ميں پہنچااورجوکچھ خواب ميں‬ ‫تعالی تيرايہ خواب‬ ‫ديکھاتھا آنحضرت کے حضورميں بيان کرديا۔ پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے فرمايا‪:‬انشاء ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫سچاہے ل ٰہذابالل کے ساتھ کھﮍے ہوجاؤاورجوکچھ خواب ميں ديکھاہے وه سب بالل کويادکراؤتاکہ وه اسی طرح اذان‬ ‫کہاکريں کيونکہ بالل کی آوازتم سے بہت اچھی ہے ل ٰہذاميں بالل کے ساتھ کھﮍاہوااورانھيں اذان کی تعليم دی اوربالل نے‬ ‫اذان شروع کی۔ عبدﷲ ابن زيدکہتاہے کہ‪:‬جب بالل نے اس طرح اذان کہی اورعمرابن خطاب جواس وقت اپنے گھرميں تھے‬ ‫اذان کی آوازسنی توفوراًگھرسے باہرنکلے اورحالت يہ تھی کہ عباء مين پرگھسٹ رہی تھی ‪،‬تيزی کے ساتھ دوڈے ہوئے‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے پاس آئے اوربولے ‪:‬يارسول ﷲ!قسم اس ذات کی جس نے آپ کوپيغمبری پرمبعوث‬ ‫کياہے ميں نے بھی اسی کی طرح خواب ديکھاہے جيسے اس نے ديکھاہے ۔‬ ‫‪)١ .‬سنن ابی داؤد‪،‬کتاب الصالة‪،‬باب کيف االذان‪،‬رقم ‪/ ۴٩٩‬ص ‪) ١٢٠‬‬ ‫حديث رؤياکے بارے ميں شيعوں کانظريہ‬ ‫جيساکہ پہلے ذکرکرچکے ہيں تمام علمائے شيعہ کااس بات پراتفاق ہے کہ اذان واقامت کاآغازوحی پروردگارکے ذريعہ ہے‬ ‫‪،‬پس وحی کے عالوه کسی چيزکے ذريعہ اذان واقامت کانقطہ آغازقرارديناباطل اوربے بنيادہے ‪،‬اس بارے ميں چندنکات‬ ‫ذکرہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔غوروفکرکی بات ہے کہ جب ﷲ تبارک وتعالی نے اپنے حبيب کونماز‪،‬روزه ‪،‬حج ‪،‬زکات …اوران کے احکامات کی تعليم‬ ‫دی ہے ‪،‬توکيااس نے پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کولوگوں کونمازکی طرف دينے اوراس کے وقت پہنچنے کی اطالع‬ ‫دينے کے لئے جبرئيل امين کسی چيزکوبيان نہيں کياہوگاکہ اس طرح سے لوگوں کووقت نمازپہنچنے کی اطالع دياکرو۔‬ ‫‪٢‬۔نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(دومرتبہ اذان واقامت ک تعليم دی گئی تھی ايک مرتبہ اس وقت کہ جب آپ معراج پرگئے‬ ‫تووہاں جبرئيل نے اذان اقامت کہی اورمالئکہ وانبيائے ٰالہی نے آپ کے پيچھے نمازاداکی اوردوسری مرتبہ اس وقت زمين‬ ‫پرلے کر نازل ہوئے جب آنحضرت موالئے کائنات کے زانوئے وبارک سررکھے ہوئے آرام کررہے تھے توجبرئيل وحی‬ ‫لے کرنازل ہوئے اورفرماياکہ نمازسے پہلے اس طرح اذان واقامت کہاکرپس عبدﷲ ابن زيدکے خواب کی کوئی حقيقت نہيں‬ ‫ہے ۔‬ ‫‪٣‬۔اگراذان واقامت کی اہميت اوراس کے فضائل وفوائد کے بارے ہم نے جوروايتيں نقل کی ہيں ان سب چيزوں يہ واضح‬ ‫ہوتاہے کہ اذان کوﷲ تبارک‬ ‫تعالی کی جانب سے مشروعيت دياگياہے ورنہ اسکی دين اسالم ميں ات نی زياده اہميت نہ ہوتی ۔‬ ‫ٰ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ّ‬ ‫قومارعموا‪،‬ان النبی صلی ﷲ عليہ‬ ‫‪۴‬۔ابن عقيل نے اجماع نے دعوی کياہے‪ :‬اجتمعت الشيعة علی ان الصادق عليہ السالم لعن‬ ‫وآلہ اخذاالذان من عبدﷲ بن زيد فقال)عليہ السالم(‪:‬ينزل الوحی علی نبيکم ‪ ،‬فتزعمون انہ اخذاالاذان من عبدﷲ ابن زيد دين‬ ‫اسالم ميں وحی ٰالہی کونقطہ آغاز اذان قرارديناضروريات مذہب شيعہ ہے اورعلمائے شيعہ کااجماع ہے کہ امام صادق نے‬ ‫اس جماعت پرلعنت کی ہے کہ جويہ گمان کرتے ہيں کہ پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے اذان کوعبدﷲ ابن زيدکے خواب‬ ‫سے اخذکياہے اوريہ رسول پرايک تہمت وبہتان ہے بلکہ اذان کووحی پروردگارسے اخذکياگياہے جيساکہ امام صادق‬ ‫فرماتے ہيں‪:‬‬ ‫‪۵‬۔نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کہ جنھوں نے جودين اسالم کی بنيادرکھی اورلوگوں نمازوحکمت کی تعليم دی ‪،‬کياآپ نے‬ ‫دين اسالم ميں کسی چيزکووحی پروردگارکے عالوه رائج کياہے‬ ‫‪۶‬۔جولوگ عبدﷲ ابن زيدکے خواب کواذان کی ابتداقراديتے ہيں اس کی بنيادی وه يہ ہے کيونکہ ايک صاحب‬ ‫__________نے اس کے خواب تائيد کی تھی اس لئے تاکہ دين اسالم ميں پيغمبرکے ساتھ ان کانام بھی روشن رہے اس‬ ‫لئے ايک حديث کوجعل کرلياگيا۔‬ ‫‪٧‬۔يہ کيسے ممکن ہے کہ جوشخص معيارآدميت ہو‪،‬ذمہ دارشريعت ہو‪،‬افضل المرسلين ہو‪ ،‬وحی کے بغيرکوئی کالم ہی نہ‬ ‫وتعالی کامحبوترين بنده ہواس پراذان واقامت کے متعلق ﷲ کی طرف سے وحی نازل نہ ہواورحتی‬ ‫کرتاہواورﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫خواب ميں بھی نہ دکھے اوران کے بعض صحابہ اذان کے کلمات کوخواب حاصل کرليں اورانھيں يادرہيں کہ ہم نے خواب‬ ‫ميں يہ اوريہ کلمات ديکھے ہيں؟‬ ‫حديث رؤياکے بارے ميں بعض اہل سنت کانظريہ‬ ‫اہل سنت کی کتابوں سے وه احاديث جوہم نے “اذان واقامت کے نقطہ آغاز”کے عنوان ميں ذکرکی ہيں ان ميں بعض احاديث‬ ‫ميں عبدﷲ ابن زيدکے خواب کوغلط قرادياگياہے حديث رؤياکے بارے ميں سرخی اپنی کتاب“المبسوط”ميں لکھتے ہيں‪:‬‬ ‫ابوحفص عالم خواب ميں اذان کے آغازہونے سے انکارکرتے تھے اورکہتے تھے کہ‪:‬تم لوگوں نے معالم اورشعائراسالمی‬ ‫ميں سے ايک پراعتمادکرتے ہواورکہتے ہوکہ وه رؤياکے ذريعہ ثابت ہواہے ليکن ايساہرگزنہيں ہے بلکہ حقيقت يہ ہے کہ‬ ‫جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کومعراج ہوئی اورآپ کو‬ ‫مسجداالقصی لے جاياگيااورانبياء کوجمع کياگياتوايک فرشتہ نے‬ ‫ٰ‬ ‫اذان واقامت کہی اورپيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے ان کے ساتھ اداکی اورکہاجاتاہے کہ جبرئيل اذان لے کرنازل ہوئے‬ ‫تھے ۔‬ ‫‪ .‬المبسوط‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١٢٨‬‬ ‫حديث روياميں جن راويوں کے ذکرکئے گئے ہيں ان کے بارے ميں کتب اہل سنت سے ايک مختصرساجائزه ذکرہے‪:‬‬ ‫حديث رو ٔياکے راويوں ميں محمدابن اسحاق کاذکرکياگياہے ‪،‬جس کی سندکے بارے ميں دارقطنی کہتے ہيں‪:‬‬ ‫”اختلف اآلئمة وليس بحجة انمايعتبربہ ” آئمہ کے درميان اس کے بارے ميں اختالف ( پاياجاتاہے اوروه حجت نہيں ہے‬ ‫‪،‬بساس پرتھوڑاسااعتبارکياگياہے ۔) ‪ ١‬قال ابوداو ٔد‪:‬سمعت احمدذکرمحمد بن اسحاق فقال‪:‬کان رجال يشتہی الحديث ( ‪،‬فيا ٔخذکتب‬ ‫الناس فيضعہافی کتبہ۔) ‪٢‬‬ ‫ابوداؤدکہتے ہيں‪:‬ميں نے محمدابن اسحاق کے بارے ميں احمدابن حنبل سے سنا‪،‬وه کہتے ہيں کہ‪ :‬اسے حديثيں نقل کرنے کی‬ ‫بہت زياده ہوس رہتی تھی ل ٰہذاوه لوگوں کی کتابيں لے کرانھيں اپنی کتابوں ميں قراردياکرتا تھا۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ /٩.‬تہذب التہذيب)ابن حجر(‪/‬ج ‪)١ . ( ٣٨‬تہذيب الکمال‪/‬ج ‪/ ٢۴‬ص ‪) ۴٢١‬‬

‫قال المروذی قال احمدبن حنبل‪:‬کان اسحاق يدلس …وقال ابوعبدﷲ‪:‬قدم ابن اسحاق ( بغداد‪،‬فکان اليبالی عمن يحکی ‪،‬عن الکلبی‬ ‫وغيره‪١ )”.‬‬ ‫مروذی کہتاہے‪:‬احمدابن حنبل نے محمدابن اسحاق کے بارے کہاہے کہ وه تدليس کرتاتھااورحقيقت کوچھپادياکرتاتھا پس جب‬ ‫وه بغدادآياتوکسی بات کی پرواه کئے بغيرہرايک سے)جسسے دل چاہے( کلبی وغيره سے حديث نقل کرتاتھا۔‬ ‫( قال حنبل بن اسحاق ‪:‬سمعت اباعبدﷲ يقول‪:‬ابن اسحاق ليسبحجة‪ ٢ ).‬حنبل ابن اسحاق کہتے ہيں‪:‬ميں نے ابوعبد کويہ کہتے‬ ‫سناہے کہ ابن اسحاق حجت نہيں ہے۔‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪-------‬‬‫‪ (٢ /٩.‬تہذب التہذيب)ابن حجر(‪/‬ج ‪)١ /٩. ( ٣٨‬تہذب التہذيب)ابن حجر(‪/‬ج ‪) ٣٨‬‬

‫قال عبدﷲ بن احمدمارا ٔيت ا ٔبی اتقن حديثہ قط‪،‬وکان يتتبّعہ بالعلووالنزول‪،‬قيل لہ ‪:‬يحتج ( بہ؟قال‪:‬لم يکن يحتج بہ فی السنن‪٣ ).‬‬ ‫عبدﷲ ابن احمد کہتے ہيں‪:‬ميں نے کبھی نہيں ديکھاکہ ميرے باپ نے اس کی حديث پريقين کياہواوراسے معتبرقراردياہوبلکہ‬ ‫اس کی نقل کی ہوئی حديث کے بارے ميں تحقيق کرتے تھے جب ان سے پوچھاگياکہ کيامحمدابن اسحاق کی احاديث کودليل‬ ‫کے طورپرپيش کياجاسکتاہے ؟انھوں نے جواب ديا‪ :‬سنن ميں ان سے احتجاج نہيں کياجاسکتاہے ۔ قال ايوب بن اسحاق‬ ‫سامری‪ :‬سئلت احمد بن حنبل ‪:‬اذاانفرد ابن اسحاق بحديث تقبلہ ( ؟قال ‪:‬ال‪،‬وﷲ انّی را ٔيتہ يحدث عن جماعة بالحديث‬ ‫الواحدواليفضل کالم ذامن کالم ذا۔) ‪ ۴‬ايوب ابن اسحاق ابن سافری کہتے ہيں‪:‬ميں نے احمدابن حنبل سے پوچھا‪:‬اگرکسی حديث‬ ‫کوفقط ابن اسحاق سے نقل کياجائے توکياآپ اسے قبول کريں گے؟جواب ديا‪:‬ہرگزنہيں‪،‬خداکی قسم ميں نے ديکھاہے کہ وه‬ ‫ايک جماعت سے حديث کونقل کرتاہے بغيراسکے کہ وه ايک کی بات کودوسرے کی بات سے الگ کرے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪ (۴ /٩.‬تہذب التہذيب)ابن حجر(‪/‬ج ‪) ٣ /٩. ( ٣٨‬تہذب التہذيب)ابن حجر(‪/‬ج ‪) ٣٨‬‬

‫نسائی اس کے بارے ميں کہتے ہيں‪:‬‬ ‫”ليسبالقوی“‬ ‫( وه راوی قوی نہيں ہے۔) ‪١‬‬ ‫حديث رؤياميں محمد ابن ابراہيم ابن حارث جيسے راوی کاذکربھی ہے ‪ ،‬اس راوی کے بارے ميں عقيلی نے عبدﷲ ابن‬ ‫احمدسے اورانھوں نے اپنے والد)حنبل(سے نقل کياہے جس ميں امام حنبل کہتے ہيں‪:‬‬ ‫( فی حديثہ شئ يروی احاديث ا ٔحاديث مناکيرا ٔومنکرة۔) ‪ ٢‬اس راوی کی حديث کے بارے يہ بات پائی جاتی ہے کہ وه‬ ‫مجہول اورناپسندروايتيں نقل کرتاہے۔‬ ‫حديث رؤياميں عبدﷲ ابن زيدکانام ہے کہ جسنے اذان کے بارے ميں يہ خواب ديکھاتھا‪ ،‬اس کے بارے ميں بعض کتب اہل‬ ‫سنت ميں ترمذی کے حوالے سے بخاری کايہ قول نقل کياگياہے‪:‬‬ ‫”النعرف لہ ّاالحديث االذان“ ہم عبدﷲ ابن زيدکی اس حديث اذان کے عالوه کسی دوسری روايت کونہيں جانتے ( ہيں۔) ‪٣‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬تہذيب التہذيب)ابن حجر( ‪/‬ج ‪/٩‬ص ‪)١ /٩. ( ۶‬تہذب التہذيب)ابن حجر(‪/‬ج ‪)٣ /۵. ) ٣٩‬تہذيب الکمال‪/‬ج ‪/ ١۴‬ص ‪ ۵۴١‬۔تہذب‬ ‫التہذيب)ابن حجر(‪/‬ج ‪) ١٩٧‬‬

‫حاکم نيشاپوری “المستدرک ”ميں عبدﷲ ابن زيدکے بارے ميں لکھتے ہيں‪ :‬عبد بن زيد ہوالذی ٰ‬ ‫اری االذان ‪،‬الّذی تداولہ فقہاء‬ ‫االسالم بالقبول ولم يخرج فی ( الصحيحين الختالف الناقلين فی اسانيده‪١ ).‬‬ ‫عبدﷲ ابن زيدوه شخص ہے جسنے اذان کوخواب ميں ديکھااورعلمائے اسالم نے اسے رسميت دی ہے ليکن اس حديث‬ ‫سندکی کے بارے ميں ناقلين کے درميان اختالف پائے جانے کی وجہ سے مسلم اوربخاری دونوں نے اپنی صحيح ميں اس‬ ‫حديث کوبالکل ذکرنہيں کياہے ۔ ‪)١ .‬المستدرک )حاکم نيشاپوری(‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٣٣۶‬‬ ‫ٰ‬ ‫حاکم نيشاپوری کايہ‬ ‫دعوی اس چيزکی طرف اشاره کرتاہے کہ ان کی نظرميں عبدﷲ ابن زيدکے خواب کے ذريعہ اذان‬ ‫واقامت کاآغازہونا باطل اوربے بنيادہے اورحاکم نيشاپوری کے عالوه متعددعلمائے اہل سنت نے بھی اذان کی ابتد اء‬ ‫کوعبدﷲ ابن زيدکے خواب ذريعہ ہونے سے انکارکياہے اوروحی ال ٰہی کے ذريعہ اذان کے آغاز ہونے کوقبول کياہے۔ اذان‬ ‫واقامت ميں حضرت علی کی امامت کی گواہی دينے کاراز اذان واقامت ميں“اشہدان محمدا رسول ﷲ”کے بعد حضرت علی‬ ‫کی امامت وواليت کی دومرتبہ گواہی دينايعنی “اشہدان علی ولی ﷲ”کہنا‬ ‫علماوفقہاکہتے ہيں‪“:‬اشہدان علی ولی ﷲ”اذان واقامت کاجزء نہيں ہے مگرپيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(رسالت کی گواہی‬ ‫ّ‬ ‫اشہدان محمد رسول ﷲ”کے بعدقربت اورتبرک‬ ‫کومکمل کرتاہے اورآج کے زمانہ ميں شيعوں پہچان ہونے شمارہوتاہے پس “‬ ‫کی نيت سے “اشہدان علی ولی ﷲ” بہترہے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫جس طرح نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی نبوت ورسالت ميں کوئی شک نہيں ہے اسی طرح حضرت علی خداکے ولی‬ ‫اورمومنين کے موالواميربرحق ہونے بھی کوئی شک نہيں ہے ‪،‬روايت معراج ميں لکھاہے کہ عرش معلی پررسول اکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(کے ساتھ موالئے کائنات بھی لکھاہواہے ‪ ،‬جنت کے دروازے بھی آپ کانام لکھاہے دوسرے الفاظ ميں‬ ‫علی کانام‬ ‫يوں کہاجائے کہ جس پربھی پروردگارنے رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کانام لکھ رکھاہے اسی کے ساتھ امام ٰ‬ ‫بھی لکھاہواہے ليکن کچھ لوگوں ان روايتوں سے آپ کے نام کوختم کردياہے اوراپنے بزرگوں کانام لکھ دياہے اسی لئے ہم‬ ‫ّ‬ ‫اشہدان محمد رسول ﷲ”کے بعد “اشہدان علی ولی ﷲ”کہہ کراس بات کااعالن کرتے ہيں کہ‬ ‫شيعہ حضرات اذان واقامت ميں“‬ ‫عرش معلی پرنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے ساتھ علی ابن ابی طالب کانام درج ہے نہ ان کاکہ جنھيں لوگوں نے حديث‬ ‫معراج ميں داخل کردياہے ۔‬ ‫پس اذان واقامت ميں امام علی کی شہادت کی گواہی دينے سے اذان واقامت باطل نہيں ہوسکتی ہے ‪،‬اورنہ اسے بدعت‬ ‫کہاجاسکتاہے کيونکہ ہم اسے اذان اقامت کاحصہ نہيں سمجھتے ہيں اوراسے بقصدقربت کہتے ہيں‪،‬اہل سنت کی کتابوں ميں‬ ‫بھی علی کے ذکرکوعبادت قرادياگياہے اوريہ روايت نقل کی گئی ہے‪” :‬ذکرعلی عبادة‪”.‬علی کاذکرعبادت ہے۔‬ ‫جب علی کاذکرعبادت ہے تواذان واقامت ميں ان ذکرکرنے سے کيسے اذان واقامت باطل ہوسکتی ہے اوران کاذکرکيسے‬ ‫بدعت ہوسکتاہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪ .‬کنزالعمال‪/‬ج ‪/ ١١‬ص ‪ ۶٠١‬۔البداية والنہاية‪/‬ج ‪/٧‬ص ‪ ٣٩۴‬۔ينابيع المودة ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٢٢٩‬‬

‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫اول وقت‬ ‫مستحب ہے کہ ہرمسلمان اپنی نمازوں کواول وقت اداکرے ‪ ،‬دين اسالم ميں نمازکواول وقت اداکرنے اوراوقات نمازکی‬ ‫محافظت کرنے کی بہت زياده تاکيدکی گئی ہے اورآيات وروايات ميں اس کی بہت زياده فضيلت بيان کی گئی ہے‬ ‫اکثرعلمائے کرام نے محافظت نمازسے نمازکااول وقت مرادلياہے اورمعصومين بھی يہی اشاره دياہے وه آيات کريمہ‬ ‫اوراحاد يث کہ جنھيں ہم نے ابھی “نمازکواس کے وقت ميں اداکرنا ”کے عنوان ميں ذکرکی ہيں ان ميں محافظت نمازسے‬ ‫نمازکااول وقت مرادہے کتب احاديث ميں اول وقت کی اہميت وفضليت کے بارے ميں معصومين سے کثيرتعدادميں روايتيں‬ ‫نقل ہوئی ہيں‪:‬‬ ‫‪   ‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(موالئے کائنات سے وصيت کرتے ہيں‪ ( :‬التو ٔخرہا ّ‬ ‫فان فی تاخيرہامن غيرعلة غضب ﷲ‬ ‫عزوجل ‪ ١ ).‬اے علی! نمازکوتاخيرميں نہ ڈالنا‪،‬جوشخص نمازکوبغيرکسی مجبوری کے تاخيرميں ڈالتاہے اس سے‬ ‫خداوندمتعال ناراض ہوجاتاہے ۔‬ ‫( قال علی عليہ السالم ‪:‬اوصيکم بالصالة وحفظہافانہاخيرالعمل وہی عمود دينکم ۔) ‪ ٢‬موالئے کائنات حضرت عليفرماتے‬ ‫ہيں‪:‬ميں تمھيں وصيت کرتاہوں کہ اوقات نمازکی حفاظت کرتے رہنااورہرنمازکواول وقت اداکرتے رہنا‪،‬کيونکہ نمازسب سے‬ ‫بہترين عمل ہے اوروہی تمھارے دين کاستون ہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ /٧٩.‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪) ١ . ( ٢٠٩‬خصال )شيخ صدوق( ‪/‬ص ‪) ۵۴٣‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫عن محمدبن مسلم قال‪:‬سمعت اباعبدﷲ عليہ السالم يقول‪:‬اذادخل وقت صالة فتحت ابواب السماء لصعوداالعمال‪،‬فمااحب ان‬ ‫يصعدعمل اول من عملی‪ ،‬واليکتب فی الصحيفة احداوّل ( منی ‪١ ).‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جيسے نمازکاوقت شروع ہوتاہے تواوپرتک اعمال کے پہونچنے کے لئے آسمان تمام دروازے کھول‬ ‫دئے جاتے ہيں‪،‬ميری تمنايہ ہوتی ہے ميراعمل سب سے پہلے صعودکرے لورمجھ سے پہلے صحيفہ ميں کسی کانام نہ‬ ‫لکھاجائے ۔ عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬ايمامومن حافظ علی الصالة الفريضة فصالہالوقتہافليس ( ہومن الغافلين۔) ‪٢‬‬ ‫حضرت امام محمد باقر فرماتے ہيں ‪ :‬ہر وه مومن جو واجب نمازوں کا پابند رہتا ہے اور انھيں اوّل وقت بجاال تا ہے اس کو‬ ‫گروه غافلين ميں شمار نہيں کيا جائے گا۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪)١ . ( ۶۵۶‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ۴١‬‬

‫ّ‬ ‫قال‪:‬ان فضل الوقت االول علی االخيرکفضل اآلخرة علی ( الدنيا‪١ ).‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪ :‬نماز کا اوّل وقت آخروقت پر اسی طرح فضيلت رکھتا ہے جس طرح آخرت دنيا پر فضيلت رکھتی‬ ‫ہے ۔‬ ‫( قال ابوعبدﷲ عليہ السالم ‪:‬امتحنواشيعت ناعندمواقيت الصالة کيف محافظتہم عليہا۔) ‪ ٢‬امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬ہمارے‬ ‫شيعوں کواوقات نماز کے ذريعہ پہچانو!اورديکھوکہ وه اوقات نمازکی کس طرح حفاظت کرتے ہيں۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬سفينة البحار‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪)١ . ( ۴۴‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٢٧۴‬‬

‫عبدﷲ ابن سنان سے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق کويہ فرماتے ہوئے سناہے‪ :‬لک ّل صالة وقتان واول الوقت افضلہ وليس‬ ‫الح ٍدا ٔن يجعل آخرالوقتين وقتا ّاالفی عذرمن ( غيرعلة ‪١ ).‬‬ ‫ہرنمازکے دووقت ہوتے ہيں )اول وقت اورآخروقت(اوراول وقت )آخروقت(سے افضل ہوتاہے اورکسی کے لئے جائزنہيں‬ ‫ہے کہ بغيرکسی عذرومجبوری کے آخری وقت کواپنی نمازکاوقت قراردے اورآخری وقت ميں نمازاداکرے ۔‬ ‫حکيم لقمان نے اپنے فرزند کو وصيت کرتے ہوئے کہا ‪ :‬اے بيٹا ! مرغ کو اپنے آپ سے زياده ہو شيارنہ ہونے دينا ‪ ،‬کيونکہ‬ ‫مرغ نماز کا وقت شروع ہو تے ہی اپنی آواز بلند کرديتاہے اور ( نماز کا وقت پہنچنے کا اعالن کرتا ہے ‪ ،‬پساے بيٹا ! مرغ‬ ‫کے بولنے سے پہلے بيدار ہو اکرو ۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ٩٧٨‬ص ‪)١ . ( ٣٠١‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٢٧۴‬‬

‫قال عليہ السالم ‪:‬ان العبداذاصلی الصالة فی وقتہاوحافظ عليہاارتفعت بيضاء نقية ‪،‬تقول حفظت نی حفظک ﷲ واذالم‬ ‫يصلہالوقتہاولم يحافظ عليہاارتفعت سوداء مظلمة تقول ضيعت نی ( ضيعک ﷲ‪١ ).‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬جب کوئی بنده نمازکواس کے اول وقت ميں اداکرتاہے اوراوقات نمازکی حفاظت کرتاہے تو وه‬ ‫نمازپاک وسفيدہوکرآسمان کی طرف جاتی ہے اورصاحب کے لئے کہتی ہے ‪:‬جس طرح تونے ميری حفاظت کی ہے‬ ‫خداوندعالم تيری بھی اسی حفاظت کرے ليکن جوبنده نمازکواس کے وقت ميں ادانہيں کرتاہے اوراوقات نمازکی حفاظت نہيں‬ ‫کرتاہے تووه نمازسياه چہره کے ساتھ آسمان کی طرف روانہ ہوتی ہے اورصاحب نمازکے کہتی ہے‪:‬جس طرح تونے مجھے‬ ‫ضائع وبربادکياہے خداتجھے بھی اسی طرح ضائع وبربادکرے۔‬ ‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢٠٩‬‬ ‫عن ابی عبدا عليہ السالم قال‪:‬من صلی الصلوات المفروضات فی اول وقتہاواقام حدودہارفعہاالی السماء بيضاء نقية وہی تہتف‬ ‫بہ تقول حفظک ﷲ کماحفظت نی واستودعک ﷲ ملکاکريما‪،‬ومن صلہابعدوقتہامن غيرعلة ولم يقم حدودہارفعہاالملک سوداء‬ ‫مظلمة وہی تہتف بہ ضيعت نی ضيعک ﷲ کماضيعت نی‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬جب کوئی بنده نمازکواس کے اول وقت ميں اداکرتاہے اورحدود نمازکی حفاظت کرتاہے توايک‬ ‫فرشتہ اس نمازکوپاک وسفيدشکل کے ساتھ آسمان کی طرف لے جاتا ہے اوروه نمازاس نمازی سے يہ صاحب کے لئے کہتی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ہے ‪:‬جس طرح تونے ميری حفاظت کی ہے خداوندعالم تيری بھی اسی طرح حفاظت کرے‪،‬تونے مجھے ايک عظيم وکريم‬ ‫ملک کے سپردکياہے ليکن جوبنده نمازکوبغيرکسی مجبوری کے نمازکوتاخيرمينڈالتاہے اوراس کے حدودکی حفاظت نہيں‬ ‫کرتاہے توايک ملک اس نمازکوسياه وتاريک بناکر آسمان کی طرف روانہ ہوتا ہے اوروه اس صاحب نمازسے بلندآوازميں‬ ‫کہتی ہے‪:‬تونے مجھے ضائع کياخداتجھے اسی طرح ضائع وبربادکرے جس طرح تونے مجھے ضائع وبربادکےاہے۔‬ ‫‪ .‬امالی )شيخ صدوق( ‪/۴‬ص ‪٣٢٨‬‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫ٰ‬ ‫!قومواالی نيرانکم التی ا‬ ‫قال رسول ﷲ صلی عليہ وآلہ ‪:‬مامن صالة يحضروقتہااالنادی ملک بين يدی ( الناس‪:‬ايہاالناس‬ ‫ٰ‬ ‫قدتموہاعلی ظہورکم فاطفو ٔہابصالتکم۔) ‪ ١‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فر ما تے ہيں ‪:‬ہر نما ز کا وقت شروع ہو تے ہی‬ ‫ٔو‬ ‫ٰ‬ ‫ايک فر شتہ ندائے عمو می بلند کر تا ہے‪ :‬اے لو گو ! اٹھو اور وه آگ جوخود __________تم نے گنا ہوں کو انجا م دے‬ ‫کر اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے پيچھے لگا ئی ہے اسے نما ز کے ذريعہ خا موش کر دو۔ اسی روايت کو بعض راويوں نے‬ ‫اس طرح نقل کياہے‪:‬‬ ‫ان ملک الموت عليہ السالم يحضرفی ک ّل يوم خمس مرات فی بيوت الناس فی اوقات الصلوات الخمس وينادی عل ٰی احدمن‬ ‫قومواالی نيرانکم التی ( اوقدتموہا۔) ‪٢‬‬ ‫االحادوينادی بہذه ايہاالناس!‬ ‫ٰ‬ ‫بيشک ملک الموت روزانہ پانچ مرتبہ پنجگانہ نماز کے وقتوں ميں لوگوں کے گھروں ميں حاضرہوتاہے اورہرايک شخص‬ ‫کوآوازديتاہے اور اس طرح ديتاآوازہے ‪:‬اے لوگو! اٹھو اور وه آگ جوخود تم نے گنا ہوں کو انجا م دے کر اپنے ہی ہاتھوں‬ ‫سے اپنے پيچھے لگا ئی ہے اسے نما ز کے ذريعہ خا موش کر دو۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ٢٠٨‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢٠٨‬‬

‫اول اوقات نمازکی محافظت وفضيلت کے بارے ميں چندمندرجہ ذيل واقعات ذکرہيں‪ :‬امام علی ابن ابی طالبکی تاريخ حيات‬ ‫ميں لکھا ہے کہ آپ جنگ صفين ميں دشمنان اسالم سے جنگ کررہے تھے کہ آپ اچانک سورج کی طرف ديکھنے لگے‬ ‫صلﱢی‪.‬‬ ‫ال حتّی نُ َ‬ ‫‪،‬ابن عباس نے کہا‪:‬يااميرالمومنين ! يہ آپ کياکررہے ہيں ؟حضرت علينے جواب ديا‪ :‬اَ ْنظُ ُراِلَی ال ﱠز َو ِ‬ ‫ميں ديکھ رہاہوں کہ ابھی زوال کاوقت ہواہے يانہيں تاکہ)اول وقت(نمازاداکروں‪،‬ابن عباس نے تعجب سے کہا‪:‬کيايہ‬ ‫نمازکاوقت ہے؟اس وقت ہم دين اسالم کے دشموں سے جنگ کرنے ميں مشغول ہيں لہٰذااس وقت جنگ کونمازپرترجيح‬ ‫ديناچاہئے‪،‬اگرہم نے ايسے خطرناک موقع جنگ سے ہاتھوں کوروک لياتودشمن ہم پرغالب آجائيں گے ‪،‬موالئے کائنات نے‬ ‫علی مانقاتلہم ؟انّمانقاتلہم علی الصالة ‪.‬‬ ‫جواب ديا‪ٰ :‬‬ ‫ہماری ان سے کس بنيادپرجنگ ہورہی ہے ؟بے شک اسی نمازہی کی وجہ سے ان ( دشمنوں سے جنگ ہورہی ہے ۔) ‪٢‬‬ ‫‪)٢ .‬وسائل الشيعہ ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ١٧٩‬‬ ‫روايت ميں ملتاہے کہ موالئے کائنات نے کبھی نمازکوتاخيرميں نہيں ڈاالفقط دو موقع ايسے پيشآئے ہيں کہ امام علی کو‬ ‫نمازپﮍھنے ميں ات نی ديرہوگئی کہ آپ کے نماز قضاہوگئی اورسورج کوپلٹاياگيااورامام)عليه السالم( نے نمازکواس کے‬ ‫وقت ميں ادا کيا اوروه دوموقع يہ ہيں‪١ :‬۔محمدابن عميرحنان سے روايت کی ہے وه کہتے ہيں کہ ميں نے امام صادق کی‬ ‫محضرمبارک ميں عرض کيا‪:‬جب اما م علی پرنمازظہروعصرجمع __________کرناالزم تھاتوپھرکس علت وسبب کی‬ ‫بناپرموالئے کائنات نے نمازعصرکوتاخيرميں ڈاالاوراسے ترک کيا؟ امام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬‬ ‫جب اميرالمومنيننمازظہرسے فارغ ہوئے توايک مردے کی کھوپﮍی نظرآئی ‪ ،‬امام )عليه السالم( نے اس سے معلوم‬ ‫کيا‪:‬توکون ہے ؟اس نے جواب ديا‪:‬ميں فالن سر زمين کے فالن بادشاه کافرزندہوں‪،‬اميرالمومنين نے فرمايا‪:‬تومجھے اپنی‬ ‫داستان زندگی کوبيان کر اوراپنے زمانے ميں اچھے اوربرے رونماہوئے واقعات کوبيان کر‪،‬اس جمجمہ نے اپنے داستان‬ ‫زندگی بيان کرناشروع کياوراپنے زمانے ميں گذرہوئے واقعات کوبيان کرنے لگااورامام)عليه السالم( اس کی داستان زندگی‬ ‫سننے ميں سرگرم ہوگئے يہاں تک کہ سورج غروب ہوگيا‪،‬اس کے بعدجب امام )عليه السالم( اس جمجمہ سے باتيں سن‬ ‫چکے توسورج کوپلٹنے کاحکم ديا‪،‬سورج نے کہا‪:‬اب مينغروب ہوچکاہوں لہٰذااس وقت کيسے پلٹ سکتاہوں‪،‬اميرالمومنيننے‬ ‫خدائے عزوجل سے سورج کوپلٹادينے درخواست کی پس خداوندعالم نے سترہزارفرشتوں کوسترہزارزنجيروں کے ساتھ‬ ‫سورج کی طرف روانہ کيا‪،‬ان فرشتوں نے زنجيروں کوسورج کی گردن مينڈاالاورکھينچناشروع کيايہاں تک کہ سورج‬ ‫اوپرآگيااوردوباره اس کی روشنی سب جگہ پھيل گئی اورسورج صاف طرح نظرآنے لگااوراميرالمومنيننے اپنی‬ ‫نمازکوعصرکواس کے وقت ميں ادادکيااورپھرسورج دوباره اپنی جگہ پرپہنچ گيا‪،‬اس کے بعدامام صادق نے فرمايا‪:‬يہ تھی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اميرالمومنينکی تاخيرسے نمازکی پﮍھنے وجہ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣۵١‬‬ ‫‪٢‬۔محمدابن جعفرکی دوبيٹياں“ام جعفر”يا“ام محمد”نے اپنی ج ّده محترمہ “اسمابنت عميس سے روايت کی ہے ‪،‬ان دونوں‬ ‫بيٹيوں ميں سے ايک بيٹی کابيان ہے کہ ‪:‬ميں اپنی ج ّده محترمہ اسمابنت عميس اوراپنے چچاعبدﷲ ابن جعفرکے ہمراه‬ ‫گھرسے باہرگئی ہوئی تھی ‪،‬جب “صہبا”کے قريب پہنچے تواسمابنت عميسنے مجھ سے فرمايا‪ :‬اے ميرے بيٹی !ايک دن ہم‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے ہمراه اسی جگہ پرموجودتھے کہ آنحضرت نے نمازظہرپﮍھی اوراس کے بعد علی‬ ‫)عليه السالم( کو اپنی خدمت ميں طلب کيااورامام )عليه السالم( سے اپنی ضرورتوں ميں مددچاہی يہاں تک کہ عصرکاوقت‬ ‫پہنچ گيااورنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے نمازپﮍھی ‪،‬اس کے بعدعلی )عليه __________السالم(آنحضرت کی خدمت‬ ‫وتعالی نے وحی نازل کی اورآنحضرت نے اپنے سرمبارک‬ ‫ميں پہنچے اورپيغمبرکے پہلوميں بيٹھ گئے‪ ،‬ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫کواميرالمومنين کے دامن اقدسرکھ کرآرام کرتے رہے يہاں تک سورج غروب ہوگيا‪،‬جب آنحضرت نے آنکھيں کھوليں توعلی‬ ‫)عليه السالم(سے معلوم کيا‪:‬‬ ‫اے علی )عليه السالم(!کياتم نمازپﮍھ لی تھی‪،‬حضرت علی )عليه السالم(نے عرض کيا‪:‬نہيں يارسول ﷲ )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(کيونکہ آپ کاسرمبارک ميرے دامن پررکھااورآپ آرام کررہے تھے اورميں نے آپ کوبيدارنہيں کرناچاہال ٰہذاسی طرح‬ ‫بيٹھارہايہاں تک کہ سورج غروب ہوگيا‪،‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے دعاکے ہاتھ بلندکئے اوربارگاه خداوندی ميں‬ ‫عرض کی‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫اللّہ ّم ان ہذاعل ّی عبداحتبسنفسہ علی نبيک فر ّدعليہ الشرقہا‪ .‬بارالہا!يہ علی )عليه السالم( تيرابنده ہے کہ جس نے تيرے نبی کی‬ ‫خاطراپنے آپ نمازپﮍھنے سے روکے رکھااوراپنے آپ کومحبوس رکھاپس تواس کے لئے سورج پلٹادے تاکہ وه‬ ‫نمازکواداکرسکے ابھی نبی دعاميں مشغول تھے کہ سورج طلوع ہوا اور تمام زمين وپہاڑپراس کی روشنی پھيل گئی اورعلی‬ ‫)عليه السالم( نے بلند ہو کر وضو کيا اورنمازعصرپﮍھی ‪،‬اس کے بعدسورج دوباره غروب ہوگيا۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣۵٢‬‬ ‫روايت ميں اياہے کہ ايک روزمامون نے اپنے دربارميں امام علی رضا کودعوت دی جب امام)عليه السالم( اس کے‬ ‫دربارميں پہنچے اوروہاں پرعمران صابی)گروه صائبين کے رہنما ( سے بحث ومناظره شروع ہوا‪،‬بحث و گفتگو يہاں اس‬ ‫حدتک پہنچی کہ عمران کے دل ميں آہستہ آہستہ قبول اسالم کی حالت پيدا ہورہی تھی کہ اسی دوران اذان کی آواز بلندہوئی‬ ‫‪،‬جيسے امام )عليه السالم( نے اذان کی آوازکوسناتوبحث ومناظره کواسی جگہ پرختم کرديااور عمران سے فرمايا‪:‬نمازکا‬ ‫وقت ہو گيا ہے ‪ ،‬عمران نے کہا ‪:‬اے ميرے آقا!اس وقت ميرادل کچھ نرم ہوتاجارہاتھا اگر آپ اور کچھ ديرتک مناظره کو‬ ‫جاری رکھتے تو شايد ميں مسلمان ہو جاتا‪ ،‬امام نے فرمايا ‪ :‬پہلے نماز پﮍھيں اس کے منا ظره کو ادامہ ديں گے ‪ ،‬امام )عليه‬ ‫السالم( نے نماز سے فارغ ہو نے کے بعد دوباره بحث ومناظره شروع کيا اور عمران صابی نے مذہب اسالم قبول کرليايہ‬ ‫واقعہ بہت طوالنی ہے مگراصل چيزکوبيان مقصودہے اوروه يہ ہے کہ امام )عليه السالم( نے __________اول وقت‬ ‫کوترجيح دی اورمناظره کوروکناپسندکيا‪،‬اس واقعہ کوشيخ صدوقنے اپنی کتاب توحيدميں تفصيل کے ساتھ ذکرکياہے۔‬ ‫ابراہيم ابن موسی القزار سے روايت ہے کہ امام رضا بعض آل ابوطالب کے استقبال کے لئے شہرسے باہرگئے ہوئے تھے‬ ‫اورہم آنحضرت کے ہمراه تھے ‪،‬جب نمازکاوقت پہنچاتوامام اپنے صحابيوں کے ساتھ اسی جگہ پرقريب ميں گئے اورايک‬ ‫بﮍے سے پتھرکے پاس کھﮍے ہوکرمجھ سے فرمايا‪:‬اے ابراہيم !نمازکاوقت ہوچکاہے ل ٰہذاتم اذان کہو‪،‬ميں نے عرض کيا‪:‬اے‬ ‫ہمارے آقا!ہم اس وقت اپنے آنے والے صحابيوں کے انتظارميں کھﮍے ہوئے ہيں‪،‬امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬خداتمھارے‬ ‫گناہوں کومعاف کرے‪ ،‬بغيرکسی عذرکے نمازکوتاخيرميں نہ ڈالو‪،‬پس تم آؤاورہمارے ساتھ اول وقت نماز پﮍھو‪ ،‬راوی‬ ‫کہتاہے ہے کہ ميں نے اذان کہی اورامام )عليه ( السالم(کے ساتھ نمازاداکی ۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬منتہی االعمال‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٨٨١‬‬ ‫حضرت امام حسن عسکری کی عادت يہ تھی کہ جيسے نمازکاوقت پہنچتا تھا تو فوراًاپنے ہاتھوں کوہراس کام جس ميں‬ ‫مشغول ہوتے تھے پيچھے کھينچ لياکرتے تھے اور کسی بھی کام کو نماز پر تر جيح نہيں ديتے تھے بلکہ نماز کوہرکام پر‬ ‫مقدم رکھتے تھے ابوہاشم جعفری سے مزوی ہے کہ ‪ :‬ميں ايک روزجب حضرت امام حسن عسکريکی خدمت ميں مشرف‬ ‫ہوا توديکھاکہ امام )عليه السالم( اس وقت کسی چيز کے لکھنے ميں مشغول ہيں مگرجيسے ہی نماز کا وقت پہنچا تو امام‬ ‫)عليه السالم( نے لکھنا بند کرديا اور فوراً نماز وعبادت ميں مشغول ہوگئے‬ ‫محمد شاکری سے مروی ہے کہ‪ :‬امام حسن عسکری رات پھر نمازعبا دت ميں مشغول رہتے تھے اوررکوع و سجود کرتے‬ ‫رہتے تھے اور ميں سوجاتاتھا‪ ،‬جب نيند سے بيدار ہوتاتھاتو امام)عليه السالم( کو سجدے کی حالت ميں پا تا تھا‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫امام حسن عسکری کی سونح حيات ميں کہ‪:‬آپ زندان بھی ميں دنوں ميں روزه رکھتے اور راتوں کو بيدار ره کر عبادت‬ ‫کرتے تھے اور عبادت کے عالوه کچھ بھی نہيں کرتے تھے اور کسی سے کوئی گفتگو بھی نہيں کرتے تھے‪ ،‬امام )عليه‬ ‫ٰ‬ ‫وتقوی کا اثريہ تھا کہ جن لو گو ں کو امام کو آزارواذيت پہنچا نے کے لئے زندان ميں بھيجا‬ ‫السالم( کی عبادت اورزہد‬ ‫جاتاتھا ‪ ،‬وه آپ کو عبادت و مناجات کی حالت ميں ديکھ کر بہت زياده متا ٔثر ہو تے تھے ‪ ،‬عباسيوں )کہ جن کے حکم سے‬ ‫امام حسن عسکری کو زندان ��يا گيا تھا(نے صالح بن وصيف سے کہا ‪ :‬کہ وه امام )عليه السالم( پر بہت زياده فشار ڈالے‬ ‫اورہر گز ان پر رحم نہ کرے ‪ ،‬صالح نے کہا ‪ :‬ميں نے دو بد تر ين جالّ د کو ان کے سر پہ چھوڑر کھا ہے ‪ ،‬ليکن ان دونوں‬ ‫کے دلوں پر امام کی عبادت و نماز ( روزے کا اثر يہ ہو اکہ وه دونوں عبادت کے بلند مرتبہ پر فائز گئے ۔) ‪ ١‬حضرت امام‬ ‫جعفر صادق اپنے ايک شاگرد“مفضل ابن عمر”کوتوحيد باری‬ ‫تعالی کے بارے ميں ہفتہ ميں چاردن ‪،‬صبح سے زوال تک‬ ‫ٰ‬ ‫ايک خصوصی درس دياکرتے تھے اورروزانہ نمازظہر ( کاوقت شروع ہوتے ہی درس کوختم کردياکرتے تھے‪٢ ).‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪)١ . ( ٨٩‬امام حسن عسکری‪/‬ص ‪ ۴١‬۔ ‪) ۴٢‬‬

‫عيسی بن مريم کے زمانے ميں ايک عورت بہت ہی زياده نيک و عبادت گزار تھی‪ ،‬جب بھی نماز کا وقت ہوجاتاتھا‬ ‫حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫اورجس کام ميں بھی مشغول رہتی تھی فوراً اس کام کواسی حالت پر چھوڑ ديا کر تی تھی اور نمازو اطاعت خداوندی ميں‬ ‫مشغول ہوجاتی تھی ‪،‬ايک دن جب يہ عورت ت نورميں روٹياں بنانے ميں مشغول تھی تومو ٔذن کی صدائے اذان بلند ہوئی تو‬ ‫اس کام کو درميان ميں ہی چھوڑ کر نماز کے لئے کھﮍی ہو گئی اور عبادت ال ٰہی ميں مشغول ہو گئی ‪ ،‬وه نمازپﮍھ رہی تھی‬ ‫تو شيطان نے اس کے دل ميں وسوسہ پيدا کيا کہ جب تک تو نماز سے فراغت پائے گی توت نور ميں لگی ہو ئی روٹياں جل‬ ‫کر راکھ ہو جا ئيں گی ‪ ،‬مو منہ نے دل ميں جواب ديا ‪ :‬اگرميری تمام روٹياں بھی جل جا ئيں تو يہ روز قيامت ميرے بدن‬ ‫کے آتش جہنم ميں جلنے سے بہتر ہے ‪ ،‬ابھی يہ عورت نمازميں ہی مشغول تھی کہ اس کا بچہ ت نورميں گر گيا ‪ ،‬شيطان‬ ‫نے کہا ‪:‬‬ ‫تعالی کی‬ ‫اے عورت ! تو نماز پﮍ ھ رہی ہے اور تيرا بچہ ت نورميں جل رہاہے ‪ ،‬اس عابده نے جواب ديا ‪ :‬اگر ﷲ تبارک و‬ ‫ٰ‬ ‫يہی مرضی ہے کہ ميں نمازپﮍھوں اور ميرا بيٹاآگ ميں جل جائے تو ميں خدا کے اس حکم پر راضی ہوں اور مجھے مکمل‬ ‫يقين ہے کہ جب تک ميں نماز ميں مشغول ہو ں ميراپروردگارميرے فرزند کو آگ ميں جلنے سے محفوظ رکھے گا ‪ ،‬ابھی‬ ‫يہ عورت نمازميں مشغول تھی کہ اس کا شوہر گھر ميں داخل ہو ا تواس نے ديکھا کہ زوجہ نماز ميں مشغول ہے اور ت‬ ‫نور ميں روٹياں صحيح وسالم موجو د ہيں اور بچہ بھی سکون کے ساتھ ت نو ر ميں بيٹھا ہو ا آگ سے کھيل رہا ہے اور اس‬ ‫کے بدن پر آگ کا کوئی اثر نہيں ہے ‪ ،‬خدا ئے مہربان کی قدرت سے وه آگ گلز ار بن گئی‪،‬جب وه عورت نماز سے فارغ‬ ‫ہو گئی تو شوہرنے زوجہ کاہاتھ پکﮍااوراسے ت نورکے پاس اليا ‪ ،‬عورت نے جيسے ہی ت نور ميں نگاه ڈالی تو ديکھا کہ‬ ‫بچہ اور روٹياں دونوں صحيح وسالم ہيں‪:‬آگ نے نہ بچہ کے بدن پرکوئی اثرکياہے اورنہ روٹياں جلی ہيں ‪ ،‬يہ ماجراديکھ کر‬ ‫تعالی کا شکر اداکيا اور عورت نے سجده شٔکراداکيا ‪،‬شوہر نے بچہ کو ت نور‬ ‫دونوں تعجب ميں ره گئے‪ ،‬مرد نے باری‬ ‫ٰ‬ ‫سے باہر نکاال اور حضرت ٰ‬ ‫عيسی نے کہا ‪ :‬جاؤ‬ ‫‪،‬حضرت‬ ‫کيا‬ ‫بيان‬ ‫واقعہ‬ ‫پورا‬ ‫سے‬ ‫اورآپ‬ ‫آيا‬ ‫کر‬ ‫لے‬ ‫ميں‬ ‫خدمت‬ ‫عيسی کی‬ ‫ٰ‬ ‫اور اس بچہ کی ماں سے معلوم کرو اس نے خدا کے ساتھ کيا معاملہ کيا ہے اور اس کے پاس خدا کا کيا راز ہے ؟ اگريہ‬ ‫کرامت کسی مرد کے پاس ہوتی تو جبرئيل خدا کی طرف اس پر وحی لے کر نازل ہوتے وه مردبچہ کولے کراپنے گھر‬ ‫واپس آيا اور زوجہ سے معلوم کيا ‪ :‬تم خدا سے کت نی زياده قريب ہو کہ يہ معجزه رونما ہوا ہے ؟ بيوی نے جواب ديا ‪ :‬ميں‬ ‫کارآخرت کو دنيا کے کاموں پر ترجيح ديتی ہوں ‪ ،‬نماز وعبادت کو ہر کام پر مقدم رکھتی ہوں اور جب سے ہوش سنبھا الہے‬ ‫ان چند روز کے عالوه جو ہر ماه ميں عورتوں سے مخصوص ہيں بغير طہارت )وضو(کے نہيں رہتی ہوں اُن ايّام کے‬ ‫عالوه بقيہ دوسرے دنوں ميں خواه ميرے پلس ہز ار کام ہی کيوں نہ ہوں جيسے ہی اذان کی آوازسنتی ہوں فوراًکام سے ہاتھ‬ ‫پيچھے ہٹاليتی ہوں اور نماز وعبادت پرور دگار ميں مشغول ہو جاتی ہوں ‪،‬اگر کوئی مجھ پر ظلم وجفا کرتا ہے يا مجھ کو‬ ‫گالياں ديتی ہے ‪ ،‬ان تمام کينہ و عداوت کو دل سے نکال ديتی ہوں اور اس کے عوض ميں کوئی جواب نہيں ديتی ہوں ‪،‬ميں‬ ‫خدا وند متعال کی قضاء وقدر پر راضی ہوں ‪ ،‬فرمان خدا کی تعظيم کرتی ہوں ‪ ،‬اس کی مخلوق پر رحم کرتی ہو ں‪،‬اپنے‬ ‫گھرسے کسی بھی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہيں کرتی ہوں اورنماز شب وصبح ہر گز ترک نہيں کرتی ہوں ‪ ،‬جب حضرت‬ ‫ٰ‬ ‫عيسياس عورت کی يہ تمام خصوصيا ( ت سنی توفرمايا‪:‬اگريہ عورت مرد ہوتی تو ضرور پيغمبر خدا ہو تی۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ۴٢٩‬ص ‪) ١٣۵‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫حضرت امام خمينی اپنے زمانے ميں ايک نمونہ شخصيت تھے کہ جنھوں نے نماز پﮍھنے کے لئے بہت زياده تاکيد کی ہے‬ ‫اور لوگوں کو نماز کی حقيقت ومعارف سے آگاه کيا ہے ‪ ،‬آپ نے کبھی بھی زندگی کے مشکل تريں حاالت يا اوج کا ميابی‬ ‫کے وقت ‪ ،‬صحيح وسالم ہوں يا بيمار ہوں ‪،‬سفر ميں ہوں يا حضرميں ‪،‬اپنے ملک ميں ہوں يا جالو طنی ميں نمازاول وقت‬ ‫اداکرتے تھے اورکسی بھی کام کونمازپرترجيح نہيں ديتے تھے بلکہ نماز کو ہر کام پر مقدم رکھتے تھے‪ ،‬حضرت امام‬ ‫خمينی کی تاريخ زندگی ميں لکھاہے‪:‬‬ ‫جس وقت آپ فرانس ميں جالوطنی کی زند گی گذاررہے تھے ‪ ،‬وه حضرا ت جو آپ کے ہمراه تھے ان ميں سے بعض کا‬ ‫بيان ہے کہ جس وقت آپ فرانس ميں داخل ہوئے تو سب سے پہلے معلوم کياکہ قبلہ کسی طرف ہے ‪ ،‬آپ پيرس ميں رات‬ ‫ميں بھی تين بجے نيندسے بيدارہوتے اور خدا کی عبادت ميں مشغول ہوجاتے تھے‪.‬‬ ‫حجت االسالم جناب سيداحمدخمينی بيان کرتے ہيں ‪ :‬جس وقت ايران سے شاه نے فراراختيار کی ‪ ،‬ہم اس وقت پيرس ميں‬ ‫تھے ‪ ،‬فرانس کی پوليس نے تمام سﮍ کيں اور شاہر اه بندکردئے تھے ‪ ،‬مختلف ملکوں سے آئے ہوئے صحافی اور خبرنگار‬ ‫وہا ں پر موجود تھے ‪ ،‬افريقہ ‪ ،‬ايشا‪ ،‬پورپ وامريکہ وغيره کے اخباری نمائندے بھی موجود تھے اور تقريبا ً ايکسوپچاس‬ ‫ملکوں کے ويڈيوکيمر ے فيلم بنارہے تھے اور امام خمينی کی تقرير کوبراه راست پخش کررہے تھے ‪ ،‬آپ يقين کيجئے ات‬ ‫نی تعداد ميں خبرنگار حاضر تھے ‪ ،‬کيونکہ اس سال کی يہ سب سے بﮍا حادثہ اور خبرتھی‪ ،‬سب کی نظريں اس طرف جمی‬ ‫ہوئی تھی کہ ايران سے شاه فرارکرگيا ہے ‪،‬پس اس کے بعداب امام خمينی کيا تصيم گيری کرتے ہيں ‪ ،‬امام سﮍک کے‬ ‫کنارے کرسی پر بيٹھے ہوئے تھے ‪ ،‬تمام کيمروں کے رخ آپ ہی کی طرف تھے‪،‬امام نے چندمنٹ تقرير کی اور حاالت و‬ ‫مسائل کو بيان کيا ‪ ،‬ميں آپ کے برابر ميں کھﮍا ہوا تھا ‪ ،‬ايک دفعہ امام ميری طرف متوجہ ہوئے اور کہا ‪ :‬احمدبيٹا! کيا‬ ‫نمازظہر کا وقت ہوگيا ہے ؟ ميں نے کہا ‪ :‬جی باباجان ! اب ظہر کا وقت ہے ‪،‬جيسے ہی امام خمينی کووقت نمازسے آگاه‬ ‫ہوئے فوراً ‪ “:‬السالم عليکم ورحمتہ ا وبرکا تہ”کہااوراسی موقع پر اپنی تقرير کو ختم کرکے نماز کے لئے آماده ہوگئے‬ ‫کيونکہ نماز ظہر کا اول وقت تھا ‪ ،‬آپ فکرکريں ايسی جگہ پر کہ جہاں پر آپ کو پوری دنيا ميں اور بی بی سی لندن کے‬ ‫ٹيليويزن سے ديکھ رہے ہيں ‪ CNN.‬الکھو ں ‪ ،‬کروڑوں انسان خصو صا ً اور امام اپنی تقرير کواول وقت نماز کی وجہ سے‬ ‫ختم کرديں اور نماز ظہرکواول وقت ادا کر نے کے لئے تقريرکوختم کرديں‬ ‫اورجب آپ رات ميں پيرس سے تہران کے لئے روانہ ہوئے توجہاز کے اندر سب حضرات ( سورہے تھے‪ ،‬صرف آپ ہی‬ ‫ت نہا بيدار تھے اور نماز شب پﮍھ رہے تھے۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ٢٩٠‬ص ‪) ٩۴‬‬ ‫نمازکوضائع کرنے کاعذاب‬ ‫بغيرکسی مجبوری کے نمازکوتاخيرميں ڈالنے اوراول وقت اداکرنے مينغفلت اورسستی کرنے کو دوسری عبارت ميں‬ ‫نمازکوضائع کرناکہاجاتاہے‪،‬جس طرح قرآن وروايات ميں اول وقت نمازاداکرنے کی بہت زياده تاکيدکی گئی ہے اوراول‬ ‫وقت اہميت وفضيلت بيان کی گئی ہيں اسی طرح ان لوگوں کی بہت زياده مذمت کی گئی ہے جواپنی نمازوں ميں سہل انگاری‬ ‫کرتے ہيں‪،‬اوراول وقت نمازکے اداکرنے ميں غفلت وسستی استعمال کرتے ہيں۔ خداوندعالم نے قرآن کريم ميں ايسے لوگوں‬ ‫کے لئے ايک عذاب معين کاوعده دياکہ جس کانام ويل ہے ‪:‬‬ ‫صالَ تِ ِھ ْم ٰساھُونَ <) ‪ ٢‬ويل اورتباہی ہے ان نمازيوں کے لئے جو اپنی نمازوں سے غافل‬ ‫صلﱢ ْينَ الﱠ ِذ ْينَ ھُ ْم عَن َ‬ ‫( <فَ َو ْي ٌل لِ ْل ُم َ‬ ‫رہتے ہيں ۔ ‪ .‬سوره ماعون‪/‬آيت ‪۴‬۔ ‪ ۵‬امام صادق اس قول خداوندی کے بارے مينفرماتے ہيں‪“ :‬ساہون ”سے مراديہ ہے‪:‬‬ ‫تاخيرالصالة عن اول وقتہالغيرغذر‪.‬‬ ‫بغيرکسی مجبوری کے نمازکواس کے اول وقت سے تاخيرمينڈالنے کوسہل انگاری کہاجاتاہے‬ ‫ضاعُواالص َﱠالةَ َواتﱠبَعُوال ﱠشہَ ٰواتَ فَ َسوْ فَ يَ ْلقُوْ نَ غَی ا>‬ ‫اورخداوندعالم سوره ٔمريم ارشادفرماتاہے‪< :‬فَ َخلَفَ ِم ْن بَ ْع ِد ِہ ْم خ َْلفٌا َ َ‬ ‫‪ .‬سوره مريم ‪/‬آيت ‪ ۵٨‬۔ ‪۵٩‬‬ ‫پھران کے بعدان کی جگہ پروه لوگ آئے جنھوں نے نمازکوبربادکرديااورخواہشات کااتباع کرلياپسيہ عنقريب اپنی گمراہی‬ ‫سے جامليں گے۔‬ ‫”غی” جہنم ميں ايک وادی ہے کہ جس کی آگ سب سے زياده تيزاورعذاب سب سے زياده سخت ہوگا۔‬ ‫تفسيرمنہج الصادقين ميں لکھاہے کہ‪:‬آيت ميں نمازکے ضائع کرنے اورخواہشات نفس کی اتباع کرنے والوں سے امت‬ ‫محمدی کے يہودی اورفاسق وگنہگارلوگ مرادہيں۔‬ ‫‪ .‬منہج الصادقين ‪/‬ج ‪/۵‬ص ‪۴٣٨‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫قال النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪:‬التضيعواصالتکم ّ‬ ‫فان من ضيع صالتہ حشره اللھمع قارون وفرعون وہامان )لعنہم‬ ‫اللھواخزلہم (وکان حقاًعلی ﷲ ان يدخلہ النارمع المنافقين والويل ( لمن لم يحافظ صالتہ۔) ‪٣‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪:‬اپنی نمازوں کوضايع نہ کرو‪ ،‬جو شخص اپنی نمازوں کوضايع کرتاہے‬ ‫خداوندعالم اسے قارون‪،‬فرعون اورہامان )خداان پر لعنت کرے اوررسواکرے(کے ساتھ محشورکرے گااورخداوندمتعال‬ ‫کوحق ہے کہ نمازکے ضايع کرنے والوں کو منافقين کے ساتھ جہنم ميں ڈال دے اورويل ہے ان لوگوں کے لئے جواوقات‬ ‫نمازکی محافظت نہيں کرتے ہيں۔‬ ‫‪-------‬‬‫__________ماعون‪/‬آيت ‪۴‬۔ ‪) ۵‬‬ ‫‪(٣ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨٢‬ص ‪)٢ . ( ٢٠٢‬سوره‬ ‫ٔ‬

‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم ‪:‬اليزال الشيطان دعراًمن المومن ماحافظ علی ( الصلوات الخمس فاذاضيعن تجارا ٔعليہ‬ ‫وا ٔوقعہ فی العظائم۔) ‪١‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬بيشک شيطان ہراس مومن سے خوف کھاتاہے جواپنی پنجگانہ نمازوں کواول وقت‬ ‫پاپندی سے اداکرتا رہتا ہے ليکن جب وه اپنی نمازوں کونمازوں ضايع کرتاہے توشيطان اس پرقابض ہوجاتاہے اوراسے گناه‬ ‫کبيره ميں ڈال ديتاہے۔ ( قال علی عليہ السالم‪:‬��ن ضيع صالتہ ضيع عملہ غيره۔) ‪٢‬‬ ‫امام عليفرماتے ہيں‪:‬جس نے اپنی نماز کو تبا ه وبر با د کر ديا اس کے دوسر ے اعمال اس سے زياده تبا ه وبر با د ہو جا ئيں‬ ‫گے ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬مستدک الوسائل‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ١٧٢‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨٢‬ص ‪) ٢٠٢‬‬

‫عن اميرالمومنين عليہ السالم انّہ قال‪:‬عليکم بالمحافظة علی اوقات الصالة فليس منی ( من ضيع الصالة‪٣ ).‬‬ ‫امام المتقين حضرت علی فرماتے ہيں ‪ :‬اوقات نماز کی حفاظت کرنا تم پر واجب ہے جو شخص نماز کو ضايع کرتاہے وه ہم‬ ‫سے نہيں ہے۔‬ ‫‪)٣ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ١٨۴‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪ :‬من صلی الصالة لغيروقتہارفعت لہ سوداء مظلمة ( تقول ضيعت نی ضيعک ﷲ کماضيعت‬ ‫نی ‪١ ).‬‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪:‬جوشخص نمازکواس کے غيروقت ميں پرھتاہے تواس وه نمازسياه اورتاريک‬ ‫ہوکرروانہ ہوتی ہے اورصاحب نمازسے کہتی ہے‪:‬تونے مجھے ضائع کياہے خداتجھے بھی اسی طرح ضائع وبربادکرے‬ ‫جس طرح تونے مجھے ضائع وبربادکياہے۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال‪/‬ص ‪٢٢٩‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪ :‬الينال شفاعتی غدا من اخرالصالة المفروضة بعدوقتہا۔ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(فرماتے ہيں‪:‬کل روزقيامت اسے ميری ہرگزشفاعت نصيب نہ ہوگی جواپنی واجب نمازوں کوان کے وقت سے‬ ‫تاخيرمينڈالتے ہيں۔ ‪ .‬امالی )شيخ صدوق(‪/‬ص ‪۴٨٣‬‬ ‫نمازجماعت‬

‫نمازجماعت کی اہميت‬ ‫وه لوگ جومسجدکے پﮍوسی ہيں يامسجدسے اذان کی آوازسنتے ہيں ان کے لئے مستحب ہے بلکہ سنت مو کٔده ہے کہ اپنی‬ ‫روزانہ کی پانچوں واجب نمازوں جماعت کےساتھ اداکريں‪،‬بالخصوص نمازصبح اورمغرب وعشاء کی نماز کوجماعت کے‬ ‫ساتھ اداکريں اورنمازجمعہ اورعيدين کے کوبھی جماعت سے پﮍھاجائے ۔‬ ‫نمازجماعت اہميت کے لئے چنداحاديث ذکرہيں‪:‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے پنجگانہ نمازوں ميں سے ايک __________بھی نمازکوجماعت کے بغيرادانہيں کياہے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اوراسالم کے آغازسے نمازجماعت قائم کرتے تھے اورحضرت علياورجناب خديجہ کے ساتھ نمازجماعت برگذارکرتے تھے‬ ‫يہاں تک کہ آپ نے رحلت کے وقت بھی نمازجماعت قائم کی۔‬ ‫مرحوم شيخ عباس قمی “منتہی االعمال” ميں نقل کرتے ہيں‪:‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نمازجماعت کواس قدراہميت‬ ‫دياکرتے تھے کہ آپ نے اپنی زندگی کے آخر ی لمحات ميں بھی نمازجماعت کادامن نہيں چھوڑااورشديدبيمار ہونے کے‬ ‫باوجود اپنے دستہا ئے مبارک کوامام علی )عليه السالم(اور فضل ابن عباس کے شانوں پررکھا اور ا ن کا سہا رالے کرنہايت‬ ‫مشکل سے مسجد ميں تشريف الئے اور نماز کو جماعت کے ساتھ اداکيا۔‬ ‫‪ .‬منتہی االعمال‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١٠٣‬‬ ‫حضرت امام صادقفرماتے ہيں‪:‬ايک مرتبہ جب پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے ان لوگوں کے گھروں کوجالدينے کاحکم‬ ‫جاری کيا جو)منافقين(لوگ اپنے گھروں ميں نمازپﮍھتے تھے اورنمازجماعت ميں حاضرنہيں ہوتے تھے ‪،‬ايک نابينا شخص‬ ‫آنحضرت کی خدمت ميں ايا اورعرض کيا‪:‬اے ﷲ کے پيارے نبی ! ميں ايک نابيناشخص ہوں‪،‬جب اذان کی آوازبلند ہو تی‬ ‫ہے تومجھے کو ئی شخص ايسا نہيں ملتا ہے جو ميری راہنمائی کرے تاکہ ميں مسجدميں پہنچ سکوں اور آپ کے پيچھے‬ ‫کھﮍے ہوکر جماعت سے پﮍھوں ؟ رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله( نے اس نابيناکی بات سن کرارشادفرمايا ‪:‬‬ ‫ش ّدمن منزلک الی المسجدحبل واحضرالجماعة ‪.‬‬ ‫تم اپنے گھر سے لے کر مسجد تک ايک رسی کو وسيلہ قرار دو اور اس کی مددسے اپنے آپ کو نماز جماعت کے لئے‬ ‫مسجد تک پہنچايا کرو ۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢۶۶‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬کوفہ ميں امام المتقين حضرت علی کوخبردی گئی کہ مسجد کے ہمسايوں ميں کچھ لو گ ايسے بھی‬ ‫ہيں جو نماز جماعت ميں حاضرنہيں ہوتے ہيں توآپ نے فرمايا‪:‬‬ ‫ليحضرون معناصالت ناجماعة ‪،‬اولَتحولن عنّاواليجاورناوالنجاورہم۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ ہمارے ساتھ نمازجماعت ميں‬ ‫شرکت کياکريں ياپھروه ايساکريں يہاں سے دورچلے جائيں تا کہ انھيں مسجد کا ہمسايہ نہ کہاجاسکے اور ہم بھی ان کے‬ ‫ہمسايہ نہ کہال ئيں۔‬ ‫‪ .‬امالی )شيخ صدوق(‪/‬ص ‪۶٩۶‬‬ ‫دين اسالم ميں نمازجماعت کو ات نی زياده اہميت دی گئی ہے اوراس کے بارے ميں ات نی زياده تاکيدکی گئی ہے کہ‬ ‫اگرکوئی شخص اجتماع سے پرہيزکرنے کی وجہ سے جماعت ميں شريک نہ ہوياجماعت سے بے اعت نائی کرے‬ ‫اوربغيرعذرکے جماعت ميں شريک نہ ہوتواس کی نمازباطل ہے ۔‬ ‫زراره اور فضيل سے روايت ہے کہ ہم دونوں نے )امام صادق (سے معلوم کيا‪:‬کيانمازکو جماعت سے پﮍھناواجب واجب ہے‬ ‫؟امام)عليه السالم( نے فرمايا‪ :‬الصلوات فريضة وليس االجتماع بمفروض فی الصلوات کلہاولکنہاسنة من ترکہاسنة رغبة‬ ‫عنہاوعن جماعة المسلمين من غيرعلة فالصالة لہ‪.‬‬ ‫نمازواجب ہے ليکن کسی بھی نمازکوجماعت سے پﮍھناواجب نہيں ہے بلکہ سنت مو کٔده ہے اورجوشخص اس سنت سے‬ ‫دوری اورجماعت مسلمين سے دوری کرنے کی بناپربغيرکسی مجبوری کے نمازجماعت کوترک کرے تواس کی نمازہی‬ ‫نہيں ہوتی ہے ۔ ‪ .‬تہذيب االحکام‪/٣ /‬ص ‪٢۴‬‬ ‫عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬من ترک الجماعة رغبة عنہاوعن جماعة المسلمين من غيرعلة فالصالة لہ۔‬ ‫امام باقر فرماتے ہيں‪:‬جوشخص نمازجماعت سے اورمسلمانوں کے ساتھ ايک جگہ جمع ہوجانے سے دوری اختيارکرنے کی‬ ‫بناپربغيرکسی مجبوری کے نمازجماعت کوکرترک کرتاہے تو اس کی نمازہی نہيں ہوتی ہے ۔‬ ‫‪ .‬امالی‪/‬ص ‪۵٧٣‬‬ ‫قال اميرالمومنين عليہ السالم‪:‬من سمع النداء فلم يجبہ من غيرعلة فالصالةلہ۔ اميرالمو منين حضرت علی فرماتے ہيں ‪:‬جو‬ ‫ٰ‬ ‫)اورفرادی‬ ‫شخص اذان کی آواز سنے اور اسپر لبيک نہ کہے اور بغير کسی مجبوری کے نماز جماعت ميں شرکت نہ کرے‬ ‫نمازڑھے( گويا اس نے نماز ہی نہيں پﮍھی ہے۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢۴‬‬ ‫عن ابی جعفرعليہ السالم انّہ قال‪:‬الصالة لمن اليشہدالصالة من جيران المسجد ّاالمريض ا ٔومشغول ۔‬ ‫حضرت امام محمد باقر فرماتے ہيں ‪ :‬جو شخص مسجد کا ہمسايہ ہے اور نمازجماعت ميں شرکت نہيں کرتاہے ‪ ،‬اس کی‬ ‫نمازہی نہيں ہے مگر يہ کہ وه شخص مريض ہو ياکوئی عذررکھتاہو۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٧۶‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫عن الصادق عليہ السالم ‪:‬شکت المساجدالی الذين اليشہدونہامن جيرانہا ‪ ،‬فاوحی ﷲ عزوجل اليہا‪:‬وعزتی وجاللی الاقبلت لہم‬ ‫صالة واحدة والاظہرت لہم فی الناس عدالة والنالتہم رحمتی والجاورنی فی الجنة ۔‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں‪ :‬مسجد وں نے بارگاه خداوندی ميں ان لوگوں کے بارے ميں جو اس کے ہمسايہ ہيں اور‬ ‫بغير کسی عذر کے نماز کے لئے مسجد ميں حاضرنہيں ہو تے ہيں شکايت کی توخداوندعالم نے مسجدوں پروحی نازل کی‬ ‫‪:‬ميں اپنے جالل وعزت کی قسم کھا کر کہتا ہوں‪ :‬ميں ان لوگوں ميں سے کسی ايک شخص کی بھی نماز قبول نہيں کر تا‬ ‫ہوں ‪)،‬ميں دنياميں ان لوگوں کو(ان کے معاشرے ميں اچھے اور نيک آدمی کے نام سے نہيں شناخت نہيں کراتاہوں)اور تمام‬ ‫لوگ انھيں برابھال کہتے ہيں اورآخرت ميں ان انجام يہ ہوگاکہ( انھيں ميری رحمت نصيب نہ ہو گی اور بہشت ميں ميرے‬ ‫قرب وجوار ميں جگہ نہيں پائيں گے۔‬ ‫‪ .‬سفينة البحار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪۶۶٠‬‬ ‫راس زجّ۔ حضرت امام صادق فرماتے‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬قال لقمان البنہ ‪…:‬ص ّل فی الجماعة ولوعلی ٔ‬ ‫ہيں‪:‬حضرت لقماننے اپنے فرزندسے وصيّت کی ‪ :‬اے بيٹا! ہميشہ نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرنا خواه تم نيزے پرہی کيوں‬ ‫نہ ہو۔ ‪ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٢٩٧‬‬ ‫جماعت کی فضيلت وفوائد‬ ‫ً‬ ‫جب دين اسالم نمازجماعت کی ات نی زياده تاکيدکی گئی اوراس قدرکی اہميت بيان کی گئی ہے يقينانمازجماعت کے لئے‬ ‫بہت زياده ثواب معين کياگياہوگااوربہت زياده فضائل بيان کئے ہوگے ۔‬ ‫دين اسالم ميں معصومين کی زبانی نمازجماعت فضائل کے جوفضائل وفوائد ذکرگئے ہيں ہم ان ميں سے چنداحاديث‬ ‫کوذکرکررہے ہيں‪:‬‬ ‫اميرالمومنين حضرت علی فرماتے ہيں ‪ :‬خدا وندعالم نے جت نے بھی فرشتے خلق کئے ہيں ان ميں کچھ ايسے ہيں جوہميشہ‬ ‫صف ميں سيدھے کھﮍے رہتے ہيں اورکسی بھی وقت حالت قيام سے باہرنہيں آتے ہيں اور بعض فرشتے ايسے جوہميشہ‬ ‫رکوع کی حالت ميں رہتے ہيں اور کسی بھی وقت حالت رکوع سے باہرنہيں آتے ہيں اور بعض فرشتے ايسے ہيں جوہميشہ‬ ‫زمين پرسجد ے ميں رہتے ہيں اور کسی بھی وقت سجدے سے سربلندنہيں کرتے ہيں ‪،‬پس جولوگ اپنی نمازوں کوجماعت‬ ‫کے ساتھ اداکرتے ہيں تووه قيام‪،‬رکوع اورسجود کی حالت ميں ان فرشتوں کے مشابہ ہيں اب اگر کوئی شخص ان تمام‬ ‫فرشتوں کے ثواب سے بہره مندہوناچاہتاہے ان سب کے برابرثواب حاصل کرناچاہتاہے تواسے چاہئے کہ نماز جماعت کو‬ ‫ترک نہ کرے۔‬ ‫‪ .‬مناہج الشارعين ‪/‬ص ‪ ٢١٢‬۔ ‪٢١٣‬‬ ‫محمدبن عماره سے روايت ہے کہ ميں نے امام رضا سے ايک خط کے ذزيعہ معلوم کيا‪:‬کسی شخص کانمازواجب‬ ‫ٰ‬ ‫مينفرادی پﮍھناافضل ہے يااسے جماعت پﮍھنا؟امام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬‬ ‫کومسجدکوفہ‬ ‫الصالفی جماعة افضل‪ .‬جماعت سے پﮍھناافضل ہے۔‬ ‫تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢۵‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬من حافظ علی الجماعة حيث ماکان مرّعلی الصراط کالبرق الالمع فی اول زمرة مع‬ ‫ضو ُء من القمرليلة البدر‪،‬وکان لہ بکل يوم وليلة يحافظ عليہاثواب شہيد‪.‬‬ ‫السابقين ووجہہ ا ٔ‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬ہروه شخص جونمازجماعت کا پابند رہتا ہے وه روزقيامت سب سے پہلے پل‬ ‫صراط سے بجلی کے مانند تيزی سے گذرجائے گا اوراس کا چہره چودھويں کے چاند سے بھی زياده چمکدارہوگا‪،‬پس وه‬ ‫شخص جو شب وروزکی پنچگانہ نمازوں کے اوقات کی محافظت کرتاہے اورنمازکوجماعت سے اداکرتاہے تواسے ايک‬ ‫شہيدکادرجہ وثواب عطاکياجاتاہے ۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال وعقاب االعمال‪/‬ص ‪٢٩١‬‬ ‫عن النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم قال‪ّ :‬‬ ‫ان ﷲ َوع َد اَن يدخل الجنّة ثالثة نفربغيرحساب‪،‬ويشفع کل واحد منہم فی ثمانين‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫الفا‪:‬المؤذن‪،‬واالمام‪،‬ورجل يتوضا ٔث ّم دخل المسجد‪،‬فيصلی فی الجماعة‪.‬‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪ :‬خدا وندمتعال کا وعده ہے کہ تين لوگوں کو بغيرکسی حساب کے داخل بہشت‬ ‫کيا جائے گا اور ان تينوں ميں سے ہر شخص ‪ / ٨٠‬ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا اور وه تين شخص يہ ہيں ‪١ :‬۔مو ٔذن ‪٢‬۔‬ ‫امام جماعت ‪٣‬۔وه شخص جو اپنے گھر سے با وضو ہو کر مسجدميں جاتاہے اور نماز کو جماعت کے ساتھ اداکرتاہے‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪۴۴٩‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫قال النبی صلی ﷲ عليہ والہ‪:‬صفوف الجماعة کصفوف المالئکة والرکعة فی الجماعة‪،‬اربعةوعشرون رکعة‪،‬ک ّل رکعة احب الی‬ ‫اللھمن عبادة اربعين سنة۔ رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬ميری امت کی نمازجماعت کی صفيں آسماں پر‬ ‫مالئکہ کی صفوں کے مانندہيں ‪،‬خداوند عالم نمازجماعت کی ہررکعت کو چاليس برس کی عبادتوں سے بھی زياده دوست‬ ‫رکھتاہے۔‬ ‫‪ .‬االختصاص )شيخ مفيد( ‪٣٩‬‬ ‫الی المسجد يطلب فيہ الجماعة کان لہ بکل خطوة سبعون الف حسنة ويرفع لہ من‬ ‫قال رسول ﷲ صلی عليہ وآلہ‪:‬من‬ ‫مشی ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫علی ٰذلک و ّکل ﷲ بہ سبعين الف ملک يعودونہ فی قبره ويبشرونہ ويو نٔسونہ فی وحدتہ‬ ‫الدرجات مثل ٰذلک فان مات وہو ٰ‬ ‫ويستغفرون لہ حتی يبعث۔ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬جوشخص نمازجماعت ميں شريک ہونے کی غرض‬ ‫سے مسجدکی جانب قدم بﮍھائے تواس کے ہرقدم پرسترہزارنيکياں لکھی جاتی ہيں اوراسی مقدارميں اس کامقام بلندہوتاہے‬ ‫‪،‬اگروه اس حالت ميں انتقال کرجائے توخداوندعالم سترہزارمالئکہ کو اسے قبرميں اتارنے کے لئے روانہ کرتاہے ‪،‬وه‬ ‫فرشتے اسے خوشخبری ديتے ہيں اورقبرکی ت نہائی)اورتاريکی( اس کی مددکرتے ہيں اورجب تک وه فرشتے اس کی‬ ‫قبرميں رہتے ہيں اس کے لئے استغفارکرتے رہتے ہيں۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪١٧‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬الصالة فی جماعة تفضل علی ک ّل صالة الفردباربعة وعشرين درجة تکون خمسة وعشرين‬ ‫صالة‪.‬‬ ‫ٰ‬ ‫فرادی نمازپرچوبيس درجہ فضيلت رکھتی ہے کہ ايک نمازپچيسنمازوں کاثواب رکھتی‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬نمازجماعت‬ ‫ہے ۔‬ ‫‪ .‬تہذب االحکام‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢۵‬‬ ‫پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪ :‬ايک دن نمازظہرکے بعد جبرئيل امين سترہزارفرشتوں کے ہمراه نازل ہوئے‬ ‫اور مجھ سے کہا ‪ :‬اے محمد ! تمہاراپروردگاتم پر درودو سالم بھيجتا ہے اوراس نے تمہارے لئے دوتحفے بھيجے ہيں جو‬ ‫تم سے پہلے کسی بھی نبی کوہديہ نہيں کئے گئے ہيں‪،‬ميں نے جبرئيل سے پوچھا‪ :‬وه دوہديہ کيا ہيں ؟ جبرئيل نے عرض کيا‬ ‫تعالی نے ميری امت کے لئے‬ ‫‪:‬تين رکعت نمازوتراورپانچ وقت نمازجماعت ‪،‬ميں نے کہا ‪:‬اے جبرئيل !ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫نمازجماعت ميں کيااجرو ثواب معين کيا ہے ؟ جبرئيل نے جواب ديا‪ :‬اگر جماعت ميں دوشخص)ايک امام اوردوسراماموم(‬ ‫ہوں تو خداوند عالم ہرشخص کے نامہ أعمال ميں ہر رکعت کے عوض ايکسو پچاس نمازوں کا ثواب درج کرتاہے اور اگر‬ ‫تين شخص ہوں توہر ايک شخص کے لئے ہر رکعت کے عوض چھ سو نمازوں کا ثواب درج کرتاہے اور اگر چار آدمی ہوں‬ ‫توہرايک کے لئے ہر رکعت کے عوض باره سونمازوں کا ثواب لکھتاہے ‪،‬اگرپانچ آدمی ہيں توہرايک کے لئے دس‬ ‫ہزارچارسونمازوں کاثواب لکھتاہے‪،‬اگرچھ آدمی ہيں توہرايک کے لئے چارہزارآٹھ سونمازوں کاثواب لکھتاہے ‪،‬اگرسات‬ ‫آدمی ہيں توہرايک کے لئے نوہزارچھ سونمازيں لکھی جاتی ہيں‪،‬اگرآٹھ آدمی ہوں توہرايک کے لئے ‪/ ١٩٢٠٠‬نمازيں لکھی‬ ‫جاتی ہيں اسی طرح اگر جماعت ميں نو شخص موجود ہوں توتب بھی يہی ثواب لکھاجاتا ہے اورجب نمازجماعت ميں‬ ‫حاضرہونے والوں کی تعداددس تک پہنچ جاتی ہے تواگرتمام آسمان کاغذ‪ ،‬تما م درياوسمندرروشنائی‪،‬تمام درخت قلم اور تمام‬ ‫جن وملک اورانسان کا تب بن جائيں تب بھی ان دس لوگوں کی ايک رکعت کا ثواب نہيں لکھ سکتے ہيں‪.‬‬ ‫اس کے بعدجبرئيل نے مجھ سے عرض کيا‪:‬اے محمد!کسی مومن کا امام جماعت کی ايک تکبيرکودرک کرليناساٹھ ہزارحج‬ ‫وعمره سے بہترہے اوردنياومال دنياسے سترہزاردرجہ افضل ہے اورکسی مومن کا امام )عليه السالم(کے پيچھے ايک‬ ‫رکعت نمازپﮍھنافقيروں اورحاجتمندوں پرايک الکھ دينارخرچ کرنے سے افضل ہے اورکسی مومن کاامام )عليه السالم(کے‬ ‫ساتھ ايک سجده کرناراه خداميں سوغالم آزادکرنے سے افضل ہے ۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨۵‬ص ‪ ١۴‬۔ ‪١۵‬‬ ‫ايک روايت ميں آياہے کہ ايک دن عبدﷲ ابن مسعود ات نی تاخير سے نمازجماعت ميں پہنچے کہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(پيغمبر افتتاحی تکبير )يعنی تکبيرةاالحرام(کہہ چکے تھے اورابن مسعوداس تکبيرکوحاصل نہ کرسکے تواس کے عوض‬ ‫ايک بنده آزاد کيا ‪،‬اس کے بعد پيغمبراسالم کی خدمت ميں ائے اورعرض کيا‪:‬يانبی ﷲ!کياايک غالم کے آزادکردينے سے‬ ‫مجھے جماعت کی اس تکبيرکاثواب حاصل ہوگياہے جسے ميں درک نہيں کرپاياتھا؟رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله(نے‬ ‫جواب ديا‪:‬ہرگزنہيں‪،‬يہ جواب سن کرعبدﷲ ابن مسعودنے عرض کيا‪:‬اگرميں ايک اورغالم آزادکردوں؟ آنحضرت نے‬ ‫فرمايا‪:‬اے ابن مسعود!اگرتم جوکچھ زمين وآسمان ميں ہے اس کو راه خدا ميں انفاق کردوپھربھی اس تکبيرکاثواب حاصل‬ ‫نہيں کرسکتے ہو۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪ .‬جامع االخبار‪/‬ص ‪ ٩١‬۔ ‪٩٢‬‬ ‫صف اول کی فضيلت‬ ‫مستحب ہے کہ انسان نمازجماعت کی پہلی صف ميں خصوصاامام جماعت کے پيچھے حاصل کرے ليکن يہ بھی مستحب‬ ‫ہے کہ بزرگ وافضل ومتقی لوگ امام کے پيچھے کھﮍے ہوں‪،‬پہلی صف ميں کھﮍے ہوکرنمازپﮍھنے کی بہت زياده فضيلت‬ ‫ہے ‪،‬اس بارے ميں چندروايت ذکرہيں‪:‬‬ ‫قال ابوالحسن موسی الجعفرعليہماالسالم ‪:‬ان الصالة فی صف االول کالجہادفی سبيل ﷲ عزوجل ۔‬ ‫موسی بن جعفر فرماتے ہيں ‪ :‬صف ا ول ميں کھﮍ ے ہو کر جماعت کے ساتھ پﮍھنا راه خدا ميں جہا د کرنے‬ ‫حضرت امام‬ ‫ٰ‬ ‫کے مانندہے ۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٨۵‬‬ ‫عن ابی جعفرعليہ السالم قال‪:‬افضل الصفوف اوّلہاوافضل اوّلہادنامن االمام۔ امام محمدباقر فرماتے ہيں‪:‬سب سے افضل‬ ‫وبرترپہلی صف ہے اورپہلی صف ميں امام کے قريب والی جگہ سب سے افضل ہوتی ہے۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/۵‬ص ‪٣٨٧‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬من حافظ علی الصف االول والتکبير االولی اليوذی مسلما اعطاه اللھمن االجر مايعطی‬ ‫المو ٔذن فی الدنياواآلخرة ۔ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬جوشخص پہلی صف ميں نمازپﮍھتاہے اورپہلی‬ ‫تکبيرکودرک کرليتاہے کوئی بھی مسلمان اسے اذيت نہيں پہنچاسکتاہے اورخداوندعالم اسے وہی اجروثواب عطاکرتاہے‬ ‫جوايک مو ٔذن کودنياوآخرت ميں عطاکرتاہے ۔ ‪ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪١٨‬‬ ‫نمازجماعت کانقطہ آغاز‬ ‫اس ميں کوئی شک نہيں ہے اورکتب تواريخ ميں بھی يہی ملتاہے کہ جس وقت سے خداوندعالم نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(درجہ رسالت مبعوث کيا اورآپ کوپہلے آپ کواپنے اقرباء کے لئے تليغ دين کاحکم مالاوراس کے بعدکھلی کوئی تبليغ‬ ‫کرنے کے لئے حکم خدامالتوسب سے پہلے موالئے کائنات علی ابن ابی طالب ايمان الئے اس کے بعدحضرت خديجہ ايمان‬ ‫دين اسالم سے مشرف ہوئيں اورجيسے ہی پروردگارنے آنحضرت کونماز پﮍھنے کاحکم دياتو آپ نے امام علی )عليه‬ ‫السالم(اورخديجہ کے ساتھ نمازجماعت قائم کی اورزندگی ميں کبھی بھی جماعت کے بغيرنمازادانہيں کی ۔‬ ‫ٰ‬ ‫فرادی نمازنہيں پﮍھی ہے بلکہ ہميشہ اپنی‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(وه ذات گرامی ہيں کہ جنھوں نے زندگی ميں کبھی‬ ‫واجب نمازوں کوجماعت سے پﮍھے تھے اورآغازاسالم کے بعدسے چھ مہينہ تک صرف تين شخص نبی اکرم )صلی ﷲ‬ ‫عليه و آله(‪،‬حضرت علی اورجناب خديجہ کے درميان نمازجماعت قائک ہوتھی ۔‬ ‫اسماعيل ابن اياس ابن عفيف کندی سے روايت ہے وه کہتے ہيں کہ‪ :‬ميں ايک تاجرآدمی تھا‪،‬جب ميں تجارت کے لئے زمانہ‬ ‫ٔجاہليت ميں شہرمکہ ميں داخل ہو ا اورتجارت کاسامان خريدنے کے لئے عباس ابن عبدالمطلب کے پاس پہنچاکيونکہ وه بھی‬ ‫ايک تاجرشخص تھے ‪ ،‬ہم دونوں )خانہ کعبہ کے نزديک کھﮍے ہوئے (ناگہاں ميں نے کعبہ کے قريب ايک خيمہ سے ايک‬ ‫جوان نکلتے ہوئے ديکھا‪،‬وه جوان کعبہ قريب آئے ‪،‬ميری نگاہوں نے ات ناحسين چہره آج تک کبھی نہيں ديکھاتھا‪،‬وه جوان‬ ‫کعبہ کے مقابل آکر کھﮍے ہو ئے اورسورج کس طرف ديکھا)کہ نمازکے وقت ہوگياہے يانہيں (اس کے بعدوه جوان نمازکے‬ ‫لئے کھﮍے ہوگئے ‪،‬اسی وقت ايک بچہ اورايک عورت خيمہ سے باہرنکلے وه بچہ آکر دائيں جانب کھﮍا ہوگيااوروه عورت‬ ‫ان دونوں کے پيچھے کھﮍی ہو گئی ‪،‬ہماری نگاہوں نے ديکھا کہ وه بچہ اور عورت اپنے آگے کھﮍے ہونے کی شخص کی‬ ‫اتباع کررہے ہيں‪ ،‬اگر وه رکوع ميں جاتے ہيں تو يہ دونوں ان کے ساتھ رکوع ميں کرتے ہيں اور اگر وه سجد ه کرتے ہيں‬ ‫تو يہ دونوں بھی ان کے ساتھ سجده کرتے ہيں ‪ ،‬اس بے سابقہ منظرکوديکھ کرميرے جسم پرايک عجيب سی کيفيت طاری‬ ‫ہوگئی ‪،‬اور ميرے اندر ہيجان پيدا ہوگيا ل ٰہذا ميں نے نہايت تعجب کے ساتھ عباس ابن عبدالمطلب سے پوچھا ‪ :‬يہ کون لوگ‬ ‫ہيں ؟ عباس نے جواب ديا‪:‬‬ ‫وه شخص جوآگے کھﮍے ہوئے ہيں محمد ابن عبدﷲ )صلی ﷲ عليه و آله(ہيں اور وه بچہّ عبدﷲ کے بھائی عمران کے فرزند‬ ‫علی ابن ابی طالبہيں اور وه عورت جو پيچھے کھﮍی ہو ئی ہيں وه حضرت محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله(کی ہمسر‬ ‫خديجہ ہيں‪ ،‬اس کے بعد عباس ابن مطلب نے کہا‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫قيصروکسری‬ ‫مصطفی )صلی ﷲ عليه و آله( فرماتے ہيں‪ :‬ايک دن وه بھی آئے گا کہ جب‬ ‫ميرے چچازاد بھائی حضرت محمد‬ ‫ٰ‬ ‫کا پورا خزانہ ہمارے اختيار ميں ہو گا ‪ ،‬ليکن خدا کی قسم اس وقت پوری کائنات ميں اس مذہب کی پيروی کرنے والے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫صرف يہی تين لوگ ہيں‪،‬اس کے بعد راوی کہتاہے ‪:‬اے کاش !خداوندعالم مجھے ات نی توفيق ديتاکہ آنحضرت کے پيچھے‬ ‫اس وقت ( نمازپﮍھنے والوں علی )عليه السالم( کے بعددوسراآدمی ہوتا۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)٢ .‬مناقب امير المومنين ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ٢۶١‬۔ينابيع المو ٔدة ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ١۴٧‬‬

‫امام علی ابن طالب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے پيچھے نمازپﮍھنے کے بارے ميں فرماتے ہيں‪:‬‬ ‫اناعبدﷲ ‪ ،‬واخورسول ﷲ ‪ ،‬واناالصديق االکبر‪ ،‬اليقولہابعدی ّاالکاذب مفتری ولقدصليت ( مع رسول ﷲ )ص(قبل الناس بسبع‬ ‫سنين وانااوّل من صلی معہ ‪ ١ ).‬ميں بنده خداہوں اوررسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله(کابھائی ہوں اورميں ہی صديق اکبرہوں‬ ‫ٰ‬ ‫کادعوی کرنے واالشخص خالصتاًجھوٹ بولتاہے اورجن لوگوں نے سب سے پہلے رسول‬ ‫اورميرے بعد صديق اکبرہونے‬ ‫خدا )صلی ﷲ عليه و آله( کے پيچھے نماز پﮍھنا شروع کی ہے ميں نے ان لوگوں سے سات سال پہلے آنحضرت کے‬ ‫پيچھے نمازيں پﮍھناشروع کردی تھی اورميں ہی پہال وه شخص ہوں جسنے آنحضرت کے ساتھ نماز پﮍھی ہے۔‬ ‫‪)١‬الغدير‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪ ٢٢١‬۔سنن کبروی ‪/‬ج ‪/۵‬ص ‪) ١٠٧‬‬ ‫مرحوم ثقة االسالم شيخ ابوجعفرکلينی کتاب “کافی ”ميں يہ حديث نقل کرتے ہيں‪ :‬عن ابی جعفر عليہ السالم قال‪:‬لمااسریٰ‬ ‫برسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ الی السماء فبلغ البيت المعموروحضرت الصالة فاذن جبرئيل واقام فتقدم رسول صلی ﷲ ��ليہ وآلہ‬ ‫وصف المالئکة والنبيون خلف محمدصلی ﷲ عليہ وآلہ‪.‬‬ ‫حضرت امام باقر فرماتے ہيں‪:‬جب شب معراج پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله(کو آسمان پرلے جاياگياتو آنحضرتبيت‬ ‫المعمورميں پہنچے ‪،‬جيسی ہی نمازکاوقت پہنچاتوﷲ کی طرف سے جبرئيل امين )عليه السالم(نازل ہوئے اوراذان واقامت‬ ‫کہی ‪،‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نمازجماعت کے لئے آگے کھﮍے ہوئے اورانبيا)عليه السالم(ومالئکہ نے آنحضرتکے‬ ‫پيچھے صف ميں کھﮍے ہوکرجماعت سے نمازپﮍھی ۔‬ ‫‪ .‬کافی )باب بدء االذان واالقامة(ج ‪/٣‬ص ‪٣٠٢‬‬ ‫روايت ميں آياہے کہ پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(شديد گرمی کے ايام ميں بھی نمازظہر وعصرکے لئے جماعت قائم‬ ‫کرتے تھے ليکن منافقين کاايک گروه جومومنين کی صفوں ميں تفرقہ ايجادکرنے کے لئے گرم ہواکوبہانہ قرارديتے تھے‬ ‫اورنمازجماعت ميں شرکت نہيں ہوتے تھے بلکہ دوسرے لوگوں کونمازجماعت ميں شريک ہونے سے منع کرتے تھے ‪،‬ان‬ ‫کے اس پروپيگنڈه کی وجہ سے نمازجماعت ميں شرکت کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی گئی اوريہ آيہ مبارکہ نازل ہوئی‪:‬‬ ‫< َحاْ ِفظُوا َعلَی ال ّ‬ ‫نمازوسطی نمازظہرکی محافظت‬ ‫ْطی َوقُوْ ُموْ ا ِ ٰ ّ ِ ٰق ِن ِتيْن> تم اپنی نمازوں بالخصوص‬ ‫ٰ‬ ‫صلَ ٰوت َوالص ٰﱠلو ِة ْال ُوس ٰ‬ ‫اورپابندی کرو اورﷲ کی بارگاه ميں خضوع وخشوع کے ساتھ کھﮍے ہوجاؤ۔‬ ‫‪ .‬سوره ٔبقرة ‪/‬آيت ‪ . ٢٣٨‬تفسيرنمونہ ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪١۴۶‬‬ ‫ان مذکوره احاديث سے يہ واضح ہوتاہے کہ اجيسے ہی نمازکے وجوب کاحکم نازل ہواتواسی وقت پہلی ہی نمازميں جماعت‬ ‫کی بنيادرکھ دی گئی تھی اورآغازسالم ہی سے نمازجماعت کاآغازہوچکاتھااورشب معراج ايک عظيم نمازجماعت‬ ‫برگذارہوئی کہ جبرئيل امين نے اذان واقامت کہی اوراس کے بعدانبيائے ٰالہی اورتمام مالئکہ نے آنحضرت کے پيچھے‬ ‫نمازجماعت پﮍھ کراپنے لئے فخرومباہات کيا۔‬ ‫روئے زمين پرايک اورنمازبﮍے عظمت وقارکے ساتھ برگذارہوگی کہ جب ہمارے آخری امام ظہورفرمائيں گے اور آسمان‬ ‫عيسی )عليه السالم(بھی آکراس نمازميں شرکت کريں گے ‪،‬خداوندعالم سے دعاہے کہ بہت جلدامام زمانہ کرے اورہميں‬ ‫سے‬ ‫ٰ‬ ‫ان کے اصحاب وانصاراوران کے مامومين سے قراردے)آمين بارب العالمين(۔‬ ‫رازجماعت‬ ‫دين اسالم ميں نمازجماعت کے قائم کرنے کی چندوجہ بيان کی گئی ہيں جن ميں سب سے اہم يہ ہے کہ نمازکے ذريعہ کے‬ ‫مسلمانوں کے درميان اتحادقائم ہوتاہے ‪،‬مومنين کی ايک دوسرے سے مالقات ہوتی ہے ‪،‬احوال پرسی ہوتی ہے ‪،‬سب ايک‬ ‫دوسرے کی خبررکھتے ہيں۔ امام علی بن موسی الرضا ‪+‬فرماتے ہيں‪:‬دين اسالم ميں نمازجماعت کواس لئے قراردياگياہے‬ ‫تاکہ اس کے ذريعہ اخالص‪،‬توحيد‪،‬اسالم اورعبادت خداندی ظاہری طورسے بھی اظہارہوجائے کيونکہ نمازجماعت کے‬ ‫اظہارکے ذريعہ عالم شرق وغرب کے لئے خداوندعالم کے بارے ميں ايک دليل قائم ہوجاتی ہے اورنمازجماعت کی ايک‬ ‫وجہ يہ بھی ہے کہ وه منافق لوگ جونمازہلکااورآسان کام شمارکرتے ہيں وه اس چيزپرمجبورہوجائيں جس چيزکاظاہر ی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫طورسے اقرارکرتے ہيں اس کاسب لوگوں کے سامنے اقرارکرے اوراس چيزکے پابندجائيں جووه اپنی زبان سے اسالم کے‬ ‫بارے ميں اظہارکرتے ہيں اورنمازجماعت کے قراردئے جانے کی ايک وجہ يہ بھی ہے کہ نمازجماعت ميں حاضرہونے‬ ‫والے لوگ ايک دوسرے کے مسلمان اورمتقی وپرہيزگارہونے کی گواہی دے سکيں۔‬ ‫‪ .‬علل الشرايع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢۶٢‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال ‪ :‬انماجعلت الجماعة واالجتماع الی الصالة لکی يعرف من يصلی ممن اليصلی ‪ ،‬ومن يحفظ‬ ‫مواقيت الصالة ممن يضيع‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬دين اسالم ميں نمازجماعت کواس لئے قراردياگياہے تاکہ اس کے ذريعہ نمازپﮍھنے والوں کی‬ ‫نمازنہ پﮍھنے والوں سے پہچان ہوسکے اوريہ معلوم ہوجائے کہ کون لوگ اوقات نمازکی پابندی کرتے ہيں اورکون‬ ‫نمازکوضايع کرتے ہيں ۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/۵‬ص ‪٣٧٧‬‬ ‫اس ميں کوئی شک نہيں ہے کہ نمازجماعت کے وجہ مومينن ومسلمين کے درميان اتحادبرقرار ہوتاہے مومنين صبح‬ ‫‪،‬دوپہراورشام ميں ايک دوسرے سے مالقات کرتے ہيں‪،‬احوال پرسی کرتے ہيں‪ ،‬دين اسالم ميں نمازجماعت کواسی لئے‬ ‫مقررکيا گياہے کہ تاکہ صبح سويرے مومن بھائی ايک دوسرے سے مالقات کريں ايک دوسرے کی احوال پرسی کريں‬ ‫اورپھردوباره ظہرميں مالقات کريں اوررات ميں بھی مالقات کريں اورنمازجماعت کواس لئے مقررکياگياہے تاکہ بستی کے‬ ‫لوگ آپس ميں متحدرہيں اورکوئی ان کے خالف کسی طرح کاپروپيگنڈه نہ پھيالئے ليکن اس طرح بھی ديکھنے ميں آتاہے‬ ‫کہ کچھ لوگ مسلمانوں کے درميان اختالف ڈالنے کی وجہ سے امام جماعت کے خالف پروپيگنڈه پھيالتے ہيں اورپيش‬ ‫نمازپرمختلف طريقہ سے اعتراض کرتے ہيں يہاں کہ اسالم کالباس پہن کرمسجدميں حاضرہوتے ہيں اوريہ نبی کے زمانے‬ ‫ميں ہوتاتھااورمنافقين لوگ مسلمانوں درميان تفرقہ ڈالنے کے لئے گرمی ياسردی کوبہانہ قراديتے تھے اورکہتے تھے اس‬ ‫گرمی ميں کس نماپﮍھيں اورپيغمبرکی باتوں پراعتراض بھی کرتے تھے ۔‬ ‫مسٹر ہمفر)جو حکومت برطا نيہ لئے مسلمانوں کی جاسوسی کرتاتھا( لکھتا ہے کہ ‪:‬مسلمانوں کے درميان اتحادوہماہنگی‬ ‫کوختم کرنے کاصرف ايک ہی راستہ ہے اوروه يہ کہ ہے نماز جماعت کوختم کياجائے اوراسے ختم کرنے کے لئے‬ ‫ضروری ہے کہ امام جمعہ وجماعت کے خالف غلط خبريں شايع کی جائيں ‪،‬ان پرطرح طرح کی تہمتيں لگائی جائيں ‪،‬ان‬ ‫کے خالف پروپيگنڈ ه پھيال جائے اور لوگوں کو علما ء دين وآئمہ جماعات سے بدظن کياجا ئے اور لوگوں کوان کا استقبا ل‬ ‫کم کرنا چاہئے بالخصوص ضروری ہے کہ امام جماعت کے فاسق وفاجر ہونے پر دليليں قائم کی جا ئيں تاکہ لوگ ان سے‬ ‫بدطن ہوجائيں اور اس سوء ظن کا نتيجہ يہ ہوگا کہ لوگ ان کے دشمن ہو جائيں اور پھر ان کے پيچھے کوئی نماز نہيں‬ ‫پﮍھے گا اور علماء وامام جماعت کالوگوں سے رابط ختم ہوجائے۔‬ ‫‪ .‬ہزارويک نکتہ دورباره نٔماز‪.‬ش ‪/ ١۵۵‬ص ‪۴٩‬‬ ‫”ہرس ليف” کہتاہے ‪ :‬ميں نے زندگی ميں بہت زياده کليساومعبدکاديدارکياہے کہ جن ميں کسی طرح کی کوئی مساوات نہيں‬ ‫پائی جاتی ہے اورمسلمانوں کے بارے ميں بھی ميرايہی خيال تھاکہ ان کی عبادتگاہوں ميں بھی کوئی اخوت ومساوات نہيں‬ ‫پائی جاتی ہوگی ل ٰہذاخيال يقين ميں بدلنے کے لئے عيدالفطرکے دن ان کی مسجدوں کانظاره کرنے کے لئے شہرميں‬ ‫گھومنے نکال ‪،‬جب لندن کی “وو کنج ” مسجد کانظاره کياتوميری نگاہوں ميں ايک عجيب منظرديکھنے ميں آيااور ميرے دل‬ ‫نے مجھ سے کہا ‪:‬عاليترين مساوات تومسلمانوں کے درميان پائی جاتی ہے ۔‬ ‫وه کہتاہے کہ‪ :‬ميں نے مسجدميں ديکھاکہ مختلف قسم کے لوگ ‪ ،‬گورے ‪،‬کالے ‪،‬عالی ‪ ،‬دانی ‪ ،‬شہری ديہاتی اميروغريب‬ ‫سب ايک ہی صف ميں کھﮍے ہيں اور سب اخوت وبھائی چاره کے ساتھ اپنے رب کی عبادت ميں مشغول ہيں اوراسی طرح‬ ‫کامنظرممباساشہرکی نوبيا مسجد کے ديکھنے پيش آياوہاں بھی ميری نگاہوں ديکھاکہ کسان‪،‬مزدور اور سياستمدار لوگ‬ ‫نہايت خوشی سے ايک دوسرے کو گلے لگارہے ہيں ‪،‬ہاتھ ميں ہاتھ دے رہے ہيں ‪،‬مصافحہ کررہے اورسب ايک دوسرے‬ ‫کوعيدکی مبارکبادپيش کررہے ہيں ‪ ،‬منصب دار لوگ نماز ميں کسی دوسرے کے پاس کھﮍے ہونے ميں کوئی حماقت‬ ‫محسوس نہيں کر رہے ہيں ‪ ،‬وہاں پر کسی کو اپنی بزرگی کا خيال نہيں ہے بلکہ سب خدا کی بار گاه ميں برابرکا درجہ‬ ‫رکھتے ہيں ‪ ،‬کوئی بھی شخص کسی دوسرے پر برتری نہيں رکھتا ہے‪ ،‬جسوقت ميں نے امام جماعت سے مالقات کی‬ ‫)جوزندگی ميں کسی مذہبی رہنماسے پہلی مالقات تھی (انھوں نے مجھ سے کہا ‪ :‬مسلمانوں کا عقيده يہی ہے کہ تما م انبياء‬ ‫برحق ہيں اور جوکتاب خدانے ان پر نازل کی ہيں وه بھی برحق ہيں ‪ ،‬ميں نے اپنے دل ميں سوچا کہ وه تمام باتيں جو ميں‬ ‫نے مسلمانوں کے خالف سنی تھيں وه سب غلط ثابت ہورہی ہيں اور اس ميں کوئی شک نہيں ہے کہ دين اسالم صالحيت‬ ‫رکھتا ہے کہ پورے دنيا کے لوگ اسے قبول کريں۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪.‬ش ‪/ ۶۴۴‬ص ‪٢٠۶‬‬ ‫شيخ الرئيس ابوعلی سينا نے ايک خط ابوسعيد ابی الخيرکی خدمت ميں ارسال کيا اور لکھا ‪ :‬جس جگہ ﷲ کی عبادت کريں‬ ‫گھر ميں يامسجد ميں ياصحرا ميں اور اس سے کوئی چيزطلب کريں وه جواب ضرورديتا ہے اورتمناؤں کو پوری کرتا ہے‬ ‫پھرکياضروری ہے انسان مسجد ميں جائے اور نمازکوجماعت سے اداکرے جبکہ خداوند متعال رشہ رگ سے بھی زياده‬ ‫انسان سے قريب ہے چاہے ؟ ابوسعيد نے ابوعلی سينا کے خط کا جواب ديا اور اس ميں ايک بہت عمده مثال لکھی‪:‬‬ ‫اگر کسی مکان ميں متعدد چراغ روشن ہو ں اور ان ميں سے ايک چراغ خاموش ہو جائے تو روشنی ميں کوئی کمی‬ ‫محسوس نہيں ہو گی کيونکہ ابھی دوسرے چراغ روشن ہيں اس لئے اندھيراہو نے کا امکان نہيں ہے ليکن اگر وه تمام چراغ‬ ‫جداجداکمرے ميں روشن ہوں تو جس کمرے کا بھی چراغ خاموش ہو جائے گا اس ميں اندھيرا چھاجائے گا انسان بھی ان‬ ‫ٰ‬ ‫مسجدميں(فرادی نماز پﮍھتے ہيں تو اس‬ ‫چراغوں کے مانند ہيں کيونکہ جولوگ گناہوں ميں الوده ہيں اگر وه گھرميں )يا‬ ‫خاموش چراغ کے مانند ہيں جسميں ہرگزنورنہيں پاياجاتاہے اورايسے لوگوں کی نماز ان کو بہت ہی کم فائده پہنچا تی ہے‬ ‫‪،‬بلکہ ممکن ہے ايسے لوگ رحمت وبرکات ال ٰہی سے بھی محروم ہوجائيں ‪.‬‬ ‫مسجدميں نيک وصالح لوگ بھی نمازميں شريک ہوتے ہيں ل ٰہذااگرتمام لوگ مسجد ميں آکر جماعت سے نمازيں پﮍھيں توشايد‬ ‫خداوندعالم ان نيک وصالح لوگوں کے حاضرہو نے کی وجہ سے ان گناہگا رلوگوں کی بھی قسمت بيدار ہو جائے اور خدا‬ ‫کی رحمت وبرکات نازل ہو نے لگيں۔‬ ‫‪ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪. ۵٧٣‬ص ‪  ١٨١‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫واجبات نمازکے اسرار‬

‫واجبات نمازگياره ہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔نيت ‪٢‬۔تکبيرة االحرام ‪٣‬۔قيام ‪۴‬۔قرائت ‪۵‬۔ذکر ‪۶‬۔رکوع ‪٧‬۔سجود ‪٨‬۔تشہد ‪٩‬۔سالم ‪ ١٠‬۔ترتيب ‪ ١١‬۔مواالت‪.‬‬ ‫‪١‬۔نيت ‪٢‬۔تکبيرة االحرام ‪٣‬۔قيام متصل بہ رکوع يعنی رکوع سے پہلے کھﮍ ے ہونااورتکبيرة االحرام کہتے وقت اوررکوع‬ ‫ميں جانے سے پہلے قيام کرنا ‪۴‬۔رکوع ‪۵‬۔دوسجدے اب ہم ان واجبات نمازکے رازاوروجوہا__________ت کويکے‬ ‫يعدديگرے بالترتيت ذکرکررہے ہيں‪:‬‬ ‫رازنيت‬ ‫انسان جس کام کوانجام ديتاہے اس کی طرف متوجہ ہونے اوراس کے مقصدسے آگاه ہونے کونيت کہاجاتاہے اورہرکام کے‬ ‫انجام پرثواب وعقاب نيت پرموقوف ہوتاہے ‪،‬اگر عمل کو آگاہی واراده کے ساتھ انجام ديتاہے تووه باعث قبول ہوتاہے‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫غزی ابتغاء ( ماعندﷲ فقدوقع اجره علی ﷲ‪،‬ومن‬ ‫مانوی‪،‬فمن‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪ :‬انّمااالعمال بالنيات ولک ّل امر ٍء‬ ‫غزی يريدعرض الدنياا ٔو ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫نوی عقاالًلم يکن لہ ّاالمانواه۔) ‪ ١‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬انسان کے ہر عمل‬ ‫کاتعلق اس کی نيت سے ہوتاہے اور عمل کی حقيقت نيت کے ذريعہ معلوم ہوتی ہے اورثواب بھی نيت کے حساب دياجاتاہے‬ ‫‪،‬اس کے نصيب ميں وہی ہوتاہے جس چيزکاوه قصدکرتاہے ‪،‬پس وه جو شخص رضای ٰالہی کی خاطرجنگ کرتاہے اورکسی‬ ‫نيک کام خداکی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے انجام ديتاہے توخداوندعالم اسے اس کااجروثواب عطاکرتاہے‬ ‫ضروراجرعطاکرتاہے اورجوشخص متاع دنياکوطلب کرتاہے اسے اس کے عالوه جسچيزکی اس نے نيت کی ہے کچھ بھی‬ ‫نصيب نہيں ہوتاہے۔‬ ‫‪)١ .‬تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٨٣‬‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬القول ّاالبعمل والقول والعمل ّاالبنية ‪،‬والقول والعمل والنية ّاالباِصابة السنة‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬عمل کے بغيرکوئی قول نہيں ہوتاہے اورکوئی قول وعمل نيت کے بغيرکے‬ ‫بغيرنہيں ہوتاہے اورکوئی قول وعمل اورنيت سنت کے بغيرنہيں ہوتاہے۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٧٠‬‬ ‫ّ‬ ‫علی نياتہم يوم القيامة ۔ امام صادق فرماتے ہيں‪:‬خداوندعالم روزقيامت انسان‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم‬ ‫قال‪:‬ان ﷲ يحشرالناس ٰ‬ ‫کوان کی نيت کے اعتبارسے محشورکرے گا۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪١٣۵‬‬ ‫رازاخالص وقصدقربت‬ ‫جس طرح انسان ظاہری طور سے ذکرخداکرتاہے اسی طرح باطنی اعتبارسے اپنی نمازوعبادت کوصرف پروردگارعالم‬ ‫سے قربت حاصل کرنے اوراس کی رضاوخوشنودی حاصل کرنے لئے انجام دے‪،‬نمازی کوچاہئے کہ اپنے دل ميں حکم‬ ‫وفرمان ٰالہی کوانجام دينے کا اراده کرے اورخالصتاًخداکے لئے انجام دے‪ ،‬اگردل ميں تھوڑاسابھی غيرخداکااراده ہوتووه‬ ‫عمل باطل ہے ‪،‬عمل وہی قيمتی ہے جس عمل ٰ‬ ‫پرالہی رنگ چﮍھاہواورجت نازياده رنگ چﮍھاہوات ناہی زياده قيمتی ہوتاہے‬ ‫عمل کوصرف خداکے لئے انجام دينا‪،‬کسی دوسرے کوعبادت ميں شريک نہ بنانے اوردل ميں خوف خدارکھنے کواخالص‬ ‫اورصدق نيت کہاجاتاہے ‪،‬خداوندعالم کثرت عمل اور طوالنی رکوع وسجودکونہيں ديکھتاہے بلکہ حُسن نيت اوراخالص کی‬ ‫طرف نگاه کرتاہے عمل ميں اخالص کوديکھتاہے‪،‬عمل ميں اخالص پيداکرناہرانسان کے بس کی بات نہيں ہے‪،‬اگرنيت‬ ‫خالص ہوتوتھوڑاکام بھی بہت زياده ہے اوراخالص کے ساتھ انجام دياجانے واالچھوٹاکام بھی باعث عظمت ہوجاتاہے‪،‬اگر‬ ‫عمل ميں اخالص ہوتوايک ضربت بھی ثقلين کی عبادت پربھاری ہوسکتی ہے اوريہ مقام موالئے کائنات علی ابن ابی طالب‬ ‫‪+‬ہی کوحاصل ہواہے ۔ نمازگزاراپنی نمازوں کوفقط ﷲ کے لئے انجام دے اوراس ميں کسی دوسرے کاقصدنہ کرے اگرعمل‬ ‫ميں اخالص نہيں ہے تواس عمل کاکوئی فائده نہيں ہے اوروه قبول ہونے کی صالحيت نہيں رکھتاہے ‪،‬خداندعالم نيت کے‬ ‫اعتبارسے عمل کوقبول کرتاہے اگرنيت صحيح ہے توانجام بھی اچھاہوتاہے ليکن اگرميں خرابی اوررياکاری پائی جاتی ہے‬ ‫تووه عمل ہرگزقبول نہيں ہوتاہے ۔‬ ‫اگرکوئی شخص نمازوعبادت کوظاہری کے عالوه باطنی طورسے بھی ماں باپ ‪ ،‬ياکسی رئيس وسرپرست کے خوف سے‬ ‫يالوگوں کودکھانے کی غرض سے انجام دے اوردل ميں نمازی ‪،‬متقی ‪،‬پرہيزگاراورايک نيک انسان کہالئے جانے کااراده‬ ‫کرے ‪،‬مثال يہ قصدکرے کہ اگرميں نے نمازنہ پﮍھی توميرے والدين ياکوئی دوسراشخص مجھے ضرب لگائے يامجھے ت‬ ‫نبيہ کريں گے ياخوف ہوکہ نمازنہ پﮍھنے کی وجہ سے مجھے محفل ميں شرمنده ہوناپﮍے گايامجھے کسی کوئی اہميت نہيں‬ ‫دی جائے گی اوراس کے عالوه جت نی بھی چيزيں رياکاری ميں شمارہوتی ہيں ان کاقصدکرے تووه نمازﷲ کی بارگاه ميں‬ ‫مقبوليت کادرجہ نہيں رکھتی ہے رياکاری سے مراديہ ہے کہ انسان ظاہروباطن يکسان نہ ہو‪ ،‬دوسرے لوگوں کی موجودگی‬ ‫ميں نماز پﮍھتے وقت خضوع وخشوع کا اظہار کرتا ہوتا کہ وه لوگ اسے متقی وپرہيز گار شمار کريں ليکن جب ت نہائی‬ ‫ميں نماز پﮍھے تو اس کی نماز ميں کوئی خضوع وخشوع نہ پاياجاتا ہو ا وربہت جلدبازی ميں نماز پﮍھتا ہو‬ ‫حکم خدا انجام دينے کے لئے نماز پﮍھے‬ ‫حضرت امام خمينی کی تو ضيح المسائل ميں لکھا ہے ‪ :‬انسان کو چاہئے کہ فقط‬ ‫ِ‬ ‫پس جو شخص نماز ميں رياکاری کرتا ہے اور لوگوں کو دکھا نے کی غرض سے نماز پﮍھتا ہے تا کہ لوگ اس کومتقی وپر‬ ‫ہيز گا ر کے نام سے ياد کريں ‪ ،‬اسکی نماز باطل ہے خواه وه نماز کو فقط لوگوں کو دکھا نے کے لئے پﮍھتا ہو يا خدا اور‬ ‫لوگوں کو دکھا نے کے لئے پﮍھتا ہويعنی دل ميں خدا کا قصد کرے اور رياکاری کا بھی خيال رکھے اور دوسرے مسٔلہ ميں‬ ‫لکھاہے کہ‪ :‬اگرانسان نماز کا کچھ حصّہ غيرخدا کے لئے انجام دے پھر بھی نماز باطل ہے خواه وه حصّہ جو غير خدا کے‬ ‫لئے انجام ديا گيا ہے نماز کا واجبی جزء ہو جيسے حمد وسوره کی قرائت يا مستحبی جزء ہو جيسے قنوت ‪ ،‬بلکہ اگرانسان‬ ‫نماز کو خدا کے لئے انجام دے ليکن لوگوں کو دکھا نے کے لئے کسی مخصوص جگہ ميں مثالً مسجد ميں ‪ ،‬يا ايک‬ ‫مخصوص وقت ميں مثالً او ِّل وقت ‪ ،‬يا ايک مخصوص طريقہ سے مثالً جماعت سے نماز پﮍھے ‪ ،‬اسکی نماز باطل ہے۔‬ ‫‪ .‬توضيح المسائل )امام خمينی (مسئلہ ‪ ٩۴۶‬۔ ‪٩۴٧‬‬ ‫ُ‬ ‫ص ْب َغةً َونَحْ نُ لَہُ عَابِدوْ نَ <۔) ‪ ٢‬رنگ توصرف ﷲ کارنگ ہے اوراس سے بہترکس کارنگ‬ ‫(‬ ‫ِ‬ ‫<ص ْب َغةَ ﷲِ َو َم ْن اَحْ َسنَ ِمنَ ﷲِ ِ‬ ‫ہوسکتاہے اورہم سب اسی کے عبادت گذارہيں۔‬ ‫ک ِديْنُ ْالقَيﱢ َم ِة ( <۔) ‪۴‬‬ ‫ص ْينَ لَہُ ال ﱢد ْينَ ُحن َٰفا َء َويُقِ ْي ُمواالص َﱠالةَ َويُوتُوال ﱠز ٰکوةَ َو ٰذلِ َ‬ ‫< َو َمااُ ِمرُوْ ااِ ّاللِيَ ْعبُدُواﷲَ ُم ْخلِ ِ‬ ‫اورانھيں صرف اس بات کاحکم دياگياتھاکہ خداکی عبادت کريں اوراس عبادت کواسی کے لئے خالص رکھيں اورنمازقائم‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫کريں اورزکات اداکريں اوريہی سچااورمستحکم دين ہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(۴ .‬سوره ٔبيّنہ‪/‬آيت ‪)٢ . ( ۵‬سوره ٔبقره ‪/‬آيت ‪) ١٣٨‬‬

‫صالِحا َو َاليُ ْش ِرکْ بِ ِعبَا َد ِة َربﱢ ِہ اَ َحداً<) ‪١‬‬ ‫( < َمن َکانَ يَرجُوالِقَا َء َربﱢ ِہ فَ ْليَ ْع َملْ َع َمال َ‬ ‫ہروه شخص جواپنے پروردگارسے مالقات کااميدوارہے اسے چاہئے خداکی عبادت ميں کسی بھی ذات کوشريک قرارنہ دو۔‬ ‫صَْ‬ ‫ی و َم َما تِی ِ َربﱢ ْالعا َ لَ ِميْن <) ‪٢‬‬ ‫ال تِ ْی َونُ ُس ِک ْی َو َمحْ يَا َ‬ ‫( < قُلْ اِ ﱠن َ‬ ‫(اے رسول!(کہديجئے کہ ميری نماز ‪ ،‬عبادت ‪،‬زند گی ‪ ،‬موت سب ﷲ کے لئے ہيں جو عالمين کا پالنے واال ہے ۔‬ ‫َلی شا ِکلَ ٍة فَ َربﱡ ُک ْم اَ ْعلَ ُم ِب َم ْن ہ َُواَہ ٰ‬ ‫ْدی َس ِب ْيالً <) ‪١‬‬ ‫‪ (٢‬سورئہ انعام آيت ‪)١ . ( ١۶٢‬سوره کٔہف ‪/‬آيت ‪< ( ) ١١٠‬قُلْ ُک ﱞل يَ ْع َم ُل ع ٰ‬ ‫(اے رسول!(کہديجئے کہ ہرايک اپنے طريقہ پرعمل کرتاہے توتمھاراپردوگاربھی خوب جانتاہے کہ کون سب سے زياده‬ ‫سيدھے رستے پرہے۔ ‪)١ .‬سوره ٔاسراء‪/‬آيت ‪) ٨۴‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬اہل جہنم کے ہميشہ آگ ميں رہنے کی وجہ يہ ہے کہ ان کی دنياميں يہ نيت تھی کہ اگرہم ہميشہ کے‬ ‫لئے بھی دنياميں رہيں گے توہميشہ معصيت خداوندی کوانجام ديتے رہيں گے اوراہل بہشت کے جنت ميں ہميشہ رہنے کی‬ ‫تعالی کوانجام ديتے رہيں‬ ‫وجہ يہ ہے کہ ان کی دنياميں يہ نيت تھی کہ اگرہم دنياميں بھی باقی رہے توہميشہ اطاعت باری‬ ‫ٰ‬ ‫گے‪،‬يہ صرف نيت ہی کاانجام ہے کہ يہ گروه ہميشہ کے لئے جنت ميں اوروه گروه ہميشہ کے لئے جہنم ميں رہے گااس کے‬ ‫علی شاکلتہ”سے“ ٰ‬ ‫بعدامام)عليه السالم( نے آيہ کٔريمہ کی تالوت کی ‪:‬اورفرمايا‪ٰ “:‬‬ ‫علی نيّتہ ”مرادہے۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٨۵‬‬ ‫امام صادق ايک اورحديث ميں آيہ ٔمبارکہ) ‪ (١‬کے بارے ميں فرماتے ہيں‪ :‬آيت ميں خداکامقصديہ نہيں ہے کہ عمل کوطول‬ ‫دياجائے بلکہ مراديہ ہے کہ تم ميں کس کاعمل سب سے زياده صحيح ہے اورعمل وہی صحيح ہوتاہے جوخوف خدااورنيک‬ ‫وسچّی نيت کے ساتھ انجام دياجاتاہے‪،‬خداوندعالم طوالنی رکوع وسجودکونہيں ديکھتاہے بلکہ عمل ميں اخالص کوديکھتاہے‬ ‫وتعالی کے‬ ‫اورعمل کو اخالص کے ساتھ انجام ديناخودعمل سے زياده سخت ہوتاہے اورعمل خالص يہ ہے کہ ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫عالوه کسی دوسرے کی حمدوثناء کادل ميں اراده نہ کرنا‪،‬اس کے عالوه کسی کواپنی عبادت ميں شريک نہ بنانااورنيت عمل‬ ‫سے افضل ہوتی ہے بلکہ عمل ہی کونيت کہاجاتاہے ‪،‬اس بعدامام )عليه السالم(نے اس آيہ ٔمبارکہ کی ( تالوت کی‬ ‫علی شاکلتہ”سے“ ٰ‬ ‫‪:‬اورفرمايا‪ٰ “:‬‬ ‫علی نيّتہ ”مرادہے۔) ‪)١ ٢‬اس نے مووت وحيات کواس لئے پيداکياہے تاکہ تمھاری آزمائش‬ ‫کرے کہ تم ميں ) ‪ .‬حُسن نيت کے اعتبارسے سب سے بہترکون ہے ‪،‬سوره ٔملک ‪/‬آيت ‪٢‬‬ ‫‪)٢ .‬کافی‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ١۶‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪ :‬رياکارشخص کی تين پہچان بيان کی ہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔ جب ت نہائی ميں ہوتاہے توعمل کوسستی اورالپرواہی کے ساتھ انجام ديتاہے‬ ‫‪٢‬۔ جب اپنے پاس لوگوں کوديکھتاہے )اوران کی موجوگی ميں نمازپﮍھتاہے (تواپنے عمل ميں طول ونشاط بﮍھاديتاہے‬ ‫‪٣‬۔ اوراسچيزکوبہت زياده دوست رکھتاہے ہرکام ميں اس کی تعريف کی جائے ۔‬ ‫‪ .‬قرب االسناد‪/‬ص ‪٢٨‬‬ ‫ّ‬ ‫قال‪:‬ان ﷲ تعالی اليقبل عمالفيہ مثقال ذرّة من ريا ٍء۔ نبی اکرمفرماتے ہيں‪:‬خداوندعالم انسان کے‬ ‫عن النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ‬ ‫ہراس عمل کوکہ جس ميں ذره برابربھی رياکاری کی بوپائی جاتی ہے ہرگز قبول نہيں کرتاہے ۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١٢‬‬ ‫ّ‬ ‫قال __________ابو عبدﷲ عليہ السالم‪:‬کل رياء شرک انہ من عمل للناس کان ثوابہ علی الناس ومن عمل کان ثوابہ علی‬ ‫ﷲ۔‬ ‫امام صادقفرماتے ہيں ہرطرح کی رياکاری شرک ہے ‪،‬جوشخص کسی کام کولوگوں کے دکھانے کے لئے انجام ديتاہے اس‬ ‫کاثواب لوگوں کی طرف جاتاہے اورجوشخص خداکے لئے انجام ديتاہے اس کاثواب ﷲ کی طرف جاتاہے۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٢٩٣‬‬ ‫ً‬ ‫عن ابی جعفرعليہ السالم قال ‪ّ :‬‬ ‫لوان عبداعمل عمالًيطلب بہ وجہ ﷲ عزوجل والداراآلخرةوفادخل فيہ رضااحد ّمن الناس کان‬ ‫مشرکاً۔‬ ‫اما م باقر فرماتے ہيں‪:‬اگرکوئی بنده کسی کام کوﷲ کی خوشنودی اورعاقبت خيرکے لئے انجام دے ليکن اس ميں کسی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫شخص کی خوشنودی بھی شامل حال ہوتووه مشرک ہے ۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال‪/‬ص ‪٢۴٢‬‬ ‫روايت ميں آياہے‪:‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سے کسی نے پوچھا‪:‬يارسول ﷲ !وه کونسی شئے ہے جس کے ذريعہ‬ ‫روزقيامت نجات پائی جائے گی ؟آنحضرت نے فرمايا‪:‬نجات اس چيزميں ہے کہ آپ )دنياميں(خداکودھوکانہ ديں‪،‬ورنہ وه کل‬ ‫روزقيامت تمھيں دھوکادے گاکيونکہ جوخداکومکروفريب ديتاہے خدابھی اسے مکروفريب دے گااوراس کے دل سے ايمان‬ ‫کوسلب کرلے گا‪،‬اگرانسان غورفکرکرے تووه خداکونہيں بلکہ خودکودہوکادے رہاہے‬ ‫اس نے پوچھا‪:‬انسان خدا کو کيسے دھوکادے سکتاہے ؟آپ نے فرمايا‪ :‬خدا کو دھوکادينايہ ہے کہ انسان اس کام کوجس کاﷲ‬ ‫نے حکم دياہے انجام دے ليکن اس کوانجام دينے ميں کسی دوسرے کاقصدکرے‪.‬ميں تمھيں وصيت کرتاہوں کہ رياکاری‬ ‫کرنے ميں خداسے ڈرو‪،‬کيونکہ رياکاری شرک ہے‪ ،‬روزقيامت رياکارشخص کو چارنام سے پکاراجائے گا‪:‬اے کافر!‪،‬اے‬ ‫فاسق!‪،‬اے خائن!‪،‬اے تباه کار!تيرے تمام اعمال حبط ہوگئے اورثواب باطل ہوگياہے ‪،‬آج تيری رہائی ونجات کاکوئی سامان‬ ‫نہيں ہے ‪،‬اپنے کئے ہوئے اعمال کااجروثواب اسی سے طلب کرجس کے لئے تونے انجام دئے ہيں۔‬ ‫‪ .‬امالی ‪/‬ص ‪ ۶٧٧‬۔ ثواب االعمال‪/‬ص ‪ ٧۵۵‬۔معانی االخبار‪/‬ص ‪٣۴١‬‬ ‫اگرکوئی شخص لوگوں کے درميان ترويج دين اسالم کی خاطر نمازکو اچھے اندازميں اداکرتاہے تواسے رياکاری نہيں‬ ‫کہتے ہيں‪،‬اس بارے ميں عبدﷲ ابن بکيرنے عبيدسے رويات کی ہے ‪،‬وه کہتے ہيں کہ ميں نے ميں نے امام صادق سے‬ ‫پوچھا‪:‬اس شخص کے بارے ميں کياحکم ہے جواپنی نمازکولوگوں کے درميان اس قصدسے انجام ديتاہے تاکہ لوگ اسے‬ ‫نمازپﮍھتے ہوئے ديکھيں اوراس کے دين کی طرف تمايل پيداکريں اوراس کے طرفدارہوجائيں ؟ امام)عليه السالم( نے‬ ‫فرمايا‪:‬اسے رياکاری ميں شمارنہيں کياجاتاہے۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪۵۶‬‬ ‫راز تکبيرة االحرام‬

‫تکبيرکے ذريعہ نمازکاآغازکئے جانے کی وجہ‬ ‫ً‬ ‫واجب ہے کہ انسان جيسے ہی نمازکی نيت کرے تواس کے فورابعدبغيرکسی فاصلے کےتکبيرة االحرام يعنی “ﷲ اکبر”کہے‬ ‫اوراس کے ذريعہ اپنی نمازکاآغاز کرے ۔ اگرکوئی شخص يہ سوال کرے کہ آغازنمازکے لئے تکبيرکوکيوں معين کياگياہے‬ ‫‪،‬کيانمازکوتکبيرکے عالوه خداوندمتعال کے کسی دوسرے نام سے ابتدا نہيں کياجاسکتاہے ؟ روايت ميں اياہے کہ يہوديوں‬ ‫کی ايک جماعت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی خدمت ميں مشرف ہوئی ان کے عالم نے آنحضرتسے چندسوال کئے جن‬ ‫ميں ايک يہ بھی تھاکہ نمازکوتکبيرکے ذريعہ شروع کيوں جاتاہے؟نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے فرمايا‪” :‬ﷲ اکبر”فہی‬ ‫کلمة اعلی الکلمات واحبہاالی ﷲ عزوجل يعنی ليس شی أکبرمنہ‪ ،‬واليفتح الصالة ّاالبہالکرامتہ علی اللھوہواسم االکرم ۔‬ ‫”ﷲ اکبر”کلموں ميں سب سے افضل وبرترکلمہ ہے اوراس کلمہ کوخداوندعالم بہت زياده عزيزرکھتاہے يعنی ﷲ کے‬ ‫نزديک اس کلمہ سے بﮍھ کرکوئی چيزنہيں ہے اوراس کلمہ کے عالوه کسی دوسرے کلمہ سے نمازکی ابتداء کرناصحيح‬ ‫نہيں ہے کيونکہ خداصاحب کرامت ہے اوريہ کلمہ اسم اکرم ہے ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرايع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢۵١‬‬ ‫ناک ايک ايسی چيزہے کہ جس کی وجہ سے انسان کے چہرے کی خوبصورتی معلوم ہوتی ہے ‪،‬ليکن اگرکسی کے چہرے‬ ‫پرناک ہی موجودنہ تواسے لوگ کياکہيں گے اورکيانام ديں ‪،‬نمازميں تکبيرة االحرام کوناک کادرجہ دياگياہے کہ جس کے‬ ‫بغيرنمازادھوری ہے جيساکہ ايک حديث ميں نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬‬ ‫ہرشے کٔے ايک چہره ہوتاہے اورتمھارے دين کاچہره نمازہے ل ٰہذاتمھيں چاہئے کہ اپنے کے دين چہره نہ بگاڑيں‬ ‫اورہرچيزکی ايک ناک ہوتی ہے اورنمازکی ناک تکبيرہے )ناک سے چہرے کی خوبصورتی معلوم ہوتی ہے اگرکسی‬ ‫شخص کے چہره سے ناک کوختم کردياجائے تووه برامعلوم ہوتاہے اسی طرح اگرنمازسے تکبيرکونکال دياجائے تواس کی‬ ‫خوبصورتی ختم ہوجائے گی(۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢٧٠‬‬ ‫اس تکبيرکوتکبيرة االحرام کہے جانے کی وجہ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اس تکبيرکوتکبيرة االحرام کہتے ہيں‪،‬اوراستکبيرکوتکبيرة االحرام کہنے کی وجہ يہ ہے کہ انسان اس کے ذريعہ محرم‬ ‫ہوجاتاہے اورکچھ چيزيں) جونمازگزارکے لئے غيرنمازکی حالت ميں حالل ہوتی ہيں مثالکسی چيزکاکھاناپينا‪،‬قبلہ سے‬ ‫منحرف ہونا‪،‬کسی سے کالم کرناچاہے ايک ہی حرف ہو(نمازگزارپرحرام ہوجاتی ہيں‪،‬اس بارے ميں روايت ميں آياہے‪ :‬قال‬ ‫رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ والہ‪:‬افتتاح الصالة الوضوء وتحريمہا التکبير وتحليلہاالتسليم۔ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے‬ ‫ہيں‪ :‬نمازکی ابتداء وضوکے ذريعہ ہوتی ہے اورتکبيراس کی تحريم ہے اورسالم اس کی تحليل ہے‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪٧١۵‬‬ ‫سات تکبيرکہنے کاراز‬ ‫تکبيرة االحرام کے عالوه جوکہ واجب ہے تکبيرة االحرام سے پہلے يابعدميں چھ تکبيرکہنامستحب ہے يہ مجموعاسات‬ ‫تکبيرہوجاتی ہيں ليکن پانچ ياتين تکبيرپربھی اکتفاء کرسکتے ہيں‪ ،‬ان تکبيروں کوافتتاحی تکبيرکہتے ہيں کيونکہ ان کے‬ ‫ذريعہ نمازکی ابتداء ہوتی ہے ليکن حقيقت ميں تکبيرة االحرام کوافتتاحی تکبيرکہاجاتاہے۔ احاديث معصومين ميں نمازکے‬ ‫شروع ميں سات افتتاحی تکبيرکہے جانے کے بارے ميں چندوجہ بيان اس طرح بيان کی گئی ہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔نمازکے شروع ميں سات تکبيريں کہنے کارازيہ ہے کہ نبی اکرم نے بھی نمازکومومن کے لئے بارگاره ملکوتی ميں‬ ‫پروازکرنے کاايک بہترين ذريعہ قراردياہے اورپروازکے لئے سات آسمان کے پردوں کوعبورکرناضروری ہے ‪،‬جب مومن‬ ‫تکبيرکہتاہے تو آسمان کاايک پرده کھل جاتاہے ل ٰہذاساتوں حجاب عبورہونے کے لئے سات تکبيرکہناچاہئے تاکہ بارگاه‬ ‫ملکوتی ميں پروازکرسکے ۔‬ ‫موسی بن جعفر ‪+‬نے سات افتتاحی تکبيرکے يہ بيان کی ہے‪:‬‬ ‫ہشام ابن حکم سے روايت ہے کہ امام‬ ‫ٰ‬ ‫ّ‬ ‫الی‬ ‫ب تکبيرة فاوصلہ ﷲ عزوجل بذلک ٰ‬ ‫ب‪ ،‬فکبّرعندک ّل حجا ٍ‬ ‫ان النبی صلی ﷲ عليہ وآلہ لما اسری بہ الی السماء قطع سبعة ُح ُج ٍ‬ ‫منتہی الکرامة جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے آسمانوں کی سيرکی توسات پردوں سے گزرے توہرحجاب کے نزديک‬ ‫ايک تکبيرکہی اوران تکبيروں کے وسيلے سے ﷲ تبارک‬ ‫وتعالی نے آنحضرت کو انتہائے کرامت و بلندی پرپہنچايا۔‬ ‫ٰ‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٠۵‬‬ ‫‪٢‬۔ان سات تکبيروں کارازيہ ہے کہ ان کے ذريعہ خداکے صفات ثبوتيہ اورسلبيہ کی تصديق کی جاتی ہے۔‬ ‫جابرابن عبدﷲ انصاری سے روايت ہے کہ ميں موالاميرالمومنين علی ابن ابی طالب ‪+‬کی خدمت ميں موجودتھا‪،‬آپ نے ايک‬ ‫شخص کونماز پﮍھتے ہوئے ديکھا‪،‬جب وه نمازسے فارغ ہواتوموالنے اس سے پوچھا‪:‬اے مرد!کياتم نمازکی تاويل‬ ‫وتعبيرسے آشنائی رکھتے ہو؟اس نے جواب ديا‪:‬ميں عبادت کے عالوه نمازکی کوئی تاويل نہيں جانتاہوں‪،‬بس ات ناجانتاہوں‬ ‫کہ نمازايک عبادت ہے ‪،‬امام )عليه السالم(نے اس سے فرمايا‪:‬‬ ‫قسم اس خدا کی جس نے محمد )صلی ﷲ عليه و آله(کونبوت عطاکی ‪،‬خداعالم نے جت نے بھی کام نبی اکرم )صلی ﷲ عليه‬ ‫و آله(کوبجاالنے کاحکم دياہے اس ميں کوئی رازاورتعبيرضرورپائی جاتی ہے اوروه سب کام بندگی واطاعت کی نشانی ہيں‬ ‫‪،‬اس مردنے کہا‪:‬اے ميرے موال!آپ انھيں مجھے ضروربتائے وه کياہيں؟امام )عليه السالم(نے فرمايا‪ :‬نمازکے شروع ميں سا‬ ‫ت تکبيرکہناچاہئے ان سات تکبيرکارازيہ ہے کہ جب تم پہلی “ﷲ اکبر” کہوتواپنے ذہن ميں يہ خيال کرو کہ خداوندعالم قيام‬ ‫وقعودکی صفت سے پاک ومنزه ہے ‪،‬وه نہ کھﮍاہوتاہے اورنہ بيٹھتاہے ‪،‬اورجب دوسری مرتبہ “ﷲ اکبر” توخيال کروکہ‬ ‫خدانہ چلتاہے اورنہ بيٹھتاہے اورتيسری تکبيرسے يہ اراده کروکہ خداجسم نہيں رکھتاہے اوراسے ذہن ميں تصورنہيں‬ ‫کياجاسکتاہے ‪،‬چوتھی تکبيرکہنے کارازيہ ہے کہ اس ميں کوئی بھی عرض حلول نہيں کرسکتاہے اوراسے کوئی مرض‬ ‫نہيں لگ سکتاہے اورپانچوی تکبيرکہنے کارازيہ ہے وه جوہروعرض جيسی صفت سے منزه ہے اورچھٹی تکبيرکہنے سے‬ ‫اس چيزکااراده کروکہ وه نہ کسی چيزميں حلول کرسکتاہے اورنہ کوئی چيزاس ميں حلول کرسکتی ہے اورچھٹی تکبيرکہنے‬ ‫سے يہ خيال کروکہ خداونداعالم نہ کبھی نابودہوسکتاہے اورنہ اس ميں کسی طرح کی تبديلی آسکتی ہے وه تغيروتبدل سے‬ ‫مبراء ہے اورساتوی تکبيرکہنے سے يہ خيال کروکہ اس ميں کبھی بھی حواس خمسہ حلول نہيں کرسکتے ہيں۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨١‬ص ‪٢۵٣‬‬ ‫‪٣‬۔سات تکبيروں کی ايک وجہ يہ بھی بيان کی گئی ہے جسے ہم معصوم کی ايک دوحديث کے ضمن ميں ذکرکررہے ہيں‬ ‫جسے “تہذيب االحکام ”اور“من اليحضره الفقيہ”ميں ذکرکياگياہے‪:‬‬ ‫حضرت امام صادق سے روايت ہے کہ ‪:‬ايک دن جب پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله( نمازکے لئے کھﮍے ہوئے توامام‬ ‫حسين آنحضرتکے پاس کھﮍے ہوئے تھے‪ ،‬آنحضرت نے تکبيرکہی مگرامام حسيننے تکبيرنہ کہی ‪،‬پيغمبرنے دوباره‬ ‫تکبيرکہی پھرامام حسين )عليه السالم( نے تکبيرنہ کہی ‪،‬آنحضرتاسی طرح پيوستہ تکبيرکہتے رہے اورمنتظرتھے کہ حسين‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫)عليه السالم(کب تکبيرکہتے ہيں يہاں تک کہ پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے سات مرتبہ تکبيرکہی‪،‬جيسے ہی ساتوی‬ ‫تکبيرکہی توحسين )عليه السالم(نے تکبيرکاجواب ديا‪،‬امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬اسی لئے نمازکے شروع ميں سات‬ ‫تکبيرکہنامستحب قرارپائی ہيں ۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪۶٧‬‬ ‫امام محمدباقر فرماتے ہيں کہ‪:‬امام حسيننے کچھ ديرميں بولناشروع کيايہاں تک کہ امام حسين ‪-‬نے بولنے ميں انتی ديرکی کہ‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کوامام حسينکے کی زبان اقدس ميں قوت گويائی نہ رکھنے کاخوف پيداہوا‪ ،‬آنحضرت جب‬ ‫نمازکے لئے مسجدميں ائے توامام حسين ‪ -‬کوبھی اپنے ہمراه لے کر آئے اورنمازپﮍھتے وقت امام حسين کواپنے دائيں جانب‬ ‫کھﮍاکيااورنمازپﮍھناشروع کی ‪،‬لوگوں نے بھی آنحضرت کے پيچھے صف ميں کھﮍے ہوکرشروع کی ‪،‬آنحضرت نے‬ ‫جيسے ہی تکبيرکہی توحسين )عليه السالم(نے بھی تکبيرکہی ‪،‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے دوباره تکبيرکہی توحسين‬ ‫)عليه السالم(نے دوباره تکبيرکہی‪،‬يہاں تک کہ پيغمبرنے سات مرتبہ تکبيرکہی اورحسين )عليه السالم(نے آپ کی اتباع ميں‬ ‫سات مرتبہ تکبيرکہی ‪،‬اسی لئے نمازکے شروع ميں سات تکبيرکہنامستحب قرارپائی ہيں۔ ‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪٣٠۵١‬‬ ‫‪۴‬۔روايت ميں سات افتتاحی تکبيرکی ايک اوروجہ اس طرح بيان کی گئی ہے‪ :‬فضل بن شاذان سے مروی ہے کہ امام علی‬ ‫رضا ان سات تکبيروں کی مشروعيت کی وجہ اس طرح بيان کرتے ہيں‪:‬‬ ‫اگرکوئی تم سے يہ معلوم کرے کہ نمازکے شروع ميں سات تکبيروں کوکيوں مشروع کياگياہے؟ اس کاجواب يہ ہے کہ ان‬ ‫سات تکبيروں ميں ايک تکبيرواجب ہے اوربقيہ مستحب ہيں اوران استحبابی تکبيرکی وجہ يہ ہے کہ اصل ميں نمازدورکعت‬ ‫ہے) ‪(١‬اوردورکعت نمازميں مجموعاًسات تکبيرپائی جاتی ہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔تکبيراستفتاح يعنی تکبيرة االحرام ‪٢‬۔پہلی رکعت کے رکوع ميں جانے ��ی تکبير ‪٣‬۔ ‪۴‬۔ پہلی رکعت کے دونوں سجدوں ميں‬ ‫جانے کی تکبير ‪۵‬۔دوسری رکعت کے رکوع کی تکبير‬ ‫‪۶‬۔ ‪ ٧‬دوسر ی رکعت کے دونوں سجدوں کی تکبير‬ ‫نمازکے شروع ميں سات تکبيرکہنے رازيہ ہے کہ اگرنمازی ان مذکوره سات تکبيروں ميں کوئی تکبيربھول ہوجائے ياکلی‬ ‫طورسے ان سے غافل ہوتوشروع ميں کہی جانے والی تکبيريں ( اس کاتدارک کرسکتی ہيں اورنمازميں کوئی کمی واقع نہيں‬ ‫ہو گی۔) ‪)١ ١‬اوربعدمينظہروعصراورعشاکی __________نمازميں دودورکعت کاضميمہ کياہے اورمغرب ميں ايک )‬ ‫رکعت اورنمازصبح ميں کوئی اضافہ نہيں کياہے اسے ہم پہلے حديث کے ضمن ميں“واجب نمازوں کی رکعتوں کی تعدادکت‬ ‫نی ہے”کے عنوان ميں ذکرکرچکے ہيں۔‬ ‫‪)١ .‬علل الشرايع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢۶١‬‬ ‫تکبيرکہتے وقت دونوں ہاتھوں کوکانوں تک بلندکرنے کاراز تکبيرة االحرام اوراس کے عالوه نمازکی ديگرتمام تکبيرکہتے‬ ‫وقت دونوں ہاتھوں کوکانوں تک بلندکرنامستحب ہے‪،‬اوردونوں ہاتھوں کوکانوں تک اس طرح بلندکريں کہ ہتھيلياں قبلہ کی‬ ‫سمت قرارپائيں۔‬ ‫عن علی عليہ السالم فی قولہ تعال ٰي ّ‬ ‫ان معناه ارفع يديک الی النحرفی الصالة ۔‬ ‫حضرت علی اس آيہ ٔمبارکہ کے بارے ميں فرماتے ہيں‪ :‬اس کے معنی يہ ہيں کہ تم نمازميں )تکبيرکہتے وقت(ہاتھوں‬ ‫کوکانوں تک بلندکرو۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪٧٢٨‬‬ ‫تفسيرمجمع البيان ميں آيہ کٔريمہ کی تفسير کے ذيل ميں حضرت عليسے يہ روايت نقل کی ہے‪:‬‬ ‫حضرت علی فرماتے ہيں ‪:‬جب يہ آيہ ٔمبارکہ نازل ہوئی تونبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے جبرئيل امين سے پوچھا‪:‬يہ‬ ‫نحيره کياچيزہے جس کامجھے حکم دياگياہے؟کہا‪ :‬جبرئيل امين نے جواب ديا‪:‬نحيره سے مرادکچھ نہيں ہے مگريہ کہ‬ ‫پرودگارکاحکم ہے ‪:‬جب تم نماز کيلئے قيام کرو توتکبيرة االحرام کہتے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلندکرواوراسی‬ ‫طرح رکوع ميں جانے سے پہلے اوررکوع ميں جانے کے بعداورسجدے ميں جاتے وقت اور سجدے سے سربلندکرتے‬ ‫ہوئے تکبيرکہواوردونوں ہاتھوں کوکانوں تک بلند کروکيونکہ ہماری نمازاورساتوں اسمان ميں مالئکہ کی نمازکايہی طريقہ‬ ‫ہے)کہ وه تکبيرکہتے ہوئے دونوں ہاتھوں کوکانوں تک بلندکرتے ہيں(کيونکہ ہرچيزکيلئے ايک زينت ہوتی ہے اورنمازکی‬ ‫زينت يہ ہے کہ ہر تکبيرميں ہاتھوں کوبلندکياجائے۔‬ ‫‪ .‬تفسيرمجمع البيان‪/‬ج ‪/ ٢٠‬ص ‪٣٧١‬‬ ‫ايک شخص اميرالمومنين حضرت علی کی خدمت ميں آيااور عرض کيا‪:‬اے خدا کی بہترين مخلوق )حضرت محمدمصطفی‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(( کے چچازادبھائی ميں آپ پرقربان جاو ٔں‪،‬تکبيرةاالحرام کہتے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں تک بلند‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫کرنے کے کيامعنی اوراس کارازکياہے ؟ امام نے فرمايا‪:‬‬ ‫ﷲ اکبرالواحداالحدالذی ليسکمثلہ شی ٔاليلمسباالخماس واليدرک بالحواس۔ ”ﷲ اکبر”يعنی وه ايک اوراکيالہے ‪،‬اس کاکوئی‬ ‫مثل نہيں ہے ‪،‬وه “ وحده الشريک ”ہے اوراسے حواسپنجگانہ کے ذريعہ درک ومحسوسنہيں کيا جاسکتا ہے۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٠۶‬‬ ‫نامہ اعمال لينے کے لئے ہاتھ بﮍھانے کی‬ ‫نبی اکرمفرماتے ہيں‪ :‬تکبيرة االحرام کہتے وقت دونوں ہاتھوں بلند کرنا قيامت ميں ٔ‬ ‫طرف اشاره ہے کيونکہ خداوند عالم قرآن کريم ميں ارشاد فرماتاہے ‪:‬‬ ‫ک َح ِسيْبا ً< ) ‪١‬‬ ‫ک َک ٰ‬ ‫فی ِبنَ ْف ِس َ‬ ‫( <اِ ْق َرء ِک ٰتا بَ َ‬ ‫ک ْاليَو َم َعلَ ْي َ‬ ‫( اب اپنی کتاب کو پﮍھ لوآج تمھارے حساب کے لئے يہی کتاب کافی ہے۔) ‪(٢ . ٢‬اسرارالصالة )عبدالحسين تہرانی(‪/‬ص ‪۴١‬‬ ‫( ‪)١ .‬سوره ٰٔ‬ ‫طہٰ‪/‬آيت ‪ ) ١١١‬فضل بن شاذان سے مروی ہے امام علی رضا فرماتے ہيں‪:‬اگرکوئی تم سے يہ معلوم کرے کہ‬ ‫تکبيرکہتے وقت دونوں کوکانوں تک بلندکرنے کارازکياہے توا سے يہ جواب دوکہ دونوں ہاتھوں کوبلندکرنا ايک نوع تضرع‬ ‫وزاری ہے اورغيرخداسے دوری کرناہے ل ٰہذاخداوندعالم دوست رکھتاہے کہ نمازی عبادت ميں خضوع ‪،‬التماس اورتضرع‬ ‫کی کيفيت پيداکرے اوردوسری وجہ يہ ( ہے کہ ہاتھوں کوبلند کرنے سے نيت ميں استمدادپاياجاتاہے اورحضورقلب‬ ‫پيداہوتاہے۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬علل الشرايع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢۴۶‬‬ ‫عرفان اسالمی ميں لکھاہے ‪،‬بعض علمائے دين کہتے ہيں ‪ :‬نماز کی نيت کرنے کے بعد تکيبرة االحرام کہتے وقت دونوں‬ ‫ٰ‬ ‫ہاتھوں کو کانوں تک بلندکرنے کے معنی‬ ‫ہيں‪:‬بارالہا! ميں گناہوں ميں غرق ہوں ‪،‬تو مير ے ان دونوں ہاتھوں کو پکﮍلے‬ ‫اورمجھے نجات ديدے ۔ ‪ .‬عرفان اسالمی ‪/‬ج ‪/۵‬ص ‪٢٠٣‬‬ ‫رازقيام‬ ‫جب نمازکے لئے کھﮍے ہوجائيں تو نہايت اخالص وحضورقلب کے ساتھ تکبيرة االحرام کہيں اوربغيرکسی حرکت کے‬ ‫سيدھے کھﮍے رہيں‪،‬بدن کوحرکت نہ ديں ‪،‬نہ ذره برابرکسی طرف جھکيں اورنہ کسی چيزپرٹيک لگائيں بلکہ سيدھے‬ ‫کھﮍے ہوکرسکون وآرام کے ساتھ تکبيرة االحرام کہيں ۔‬ ‫تکبيرة االحرام کہتے وقت قيام کرنااوررکوع ميں جانے سے پہلے قيام کرناجسے قيام متصل بہ رکوع کہتے ہيں يہ دونوں‬ ‫قيام رکن نمازہيں اگران دونوں ميں سے کوئی قيام عمداًياسہواًترک ہوجائے تونمازکادوباره پﮍھناواجب ہے ليکن حمدوسوره‬ ‫پﮍھتے وقت اورراسی طرح رکوع کے بعدبھی قيام کرناواجب ہے مگر يہ ايساقيام ہے کہ جس کے عمداً◌ً ترک کرنے سے‬ ‫نمازباطل ہے اورسہواًترک ہوجانے سے نمازباطل نہيں ہوتی ہے ۔‬ ‫مستحب ہے کہ نمازگزارقيام کی حالت ميں اپنے دونوں کاندھوں کونيچے کی طرف جھکائے رکھے‪ ،‬دونوں ہاتھوں کو‬ ‫نيچے لٹکائے رکھے‪،‬دونوں ہاتھ کی ہتھيليوں کواپنی ران پررکھے‪،‬پيرکے انگوٹھوں کوقبلہ کی سمت رکھے‪،‬دونوں پيروں‬ ‫کے درميان حداقل تين انگليوں کے برابر اورحداکثرايک بالشت کے برابرفاصلہ رکھے‪،‬بدن کاوزن ايک ساتھ دونوں پاو ٔں‬ ‫پررکھے اورﷲ کی بارگاه ميں خضوع وخشوع کے ساتھ قيام کريں۔‬ ‫رازوجوب قيام‬ ‫نمازميں قيام کواس لئے واجب قراردياگياہے تاکہ نمازگزاراس کے ذريعہ اس قيام کويادکرے جب اسے قبرسے بلندکياجائے‬ ‫گااورپروردگارکے سامنے حاضرکياجائے گا‪ ،‬پس نمازگزار قيام نمازکے ذريعہ روزقيامت قبروں سے بلندہوکربارگاه‬ ‫خداوندی ميں قيام کرنے کويادکرتاہے اورقيام نمازروزقيامت کے قيام کی يادتازه کراتی ہے جيساکہ قرآن کريم ميں‬ ‫تعالی ہے‪< :‬يَو َم يَقُو ُم ال ٰنّاسُ ِل َربﱢ ْال ٰعالَ ِميْن <) ‪(١‬يادکرواس دن کوکہ جس دن سب رب العالمين کی بارگاه ميں‬ ‫ارشادباری‬ ‫ٰ‬ ‫حاضر ہو نگے۔‬ ‫‪)١ .‬سوره ٰٔ‬ ‫طہٰ‪/‬آيت ‪) ١١١‬‬ ‫حضرت آيت ﷲ جوادملکی تبريزی “اسرارالصالة”ميں لکھتے ہيں ‪:‬نمازکی حالت ميں قيام کرنے کافلسفہ يہ ہے کہ انسان با‬ ‫لی ميں کھﮍے ہو کر اس کی بند گی کا حق اداکر ے اور ﷲ کی نعمت و برکتوں بہره مند ہو اور اپنے دل ميں‬ ‫رگا ه باری تعا ٰ‬ ‫يہ خيال پيداکرے کہ کل مجھے قيامت ميں بھی اس کی بارگاه ميں قيام کرنا ہے ‪،‬قيام ميں قيام کواسی لئے واجب قرادياگياہے‬ ‫تاکہ نمازگزاراس قيام کے ذريعہ روزقيامت کے قيام کويادکرے ۔‬ ‫‪ .‬اسرارالصالة ‪/‬ص ‪٢٠۴‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫تفسير“کشف االسرار” ميں لکھاہے‪:‬نمازميں کی حالت ميں نماز گزارکی چار شکل وہيئت پائی جاتی ہيں قيام‪ ،‬رکوع‪،‬سجود‬ ‫قعود‪ ،‬اس کی حکمت و فلسفہ يہ ہے کہ مخلوقات عالم کی بھی چار صورت ہيں بعض موجودات ايسے ہيں جو ہميشہ سيدھے‬ ‫کھﮍا رہتے ہيں وه درخت وغيره ہيں )جوﷲ کی حمدوثنا کرتے رہتے ہيں (اوربعض موجودات ايسے ہيں جوہميشہ رکوع کی‬ ‫مانندخميده حالت ميں رہتے ہيں جيسے چوپائے‪ ،‬اونٹ‪ ،‬گائے ‪،‬بھيﮍ ‪،‬بکرياں وغيره اوربعض ايسے بھی جو ہميشہ زميں‬ ‫پرسجده کے مانندپﮍے رہتے ہيں وه حشرات اورکيﮍے وغيره ہيں اور بعض موجودات ايسے ہيں جوہميشہ زمين پر بيٹھے‬ ‫رہتے ہيں وه حشيش و نبا تات وگل وگيا ه وغيره ہيں اوريہ سب ﷲ کی تسبيح کرتے ہيں‬ ‫خدا وند عالم اپنی عبادت کے لئے انسان پرنمازميں موجودات جہان کی ان چاروں صورتوں کوواجب قراردياہے تاکہ انسان‬ ‫قيام ورکوع وسجود وقعو د کے ذريعہ ان تمام موجودات کی تسبيح کاثواب حاصل کرسکے کيونکہ انسان اشرف المخلوقات‬ ‫ہے اس لئے خدانے انسان کوعبادت ميں بھی ان سے افضل قراردينے کے لئے نمازميں قيام وقعود‪،‬رکوع وسجودکوواجب‬ ‫قراردياہے ۔‬ ‫‪ .‬تفسيرکشف االسرار‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪ ٣٧۶‬۔ ‪٣٧٧‬‬ ‫نمازميں قيام ورکوع وسجوداورقعودکے واجب قراردئے جانے کی وجہ اس طرح بيان کی گئی ہے ‪ :‬دنياکی ہرشئے ﷲ کی‬ ‫عبادت وبندگی کرتی ہے ‪،‬کچھ موجودات ايسے ہيں جوزندگی بھرسيدھے کھﮍے رہتے ہيں وه درخت وغيره ہيں اوربعض‬ ‫موجودات ايسے ہيں جوہميشہ رکوع کی طرح خميده حالت ميں رہتے ہيں وه چوپائے )اونٹ گائے‪،‬بھيﮍ‪،‬بکری‬ ‫‪،‬گھوڑے(وغيره ہيں اورکچھ ايسے ہيں جومنھ کے بل زمين پر پﮍے رہتے ہيں وه حشرات وغيره ہيں اورکچھ ايسے بھی ہيں‬ ‫جوزمين پربيٹھے رہتے ہيں وه حشيش ونباتات وغيره ہيں اوريہ سب موجودات ﷲ کی تسبيح کرتے رہتے ہيں ‪،‬اس کی‬ ‫حمدونثاکرتے رہتے ہيں ل ٰہذاخدوندعالم نے اشرف المخلوقات کواپنی عبادت کے لئے ان سب موجودات کے طرزعبادت‬ ‫کويکجاجمع کردياہے جس کے مجموعہ کونمازکہاجاتاہے تاکہ انسان موجودات عالم کی تسبيح کوانجام دے سکے ۔‬ ‫رازقرائت‬ ‫نمازميت کے عالوه تمام دورکعتی )واجب اورمستحبی (نمازوں کی دونوں رکعتوں ميں اوردورکعتی نمازوں کے عالوه تين‬ ‫رکعتی )نمازمغرب(اورچاررکعتی )ظہروعصر وعشاء(نمازوں کی پہلی دونوں رکعتوں ميں تکبيرة االحرام کے فوراًبعدسوره‬ ‫ٔحمداورکسی ايک اورسورے کی قرائت کرناواجب ہے۔‬ ‫حمدکے بجائے کسی دوسرے کی قرائت کرناصحيح نہيں ہے اورکوئی شخص حمدکے بجائے کسی دوسرے سوره کی قرئت‬ ‫کرے تواسکی نمازباطل ہے ۔ ابن ابی جمہوراحسائی نے اپنی کتاب“ عوالی اللئالی ”ميں پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سے‬ ‫يہ روايت کی ہے‪ :‬قال صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬الصالة ّاالبفاتحة الکتاب‪ .‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪:‬سوره‬ ‫ٔحمدکے بغيرنمازی ہی نہيں ہوتی ہے ۔‬ ‫‪ .‬عوالی اللئالی‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١٩۶‬‬ ‫ً‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬الصالة لمن لم يقرا ٔبا ّم الکتاب فصائدا۔ پيغمبر اسالم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‬ ‫‪:‬جو شخص نماز ميں سور ئہ حمداوراس کے عالوه دوسرے کی قرا ئت نہيں کرتا ہے اسکی نماز صحيح نہيں ہے ۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪١۵٨‬‬ ‫سوره ٔحمدکے بعدکسی ايک مکمل سوره کی قرائت کرناواجب ہے ‪،‬اگرکوئی شخص دونوں سوروں سے ايک سورے کے‬ ‫ترک کرنے پرمجبورہوجائے ميں تواس صورت ميں حمدکاترک کرناجائزنہيں ہے‪ ،‬ايسانہيں ہوسکتاہے کہ‬ ‫حمدکوچھوڑکردوسرے سوره کی قرائت پراکتفاء کرے خواه واجبی نمازہويا مستحبی جيساکہ حديث ميں آياہے‪:‬‬ ‫عن محمدبن مسلم عن ابی عبدجعفرعليہ السالم قال ‪ :‬سئلتہ عن الذی اليقرء بفاتحة الکتاب فی صالتہ ؟ قال‪ :‬الصالة ّاالا ٔن يقرء‬ ‫بہافی جہرا ٔواخفات‪ ،‬قلت‪:‬ايمااحبّ اليک اذاکان خائفاا ٔومستعجاليقرء سورة ا ٔوفاتحة ؟فقال‪:‬فاتحة الکتاب‪.‬‬ ‫محمدابن مسلم سے مروی ہے ‪،‬ميں نے امام باقر سے پوچھا‪:‬اس شخص کی نمازکے بارے ميں کياحکم ہے جواپنی نمازميں‬ ‫سوره ٔحمدکی قرائت نہيں کرتاہے ؟امام)عليه السالم( نے جواب ديا‪:‬‬ ‫سوره ٔحمدکے بغيرنماز)قبول(نہيں ہوتی ہے ‪،‬چاہے جہری نمازپﮍھ رہاہويااخفاتی ‪،‬ميں نے کہا‪:‬اگروه شخص حالت خوف ميں‬ ‫ہے ياکسی ضروری کام کے لئے جلدی ہے)اوراس کے پاس صرف ات ناوقت ہے کہ وه فقط ايک سوره کی قرائت‬ ‫فرمايا‪:‬سوره‬ ‫کرسکتاہے( آپ کس چيزکودوست رکھتے ہيں وه اس صورت ميں سوره کوپﮍھے ياحمدکو؟امام)عليه السالم( نے‬ ‫ٔ‬ ‫حمدکوپﮍھے۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪ .‬الکافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٣١٧‬‬ ‫قرائت کے واجب قراردئے جانے کی وجہ‬ ‫بعض لوگ ايسے ہيں جواصالً قرآن کی تالوت نہيں کرتے ہيں ياکسی روزکرتے ہيں اورکسی روزنہيں کرتے ہيں ‪،‬نمازميں‬ ‫اس لئے تالوت کوواجب قراردياگياہے تاکہ قرآ ن نہ پﮍھنے والے لوگ کم ازکم روزانہ پانچ مرتبہ نمازکے واسطہ سے قرآن‬ ‫کی تالوت کرسکے اوراس کے ثواب سے محروم نہ رہے ۔‬ ‫فضل بن شاذان نے امام علی رضا سے منقول نمازميں قرائت کے واجب قرادئے جانے کی وجہ اس طرح بيان کی ہے‪:‬‬ ‫امرالناس بالقرائة فی الصالة لناليکون القرآن مہجوراًمضيعاً‪ ،‬وليکن محفوظا مدرسا فاليضمحل واليجہل‪.‬‬ ‫نمازميں قرائت قرآن کريم کواس لئے واجب قرار ديا گيا ہے تاکہ قرآن مجيدلوگوں کے درميان مہجورومتروک واقع نہ ہونے‬ ‫پائے بلکہ )گروآلود اورضايع ہونے سے (محفوظ رہے بلکہ حفظ ومطالعہ کے دامن ميں قراررہے اورتاکہ لوگ اسے نہ‬ ‫بھول پائيں۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣١٠‬‬ ‫قال صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬قراء ة القرآن فی الصالة افض ٌل من قراء ة القرآن فی غيرالصالة ۔ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے‬ ‫ہيں‪ :‬نماز ميں قرآن کی قرائت کرنا غيرنماز ميں تالوت کرنے سے افضل ہے۔‬ ‫‪ .‬تحف العقول‪/‬ص ‪۴٣‬‬ ‫حضرت امام محمدباقر فرماتے ہيں‪:‬جوشخص کھﮍے ہوکرنمازپﮍھتاہے اوروه نمازميں قيام کی حالت ميں قرآن کريم کی‬ ‫قرائت کرتاہے تو جت نے بھی حرفوں کی قرائت کرتاہے ‪،‬ہرحرف کے بدلہ اس کے نامہ اعمال ميں سونيکياں لکھی جاتی‬ ‫ہيں اور اگر بيٹھ کر نمازپﮍھتاہے تو ہر حرف پر پچاس نيکياں لکھی جاتی ہيں‪،‬ليکن اگرکوئی شخص غيرنمازکی حالت ميں‬ ‫قرآن کی قرائت کرتاہے توخداوندعالم اس کے نامہ أعمال ميں ہرحرف کے عوض دس نيکياں درج کرتاہے ۔ ‪ .‬ثواب‬ ‫االعمال‪/‬ص ‪١٠١‬‬ ‫رازاستعاذه‬ ‫سوره ٔحمدکی قرائت شروع کرنے سے پہلے مستحب ہے کہ ﷲ تبارک وتعالی سے شيطان رجيم کے بارے ميں پناه مانگی‬ ‫جائے کيونکہ نمازميں واجب ہے کہ انسان اپنی نيت کوآخرصحيح وسالم رکھے‪،‬اورنمازميں اخالص وحضورقلب‬ ‫رکھے‪،‬خداکے عالوه کسی دوسری چيزکواپنے ذہن ميں نہ الئے اورانسان کاعمل جت نازياده مہم ہوتاہے شيطان بھی اپنی‬ ‫پوری قدرت کے ساتھ اس پرحملہ کرنے کوشش کرتاہے اورشيطان نمازوعبادت خداوندی کوبہت زياده دشمن رکھتاہے‬ ‫کيونکہ وه يہ جانتاہے ہے کہ نمازوعبادت انسان کوگناه ومنکرات سے دوررکھتی ہے ل ٰہذابنده ٔمومن جب نمازکے لئے قيام‬ ‫ہے توشيطان اس کے دل ميں وسوسہ پيداکرنا چاہتا ہے اوراسے نمازميں اخالص وحضورقلب رکھنے سے منحرف کرنے‬ ‫اور رياکاری کی چنگاری پيداکرنے کی کوشش کرتاہے ‪،‬اورہروقت بندوں کوراه عبادت سے چھوڑدےنے اور گناه ومنکرات‬ ‫ميں ملوث ہونے کی دعوت دينے کے لئے حاضرہوتاہے ۔‬ ‫وسوسہ شيطانی سے بچنے اورنمازميں اخالص وحضورقلب پيداکرنے لئے مستحب ہے کہ نمازگزارجب نمازکے لئے قيام‬ ‫کرے توسوره ٔحمدسے پہلے ﷲ سے شيطان رجيم کی پناه مانگے اور“آعوذباللھمن الشيطان الرجيم ”کہے ۔‬ ‫نمازکے شروع ميں استعاذه کرنے کی ايک وجہ يہ بھی ہے قرآن کريم کی تالوت سے پہلے اللھسے شيطان رجيم کی پناه‬ ‫مانگنامسحتب ہے ل ٰہذانمازميں قرآن کی قرائت کرنے سے شيطان رجيم سے پناه مانگنامستحب ہے جيساکہ قرآن کريم ميں‬ ‫ارشادخداوندی ہے‪:‬‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫ّ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ي‬ ‫ل‬ ‫ہ‬ ‫ن‬ ‫ا‬ ‫‪،‬‬ ‫ْم‬ ‫ي‬ ‫ﱠج‬ ‫ر‬ ‫ال‬ ‫ن‬ ‫ا‬ ‫ط‬ ‫ي‬ ‫ش‬ ‫ال‬ ‫م‬ ‫ا‬ ‫ب‬ ‫ذ‬ ‫ع‬ ‫ت‬ ‫س‬ ‫ا‬ ‫ف‬ ‫َلی َرب ِﱢہ ْم يَتَ َو ﱠکلُوْ نَ >‬ ‫ْس لَہُ س ُْل ٰط ٌن َعلَی الﱠ ِذ ْينَ آ َمنُوْ ا َوع ٰ‬ ‫ِ ِ ِ ِ نَ‬ ‫ت ْالقُرْ آنَ‬ ‫ِ ِ ِ ُ َ‬ ‫<فَاِ َذاقَ َرا ٔ ِ‬ ‫ِ‬ ‫جب آپ قرآن پﮍھيں توشيطان رجيم کے مقابلہ کے لئے ﷲ سے پناه طلب کريں‪،‬شيطان ہرگزان لوگوں پرغلبہ نہيں پاسکتاہے‬ ‫جوصاحبان ايمان ہيں اورجواللھپرتوکل واعتمادرکھتے ہيں۔‬ ‫‪ .‬سوره نٔحل‪/‬آيت ‪ ٩٨‬۔ ‪٩٩‬‬ ‫ہرسوره کے شروع ميں“بسم ﷲ…”ہونے کی وجہ‬ ‫”بسم ا …” سوره کاجزء ہے اس لئے سوره کی ابتداء اسی کے ذريعہ ہونی چاہئے ‪،‬کيونکہ ہرکام کی ابتداء “ بسم ا‬ ‫تعالی کے نام سے ہونی چاہئے ‪،‬اگرکسی کام‬ ‫الرحمن الرحيم ” کے ذريعہ ہونی چاہئے ‪،‬اگرکسی نيک کی کام ابتدا ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫کی ابتدا ﷲ کے نام سے نہ کی جائے تواس ميں شيطان کے دخل ہونے کاامکان پاياجاتاہے اوراس کام کے نامکمل ہونے‬ ‫کابھی امکان رہتاہے اس لئے ہرنيک کی ابتداء ﷲ کے نام کی جائے اسی لئے ہرسوره کی ابتداء “ بسم ا …” کے ذريعہ‬ ‫بال لم يذکرفيہ باسم ﷲ فَہوابتر‪.‬‬ ‫امرذی ٍ‬ ‫ہونی چاہئے اسبارے ميں حديث ميں آياہے‪ :‬عن النبی صلی ﷲ عليہ وسلم انہ قال‪:‬ک ّل ٍ‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬ہروه کام جو“بسم ﷲ… ”سے شروع نہيں ہوتاہے وه پايہ تٔکميل کونہيں پہنچتاہے۔‬ ‫‪ .‬الميزان ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ١۴‬۔بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٩٢‬ص ‪٢۴٢‬‬ ‫راز قرائت حمد‬ ‫نمازميت کے عالوه تمام دورکعتی )واجب اورمستحبی (نمازوں کی دونوں رکعتوں ميں اوردورکعتی نمازوں کے عالوه تين‬ ‫رکعتی )نمازمغرب(اورچاررکعتی )ظہروعصر وعشاء(نمازوں کی پہلی دونوں رکعتوں ميں تکبيرة االحرام کے فوراًبعدسوره‬ ‫ٔحمدکی قرائت کرناواجب ہے اورحمدکے بجائے کسی دوسرے کی قرائت کرناصحيح نہيں ہے اورکوئی شخص حمدکے‬ ‫بجائے کسی دوسرے سوره کی قرئت کرے تواس کی نمازباطل ہے ۔‬ ‫ً‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬الصالة لمن لم يقرا ٔبا ّم الکتاب فصاعدا۔ پيغمبر اسالم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‬ ‫‪:‬جو شخص نماز ميں سور ئہ حمداوراس کے عالوه دوسرے کی قرا ئت نہيں کرتا ہے اسکی نماز صحيح نہيں ہے ۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪١۵٨‬‬ ‫سوره ٔحمدکے ذريعہ قرائت کے آغازکئے جانے ک وجہ روايتوں ميں اس طرح بيان کی گئی ہے‪:‬‬ ‫فضل بن شاذان نے امام علی رضا سے منقول نمازميں قرائت کے واجب قرادئے جانے کی وجہ اس طرح بيان کی ہے‪:‬‬ ‫انمابدء بالحمددون سائر السورالنّہ ليس شی ٔمن القرآن والکالم جمع فيہ من جوامع الخيروالحکمة ماجمع فی سورة الحمد‪.‬‬ ‫قران کريم ميں کوئی سوره ياکوئی کالم ايسانہيں ہے کہ جس ميں سوره ٔحمدکے برابرخيروحکمت موجودہوں‬ ‫ٰ‬ ‫شکرالہی ہے کہ جسے خداوندعالم نے واجب قراردياہے ان نعمتوں کے بدلہ ميں جواسنے اپنے‬ ‫اورقول“الحمد ”ادائے‬ ‫بندوں پرنازل کی ہيں۔ ‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣١٠‬‬ ‫حديث معراج ميں آياہے کہ جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(معراج پرگئے اورآپ کونمازپﮍھنے کاحکم دياگياتوآپ‬ ‫نمازکے لئے کھﮍے ہوئے اورتکبيرکہہ نمازشروع کی تووحی پروردگارنازل ہوئی ‪:‬ميرانام لو!تونبی راکرم )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(نے “بسم ﷲ …”اوراس طرح “بسم ﷲ…”کوہرسوره کے شروع ميں رکھاگيااوراسے سوره کاجزء قراردياگيااس کے‬ ‫بعدوحی نازل ہوئی‪:‬اے رسول !ميری حمدکرو‪،‬آنحضرت نے سوره ٔحمدکی قرائت کی ۔‬ ‫‪ .‬الکافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٨۵‬‬ ‫روايت ميں آياہے ‪،‬امام صادق سے کسی نے اس آيہ ٔمبارکہ ) ‪(١‬کے بارے ميں پوچھاتو امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬سوره‬ ‫ٔحمدکو سبع مثانی کہاجاتاہے کيونکہ سوره ٔحمدايساسوره ہے جس ميں سات آيتيں ہيں اوران ميں سے ايک بھی ہے اسی لئے‬ ‫سبع کہاجاتاہے اورمثانی اس لئے کہتے ہيں کيونکہ يہ سوره نمازکی پہلی دورکعتوں ميں پﮍھا جاتا ہے ۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪١۵٧‬‬ ‫پہلی رکعت ميں سوره قٔدراوردوسری ميں توحيدکے مستحب ہونے کی وجہ فقہاء کے درميان مشہوريہ ہے کہ واجب نمازوں‬ ‫کی پہلی اوردوسری رکعت ميں سوره حمدکے بعدايک مکمل سوره کی قرائت کرناواجب ہے ليکن مستحب ہے کہ پہلی‬ ‫رکعت ميں سوره ٔحمدبعدسوره قدراوردوسری رکعت ميں سوره تٔوحيدکی قرائت مستحب ہے ہمارے تمام آئمہ اطہار کی يہی‬ ‫سيرت رہی ہے وه اپنی نمازوں کی پہلی رکعت ميں سوره حمدکے بعدسوره قدراوردوسری رکعت ميں سوره تٔوحيدکی قرائت‬ ‫کرتے تھے ۔ رويات ميں آياہے کہ امام علی ابن موسی الرّضا واجب نماز وں کی پہلی رکعت ميں سورئہ حمد کے بعد سورئہ‬ ‫قدراور دوسری رکعت ميں سورئہ حمد کے بعد سورئہ توحيد کی قرائت کرتے تھے ۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪٧۶٠‬‬ ‫تعالی فرجہ شريف( کی خدمت ميں خط‬ ‫ايک اورروايت ميں آياہے‪:‬ايک شيعہ اثنا عشری شخص نے حضرت مہدی )عجل ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫تحريرکيااور امام )عليه السالم( سے پوچھا‪:‬اے ميرے موال!آپ پرميری جان قربان ہو!ميں آپ سے ايک چيزمعلوم‬ ‫کرناچاہتاہوں اوروه يہ ہے کہ نماز کی پہلی اوردوسری رکعت ميں سوره ٔحمدکے بعدکس سوره کی قرائت کرنازياده فضيلت‬ ‫رکھتاہے ؟امام )عليه السالم(نے جواب ميں تحريرفرمايا‪:‬‬ ‫پہلی رکعت ميں سورئہ اور دوسری رکعت ميں سورئہ اور امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬تعجب ہے کہ لوگ نمازوں ميں‬ ‫سورئہ قدر کی قرائت نہيں کرتے ہيں‪ ،‬کسطرح ان کی نمازيں بارگاه ربّ الع ّزت ميں قبول ہوتی ہيں ۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪٧۶١‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ليکن روايت ميں يہ بھی ملتاہے کہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(پہلی رکعت ميں حمدکے سوره توحيداوردوسری رکعت ميں‬ ‫سوره قدرکی قرائت کرتے تھے اورشب معراج بھی آپ کوپروردگارنے پہلی رکعت ميں حمدکے سوره تٔوحيدپﮍھنے کاحکم‬ ‫ديا‪ :‬اے محمد!)ص(سوره حمدکے بعداپنے پروردگارکاشناسنامہ اورنسبت کوپﮍھوقُلْ ہُ َوﷲُ اَ َح ٌد َ‬ ‫‪،‬ﷲ ال ﱠ‬ ‫ص َمدُ‪،‬لَ ْم يَلِ ْد َولَ ْم يُوْ لَ ْد‪َ ،‬ولَ ْم‬ ‫يَ ُک ْن لﱠہُ ُکفُ ًوااَ َح ْد>‬ ‫پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے نماز کی پہلی رکعت ميں سورئہ حمد کے بعدسوره تٔوحيد کی قرائت کی اورجب دوسری‬ ‫رکعت ميں سوره ٔحمدپﮍھاتوپروردگارکی طرف سے وحی نازل ہوئی‪:‬‬ ‫اے محمد!)ص(د��سری رکعت ميں سوره ٔحمدکے بعد کی قرائت کروکيونکہ يہ سوره روزقيامت تک تمھارااورتمھارے‬ ‫اہلبيت سے منسوب ہے ‪،‬يہ سوره تمھارااورتمھارے اہلبيت کی پہچان نامہ ہے جسميں تمھاراشجره موجودہے ۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٨۵‬‬ ‫سوال يہ ہے جب سنت رسول يہ ہے کہ پہلی رکعت ميں توحيداوردوسری رکعت ميں قدرکی قرائت کی جائے توپھرپہلی‬ ‫رکعت سوره قٔدرکی قرائت کرنازياده ثواب کيوں رکھتاہے؟ اس کی وجہ اوررازکياہے؟‬ ‫وتعالی‬ ‫اس کاجواب خودحديث معراج سے واضح ہے کيونکہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی ذات وه ہے کہ جوﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫سے اس درجہ قريب تھے کہ قاب وقوسين کی منزل تک پہنچ گئے تھے اورﷲ ورسول کے درميان کوئی واسطہ نہيں‬ ‫تھااسی ﷲ نے اپنے حبيب کوحکم ديا‪:‬سوره ٔحمدکے بعدتوحيدکی قرائت کرواوردوسری رکعت ميں سوره قدرپﮍھوکيونکہ‬ ‫سوره توحيد ميراشجره نامہ ہے اوراس ميں ميری نسبت ذکر ہے اورسوره قٔدر تمھارے اہلبيت اطہار سے ايک خاص نسبت‬ ‫ٔ‬ ‫رکھتاہے اوراس ميں تمھارے اہبيت کاشجره نامہ ذکرہے‬ ‫وه لوگ جوﷲ سے قربت حاصل کرناچاہتے ہيں انھيں چاہئے کہ ان عظيم القدرذات کاسہارالے کر جوﷲ سے بہت زياده‬ ‫قريب ہوں اس کی بارگاميں قدم رکھيں تاکہ وه ان کی عبادت کوان ذوات مقدسہ کے طفيل سے قبول کرلے‬ ‫اہلبيت اطہار وه ذوات مقدسہ ہيں جواللھسے بہت زياده قريب ہيں اسی لئے مستحب ہے کہ پہلی رکعت ميں اہلبيت سے‬ ‫منسوب سوره قدرکی قرائت کی جائے اوردوسری رکعت ميں خداوندعالم سے منسوب سوره کی قرائت کی جائے ليکن‬ ‫پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله(کوخدانے شب معراج پہلی رکعت ميں سوره توحيد اوردوسری رکعت ميں سوره قٔدرکی‬ ‫قرائت کرنے حکم ديااس کی وجہ يہ ہے‪:‬‬ ‫آنحضرت حبيب خداہيں اورخداورسول کے درميان کوئی واسطہ نہيں ہے بلکہ خداوندعالم براه راست وحی کے ذريعہ اپنے‬ ‫حبيب سے گفتگوکرتاہے اسلئے رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کوخدانے پہلی رکعت ميں اپنی ذات سے منسوب سوره کی‬ ‫قرائت کاحکم ديا۔ روايت ميں آياہے ‪:‬مستحب ہے کہ پہلی رکعت ميں سوره ٔحمدکے بعد “انّا انزلناه…” اوردوسری رکعت‬ ‫ميں “قل ہوﷲ…”کی قرائت کی جائے کيونکہ سوره قٔدرنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(اوران کے اہلبيت اطہار کاسوره ہے‬ ‫ل ٰہذاہميں چاہئے کہ اپنی نمازوں ميں ان ذوات مقدسہ کو خدا تک پہنچنے کا وسيلہ قرارديں کيونکہ انھيں کے وسيلہ سے‬ ‫خداکی معرفت حاصل ہوتی ہے۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪  ٣١۵‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫سورعزائم کے قرائت نہ کرنے کی وجہ‬ ‫اگرکوئی نمازی عمداًاپنی واجب نمازوں ميں ان ميں کسی ايک سوره کی قرائت ميں مشغول ہوجائے اورابھی سجده والی آيت‬ ‫کی قرائت نہيں کی ہے توواجب ہے کہ کسی دوسرے سوره کی طرف منتقل ہوجائے اوراگرسجده ٔواجب والی آيت قرائت‬ ‫کرچکاہے تونمازباطل ہے کيونکہ اس آيت کی قرائت کرنے سے سجده کرناواجب ہے اوراس سجده کے کرنے سے نمازميں‬ ‫ايک سجده کی زيادتی ہوجائے گی جوکہ نمازکے باطل ہوجانے کاسبب ہے لہٰذااس صورت ميں واجب ہے کہ بيٹھ جائے‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اورسجده کرے اس کے بعدکھﮍے ہوکردوباره نمازپﮍھے ۔ موالئے کائنات علی ابن ابی طالب فرماتے ہيں‪:‬واجب نمازوں ميں‬ ‫سوره سجده‬ ‫قرآن کريم کے چار عزائم سوروں ميں سے کسی ايک بھی سوره کی قرائت نہ کرواوروه چارسورے يہ ہيں‬ ‫ٔ‬ ‫ٔلقمان ‪ ،‬حم سجده‪،‬نجم‪،‬علق‪،‬اگرکوئی شخص ان چارسورں ميں سے کسی ايک سوره کی قرائت کرے تواس پرواجب ہے کہ‬ ‫سجده کرے اوريہ دعاپﮍھے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫الی مادعوا ‪ ،‬الہی فالعفو العفو“ اس کے بعدسجده سے سربلندکرے‬ ‫” ٰالہی آمنابماکفرواوعرفناماانکروا ‪ ،‬واجبناک ٰ‬ ‫اورتکبيرکہے )اوردوباره نمازپﮍھے(۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٠۶‬‬ ‫زراره نے امام باقرياامام صادق سے روايت کی ہے ‪،‬امام )عليه السالم(فرماتے ہيں‪:‬اپنی واجب نمازوں ميں سجده والے‬ ‫سوروں کوقرائت نہ کروکيونکہ ان پﮍھنے سے نمازميں ايک سجده زياده ہوجائے گااور زيادتی کی وجہ سے نمازباطل‬ ‫ہوجائے گی ۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٩۶‬‬ ‫رازجہراوخفات‬ ‫مردوں پرواجب ہے کہ صبح اورمغرب وعشا کی نمازميں حمدوسوره کوبلندآوازسے پﮍھيں ليکن عوتيں بلنداورآہستہ آوازميں‬ ‫پﮍھ سکتی ہيں جبکہ کوئی نامحرم ان کی آوازنہ سن رہاہو‪،‬اگرکوئی نامحرم عورت کی آوازسن رہاہے تواحتياط واجب يہ ہے‬ ‫کہ آہستہ پﮍھے اورنمازظہروعصرکی نمازميں مردوعورت دونوں پرواجب ہے کہ حمدوسوره کوآہستہ پﮍھيں ليکن مردوں‬ ‫کے لئے مستحب ہے ان نمازوں ميں “بسم ﷲ الرحمٰ ن الرحيم” کوبلندآوازسے کہيں۔ حداخفات يہ ہے کہ نمازی خوداپنی‬ ‫قرائت کوسن سکتاہواورحدجہريہ ہے کہ امام جہری نمازوں ميں قرائت کوات نی بلندآوازسے پﮍھے کہ مامومين تک اس کی‬ ‫آوازپہنچ سکے اورمعمول سے زياده آوازبلندنہ کرے يعنی اسے چيخ نہ کہاجائے ‪،‬اگرچيخ کرپﮍھے تونمازباطل ہے بلکہ‬ ‫معتدل طريقہ اختيارکرے يعنی آوازنہ ات نی زياده ہوکہ اسے چيخ کہاجائے اورنہ ات نی کم ہوکہ خودکوبھی آوازنہ آئے‬ ‫جيساکہ خداوندعالم قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪َ :‬‬ ‫ک َو َالتُخَا ِفت ِبہَا>‬ ‫ص َال ِت َ‬ ‫<التَجْ ہَرْ ِب َ‬ ‫اے رسول!اپنی نمازميں ميانہ روی اختيارکرو‪،‬نہ زياده بلندآوازسے اورنہ زياده آہستہ سے پﮍھو۔‬ ‫‪ .‬سوره أسراء ‪/‬آيت ‪١١٠‬‬ ‫ظہروعصرکی نمازميں قرائت حمدوسوره کے آہستہ پﮍھنے اورنمازصبح ومغربين ميں بلندآوازسے پﮍھنے کاحکم کيوں‬ ‫دياگياہے ‪،‬تمام نمازوں ميں حمدوسوره کوبلندياآہستہ پﮍھنے ميں کياحرج ہے ؟‬ ‫فضل بن شاذان نے امام علی رضا سے ايک روايت نقل کی ہے جس ميں امام)عليه السالم( نے اس چيزکی وجہ بيان کی ہے‬ ‫کہ بعض نمازوں کوبلندآوازسے اوربعض کوآہستہ کيوں پﮍھناچاہئے؟‬ ‫امام علی رضا فرماتے ہيں‪:‬بعض نمازوں کوبلندآوازسے پﮍھنے کی وجہ يہ ہے کيونکہ يہ نمازيں اندھرے اوقات ميں پﮍھی‬ ‫جاتی ہيں ل ٰہذاواحب ہے کہ انھيں بلندآوازسے پﮍھ__________اجائے تاکہ راستہ گزرنے واالشخص سمجھ جائے کہ يہاں‬ ‫نمازجماعت ہورہی ہے اگروه نمازپﮍھناچاہتاہے توپﮍھ لے کيونکہ اگروه نمازجماعت کونہيں ديکھ سکتاہے تونمازکی آوازسن‬ ‫کرسمجھ سکتاہے نمازجماعت ہورہی ہے )لہٰذانمازصبح ومغربين کوبلندآوزسے پﮍھناواجب قراردياگياہے(اوروه دونمازيں‬ ‫جنھيں آہستہ پﮍھنے کاحکم دياگياہے اس کی وجہ يہ ہے کہ وه دونوں نمازيں دن کے اجالہ ميں پﮍھی جاتی ہيں اوروہاں سے‬ ‫گزرنے والوں کونظرآتاہے کہ نمازقائم ہے لہٰذااس ميں سننے کی ضرورت نہيں ہے بلکہ ديکھنے سے تعلق رکھتی ہے اسی‬ ‫لئے ان دونماز)ظہرين(کوآہستہ پﮍھنے کاحکم دياگياہے۔‬ ‫‪ .‬علل الشرايع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢۶٣‬‬ ‫محمدابن حمزه سے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق سے پوچھا‪ :‬کياوجہ ہے کہ نمازجمعہ اورنمازمغرب وعشاء‬ ‫اورنمازصبح کوبلندآوازسے پﮍھاجاتاہے اور نماز ظہر و عصر کو بلندآوازسے نہيں پﮍھاجاتا ہے؟امام)عليه السالم( نے‬ ‫فرمايا‪:‬‬ ‫جس وقت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(معراج پرگئے توجمعہ کادن تھااورﷲ کی طرف واجب کی گئی پہلی نمازظہرکاوقت‬ ‫تھا)جب آنحضرت نے نمازجمعہ پﮍھناشروع کی(خداوندعالم نے مالئکہ کوحکم دياکہ وه پيغمبر اسالم کے پيچھے جماعت‬ ‫سے نمازپﮍھيں اورپيغمبرکوحکم دياکہ حمدوسوره کوبلندآوازسے قرائت کريں تاکہ انھيں اس کی فضيلت معلوم ہوجائے اس‬ ‫کے بعدﷲ نے نمازعصرکوواجب قرارديااور)جوفرشتے نمازظہرميں حاضرتھے ان کے عالوه( کسی فرشتہ کونمازجماعت‬ ‫ميں اضافہ نہيں کيااورپيغمبراسالم کوحکم دياکہ نمازعصرکوبلندآوازسے نہ پﮍھيں بلکہ آہستہ پﮍھيں کيونکہ اس نمازميں‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫آنحضرت کے پيچھے کوئی )نيافرشتہ (نہيں تھا‬ ‫تعالی نے نمازمغرب کوواجب قرارديااورجيسے ہی مغرب کاوقت پہنچاتوآنحضرت نمازمغرب کے‬ ‫نمازظہروعصرکے بعدﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫لئے کھﮍے ہوئے توآپ کے پيچھے نمازمغرب پﮍھنے کے لئے مالئکہ حاضرہوئے ‪،‬ﷲ نے اپنے حبيب کوحکم دياکہ اس‬ ‫نمازميں حمدوسوره کوبلندآوازسے پﮍھوتاکہ وه سب قرائت کوسن سکيں اوراسی طرح جب نمازعشاء کے کھﮍے ہوئے‬ ‫تومالئکہ نمازميں حاضرہوئے توخدانے پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کوحکم دياکہ اس نمازميں بھی حمدوسوره‬ ‫کوبلندآوازسے پﮍھو‪،‬اس کے بعدجب طلوع فجرکاوقت پہنچاتوﷲ نے نمازصبح کوواجب قرارديااوراپنے حبيب کوحکم دياکہ‬ ‫اس نمازکوبھی بلندآوازسے پﮍھوتاکہ جس مالئکہ پراس نمازکی فضليت واضح کی گئی اسی طرح لوگوں کوبھی اس کی‬ ‫فضيلت معلوم ہوجائے۔ ‪ .‬علل الشرايع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣٢٢‬‬ ‫يہوديوں کی ايک جماعت پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے پاس آئی اورانھوں نے آنحضرت سے سات سوال کئے جن‬ ‫ميں سے ايک يہ بھی تھاکہ تين نمازوں کوبلندآوازسے پﮍھنے کاحکم کيوں دياگياہے ؟آنحضرت نے فرمايا‪:‬‬ ‫اس کی وجہ يہ ہے انسان جت نی بلندآوازسے قرائت کرے گااورجس مقدارميں اس کی آوازبلندہوگی اسی مقدارميں جہنم کی‬ ‫آگ سے دوررہے گااورآسانی کے ساتھ پل صراط سے گزرجائے گااوروه خوش وخرم رہے گايہاں تک کہ جنت ميں داخل‬ ‫ہوجائے گا۔ ‪ .‬خصال)شيخ صدوق(‪/‬ص ‪٣۵۵‬‬ ‫روايت ميں اياہے کہ حضرت امام علی بن محمد ‪+‬سے قاضی يحيیٰ ابن اکثم نے چندسوال کئے جن ميں ايک سوال يہ بھی‬ ‫تھاکہ نمازصبح ميں قرائت کے بلندآوازسے پﮍھنے کی کياوجہ ہے ؟امام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬‬ ‫نمازصبح اگرچہ دن کی نمازوں ميں شمارہوتی ہے ليکن اس کی قرائت کورات کی نمازوں )مغرب وعشا(کی طرح‬ ‫بلندوآوازسے پﮍھناجاتاہے جس کی وجہ يہ ہے کہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(اس نمازکی قرائت کوبلندآوازسے پﮍھتے‬ ‫تھے اوراس لئے بلندآوازسے پﮍھتے تھے کيونکہ يہ نمازشب سے قريب ہے۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣٢٣‬‬ ‫حمد کے بعدآمين کہناکيوں حرام ہے‬ ‫سوره حمدکی قرائت کے بعدآمين کہناجائزنہيں ہے بلکہ “الحمد رب العالمين”کہنامستحب ہے کيونکہ سنت رسول يہی ہے‬ ‫کہ قرائت حمدکے بعد “الحمد رب العالمين” کہاجائے۔‬ ‫حديث معراج ميں آياہے ‪:‬جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(معراج پرگئے اورخداوندعالم نے آپ کونمازپﮍھنے کاحکم‬ ‫ديااوروحی نازل کی‪:‬‬ ‫اے محمد! کہواورسوره ٔحمدپﮍھو ‪،‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے ايسا ہی کيااور“والالضالين”کہنے کے بعد“الحمدللھرب‬ ‫العالمين”کہا)آمين نہيں کہا ل ٰہذاسنت رسول يہ ہے کہ سوره حمدکے بعد“الحمدللھرب العالمين”کہاجائے (۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٨۵‬‬ ‫جميل ابن دراج سے مروی ہے امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جب تم جماعت سے نمازپﮍھو اورامام جماعت سوره ٔحمدکی قرائت‬ ‫سے فارغ ہوجائے توتم“ الحمدللھرب العالمين” کہواورآمين ہرگزنہ کہو۔‬ ‫‪ .‬الکافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٣١٣‬‬ ‫معاويہ ابن وہب سے مروی ہے وه کہتے ہيں ‪:‬ميں نے امام صادقسے کہا‪:‬ميں امام جماعت کے “غيرالمغضوب عليہم‬ ‫والالضالين”کہنے کے بعدآمين کہتاہوں توامام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫وه لوگ يہودی اورمسيحی ہيں جوامام جماعت کے “غيرالمغضوب عليہم والالضالين” کے کہنے بعدآمين کہتے ہيں۔‬ ‫اس کے بعد امام)عليه السالم( نے کوئی جملہ نہيں کہااورامام)عليه السالم( کااس سائل کے سوال کاجواب دينے سے منھ‬ ‫پھيرلينااس بات کی دليل کے ہے کہ امام)عليه السالم( قرائت کے بعد اس جملہ کہنے کوپسندنہيں کرتے تھے ۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٧۵‬‬ ‫سوره حمدکی مختصرتفسير‬ ‫ﱠحي ِْم‬ ‫بِس ِْم ﷲِ الرﱠحْ مٰ ِن الر ِ‬ ‫کچھ لوگ اميرالمومنين حضرت علی کی خدمت ميں موجودتھے کاايک شخص نے امام )عليه السالم(سے عرض کيا‪:‬اے‬ ‫ّحي ِْم <کے معنی سے آگاه کريں‪ ،‬امام )عليه السالم(نے‬ ‫ميرے موالآقاآپ پرہماری جان قربان ہو‪،‬ہميں > ِبس ِْم ﷲ الرﱠحمٰ ِن الر ِ‬ ‫فرمايا‪:‬سچ يہ ہے کہ جب تم لفظ “ﷲ” کو اپنی زبان پر جاری کرتے ہوتوتم خداکے افضل ترين ناموں ميں سے ايک نام کا‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ذکرکرتے ہو ‪،‬يہ ايسانام ہے جس کے ذريعہ خدا کے عالوه کسی دوسرے کو اس نام سے ياد نہيں کيا جاسکتا ہے اور‬ ‫خداکے عالوه کسی بھی مخلوق کواس نام سے نہيں پکارا جاسکتاہے ‪،‬دوسر ے شخص نے پوچھا‪“ :‬ﷲ”کی تفسير کيا ہے ؟‬ ‫حضرت علی نے فرمايا‪” :‬ﷲ” وه ذات ہے کہ دنياکی ہر مخلوق ہرطرح کے رنج وغم ‪ ،‬مشکالت ‪،‬حاجتمندی اورنياز مندی‬ ‫کے وقت اسی سے لولگا تی ہے‪،‬اور تم بھی اپنے ہر چھوٹے بﮍے کام کو شروع کرتے وقت “بسم ﷲ الرحمن الرحيم ”کہتے‬ ‫ہوپس تم درحقيقت يہ کہتے ہو‪ :‬ہم اپنے اس کام ميں اس خدا سے مدد طلب کرتے ہيں جس کے عالوه کسی دوسرے کی‬ ‫عبادت کرناجائز نہيں ہے اور اس خدا سے جو رحمن ہے يعنی رزق وروزی کو وسعت کے ساتھ ہم پر نازل کرتا ہے اور وه‬ ‫خدا جو رحيم ہے اوردونوں جہاں ميں يعنی دنياوآخرت ميں ہم پررحم کرتاہے ۔ ‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٢٩‬ص ‪٢٣٢‬‬ ‫الحمدللھرب العالمين‬ ‫ْ‬ ‫ّ‬ ‫َ‬ ‫ُ‬ ‫ايک شخص اميرالمومنين علی بن ابی طلب ‪+‬کی خدمت ميں ايااورعرض کيا ‪ :‬يااميرالمومنين !آپ ميرے لئے “ ال َح ْمد ِ ِ َربﱢ‬ ‫ْال َعالَ ِميْن”کی تفسير بيان کيجئے ‪،‬امام علينے فرمايا ‪“ :‬الحمد ِ ّ ”کی تفسيريہ ہے کہ خداوندعالم نے اپنی بعض نعمتوں کو‬ ‫اجمالی طور سے اپنے بندوں کے سامنے ان کی معرفی کی ہے اورواضح طورسے ان کی معرفی نہيں کی ہے کيونکہ بندے‬ ‫تمام نعمتوں کوکامل طورسے شناخت کرنے کی قدرت نہيں رکھتے ہيں اس لئے کہ خداکی عطاکی ہوئی نعمتيں ات نی زياده‬ ‫ہيں کہ انسان انھيں شمار کرنے اوران کی معرفت حاصل کرنے سے قاصرہے ل ٰہذا “الحمد ”کے معنی يہ ہيں کہ تمام‬ ‫حمدوثناء خداسے مخصوص ہے ان نعمتو ں کی وجہ سے جو اس نے ہميں عطا کی ہيں اورامام )عليه السالم( نے‬ ‫فرمايا‪“:‬ربّ العالمين”يعنی خداوند عالم دونوں جہاں) دنياوآخرت (کاپيداکرنے واالہے ‪،‬اوردونوں جہاں کا مالک وصاحب‬ ‫اختيار ہے يعنی حيوانات وجمادات ونباتات ‪،‬آگ‪،‬ہوا‪،‬پانی ‪،‬زمين ‪،‬آسمان ‪،‬دريا… کا مالک ہے۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/ ٢٩ /‬ص ‪٢۴۵‬‬ ‫الرحمن الرحيم‬ ‫”رحمٰ ن”ﷲ کی ايک صفت عام ہے جودنياميں مومن اورکافردونوں کے شامل حال ہوتی ہے اورتمام بندوں پراس کی رحمت‬ ‫نازل ہوتی ہے ‪،‬وه دنياميں ہرانسان مومن ‪،‬منافق‪،‬عالم ‪،‬جاہل ‪،‬سخی ‪ ،‬ظالم ‪،‬حاکم …کورزق عطاکرتاہے ‪،‬اورکسی بندے‬ ‫کواپنے دروازه ٔرحمت سے خالی نہيں لوٹاتاہے‬ ‫” رحمٰ ن” وه ذات ہے جواپنے تمام بندوں)مومن ‪،‬منافق کافر…(کی روزی کے بارے ميں شديدطورسے متمائل رہتاہے اوران‬ ‫کی روزی کوقطع نہيں کرتاہے چاہے وه کت ناہی گناه کريں‪،‬چاہے کت نی ہی اس کی نافرمانی کريں‪،‬وه اپنی وسيع رحمت‬ ‫کے ذريعہ اپنے تمام بندوں کو روزی عطا کرتا ہے اور کسی کا رزق قطع نہيں کرتا ہے اب چاہے اس بنده کامسلمان‬ ‫ہوياکافر‪،‬مومن ہويامنافق ‪،‬اس کے حکم کی اطاعت کرتے ہوں يا نافرمانی ‪،‬ليکن يہ يادرہے کہ خداوندعالم زمين پر مومنين‬ ‫کے وجودکی خاطردوسروں پررحم کرتاہے اگردنياسے مومينن کاوجودختم ہوجائے تويہ دنياتباه وبربادہوجائے ‪،‬اسبارے ميں‬ ‫ہم پہلے حديث کو ذکرکرچکے ہيں۔ ” رحيم”خداکی ايک خاص صفت ہے کہ جوآخرت ميں فقط مومنين سے مخصوص ہے‬ ‫تعالی ہرشئے پرقدرت رکھتاہے ‪،‬وه )دنياميں(اپنی تمام‬ ‫امام صادق رحمن ورحيم کے معنی اس طرح بيان کرتے ‪:‬ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫مخلوق پررحم کرتاہے اور)روزقيامت (فقط مومنين پررحم کرے گا۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١١۴‬‬ ‫تعالی سے مخصوص ہے اورصفت عام ہے يعنی ﷲ‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬رحمن ايک اسم خاص ہے جوفقط ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫وتعالی اپنے تمام بندوں پررحم کرتاہے اوررحيم اسم عام ليکن صفت خاص ہے يعنی روزقيامت فقط ايک مخصوص‬ ‫تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫گروه پررحم کياجائے گا۔‬ ‫‪ .‬تفسيرمجمع البيان ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪۵۴‬‬ ‫حضرت علی فرماتے ہيں ‪ :‬خدا وند عالم اپنے تمام بندوں پررحم کرتاہے اور يہ خداکی رحمت ہے کہ اس نے اپنی رحمت‬ ‫سے ‪/ ١٠٠‬رحمت پيدا کی ہيں اور ان ميں سے ايک رحمت کو اپنے بندوں کے درميان قرار ديا ہے کہ جس کے ذريعہ لوگ‬ ‫ايک دوسرے پر رحم کرتے ہيں‪،‬والداپنے اپنے فرزندپررحم کرتاہے اورحيوانات مائيں اپنے بچوں پررحم کرتی ہيں‪،‬جب‬ ‫قياوت کادن آئے گاتواس ايک رحمت کی ‪/ ٩٩‬قسم ہوں گی کہ جس کے ذريعہ امت محمدی پرحم کياجائے گا۔‬ ‫‪ .‬تفسيرامام حسن عسکری‪/‬ص ‪٣٧‬‬ ‫خداکی رحمت اس درجہ عام اوروسيع ہے کہ اس کی رحمت سے نااميدہوناگناه کبيره ہے کيونکہ وه خودقرآن کريم ميں‬ ‫ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫( َ‬ ‫ﱠح ْي ُم<) ‪ ١‬ﷲ کی رحمت سے مايوس نہ ہوناﷲ تمام گناہوں‬ ‫ﷲ‪،‬اِ ﱠن اللھَيَ ْغ ِفرُال ﱡذنُ َ‬ ‫وب َج ِميْعاًاِنّہُ ہُ َو ْال َغفُوْ ُر الر ِ‬ ‫<التَ ْقنَطُوا ِم ْن َرحْ َم ِة ِ‬ ‫کامعاف کرنے واالہے اوروه بہت زياده بخشنے واالاورمہربان ہے۔‬ ‫‪)١ .‬سوره ٔزمر‪/‬آيت ‪) ۵٣‬‬ ‫مالک يوم الدين‬ ‫ايک دن وه بھی آئے گاجب تمام لوگوں کوان کی قبروں سے بلندکياجائے اورﷲ تبارک‬ ‫وتعالی کی بارگاه وعدالت ميں‬ ‫ٰ‬ ‫کھﮍاکياجائے گا‪،‬وہاں کسی کی نہ اوالد کام آئے گی ‪،‬نہ کسی کواس کامال کام آئے گا‪،‬لوگوں کے تمام ذريعے ‪،‬وسيلے‬ ‫اوراميديں ختم ہوجائيں گی اوراس روزنہ فرعون کی حکومت ہوگی ‪،‬نہ نمرودکی ‪،‬نہ ہامان کی ‪،‬نہ شدادکی ‪،‬نہ اورکسی‬ ‫دوسرے شيطان صفت انسان کی بلکہ صرف خداکاکی حکومت ہوگی اوراسی کاحکم نافذہوگا‪ ،‬سوره ٔانفطارميں ارشادباری‬ ‫تعالی ہے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫< َواالم ُر يو َمئِ ٍذ ِ ٰ ّ ِ<اس دن تمام امورخداکے ہاتھ ميں ہونگے۔ اس روزتمام لوگوں سے يہ سوال ہوگا‪:‬آج حکومت کس کی ہے؟‬ ‫جواب ديں گےاس خداکی جواکيال ہے اورقہاربھی ہے‪،‬جسدن لوگوں يہ سوال کياجائے گااس روزکوقيامت کہتے ہيں۔‬ ‫‪ .‬سوره أنفطار‪/‬آيت ‪١٩‬‬ ‫اس روزصرف انسان کے وه نيک اعمال کام آئيں گے جواس نے دنياميں آل محمدکی محبت وواليت کے زيرسايہ انجام دئے‬ ‫ہونگے‬ ‫اميرالمومنين علی ابی طالب آيہ ٔمبارکہ کے بارے ميں فرماتے ہيں ‪ :‬حقيقت يہ ہے کہ خدا وند عالم قيامت کے دن تمام مخلوق‬ ‫کی تقدير کا مالک ہو گا اور جس نے دنيا ميں خدا کے بارے ميں شک کياہوگا ‪،‬اس کے حکم کی نافرمانی کی ہوگی‬ ‫اورطغيانی وسر کشی کی ہوگی وه ان سب کو واصل جہنم کرے گا اورجن لوگوں نے اس کی اطاعت کی ہوگی اوران ميں‬ ‫تواضع وانکسا ری پائی جاتی ہو گی ان کو خلد بريں ميں جگہ عنايت کر گا۔ ‪ ” .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز”‪/‬ش ‪/ ٧٧۵‬ص‬ ‫‪٢۴٢‬‬ ‫اياک نعبدواياک نستعين‬ ‫وتعالی کی رحمت اوراس کی کرامت کااقرارکرتاہے‬ ‫يہاں تک بنده نے سوره ٔحمدکی آيتيں قرائت کی ہيں ان ميں ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫اوراس کے مالک وخالق دونوں ہونے کی شہادت ديتاہے ليکن اب يہاں سے اس آيہ کريمہ کے ذريعہ اظہاربندگی کرتاہے‬ ‫اورکہتاہے ‪:‬ميری عبادت فقط تيرے لئے ہے ‪،‬تيرے عالوه کسی دوسرے کوعبادت ميں شريک قرارنہيں ديتاہوں يعنی ميں‬ ‫اقرارکرتاہوں کہ ميرامعبودفقط ايک ہے ۔‬ ‫جوبنده حقيقت ميں ﷲ تبارک تعالی کے رحيم وکريم اورمالک دوجہاں ہونے کااقرارکرتاہے ‪،‬اوراپنی عبادت کواسی سے‬ ‫مخصوص کرتاہے وه کسی بھی مخلوق کے آگے سرنہيں جھکاتا ہے‪،‬اپنے آپ کوذات پروردگارکے عالوه کسی دوسرے‬ ‫تعالی کی عبادت بھی کرتے ہيں اوردوسروں کے آگے سربھی جھکاتے ہيں‬ ‫محتاج نہيں سمجھتاہے ‪،‬اب وه لوگ جوﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫اوردوسروں کے سامنے اپنی حاجتوں کوبيان کرتے ہيں وه لوگ فقط زبان سے خداکوايک مانتے ہيں ‪،‬اوريقين کامل کے‬ ‫ساتھ اسے اپنامعبودنہيں مانتے ہيں ‪،‬اس پرمکمل بھروسہ نہيں رکھتے ہيں البتہ کسی ايسی بابرکت ذات گرامی کوجوﷲ‬ ‫تبارک سے بہت زياده قريب ہواسے وسيلہ قراردينے کوشرک نہيں کہاجاتاہے اوروسيلہ کے بغيرکسی جگہ کوئی رسائی‬ ‫ممکن نہيں ہے ‪،‬وسيلہ کے بارے ميں ذکرہوچکاہے ل ٰہذايہاں پربحث طوالنی اورتکرارہوجائے گی ۔‬ ‫جمع کی لفظ استعمال کئے جانے کاراز‬ ‫اس آيہ مبارکہ کے بارے ميں ايک اہم سوال يہ پيدا ہو تا ہے کہ متکلم ايک شخص ہے اور وه خدا سے کہہ رہا ہے ‪ :‬ہم تيری‬ ‫ہی عبادت کرتے ہيں جب قرائت کرنے واال ايک شخص ہے پھروه اپنے لئے جمع کا صيغہ کيوں استعمال کرتا ہے ؟ مندرجہ‬ ‫ذيل امورميں سے کوئی ايک وجہ ہوسکتی ہے ‪١‬۔دين اسالم ميں نمازجماعت کی بہت زياده تاکيدکی گئی ہے کيونکہ ﷲ‬ ‫تبارک‬ ‫وتعالی نے بھی قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫< َوارْ َکعُوا َم َع الرﱠا ِک ِع ْينَ <) ‪ (١‬رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ نمازجماعت کی اہميت وفضيلت کے بارے ميں‬ ‫روايتوں کوذکرکرچکے ہيں‪،‬جماعت ميں موجودتمام بندے رکوع وسجودکرتے ہيں اس لئے جمع کی لفظ استعمال کرتاہے‬ ‫ٰ‬ ‫بارالہا!ميں اکيالنہيں ہوں بلکہ اس پوری جماعت کے ساتھ ہوں اورسب کی جانب سے‬ ‫اورنمازميں موجودہربنده يہ کہتاہے‪:‬‬ ‫کہتاہوں ہم تيری عبادت کرتے ہيں اورتجھ ہی سے مددطلب کرتے ہيں‪،‬جمع کی لفظ استعمال کرنے سے ايک طرح کی گواہی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫بھی دی جاتی ہے ميرے يہ بنده بھی تيری عبادت ميں مشغول ہيں۔‬ ‫ک‬ ‫ک نَ ْعبُ ُد َواِ يﱠا َ‬ ‫شہيدمطہری فرماتے ہيں‪:‬سوره ٔحمد نماز کا قطعی جزء ہے ‪،‬ہم اس سورے ميں خداسے کہتے ہيں ‪ “:‬اِيﱠا َ‬ ‫ٰ‬ ‫)بارالہا! ہم تيری ہی عبادت کرتے ہيں اور تجھ ہی سے مددچاہتے ہيں( يعنی خدا يا ! ميں ت نہانہيں ہوں ‪ ،‬بلکہ ميں‬ ‫نَ ْستَ ِعيْنُ ”‬ ‫تمام مسلمانوں کے ساتھ ( ہوں ‪،‬ميں اس جماعت کے ساتھ ہوں اسی لئے جمع کی لفظ استعمال کرتاہوں۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬���‪(٢ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ٩۶۶‬ص ‪)١ . ( ٢٩٨‬سوره ٔبقره‪/‬آيت‪) ۴٣ /‬‬

‫ٰ‬ ‫فرادی نمازپﮍھتاہے تووه جمع کاصيغہ کيوں استعمال کرتاہے ؟اس کاجواب يہ ہے کہ‬ ‫اگرکوئی يہ اعتراض کرے ‪،‬جومومن‬ ‫اگرمومن ت نہائی ميں بھی نمازپﮍھتاہے اس لئے وه جماعت کاحکم رکھتاہے اور جمع کاصيغہ استعمال کرتاہے کيونکہ نبی‬ ‫اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬‬ ‫المومن وحده جماعة مومن بندے کی ت نہائی ميں پﮍھی جانے والی نمازبھی جماعت ميں شمارہوتی ہے ۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢۶۵‬‬ ‫‪٢‬۔انبياء وآئمہ اطہار کے عالوه کوئی بھی شخص دعوے کے ساتھ نہيں کہہ سکتاہے کہ ميرارب مجھ سے راضی ہے‬ ‫اورميں نے جواس کی عبادت کی ہے وه سچے دل سے کی ہے ‪،‬اس ميں کوئی شک نہيں ہے کہ وه مکمل معرفت کے ساتھ‬ ‫وتعالی کی عبادت کرتے ہيں اوران کی عبادت برگاه رب العزت ميں قبول بھی ہوتی ہے اوروه اپنے ان نورانی‬ ‫ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫تعالی کی معرفت نہيں‬ ‫بندوں کی مددبھی کرتاہے‪،‬مگرہم تمام بندے خاک کے پتلے ہيں ‪،‬گناہوں ميں الوده ہيں‪،‬ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫رکھتے ہيں اوراس کی عبادت ‪،‬اطاعت اوربندگی ميں ناقص ہيں اورہم اپنی حاجتوں کوﷲ کے عالوه دوسروں کے آگے بھی‬ ‫بيان کرتے ہيں ‪،‬شايدہماری يہ عبادت بارگاه خداوندی ميں مقبوليت کادرجہ نہ رکھتی ہول ٰہذاہم اپنی عبادتوں کے ساتھ انبياء‬ ‫ورسل اورآئمہ اطہار کی عبادتوں کو بارگاه خداوندی ميں پيش کرتے ہيں تاکہ خداوندعالم ان کی عبادت کے وسيلے سے‬ ‫ہماری عبادت کوبھی قبول کرلے اوران کے وسيلے سے ہماری بھی مددکردے کيونکہ ہميں اس بات کايقين ہے کہ وه انبياء‬ ‫ورسل اورآئمہ اطہار کی عبادتوں کوضرورقبول کرتاہے ل ٰہذاہم اپنی معيوب عبادتوں کوان صلحاء کے ساتھ بارگاخداوندی‬ ‫ميں پيش کرتے __________ہيں جس سے خداہماری ان معيوب عبادتوں کوقبول کرسکتاہے اورہماری مددکرسکتاہے۔‬ ‫اگريہ سوال کرے کہ اگرہم اس مذکورقصدسے جمع کی لفظ استعمال کرتے ہيں توپھرخودانبياء وآئمہ جمع کی لفظ کيوں‬ ‫استعمال کرتے تھے ؟‬ ‫اس کاجواب يہ ہوسکتاہے کہ انبياء وآئمہ اپنے محبوں کوہميشہ يادرکھتے ہيں اوران ترقی وکاميابی کی دعاکرتے ہيں‬ ‫ٰ‬ ‫ہيں‪:‬بارالہا!توہماری عبادتوں کے ساتھ ہمارے محبوں کی بھی عبادت کوقبول کراورجس طرح‬ ‫ل ٰہذابارگاه خداوندی ميں کہتے‬ ‫توہماری مددکرتاہے ان بھی مددکراورروزقيامت بھی اپنے محبوں کاخاص خيال رکھيں اورانھيں اپنی شفاعت کے ذريعہ‬ ‫بہشت ميں جگہ دالئيں گے ۔‬ ‫‪٣‬۔ نمازميں انسان کی فقط زبان ہی تسبيح وتقديس پروردگانہيں کرتی ہے بلکہ اس کے تمام اعضاء وجوارح ‪،‬ہاتھ ‪،‬پير‪،‬آنکھ‪،‬‬ ‫ناک‪ ،‬کان‪ ،‬دل اوردماغ شريک عبادت رہتے ہيں ‪،‬انسان نمازميں اخالص وحضورقلب رکھتاہے‪،‬خضوع خشوع رکھتاہے‬ ‫ل ٰہذاوه اکيالنہيں ہے اس لئے جمع کی لفظ استعمال کرتاہے ۔‬ ‫ْ‬ ‫ّ‬ ‫ْ‬ ‫‪۴‬۔ خداوندعالم قرآن کريم ميں ارشادفرماتاہے‪َ < :‬ماخَ لَ ْق ُ‬ ‫س اِاللِيَ ْعبُ ُدوْ ِن ِ◌<) ‪(١‬ميں نے جن وانس کونہيں‬ ‫االن َ‬ ‫ت ْال ِج ﱠن َو ِ‬ ‫پيداکيامگريہ کہ وه ميری عبادت کريں‬ ‫جب خدانے تمام لوگوں کواپنی عبادت کے لئے‪ ،‬نمازگزارنمازميں جمع کی لفظ سے يہ بتاناچاہتاہے چونکہ ﷲ نے تمام لوگوں‬ ‫کواپنی عبادت کے لئے پيداکياہے اورسب اس کی حمدوثناء کرتے ہيں اورميں بھی انھيں ميں سے ہوں ل ٰہذاہم سب تيری ہی‬ ‫توعبادت کرتے ہيں۔‬ ‫‪)١ .‬سوره ٔذاريات‪/‬آيت ‪) ۶۵‬‬ ‫ص َراطَ ْال ُم ْستَقِيْم‪.‬‬ ‫اِ ْھ ِدنَا ال ﱢ‬ ‫تفسيرفاتحة الکتاب ميں لکھاہے ‪ :‬ہم نمازميں اس آيہ ٔمبارکہ کو زبان پر جاری کرتے ہو ئے پروردگار سے عرض کرتے ہيں‬ ‫‪ :‬اے ہمارے پروردگار ! تو ہميں توفيق عطاکر کہ جس طرح ہم تيری پہلے سے عبا دت کرتے آرہے ہيں آئنده بھی تيرے‬ ‫مطيع وفرما نبردار بندے بنے رہيں ‪ .‬تفسيرفاتحة الکتاب‪/‬ص ‪۴۵‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اميرالمومنين حضرت علی سے پوچھا گيا ‪ :‬پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(اور تمام مسلمان نماز ميں دعا کرتے ہيں اور‬ ‫ص َراطَ ْال ُم ْستَقِيْم” پروردگارا! تو ہم کو راه راست کی ہدايت فرما جبکہ وه سب ہدايت يافتہ ہيں؟ امام)عليه‬ ‫کہتے ہيں‪ “:‬اِ ْھ ِدنَا ال ﱢ‬ ‫السالم( نے جواب ديا “اِ ْھدَنا”سے مراديہ ہے کہ خدايا! توہم کو راه راست پر ثابت قدم رکھ۔ ‪ .‬ہزارويگ نکتہ درباره‬ ‫نٔماز__________‪/‬ش ‪/ ٧١٣‬ص ‪٢٢۵‬‬ ‫ْ‬ ‫ص َراطَ ال ُم ْستَقِيْم”يعنی پروردگارا! توہميں ايسے راستے کی ہدايت کرتاره جو تيری محبت‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪ “:‬اِ ْھ ِدنَا ال ﱢ‬ ‫ودوستی پر منتہی ہوتاہواوروه سيدھاجنت کوپہنچتاہو اورتو ہميں خواہشات نفسکی پيروی ) اورجہنم کے راستہ (سے دوررکھ‬ ‫۔‬ ‫تفسيرالميزان‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٨‬‬ ‫امام صادقفرماتے ہيں‪ :‬علی ابن ابی طالب ‪+‬صراط المستقيم ہيں عن السجادعليہ السالم قال‪:‬نحن ابواب ﷲ ونحن صراط‬ ‫المستقيم‪ .‬حضرت امام سجاد فرماتے ہيں ‪ :‬ہم آئمہ طا ہرين ﷲ کے دروازه ہيں اورہم ہی صراط مستقيم ہيں‬ ‫معانی االخبار‪/‬ص ‪ ٣۵‬۔‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫ب َعلَي ِْہ ْم َو َالالضﱠالﱢيْن رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(آيہ مبارکہ “اہدناالصراط المستقيم‬ ‫ض‬ ‫غ‬ ‫م‬ ‫ال‬ ‫ْر‬ ‫ي‬ ‫غ‬ ‫م‬ ‫ْہ‬ ‫ص َراطَ الﱠ ِذ ْينَ اَ ْن َع ْمتَ َعلَي ِ ْ‬ ‫ِ َ ُوْ ِ‬ ‫ِ‬ ‫”کے بارے ميں فرماتے ہيں‪:‬صرط مستقيم سے مرادوه دين خداہے کہ جس کوخدانے جبرئيل کے ذريعہ حضرت‬ ‫ب َعلَي ِْہ ْم‬ ‫محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله(پرناز ل کيااوراس آيہ ٔمبارکہ “ ِ‬ ‫ص َراطَ الﱠ ِذ ْينَ اَ ْن َع ْمتَ َعلَي ِْہ ْم َغي ِْر ْال َم ْغضُوْ ِ‬ ‫َو َالالضﱠالﱢيْن”کے بارے ميں فرماتے ہيں‪ :‬اس آيت مينصراط سے مراد حضرت علی کے وه شيعہ ہيں کہ جن پرخداوندعالم نے‬ ‫واليت علی ابن ابی طالب ‪+‬کے ذريعہ اپنی نعمتيں نازل کی ہيں‪،‬نہ ان پرکبھی اپناغضب نازل کرے گااورنہ وه کبھی گمراه‬ ‫ہوں گے۔‬ ‫‪ .‬تفسيرنورالثقلين‪/‬ج ‪١‬ج‪/‬ص ‪٢٣‬‬ ‫ص َراطَ الﱠ ِذ ْينَ اَ ْن َع ْمتَ َعلَي ِْہ ْم ”سے حضرت محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله( اوران کی ذريت‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪ِ “:‬‬ ‫مرادہے۔‬ ‫‪ .‬تفسيرنورالثقلين‪/‬ج ‪١‬ج‪/‬ص ‪٢٣‬‬ ‫وتعالی کاانکارکرنے والے “مغضوب عليہم ”اور“ضالين”ميں شمارہوتے‬ ‫اميرالمومنين حضرت علی ‪ -‬فرماتے ہيں‪:‬ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫ہيں۔‬ ‫‪ .‬بحارالنوار‪/‬ج ‪/ ٩٢‬ص ‪٣۵۶‬‬ ‫ﱢ‬ ‫َ‬ ‫ب َعلي ِْہ ْم َو َالالضﱠاليْن”کے بارے مينفرماتے ہيں‪“ :‬مغضوب عليہم ”سے ناصبی مرادہيں اور“ضالين ”‬ ‫امام صادق “ َغي ِْر ْال َم ْغضُوْ ِ‬ ‫سے وه لوگ مرادہيں جوامام کے بارے ميں شک کرتے ہيں اوران کی معرفت نہيں رکھتے ہيں۔‬ ‫‪ .‬تفسيرقمی ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٩‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪“:‬المغضوب عليہم”سے يہودی اور“ضالين ”سے نصاری مرادہيں‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨٢‬ص ‪٢١‬‬ ‫حسين ديلمی “ہزارويک نکتہ درباره نٔماز”ميں لکھتے ہيں‪ :‬قرآن کريم نے فرعون وقارون اور ابولہب کواورقوم‬ ‫عادوثموداورقوم بنی اسرائيل کوان ميں شمارکياہے جن پر خداوند عالم کا قہروغضب نازل ہو ا ہے ) ‪ (١‬اسی لئے ہم لوگ‬ ‫نماز ميں روزانہ کہتے ہيں بارالہا ! تو ہم کو ان لوگو ں ميں سے قرار نہ دے جن پر تو نے اپنا غضب نازل کيا ‪ ،‬اور جو‬ ‫لوگ گمراه ہو گئے پروردگارا! تو ہم کو اعتقاد واخالق وعمل ميں فرعون ‪،‬قارون وابو لہب اور قوم عادوثمو دو بنی اسرائيل‬ ‫کے مانند قرار نہ دے اور ہمارے ( قدموں کوان کے راستے کہ طر ف اٹھنے سے باز رکھ۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪) ١‬اعراف ‪/‬آيت ‪ ٨۵‬۔ ‪ ٩٢‬۔بقره ‪/‬آيت ‪ ۶١‬کی طرف اشاره ہے‪)٢ . ) .‬ہزارويک نکتہ درباره نماز‪/‬ش ‪/ ٨٨٠‬ص ‪) ٢٧٣‬‬

‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫سوره تٔوحيدکی مختصرتفسير‬ ‫سوره توحيدکوتوحيدکہے جانے اوراس کے نزول کی وجہ اس سوره کوتوحيدکہنے کی وجہ يہ ہے کہ اس پورے سوره ميں‬ ‫تعالی کاذکرہے اوراس سوره کواخالص بھی کہتے ہيں کيونکہ انسان اس سوره کی‬ ‫پہلی آيت سے آخری آيت تک توحيدباری‬ ‫ٰ‬ ‫معرفت اوراس پرايمان واعتقاد رکھنے سے شرک جيسی نجاست سے پاک وخالص ہوجاتاہے بعض کہتے ہيں‪:‬اگرکوئی اس‬ ‫سوره کوتعظيم خداکوذہن ميں رکھ کرقرائت کرتاہے توخداوندعالم اسے آتشجہنم سے نجات دے ديتاہے۔ کتب تفاسيرميں اس‬ ‫سوره کی شان نزول کی حديث کے ضمن ميں چندوجہ بيان کی گئی ہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔ابی ابن کعب اورجابرسے مروی ہے کہ مشرکين نے پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سے کہا‪:‬آپ ہمارے لئے اپنے خداکی‬ ‫معرفت بيان کريں توآنحضرت پريہ سوره نازل ہوا۔ ‪٢‬۔ابن عباس سے مروی ہے ‪:‬عامربن طفيل اوراردبن ربيعہ نبی اکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(کی خدمت ميں آئے ‪،‬عامرنے کہا‪ :‬اے محمد!تم ہميں کس کی طرف دعوت ديتے ہو؟آنحضرت نے کہا‪:‬‬ ‫خداکی طرف‪،‬اس نے کہا‪:‬تم اپنے اس خداکی صفت بيان کرو‪،‬وه سونے سے بناہے ياچاندی سے ‪،‬لوہے سے بناہے يالکﮍی‬ ‫سے؟پسخداوندعالم نے يہ سوره نازل کيا۔ ‪٣‬۔محمدابن مسلم نے حضرت امام صادق سے روايت کی ہے ‪،‬امام فرماتے ہيں کہ‪:‬‬ ‫يہوديوں نے نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سے سوال کيااورکہا ‪:‬اے محمد!تم اپنے پروردگارکی معرفت بيان کرواوراس‬ ‫کانسب بتاؤ)کہ وه خدا کون ہے ‪ ،‬اس کا باپ کون ہے ‪ ،‬اس کافرزند کون ہے شايدہم ايمان لے آئيں ( آنحضرت نے تين دن ان‬ ‫کی بات کاجواب نہ ديااورغور وفکر کرتے رہے کيونکہ وحی پروردگا ر کے منتظر تھے ‪ ،‬ﷲ کی مرضی کے بغير کوئی‬ ‫بھی جملہ اپنی طرف سے نہيں کہہ سکتے تھے لہٰذاخدا کی طرف سے سورئہ “قُلْ ھُ َوﷲُ اَ َح ْد … ” نازل ہوا۔‬ ‫‪ .‬تفسيرمجمع البيان‪/‬ج ‪/ ١٠‬ص ‪۴٨۵‬‬ ‫مرحوم کلينی نے کافی معراج النبی سے متعلق ايک روايت نقل کی ہے جس کاخالصہ يہ ہے کہ جسوقت نبی اکرم )صلی ﷲ‬ ‫‪   ‬‬ ‫عليه و آله(معراج پرگئے اورنمازکاوقت پہنچاتوخدانے آپ کووضوکرنے کاحکم ديا ‪،‬آپ نے وضوکيااورنمازکے کھﮍے‬ ‫ہوئے ‪،‬انبياء مالئکہ نے آپ کے پيچھے نمازجماعت کے کھﮍے ہوئے ہيں خداوندعالم نے وحی نازل کی‪:‬‬ ‫اے محمد! “بسم ﷲ الرحمن الرحيم”کہواورسوره ٔحمدپﮍھو ‪،‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے ايسا ہی‬ ‫کيااور“والالضالين”کہنے کے بعد“الحمدللھرب العالمين”کہا)آمين نہيں کہا ل ٰہذاسنت رسول يہ ہے کہ سوره حمدکے‬ ‫بعد“الحمدللھرب العالمين”کہاجائے ( خدانے کہا‪ :‬اے محمد!)ص(سوره حمدکے بعداپنے پروردگارکاشناسنامہ اورنسبت‬ ‫کوپﮍھواوراے رسول !ان مشرکين سے کہدو وه ﷲ ايک ہے‪،‬اللھبرحق اوربے نيازہے ‪،‬اس کاکوئی عديل ونظيرنہيں ہے کہ‬ ‫جواس کے مثل ہو‪،‬پيغمبر اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے نماز کی پہلی رکعت ميں سورئہ حمد کے بعد سوره تٔ��حيد کی قرائت‬ ‫کی اورجب دوسری رکعت ميں سوره ٔحمدپﮍھاتوپروردگارطرف سے وحی نازل ہوئی‪ :‬اے محمد!)ص(دوسری رکعت ميں‬ ‫سوره ٔحمدکے بعد کی قرائت کروکيونکہ يہ سورئہ روزقيامت تک تمھارااورتمھارے اہلبيت سے منسوب ہے يہ سوره‬ ‫تمھارااورتمھارے اہلبيت کاشناسنامہ ہے جسميں تمھاراشجره موجودہے ۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٨۵‬‬ ‫اَ َح ْدکہے جانے کی وجہ‬ ‫سوال يہ ہے کہ خداوندعالم نے “احد”کيوں کہا“واحد”کيوں نہيں کہا؟مختصرجواب يہ کہ احداورواحددونوں ميں فرق‬ ‫پاياجاتاہے “احد”يعنی وه اکيالعددکہ جس ميں کسی طرح کی دوئی ‪،‬ترکيب اورتجزيہ کاامکان نہيں ہے اوروه اپنی ذات ميں‬ ‫تجزيہ وتقسيم کی صالحيت نہيں رکھتاہے اوراس کے لئے ثانی اوردوئی کاوجودنہيں پاياجاتاہے ليکن “واحد”ايساعددہے‬ ‫جس ميں تجزيہ وترکيب اورتقسيم بندی کاامکان پاياجاتاہے اوراسکاثانی موجودہوتاہے۔ اميرا لمو منين حضرت علی سے‬ ‫سورئہ توحيد کی تفسيربيان کرنے کی فرمائش کی گئی تو آپ نے فرمايا ‪“:‬قل ھوﷲ احد” يعنی خدا ايسااکيالہے کہ جس کی‬ ‫ذات وصفات ميں تعددنہيں پاياجاتاہے )اور کوئی اس کا شريک نہيں ہے (“ﷲ الصمد”يعنی خدا کی ذات ايسی ہے کہ جس‬ ‫کے کوئی اعضاء واجزاء نہيں ہيں اور ہر چيز سے بے نياز ہے)يعنی خداجسم نہيں رکھتاہے )‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫”لَ ْم يَل ِد ْ◌”يعنی اس کے کوئی فرزند بھی نہيں ہے تاکہ وه فرزند اس کی حکومت کا وارث بن سکے کيونکہ جوصاحب‬ ‫فرزندہوتاہے وه جسم بھی ضرور رکھتاہے اور جو جسم رکھتا ہے اس کے فنابھی ہے اور جو مر جاتاہے اس کی حکومت‬ ‫وباد شاہت کسی دوسرے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے )ليکن خدا نہ جسم رکھتا ہے نہ کوئی فرزند اور نہ اس کو موت آ ئے‬ ‫گی ‪ ،‬وه ہمشيہ سے ہے اور ہمشيہ رہے گا)‬ ‫” َولَم ل ُولَ ْد”يعنی اس کوکسی نے پيدا نہيں کيا ہے ‪،‬اگراس کے کوئی باپ ہوتاتووه بادشاہت اورخدائی کے لئے زياده الئق‬ ‫ومستحق ہوتا اورکم ازکم وه باپ اپنے بيٹے کا شريک ضرورہوتا۔‬ ‫‪ .‬تفسيرمجمع البيان‪/‬ج ‪/ ١٠‬ص ‪۴٨٩‬‬ ‫رازتسبيحات اربعہ‬ ‫تين اورچاررکعتی نمازکی تيسری اورچوتھی رکعت ميں نمازی کواختيارہے چاہے ايک مرتبہ سوره ٔحمدپرھے ياتين مرتبہ‬ ‫تسبيحات اربعہ يعنی “سبحان ﷲ والحمدللھوالالہ ّاالﷲ وﷲ اکبر”کہے اورايسابھی کرسکتاہے کہ تيسری رکعت ميں‬ ‫حمداورچوتھی رکعت ميں تسبيحات اربعہ پﮍھے‬ ‫اس کی کياوجہ ہے کہ تين وچاررکعتی نمازوں کی تيسری وچوتھی رکعت ميں تسبيحات اربعہ کاپﮍھنازياده ثواب رکھتاہے‬ ‫اورسوره ٔحمدبھی پﮍھ سکتے ہيں ليکن پہلی ودوسری رکعت ميں حمدکاپﮍھناواجب ہے تسبيحات اربعہ نہيں پﮍھ سکتے ہيں ؟‬ ‫تعالی نے امت رسول‬ ‫حقيقت يہ ہے کہ پنجگانہ نمازوں ميں سے ہرنمازدورکعت تھی کيونکہ جب شب معراج ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫پرنمازکوواجب قراردياتوہرنمازکودورکعتی واجب قراردياتھاليکن پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله(نے ظہرکی نمازميں‬ ‫دورکعت ‪،‬عصرکی نمازميں دورکعت‪ ،‬مغرب کی نمازميں ايک رکعت اورعشاکی نمازميں دورکعت کوزياده کيا۔ پہلی دونوں‬ ‫رکعتوں ميں قرائت اورتيسری وچوتھی رکعت ميں تسبيحات اربعہ کے ذريعہ فرق کئے کی وجہ امام علی رضا نے اس‬ ‫طرح بيان کی ہے‪:‬‬ ‫شروع کی دونوں رکعتوں ميں قرائت اورآخرکی دونوں رکعتوں ميں تسبيحات اربعہ کواس لئے معين کياگياہے تاکہ ﷲ کی‬ ‫طرف سے واجب کی گئی دونوں رکعتوں اورپيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی طرف سے واجب کی گئی آخری دونوں‬ ‫تعالی نے دونوں رکعتوں ميں قرائت کوواجب قراردياہے اگرپيغمبراسالم )صلی ﷲ‬ ‫رکعتوں کے درميان فرق ہوجائے )ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫تعالی سے واجب کی گئی‬ ‫عليه و آله(بھی اپنی طرف سے واجب کی گئی نمازميں حمدکی قرائت کوواجب قراردے ديتے توﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫رکعتوں اوررسول اسالم کی طرف واجب کی گئی رکعتوں ميں کوئی فرق نہ رہتا(۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٠٨‬‬ ‫محمدابن عمران نے حضرت امام صادق سے پوچھا‪:‬اس کی کياوجہ ہے کہ نمازکی تيسری اورچوتھی رکعت ميں تسبيحات‬ ‫اربعہ کاپﮍھناقرائت کرنے سے زياده افضل ہے؟امام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(معراج‬ ‫پرگئے اورآپ آخری دورکعتوں ميں مشغول تھے کہ عظمت پرودگارکامشاہده کياتوحيرت ذره ہوگئے اورکہا‪“:‬سبحان ﷲ ‪،‬‬ ‫والحمد ‪ ،‬والالہ ّاالﷲ ‪ ،‬وﷲ اکبر”اسی وجہ سے تسبيح کو قرائت سے افضل قراردياگياہے۔ ‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص‬ ‫‪٣٠٨‬‬ ‫اس کی کياوجہ ہے کہ تسبيح فقط چارہيں اسسے کم وزياده کيوں نہيں ہيں؟ روايت ميں آياہے کہ امام صادق سے کسی نے‬ ‫پوچھا‪:‬کعبہ کوکعبہ کس لئے کہاجاتاہے؟امام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬کيونکہ اس کے چارگوشہ ہيں‪،‬پوچھا‪:‬اس کے چارگوشہ‬ ‫کيوں ہيں؟امام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬کيونکہ وه بيت المعمورکے مقابلہ ميں ہے اوراس کے چارگوشہ ہيں )ل ٰہذاکعبہ کے‬ ‫چارگوشہ ہيں(راوی نے پوچھا‪:‬بيت المعمورکے چارگوشہ کيوں ہيں؟امام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬کيونکہ وه عرش کے مقابلہ‬ ‫ميں ہے اورعرش کے چارگوشہ ہيں اسی لئے بيت المعمورے کے بھی چارگوشہ ہيں‪،‬راوی نے پوچھا‪:‬عرش کے چارگوشہ‬ ‫کيوں ہيں؟امام نے فرمايا‪:‬کيونکہ وه کلمات کہ جن پردين اسالم کی بنيادرکھی گئی ہے چارہيں اوروه کلمات يہ ہيں‪:‬‬ ‫”سبحان ﷲ ‪ ،‬والحمد ‪ ،‬والالہ ّاالﷲ ‪ ،‬وﷲ اکبر“‬ ‫‪ .‬علل الشرايع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣٩٨‬‬ ‫رکوع کے راز‬ ‫کسی کی تعظيم وادب کی خاطراس کے آگے اپنے سراورکمرکوخم کردينے کورکوع کہتے ہيں‪،‬رکوع ايک ايسی عبادت ہے‬ ‫جونمازگزارکی حالت تذلل کودوباالکرديتی ہے اورانسان رکوع کی حالت ميں اپنے آپ کوخدائے قيوم کے سامنے ذليل‬ ‫وحقيرشمارکرتاہے جس سے اس کاايمان اورزياده پختہ ہوجاتاہے‪،‬بارگاره خداوندی ميں خضوع خشوع کے ساتھ اس کی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫تعظيم کے لئے سروگردن کے خم کردينے کورکوع کہاجاتاہے ‪،‬قرآن کريم اوراحاديث ميں اس کی بہت زياده اہميت‬ ‫اورفضيلت بيان کی گئی ہے۔‬ ‫ٰ‬ ‫< َواَقِ ْي ُموْ الص ٰﱠلوة َوآتُوْ ال ﱠز ٰکوةَ َوارْ َکعُوْ ا َم َع ال ّرا ِک ِع ْينَ > نمازقائم کرو‪،‬زکات اداکرواوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ ‪.‬‬ ‫سوره ٔبقره‪/‬آيت ‪۴٣‬‬ ‫ٰ‬ ‫ﱢک َوا ْسجُدی َوارْ َکعی َم َع ال ّرا ِکع ْينَ > اے مريم تم اپنے پروردگارکی اطاعت کرواورسجده اوررکوع کرنے‬ ‫< ٰيا َمرْ يَ ُم ا ْقنُتی لِ َرب ِ‬ ‫والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‬ ‫ُواربﱠ ُک ْم َوا ْف َعلُوا ْال َخي َْرلَ َعلﱠ ُک ْم تُ ْفلِحُوْ نَ > اے ايمان والو!رکوع‬ ‫‪ .‬سوره آٔل عمران‪/‬آيت ‪ٰ < ۴٣‬يااَيﱡہَاالﱠ ِذ ْينَ آ َمنُواارْ َکعُوا َوا ْس ُجدُوا َوا ْعبُد َ‬ ‫کرو‪،‬سجده کرواوراپنے پروردگارکی عبادت کرواورکارخيرانجام دوکہ شايداسی طرح کامياب ہوجاؤاورنجات حاصل کرلو۔‬ ‫‪ .‬سوره ٔحج‪/‬آيت ‪٧٧‬‬ ‫مرحوم طبرسی تفسيرمجمع البيان ميں لکھتے ہيں کہ جب رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(مکہ سے ہجرت کرکے مديہ‬ ‫پہنچے تونوی ہجری ميں اہل مدينہ گروه درگروه آنحضرتکے پاس رہے آتے رہے اوراللھورسول اوراس کی نازل کی ہوئی‬ ‫کتاب پرايمان التے رہے اورمسلمان ہوتے گئے اوردين اسالم کے ہرقانون کوقبول کرتے گئے ‪،‬ايک دن طائفہ ثقيف سے‬ ‫تعالی کے سامنے جھکنے‬ ‫ايک جماعت جب آنحضرت کی خدمت ميں پہنچی اورآپ نے انھيں بتوں کے بجائے ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫اورنمازپﮍھنے کاحکم دياتواس جماعت نے جواب ديا‪:‬ہم ہرگزخم نہيں ہوں گے کيونکہ يہ کام ہمارے لئے ننگ وعارہے ‪،‬‬ ‫دين ليسفيہ رکوع والسجود‬ ‫پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله(نے فرمايا‪ :‬الخيرفی ٍ‬ ‫جس مذہب ميں رکوع وسجود نہ ہواس ميں کوئی خير وکا ميا بی نہيں پائی جاتی ہے ‪،‬خداوندعالم نے ان کے اس خيال‬ ‫کوباطل قراردينے کے لئے اس آيہ مبارکہ کونازل کيا‪َ < ( :‬واِ َذاقِ ْي َل لَہُ ْم ارْ َکع َ‬ ‫ُوااليَرْ َکع ُْ◌ونَ <) ‪١‬‬ ‫( اورجب ان سے رکوع کرنے کے لئے کہاجاتاہے تورکوع نہيں کرتے ہيں۔) ‪(٢ . ٢‬مجمع البيان ‪/‬ج ‪/ ١٠‬ص ‪. ( ٢٣۶‬‬ ‫‪)١‬سوره ٔمرسالت‪/‬آيت ‪ ) ۴٨‬عن ابی جعفرعليہ السالم انّہ قال‪:‬التعادالصالة ّاالمن خمسة ‪ :‬الطہور ‪ ،‬والوقت ‪ ،‬والقبلة ( ‪،‬‬ ‫والرکوع ‪ ،‬والسجود ‪١ ).‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬پانچ چيزيں ايسی ہيں کہ جن کے بغير نمازباطل ہے اور وه پانچ چيزيں يہ ہيں ‪:‬وضو وقت قبلہ رکوع‬ ‫سجود۔‬ ‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٣٣٩‬‬ ‫قال ابوجعفرعليہ السالم‪:‬من ات ّم رکوعہ لم يدخلہ وحشة القبر۔ امام محمد باقر فرماتے ہيں‪:‬جسکارکوع __________مکمل‬ ‫ہوتاہے وه وحشت قبرسے محفوظ رہے گا۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪٢۴۴‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬الصالة لمن لم يتم رکوعہا وسجودہا۔ پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬جس‬ ‫شخص کارکوع وسجودکامل نہ ہواس کی نمازباطل ہے ۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨١‬ص ‪٢۵٣‬‬ ‫ّ‬ ‫وآلہ‪:‬ان اسرق السراق َمن سرق ِمن صالتہ قيل‪:‬يارسول ﷲ‪:‬کيف يسرق صالتہ ؟قال‪:‬اليتم رکوعہا‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ‬ ‫والسجودہا۔ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬وه شخص سب سے بﮍاچورہے جواپنی نمازکی چوری کرتاہے‬ ‫توآنحضرت سے پوچھاگيا‪:‬نمازکی چوری کسی طرح کی جاتی ہے؟فرمايا‪:‬رکوع وسجودکوکامل طورسے انجام نہ دينا۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/ ١٨‬ص ‪١۵٠‬‬ ‫رکوع ميں تسبيح کے قراردئے جانے کاراز‬ ‫واجب ہے کہ ہرنمازگزاراپنی نمازکی پہلی رکعت ميں حمدوسوره کی قرائت کے بعداوردوسری رکعت ميں حمدوسوره کی‬ ‫قرائت وقنوت کے بعداورتيسری وچوتھی رکعت ميں سوره حمدياتسبيحات اربعہ پﮍھنے کے بعدتکبيرکہے اوررکوع ميں‬ ‫جانے کے بعد اطمينان کے ساتھ تين مرتبہ “سبحان ﷲ”ياايک مرتبہ “سبحان ربی العظيم وبحمده”کہے‬ ‫ياتحميد)الحمد ٰ ّ (ياتہليل)الالہ االﷲ(ياتکبير)ﷲ اکبر(کہے ياان کے عالوه کوئی بھی دوسراذکرکرے ليکن شرط يہ ہے کہ وه‬ ‫ذکرتين مرتبہ “سبحان ﷲ”کہنے کے برابرہو‪،‬اگرکوئی شخص رکوع بطورکلی تسبيح کو ترک کردے تواس کی نمازباطل ہے‬ ‫۔ رکوع وسجودميں تسبيح ہی کوقراردياگياہے ‪،‬اورقرائت وغيره ميں کيوں نہيں ہے اس ميں کيارازہے؟‬ ‫فضل بن شاذان سے مروی ہے ‪:‬امام علی رضا فرماتے ہيں‪:‬رکوع وسجودميں تسبيح کے قراردئے جانے کی چندوجہ ہيں جن‬ ‫ميں سے ايک وجہ يہ ہے کہ بنده ٔمومن کے لئے ضروری ہے کہ خضوع خشوع‪،‬تعبدوتقوا‪،‬سکون واطمينان‪،‬تواضع وتذلل‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اورقصدقربت کے عالوه اپنے رب کی تسبيح وتقديس ‪،‬تعظيم وتمجيداورشکرخالق ورازق بھی کرے ‪،‬جس طرح تکبير)ﷲ‬ ‫اکبر( اورتہليل ٰ‬ ‫)الالہ ّاال ﷲ( کہتاہے اسی طرح تسبيح وتحميد)سبحان ربی العظيم وبحمده(بھی کہے او��اپنے دل ودماغ‬ ‫کوذکرخداميں مشغول کرے تاکہ نمازی کی فکرواميداسے غيرخداکی طرف متوجہ ومبذول نہ کرسکے ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرايع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ٢۶١‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬مجھے رکوع وسجودکی حالت ميں قرائت‬ ‫)قران(سے منع کياگياہے‪ ،‬رکوع ميں خداوندعالم کی تعظيم کرنی چاہئے اورسجده ميں دعازياده کرنی چاہئے کيونکہ ممکن‬ ‫ہے کہ سجده کی حالت ميں کی جانے والی تمھاری دعا)بارگاه رب العزت ميں (قبول ہوجائے۔‬ ‫معانی االخبار‪/‬ص ‪٢٧٩‬‬ ‫حضرت علی فرماتے ہيں کہ رکوع وسجودميں قرائت نہيں کی جاتی ہے بلکہ ان دونوں ميں خدائے عزوجل کی حمدثناکی‬ ‫جاتی ہے۔‬ ‫‪ .‬قرب االسناد‪/‬ص ‪١۴٢‬‬ ‫رکوع وسجودکی تسبيح فرق رکھنے کی وجہ‬ ‫ذکررکوع وسجودکی تسبيح مينفرق پاياجاتاہے يعنی رکوع ميں “ سبحان ربی العظيم وبحمده ” اورسجده ميں“ سبحان ربی‬ ‫االعلی”کہاجاتاہے؟ عقبہ ابن‬ ‫االعلی وبحمده”کہاجاتاہے اس کارازکياہے کہ رکوع ميں “ربی العظيم”اورسجده ميں“ ربی‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫عامرجہنی سے مروی ہے‪ :‬جب آيہ ٔمبارکہ نازل ہوئی تورسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے ہميں حکم دياکہ اسے اپنی‬ ‫نمازکے رکوع ميں قراردواورجب آيہ ٔمبارکہ نازل ہوئی توآنحضرت نے ہميں حکم دياکہ اسے اپنی نمازکے سجده ميں ميں‬ ‫قراردو۔‬ ‫‪ .‬تہذب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣١٣‬‬ ‫موسی کاظم سے پوچھا‪:‬اس کی وجہ کياہے‬ ‫حسين بن ابراہيم نے محمدبن زيادسے روايت کی ہے کہ‪ :‬ہشام بن حکم نے امام‬ ‫ٰ‬ ‫االعلی وبحمده”کہاجاتاہے؟امام )عليه السالم(نے‬ ‫کہ رکوع ميں“ سبحان ربی العظيم وبحمده ” اورسجده ميں “سبحان ربی‬ ‫ٰ‬ ‫فرمايا‪ :‬اے ہشام !جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(معراج پرگئے اورنمازپﮍھناشروع کی جب قرائت سے فارغ ہوئے‬ ‫توآنحضرت کے ذہن ميں سات حجاب آسمانی کوعبورکرنايادآياتوعظمت پروردگارکی خاطرگردن کی رگوں ميں لرزش‬ ‫پيداہوگئی لہٰذااپنے دونوں ہاتھوں کوزانوں پررکھااور اس طرح تسبيح پروردگارکرنے لگے“ سبحان ربی العظيم وبحمده ”)‬ ‫ميرا پرور دگا ر جو کہ با عظمت ہے ہر عيب ونقص سے پاک ومن ّزه ہے اور ميں اس کی حمد ميں مشغول ہوں ( جب رکوع‬ ‫سے بلندہونے لگے توآپ کی نظروں نے اس سے بھی زياده بلندی ديکھی جوآپ ديکھ چکے تھے ل ٰہذافوراًزمين پرگرپﮍے‬ ‫االعلی وبحمده”)ميرا پر ور دگا رجو کہ سب سے بلندوبرتر ہے‬ ‫اورپيشانی مبارک کو زمين رکھنے کے بعدکہا‪ “:‬سبحان ربی‬ ‫ٰ‬ ‫‪ .‬ہر عيب ونقص سے پاک ومن ّزه ہے اور ميں اس کی حمد ميں مشغول ہوں(جب آپ نے سات مرتبہ ان جملوں کی تکرارکی‬ ‫توآپ کے جسم سے رعب برطرف ہوااوريہ سنت قرارپايا۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣٣٢‬‬ ‫رکوع کوسجدوں سے پہلے رکھنے کی وجہ‬ ‫نماز ميں پہلے رکوع ہے اس کے بعد دوسجدے ہيں ‪ .‬اگربنده رکوع کو حقيقت کے ساتھ بجاالتا ہے تو سجدے کرنے کی‬ ‫لياقت رکھتا ہے ‪ ،‬رکوع ميں بندگی کا ادب واحترام پاياجاتاہے اور سجدے ميں معبود سے قربت حاصل کی جاتی ہے اب اگر‬ ‫کوئی نماز گزار حقيقت ميں خدا کا ادب واحترام نہيں کرتا ہے اور معرفت خدا کے ساتھ رکوع نہيں کرتا ہے وه سجدے ميں‬ ‫جاکر خدا سے قربت حاصل نہيں کرسکتا ہے اور رکوع کو وہی شخص عمده طريقہ سے انجام دے سکتا ہے جس کے دل‬ ‫ميں خضوع وخشوع پاياجاتاہو اور وه اپنے آپ کو خداکے سامنے ذليل وحقير اور محتاج سمجھتا ہو اور خوف خدا ميں اپنے‬ ‫اعضاء وسرو گردن کو جھکا ئے رکھتا ہو ۔‬ ‫‪ .‬رسائل الشہيدالثانی ‪/‬ص ‪١٣١‬‬ ‫گردن کوسيدھی رکھنے کاراز‬ ‫مردکے لئے مستحب ہے کہ رکوع کی حالت مينزانوں کواندرکی طرف اور کمر کو ہموار اور گردن کمرکے برابرسيدھی‬ ‫اورکھينچ کررکھے معصومين کے بارے ميں روايتوں ميں ملتاہے کہ رکوع کی حکالت ميں اپنی اس طرح سيدھی اورصاف‬ ‫رکھتے تھے کہ اگرپانی کاکوئی قطره آپ کی ڈاالجاتاتووه اپنی جگہ سے حرکت نہيں کرسکتاتھا۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(جب رکوع کرتے تھے تواپنی کمرکواس طرح ہمواررکھتے تھے کہ اگران کی کمرپرپانی ڈال‬ ‫دياجاتاتووه بھی اپنی جگہ پرثابت رہتا۔‬ ‫‪ .‬معانی االخبار‪/‬ص ‪٢٨٠‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جوشخص نمازميں رکوع وسجود کی حالت ميں اپنی کمرکوہمواراورسيدھی نہ رکھے اس نمازہی‬ ‫نہيں ہوتی ہے‬ ‫‪ .‬معانی االخبار‪/‬ص ‪٢٨٠‬‬ ‫زراره سے روايت ہے ‪:‬امام محمدباقر فرماتے ہيں‪ :‬جب تم رکوع کروتواپنے رکوع ميں دونوں قدموں کے درميان ايک‬ ‫بالشت کافصلہ دواوراپنے ہاتھ کی ہتھيليوں کوزانوں پررکھواورپہلے دائيں ہاتھ کی ہتھيلی کودائينزانوں پررکھواس کے‬ ‫بعدبائيں ہاتھ کی ہتھيلی کوبائيں زانوں پررکھواورہاتھ کی انگليوں کوزانوں کے اطراف ميں رکھواورانگليوں کوآپس ميں نہ‬ ‫مالؤ‪،‬اگرتمھاری انگليانزانوں کے اطراف تک پہنچ رہی ہوں توکافی ہے اورميں يہ دوست رکھتاہوں کہ ہتھيليوں کوزانوں‬ ‫پررکھواورانگليوں کوکھول کررکھونہ انھيں اپس ميں نہ مالؤاوراپنی کمرکوسيدھی رکھو‪،‬گردن کوکھينچ کررکھواوراپنے‬ ‫دونوں پيروں کے درميان نگاه کرو۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٨٣‬‬ ‫ايک شخص امام عليکی خدمت ميں ايااورکہا‪:‬اے خداکی محبوب ترين مخلوق کے چچازادبھائی__________!رکوع ميں‬ ‫گردن کوسيدھے رکھنے کے کيامعنی ہيں؟ آپ نے فرمايا‪ :‬رکوع ميں گردن کو سيدھا رکھنے کارازاورفلسفہ يہ ہے يعنی‬ ‫ٰ‬ ‫بارالہا!ميں تجھ پرايمان رکھتاہوں‪،‬تيرے حکم کامطيع ہوں اورتيرے سامنے ميری يہ گردن حاضرہے اگرچاہے توقطع‬ ‫کردے۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣١١‬‬ ‫رازطول رکوع‬ ‫ً‬ ‫رکوع کوذکرودعاکے ساتھ طول دينامستحب ہے ‪ ،‬خصوصا امام جماعت کے لئے اگرکوئی شخص نمازجماعت ميں شامل‬ ‫ہوناچاہتاہے اورامام کومحسوس ہوجائے کہ کوئی شخص نمازميں شريک ہوناچاہتاہے تورکوع کودوبرابرطول دےنامستحب‬ ‫ہے تاکہ وه شخص نمازجماعت ميں شريک ہوجائے ۔‬ ‫ابواسامہ سے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق کويہ فرماتے ہوئے سناہے‪…:‬ميں تمھينطول کوع وسجودکی وصيت کرتاہوں‬ ‫کيونکہ تم ميں سے جب بھی کوئی شخص رکوع وسجودکوطول ديتاہے توشيطان اس کے پيچھے فريادبلندکرتاہے اورکہتاہے‬ ‫‪:‬انھوں نے خداکی اطاعت کی اوراس حکم سے کے خالف سرکشی کی اورگناه کيا‪،‬انھوں نے سجده کيااورميں نے سجده‬ ‫کرنے سے خودداری کی۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٧٧‬‬ ‫بريدعجلی سے مروی ہے ‪:‬ميں نے امام صادقسے پوچھا‪:‬نمازميں قرآن کی زياده تالوت کرنازياده ثواب رکھتاہے يارکوع‬ ‫وسجودکوطول دينا؟امام )عليه السالم(نے جواب ديا‪:‬رکوع وسجودکوطول دينازياده ثواب رکھتاہے ‪،‬کياتم نے اس قول خداوندی‬ ‫کونہيں سناہے جس ميں وه فرماتاہے‪:‬‬ ‫( <فَا ْق َر ُء وْ ا َماتَيَ ﱠس َر ِم ْنہُ ‪َ ،‬واَقِ ْي ُمواالصﱠالةَ<) ‪ ١‬جت ناتم سے ميسرہوسکے قرآن کی تالوت کرواورنمازکوقائم کرو‪،‬آيہ ٔمبارکہ‬ ‫ميں ( نمازقائم کرنے سے مراديہ ہے کہ رکوع وسجودکوطول دينا۔) ‪(٢ . ٢‬السرائر)ابن ادريسحلی(‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪)١ ( ۵٩٨‬سوره‬ ‫ٔمزمل‪/‬آيت ‪ ) ٢٠‬ہم باب رکوع ميں کے آخرميں ايک حديث نقل کررہے ہيں کہ جس ميں معصوم )عليه السالم( نے رکوع کے‬ ‫آداب ومستحبات کوذکرکياہے اوروه حديث يہ ہے‪ :‬زراره سے مروی ہے امام باقر فرماتے ہيں‪:‬جب تم رکوع کرنے کااراده‬ ‫کرو تو)قرائت کے بعد(سيدھے کھﮍے ہوئے “ﷲ اکبر”کہواورجاؤاسکے بعدرکوع کی حالت ميں يہ کہو ‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫ک قلبی وسمعی وبصری وشعری وبشری ولحمی ودمی و ُمخی‬ ‫ک‬ ‫ک‬ ‫”اللّہم لک‬ ‫توکلت وانتَ ربّی خش َع ل َ‬ ‫اسلمت وعلي َ‬ ‫رکعت ول َ‬ ‫والمستحسر سبحان ربی العظيم وبحمده“ اوراس ذکرکی تين مرتبہ آرام‬ ‫والمستکبر‬ ‫غيرمنکر‬ ‫وعصبی وعظامی ومااقّلﱠ ْتہُ قدمائی‬ ‫ٍ‬ ‫ٍ‬ ‫ٍ‬ ‫وسکون کے ساتھ تکرارکرواوررکوع ميں اپنے پيروں کو اس طرح مرتب قراردوکہ دونوں پاؤں کے درميان ايک بالشت‬ ‫کافاصلہ رہے اوردونوں زانوں پرہتھيلی کواس طرح رکھو کہ پہلے دائيں ہاتھ کی ہتھيلی کودائيں زانوپرقراردواس کے‬ ‫بعدبائيں ہاتھ کی ہتھيلی کوبائيں زانوں پررکھو‪ ،‬انگليوں کوزانوں کے اطراف ميں رکھو ‪،‬جب ہاتھوں کوزانوں پررکھوتو‬ ‫انگليوں کوآپس ميں نہ مالؤبلکہ انھيں کھالرکھو‪،‬کمراورگردن کوسيدھی رکھو اوردونوں پاؤں کے درميان نگاه‬ ‫کرواور)ذکررکوع سے فارغ ہونے کے بعد(رکوع سے سربلندکرو اورسيدھے کھﮍے ہوکر“سمع ﷲ لمن حمده” کہواس کے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫بعد“الحمدللھرب العالمين اہل الجبروت والکبرياء والعظمة للھرب العالمين”اسکے بعددونوں ہاتھوں کوبلندکرکے تکبيرکہو‬ ‫اورسجده ميں جاؤ۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪  ٣١٩‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫رازسجده‬ ‫سجده لغت ميں خضوع ميں استعمال ہوتاہے ليکن شرع ميں خداوندعالم کی تعظيم کے لئے خضوع وخشوع کے ساتھ زمين‬ ‫پرپيشانی رکھ دينے کے بعداس کی تسبيح وتقديس کرنے کوسجده کہاجاتاہے ۔‬ ‫سجده ايک انتہائی خضوع ہے جس سے بﮍھ کرکوئی خضوع وتواضع نہيں ہے اسی کے ذريعہ بندگی کااظہارہوتاہے‪ ،‬اسی‬ ‫لئے نمازپﮍھنے کی جگہ کو مسجد کہا جاتا ہے۔ سجده فقط خداکے لئے ہوتاہے اوراس کے عالوه کسی دوسرے کوسجده‬ ‫کرناجائزنہيں ہے‪ ،‬قرآن کريم کی متعددآيات ) ‪ (١‬ميں خداوندعالم کوسجده کرنے کاحکم دياگياہے اورروايات ميں بھی اس کی‬ ‫اہميت وفضيلت بيان کی گئی ہے‬ ‫‪)١‬فصلت‪/‬آيت ‪ ٣٧‬۔ )‬ ‫۔سوره ‪ ….‬حجر‪/‬آيت ‪ ٩٨‬۔سوره ٔعلق‪/‬آيت ‪ ١٩‬۔حج ‪ُ < ٧٧‬م َح ﱠم ٌد َرسُو ُل ﷲِ َوالﱠ ِذ ْينَ َم َعہُ اَ ِش ﱠدا ُء َعلَی‬ ‫سوره نٔجم‪/‬آيت ‪۶٢‬‬ ‫ٔ‬ ‫ً‬ ‫ً‬ ‫ﱠ‬ ‫ً‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ُ‬ ‫اررُحْ مٰ ا ُء بَ ْينَہُ ْم ت َٰريہُ ْم ُرکعا ُس ﱠجدًا يَ ْبتَغوْ نَ فَضْ ال ِمنَ الل ِھ َو ِرضْ َوانا ِس ْي َماہُ ْم فِ ْی ُوجُوْ ِہ ِہ ْم ِم ْن اث ِرال ﱡسجُوْ ِد‬ ‫ْال ُکفﱠ ِ‬ ‫< ٰيااَيﱡہَاالﱠ ِذ ْينَآ َمنُواارْ َکعُوا َوا ْس ُجدُوا َوا ْعبُدُوا َربﱠ ُک ْم َوا ْف َعلُوا ْال َخ ْي َرلَ َعلﱠ ُک ْم تُ ْف ِلحُوْ نَ > اے ايمان __________والو!رکوع کرو‪،‬سجده‬ ‫کرواوراپنے پروردگارکی عبادت کرواورکارخيرانجام دوکہ شايداسی طرح کامياب ہوجاؤاورنجات حاصل کرلو۔‬ ‫‪ .‬سوره ٔحج‪/‬آيت ‪٧٧‬‬ ‫قال الصادق عليہ السالم ‪ :‬اقرب مايکون العبد الی ﷲ ع ّزوجل وہوساج ٌد۔ وه چيزجوبنده کوخدائے عزوجل سے بہت زياده قريب‬ ‫کرديتی ہے وه سجده کی حالت ہے۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال‪/‬ص ‪٣۴‬‬ ‫روايت ميں آيا ہے ‪:‬روز قيامت خدا وند متعا ل آ تشجہنم سے کہے گا‪ :‬يانارُانضجی‪ ،‬يانا ُراِحرقی وا ّماموضع السجودفالتقربی۔‬ ‫اے جہنم کی آگ! توجس کو جالنا چاہتی ہے جال دے ليکن اعضاء سجده کے ہر گز قريب نہ جا نا ۔‬ ‫‪ .‬منہج الصادقين‪،‬ج ‪،٨‬ص ‪ ٣٩٧‬سجده اسی وقت مفيدہے جبکہ اسے خداوندعالم کی حقيقی معرفت کے ساتھ انجام دياجائے‬ ‫‪،‬اگرسجده کورب دوجہاں کی معرفت کے ساتھ انجام نہ دياجائے تووه سجده بيکارہے قال الصادق عليہ السالم‪:‬ماخسر َواللھ َمن‬ ‫اتی بحقيقة السجود ولوکان فی العمرمرة واحدة۔‬ ‫حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہيں ‪ :‬خدا کی قسم اگر کوئی شخص حقيقی سجد ه کرے اسے زندگی ميں کوئی مشکل نہيں‬ ‫آسکتی ہے اورنہ کو ئی نقصان نہيں پہنچ سکتا ہے خواه پوری زندگی ميں ايک ہی مر تبہ ايسا سجده کرے ۔‬ ‫‪ .‬مصباح الشريعہ ‪/‬ص ‪٩٠‬‬ ‫العلوی عليہ السالم ‪:‬سجدابليسسجدة واحدة اربعة ٰاالف عام لم يردبہازخرف الدنيا‪ .‬حضرت علی فرماتے ہيں‪ :‬شيطان‬ ‫چارہزارسال تک ايک ہی سجدے ميں پﮍارہااوراس کا مقصد دنيااور زينت دنيا کے عالوه کچھ بھی نہيں تھا۔‬ ‫‪ .‬مستدرک سفينة البحار‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪۴۶٧‬‬ ‫شيطان ہرسجده کودشمن نہيں رکھتاہے بلکہ اسی سجده کودشمن کورکھتاہے جوحقيقت ميں سجده ہوتاہے‪ ،‬شيطان کو اميرشام‬ ‫‪،‬وليد‪،‬مروان ابن حکم ‪،‬مامون ‪،‬ہارون وغيره کے سجدوں سے کوئی خوف نہيں تھا کيونکہ ان کاسجده حقيقی سجده نہيں‬ ‫تھا‪،‬شيطان اگرخوف ہراساں ہوتاہے توانبياء وآئمہ اطہار اوران کے چاہئے والوں کے سجدوں سے خوف کھاتاہے کيونکہ يہ‬ ‫خداوندعالم کوحقيقت ميں سجده کرتے ہيں شيطان کے ايک چيلے نے پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی پشت مبارک‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫پرسجده کی حالت اونٹ کی اوجھﮍی رکھی‪،‬امام علی )عليه السالم(کے سرمبارک پرمسجدميں حالت سجده ميں ضربت لگائی‬ ‫‪،‬امام حسين کاسرمبارک شمرملعون نے سجده کی حالت ميں تن سے جداکيااورآج بھی اسی شيطان کے چيلے روحانی‬ ‫پيشواؤں پرنمازکی حالت ميں گولياں چالکرفرارہوجاتے ہيں‪،‬محرابوں ميں بم دھماکہ کراديتے ہيں‬ ‫آيت ﷲ مکارم شيرازی تفسيرنمونہ ميں لکھتے ہيں‪ :‬ابو جہل اپنے ساتھيوں سے کہتاتھا ‪:‬اگر ميں نے رسول اسالم )صلی ﷲ‬ ‫عليه و آله(کوسجده کی حالت ميں ديکھ ليا تو اپنے پيروں کے ذريعہ ان کی گردن کوتوڑ کر رکھ دوں گا‪ ،‬ايک دن جب رسول‬ ‫خدا )صلی ﷲ عليه و آله(نماز ميں مشغول تھے توابوجہل اپنے اس نا پاک اراده کو انجام دينے کے لئے مسجد ميں داخل ہوا‬ ‫ليکن جيسے ہی نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے قريب پہنچا تو سب نے ديکھا کہ وه اپنے ہاتھوں کواس طرح چالرہاہے‬ ‫جيسے کوئی چيزاس کی طرف حملہ کررہی ہے اوروه اپنے آپ کواس سے بچارہاہے اوراپنے ہاتھوں سے دفاع کرتے‬ ‫ہوئے پيچھے کی طرف ہٹ رہا ہے‪،‬اس سے پوچھاگيا‪:‬تواس طرح کياکرہاہے اوراپنے ہاتھوں سے کس چيز کو دور‬ ‫کررہاہے ؟ اس نے کہا ‪ :‬ميں اپنے اور پيغمبر کے درميان ايک نشيب ديکھ رہا ہوں جس ميں آگ روشن ہے جومجھے‬ ‫جالدينے کااراده رکھتی ہے اورميں ايک خوفناک منظر ديکھ رہا تھا مجھے کچھ بال وپر نظر آرہے تھے ‪،‬اسی مو قع پر‬ ‫رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله( نے فرمايا‪ :‬قسم اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت ميں ميری جان ہے اگر ابوجہل ذره‬ ‫برابر بھی نز ديک ہو جاتا تو ﷲ کے فر شتے اس کو قطعہ قطعہ کر ديتے اور اس کے جسم کے ٹکﮍ ے اٹھا کر لے جا تے ۔‬ ‫‪ .‬تفسيرنمونہ‪/‬ج ‪/ ٢٧‬ص ‪١۶۵‬‬ ‫آدم)عليھ السالم( کواوريوسف کے سامنے سجده کرنے کی وجہ‬ ‫سوال يہ ہے کہ جب خداکے عالوه کسی ذات کوسجده کرناجائزنہيں ہے توپھرخداوندعالم نے شيطان سے آدم کوسجده کرنے‬ ‫کاحکم کيوں ديا؟اورارشادفرمايا‪)(١ ) :‬ہم نے مالئکہ سے کہاکہ آدم کو سجده کرو توابليس کے عالوه سب نے سجده‬ ‫کيا(اورجب حضرت يعقوب)عليه السالم( اوران کے فرزنددربار يوسف )عليه السالم(ميں مصرپہنچے توانھوں نے اپنے‬ ‫والدين ) ‪(١‬کوتخت پرجگہ دی ) ‪(٢‬اورسب لوگ يوسف کے سامنے سجده ميں گرپﮍے ‪،‬حضرت يعقوب جوکہ ﷲ کے نبی‬ ‫تھے انھوں نے اوران کے دوسرے فرزندوں نے غيرخداکو سجده کيوں کيا؟‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢‬سوره ٔيوسف ( ‪)١ .‬سوره ٔبقره‪/‬آيت ‪ ٣۴‬۔اعراف‪ ١١ /‬۔اسراء ‪ ۶١ /‬۔کہف‪ٰ ۵٠ /‬‬ ‫۔طہٰ‪/ . ) ١١۶ /‬آيت ‪١٠٠‬‬

‫‪)١‬بعض کاخيال ہے کہ ابوين سے مرادباپ اورخالہ ہيں اوربعض نے يہ بھی کہاہے کہ ) خداوندعالم نے ماں کودوباره زنده‬ ‫کياتاکہ اپنے الل کاعروج ديکھ سکيں‪،‬ترجمہ وتفسيرعالمہ جوادی۔‬ ‫مالئکہ نے حضرت آدم کومعبودکے عنوان سے سجده نہيں کياتھابلکہ آدم )عليه السالم(بعنوان قبلہ قابل تعظيم وتکريم‬ ‫قراردئے گئے تھے ‪،‬پس يہ سجده آدم )عليه السالم(کے لئے نہيں تھابلکہ درحقيقت حضرت آدم کے طرف رخ کرکے تعظيم‬ ‫وتکريم پروردگارکوسجده کياگياتھاجيساکہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪ :‬فرشتوں کاسجده آدم)عليه السالم( کے‬ ‫لئے نہيں تھابلکہ آدم)عليه السالم( ان کے لئے قبلہ بنائے گئے تھے کہ جن کی طرف رخ کرکے انھوں نے خداوندعالم‬ ‫کوسجده کيااوراس سجده کی بناپرآدم)عليه السالم( معظم ومکرم ثابت ہوئے ‪،‬اورکسی کے لئے سزاوارنہيں ہے کہ وه خداکے‬ ‫عالوه کسی دوسرے کوسجده کرے اوراس کے لئے اس طرح خضوع کرے جس طرح خداکے لئے خضوع کياجاتاہے‬ ‫اورسجده کے ذريعہ اس کی اس طرح تعظيم وتکريم کرے جيسے خداکی تعظيم وتکريم کی جاتی ہے ‪،‬اگرکسی ايک کوتعظيم‬ ‫وتکريم کی خاطرغيرخداکوسجده کرنے دياجاتاتوحتماًہمارے ضعفائے شيعہ اورہمارے شيعوں ميں سے ديگرمکلفين کويہ‬ ‫حکم دياکہ وه اپنے اس علم کے واسطہ سے علی ابن ابی طالب وصی پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کوسجده کريں ۔‬ ‫‪ .‬تفسيرامام عسکری ‪/‬ص ‪٣٨۶‬‬ ‫زنديق نے امام جعفر صادق سے غيرخداکے لئے سجده کرنے کے بارے ميں پوچھا ‪:‬کيا خدا کے عالوه کسی دوسرے کو‬ ‫سجده کرناجائز ہے ؟آپ نے فرمايا ‪:‬ہرگز نہيں‪،‬زنديق نے امام )عليه السالم(سے دوباره پوچھا ‪:‬جب غيرخداکے لئے سجده‬ ‫جائزنہيں ہے توپھر خداوند متعال نے فرشتوں کو آدم )عليه السالم( کے سامنے سجده کرنے کا حکم کيوں ديا تھا؟آپ نے‬ ‫جواب ديا‪:‬‬ ‫خدا کے فرمان کے مطابق کسی کے آگے سر جھکا دينے کو اس کے لئے سجده شمار نہيں ہو تا ہے بلکہ وه سجده خدا کے‬ ‫لئے ہو تا ہے ۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪٩۵٨‬‬ ‫مالئکہ کاآدم )عليه السالم(کوسجده کرنے کی اصلی وجہ يہ ہے کہ خداوندعالم نے حضرت آدم کی خلقت سے ہزاروں سال‬ ‫تعالی نے ان انوارمقدسہ کوصلب‬ ‫پہلے محمدوآل محمد کے نورکوخلق کيامگرجب آدم )عليه السالم( کوپيداکياگياتوﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫آدم )عليه السالم( ميں قرارديال ٰہذافرشتوں کوحکم دياکہ آدم )عليه السالم( کے سامنے سجده کرو‪،‬ابليس کے عالوه سب نے‬ ‫سجده کيا‪،‬درحقيقت يہ سجده آدم )عليه السالم( کونہيں تھابلکہ ان انوارمقدسہ کی تعظيم کاحکم تھاکہ جن کے صدقہ ميں يہ‬ ‫پوری کائنات خلق کی گئی ہے اوروه اس وقت صلب آدم )عليه السالم(ميں موجودتھے اس لئے مالئکہ کوسجده کرنے کاحکم‬ ‫وتعالی نے آدم)عليه‬ ‫دياگياتھا‪،‬اسی حقيقت کے بارے ميں خودنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(ارشادفرماتے ہيں‪ :‬ﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫السالم( کوخلق کيااورہميں ان کی صلب ميں قرارديااورفرشتوں کوحکم دياکہ وه ہماری تعظيم واکرام کے لئے آدم کے سامنے‬ ‫سجده کريں)ابليس کے عالوه تمام مالئکہ نے سجده کيا(جن کايہ سجده ﷲ کی اطاعت اوراکرام آدم کے لئے تھاکيونکہ ہم ان‬ ‫کی صلب ميں تھے۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪۴٧٩‬‬ ‫يوسف )عليه السالم(کے سامنے جناب يعقوب اوران بھائيوں کاسجده صرف رب العالمين کاسجده شٔکرتھااور يوسف فقط ايک‬ ‫قبلہ کی حيثيت رکھتے تھے جس کے ذريعہ ان کے احترام کااظہارکياجارہاتھا‪،‬اسبارے ميں علی ابن ابراہيم قمی نے اپنی‬ ‫تفسيرميں يہ روايت نقل کی ہے ‪:‬‬ ‫موسی ابن احمدنے حضرت ابوالحسن امام علی نقيکی خدمت ميں چندسوال مطرح کئے جن ميں ايک سوال يہ بھی تھا ‪ :‬اے‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫ميرے موالوآقا!مجھے اس قول الہی ) ‪(١‬کے بارے ميں آگاه کيجئے کہ حضرت يعقوب )عليه السالم(اوران کے فرزندوں نے‬ ‫حضرت يوسف )عليه السالم(کے سامنے کس لئے سجده کياتھاجبکہ وه ﷲ کے نبی تھے ؟امام علی نقينے جواب ديا‪:‬‬ ‫ا ّماسجوديعقوب وولده فانّہ لم يکن ليوسف انماکان ذلک منہم طاعة ٰ ّ وتحية ليوسف کماکان السجودمن المالئکة آلدم ولم يکن‬ ‫آلدم انماکان ذلک منہم طاعة ٰ ّ وتحيةآلدم وسجديوسف معہم شکرﷲ۔‬ ‫حضرت يعقوب اوران کے فرزندوں کاحضرت يوسف کے آگے سجده کرنا‪،‬ان کو سجده کرنامقصودنہيں تھابلکہ وه سجده ﷲ‬ ‫کی اطاعت اوراحترام يوسف )عليه السالم( کی خاطرتھاجس طرح مالئکہ کاسجده آدم)عليه السالم( کے لئے نہيں تھابلکہ ﷲ‬ ‫کی اطاعت اوراکرام آدم)عليه السالم( کی خاطرتھااورحضرت يوسف )عليه السالم( نے بھی ان کے ساتھ ( سجده شٔکراداکيا)‬ ‫‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬تفسيرقمی ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ٣۶۵‬سوره ٔيوسف ‪/‬آيت ‪) ١٠٠‬‬

‫منہج الصادقين ميں لکھاہے ‪:‬جب حضرت نوح کشتی ميں سوارہوئے توشيطان بھی اس ميں سوارہوا‪،‬حضرت نوح )عليه‬ ‫السالم(نے شيطان سے کہا‪:‬اے ابليس !تونے تکبرکی وجہ سے اپنے آپ کوبھی اوردوسرے لوگوں کوبھی ہالک کردياہے‬ ‫‪،‬شيطان نے کہا‪:‬ميں اب کياکروں؟نبی ﷲ نے کہا‪:‬توبہ کرلے ‪،‬کہا‪:‬کياميری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ حضرت نوح نے بارگاه‬ ‫خدا وند ی ميں عرض کيا ‪ :‬پروردگا ر ا! اگر ابليس توبہ کرے ‪ ،‬کيا تواس کی توبہ قبول کر لے گا ؟ خطاب ہوا ‪ :‬اگر ابليس‬ ‫اب بھی قبرآدم )عليه السالم( کو سجده کرلے تو اس کی توبہ قبول کر لوں گا ‪ ،‬حضرت نوح)عليه السالم( نے جب يہ شيطان‬ ‫سے کہاتو ابليسنے وہی اپنے بﮍے مغرورکے ساتھ جواب ديا‪ :‬جسوقت آدم زنده تھے ‪ ،‬ميں نے انھيں اس وقت سجده نہيں کيا‪،‬‬ ‫اب جبکہ مرده ہوچکے ہيں کيسے سجده کرسکتاہوں؟۔‬ ‫‪ .‬تفسيرمنہج الصادقين ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١٧٢‬‬ ‫ہررکعت ميں دوسجدے قراردئے جانے کی وجہ‬ ‫ہررکعت ميں ايک رکوع ہے اوردوسجده ہيں سوال يہ ہے کہ جس طرح ايک رکعت ميں دوسجده ہيں تو دورکوع کيوں نہيں‬ ‫ہيں ياپھريہ کہ جب ہررکعت ميں ايک رکوع ہے توسجده بھی ايک کيوں نہيں ہے ‪،‬ہررکعت ميں يادورکوع ہوتے ياپھر سجده‬ ‫بھی ايک ہوتا‪،‬دونوں ميں مطابقت کيوں نہيں ہے؟‬ ‫رکوع وسجوددونوں ميں مطابقت پائی جاتی ہے کيونکہ نمازوه حصہ جوبيٹھ کرانجام دياجاتاہے نمازکے اس حصہ‬ ‫کاآدھاہوتاہے جو حصہ قيام کی حالت ميں انجام دياجاتاہے ‪،‬رکوع قيام کی حالت ميں شمارہوتاہے اورسجده قعودميں‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫شمارہوتاہے يعنی ايک سجده آدھے رکوع کے برابرہوتاہے اسی لئے ايک رکعت دوسجده رکھے گئے ہيں تاکہ رکوع‬ ‫سجودميں مطابقت رہے ‪،‬اس بارے ميں روايت ميں اياہے‪:‬‬ ‫عيون اخبارالرضا)عليه السالم(ميں امام علی رضا فرماتے ہيں ‪:‬اگرکوئی تم سے يہ سوال کرے کہ ہررکعت ميں دوسجده‬ ‫کيوں ہيں تواس کاجواب يہ ہے‪ :‬انّماجعلت الصالة رکعة وسجدتين ّ‬ ‫الن الرکوع من فعل القيام والسجودمن فعل القعودوصالة��� ‫القاعدعلی النصف من صالة القائم فضوعفت السجودليستوی بالرکوع فاليکون بينہماتفاوت ّ‬ ‫الن الصالة انّماہی رکوع وسجود۔‬ ‫نمازکی ہرايک رکعت ميں ايک رکوع اوردوسجده قراردئے جانے کی وجہ يہ ہے کہ رکوع کھﮍے ہوکر انجام دياجاتاہے‬ ‫اورسجودکوبيٹھ کر‪،‬وه نمازکہ جوبيٹھ کرپﮍھی جاتی ہے کھﮍے ہوکرپﮍھی جانے والی نمازکی آدھی ہوتی ہے اس لئے‬ ‫نمازميں ايک سجده کورکوع کے دوبرابرقراردياگياہے تاکہ دونوں ميں کوئی فرق نہ رہے کيونکہ رکوع وسجودہی اصل نماز‬ ‫ہيں۔‬ ‫‪ .‬عيون اخبارالرضا)عليه السالم( ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١١۵‬‬ ‫حديث معراج ميں نمازميں دوسجده کے واجب قراردئے جانے کی وجہ اس طرح بيان کی گئی ہے‪:‬‬ ‫جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(معراج پرگئے اورنمازپﮍھنے کاحکم ہوا‪،‬جب نمازميں مشغول ہوئے اوررکوع سے‬ ‫سربلندکيااورپروردگارکی عظمت کامشاہده کياتوﷲ کی طرف سے وحی نازل ہوئی‪:‬اے محمد!اپنے پروردگارکے لئے سجده‬ ‫کرو‪،‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے زمين پرسجده ميں گرگئے ‪،‬خدائے عزوجل کی طرف سے وحی نازل ہوئی‪:‬اے‬ ‫االعلی ” پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے اس ذکرکو تين مرتبہ زبان پرجاری کيا‪،‬اس کے‬ ‫رسول !کہو“ سبحان ربی‬ ‫ٰ‬ ‫بعدسجده سے سربلندکرکے بيٹھ گئے تودوباره عظمت پروردگارکامشاہده کيال ٰہذاپھردوباره سجده ميں گرگئے اورپہلے سجده‬ ‫کی طرح دوسراسجده کيا)اوراس طرح ہرنمازکی ہررکعت ميں دوسجده واجب قرارپائے۔‬ ‫‪ .‬الکافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٨۶‬‬ ‫اسی حديث کے مانندايک اورحديث ميں اياہے‪ :‬ابوبصيرنے امام صادق سے پوچھادورکعت نمازميں چارسجدے کيوں‬ ‫قراردئے ہيں)يعنی ہررکعت ميں ايک رکوع اوردوسجده کيوں ہيں؟( امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬کھﮍے ہوکرپﮍھی جانے‬ ‫والی ايک رکعت نماز‪،‬بيٹھ کرپﮍھی جانے والی دورکعت کے برابرہے )اورسجده بيٹھ کرکياجاتاہے اس لئے دورکعت ميں‬ ‫االعلی وبحمده ”ميں کيوں کہاجاتاہے‬ ‫چارسجدے ہيں(اوريہ کہ رکوع ميں“سبحان ربی العظيم وبحمده” اورسجده “سبحان ربی‬ ‫ٰ‬ ‫ﱢحْ‬ ‫ک ْال َع ِظي ِْم ” نازل کی‬ ‫ب‬ ‫ر‬ ‫ْم‬ ‫س‬ ‫ا‬ ‫ب‬ ‫ب‬ ‫ﱢ‬ ‫اس دليل يہ ہے کہ جب خداوندعالم نے پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(آيہ ٔمبارکہ “ فَ َس ِ ِ ِ َ َ‬ ‫ک ْاالَ ْعلی ”‬ ‫آيہ مبارکہ“فَ َسبﱢحْ ِباِس ِْم َربﱢ َ‬ ‫توآنحضرت نے لوگوں کوحکم دياکہ تم اسے اپنی نمازکے رکوع ميں قراردواورجب ٔ‬ ‫نازل ہوئی توآنحضرت نے حکم دياکہ تم اسے اپنی نمازکے سجده ميں ميں قراردو۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣١۴‬‬ ‫ايک شخص اميرالمومنين حضرت علی کی خدمت ميں ايااورکہا‪:‬اے خداکی بہترين مخلوق)حضرت محمدمصطفی )صلی ﷲ‬ ‫عليه و آله((کے چچازادبھائی !ميں اپ سے معلوم کرناچاہتاہوں کہ پہلے سجده کے کيامعنی ہيں اوراس کاکيارازہے ؟ آپ نے‬ ‫فرمايا ‪ :‬سجده کارازيہ ہے کہ جب نمازی )ہررکعت ميں(پہلے سجدے کے لئے زمين پر سر رکھتاہے تواس کی مراديہ ہوتی‬ ‫ٰ‬ ‫ہے‬ ‫‪:‬بارالہا!تونے مجھے اسی خاک سے پيدا کياہے اورجب سجده أول سے سربلندکرتاہے تواس کامقصديہ ہوتا ہے‬ ‫ٰ‬ ‫‪:‬بارالہا!‪،‬تونے مجھے اسی خاک سے نکاالہے اورجب دوسرے سجدے کے لئے زمين پر دوباره سر رکھتاہے تواس بات کی‬ ‫گواہی ديتاہے ‪:‬ہميں مرنے کے بعد اسی زمين ميں دفن ہونا ہے اور جب سجده ٔدوم سے سربلندکرتاہے تووه معادکی گواہی‬ ‫دہتے ہوئے کہتاہے ‪ :‬روزمحشر ہميں دوباره خاک سے بلند جائے گا) جيسا کہ خداوندمتعال قرآن کريم ميں ارشاد فرماتاہے ‪:‬‬ ‫) ‪ (١‬اسی زمين سے ہم نے تمھيں پيدا کيا ہے اور اسی ميں پلٹا کر لے جائيں گے اور پھر دوباره اُس سے نکا ( ليں گے (۔ )‬ ‫‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ١ . ( ٣١۴‬سوره ٰٔ‬ ‫طہٰ‪/‬آيت ‪) ۵۵‬‬

‫رازاعضائے سجده‬ ‫سجده کی حالت ميں بدن کے سات اعضاء کوزمين پرٹيکناواجب ہے‪،‬جنھيں اعضاء سجده کانام دياگياہے اوروه يہ ہيں‪:‬پيشانی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪،‬دونوں ہاتھ کی ہتھيلياں‪،‬دونوں گھٹنے ‪،‬دونوں پيرکے انگوٹھے اورناک کے سرے کومحل سجده پرٹيکناسنت پيغمبر ہے ۔‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬سجده ميں بدن کے سات اعضاء کوزمين پررکھناچاہئے ‪ :‬پيشانی‪ ،‬دونوں ہاتھ کی‬ ‫ہتھيلی ‪،‬دونوں گھٹنے ‪،‬دونوں پيرکے انگوٹھے اورناک کوبھی زمين پررکھيں ليکن ان ميں سے سات اعضاء کازمين‬ ‫پرٹيکناواجب ہے اورناک کازمين پررکھناسنت پيغمبرہے ۔‬ ‫‪ .‬استبصار‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٢٧‬‬ ‫روايت ميں آيا ہے ‪:‬روز قيامت خدا وند متعا ل آ تشجہنم سے کہے گا‪ :‬يانارُانضجی‪ ،‬يانا ُراِحرقی وا ّماموضع السجودفالتقربی۔‬ ‫اے جہنم کی آگ! توجس کو جالنا چاہتی ہے جال دے ليکن اعضاء سجده کے ہر گز قريب نہ جا نا ۔‬ ‫‪ .‬منہج الصادقين‪،‬ج ‪،٨‬ص ‪٣٩٧‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سجده کی حالت ميں ان سات اعضاء کوزمين پررکھنے کی وجہ اس طرح بيان کرتے ہيں‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫فاسجدوﷲ علی سبع۔ خداوندعالم نے تمھيں سات چيزوں سے خلق کياہے اورسات سے چيزوں‬ ‫خلقتم من سبع ورزقتم من سبع‬ ‫ِّ ِ‬ ‫سے رزق ديتاہے ل ٰہذاسات چيزوں پرخداکوسجده کرو۔‬ ‫‪ .‬مستدک الوسائل ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪۴۵۵‬‬ ‫سجدے کی حالت ميں دونوں ہاتھوں کی ہتھيليوں کوزمين پرقراردينے کی وجہ حديث ميں اس طرح بيان کی گئی ہے‪:‬‬ ‫قال اميرالمومنين عليہ السالم‪:‬اذاسجداحدکم فليباشربکفيہ االرض لعل اللھيصرف عنہ الغل يوم القيامة‪.‬‬ ‫حضرت علی فرماتے ہيں‪:‬جب بھی تم ميں کوئی شخص سجده کرے تواپنے دونوں ہاتھوں کوزمين رکھے شايد خداوندعالم‬ ‫روزقيامت تشنگی کے سوزش کواسسے برطرف کردے۔‬ ‫‪ .‬ثواب االعمال‪/‬ص ‪٣۴‬‬ ‫چورکی ہتھليوں کوقطع نہ کئے جانے کی وجہ‬ ‫شيعہ اثناعشری مذہب کے نزديک اسالمی قانو ن يہ ہے کہ اگرکوئی شخص پہلی مرتبہ چوری کرے تواس کے دونوں ہاتھ‬ ‫کی چاروں انگلياں قطع کردی جائيں اوردونوں ہاتھ کی ہتھيلياں وانگوٹھوں کوباقی رکھاجائے تاکہ چوربھی عبادت ٰالہی‬ ‫کواس کے حق کے ساتھ اداکرسکے اورفريضہ ٰالہی کواداکرنے ميں کوئی دشواری نہ ہو روايت ميں آياہے کہ معصتم نے‬ ‫حضرت امام محمدتقی سے سوال کياچورکے ہاتھوں کوکہاں تک واجب ہے ؟امام )عليه السالم(نے جواب ديا‪:‬اس کی چاروں‬ ‫انگليوں کوقطع کياجائے اورہتھيلی کوباقی رہنے دياجائے ‪،‬معتصم نے سوال کيا‪:‬آپ کے پاس اس کی کوئی دليل موجودہے‬ ‫؟امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے فرماياہے کہ سجده ميں سات اعضائے بدن‪ :‬پيشانی ‪،‬دونوں‬ ‫ہاتھ کی ہتھيلی‪،‬دونوں گھٹنے ‪،‬دونوں پيرکے انگوٹھوں کازمين پرٹيکناواجب ہے اگرچورکے ہاتھوں کوگٹے ياکہنی سے قطع‬ ‫کياجائے تواس کے ہاتھ ہی باقی نہيں رہے گاجسے وه سجده ميں زمين ٹيک سکے اورخداوندعالم قرآن کريم ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫اج َد ِ ّ ِ فَ َالتَ ْد ُعوْ ا َم َع ﷲ ا َحدًا <) ‪١‬‬ ‫( < َواَ ﱠن ْال َم َس ِ‬ ‫بيشک مساجدسب ﷲ کے لئے ہيں لہٰذااس کے عالوه کسی کی عبادت نہ کرنا۔ اس کے بعدامام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬اس‬ ‫قول خداوندی ميں “مساجد”سے وہی سات اعضاء مرادہيں کہ جن کازمين پرٹيکناواجب ہے اور“ فَ َالتَ ْد ُعوْ ا َم َع ﷲ ا َحدًا ” سے‬ ‫مراديہ ہے کہ اس کے ہاتھوں کوقطع نہ کياجائے )بلکہ فقط اس کی انگليوں قطع کياجائے تاکہ وه عبادت ( ٰالہی کواس کے‬ ‫حق کے ساتھ اداکرسکے() ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬تفسيرالميزان ‪/‬ج ‪/۵‬ص ‪)١ . ( ٣٣۵‬سوره ٔجن ‪/‬آيت ‪) ١٨‬‬

‫راز ذکرسجده‬ ‫سجده ميں بھی رکوع کے مانندذکرخداواجب ہے ‪،‬سجده کاکوئی ذکرمخصوص نہيں ہے بلکہ جوذکربھی کياجائے کافی‬ ‫اورصحيح ہے ‪،‬چاہے “الحمد ”کہے يا“الالہ ّاالﷲ” کہے ياتکبير“ﷲ اکبر”کہے ليکن شرط يہ ہے کہ وه ذکرتين‬ ‫مرتبہ“سبحان ﷲ”اورايک مرتبہ “سبحان ربی‬ ‫االعلی وبحمده”کی مقدارسے کم نہ ہوالبتہ تسبيح کرنااحتياط کے مطابق ہے‬ ‫ٰ‬ ‫االعلی وبحمده” کہاجائے اور مستحب ہے کہ “سبحان ربی‬ ‫يعنی بہترہے کہ تين مرتبہ “سبحان ﷲ”ياايک مرتبہ “سبحان ربی‬ ‫ٰ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫االعلی و بحمده” کو اختيارکرے اورمستحب ہے کہ اس ذکرکوتين مرتبہ کہاجائے‬ ‫ٰ‬ ‫ذکرسجده اوراس کے اسرارکوذکررکوع کے ساتھ ذکرکرچکے ہيں ل ٰہذاتکرارکی کوئی ضرورت نہيں ہے۔‬ ‫اشيائے ماکول وملبوس پرسجده کيوں جائزنہيں ہے واجب ہے کہ نمازگزارزمين ياوه چيزيں جوزمين سے اگتی ہيں اورانسان‬ ‫کی پوشاک ياخوراک کے کام ميں نہيں آتی ہيں جيسے لکﮍی اوردرختوں کے پتے پرسجده کرے ليکن وه چيزيں جو انسان‬ ‫کی خوراک وپوشاک ميں استعمال ہوتی ہيں ان پرسجده کرناجائزنہيں ہے نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬مجھے‬ ‫پانچ ايسی چيزعطاکی گئی ہيں جومجھ سے پہلے کسی کونہيں دی گئی ‪:‬زمين کوميرے لئے سجده گاه اورپاک کرنے والی‬ ‫قراردياگياہے‪،‬ميرے چہرے پردشمن کے لئے رعب وحشت عطاکرکے ميری مددکی گئی ہے‪،‬مال غنيمت کوميرے لئے‬ ‫حالل قراردياگياہے‪،‬جوامع الکالم مجھے دی گئی ہيں اورمجھے شفاعت بھی عطاکی گئی ہے۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢۴١‬‬ ‫ہشام ابن حکم سے مروی ہے ميں نے امام صادق کی محضرمبارک ميں عرض کيا‪:‬ميں اپ پرقربان جاؤں مجھے ان چيزوں‬ ‫کے بارے ميں مجھے مطلع کيجئے کہ کن چيزوں پرسجده کرناصحيح ہے اورکن پرصحيح نہيں ہے؟ امام )عليه السالم(نے‬ ‫فرمايا‪ :‬زمين پراوروه چيزيں جوزمين سے اگتی ہيں سجده کرناجائز ہے ليکن زمين سے اگنے والی وه چيزيں جوکھانے‬ ‫ياپہننے کے کام ميں اتی ہيں ان پرسجده کرناجائزنہيں ہے‪،‬ہشام نے کہا‪:‬ميری جان آپ پرقربان جائے اس کارازہے اورکيادليل‬ ‫ہے؟ امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬کيونکہ سجده خداکے لئے ايک خضوع وتواضع کاحکم رکھتاہے ل ٰہذا کھانے اورپہننے کی‬ ‫چيزوں پرسجده کرناسزوارنہيں ہے کيونکہ دنياکے لوگ کھانے ‪،‬پينے اورپہننے والی اشياء کے معبودہيں گوياان کی‬ ‫پوچاکرتے ہيں ليکن سجده کرنے واالشخص خداکی عبادت کرتاہے ل ٰہذااسے چاہئے کہ دنياکے فرزندوں کے معبودپرسجده‬ ‫کے لئے اپنی پيشانی کونہ رکھے جنھوں نے اس کادھوکاکھاياہے ‪،‬اس کے بعد امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬زمين پرسجده‬ ‫کرناافضل ہے کيونکہ زمين پرسررکھنے سے انسان کے دل ميں خداکے لئے اورزياده خضوع خشوع پيداہوجاتاہے ۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٧٢‬‬ ‫رازطول سجده‬ ‫سجده کوطول دينامستحب ہے ‪،‬سجده کوجت نازياده طوالنی کياجائے تواس کے لئے ات ناہی زياده فضيلت کاباعث ہوتاہے‬ ‫اورشيطان کی ناراضگی اورمايوسی کاسبب واقع ہوتاہے ل ٰہذامستحب ہے کہ سجده کوطول دياجائے تاکہ شيطان کی کمرٹوٹ‬ ‫جائے اوروه نمازی کے پاس بھی نہ آسکے ۔ امام صادق فرماتے ہيں‪ :‬جب کوئی بنده سجده کرتا ہے اور اس کو طول ديتا ہے‬ ‫تو شيطان بہت ہی حسرت سے فرياد کرتے ہوئے کہتا ہے ‪ :‬وائے ہومجھ پر ! ﷲ کے بندوں نے اس کے فرمان کی اطاعت‬ ‫کی اور ميں نے اس کے حکم کی خالف ورزی کی‪ ،‬انھوں نے خداکی بارگاه ميں سجده کيااور ميں نے اس سے خودداری‬ ‫کی ۔ ‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪٢۶‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬اپنے سجدوں کوطوالنی کروکيونکہ شيطان کے لئے اس سے زياده سخت‬ ‫اورپريشان کردينے واالعمل کوئی نہيں ہے کہ وه اوالدآدم)عليه السالم( کوسجده کی حالت ميں ديکھے کيونکہ شيطان‬ ‫کوسجده کرنے کاحکم دياگياتواس نے نافرمانی کی )اورہميشہ کے لئے لعنت کاطوق اس کے گلےميں پﮍگيا(اورانسان‬ ‫کوسجده کرنے کاحکم مالتواسنے خداکے اس امرکی اطاعت کی )اورکامياب ہوگيا(۔‬ ‫‪ .‬علل الشرايع‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣۴٠‬‬ ‫روايت ميں آياہے کہ ايک جماعت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے پاس آئی اورکہا‪:‬يارسول ﷲ!آپ ہمارے لئے اپنے‬ ‫پروردگارسے جنت کی ضمانت کرائيں توآنحضرت نے فرمايا‪:‬تم اس کام ميں طوالنی سجدوں کے ذريعہ ميری مددکرو)تاکہ‬ ‫ميں تمھارے لئے جنت کی ضمانت کروں(۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪۴٧١‬‬ ‫حضرت عليسے روايت ہے ايک شخص نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی خدمت ميں ايااورعرض کيا‪:‬يارسول ﷲ!مجھے‬ ‫کسی ايسے کام کی تعليم ديجئے کہ جس کے واسطہ سے خدامجھے اپنادوست بنالے اوراس کی مخلوق بھی مجھے دوست‬ ‫رکھے ‪،‬خداميرے مال کوزياده کرے ‪،‬ميرے جسم ميں سالمتی دے ‪،‬ميری عمرکوطوالنی کرے اورمجھے آپ کے ساتھ‬ ‫محشورکرے ‪،‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے فرمايا‪:‬‬ ‫يہ چھ صفتيں چھ عمل کی محتاج ہيں اگرتو يہ چاہتاہے کہ خداتجھے دوست رکھے تواپنے دل ميں خوف‬ ‫پيداکراورتقوااختيارکر‪،‬اوراگرتو يہ چاہتاہے کہ بندے بھی تجھے دوست رکھيں توان کے حق ميں نيکی کراوروه‬ ‫چيزجومخلوق کے ہاتھوں ميں ہے اس سے پرہيزکر‪،‬اوراگرتو يہ چاہتاہے کہ خداتيرے مال کوزياده کردے توزکات‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اداکر‪،‬اوراگرتواپنے جسم کی ت ندرستی وسالمتی چاہتاہے توزياده صدقہ دياکر‪،‬اوراگرتواپنے طول عمرکی تمناکرتاہے‬ ‫توصلہ رحم کرتاره ‪،‬اورتويہ چاہتاہے کہ خداتجھے ميرے ساتھ محشورکرے توبارگاه خداوندی ميں جواکيالہے اورقہاربھی‬ ‫ہے اپنے سجده کوطول دياکر۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪۴٧٢‬‬ ‫فضل بن شاذان سے مروی ہے ‪ :‬ايک مرتبہ جب ميں عراق پہنچا توديکھا کہ ايک شخص اپنے ايک دوست کومالمت کررہا‬ ‫ہے اوراس سے کہہ رہاہے ‪ :‬اے بھائی ! توصاحب اہل وعيال ہے ‪،‬تجھے اپنے بچوں کی معيشت کے لئے کسب وکار کی‬ ‫ضرورت ہے اور مجھے خوف ہے کہ اگر تو ہمارے ساتھ تجارت کے لئے سفرنہيں کرے گاتوان سجدوں کی وجہ سے‬ ‫تيری آنکھوں کا نور ختم ہوجا ئے گا‬ ‫اس نے جواب ديا ‪ :‬وائے ہو تجھ پر‪ ،‬تو !مجھے سجده کرنے کی وجہ سے ات نی زياده مالمت کررہاہے ‪،‬اگر ان سجدوں کی‬ ‫وجہ سے کسی کی آنکھوں کا نور چالجاتاہے توپھرمحمدابن ابی عميرکی آنکھوں کا نور ختم ہوجانا چاہئے تھا‪،‬مجھے بتاکہ‬ ‫تيرا ايسے شخص کے بارے ميں کيا خيال ہے کہ جس نے نماز صبح کے بعد سجده شٔکرميں سررکھاہواورظہرکے وقت تک‬ ‫بلند کيا ہو‬ ‫فضل بن شاذان کہتے ہيں ‪:‬ميں اس شخص کی يہ بات سن کر محمدابن ابی عميرکی خدمت ميں پہنچا تو ديکھا کہ سرسجدے‬ ‫ميں ہے‪ ،‬بہت ديرکے بعد سجدے سے سراٹھايا ‪،‬ميں نے ان سے طول سجده کے بارے ميں پوچھاتوانھوں نے سجدے کو‬ ‫طول دينے کی فضيلت بيان کرنا شروع کی اور کہا‪:‬‬ ‫اے فضل ! اگر تم جميل ا بن درّاج کو ديکھيں گے تو کياکہيں گے ؟ فضل کہتے ہيں کہ ميں جميل ابن درّاج کے پاس پہنچاتو‬ ‫انھيں بھی سجدے کی حالت ميں پايا‪ ،‬اورواقعاًانھوں نے سجدے کو بہت زياده طول ديا ‪ ،‬جب سجدے سے بلند ہوئے تو ميں‬ ‫نے کہا ‪ :‬محمد ابن ابی عمير صحيح کہتے ہيں کہ آپ سجدے کو بہت زياده طول ديتے ہيں ‪ ،‬جميل نے کہا ‪ :‬اگر تم “معروف‬ ‫خربوز ”کو ديکھيں گے توکياکہيں گے ؟‬ ‫ّ‬ ‫دوسری حديث ميں آياہے کہ ايک شخص نے جميل ابن درّاج سے کہا ‪ :‬تعجب ہے کہ آپ سجدے ميں کت نازياده تو قف‬ ‫کرتے ہيں اور بہت طوالنی سجد ه کرتے ہيں؟ جواب ديا ‪:‬اگر تم نے حضرت امام جعفر صادق کو ديکھاہوتا تو تمھيں معلوم‬ ‫ہوجاتا کہ ہمارے يہ سجدے ان کے مقابلہ ميں کچھ بھی طوالنی نہيں ہيں۔‬ ‫‪ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ٢٨٩‬ص ‪٩٢‬‬ ‫سجده گاه کی رسم کاآغاز‬ ‫کسی پتھرياخاک کوسخت کرکے سجده گاه قرارديناقديمی رسم ہے اوراسے مذہب تشيع کی اختراع وايجادقراردينابالکل غلط‬ ‫ہے کيونکہ جب دين اسالم ميں نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کونمازپﮍھنے کاحکم دياگياتوآپ اورآپ کی اتباع کرنے والے‬ ‫نمازميں زمين پرسجده کرتے تھے ليکن جب ﷲ ورسول اوراس کی نازل کی گئی کتاب پرايمان النے والوں کی ميں اضافہ‬ ‫ہوتاگيااوردين اسالم رونق افروزہوتاگيااوررسول اسالم )صلی ﷲ عليه و آله(مکہ سے ہجرت کرے مدينہ پہنچے توآپ نے‬ ‫زمين کے ايک ٹکﮍے کومحل عبادت ومسجدکے عنوان سے معين کيااورزمين پرعالمت لگادی گئی کہ يہ جگہ محل عبادت‬ ‫ہے اورتمام مسلمان اس جگہ نمازاداکريں گے ‪،‬اس وقت اس کی کوئی چہارديواری نہيں تھی اوراس زمين پرچھت وغيره‬ ‫بنائی گئی تھی اورنہ کسی سايہ کاانتظام کياگياتھا‪،‬جب يہ ديکھاگيااس زمين محل عبادت ميں کوئی نجس جانوربھی چالآتاہے‬ ‫تواس کی چہارديواری کردی گئی مگراس وقت اس زميں پرکسی چھت ياسايہ کاانتظام نہيں گيااورت نہ ہونے کی وجہ سے‬ ‫دوپہرکی جلتی دھوپ ميں نمازپﮍھنابہت مشکل کام تھااسی سردی کی ٹھنڈک ميں نمازپﮍھنانہايت مشکل تھال ٰہذاآنحضرت سے‬ ‫لوگوں نے کہا‪:‬اے ﷲ کے پيارے نبی !اس تپتی زمين پرپيشانی رکھنابہت مشکل ہے اورہماری پيشانی جلی جاتی ہيں )کياہم‬ ‫زمين کے عالوه اپنے ساتھ ميں موجودکسی کپﮍے پر سجده کرسکتے ہيں؟( پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے ان کی بات‬ ‫کونہ سنااور اسی طرح زمين پرسجده کرنے کاحکم ديااورتمام مسلمان زمين پرسجده رہے ۔ بيہقی نے اپنی کتاب “سنن‬ ‫کبری”ميں خباب ابن ارث سے روايت نقل کی ہے جس ميں وه کہتے ہيں کہ‪:‬ہم نے زمين سجده کرنے بارے ميں نبی اکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(سے گرمی کی شدت کی شکايت کی اورکہا‪:‬يانبی ﷲ!نمازکی حالت ميں گرم پتھريوں پرسجده کرنے‬ ‫سے ہماری پيشانی اورہتھيلياں منفعل ہوجاتی ہيں)پس ہم کياکريں؟(رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(ان بات پرشکايت کوئی‬ ‫دھيان نہيں ديااورنہ ہی کسی نئی چيزکااظہارکيابلکہ اسی طرح سجده کرنے کاحکم ديااورہم زمين پرسجده کرتے رہے۔‬ ‫‪ .‬سنن کبروی‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪١٠۵‬‬ ‫اسی زمانہ ميں ايک صحابی نے نمازجواعت شروع ہونے سے قبل زمين سے ايک پتھری اٹھائی اوراسے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ٹھنڈاکرليااورنمازميں اسی پرسجده کيا‪،‬اس کايہ عمل رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کرپسندآيااور آنحضرت نے اس کی‬ ‫تائيدکردی اس روزکے بعدلوگوں نے يہ کام شروع کرديااورنمازشروع ہونے سے قبل پتھری اٹھانے لگے اوراسی پرسجده‬ ‫کرنے لگے اوربعث اسالم ہی سے کسی ايک چيزکوسجده گاه قرادينا مشروعيت ہوگيا۔ بيہقی نے اپنی کتاب “سنن کبری”ميں‬ ‫يہ رويات نقل کی ہے‪ :‬ابووليدسے مروی ہے کہ ميں نے فرزندعمرسے سوال کيا‪:‬وه کون شخص ہے جو مسجدميں سب سے‬ ‫پہلے سنگريزه اليا؟جواب ديا‪:‬مجھے اچھی طرح يادہے کہ بارش کی رات تھی اورميں نمازصبح کے لئے گھرسے‬ ‫باہرآياتوديکھاکہ ايک مردريگ پرٹہل رہاہے ‪،‬اس نے ايک مناسب پتھری اٹھائی اوراسے اپنے کپﮍے ميں رکھااوراس‬ ‫پرسجده کياجب رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے اسے اس کام کوکرتے ديکھاتوبہت خرسندی اورخوشحالی کے ساتھ‬ ‫عرض کيا‪:‬يہ تونے کت نااچھاکام کياہے ‪،‬پس يہ پہالشخص ہے کہ جس نے اس چيزکی ابتداء کی ہے ( ۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬سنن کبروی‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ۴۴٠‬‬ ‫اسی واقعہ سے يہ ثابت ہے کہ کسی چيزکو سجده گاه کاعنوان قرارديناصحيح ہے يہی وه شخص ہے کہ پہلی مرتبہ کسی‬ ‫چيزکوبعنوان سجده گاه مسجدميں اپنی جانمازپرقراردياہے۔ جب مسجدميں کسی چيزکوسجده گاه کے طورپرالناصحيح‬ ‫قرارپاگياتواس کے اصحاب نے شديدگرمی کی شکايت کی اورکہا‪:‬يانبی ﷲ!ہم پيشانی اورہتھيليوں کے جلنے سے محفوظ‬ ‫ہوگئے ہيں‪،‬ہرشخص ايک پتھری کوبطورسجده پہلے ہی اٹھاليتاہے اوراسے ٹھنڈی کرليتاہے مگراس جسم کے جلنے کابھی‬ ‫کوئی عالج کياجائے کيونکہ دھوپ ميں کھﮍے ہوکرنمازپﮍھنابہت ہی مشکل کام ہے پس رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(ن‬ ‫حکم دياکہ مسجدکے ايک حصہ ميں چھت بنادی جائے تاکہ لوگ گرمی اور سردی سے محفوظ ره سکيں ‪،‬فرمان رسول کے‬ ‫مطابق مسجدکے ايک حصہ ميں چھت بنادی گئی اورمسلمان سايہ ميں نمازپﮍھنے لگے کچھ قرائن وشواہدسے معلوم ہوتاہے‬ ‫کہ خلفائے راشدين کے زمانہ تک مسجد ميں کسی فرش اورچٹائی وغيره کاکوئی انتظام نہيں کياگياتھا بلکہ لوگ زمين ہی پر‬ ‫سجده کرتے تھے ‪،‬خليفہ دوم نے اپنے زمانہ حکومت ميں حکم دياکہ مسجدميں پتھريانڈادی جائيں تاکہ نمازی لوگ اس‬ ‫پرسجده کر تے رہيں‪،‬خلفائے راشدين کے بعدصحابہ اورتابعيں کے زمانہ ميں بھی يہی معمول تھا اورلوگ پتھريوں پرسجده‬ ‫کرتے تھے ياکسی چھوٹے سے پتھرکوياتھوڑی سی خاک اٹھاکرجانمازپربطورسجده گاه رکھ لياکرتے تھے اوراس پرسجده‬ ‫کرتے تھے يہاں تک کہ خاک کوپانی ذريعہ گيلی کرکے سخت کرلياکرتے اوراسے سجده قراردئے کرتھے اوريہ روش آج‬ ‫تک شيعوں کے درميان قائم ورائج ہے پس شيعوں کاکسی پتھرکوياخاک کوسخت کرکے سجده گاه قرارديناکوئی نئی ايجادنہيں‬ ‫ہے بلکہ يہ روش توپيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے زمانہ سے شروع ہے‬ ‫خليفہ دوم کے مسجدميں سنگريزے ڈلوانے اوراس پرسجده کر نے کے بارے ميں ابن سعد اپنی کتاب “الطبقات”ميں يہ‬ ‫رويات نقل کی ہے‪ :‬عبدﷲ ابن ابراہيم سے مروی ہے ‪:‬عمرابن خطاب وه شخص ہيں کہ جنھوں نے سب سے پہلے مسجدالنبی‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(ميں پتھريانڈلوائيں ليکن ان کے اس کام کی وجہ يہ تھی کہ جب لوگ نمازڑھتے تھے اورسجده سے‬ ‫سربلندکرتے تھے تواپنے ہاتھوں کوجھاڑتے تھے جوکہ گردآلوہوجاتے تھے ياپھونک مارتے تھے تاکہ گردجھﮍجائے‬ ‫ل ٰہذاحضرت عمرنے حکم دياکہ وادی عقيق سے پتھرياں اٹھاکرمسجدميں بچھادی جائيں ۔ ‪ .‬المصنف ‪/‬ج ‪/٨‬ص ‪٣۴۵‬‬ ‫۔کنزالعمال‪/‬ج ‪/ ١٢‬ص ‪ ۵۶٣‬۔الطبقات الکبری‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪ ٢٨۴‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے تابعين ميں سے ايک شخص‬ ‫جن کانام مسروق بن اجدع تھاانھوں نے خاک مدينہ سے بعنوان سجده گاه ايک چھوٹی سی خشت )يعنی اينٹ(بنارکھی تھی‬ ‫اوروه جب بھی کہيں سفرکرتے تھے تواسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے اوراس پرسجده کرتے تھے‬ ‫اس بارے ميں مصنف ابن ابی شيبہ نے اپنی کتاب “المصنف ”ميں ابن سيرين سے اس طرح روايت نقل کی ہے‪:‬‬ ‫ابن سيرين سے مروی ہے وه کہتے ہيں کہ‪ :‬ميں باخبراورآگاه ہواہوں کہ مسروق ابن اجدع نے خ��ک مدينہ سے ايک اينٹ‬ ‫کوبنارکھی تھی ‪،‬جب بھی وه کشتی ميں سفرکرتے تھے تواسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے اوراسی پرسجده کرتے تھے ۔‬ ‫‪ .‬المصنف ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪١٧٢‬‬ ‫ابن ابی عينيہ سے مروی کہ ميں نے ابن عباس کے ايک غالم “رزين”کويہ کہتے سناہے ‪:‬وه کہتے ہيں کہ علی ابن عبدﷲ‬ ‫ابن عباس نے ميرے پاس ايک خط لکھااوراس ميں مجھ سے فرمائش کی کہ ميرے لئے “مروه ” سے ايک صاف‬ ‫ستھراپتھرروانہ کردوتاکہ ميں اس پرسجده کروں۔‬ ‫‪ .‬تاريخ مدينہ دمشق‪/‬ج ‪/ ۴٣‬ص ‪ ۵٠‬۔المصنف ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٠٨‬‬ ‫ان روايتوں سے يہ ثابت ہوتاہے کہ کسی چيزکوسجده گاه قرارديناشيعوں سے مخصوص کرناغلط ہے بلکہ يہ توآغازاسالم‬ ‫ہی سے دين اسالم ميں مشروعيت رکھتاہے جيساکہ پہلے ايک روايت ميں و ذکرکرچک ہيں کہ ايک شخص نے پيغمبراکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(کے زمانہ ميں نمازشروع ہونے سے پہلے ايک چھوٹاساپتھراٹھايااوراسے ٹھنڈاکرليااورپھراس‬ ‫پرنمازميں سجده کيااورنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے اس کے اس کام کی صحيح ہونے کی تائيدبھی کی‪،‬کيااس شخص‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫نے اس پتھرکوسجده گاه قرارنہيں دياتھا؟کيامسروق ابن اجدع خاک مدينہ سے سجده گاه نہيں بنارکھی تھی ؟اورکياعلی ابن‬ ‫عبدﷲ ابن عباس نے رزين کے پاس خط لکھ کرمروه سے ايک پتھرکوبعنوان سجده گاه طلب نہيں کياتھا؟۔‬ ‫خاک شفاپرسجده کرنے کاراز‬ ‫ہم اوپريہ ثابت کرچکے ہيں کہ سجدعہ گاه بناناکوئی ايجادواختراع نہيں ہے بلکہ يہ اسالم کے اوائل سے ہی سے رائج ہے‬ ‫اورنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے اس کی تائيدکی ہے ليکن اب ہميں يہ ثابت کرناہے کہ بعض جگہ کی خاک بہت ہی‬ ‫زياده صاحب تکريم وتفضيل ہوتی ہے اورقابل احترام ہوتی ہے‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے چچاجناب حمزه جنگ احدميں شہيدہوئے اورکفارومشرکين ان کے الشہ کے ساتھ يہ‬ ‫سلوک کياکہ ابوسفيان کی بيوی )مادرمعاويہ (نے جگرچاک کيااوراسے اپنے ناپاک دانتوں سے چبايا‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے حضرت حمزه کو“سيدالشہداء ” کالقب ديا اورعملی طورسے دين اسالم کی اتباع کرنے‬ ‫والوں کواس خاک کے متبرک ہونے کو سمجھانے کے لئے حضرت حمزه کی قبرسے تھوڑی سی خاک اٹھائی اوراسے‬ ‫اپنے ساتھ لے گئے ‪،‬صديقہ ک ٰ‬ ‫ٔبری حضرت فاطمہ زہرا نے رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی ابتاع کی اورآپ نے بھی‬ ‫حضرت حمزه کے حرم سے خاک اٹھائی اوراس سے ايک تسبيح تيارکی‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے نواسہ حضرت امام حسيناورجوانان بنی ہاشم کو ان کے اصحاب وانصارکے ساتھ سرزمين‬ ‫کرب وبالپرنہايت ظلم وبے رحمی کے ساتھ شہيدکياتوسيدالشہداء کالقب حضرت حمزه سے حضرت امام حسين کی طرف‬ ‫منتقل ہوگيااورآپ کے حرم مطہرکی خاک خاک شفاقرارپائی ‪،‬امام زين العابديننے عملی طورسے قرآن وعترت کی اتباع‬ ‫کرنے والوں کواس خاک کی عظمت وبرکت کوسمجھانے کے لئے امام حسين کے مرقدمطہرسے بعنوان تبرک کچھ خاک‬ ‫اٹھائی اوراس سے سجده گاه بنائی اوراس کے بعدجب بھی نمازپﮍھتے تھے تواسی تربت پاک پرسجده کرتے تھے اورآپ‬ ‫کے شيعہ بھی اسی خاک پاک پرسجده کرنے لگے‬ ‫امام زين العابدين کے بعدديگرآئمہ اطہار نے بھی اسی سيرت پرعمل کيااوراسے جاری رکھااوريہی سيرت آج تک ان کی‬ ‫اتباع کرنے والوں درميان رائج وقائم ہے تربت کربالکی اہميت اوراس پرسجده کرنے کی فضيلت کے بارے ميں چندروايت‬ ‫مندرجہ ذيل ذکرہيں‪:‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله(ام سلمہ کے گھر موجود تھے اوران سے کہہ رہے تھے ‪:‬مجھے اس‬ ‫وقت يہاں پرت نہائی کی ضرورت ہے )پس تم کمرے سے باہرچلی جاؤ( اورديکھو!کوئی ميرے پاس آنے نہ پائے ‪،‬اتقاقاًامام‬ ‫حسين آگئے‪ ،‬ليکن چونکہ امام حسيناس وقت بہت ہی کمسن تھے ل ٰہذاام سلمہ انھيں کمسنی کی وجہ سے نہ روک‬ ‫سکيں‪،‬جسبہانہ سے سے بھی روکناچاہاکامياب نہ ہوسکيں اورامام حسين رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے پاس پہنچ گئے‬ ‫چند لحظہ بعدام سلمہ امام حسين کے پيچھے آئيں توديکھاکہ حسين )عليه السالم( پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے سينہ‬ ‫ٔمبارک پہ بيٹھے ہوئے ہيں اورآنحضرتاپنے ہاتھوں ميں ايک چيزلئے ہوئے ہيں جسے گھماپھراکرديکھ رہے ہيں اورگريہ‬ ‫کررہے ہيں)ميں نے پوچھا؟ يانبی ﷲ! يہ آپ کے ہاتھ ميں کياہے ؟تو( آنحضرت نے فرمايا‪ :‬اے ام سلمہ !ابھی ميرے جبرئيل‬ ‫آئے تھے اورانھوں نے مجھے خبردی ہے کہ تمھارايہ بچہ )حسين )عليه السالم((قتل کردياجائے گااوريہ چيزکہ جسے ميں‬ ‫اپنے ہاتھوں ميں گھماکرديکھ رہاہوں اسی سرزمين کی خاک ہے کہ جسپريہ ميرانواسہ قتل کردياجائے گا اے ام سلمہ! )جب‬ ‫ميرايہ نواسہ قتل کياجائے گااس وقت ميں زنده نہ ہوں گا مگر تم اس وقت زنده ہونگی(پس ميں اس خاک کو تمھارے‬ ‫سپردکرتاہوں تم اس خاک کو ايک شيشی ميں رکھدواوراس کی حفاظت کرتے رہنا اوريادرکھناجب يہ خاک خون ہوجائے‬ ‫توسمجھ ليناکہ ميرايہ عزيز شہيدکردياگياہے‬ ‫ام سلمہ نے کہا‪:‬يارسول ﷲ!خداسے کہوکہ وه اس عظيم مصيبت کواس بچہ سے دورکردے ‪،‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(نے فرمايا‪:‬ميں نے خداوندعالم سے اس مصيبت کے دفع ہوجانے کوکہا توخدانے مجھ پروحی نازل کی‪:‬يہ شہادت اس بچہ‬ ‫کے لئے ايک بلندمقام ہے جواس بچہ سے پہلے کسی بھی مخلوق کوعطانہيں کياگياہے اورخداوندعالم نے مجھ سے وحی‬ ‫کے ذريعہ بتاياکہ اس بچہ کی پيروی کرنے والے لوگ قابل شفاعت قرارپائيں گے اورخودبھی دوسروں کی شفاعت کريں‬ ‫گے‬ ‫بيشک مہدی صاحب الزمان )عج ( اسی حسين )عليه السالم(کے فرزندوں ميں سے ہيں‪،‬خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئے‬ ‫جوان کودوست رکھتاہوگااوربيشک روزقيامت ان ہی کے شيعہ کامياب وسربلندہونگے ۔‬ ‫‪ .‬امالی)شيخ صدوق(‪/‬ص ‪٢٠٣‬‬ ‫)ع(ينورالی االرضين السبعة ‪،‬ومن کانت معہ سبحة من طين قبرالحسين‬ ‫قال الصادق عليہ السالم‪:‬السجودعلی طين قبرالحسين‬ ‫ٰ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫)ع(کتب مسبح اوان لم يسبح بہا۔ امام صادقفرماتے ہيں‪:‬امام حسينکی خاک قبرپرسجده کرناساتوں زمينوں کومنور کرديتاہے‬ ‫اورجوشخص تربت امام حسينکی تسبيح اپنے ہمراه رکھتاہوچاہے اس کے دانوں پرکوئی ذکربھی نہ پﮍھے پھربھی تسبيح‬ ‫کرنے والوں ميں شمارہوگا۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢۶٨‬‬ ‫عن معاويہ بن عمارقال‪:‬کان البی عبدﷲ عليہ السالم خريطة ديباج صفراء فيہاتربة ابی عبدﷲ عليہ السالم فکان اذاحضرتہ‬ ‫ّ‬ ‫قال)ع(‪:‬ان السجودعلی تربة ابی عبدﷲ الحسين عليہ السالم يخرق الحجب السبع ۔‬ ‫الصالة صبّہ علی سجادتہ وسجدعليہ ث ّم‬ ‫معاويہ ابن عمارسے روايت ہے کہ‪:‬امام صادق کے پاس ايک پيلے رنگ کی تھيلی تھی جس ميں امام )عليه السالم(خاک شفا‬ ‫رکھتے تھے ‪،‬جيسے ہی نمازکاوقت پہنچتاتھا تو اس تربت کوسجاده پرڈالتے اوراس پرسجده کرتے تھے ‪،‬اگرکوئی آپ سے‬ ‫اس بارے ميں سوال کرتاتھاتوفرماتے تھے ‪:‬تربت امام حسين پرسجده کرناسات )آسمانی (پردوں کوپاره کرديتاہے ۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٩٨‬ص ‪١٣۵‬‬ ‫ّ‬ ‫علی تربة الحسين عليہ السالم تذلال واستکانة اليہ۔‬ ‫کان الصادق عليہ السالم اليسجداال ٰ‬ ‫روايت ميں آياہے کہ امام صادق تربت امام حسينکے عالووه کسی دوسری پرخاک سجده نہيں کرتے تھے اوريہ کام)يعنی‬ ‫خاک کربالپرسجده کرنا(خضوع وخشوع خداوندمتعال ميں زيادتی کے لئے انجام دياکرتے تھے۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪  ۶٠٨‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫رازتشہد‬ ‫تشہدميں چارچيزواجب ہيں‪١ :‬۔بيٹھنا ‪٢‬۔طمانينہ ‪٣‬۔شہادتين ‪۴‬۔محمدوآل محمد پردرودبھيجنا۔‬ ‫ہردورکعتی نمازميں ايک مرتبہ اورتين ياچاررکعتی نمازميں دومرتبہ تشہد پﮍھنا واجب ہے ۔ ہرنمازی پرواجب ہے کہ تمام‬ ‫دورکعتی نمازکی دوسری رکعت کے دونوں سجدے بجاالنے کے بعداوراسی طرح چاررکعتی نماز)ظہروعصروعشاء(کی‬ ‫دوسری وچوتھی رکعت کے بعداورتين رکعتی نماز)مغرب(کی دوسری وتيسری رکعت کے دونوں سجدے بجاالنے کے بعد‬ ‫خضوع وخشوع کے ساتھ زمين پربيٹھے اورجب بدن ساکن ہوجائے توﷲ کی وحدانيت اورپيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و‬ ‫آله(کی رسالت کی گواہی دے اورمحمدوآل محمدپرصلوات بھيج کران کی واليت واطاعت کاثبوت دے اورتشہدميں صرف ات‬ ‫ناکہناکافی ہے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫آل ُم َح ﱠم ٍد۔‬ ‫ص ﱢل ع ٰ‬ ‫ک لَہ َواَ ْشہَ ُداَ ﱠن ُم َح ﱠمداً َع ْبدُه َو َرسُولُہ ‪ ،‬اَللّہُ ﱠم َ‬ ‫َر ْي َ‬ ‫َلی ُم َح ﱠم ٍد َو ِ‬ ‫اَ ْشہَ ُداَ ْن َالاِلہَ اِ ّالﷲ َوحْ دَه َالش ِ‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬پہلی دورکعتوں)کے سجده کرنے کے بعدبيٹھ جائيں (اوراس طرح تشہدپﮍھيں‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫آل ُم َح ﱠمد‪َ ،‬وتَقبﱠلْ َشفَا َعتَہ ِف ْی‬ ‫ص ﱢل ع ٰ‬ ‫ک لَہ َواَ ْشہَ ُداَ ﱠن ُم َح ﱠمداً َع ْبدُه َو َرسُولُہ ‪ ،‬اَللّہُ ﱠم َ‬ ‫َر ْي َ‬ ‫َلی ُم َح ﱠم ٍد َو ِ‬ ‫اَ ْل َح ْم ُد ِ ّ ِ‪ ،‬اَ ْشہَ ُداَ ْن َالاِلہَ اِ ّالﷲ َوحْ دَه َالش ِ‬ ‫اُ ﱠمتِہ َوارْ فَ ْع َد َر َجتَہ۔ ‪ .‬تہذيب االحکام ‪/٢ /‬ص ‪٩٢‬‬ ‫اوادنی‬ ‫حديث معراج ميں آياہے کہ جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سات آسمانی حجاب کو عبورکرتے ہوئے “قاب قوسين‬ ‫ٰ‬ ‫”کے مقام تک پہنچے توپروردگارنے آپ کو نماز پﮍھنے کاحکم ديا…جب دوسری رکعت کے دوسرے سجده سے سر‬ ‫بلندکياتوخداندعالم نے کہا‪:‬اے محمد!بيٹھ جاؤ‪ ،‬پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرمان ٰالہی کے مطابق بيٹھ گئے ‪،‬وحی نازل‬ ‫ہوئی ‪:‬اے محمد!ميں نے تم پرجونعمتيں نازل کی ہيں اس کے بدلہ ميں ميرانام اپنی زبان پرجاری کرواورالہام کياگياکہ يہ‬ ‫کہو‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ّ‬ ‫ْ‬ ‫ّ‬ ‫ُ‬ ‫ْنی کلہَا۔ اس کے بعدوحی الہی نازل ہوئی کہ اے محمد!اپنے آپ پراوراپنے اہلبيت‬ ‫بِس ِْم ﷲِ َوبِا ِ َو َالاِلہَ اِالﷲ َواالَ ْس َما ِء ال ُحس ٰ‬ ‫ّ‬ ‫َ‬ ‫َلی اَہ ِْل بَ ْيتِ ْی۔‬ ‫ع‬ ‫و‬ ‫ی‬ ‫ل‬ ‫ع‬ ‫ﷲ‬ ‫ی‬ ‫ل‬ ‫ص‬ ‫کہا‪:‬‬ ‫آله(نے‬ ‫و‬ ‫عليه‬ ‫پردرودبھيجو‪،‬توپيغمبراکرم )صلی ﷲ‬ ‫ُ َ ﱠ َ ٰ‬ ‫َ‬ ‫‪ .‬الکافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٨۶‬‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫حقيقت يہ ہے کہ ہرنمازی تشہدکے ذريعہ ﷲ کی وحدانيت اورنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی رسالت کااقرارکرتاہے ‪،‬ان‬ ‫دونوں گواہی کوشہادتين کانام دياجاتاہے اور توحيدونبوت کااقرارکرنااصول دين کی مہم اصل ہيں‪،‬انسان ان دونوں کلموں‬ ‫کوزبان پرجاری کرنے سے دين اسالم سے مشرف ہوجاتاہے ‪،‬يہ دونوں گواہی اسالم ميں داخل ہونے اورکفروشرک جيسی‬ ‫باطنی پليدگی اورجسمانی نجاست سے پاک ہونے کی کنجی ہيں ۔ نمازميں شہادتين کوتجديدبيعت کے عنوان سے واجب‬ ‫قراردياگياہے ‪،‬ہرنمازی روزانہ ‪٩‬مرتبہ اپنی واجب نمازوں ميں ان دونوں کلموں کوزبان پرجاری کرکے ﷲ اوراس کے‬ ‫رسول حضرت محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله(کی تجديدبيعت کرتاہے اورہرروزان کلموں کی تکرارکرناانسان کے ايمان‬ ‫وعقيده کومضبوط بناتاہے ‪،‬بے نمازی لوگوں کاايمان وعقيده ضعيف وکمزورہوتاہے اورشيطان اسپرغالب رہتاہے ۔‬ ‫فضل بن شاذان سے مروی ہے ‪:‬امام علی رضا فرماتے ہيں‪ :‬اگرکوئی تم سے يہ معلوم کرے کہ دوسری رکعت کے‬ ‫بعدتشہدپﮍھناکيوں واجب قراردياگياہے ؟ اس کاجواب يہ ہے ‪:‬کيونکہ جس طرح رکوع وسجودسے پہلے اذان‪،‬دعااورقرائت‬ ‫کوالياگياہے اسی طرح ان دونوں کے بعد تشہد‪ ،‬تحميد اور دعا کو قرار ديا گيا ہے۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢۶٢‬‬ ‫راز تورک‬ ‫مردکے لئے مستحب ہے کہ سجده سے سربلندکرنے بعداس طرح بيٹھے کہ بدن کا زوربائيں ران پررہے اوردائيں ران‬ ‫تھوڑاسابائيں ران کے اوپرقرارپائے اوردائيں پيرکی پشت کوبائيں پيرکے تلوے پررکھے اسی طرح دونوں سجدونوں کے‬ ‫درميان بيٹھنامستحب ہے‪ ،‬اس حالت سے بيٹھنے کو تورّک کہاجاتاہے ليکن عورت کے لئے مستحب ہے کہ اپنی رانوں‬ ‫کوآپس ميں مالئے رکھے ۔‬ ‫دائيں جانب کوحق اوربائيں جانب کوباطل کہاجاتاہے ل ٰہذانمازميں تشہدپﮍھتے وقت دائيں ران کواٹھاکرتھوڑاسابائيں‬ ‫پراوردائيں پيرکی پشت کوبائيں پيرکے تلوے پررکھناباطل کونابوداورمٹادينے کی طرف اشاره ہوتاہے اسی لئے تورّک‬ ‫کوتشہدميں مستحب قراردياگياہے اسی مطلب کے بارے ميں امام معصوم)عليه السالم( سے “من اليحضره الفقيہ” ايک حديث‬ ‫نقل کی گئی ہے‪:‬‬ ‫روايت ميں آياہے کہ ايک شخص نے امام علی ابن ابی طالب سے پوچھا‪:‬اے خداکی محبوب ترين مخلوق)حضرت‬ ‫محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله(( کے چچازادبھائی!تشہدميں دائيں ران کوبلندرکھنااوربائيں ران کونيچے‬ ‫رکھناکارازوفلسفہ کياہے؟امام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬يعنی‬ ‫ٰ‬ ‫ت البَاطل َواَقِ ِم ْال َحق۔‬ ‫اللّہ ّم اَ ِم ِ‬ ‫ٰ‬ ‫بارالہا!باطل کونابودکردے اورحق کوسربلندوقائم رکھ‪)،‬کيونکہ داہناعضو حق اور سچائی کامظہرہوتاہے اورباياں باطل‬ ‫وجھوٹ کاکنايہ ہوتاہے ‪،‬اسی لئے تشہدميں دائيں ران اورقدم کوبائيں ران اورقدم کے اوپررکھنے کومستحب قرار دياگياہے‬ ‫تاکہ کفروباطل دب کرمرجائے ‪،‬نابودہوجائے اورحق بلندہوجائے )‬ ‫اس شخص نے دوباره سوال کيااورکہا‪:‬امام جماعت کاسالم ميں “السالم عليکم ”کہنے کاکيامقصدہوتاہے؟امام)عليه السالم( نے‬ ‫فرمايا‪ّ :‬‬ ‫ان االمام يترجم عن ﷲ عزوجل ويقول فی ترجمتہ الہل الجماعة ا ٔمان لکم من عذاب ﷲ يوم القيامة۔‬ ‫بيشک امام جماعت خداوندمتعال کی جانب سے اس کے بندوں کے لئے ترجمانی کرتاہے جواپنے ترجمہ ميں اہل جماعت‬ ‫سے خداکی طرف کہتاہے مومنين سے کہتاہے ‪:‬تمھيں روزقيامت کے عذاب ٰالہی سے امان ونجات مل گئی ہے ۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٢٠‬‬ ‫جابرابن عبدﷲ انصاری سے روايت ہے کہ ميں موالاميرالمومنين علی ابن ابی طالب کی خدمت ميں موجودتھا‪،‬آپ نے ايک‬ ‫شخص کونماز پﮍھتے ہوئے ديکھاجب وه نمازسے فارغ ہواتوموالنے اس سے پوچھا‪:‬اے مرد!کياتم نمازکی تاويل وتعبيرسے‬ ‫آشنائی رکھتے ہو؟اس نے جواب ديا‪:‬ميں عبادت کے عالوه نمازکی کوئی تاويل وتعبيرنہيں جانتاہوں‪،‬ميں فقط ات ناجانتاہوں‬ ‫کہ نمازايک عبادت ہے ‪،‬امام )عليه السالم(نے اسسے فرمايا‪ :‬قسم اس خدا کی جس نے محمد )صلی ﷲ عليه و آله(کونبوت‬ ‫عطاکی‪ ،‬خداوند عالم نے جت نے بھی کام نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کوبجاالنے کاحکم دياہے اس ميں کوئی‬ ‫رازاورتعبيرضرورپائی جاتی ہے اوروه سب کام بندگی واطاعت کی نشانی ہيں ‪،‬اس مردنے کہا‪:‬اے ميرے موال!آپ مجھے‬ ‫ان سے ضرورآگاه کيجئے اوربتائے کہ وه کياچيزيں ہيں؟امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫تشہدپﮍھتے وقت بائيں ران پربيٹھنااوردائيں پيرکی پشت کوبائيں پيرکے تلوے پررکھنااوردائيں ران کوتھوڑاسابلندکرکے‬ ‫بائيں ران رکھناتاکہ وه تھوڑی سی دب جائے )اس طرزسے بيٹھنے کو تورّک کہاجاتاہے(کامطلب يہ ہے نمازی اپنے دل ميں‬ ‫ٰ‬ ‫کرے‪:‬بارالہا!ميں نے حق کواداکيااورباطل کودفنادياہے ہے ‪،‬تشہديعنی تجديدايمان اوراسالم کی طرف بازگشت‬ ‫يہ اراده‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫اورمرنے کے بعددوباره زنده ہونے کااقرارکرنااورتشہدکے يہ بھی معنی ہيں‪:‬ميں ﷲ کوان سب باتوں سے بزرگ‬ ‫وبرترمانتاہوں جوکفارومشرکين اس کی توصيف کرتے ہيں۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨١‬ص ‪٢۵٣‬‬ ‫رازصلوات‬ ‫تشہدنمازميں صلوات کے واجب قراردئے جانے کارازيہ ہے‪ :‬نمازگزارکے لئے ضروری ہے کہ اپنے دل ميں پيغمبراکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(کے عالوه ان کی آل اطہارکی بھی محبت رکھتاہواوران کے دشمن سے بيزاری بھی‬ ‫کرتاہو‪،‬نمازگزارکے لئے ضروری ہے کہ وه تابع امامت وواليت ہونے کاثبوت دے ‪،‬اورصاحب محبت ومودت محمدآل‬ ‫محمدہونے کاثبوت دے اسی لئے نمازمينصلوات واجب قراردياگياہے کيونکہ صلوات کے ذريعہ واليت کاثبوت دياجاتاہے کہ‬ ‫جس کے بغيرنمازہرگزقبول نہيں ہوتی ہے ‪،‬بارگاه خداوندی ميں صرف انھيں لوگوں کی نمازقبول ہوتی ہے جوآ ل محمدکی‬ ‫محبت ومودت کے ساتھ نمازاداکرتے ہيں اوراپنے دلوں ميں ال رسول کی محبت کاچراغ روشن رکھتے ہيں ليکن اگران کی‬ ‫محبت کاچراغ دل ميں روشن نہيں ہے تووه عبادت بے کارہے اورﷲ کی بارگاه ميں قبول نہيں ہوتی ہے‪،‬نمازو عبادت اسی‬ ‫وقت فائده مندواقع ہوسکتی ہے جب نمازکواہلبيت کی محبت و معرفت اوران کی اطاعت وواليت کے زيرسايہ انجام دياجائے‬ ‫‪،‬اہلبيت کی محبت وواليت کے بغيرسب نمازيں بےکارہيں۔‬ ‫فيہاوعلی اہل ( بيتی لم تقبل منہ۔) ‪۴‬‬ ‫ی‬ ‫ٰ‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ آلہ وسلم ‪ :‬من صلی صالة ولم يصل عل ّ‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪ :‬جو شخص نماز پﮍھے اور مجھ پر اور ميرے اہل بيت پر درود نہ بھيجے اس‬ ‫کی نماز قبول نہيں ہے۔‬ ‫‪ .‬الغدير)عالمہ امينی(‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣٠۴‬‬ ‫نمازميں صلوات کواس لئے واجب قراردياگياہے کيونکہ تاکہ اس کے ذريعہ اہلبيت اطہار کی واليت ومحبت‬ ‫کااقرارکياجاتاہے اورنمازميں محمدوآل محمدعليہم الصالة والسالم پردرودبھيجنانمازکے صحيح وکامل اورمقبول ہونے‬ ‫کاثبوت ہے ل ٰہذااگرکوئی شخص صلوات کوترک کردے تواس کی نمازباطل ہے‬ ‫عن ابی يصيروزرارة قاال‪ :‬قال ابو عبدﷲ عليہ السالم ‪:‬من تمام الصوم اعطاء الزکاة )يعنی الفطرة( کماان الصالة علی النبی‬ ‫صلی ﷲ عليہ وآلہ من تمام الصالة ومن صام ولم يو ٔدہافالصوم لہ ان ترکہامتعمداً ‪ ،‬ومن صلی ولم يصل علی النبی صلی ﷲ‬ ‫عليہ وآلہ وترک متعمدافالصالة لہ‪ .‬ابوبصيراورزراره سے مروی ہے ‪:‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬روزه زکات فطره کے ذريعہ‬ ‫مکمل)اورقبول( ہوتاہے جس طرح نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(پرسالم کے مکمل اورقبول ہوتی ہے ‪ ،‬پس اگرکوئی شخص‬ ‫روزه رکھے اورعمداًزکات فطره ديناترک کردے تواس کاروزه قبول نہيں ہوتاہے اورجوشخص نمازپﮍھے اورعمداًمحمدوآل‬ ‫محمد عليہم الصالة والسالم پردرودنہ بھيجے تواس نمازقبول ہوتی ہے۔‬ ‫رازسالم‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے نمازکومومن کی معراج قراردياہے اور جو شخص بارگاه ملکوتی کی طرف پروازکرتاہے‬ ‫ٰ‬ ‫سفرالہی اورمعراج سے واپس آتاہے تواسے‬ ‫تومعنوی طورسے لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجاتاہے ل ٰہذاجيسے ہی مومن‬ ‫چاہئے کہ سب پہلے ﷲ کی محبوب ترين وعظيم الشان مخلوق حضرت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(پرسالم بھيجے اس کے‬ ‫بعدتمام انبياء وصلحاء کوسالم کرے اسکے بعدتمام مومنين کوسالم کرے ۔ نمازی سالم کے ذريعہ نمازسے فارغ ہوجاتاہے‬ ‫اوروه چيزيں جوتکبيرة االحرام کہنے کے ساتھ حرام ہوجاتی ہيں مثالکسی چيزکاکھانا ‪،‬سونا‪،‬قبلہ سے منحرف ہوناوغيره يہ‬ ‫سب سالم کے ذريعہ حالل ہوجاتی ہيں۔‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ وسلم‪:‬مفتاح الصالة الطہور َوتحري ِمہاالتکبير وتحليلہاالسّالم واليقبل ﷲ صالةً بغيرالطہور‪.‬‬ ‫رسول __________اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬طہارت نمازکی کنجی ہے اورتکبير“ﷲ اکبر”اس کی تحريم ہے‬ ‫اورسالم نمازاس کی تحليل ہے)يعنی جوچيزيں نمازکے منافی ہيں وه تکبيرکے ذريعہ حرام ہوجاتی ہيں اورسالم کے بعدحالل‬ ‫ہوجاتی ہيں(اورخداوندعالم بے طہارت لوگوں کی نمازقبول نہيں کرتاہے‪.‬‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٧٧‬ص ‪٢١۴‬‬ ‫رازسالم کے بارے ميں حديث معراج ميں آياہے کہ جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله( معراج پرتشريف لے گئے اورآپ‬ ‫کونمازپﮍھنے کاحکم دياگياتوآپ نے نمازپﮍھناشروع کی اورتشہدوصلوات کوانجام دينے کے بعدمالئکہ وانبيائے کرام‬ ‫کونمازميں حاضرديکھا‪،‬حکم پروردگارہوا ‪:‬اے محمد!ان سب کوسالم کرو‪،‬پسآنحضرت نے کہا‪” :‬السالم عليکم ورحمة ﷲ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫وبرکاتہ“‬ ‫پروردگاکی طرف سے وحی نازل ہوئی‪:‬‬ ‫ان السالم والتحية والرحمة والبرکات انت وانت وذريتک تم پراورتمھاری آل پرخداوندعالم کی رحمت ‪،‬برکت اورسالمت نازل‬ ‫ہو‪،‬اس کے بعدوحی نازل ہوئی ‪:‬اے پيغمبر!اب اپنے دائيں جانب متوجہ ہوجاؤ۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪۴٨۶‬‬ ‫فضل بن شاذان سے مروی ہے ‪:‬امام علی رضا فرماتے ہيں ‪:‬نمازميں تکبيرياتسبيح يا کسی اوردوسری چيزکوتحليل نمازنہيں‬ ‫قراردياگياہے بلکہ سالم کوتحليل نماز قرارديا گياہے اورسالم کوتحليل نمازقراردئے جانے کی وجہ يہ ہے کہ )تکبيرة االحرام‬ ‫کے ذريعہ( نمازميں داخل ہوتے ہی بندوں سے کالم وباتيں کرناحرام ہوجاتاہے اورپوری توجہ خالق کی معطوف ہوجاتی ہے‬ ‫‪،‬جب انسان نمازتمام کرے اورحالت نمازسے فارغ ہونے لگے تومخلوق سے کالم کرناحالل ہوجاتاہے اورمخلوق سے باتوں‬ ‫کی ابتداء سالم کے ذريعہ ہونی چاہئے اسی لئے سالم کوتحليل نمازقراردياگياہے۔‬ ‫‪ .‬عيون اخبارالرضا)عليه السالم(‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١١۵‬‬ ‫محمدابن سنان نے مفضل ابن عمرسے ايک طوالنی روايت نقل کی ہے ‪،‬مفضل کہتے ہيں کہ ميں نے امام صادق سے‬ ‫پوچھا‪:‬نمازميں سالم کے واجب قراردئے جانے کی کياوجہ ہے ؟‬ ‫امام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬کيونکہ سالم تحليل نمازہے ميں نے عرض کيا‪:‬اس کی کياوجہ ہے کہ نماز گزار کو سالم پﮍھتے‬ ‫وقت اپنی دائيں جانب نگاه کرناچاہئے اوربائيں جانب سالم نہيں ديناچاہئے ؟ امام)عليه السالم( نے فرمايا ‪ :‬کيونکہ وه مو کٔل‬ ‫فرشتہ جو انسان کی نيکيوں کو لکھتا ہے وه دا ئيں جانب رہتا ہے اور وه فرشتہ جوبرائيوں کو درج کرتاہے وه بائيں جانب‬ ‫رہتا ہے اور)صحيح ومکمل (نمازميں نيکياں ہی نيکياں پائی جاتی ہيں اوربرائی کاکوئی وجودہی نہيں ہوتاہے اس لئے‬ ‫مستحب ہے کہ نماز گزار سالم پﮍھتے وقت اپنی دائيں جانب نگاه کرے نہ بائيں جانب ميں نے پوچھا‪:‬جب دائيں جانب ايک‬ ‫فرشتہ مو کٔل ہے توسالم ميں واحدکاصيغہ استعمال کيوں نہيں کرتے ہيں يعنی “السالم عليک ”)سالم ہ��تجھ پر(کيوں نہيں‬ ‫کہتے ہيں بلکہ جمع کی لفظ استعمال کرتے ہيں اس کی کياوجہ ہے کہ سالم “ السالم عليکم ” کہتے ہيں؟ امام)عليه السالم(‬ ‫نے فرمايا‪“ :‬السالم عليکم”اس لئے کہاجاتاہے تاکہ دائيں وبائيں جانب کے دونونفرشتوں کوسالم کياجاسکے ليکن دائيں جانب‬ ‫کے فرشتہ کی فضيلت دائيں طرف اشاره کرنے سے ثابت ہوجاتی ہے ورنہ حقيقت ميں دونونفرشتوں کوسالم کياجاتاہے ‪،‬ميں‬ ‫نے کہا‪:‬ماموم کوتين سالم کيوں کہنے چاہئے ؟امام)عليه السالم( نے فرمايا‪ :‬پہالسالم امام جماعت کے سالم کا جواب اورامام‬ ‫جماعت کواورامام جماعت کے دونونفرشتوں کو سالم کرنامقصودہوتاہے‬ ‫دوسراسالم ان مومنين کے لئے ہوتاہے جواس کے دائيں جانب ہوتے ہيں اوران فرشتوں کوسالم کياجاتاہے جو مومنين‬ ‫اورخود پرمو کٔل ہيں‬ ‫تيسراسالم ان مومنين کے لئے ہوتاہے جواس کے بائيں جانب ہوتے ہيں اور ان فرشتوں کوسالم کياجاتاہے جو مومنين‬ ‫اورخود پرمو کٔل ہيں اوروه شخص کہ جس کے بائيں جانب کوئی نمازی نہ ہوتوبائيں جانب سالم نہ کرے ‪،‬ہاں اگر اس کے‬ ‫دائيں جانب ديوارہواورکوئی نمازی دائيں طرف نہ ہواوربائيں طرف کوئی نمازی موجودہوجواس کے ہمراه امام جماعت کے‬ ‫پيچھے نمازپﮍھ رہاتھاتواس صورت ميں بائينطرف سالم کرے‬ ‫مفضل کہتے ہيں ‪:‬ميں نے امام)عليه السالم( سے معلوم کيا‪:‬امام جماعت کس لئے سالم کرتاہے اورکس‬ ‫چيزکاقصدکرتاہے؟امام)عليه السالم( نے جواب ديا‪:‬دونونفرشتوں اورمامومين کوسالم کرتاہے ‪،‬وه اپنے دل ميں ان دونوں‬ ‫فرشتوں سے کہتاہے ‪:‬نمازکی صحت وسالمتی کولکھواوراسے ان چيزوں سے محفوظ رکھو جونمازکوباطل کرديتی ہيں‬ ‫اورمامومين سے کہتاہے تم لوگ اپنے آپ کو عذاب ٰالہی سے محفوظ وسالم رکھو‬ ‫فضل کہتے ہيں‪ :‬ميں نے امام)عليه السالم( سے کہا‪:‬سالم ہی کوکيوں تحليل نمازکيوں قرادياگياہے؟)تکبير‪،‬تسبيح ياکسی‬ ‫دوسری چيزکوکيوں نہيں قراردياگياہے؟(امام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬کيونکہ اس کے ذريعہ )دونوں کاندھوں پرمو‬ ‫ٔکل(دونونفرشتوں کاسالم کياجاتاہے اورنمازکااس کے پورے آداب شرائط کے ساتھ بجاالنااور رکوع وسجودوسالم نمازبنده‬ ‫کانارجہنم سے رہائی کاپروانہ ہے ‪،‬روزقيامت جس کی نمازقبول ہوگئی اس کے دوسرے اعمال بھی قبول ہوجائيں گے‬ ‫‪،‬اگرنمازصحيح وسالم ہے تودوسرے اعمال بھی صحيح واقع ہونگے اورجس کی نمازردکردی گئی اس کے دوسرے اعمال‬ ‫صالح بھی ردکردئے جائيں گے ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرايع‪/‬ص ‪١٠٠۵‬‬ ‫”معانی االخبار”ميں عبدﷲ ابن فضل ہاشمی سے مروی ہے ميں نے امام صادق سے سالم نمازکے معنی‬ ‫ومقصودکوپوچھاتوامام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬سالم امن وسالمتی کی عالمت ہے اورتحليل نمازہے کہ جس کے ذريعہ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫نمازسے فارغ ہواجاتاہے ‪،‬ميں نے کہا‪:‬اے ميرے امام !ميری جان آپ پرقربان ہومجھے آگاه کيجئے کہ نمازميں سالم‬ ‫کوواجب قراردئے جانے کی وجہ کياہے؟امام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬‬ ‫گذشتہ زمانہ ميں لوگوں کی يہ روش تھی کہ اگرآنے واالشخص لوگوں کوسالم کردياکرتاتھاتواس کامطلب يہ ہوتاتھاکہ لوگ‬ ‫اسکے شرسے امان ميں ہيں اوراگرآنے والے کواپنے سالم کاجواب مل جاتاتھاتواس کے يہ معنی ہوتے تھے کہ وه بھی ان‬ ‫لوگوں کے شرسے امان ميں ہے ‪،‬ليکن اگرآنے واالشخص سالم نہيں کرتاتھا تواس کے يہ معنی ہوتے تھے کہ لوگ اس کے‬ ‫شرسے محفوظ نہيں ہيں اوراگرآنے سالم کرتاتھامگردوسری طرف سے کوئی جواب سالم نہيں دياجاتھاتويہ اس چيزکی‬ ‫پہچان تھی کہ آنے واالشخص کی خيرنہيں ہے اوروه ان کے شرسے ا مان ميں نہيں ہے اوريہ اخالق عربوں کے درميان‬ ‫رائج تھا‪،‬پس سالم نمازسے فارغ ہونے کی عالمت ہے اورسالم مومنين سے کالم کرنے کے جائزہونے کی پہچان ہے ‪،‬اب‬ ‫تعالی کے ناموں ميں سے ايک نام ہے کہ جسے نمازگزارخداوندعالم کی طرف‬ ‫بندوں سے باتيں کرناجائزہے‪“ ،‬سالم ”ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫معين کئے گئے دوفرشتوں سے مخاطب ہوکرانجام ديتاہے۔‬ ‫‪ .‬معانی االخبار‪/‬ص ‪١٧۶‬‬ ‫فضل بن شاذان سے روايت ہے امام علی رضا فرماتے ہيں‪:‬نمازميں سالم کوتحليل نمازاس لئے قراردياگياہے اوراس کے بدلہ‬ ‫ميں تکبير‪،‬تسبيح يااورکسی دوسری چيزکوتحليل نماز قرارنہيں دياگياہے کيونکہ جب بنده تکبيرکے ذريعہ نمازميں داخل‬ ‫ہوجاتاہے تو اس کابندوں سے ہمکالم ہوناحرام ہوجاتاہے اورفقط خداکی جانب متوجہ رہناہوتاہے الجرم نمازسے خارج ہونے‬ ‫ميں مخلوق سے کالم حالل ہوجاتاہے اورپوری مخلوق کواپنے کالم کی ابتد اسالم کے ذريعہ کرنی چاہئے ل ٰہذانمازگذارجب‬ ‫نمازسے خارغ ہوتاہے پہلے مخلوق سے ہمکالم ہونے کوحالل کرے يعنی پہلے سالم کرے اوراس کے بعدکوئی کالم کرے‬ ‫اسی نمازکے آخرميں سالم کوقراردياگياہے۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪ ٢۶٢‬۔عيون اخبارالرضا‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١١۵‬‬ ‫روايت ميں آياہے کہ ايک شخص نے امام علی ابن ابی طالب ‪+‬سے پوچھا‪:‬اے خداکی محبوب ترين مخلوق )حضرت‬ ‫محمدمصطفی )صلی ﷲ عليه و آله((کے چچازادبھائی!امام جماعت کاسالم ميں “السالم عليکم ”کہنے کا کيا مقصد ہوتا ہے؟‬ ‫تو امام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫ان االمام يترجم عن ﷲ عزوجل ويقول فی ترجمتہ الہل الجماعة ا ٔمان لکم من عذاب ﷲ يوم القيامة۔‬ ‫کيونکہ امام جماعت خداوندمتعال کی جانب سے اس کے بندوں کے لئے ترجمانی کرتاہے جواپنے ترجمہ ميں اہل جماعت‬ ‫سے کہتاہے ‪:‬تمھيں روزقيامت کے ٰالہی عذاب سے امان ونجات مل گئی ہے ۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٣٢٠‬‬ ‫مفضل ابن عمروسے مروی ہے کہ ميں نے امام صادق سے پوچھا‪:‬کياوجہ ہے کہ سالم نمازکے بعدتين مرتبہ ہاتھوں‬ ‫کوبلندکياجائے اورتين مرتبہ“ﷲ اکبر” کہاجائے؟امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬جس وقت رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے‬ ‫مکہ فتح کياتواپنے اصحاب کے ساتھ حجراسودکے قريب نمازظہراداکی اورسالم پﮍھاتواپنے ہاتھوں کواوپرلے گئے اورتين‬ ‫مرتبہ تکبيرکہی اسکے بعديہ دعاپﮍھی‪:‬‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ک ‪َ ،‬ولَہُ ال َح ْم ُد ‪ ،‬يُحْ يِ ْی َويُ ِم ْي ُ‬ ‫ت‬ ‫َاب َوحْ دَه ‪ ،‬فَلَہُ ال ُمل ُ‬ ‫ب االَحْ ز َ‬ ‫ص َر َع ْبدَه ‪َ ،‬واَ َع ﱠز ُج ْندَه ‪َ ،‬و َغلَ َ‬ ‫َالاِ ٰلہَ اِ ّالﷲُ َوحْ دَه َوحْ دَه ‪ ،‬اَ ْن َج َز َو ْعدَه ‪َ ،‬ونَ َ‬ ‫َوہُ َوع َٰلی ُک ﱢل شَی َٔق ِد ْيرٌ‪.‬‬ ‫اس کے بعداپنے اصحاب کی طرف رخ کرکے ارشادفرمايا‪:‬اس تکبيراوردعاکوکسی بھی واجب نمازکے بعدترک نہ‬ ‫کرناکيونکہ جوشخص سالم کے بعداس دعاکوپﮍھے گويااس نے اس شکرکوجواسالم وسپاہيان اسالم کاشکراس کے‬ ‫اوپرواجب تھااداکردياہے۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٣۶٠‬‬ ‫رازقنوت‬ ‫لغت ميں خضوع وخشوع اوراطاعت وفرمانبرداری کوقنوت کہتے ہيں اوردعا ونمازاورعبادت کوبھی قنوت کہتے ہيں جيسا‬ ‫کہ خداوندعالم حضرت مريم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے ‪) (١ ) :‬اے مريم ! تم اپنے پروردگار کی اطاعت کرو)‬ ‫‪)١ .‬آل عمران ‪/‬آيت ‪) ۴٢‬‬ ‫محمدابن مسعودکی “تفسيرعياشی ”ميں امام صادق سے نقل کياگياہے کہ ‪:‬اس قول خداوندی ) ‪ (١‬ميں“ قانتين ” سے‬ ‫“مطيعين”مرادہے يعنی نمازکوخضوع وخشوع اوراطاعت خداوندی کے ساتھ بجاالو ۔ٔ‬ ‫‪)١ .‬بقره ‪/‬آيت ‪ ٢٣٨‬تفسيرعياشی ‪/‬ج ‪١‬ج‪/‬ص ‪) ١٢٧‬‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫فقہا کی اصطالح ميں نمازميں ايک مخصوص موقع پرايک خاص طريقہ سے دعاکرنے کوقنوت کہاجاتاہے اوردعاکے آداب‬ ‫ميں سے ايک يہ بھی ہے کہ دونوں ہاتھوں کوچہرے کے مقابل دونوں ہاتھوں کوآپس ميں مالکرہتھيليوں کے رخ کوآسمان‬ ‫کی جانب قراردياجائے اورہتھيليوں پرنگاه کھی جائے‬ ‫قنوت ميں کسی مخصوص ذکرکاپﮍھناشرط نہيں ہے بلکہ جائزہے نمازی جس دعاوذکراورمناجات کوبھی چاہے پﮍھے ليکن‬ ‫مستحب ہے کہ قنوت ميں معصومسے منقول يہ دعاپﮍھی جائے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ُ‬ ‫ﱠ‬ ‫ﱠ‬ ‫َ‬ ‫ﱡ‬ ‫ْفُ‬ ‫َلی ک ﱢل‬ ‫کع ٰ‬ ‫اآلخ َر ِة ‪،‬اِن َ‬ ‫َا‪،‬وعَافِنَا‪َ ،‬واع َعنافِی الدنيَا َو ِ‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬قنوت ميں يہ دعاپﮍھناکافی ہے‪ :‬اَللّہُ ﱠم ا ْغفِرْ لنَا‪َ ،‬وارْ َح ْمن َ‬ ‫شَی ٍء قَ ِديْر۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪٨٧‬‬ ‫اورامام صادق فرماتے ہيں‪ :‬نمازجمعہ کی پہلی رکعت ميں قرائت کے بعد کلمات فرج کوذکرکياجائے اوروه يہ ہيں‪:‬‬ ‫ّ‬ ‫ّ‬ ‫‪،‬ومابينہن‪،‬‬ ‫‪،‬ومافيہن‬ ‫الالہ ّاالﷲ الحليم الکريم ‪،‬الالہ ّاالﷲ العلی العظيم ‪ ،‬سبحان ﷲ ربّ السموات السبع وربّ االرضين سبع‬ ‫وربّ العرش العظيم‪ ،‬والحمدللھربّ العالمين ٰ‬ ‫‪،‬اللّہم ص ّل علی محمدوآلہ کماہديت نابہ ۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪  ١٨‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫رازنمازقصر‬ ‫سفراورخوف کی حالت ميں آٹھ شرائط کے ساتھ چاررکعتی نمازکودورکعت پﮍھناواجب ہے ليکن نمازصبح اورمغرب‬ ‫کوپوری پﮍھناواجب ہے اوراس بارے ميں علمائے کے درميان کوئی اختالف نہيں ہے کہمسافر کو قصرو اتمام کے درميان‬ ‫کوئی اختيارنہيں ہے بلکہ قصرپﮍھناواجب ہے۔‬ ‫قال رسول صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪:‬ان ﷲ عزوجل تصدق علی مرضی امتی ومسافريہابالتقصيرواالفطار‪ ،‬وہل يسراحدکم اذاتصدق‬ ‫بصدقة ان تردعليہ‪ .‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬بيشک خدائے عزوجل نے ميری امت کے مريضوں‬ ‫اورمسافروں پرنمازکے قصرہونے اورروزے کانہ رکھنے کاتصدق عطاکياہے ‪،‬اگرتم کسی کے ساتھ کوئی اچھائی‬ ‫کرواوروه تمھارے اس تصدق کوواپس کردے توکياتمھيں اس سے کوئی خوشی ملے گی ؟۔‬ ‫‪ .‬کافی‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪١٢٧‬‬ ‫زراره اورمحمدابن مسلم سے روايت ہے‪ :‬ہم دونوں نے امام محمدباقر سے عرض کيا‪:‬سفرکی حالت ميں نمازپﮍھنے کے‬ ‫بارے ميں کياحکم ہے ‪،‬اورکس طرح سے نمازپﮍھنی چاہئے اورکت نی رکعت پﮍھنی چاہئے ؟ اما م)عليه السالم( نے‬ ‫فرمايا‪:‬کياتم نے اس آيہ مبارکہ کونہيں پﮍھاہے جسميں خداوندعالم ارشادفرماياتاہے‪:‬‬ ‫صرُوْ ا ِمنَ الصﱠال ِة> ترجمہ‪:‬اورجب تم زمين ميں سفرکروتوتمھارے لئے کوئی‬ ‫ض فَلَ ْي َس َعلَ ْي ُک ْم ُجنَا ٌح اَ ْن تَ ْق ُ‬ ‫< َواِ َذا َ‬ ‫ض َر ْبتُ ْم ِفی االَرْ ِ‬ ‫حرج نہيں ہے کہ تم اپنی نمازيں قصرکرو۔‬ ‫‪ .‬سوره نساء ‪/‬آيت ‪١٠١‬‬ ‫يہ آيہ مبارکہ اس چيزپرداللت کرتی ہے کہ سفرميں نمازکوقصرپﮍھناواجب ہے جس طرح حضرميں نمازکوپوری‬ ‫پﮍھناواجب ہے ‪،‬راوی کہتے ہيں کہ ہم نے امام )عليه السالم( نے سے عرض کيا‪:‬خداوندعالم نے آيہ مبارکہ مينفرماياہے کہ‬ ‫جس سے وجوب کے معنی نہيں سمجھے جاتے ہيں اوراس نے “افعلوا” نہيں کہاہے کہ جس سے وجوب کے معنی سمجھ‬ ‫ميں ائيں پس اس آيہ مبارکہ سے کس طرح ثابت کياجاسکتاہے کہ سفرميں نمازکوقصرپﮍھناواجب ہے جس طرح حضرميں‬ ‫پوری واجب ہے؟امام )عليه السالم( نے فرمايا‪ :‬کياخداوندعالم نے صفااورمروه کے بارے ميں ارشادنہيں فرماياہے‪:‬‬ ‫<فَ َم ْن َح ﱠج ْالبَيْتَ اَ ِوا ْعتَ َم َرفَ َال ُجنَا َح َعلَ ْي ُک ْم اَ ْن يَطُوْ فَ ِب ِہ َما> جوشخص بھی حج ياعمره کرے اس کے لئے کوئی حرج نہيں ہے کہ‬ ‫ان کادونوں پہاڑيوں کاچکرلگائے ۔‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪ .‬سوره بقره‪/‬آيت‪١۵٨ /‬‬ ‫اورکياتم نہيں جانتے ہوکہ ان دونوں کاچکرلگاناواجب ہے کيونکہ خدائے عزوجل نے اس کا اپنی کتاب ميں ذکرکياہے‬ ‫اورنبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے اسے انجام دياہے پس اسی طرح سفرميں نمازکوقصرپﮍھنا واجب ہے کيونکہ نبی اکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(نے سفرميں نمازکوقصرپﮍھا ہے اورخداوندعالم نے قصرکواپنی کتاب ميں ذکرکياہے‪،‬راوی کہتے ہيں‬ ‫کہ ہم نے امام باقر سے عرض کيا‪ :‬اگرکوئی شخص سفرميں نمازکوچاررکعتی پﮍھے‪،‬اسے اپنی نمازکااعاده کرناچاہئے‬ ‫يانہيں؟امام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫اگراس کے سامنے آيہ تٔقصيرکوپﮍھاگياہے اوراسے تقصيرکے بارے ميں بتاياگياہے تواعاده کرناواجب ہے ليکن اگرآيت کی‬ ‫قرائت نہيں کی گئی ہے اوراسے تقصيرسے آگاه نہيں کياگياہے اوراسے تقصيرکے بارے ميں تعليم نہيں دی گئی ہے تواس‬ ‫کااعاده نہيں ہے ‪،‬اس کے بعدامام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬‬ ‫الصلوات کلہافی السفررکعتان کل صالة ّاالالمغرب فانہاثالث ليس فيہا تقصيرترکہارسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ فی‬ ‫السفروالحضرثالث رکعات‪ .‬نمازمغرب کے عالوه روزانہ کی تمام نمازوں ميں سے ہرنمازکوسفرميں دورکعت پﮍھناواجب‬ ‫ہے‪ ،‬نمازمغرب ميں کوئی تقصيرنہيں ہے کيونکہ نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سفراورحضرميں نمازمغرب کواسی طرح‬ ‫پﮍھتے تھے ۔‬ ‫‪ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪۴٣۴‬‬ ‫عيون اخبارالرضا مينفضل بن شاذان سے مروی ہے‪ :‬اگرکوئی شخص يہ سوال کرے کہ ‪ :‬سفرميں نمازکے قصرپﮍھنے‬ ‫کاحکم کيوں جاری ہواہے؟تواسے اس طرح جواب دو‪:‬کيونکہ نمازاصل ميں دس رکعت واجب تھی اورسات رکعت‬ ‫کابعدميں)پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی فرمائش سے ( اضافہ کياگياہے اس کے بعدخداوندعالم نے مسافرکے لئے ان‬ ‫زحمت ومشقت کی وجہ سے جواسے سفرميں اٹھانی پﮍتی ہيں اورچونکہ نمازﷲ کے لئے ہی پﮍھی جاتی ہے اسی لئے اس‬ ‫نے نمازمغرب کے عالوه تمام اضافی کی گئی رکعتوں کوختم کردياہے اورنمازمغرب سے اس لئے کوئی رکعت کم نہيں کی‬ ‫ہے کيونکہ نمازمغرب اصل ميں مقصوره ہے ۔‬ ‫‪ .‬عيون اخبارالرضا ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١٠۶‬‬ ‫محمدابن مسلم سے روايت ہے کہ ميں نے امام صادق کی محضرمبارک ميں ان سے معلوم کياکہ‪ :‬سفراورحضرميں‬ ‫نمازمغرب کوتين رکعت کيوں پﮍھاجاتاہے اوربقيہ نمازوں کودورکعت ؟امام )عليه السالم( نے فرمايا‪:‬کيونکہ رسول اکرم‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله(پرنمازدودورکعتی واجب کياگياتھااوراورآنحضرت نے تمام نمازوں ميں دودورکعت کاضميمہ‬ ‫کيااورپھرنمازمغرب سے ايک رکعت کوکم کرديااورسفرميں ہرنماز ميں سے دورکعت کوکم کردياليکن نمازمغرب کوسفرميں‬ ‫اسی تين رکعت کی حالت پررکھاکيونکہ اورفرمايا‪:‬نمازمغرب سے کسی رکعت کوکم کرتے ہوئے مجھے حياآتی ہے اسی‬ ‫لئے نمازمغرب کوسفروحضرميں تين رکعت ہی پﮍھی جائے ۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨۶‬ص ‪۵۶‬‬ ‫نمازصبح کوسفروحضرميں اسی دورکعتی حالت پررکھاگياہے اس بارے ميں سعدنے مسيب سے منقول امام علی بن الحسين‬ ‫کی ايک روايت“پنچگانہ نمازوں”کے عنوان ميں ذکرکرچکے ہيں ل ٰہذاتکرارکی ضرورت نہيں ہے ۔‬ ‫عيون اخبارالضا مينفضل بن شاذان سے مروی ہے‪ :‬اگرکوئی شخص يہ سوال کرے کہ آٹھ فرسخ کے سفرميں ہی نمازکوکيوں‬ ‫قصرقراردياگياہے اس سے کم ميں کيوں نہيں؟تواس کاجواب يہ ہے‪:‬کيو نکہ عموما ً قافلہ اورحيوان بردارلوگ‬ ‫اوردی__________گرمسافروں کے لئے آٹھ فرسخ ايک دن کی سيرہے اسی لئے ايک دن کی سيرکے حساب سے‬ ‫نمازکوقصرقراردياگياہے‬ ‫اوراگرکوئی يہ کہے کہ ايک دن کی سيرکی مقدارميں نمازکوقصرکيوں رکھاگياہے ؟اس کاجوب يہ ہے کہ اگرايک دن کی‬ ‫سيرميں نمازکے قصرہونے کوواجب قرارنہ دياجاتاتو ہزارسال کی سيرميں بھی قصرکوواجب قرارنہ دياجاتاکيونکہ ہروه دن‬ ‫جوآج کے بعدآتاہے وه بھی آج ہی کے مانند ہوتاہے يعنی دن سب برابرہيں اج ہوياکل‪،‬آج اورکل کے دن ميں کوئی فرق نہيں‬ ‫ہے ‪،‬اگرايک دن کی سيرميں نمازکوقصرنہ رکھاجاتاتواس کے نظيرميں بھی قصرنہ رکھاجاتا اگرکوئی يہ کہے کہ‬ ‫سيرمينفرق ہوتاہے اونٹ ايک دن ميں اٹھ فرسخ راستہ طے کرتاہے مگرگھوڑامثالًبيس فرسخ راستہ طے کرتاہے )اورآج‬ ‫کے زمانہ ميں انسان ايک دن جہازکے ذريعہ نہ معلوم کت نی دورپہنچ جاتاہے(پس يہ ايک دن کی مسافت کوآٹھ فرسخ کيوں‬ ‫قراردياگياہے ؟اس کاجواب يہ ہے ‪:‬کيونکہ اونٹ اورقافلے والوں کی سيرغالب آٹھ فرسخ ہوتی ہے اوراونٹ اورقافلے والے‬ ‫لوگ غالباًاس مقدارمسافت کوايک دن مينطے کرتے ہيں۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪ .‬عيون اخبارالرضا ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١٠۶‬‬ ‫حيض کی حالت ميں ترک شده نمازوں کاحکم‬ ‫دين اسالم ميں کسی بھی شخص کے لئے نمازکومعاف نہيں کياگياہے بلکہ ہرحال ميں نمازواجب ہے اوروه نمازيں‬ ‫جوعمداًياسہواياکسی مجبوری کی بناء پرترک وجاتی ہيں ان کی قضابجاالناواجب ہے البتہ عورتوں کی وه نمازيں جوہرماه‬ ‫کی عادت کے دنوں ميں يانفاس کی حالت ميں ترک ہوجاتی ہيں ان کے لئے دين اسالم ميں رخصت دی گئی ہے اور ان کی‬ ‫قضابجاالناواجب نہيں ہے ليکن روزوں کی قضابجاالناواجب ہے ۔ عن ابی جعفروابی عبدﷲ عليہماالسالم قاال‪:‬الحائض تقضی‬ ‫الصيام والتقضی الصالة‪ .‬امام باقراورامام صادقفرماتے ہيں‪:‬حائضہ عورت اپنے روزوں کی قضاکرے اورنمازکی قضانہيں‬ ‫کرے گی۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪١۶٠‬‬ ‫حالت حيض ميں ترک شده نمازوں کی قضاکيوں واجب نہيں ہے ؟ حيض ونفاس کی حالت ميں ترک شده نمازکی قضاہے‬ ‫مگرروزه کی نہيں ہے دين اسالم ميں کسی بھی شخص کے لئے نمازکومعاف نہيں کياگياہے بلکہ ہرحال ميں نمازواجب ہے‬ ‫اوروه نمازيں جوعمداًياسہواياکسی مجبوری کی بناء پرترک ہوجاتی ہيں ان کی قضابجاالناواجب ہے البتہ عورتوں کی وه‬ ‫نمازيں جوہرماه کی عادت کے دنوں ميں يانفاس کی حالت ميں ترک ہوجاتی ہيں ان کے لئے دين اسالم ميں رخصت دی گئی‬ ‫ہے اور ان کی قضابجاالناواجب نہيں ہے ليکن روزوں کی قضابجاالناواجب ہے ۔ عن ابی جعفروابی عبدﷲ عليہماالسالم‬ ‫قاال‪:‬الحائض تقضی الصيام والتقضی الصالة‪ .‬امام باقراورامام صادق ‪+‬فرماتے ہيں‪:‬حائضہ عورت اپنے روزوں کی قضاکرے‬ ‫اورنمازکی قضانہيں کرے گی۔‬ ‫‪ .‬تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪١۶٠‬‬ ‫اولی‬ ‫اگرکوئی يہ اعتراض کرے کہ نمازروزه سے افضل ہے ‪،‬جب حائضہ پرروزه کی قضاواجب ہے تونمازکی قضابدرجہ ٰ‬ ‫واجب ہے کيونکہ نمازروزه سے افضل ہے ؟ اس کاجواب يہ کہ ايک چيزکوکسی دوسری چيزپرقياس نہيں کياجاسکتاہے‬ ‫ل ٰہذانمازکاروزه پرقياس کرناباطل ہے‪،‬يہی قياس ابوحنيفہ نے کياتھااورکہاتھا کہ جب نمازروزه سے افضل ہے اورروزه کی‬ ‫اولی واجب ہے روايت ميں آياہے کہ امام صادق نے ابوحنيفہ سے پوچھا‪:‬يہ بتاؤ‬ ‫قضاواجب ہے تونمازکی قضابطريق ٰ‬ ‫نمازافضل ہے ياروزه ؟ کيانمازافضل ہے )جب حائضہ روزه کی قضاواجب ہے تونمازکی بطريق قضاواجب ہے (آپ نے‬ ‫امام)عليه السالم( نے فرمايا‪:‬تم نے قياس کياہے پس تقوائے ٰالہی اختيارکرواورقياس نہ کرو بلکہ حکم شرعی يہ ہے حائضہ‬ ‫پرروزه کی قضاواجب ہے اورنمازکی قضانہيں ہے ۔ ‪ .‬علل الشرائع‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٨٧‬‬ ‫حيض ونفاس کی حالت ميں عورت کے لئے نہ روزه رکھناصحيح ہے اورنہ نمازپﮍھنا۔ فضل بن شاذان مروی ہے امام علی‬ ‫فرماتے ہيں‪:‬اگرکوئی سوال کرے کہ جب عورت حيض کی حالت ميں ہوتواس کے لئے روزه رکھنااورنمازپﮍھناکيونصحيح‬ ‫نہيں ہے؟اس کاجواب يہ ہے ‪:‬کيونکہ کيونکہ حيض ح ّدنجاست ميں ہے ‪،‬الجرم خداوندمتعال يہ چاہتاہے کہ عورت فقط‬ ‫طہارت کی حالت ميں اس کی عبادت کرے اورايک وجہ يہ بھی ہے کہ جس کی نمازصحيح نہ ہواورجس کےلئے اصل ميں‬ ‫نمازکومشروع نہ کياگياہوتوروزه بھی اس کے مشروعيت نہيں رکھتاہے‬ ‫اگرکوئی يہ اعتراض کرے کہ وه نمازيں جوعورت سے حيض کے ايام ميں ترک ہوجاتی ہيں ان کی قضابجاالناکيوں واجب‬ ‫نہيں ہے اورروزه کی قضابجاالناکيوں واجب ہے ؟تواس کاجواب يہ ہے کہ چند)مندرجہ ذيل(وجوہات کی بناپرعورت‬ ‫پرنمازکی قضاواجب ہے مگرروزه کی قضاواجب نہيں ہے‪:‬‬ ‫‪١‬۔ روزه رکھناعورت کوروزانہ کے ضروری کام کرنے ميں کوئی رکاوٹ نہيں ڈالتاہے ‪،‬روزه نہ امورخانہ داری سے منع‬ ‫کرتاہے ‪،‬نہ شوہرکی خدمت کرنے سے ‪،‬نہ شوہرکے فرمان کوانجام دينے سے منع کرتاہے ‪،‬نہ گھرکی صفائی کرنے اورنہ‬ ‫کپﮍوں وغيره کی دھالئی کرنے سے منع کرتاہے ‪،‬روزه کی حالت ميں ان سب کاموں کوانجام دياجاسکتاہے ليکن نمازکے‬ ‫لئے وقت درکارہوتاہے اورنمازکی قضاکابجاالناعورت کے لئے امورخانہ داری ‪،‬صفائی ‪،‬دھالئی وغيره ميں مانع واقع‬ ‫ہوتاہے کيونکہ نمازروزانہ بطورمکررواجب ہوتی ہے اورعورت اس چيزکی قدرت نہيں رکھتی ہے کہ اپنی روزانہ کی‬ ‫نمازيں بھی پﮍھے اورناپاکی کی حالت ميں ترک کی گئی نمازوں بھی کی قضابجاالئے اورگھروزندگی کے ضروری کاموں‬ ‫کوبھی انجام دے ليکن روزے ميں ايسانہيں ہے ‪،‬عورت روزه کی حالت ميں امورخانہ داری کوانجام دے سکتی ہے ۔‬ ‫‪٢‬۔ نمازپﮍھنے ميں رکوع وسجود‪،‬تشہدوسالم وغيره کے لئے اٹھنے ‪،‬بيٹھنے ‪ ،‬کی زحمت ہوتی ہے ليکن روزه ميں ايسانہيں‬ ‫ہے‪،‬بلکہ روزه ميں اپنے آپ کوکھانے پينے سے روکناپﮍتاہے اورکھانے پينے سے رکنے کے لئے نہ اٹھنے کی ضرورت‬ ‫پﮍتی ہے اورنہ بيٹھنے کی ضرورت ہوتی اورنہ کوئی حرکت کرنی پﮍتی ہے ۔ ‪٣‬۔ شب وروزکی مدت ميں ايک وقت کے‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫بعدجب دوسراوقت شروع ہوتاہے تواس وقت ميں دوسری نمازواجب ہوجاتی ہے )نمازظہرکے بعدنمازعصرواجب ہوجاتی‬ ‫ہے ‪،‬نمازمغرب کے عشاکی نمازواجب ہوجاتی ہے اورجيسے ہی صبح ہوتی ہے تونمازصبح واجب ہوجاتی ہے (ليکن روزه‬ ‫ميں ايسانہيں ہے ‪،‬ماه رمضان المبارک کے بعدکوئی روزه نہيں آتاہے کہ جواس پرواجب ہوجائے ل ٰہذاروزه رکھنے کاوقت‬ ‫خالی رہتاہے مگرنمازتووقت کے ساتھ ساتھ واجب ہوتی رہتی ہے ۔‬ ‫‪ .‬علل الشرائع ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٧١‬‬ ‫قبوليت نمازکے شرائط‬ ‫ہر شخص کی نمازدوحالت سے خالی نہيں ہوتی ہے يااس کی نماز بارگارب العزت ميں قبول ہوتی ہے اورخداعالم اس نمازی‬ ‫پردنياوآخرت ميں نعمتيں نازل کرتاہے ياقبول نہيں ہوتی ہے اورخداوندعالم جس نمازکوقبول نہيں کرتاہے اسے نمازی کی‬ ‫طرف واپس کرديتاہے جيساکہ حديث ميں آياہے‪:‬‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں ‪ :‬خدا کی جانب سے ايک فرشتہ نماز کے کا موں کے لئے مامور ہے اور اس کے عالوه‬ ‫کوئی دوسراکام نہيں کر تاہے‪،‬جب بنده نمازسے فارغ ہوجاتاہے تو وه فرشتہ اس کی نماز کو آسمان پر لے جاتاہے اگر اس‬ ‫کی نماز قبوليت کی صالحيت رکھتی ہے تو وه بارگا ه رب ا لعزت ميں قبول ہوجاتی ہے اور اگر قبول ہونے کی صالليت‬ ‫نہيں رکھتی ہے تواس فرشتے کو حکم ديا جاتاہے کہ اس نماز کو صاحب نماز کی طرف واپسلوٹا دے‪ ،‬وه فرشتہ نماز کو‬ ‫واپسلے کر زمين پر آتا ہے اور اسے صا حب نماز کے منھ پر مارکر کہتا ہے ‪ :‬وائے ہو تجھ ( پر کيونکہ تيری اس نماز نے‬ ‫مجھے زحمت ميں ڈاالہے اور واپسلے کر آناپﮍاہے۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬ثواب االعمال وعقاب االعمال‪/‬ص ‪) ٢٣٠‬‬ ‫روزقيامت صرف انھيں لوگوں کی نمازقبول ہوگی جونمازکو پورے آداب شرائط کے ساتھ انجام ديتے ہيں‪،‬وه لوگ جو نماز‬ ‫کو اس کے تمام آداب و شرائط کی رعايت کے ساتھ انجام ديتے ہيں توان کی يہ صحيح اورمکمل نماز بقيہ دوسرے انجام‬ ‫دئے گئے واجبات کے قبول ہونے کاسبب واقع ہوگی اوروه لوگسعادتمند محسوب ہونگے ليکن وه لوگ جونمازکواس کے‬ ‫پورے آداب وشرايط کے ساتھ انجام نہ ديتے ہيں تو وه بدبخت اور بدنصيب شمارہونگے ۔ قال صادق عليہ السالم ‪:‬اوّل‬ ‫مايحاسب بہ العبد‪،‬الصالة‪،‬فاذاقبلت قبل منہ سائرعملہ ( واذاردت عليہ ردعليہ سائرعملہ‪١ ).‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬روزقيامت سب سے پہالسوال نمازکے بارے ميں کياجائے جن لوگوں کی نمازقبول ہوگی ان کے‬ ‫دوسرے اعمال بھی قبول ہونگے اورجن کی نمازقبول نہيں ہوگی ان بقيہ اعمال بھی قبول نہيں ہونگے ۔‬ ‫‪)١ .‬من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ٢٠٨‬‬ ‫ّ‬ ‫فاليشيئن احدکم ( وجہ دينہ‪١ ).‬‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬لکل شی ٔوجہ ووجہ دينکم الصالة‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪:‬ہر چيز کے لئے ايک چہره ہو تا ہے جو اس کی اصل وحقيقت کوبيان کرتا ہے‬ ‫اور نماز تمھارے دين کاچہره ہے ‪ ،‬ہر شخص پر واجب ہے کہ اپنے دين کی شکل و صورت کو نہ بگاڑے‬ ‫دين اسالم بھی انسان کی طرح اپنے جسم ميں اعضاء جوارح رکھتاہے ‪،‬جس طرح انسان اپنے جسم ميں ہاتھ ‪،‬پير‪،‬آنکھ ناک‬ ‫‪،‬کان …رکھتاہے اسی طرح دين اسالم بھی رکھتاہے انسان کے جسم کاارجمندترين حصہ اس کاسرہے اورسرکابہترين حصہ‬ ‫انسان کاچہره ہے کيونکہ چہره ميں حساس اعضاء پا ئے جاتے ہيں ‪ :‬جيسے آنکھ‪ ،‬کان ‪،‬ناک ‪ ،‬زبان ‪ ،‬دانت وغيره اسی طرح‬ ‫دين اسالم کے اعضا ميں نمازمقدس ترين حصہ ہے جسے پيغمبراسالم )صلی ﷲ عليه و آله( نے دين اسالم کاچہره‬ ‫قراردياہے اورنمازکودين اسالم کاچہره قراردئے جانے کارازيہ ہے کہ انسان کا بدن چہرے کی خوبصورتی کی وجہ سے‬ ‫خوشنما معلوم ہو تاہے اگر کسی کا چہره خوبصورت نہيں ہے تو اسے حسين نہيں کہا جاتا ہے ‪،‬جس طرح بدن کی‬ ‫خوبصورتی چہره سے تعلق رکھتی ہے اسی طرح دين اسالم بھی نمازسے تعلق رکھتاہے ‪،‬اگر نماز ميں حُسن وکمال پايا جا‬ ‫تا ہے تو دين بھی حسين وخو بصورت معلوم ہو تا ہے ۔ مثال کے طورپراگرہم خلوص کے ساتھ کسی شخص کے‬ ‫ديدارومالقات کے لئے اس کے گھرجاتے ہيں تو وه پہلے ہمارے چہره پرنگاه ڈالتاہے ‪،‬اگرہمارے چہرے چہرے کے تمام‬ ‫اعضاء صحيح و سالم ہوں ‪ ،‬اور دونوں اَبرو آپس ميں پيوستہ ہوں ‪،‬آنکھوں ميں کشش پائی جاتی ہو‪ ،‬ناک حالت زيبائی رکھتی‬ ‫ہو ‪،‬ہونٹوں پرکليوں کی طرح مسکراہٹ ہو‪،‬دانت صدف کے ماننددرخشاں ہوں پيشانی پر نور خشاں ہو يقينا ً ايساچہره مکمل‬ ‫زيبا اورباعث اشتياق ہو گااوروه شخص ہمارے اس چہرے کوديکھ کر خوشحال ہو جا ئے گااورعطوفت ومہربانی‬ ‫‪--------‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪)١ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪ ٢٧٠‬۔تہذيب االحکام‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٢٣٨‬‬

‫کااظہارکرے گا‪،‬ہميں اپنے قريب ميں جگہ دے گا‪،‬ہم سے ميٹھی اورنرم باتيں کرے گا ليکن اگرہمارے چہرے بگﮍے ہوئے‬ ‫ہوں‪ ،‬پيشانی کے تيورچﮍھے ہوں ‪ ،‬چہرے پرکمال درخشندگی نہ ہو‪،‬ابروکے بال بالکل صاف ہوں ‪ ،‬آنکھيں غضبناک ہوں‪،‬‬ ‫ناک پرورم آگيا ہو ‪،‬ہو نٹ زخمی ہوں ‪ ،‬دانت گر چکے ہيں)يقيناًايسا چہرے کوديکھ دل ميں نفرت پيداہوجاتی ہے( تو ہميں‬ ‫اس طرح ديکھ کراس کے تيوربھی چﮍھ جائيں گے ‪،‬اب وه اپنے بٹھاناتو دورکی بات اپنے دربارميں کھﮍے ہونے کی مہلت‬ ‫بھی نہيں دے گااورہمينفوراً اپنے دربارسے باہرنکال دے گااورسزابھی سنائے گا‬ ‫بس اسی طرح جب قيامت ميں تمام لوگوں کوقبرسے بلندکياجائے توسب پہالسوال‬ ‫نمازکے بارے جائے گا‪،‬جن ہم سے لوگوں نے دنياميں نمازيں نہيں پﮍھی ہونگی انھيں واصل جہنم کردے گااورجن لوگوں‬ ‫نے نمازيں پﮍھی ہونگی ان کی نمازوں کوديکھاجائے گا اگرہماری وه نمازيں اس کے معيارکے مطابق ہونگی اورپروردگار‬ ‫خوشنودی کا سبب واقع ہو نگی تو وه ہم پراپنا رحم وکرم کرے گااورہميں جنت عطاکرے گاليکن اگر خدا وندعالم ہماری‬ ‫نمازوں سے ناراض ہوگيا تو ہم اس کی رحمت ومغفرت سے محروم ہو جائيں گے اور ہماری بقيہ دوسری عبادتيں ہميں‬ ‫کوئی نفع نہيں پہنچائيں گی۔‬ ‫جس طرح انسان کاچہره اعضاء رکھتاہے اوراعضائے چہره کی وجہ سے خوبصورت معلوم ہوتاہے اسی طرح نمازجودين‬ ‫اسالم کاچہره ہے اس کے بھی اعضاء ہيں وه بھی اپنے چہرے پر آنکھ ناک ‪ ،‬کان ‪،‬دانت… وغيره رکھتی ہے اگروه سب‬ ‫تعالی کی قربت حاصل کرنے کاسبب ہوتے ہے ‪،‬خضوع وخشوع ‪،‬حضورقلب ‪،‬ارکان نماز)نيت‬ ‫اعضامناسب ہوں توﷲ تبارک‬ ‫ٰ‬ ‫‪،‬تکبير ة االحرام ‪،‬قيام ‪ ،‬قرئت ‪،‬ذکر‪ ،‬رکوع‪ ،‬سجوداور تشہدوسالم (اور مستحبات نماز اعضاء وجوارح کا حکم رکھتے ہيں‪،‬‬ ‫اگرنمازکاچہره خوبصورت ہے اوراس کے تمام اعضاء صحيح و کامل ہيں يعنی نمازکوخضوع وخشوع‪ ،‬حضورقلب‬ ‫اورارکان نمازکی رعايت کے ساتھ اداکياہے تووه خدا کی خوشنودی اور اس کی بارگاه ميں قبوليت کا سبب واقع ہو گی اور‬ ‫اگر نماز کی شکل و صورت بگﮍی ہو ئی ہو اور ارکان نماز کو مکمل طور سے رعايت نہ کی گئی ہو تو يہ نماز خداکے‬ ‫غضبناک ہو نے کا سبب واقع ہوتی ہے اور خدا وندعالم ايسی نماز کی طرف کوئی توجہ نہيں کرے گا بلکہ ايسی نماز کو‬ ‫اسی نمازی کے منھ پر ماردے گا۔ يہ ممکن ہے کہ انسان کی نمازظاہری اعتبارسے بالکل صحيح ہواوراس ميں کوئی کمی نہ‬ ‫ہو‪،‬روبقبلہ پﮍھی گئی ہو‪،‬طمانينہ کی بھی رعايت کی گئی ہومگروه بارگاه خداوندی مقبول نہ کيونکہ ظاہری آداب کے لئے‬ ‫کچھ قلبی آداب بھی ہيں کہ جن کی رعايت کے سبب ہماری نمازيں بارگاه خداوندی ميں مقبول واقع ہوتی ہيں‪،‬اگرہماری‬ ‫نمازوں ميں وه شرائط موجودہيں توقبول واقع ہوسکتی ہيں اوران کے ذريعہ خداکا تقرب اوراس کی رضايت حاصل ہوسکتی‬ ‫ہے اوروه شرائط يہ ہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔حضورقلب‬ ‫وه الفاظ اورذکروتسبيح کہ جنھيں نمازگزار اپنے زبان سے اداکررہاہے اگرانھيں سے دل بھی کہے اوران کے معنی ومفہوم‬ ‫کوذہن ميں رکھنے کے ساتھ زبان پرجاری کرے اوراپنی نمازسے بالکل غافل نہ ہواوراس طرح خداکی طرف متوجہ‬ ‫ہوگياہوکہ وه يہ بھی نہ جانتاہوکہ ميرے برابرميں کون ہے اورکياکررہاہے تو اسے حضورقلب کہاجاتاہے۔ نمازی کے لئے‬ ‫ضروری ہے کہ نمازکی حالت ميں اس کے تمام اعضاء وجوارح اور دل ودماغ سب کچھ خداکی طرف ہواس کے دل ميں‬ ‫خداکاعشق اوراس سے ہمکالم ہونے کاشوق ہو‪،‬سستی اورکسلمندی نہ پائی جاتی ہوعبادت ميں لذت محسوس کرتاہوکيونکہ‬ ‫جس مقدارميں نمازی کادل خداکی طرف متوجہ رہے گااسی مقداراس کی نمازبارگاه خداوندی ميں باعث قبول ہوگی‬ ‫‪،‬اگرعبادت کی حالت ميں نمازی کادل دنياکی طرف مبذول ہوتواس کی وه عبادت کی کوئی حقيقت نہيں رکھتی ہے اور ہر‬ ‫نمازی حضو ر قلب وخوف خداکے اعتبار سے اجر وثواب حاصل کرتا ہے جو نمازی اپنے دل خت نازياده خوف خدا رکھتا‬ ‫ہے اسی مقدار مينثواب ونعمت حاصل کرتا ہے کيونکہ خدا وند متعال نمازگزار کے قلب پر نگاه رکھتا ہے نہ اسکی ظاہری‬ ‫حر کتوں پر‪ ،‬روزقيامت صرف وہی نمازوعبادت کام آئے گی جوسچے دل سے انجام دی گئی ہو ۔ ( < َو ِل ُک ﱢل َد َر ٰجا ٌ‬ ‫ت ِم ﱠما‬ ‫ک ِبغَافِ ٍل َع ّمايَ ْع َملُونَ <) ‪ ١‬بے شک ہر ايک شخص کے لئے اسکے اعمال کے مطابق درجات ہيں اورجوکچھ تم‬ ‫َع ِمل ُوا َو َما َربﱡ َ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫ُ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ب َسلِي ٍْم <) ‪٢‬‬ ‫انجام ديتے ہوتمھاراپروردگارہرگزاس سے غافل نہيں ہے ( <يَوْ ٌم اليَنف ُع َما ٌل َوالبَنونَ ‪ ،‬اِال َم ْن اتَی ﷲ بِقل ٍ‬ ‫تعالی ميں حاضر‬ ‫روزقيامت نہ مال کام آئے اورنہ اوالد ‪،‬فقط وہی لوگ نجات پائيں گے جو قلب سليم کے ساتھ بارگاه باری‬ ‫ٰ‬ ‫ہوتے ہيں ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫شعراء ‪/‬آيت ‪ ٨٨‬۔ ‪)١ . ( ٨٩‬سوره أنعام ‪/‬آيت ‪) ١٣٢‬‬ ‫‪(٢ .‬سوره ٔ‬

‫بعض نماز يں ايسی ہيں جو آدھی قبول ہوتی ہيں اور بعض ايسی ہيں جو ايک سوم يا ايک چہارم ‪،‬ايک پنجم …يا ايک دہم‬ ‫قبول ہوتی ہيں اور بعض نماز يں ايسی ہيں جو ايک بوسيده کپﮍے ميں لپيٹ کر اس نمازی کے منھ پر مار دی جاتی ہيں اور‬ ‫اس سے کہا جاتا ہے يہ تيری نماز تجھے کوئی فائده نہيں پہنچا سکتی ہے فقط وہی نماز تيرے کام آسکتی ہے جنھيں‬ ‫توحضور قلب کے ساتھ انجام ديتاہے ۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨١‬ص ‪٢۶١‬‬ ‫‪٢‬۔خضوع وخشوع‬ ‫ٰ‬ ‫ﱠ‬ ‫ٰ‬ ‫ً‬ ‫ُ‬ ‫صاحبان ايمان کا مياب ہوگئے جو اپنی نمازوں ميں خشوع‬ ‫صال تِ ِھ ْم خ ِشعُونَ <) ‪ ٣‬يقينا‬ ‫( <قَ ْد اَ ْفلَ َح ال ُمو ِمنُونَ ال ِذ ْينَ ھ ْم فِی َ‬ ‫ِ‬ ‫وحضورقلب رکھتے ہيں۔‬ ‫‪)٣ .‬سوره ٔمومنون‪/‬آيت ‪١‬۔ ‪) ٢‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪:‬جب تم نمازپﮍھوتوخضوع اور حضور قلب رکھاکروکيونکہ خداوندعالم قرآن کريم‬ ‫َاشعُونَ <۔ روزقيامت وہی لوگ نجات پائيں گے جواپنی نمازوں ميں حضورقلب‬ ‫ارشادفرماتاہے‪< :‬اَلﱠ ِذينَ ہُ ْم فی َ‬ ‫صالتِ ِہ ْم خ ِ‬ ‫اورخضوع وخشوع رکھتے ہيں۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪۶٨۵‬‬ ‫اعضاء وجوارح اوربدن ميں نشاط پائے جانے اورجسم پرخوف خداکے آثارنماياں ہونے کوخضوع خشوع کہاجاتاہے‬ ‫ايک شخص نے نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سے خشوع کے معنی معلوم کئے توآپ نے فرمايا‪ :‬نمازی کوچاہئے کہ اپنے‬ ‫اعضاء وجوارح بھی نماز ميں شامل کرے اوراپنے دائيں بائيں جانب نگاه نہ کرے ‪،‬ہاتھ پيرنہ ہالئے ‪،‬روايت ميں آياہے کہ‬ ‫ايک دن رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله( نے ايک شخص کوديکھا کہ وه نماز پﮍھتے ہو ئے اپنی ڈاڈھی سے کھيل رہا ہے ‪،‬‬ ‫آپ نے فرمايا‪:‬‬ ‫”لوخشع قلبہ لخشعت جوارحہ” اگر اس نماز ی کا دل خضوع وخشوع رکھتا ہے تو اُس کے اعضاء وجوارح کو بھی خاشع و‬ ‫خاضع ہو نا چا ہئے ۔‬ ‫‪ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨١‬ص ‪٢۶١‬‬ ‫خشو ع يعنی نماز ميں تواضع کا استعمال کرنا اورکسی بنده کا پورے دل اورنشاط کے ساتھ کے ساتھ اپنے رب ک�� عبادت‬ ‫کرنے کوخشوع کہاجاتاہے‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪١٠٣‬‬ ‫فقہ الّرضا ميں منقول ہے کہ امام علی رضا فرماتے ہيں ‪ :‬جب تم نماز کے لئے قيام کرو تو اپنے آپ کو کھيل کو داور خواب‬ ‫وکسالت سے دورکرلياکرواوروقارو سکون قلب کے ساتھ نماز ادا کيا کرواورتم پرالزم ہے کہ نماز ميں خضوع وخشوع کی‬ ‫حالت بنائے رکھو‪ ،‬خدا کے لئے تواضع کرو‪،‬اپنے جسم پرخوف وخشوع کی حالت طاری رکھو اور اپنی حالت ايسی بناؤ‬ ‫جيسے کوئی فراری اور گنا ہگا ر غالم اپنے موال وآقا کی خدمت ميں آکر کھﮍاہو جاتا ہے اور اپنے دو پيروں کے درميان‬ ‫)چار انگليوں کے برابر( فاصلہ ديا کرو ‪ ،‬بالکل سيدھے کھﮍ ے ہو اکرو ‪ ،‬دائيں بائيں چہرے کو نہ گھماياکرو اور يہ‬ ‫سمجھوکہ گويا خدا سے مالقات کررہے ہو ‪،‬اگر تم اسے نہيں ديکھ رہے ہومگر وه توتمھيں ديکھ رہا ہے۔‬ ‫‪ .‬فقہ الرضا‪/‬ص ‪١٠١‬‬ ‫عن النبی صليہ ﷲ عليہ وآلہ ‪:‬الصالة لمن اليتخشع فی قلبہ‪ .‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬جس نمازی کے دل‬ ‫ميں خشوع نہيں پاياجاتاہے اسکی نمازقبول نہيں ہے۔‬ ‫‪ .‬ميزان الحکمة ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪١۶٣٢‬‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬جس نمازی کے دل ميں خشوع نہيں پاياجاتاہے اسکی نمازقبول نہيں ہے۔‬ ‫‪ .‬ميزان الحکمة ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪١۶٣٢‬‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں ‪ :‬خدا ئے عزوجل نے حضرت موس ٰيپر وحی نازل کی ‪ :‬اے‬ ‫موسی ! کيا تم جانتے ہو ‪ ،‬ميں‬ ‫ٰ‬ ‫نے پوری مخلوق سے صرف تم ہی کو اپنے سے ہمکالم ہونے کے لئے کيوں منتخب کيا ہے ؟ عرض کيا ‪ :‬پرو درگار ا ! تو‬ ‫نے مجھ ہی کو کيوں منتخب کيا ہے ؟ خدا نے کہا ‪ :‬اے‬ ‫موسی ! ميں نے اپنے تمام بندوں پر نظر ڈالی ليکن تمھارے عالوه‬ ‫ٰ‬ ‫موسی ! جب تم نماز پﮍھتے ہو تو اپنے چہرے کو خاک پر‬ ‫کسی بھی بندے کو تجھ سے زياده متواضع نہ پايا ‪ ،‬کيونکہ اے‬ ‫ٰ‬ ‫رکھتے ہو۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪ /١.‬من اليحضره الفقيہ ‪/‬ج ‪٣٣٢‬‬ ‫خدا وند متعا ل نے حضرت داو ٔدپروحی نازل کی ‪:‬اے داو ٔد!بہت سے نماز ی ايسے ہيں جو اپنی نماز وں ميں خضوع‬ ‫وخشوع رکھتے ہيں اورگر يہ وزاری کرتے ہيں اور رکعتوں کوطول ديتے ہيں ‪،‬ان کی يہ طوالنی رکعتيں ميرے نزد يک‬ ‫ايک فتيلہ ‪(١‬کی بھی قيمت نہيں رکھتی ہيں کيو نکہ جب ميں ان کے قلوب پر نگا ه کر تا ہو ں ديکھتا ہوں ( کہ ان کے دل‬ ‫ايسے ہيں کہ اگر نماز سے فراغت پا نے کے بعد کو ئی عورت ت نہائی ميں ان سے مالقات کر ے اوراپنے آپ کو اس‬ ‫نمازی کے حوالے کر دے تو وه اس عورت پر فر يفتہ ہوجائيں گے اور گنا ه کبيره کا مرتکب ہوجائيں گے اوراگرکسی‬ ‫مومن سے کوئی معاملہ کريں ( تواس کے ساتھ دھو کااورخيانت کريں گے۔) ‪) ١ ٢‬لغت عرب ميں فتيلہ اس باريک دھاگے‬ ‫کوکہاجاتاہے جوخرماکی گٹھلی کے درميان ) پاياجاتاہے‪.‬‬ ‫‪)٢ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ١۴‬ص ‪  ) ۴٣‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫معصومين اورحضورقلب وخشوع‬ ‫جب آپ حضورقلب ‪،‬خضوع وخشوع کے معنی ومفہوم اوران کی اہميت سے آگاه ہوگئے تواسی جگہ پران روايتوں کوبھی‬ ‫ذکرکردينامناسب ہے کہ جن ميں معصومين کی طرزنمازاوران کے اخالص وحضورقلب اورخضوع وخشوع کوذکرکياگياہے‬ ‫اوروه احاديث يہ ہيں‪ :‬نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے بارے ميں آياہے‪ ( :‬کان النبی صلی ﷲ عليہ والہ‪:‬اذاقام الی الصالة‬ ‫تعالی ) ‪ ١‬جس وقت نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نمازکے لئے قيام کرتے تھے توآپ کے چہره‬ ‫تربد وجہہ خوفامن ﷲ‬ ‫ٰ‬ ‫کارنگ متغيرہوجاتاتھا۔‬ ‫ّ‬ ‫( ان النبی صلی ﷲ عليہ والہ‪:‬کان اذاقام الی الصالة کانہ ثوب ملقی) ‪ ٢‬جب نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نمازميں مشغول‬ ‫ہوتے تھے توايسے نظرآتے تھے جيسے گوشہ ميں کوئی کپﮍاپﮍارہتاہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬فالح السائل‪/‬ص ‪)١ . ( ١۶١‬ميزان الحکمة ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ١۶٣٣‬‬

‫امام علی بن ابی طالب ‪+‬کے بارے ميں روايتوں ميں ملتاہے کہ آپ نمازميں اس قدرحضورقلب اورخضوع وخشوع رکھتے‬ ‫تھے کہ ايک جنگ کے دوران آپ کے پائے مبارک ميں تير پيوست ہوگيا تھااور لوگوں نے تير کو نکالنے کی کوشش کی‬ ‫مگر تير ّ‬ ‫ہڈی ميں اس طرح پيوست ہوگياتھا کہ گوشت وپوست کے کاٹے بغير تيرکانکالنامحال تھا ‪،‬ل ٰہذا آپ کے فرزندوں نے‬ ‫کہا‪ :‬اگريہی صورتحال ہے تو صبرکيا جائے اورجب امام )عليه السالم(نمازميں مشغول ہوجائيں توپائے مبارک سے آسانی‬ ‫سے تير نکاالجاسکتاہے اورآپ کوخبربھی نہيں ہوگی جب امام )عليه السالم( نماز ميں مشغول ہوئے ‪،‬توطبيب نے گوشت‬ ‫وپوست کوکاٹ کر يہاں تک کہ ّ‬ ‫ہڈی کو توڑکر تيرنکاال اورزخم پرمرہم لگاکر پٹّی باندھی ‪،‬جب امام)عليه السالم( نماز سے‬ ‫فارغ ہوئے توفرماياکہ ‪:‬ميرے پير ميں تيرپيوست ہے مگر اسوقت پير ميں کوئی دردوتکليف محسوس نہيں ہورہی ہے ؟سب‬ ‫نے کہا‪:‬نماز کی حالت ميں آپ کے پير سے گوشت وپوست کو کاٹ کر تير نکاليا گيا‪ ،‬اور آپ کو محسوس بھی نہ ہوا امام‬ ‫ٰ‬ ‫ذکرويادالہی ميں مشغول رہتاہوں اگردنيا بھی زيروزبر ہوجائے يا ميرے بدن ميں تيغ وتبر‬ ‫)عليه السالم(نے فرمايا ‪ :‬جب ميں‬ ‫بھی مارے جائيں تومجھے اپنے پروردگار سے مناجات کی لذت ميں کی وجہ سے کوئی تکليف محسوس نہيں ہوگی۔‬ ‫فالح السائل ميں نقل کياگياہے کہ حضرت عليجب نمازکے لئے قيام کرتھے تو آيہ مبارکہ ) ‪) (١‬ميرارختمامتراس خداکی‬ ‫طرف ہے جس نے آسمانوں کوپيداکياہے اورميں باطل سے کناره کش ہوں اورمشرکين ( ميں سے نہيں ہوں(اورزمين کی‬ ‫تالوت کرتے تھے اورآپ کے چہره کارنگ متغيرہوجاتاتھا۔) ‪٢‬‬

‫‪   ‬‬

‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬فالح السائل ‪/‬ص ‪)١ . ( ١٠١‬سوره أنعام ‪/‬آيت ‪) ٧٩‬‬

‫امام عليجب نمازپﮍھتے تھے توآپ سيدھے ستون کی مانندنظرآتے تھے اوربالکل بھی حرکت نہيں کرتھے اوررکوع‬ ‫وسجودکی حالت ميں آپ کے جسم پر پرنده بھی آکربيٹھ جاتاتھااورامام علی )عليه السالم( وامام زين العابدين ‪+‬کے عالوه‬ ‫کوئی بھی رسول اکرم کی حالت نمازکاانعکاس نہيں کرسکتاتھا۔‬ ‫‪ .‬دعام االسالم ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪١۵٩‬‬ ‫اميرالمومنين حضرت علی جس وقت آپ نماز کے لئے قيام کرناچاہتے تھے توخوف خدا ميں پورابدن کا نپ جاتاتھااورچہر‬ ‫ٰ‬ ‫بارالہا! اس امانت کے ادا کرنے کا وقت آگياہے ‪ ،‬جس کو سات زمين وآسمان‬ ‫ے کا رنگ متغيرہوجاتاتھا اور کہتے تھے ‪:‬‬ ‫عرضہ کياگيا اور وه اس کے تحمل کی قوت نہيں رکھتے تھے۔‬ ‫‪ .‬ميزان الحکمة ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪١۶٣٣‬‬ ‫روايت ميں آياہے کہ‪ :‬ايک شخص نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی خدمت آيااورآپ کی خدمت ميں دواونٹ بطورہديہ‬ ‫پيشکئے ‪ ،‬آنحضرت نے فرمايا‪ :‬من صلی رکعتين ولم يحدث فيہما نفسہ من امورالدنياغفراللھلہ ذنبہ‪ .‬جو شخص دورکعت نماز‬ ‫اس طرح پﮍھے کہ نماز کسی بھی دنياوی چيز کی طرف توجہ پيدانہ کرے تو ميں ان ميں سے ايک اونٹ اسے عطا کردوں‬ ‫گا ‪،‬علی ابن ابی طالب‪+‬کے عالوه کوئی بھی شخص آنحضرت کی اس درخواست پرعمل کرنے کوتيارنہ ہوااور رسول خدا‬ ‫)صلی ﷲ عليه و آله( نے دونوں اونٹو ں کو حضرت علی کو عطا کر دئے۔ ‪ .‬ميزا ن الحکمة ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪١۶٣٨‬‬ ‫حضرت فاطمہ زہرا کے نمازميں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے ميں روايتوں ميں آياہے‪:‬‬ ‫کانت فاطمة سالم ﷲ عليہات نہج فی الصالة فی خيفة ﷲ تبارک وتعالی حضرت فاطمہ زہرا نماز کی حالت ميں خوف خدا ميں‬ ‫اس طرح لرزتی تھيں کہ آپ پر ( جاں کنی کی حالت طاری ہو جاتی تھی ) ‪١‬‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪ :‬ميری لخت جگرحضرت فاطمہ دونوں جہاں گذشتہ اورآئنده کی عورتوں کی‬ ‫سردار ہيں ‪ ،‬وه جسوقت محراب عبادت ميں اپنے پروردگارکے سامنے کھﮍی ہوتی ہيں تو آپ کے چہره سے ايک نورساطع‬ ‫ہوتاہے وه نور آسمان کے مالئکہ کے لئے اسی طرح درخشاں ہو تا ہے جيسے اہل زمين کے لئے ستاروں کا نور چمکتا ہے‬ ‫‪،‬جب يہ نورساطع ہوتاہے توخدا وندعالم اپنے فرشتوں سے کہتاہے ‪ :‬اے ميرے فرشتوں!تم ذرا ميرے حبيب کی لخت جگرپر‬ ‫نگاه ڈالو ‪ ،‬ميری کنيز وں کی سردار ميرے پاس کھﮍی ہے اور ميرے خوف سے اس کے تمام اعضاء وجوارح لرزرہے ہيں‬ ‫اور خلوص دل سے ميری عبادت کررہی ہے ‪ ،‬ميں تم فرشتوں کو شاہد قرار ديتا ہوں کہ ميں نے ان ( کے تمام شيعوں پر‬ ‫آتشجہنم کو حرام قرار ديتا ہوں۔) ‪٢‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٧٠‬ص ‪)١ . ( ۴٠٠‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٧٠‬ص ‪) ۴٠٠‬‬

‫امام زين العابدين کے نمازميں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے ميں چندروايت ذکرہيں‪:‬‬ ‫قال موالناالصادق عليہ السالم ‪:‬کان علی بن الحسين عليہ السالم اذاحضرت الصالة ( اِقشعرّجلده ‪ ،‬واصفرّلونہ وارتعدکالسعفة‪).‬‬ ‫‪ ١‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جب علی ابن الحسين ‪+‬نمازکے لئے قيام کرتے تھے تو)خوف خداميں(بدن کے بال کھﮍے ہوجاتے‬ ‫تھے اوررنگ پيالہوجاتھا اورخرمے کے سوکھے ہوئے درخت کے مانندلرزتے رہتے تھے ۔‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال ‪:‬کان علی بن الحسين عليہ السالم صلوات ﷲ ( عليہمااذ اقام فی الصالة کانہ ساق شجرة‬ ‫اليتحرک منہ شی أالماحرکہ الريح منہ ‪ ٢ ).‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جب علی ابن الحسين ‪+‬نمازکے لئے قيام کرتے تھے‬ ‫تو)خوف خداميں( اس ساقہ ٔدرخت کے مانندکھﮍے رہتے تھے کہ جس کی کوئی چيزحرکت نہيں کرتی تھی مگروہی کہ‬ ‫جوہواکی وجہ سے ہلتی تھی ۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ /٣.‬کافی ‪/‬ج ‪) ١ . ( ٣٠٠‬مستدرک الوسائل ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪) ٩٣‬‬

‫ايک روايت ميں آياہے کہ ايک دن حضرت امام زين العابدينکے گھرميں اگ لگ گئی اورآپ اس وقت نمازميں اس طرح‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫مشغول تھے کہ آپ کو__________آگ لگنے کااحساس بھی نہ ہوا‪،‬جب نمازسے فارغ ہوئے توآپ کوگھر ميں آگ لگ‬ ‫جانے کی اطالع دی گئی توامام )عليه السالم(نے فرمايا‪:‬آتش جہنم کی يادنے مجھے اس دنياوی آگ سے بالکل بے‬ ‫خبرکردياتھا۔‬ ‫‪ .‬تحليلی اززندگانی امام سجاد‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٨٧‬‬ ‫اوردوسری روايت ميں آياہے کہ امام زين العابدين کے بچے اس انتظارميں رہتے تھے کہ امام )عليه السالم( کب نماز شروع‬ ‫ے آپس ميں کہتے تھے کہ جب امام )عليه السالم( نماز‬ ‫کرتے ہيں تاکہ ہم پورے شوروغل کے ساتھ کھيل کود کرسکيں‪ ،‬بچ ّ‬ ‫ميں مشغول ہوجاتے ہيں توخداکی ياد ميں اس طرح غرق ہوجا تے ہيں کہ انھيں ہماری طرف کوئی دھيان نہيں رہتا ہے ‪،‬‬ ‫چاہے ہم کت ناہی زياده شوروغل مچائيں۔‬ ‫‪ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ٢١٨‬ص ‪۶٨‬‬ ‫ابو حمزه ثمالی سے روايت ہے کہ ‪ :‬ميں نے حضرت امام سجاد کو نماز کی حالت ميں ديکھا کہ آپ کی عباء دوش مبارک‬ ‫سے نيچے گرگئی اور آپ نے کوئی تو جہ نہ کی ‪،‬جب آپ نمازسے فارغ ہوئے توميں نے آپ سے پو چھا ‪ :‬نماز کی حالت‬ ‫ميں آپ کی عبادوش سے نيچے گر گئی اور آپ نے کوئی ��وجہ بھی نہيں کی ؟ امام )عليه السالم(نے فرمايا‪ :‬اے ابوحمزه‬ ‫ثمالی ! کيا تم نہيں جانتے ہو ميں کس کی بارگاه ميں کھﮍاتھا ؟ بے شک بندے کی نماز ﷲ کی بارگاه ميں اسی مقدارميں قبول‬ ‫ہو تی ہے جس مقدار ميں نمازی کادل اپنے رب کی طرف متوجہ ہو گا ۔‬ ‫‪ .‬تحليلی اززندگانی مام سجاد‪/‬ج ‪/١‬ص ‪٢٨٧‬‬ ‫امام صادق کے نمازميں حضورقلب اورخضوع وخشوع کے بارے ميں روايتوں ميں آياہے‪ :‬حضرت امام جعفر صادق کے‬ ‫عيسی ”سے روايت ہے وه کہتے ہيں ‪ :‬ايک دن امام )عليه السالم( نے مجھ سے پوچھا‪ :‬اے حماد!تم‬ ‫ايک صحابی“ح ّمادبن‬ ‫ٰ‬ ‫نمازکس طرح پﮍھتے ہواورکيااسے پورے آداب وشرائط کے اداکرتے ہو؟ ميں نے کہا ‪ :‬اے ميرے موالو آقا ! ميں“ حريزبن‬ ‫عبدﷲ سجستانی ”کی لکھی ہوئی کتاب نمازپﮍھتاہوں‬ ‫امام )عليه السالم(نے فرمايا ‪ :‬يہ کافی نہيں ہے بلکہ تم ابھی اٹھواور ميرے سامنے دورکعت نماز پﮍھو‬ ‫ح ّماد کہتے ہيں ‪:‬ميں نے امام )عليه السالم( کی فرمائش پر عمل کيا اورامام )عليه السالم(کے حضور ميں روبقبلہ کھﮍے‬ ‫ہوکر نماز شروع کی ‪ ،‬رکوع وسجود کو انجام ديا اور نماز کو تمام کيا‬ ‫امام )عليه السالم(نے فرمايا ‪:‬اے حماد!تم نے نمازاس کے آداب وشرائط کے مطابق نہيں پﮍھی ہے اور تعجب ہے کہ تمہاری‬ ‫عمرساٹھ يا ستّر سال ہو گئی ہے اور تم صحيح و مکمل طور سے نماز نہيں پﮍھ سکتے ہو!‬ ‫ح ّماد کہتے ہيں ‪ :‬ميں امام )عليه السالم(کی يہ باتيں سنکر بہت ہی شرمنده ہوا اور ميں نے امام )عليه السالم(سے عرض کيا ‪:‬‬ ‫اے ميرے موال آپ پرقربان جاؤں آپ مجھے صحيح اورمکمل نماز کی تعليم ديجئے‬ ‫امام صادق اپنی جگہ سے بلند ہوئے اور روبقبلہ کھﮍے ہوئے دونوں ہاتھ کی انگليوں کو آپس ميں چسپاں کيا اور دستہائے‬ ‫مبارک کومرتب طريقہ سے ران پر رکھا ‪،‬دونوں کے درميا ن چار انگلی کے برابر فاصلہ ديا اور پيروں کی انگليوں کو‬ ‫روبقيلہ قرار ديا اور خضوع وخشوع کے “ﷲ اکبر”کہہ کر نمازکاآغازکيا‪،‬سورئہ حمد و سورئہ“قُلْ ھَ َوا اَ َحد”کو سکون‬ ‫واطمينان کے ساتھ قرائت کيا پھرايک سانس کے برابر صبر کيا اور حرکت کئے بغير“ﷲ اکبر”کہا ‪،‬اسکے بعد رکوع ميں‬ ‫گئے ‪،‬‬ ‫رکوع کی حالت ميں دونوں ہاتھوں کی انگليوں کو زانوپر رکھا اوردونوں زانوبالکل سيدھے تھے اور کمراس طرح سيدھی‬ ‫تھی کہ اگر کمر پر کوئی قطرئہ آب يا روغن گر جاتا تو وه اپنی جگہ سے نہيں ہٹ سکتا تھا اور رکوع ميں گردن کو سيدھا‬ ‫رکھا اور آنکھيں بند کر کے تين مرتبہ “سبحان ﷲ”کہا ‪ :‬اسکے بعد“سبحان ربی العظيم و بحمده ”کہا ‪،‬پھررکوع سے بلند ہو‬ ‫ئے اور اطمينان کے ساتھ “ َس ِم َع ﷲ لِ َمن َح ِمدَه ” کہا اور دونوں ہاتھوں کو کانوں تک الکر “ﷲ اکبر ”کہا ‪،‬پھر سجد ے ميں‬ ‫گئے اور دونوں زانوں کو زمين پر رکھنے سے پہلے دونوں ہا تھوں کو زمين پر رکھا اور سجدے ميں آپ کی حالت يہ تھی‬ ‫کہ بدن کا کوئی حصّہ آپس ميں چسپاں نہيں تھا اور آٹھ اعضاء بدن ) پيشانی ‪،‬دونوں ہاتھ کی ہتھيلی ‪،‬دونوں زانو کے سرے ‪،‬‬ ‫دونوں پيرکے انگوٹھے اور ناک کی نوک( کو زمين پر رکھے ہو ئے تھے ‪ ،‬ناک کی نوک کو زمين پر رکھنا مستحب ہے‬ ‫َلی وبَ َح ْم ِد ِه”کہا اور سجدے سے سرکو بلند کيا “ﷲ‬ ‫اور بقيہ چيزيں واجب ہيں آپ نے سجدے ميں تين مرتبہ “ ُسبَ َحانَ َربﱢ َی ْاالَع ٰ‬ ‫اکبر ”کہا اور بائيں پيرپرزور ديکر بيٹھے اور“اُ ْستَ ْغفِ ُر ﷲَ َربﱢ ْی َواَ تُوبُ اِلَي ْہ”کہا اور “ا اکبر ”کہنے کے بعد دوسرے‬ ‫سجدے ميں گئے اور پہلے سجدے کی طرح دوسرا سجده کيا اور سجدے ميں کہنيوں کو زمين پر قرار نہيں ديا اور اسی‬ ‫طرح دوسری رکعت پﮍھ کرنمازکو تشہدوسالم کے ساتھ تمام کيا ‪ ،‬اور نماز کے بعد فرمايا‪ :‬اے ح ّماد ! نماز پﮍھنے کا يہی‬ ‫طريقہ ہے جو ميں نے آپ کے سامنے پيش کيا ‪ ،‬پس نماز کی حالت ميں ہاتھ‪ ،‬پاؤں ‪ ،‬ڈاڑھی و غيره سے کھيل نہ کرو ‪ ،‬اپنی‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫انگليوں سے بھی کھيل نہ کرو ‪،‬اپنے دائيں بائيں نگاه نہ کرو اور قبلہ کی سمت بھی نگاه نہ کرو کيونکہ ان کاموں کی وجہ‬ ‫سے نماز ميں خضوع وخشوع نہيں پايا جاتا ہے اورجونمازی کے حواس اڑجانے کا سبب واقع ہو تے ہيں‬ ‫سی کاظم بچپن ميں اپنے وا لد ماجدحضرت امام جعفر صادق کے حضور‬ ‫اوردوسری روايت ميں آياہے کہ حضر ت امام مو ٰ‬ ‫ميں نما ز اداکررہے تھے کہ اس وقت شہر کا ايک متفکراوردانشمند شخص امام )عليه السالم(کی خدمت ميں موجود تھا ‪،‬اس‬ ‫نے ديکھاکہ يہ فرزند کھُلے ہو ئے درازه کے سا منے کھﮍے ہوکرنماز پٹرھ رہا ہے جو کہ مکر وه ہے ل ٰہذاامام صادق سے‬ ‫کہا‪:‬آپ کا يہ فرزند کھُلے دروازه کے سامنے نماز کيو ں پٹرھ رہا ہے ؟ امام )عليه السالم( نے فرمايا ‪ :‬بہتر ہے کہ آپ اپنے‬ ‫اس سوال کا جواب خود بچّے سے معلوم کريں ! اس عا لم ومتفکر نے بچے کی جانب رخ کيا اور پو چھا ! تم کھُلے‬ ‫دروازے کے سا منے نماز کيوں پٹرھ رہے ہو ؟کمسن بچے)امام کا ظم ( نے جواب ديا ‪:‬وه ذات کہ جسکی طرف ميں نماز‬ ‫پٹرھتا ہوں وه اسی درواز ه سے مجھ سے بہت زيا ده قريب ہے ۔‬ ‫‪ .‬ہزارويک نکتہ درباره نٔماز‪/‬ش ‪/ ١۶‬ص ‪١٢‬‬ ‫‪٣‬۔ايمان‬ ‫درياميں کشتی اسی وقت حرکت کرسکتی ہے جبکہ اسے پانی ميں مسقرکياجائے ل ٰہذاکشتی کوحرکت کرنے کے لئے پانی کی‬ ‫ضرورت ہے ‪،‬اگراسے کسی خشک زمين پررکھاجائے تووه خشکی ميں ذرّه برابر حرکت نہيں کر سکتی ہے‪ ،‬نماز بھی‬ ‫کشتی کے مانند ہے ‪،‬نمازی کوچاہئے کہ وه اللھورسول ‪،‬قرآن اورغيب پرايمان رکھتاہو تاکہ اس کی کشتی حرکت کر سکے‬ ‫اوراسے درياکے دوسری طرف ساحل تک پہنچاسکے‪،‬جب تک اس کی نماز اللھورسول ‪،‬قرآن ‪،‬معاداورغيب پرايمان کے‬ ‫درياميں قرارنہ پائے اس وقت تک اس کابارگاه خداوندی ميں قبول ہوناغيرممکن ہے۔‬ ‫اگر درياميں کشتی کی حرکت کے لئے پانی موجودنہيں ہے توکشتی کے وجودکاکوئی فائده نہيں ہے اسی طرح‬ ‫اگرنمازگزارخداورسول ‪،‬قرآن ‪،‬معاداورغيب پرايمان نہيں رکھتاہے تواس کی وه نماز کسی بھی کام کی نہيں ہے‬ ‫اورہرگزقبول نہيں ہوسکتی ہے ۔ قرآن کريم کی چندآيتوں ميں ايمان اورنمازکوايک ساتھ ذکرکياگياہے‪:‬‬ ‫اجدَﷲ َم ْن آ َمنَ ِبا ِ َو ْاليَوْ ِم ْاآل خَراَقَا َم الص ٰﱠلوةَ <) ‪ ١‬ﷲ کی مسجدوں کو صرف وه لوگ آباد کرتے ہيں جو خدا و‬ ‫( <اِنﱠ َمايَعْم ُر َم َس ِ‬ ‫آخرت پر ايمان رکھتے ہيں اور جنھوں نے نماز قائم کی ہے ۔‬ ‫‪)١ .‬سوره تٔوبہ‪/‬آيت ‪) ١٨‬‬ ‫ک َوالَ ُم ِق ْي ِم ْينَ الص ٰﱠلوةَ َو ْال ُموْ تُوْ نَ ال ﱠز ٰکوةَ ( َو ْال ُموْ ِمنُوْ نَ بَا ٰ ّ ِ َو ْاليَوْ ِم ْ ٰ‬ ‫ُ‬ ‫ُ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫اال ِخ ِر‬ ‫ق‬ ‫ن‬ ‫م‬ ‫ل‬ ‫ز‬ ‫ن‬ ‫ا‬ ‫ا‬ ‫م‬ ‫و‬ ‫ک‬ ‫ي‬ ‫ل‬ ‫ا‬ ‫ل‬ ‫ر‬ ‫ن‬ ‫ا‬ ‫ل‬ ‫ب‬ ‫ِ َ‬ ‫< َوال ُمو ِمنُونَ يُو ِمنُونَ ِب َما ِ َ ِ َ َ َ ِ َ ِ‬ ‫اُ ٰ‬ ‫َظيْما ً<) ‪ ١‬اے رسول !مومنين حضرات جوتم پر نازل ہوا ہے يا تم سے پہلے نازل ہو چکاہے ان سب‬ ‫ولئِ َ‬ ‫ک َسنُوتِ ْي ِھ ْم اَجْ راًع ِ‬ ‫پرايمان رکھتے ہيں اور نماز بھی برگزار کرتے ہيں اورہم عنقريب نماز قائم کر نے والے اور زکات دينے والے اور آخرت‬ ‫ار َز ْق ٰنھُ ْم يُ ْن ِفقُو نَ <) ‪٢‬‬ ‫ب َويُ ِق ْي ُموْ نَ الص ٰﱠلوةَ َو َم ّم َ‬ ‫پر ايمان رکھنے والے لوگوں کو اجر عظيم عطاکريں گے۔ ( <اَلﱠ ِذ ْينَ يُوْ ِمنُوْ نَ ِب ْال َغ ْي ِ‬ ‫متقی وپر ہيز گا ر وه لوگ ہيں جو غيب پر ايمان رکھتے ہيں اور پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز اداکر تے ہيں اور ہم‬ ‫نے جوکچھ رزق ونعمت عطاکی ہيں ان ميں سے ہماری راه ميں خرچ کرتے ہيں ۔‬ ‫امام علی ابن ابی طالب “ نہج البالغہ ” ميں نمازاورايمان کوخداسے تقرب حاصل کرنے کاذريعہ قرارديتے ہوئے‬ ‫ارشادفرماتے ہيں‪ّ :‬‬ ‫وتعالی ‪،‬االيمان بہ وبرسولہ …واقام ( الصالة فانّہاالملة۔) ‪٣‬‬ ‫ان افضل ماتوسل بہ المتوسلوں الی اللھسبحانہ‬ ‫ٰ‬ ‫بے شک سب سے بہترين شی کٔہ جس کے ذريعہ خدا سے قربت حاصل کيا جاسکتا ہے وه خدا ورسول پر ايمان رکھنا اور‬ ‫نماز کا قائم کرناہے جو کہ دين کا ستون ہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪)١ .‬سوره نٔساء‪/‬آيت ‪) ١۶٢‬‬ ‫‪ (٢ .‬سورئہ بقره آيت ‪( ٣‬‬ ‫‪(٣‬نہج البالغہ ‪/‬خطبہ ‪( ١١٠‬‬

‫‪۴‬۔داليت‬ ‫نمازقبول ہونے کی سب سے اہم شرط يہ کہ نمازگزاراپنے دل ميں پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے عالوه ان کی آل‬ ‫اطہارکی بھی محبت رکھتاہواوران کے دشمن سے بيزاری بھی کرتاہو‪،‬ﷲ کی بارگاه ميں صرف انھيں لوگوں کی نمازقبول‬ ‫ہوتی ہے جوآ ل محمدکی محبت ومودت کے ساتھ نمازاداکرتے ہيں اوراپنے دلوں ميں ال رسول کی محبت کاچراغ روشن‬ ‫رکھتے ہيں ليکن اگران کی محبت کاچراغ دل ميں روشن نہيں ہے تووه عبادت بے کارہے اورﷲ کی بارگاه ميں قبول نہيں‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ہوتی ہے‪،‬نمازو عبادت اسی وقت فائده مندواقع ہوسکتی ہے جب نمازکواہلبيت کی محبت و معرفت اوران کی اطاعت وواليت‬ ‫کے زيرسايہ انجام دياجائے ‪،‬اہلبيت کی محبت وواليت کے بغيرسب نمازيں بےکارہيں۔‬ ‫وه نمازجواس کے تمام ظاہری آداب شرائط کے ساتھ انجام دی گئی ہو‪،‬قبلہ کی سمت رخ کرکے پﮍھی گئی ہو‪،‬حمدوسوره‬ ‫قرائت بھی صحيح طرح کی گئی ہو‪،‬رکوع وسجودميں طمانينہ کابھی خيال رکھاگياہواورديگرشرائط کوبھی ملحوظ‬ ‫خاطررکھاگياہويہاں تک خدارسول پرايمان کے ساتھ انجام دی گئی ہو‪،‬نمازپﮍھنے واالمتقی وپرہيزگاربھی ہومگردل ميں آل‬ ‫رسول کی محبت نہ پائی جاتی ہوتوہرگزقبول نہيں ہوتی ہے‬ ‫مثال کے طور پر‪ :‬اگرپوليس واالکسی ڈرائيورسے ڈرائيوری کارٹ طلب کرے ليکن اس ڈرائيورکے پاس ڈرائيوری کارٹ‬ ‫موجودنہ ہوتو وه پوليس واالاسے آگے جانے دے گااورسزاکامستحق قراردے گا‪،‬چاہے ڈارئيورالکھ کہے ‪:‬جناب پوليس !ميں‬ ‫نے ڈرائيوری کے تمام قوانين کی رعايت کی ہے اورکسی طرح کی کوئی غلطی نہيں کی ہے ‪،‬ميں اپنی الئن پرگاڑی‬ ‫چالرہاتھااورآپ کی يہ بات صحيح ہے کہ ميرے پاس ڈرائيوری کارٹ نہيں ليکن ميرے پاس شناختی کارٹ‬ ‫موجودہے‪،‬پاسپورٹ بھی موجودہے ل ٰہذاتم ان کاغذات کوديکھ کرمجھے آزادکرديجئے‪،‬مگروه پوليس اس کی ايک بات بھی‬ ‫سنی گی اورکہے گاتھمارے يہ کاغذات يہاں پرکسی کام نہيں آسکتے ہيں مجھے صرف ڈرائيوری کارٹ چاہئے ‪،‬اگر‬ ‫تمھارے پاس نہيں ہے توتمھيں سزادی جائے اورآگے سزاملنے کے بعدنہيں جاسکتے ہو عالمہ طباطبائی “ تفسيرالميزان‬ ‫”ميں لکھتے ہيں ‪:‬اہلبيت اطہار کی محبت وواليت کے بغيرنمازکاکوئی نہيں ہوتاہے اسی لئے ہم لوگ نمازسے پہلے اپنی اذان‬ ‫ّ‬ ‫اشھدان عليّاًولی ﷲ”اور قرائت نمازميں اور تشہدميں درودشريف پﮍھتے ہيں اورمحمدوآل محمدمحبت اوران کی‬ ‫واقامت ميں “‬ ‫واليت کاثبوت پيش کرتے ہيں اور آئمہ اطہار کی امامت کااقرار کرتے ہيں‬ ‫ہم لوگ سوره ٔحمدکی قرائت ميں کے يہ معنی ��رادليتے ہيں‪ :‬بارا لہٰا ! تو ہم کو آئمہ کی راه پرگا مزن رکھ اور ہميں امامت‬ ‫کے پيرو کاراور دوستدا رواليت ميں سے قرار دے اوراس بارے ميں امام صادق فرماتے ہيں ‪ :‬صراط المستقيم سے مراد‬ ‫علی ابن ابی طالب ہيں اور حضرت امام سجاد فرماتے ہيں ‪“:‬نحن صراط المستقيم” ہم )آئمہ طا ( ہرين (صراط مستقيم ہيں۔) ‪٢‬‬ ‫تفسيرنمازميں لکھاہے‪:‬جنگ نہروان ميں حضرت علی کے مقابلہ ميں آنے والے سب لوگ)جنھيں تاريخ اسالم ميں خوارج‬ ‫کے نام دياگياہے ( بے نمازی نہيں تھے بلکہ ان ميں اکثرنمازی وروزے دارتھے اوران کی پيشانيوں پر مکرر اور طوالنی‬ ‫سجدوں کی وجہ سے گٹھے پﮍے ہو ئے تھے ليکن ان کے دل اہلبيت کی محبت سے خالی تھے اورواليت اہلبيت کے منکر‬ ‫تھے‪،‬ان لوگوں نے امام علی ابن ابی طالب کے مقا بلے ميں قيام کيا اور آپ کی طرف تلوار يں چالئی)ان لوگوں کی نمازيں‬ ‫ہرگزقبول نہيں ہيں() ‪(٣‬۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٣ .‬تفسيرنماز‪/‬ص ‪)٢ . ( ٣٩‬تفسيرالميزان ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪) ۴١‬‬

‫اسی جنگ نہروان ميں حضرت علينے جب يہ سناکہ دشمنوں ميں ايک شخص ايسابھی ہے جوشب بيدار ی کرتا ہے رات بھر‬ ‫نماز يں پﮍھتا ہے ‪ ،‬قرآن کی تالوت کرتا ہے تو آپ نے فرمايا‪:‬‬ ‫علی يقين خيرٌمن صالة فی شکّ) ‪١‬‬ ‫( نو ٌم ٰ‬ ‫اس شخص کا يقين کے ساتھ سونا ان دو قلبی نمازيں پﮍھنے سے بہتر ہے يعنی وه شخص جو ﷲ اوراس کے رسول‬ ‫کومانتاہومگردل ميں آل سے دشمنی رکھتاہوتوخداوندعالم اس کی نمازہرگزقبول نہيں کرتاہے بلکہ ايسے شخص کارات ميں‬ ‫نمازيں پﮍھنے کے بجائے چين کی نيندسونابہترہے۔‬ ‫‪)١ .‬نہج البالغہ ‪/‬کلمات قصار‪/‬ش ‪/ ٩٧‬ص ‪) ٣٧۶‬‬ ‫جنگ صفين کے بارے تاريخ کے اوراق اٹھاکرديکھيں تويہی معلوم ہوگاکہ دشمنوں نے نيزوں پرقرآن بلندکررکھے اورناطق‬ ‫ومفسرقرآن سے جنگ کرنے آئے تھے ۔ کرب وبالکی المناک تاريخ کوديکھيں تواس ميں بھی ملے گاکہ جولوگ حضرت‬ ‫امام حسين اور ان کی اوالد واصحاب کو شہيدکرنے کے لئے کربالئے معلی ميں يزيدی لشکرميں موجودتھے وه سب تارک‬ ‫الصلوة نہيں تھے بلکہ ان ميں اکثرنمازی تھے اورجماعت کے ساتھ نمازيں پﮍھتے تھے‪،‬کياان سب دشمنان اہلبيت کی‬ ‫نمازقبول ہے؟ہرگزنہيں قبول ہے۔ اہلبيت اطہار کی محبت کے بغيرنمازپﮍھناايساہی ہے جيسے کوئی بغيرطہارت کے‬ ‫نمازپﮍھتاہے ايک ايرانی شاعرکياخوب کہاہے‪:‬‬ ‫بہ منکر علی بگو نماز خو د قضاکند نمازبے والئے اوعبادتی است بی وضو‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫علی )عليه السالم(کی واليت سے انکارکرنے والے چاہئے کہ اہلبيت رسول کی واليت کااقراکرتے ہوئے اپنی نمازی کی‬ ‫قضابجاالئے کيونکہ علی کی واليت کے بغيرنمازپﮍھنابغيروضوکے نمازپﮍھنے کے مانندہے جس طہارت کے بغيرنمازقبول‬ ‫نہيں ہوتی ہے اسی طرح آئمہ اطہار کی واليت کے بغيربھی نمازقبول نہيں ہوتی ہے ‪،‬فقط وہی نمازقبول ہوتی ہے‬ ‫جسپراہلبيت )عليه السالم(کی واليت کے ساتھ پﮍھی جاتی ہے واليت اہليت سے متعلق امام شافعی کاايک مشہور شعرہے‪:‬‬ ‫يا آل رسول ﷲ حبکم فرض من ﷲ فی القرآن انزلہ کفاکم من عظيم القدرانّکم من لم يصل عليکم الصالة لہ‬ ‫اے اہلبيت رسالت آپ کی محبت تواس قرآن ميں واجب کی گئی ہے جس کوخدانے نازل فرماياہے اور آپ کی قدرمنزلت کے‬ ‫بارے ميں بس ات ناجان ليناکافی ہے کہ جوتم پرنمازميں ( درودنہ بھيجے اس کی نمازہی نہيں ہے ۔) ‪۴‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪)۴ .‬ينابيع المو ٔدة ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪). ٣۴٣‬صواعق محرقہ باب‪ ١١ /‬فصل ‪) ١‬‬

‫ابوحازم سے مروی کہ ايک شخص نے حضرت امام زين العابدين سے معلوم کيا‪ :‬وه کو نسی چيز ہے جوبارگاه رب العزت‬ ‫ميں نماز کے قبول ہونے کا سبب واقع ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمايا ‪:‬‬ ‫واليت ناوالبرائة من اعدائنا ہماری واليت ومحبت اور ہما رے دشمنوں سے اظہارنفرت وبيزاری بارگاه خداوندی ميں (‬ ‫نمازوں کے قبول ہونے کاسبب واقع ہو تی ہے ۔) ‪ ١‬حضرت امام صادق اس قول خداوندی ) ‪)(٢‬پاکيزه کلمات اسی کی طرف‬ ‫بلندہوتے ہيں اورعمل صالح انھيں بلندکرتاہے اورجولوگ برائيوں کی تدبيرکرتے ہيں ان کے لئے شديدعذاب ہے (کے بارے‬ ‫مينفرماتے ہيں‪:‬‬ ‫والييت نااہل البيت‪ ،‬فمن لم بتولنالم يرفع ﷲ عمال۔ جوبھی ہماری واليت کوقبول نہيں کرتاہے اورہماری رہبری پرسرتسليم خم‬ ‫نہيں کرتاہے ( خداوندعالم اس کے کسی بھی عمل کوقبول نہيں کرتاہے۔) ‪ ٣‬اوررسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‬ ‫فيہاوعلی اہل بيتی لم تقبل منہ۔) ‪ ۴‬جو شخص نماز پﮍھے اور مجھ پر اور ميرے اہل بيت پر‬ ‫ی‬ ‫ٰ‬ ‫‪ ( :‬من صلی صالة ولم يصل عل ّ‬ ‫درود نہ بھيجے اس کی نماز قبول نہيں ہے۔‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٣‬الکافی ( ‪(٢ .‬سوره فاطر‪/‬آيت ‪)١ . ( ١٠‬مناقب آل ابی طالب ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪) ٢٧۴‬‬ ‫‪/ .‬ج ‪/١‬ص ‪۴٣٠‬‬ ‫‪)۴ .‬الغدير)عالمہ امينی(‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٣٠۴‬‬

‫عن محمدبن مسلم قال‪:‬سمعت ا ٔباجعفرعليہ السالم يقول‪:‬ک ّل من دان ﷲ بعبادة ( يجہدفيہانفسہ والامام لہ من ﷲ فسعيہ غيرمقبول۔)‬ ‫‪ ١‬امام باقر فرماتے ہيں‪:‬جوشخص خداپرايمان رکھتاہواورعمده طريقہ سے عبادت کرتاہوليکن خداکی طرف سے معين کسی‬ ‫امام صالح کی پيروی نہ کرتاہواس ساری محنت ومشقت بےکارہے اوروه قبول بھی نہ ہونگی۔‬ ‫‪)١‬کافی ‪/‬ج ‪/١‬باب معرفت امام )عليه السالم(‪) .‬‬ ‫ٰ‬ ‫۔تقوی‬ ‫‪۵‬‬ ‫نمازقبول ہوے کے شرائط ميں سے ايک شرط __________يہ بھی ہے کہ نمازگزارگناه کبيره وصغيره سے دوری‬ ‫کرتاہو‪،‬غيبت سے پرہيزکرتاہو‪،‬والدين کے حکم کی نافرمانی نہ کرتاہو‪،‬مال حرام نہ کھاتاہو‪،‬شراب ومسکرات کااستعمال نہ‬ ‫کرتاہو‪،‬اپنے دينی بھائيوں سے بغض وحسدنہ کرتاہو‪،‬مرداپنی بيوی کواوربيوی اپنے شوہرکواذيت نہ کرتے ہوں‪،‬اپنے ہمسايہ‬ ‫کے لئے رنج واذيت کاباعث نہ ہو‪،‬ظام وجابرشخص کی ہمايت نہ کرتاہو‪،‬وغيره وغيره ۔‬ ‫ٰ‬ ‫تقوی پرہيزگاری کونظرميں رکھتاہے اب اگرکوئی شخص‬ ‫خداوندعالم انسان کے ظاہری عمل کونہيں ديکھتاہے بلکہ اس کے‬ ‫اپنے دل ميں رياکاری کاقصدرکھتے ہوئے اپنے مال سے خمس نکالے يا اسے لوگوں کے درميان خيرات کرے ياکسی‬ ‫دوسرے کامال چوری کرکے خمس نکالے ياغريبوں ميں تقسيم کرے يہ کام ﷲ کے نزديک قبوليت کادرجہ نہيں رکھتے ہيں‬ ‫اورنہ ايسے کاموں پروه شخص کسی اجروثواب کاحق رکھتاہے بس اسی طرح اگرکوئی شخص نمازبھی پﮍھتاہے اورگناہوں‬ ‫کابھی مرتکب ہوتاہے ‪،‬اپنے ماں باپ کے ساتھ گرم مزاجی سے کالم کرتاہے اورنمازبھی پﮍھتاہے ‪،‬عزيزواقارب کے ساتھ‬ ‫صلہ رحم نہيں کرتاہے اورنمازبھی پﮍھتاہے ‪،‬عورت اپنے شوہرکی درآمدسے فائده اٹھاتی ہے مگراس کے ساتھ تمکين نہيں‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫کرتی ہے ‪،‬اس کی اجازت کے بغيرگھرسے باہرقدم نکالتی ہے يااپنی زبان وغيره سے اسے اذيت کرتی ہے اورنمازبھی‬ ‫پﮍھتی ہے‪،‬ياشوہراپنے زوجہ کے ساتھ بدسلوکی کرتاہے‪،‬اسے آزارواذيت ديتاہے اورنمازبھی پﮍھتاہے ‪،‬ياانسان کسی‬ ‫دوسرے کی غيبت کرتاہے اورنمازبھی پﮍھتاہے‪،‬کسی دوسرے پرظلم وستم بھی کرتاہے اورنمازبھی پﮍھتاہے ‪،‬غيبت بھی‬ ‫کرتاہے اورنمازبھی پﮍھتاہے دوسروں کی ناموس کوبری نگاه سے ديکھتاہے اورنمازبھی پﮍھتاہے ياکسی معصوم )عليه‬ ‫ٰ‬ ‫تقوی‬ ‫السالم(کی قبرمطہر کی زيارت کرتاہے خداايسی نمازوزيارت کوہرگزقبول نہيں کرتاہے پس صاب‬ ‫ٰ‬ ‫وپرہيزگارہونادينداری کی پہچان ہے جيساکہ امام رضا فرماتے ہيں‪ :‬الدينَ لِمن ال َو َرع لہ۔ ( جوشخص ورع وتقوی نہ‬ ‫رکھتاہووه دين بھی نہيں رکھتاہے۔) ‪١‬‬ ‫‪)١ .‬کمال الدين وتمام النعمة ‪/‬ص ‪  ) ٣٧١‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬

‫نمازقبول نہ ہونے کے اسباب‬ ‫ايساہرگزنہيں ہے کہ دنياميں جت نے بھی نمازی ہيں ان سب کی نمازيں بارگاه خداوندی ميں قبول ہوتی ہيں بلکہ نمازقبول‬ ‫ہونے کچھ ظاہری آداب ہيں اورقلبی آداب ہيں اب جولوگ ظاہری آداب کے عالوه قلبی آداب کی بھی رعايت کرتے ہيں‬ ‫خداوندعالم ان نمازوں کوقبول __________کرتاہے ليگن وه لوگ کہ جن کی نمازيں بارگاه خداوندی ميں قبول نہيں ہوتی‬ ‫ہيں اورانھيں اپنی نمازوں سے ﷲ سے دوری اوراٹھ بيٹھ لگانے کے سوا کچھ بھی حاصل نہيں ہوتاہے ‪،‬پس کچھ چيزيں ايسی‬ ‫ہيں جوانسان کی نمازوعبادت کے قبول نہ ہونے کاسبب واقع ہوتی ہيں اورچيزيں کہ جنھيں معصومين نے عدم قبوليت‬ ‫نمازوعبادت کاسبب قراردياہے يہ ہيں ‪:‬‬ ‫‪١‬۔واليت اہلبيت کامنکرہونا‬ ‫وه لوگ کہ جن کے دلوں ميں اہلبيت کی محبت کاچراغ دل ميں روشن نہيں رکھتے ہيں توان کی نمازوعبادت ہرگزقبول نہيں‬ ‫ہوتی ہے ‪،‬نمازو عبادت اسی وقت فائده مندواقع ہوسکتی ہے جب نمازکواہلبيت کی محبت و معرفت اوران کی اطاعت وواليت‬ ‫کے زيرسايہ انجام دياجائے ‪،‬اہلبيت کی محبت وواليت کے بغيرسب نمازيں بےکارہيں۔‬ ‫وه نمازجواس کے تمام ظاہری آداب شرائط کے ساتھ انجام دی گئی ہو‪،‬قبلہ کی سمت رخ کرکے پﮍھی گئی ہو‪،‬حمدوسوره‬ ‫قرائت بھی صحيح طرح کی گئی ہو‪،‬رکوع وسجودميں طمانينہ کابھی خيال رکھاگياہواورديگرشرائط کوبھی ملحوظ‬ ‫خاطررکھاگياہويہاں تک خدارسول پرايمان کے ساتھ انجام دی گئی ہومگراس نمازپراہلبيت کی محبت کی مہرلگی ہو تووه‬ ‫نمازقبول ہوسکتی ہے چاہے نمازکو کت ناہی خضوع وخشوع کيوں انجام دياگياہومگراہلبيت اطہار کی محبت دل نہ ہوتووه‬ ‫نمازبيکارہے۔‬ ‫نمازقبول ہونے کے شرائط ميں واليت کوذکرچکے ‪،‬ہم نے وہاں پرواليت کے بغيرپﮍھی جانے والی کوباطل قراردئے جانے‬ ‫احاديث کوذکرکياہے اورشافعی کاوه مشہورشعربھی ذکرکياہے کہ جس ميں انھوں نے صاف طورسے اہلبيت رسول کی‬ ‫محبت کے بغير پﮍھی جانے والی نمازغيرمقبول قراردياہے ل ٰہذامطلب کوتکرارکرنے کی ضرورت نہيں ہے‬

‫‪   ‬‬

‫‪٢‬۔والدين کی اطاعت نہ کرنا‬ ‫وه لوگ جواپنے ماں باپ کی نافرمانی کرتے ہيں‪،‬ان کاادب احترام نہيں کرتے ہيں اوراپنے والدين کے لئے اذيت کاباعث‬ ‫ہوتے ہيں قرآن کريم ميں چندآيات کريمہ ميں جہاں ﷲ کی اطاعت کاحکم دياگياہے اسی کے فورابعدوالدين کے بھی مقام‬ ‫کوبيان کياگياہے يہاں تک کہ والدين کواف تک کہنے سے سختی کے ساتھ منع کياگياہے‪:‬‬ ‫< َوقَ ٰ‬ ‫ک ْال ِکبَ َر اَ َح ُدہُ َمااَوْ ِک َالہُ َمافَ َالتَقُلْ لَہُ َمااُفﱟ و َﱠالت نہَرْ ہُ َما َوقُلْ‬ ‫ک اَ ْن َالتَ ْعبُ ُدوْ ااِ ﱠالاِيﱠاهُ َو ِب ْال ِوا ِل َدي ِْن اِحْ َسانًااِ ﱠمايَ ْبلُغ ﱠَن ِع ْن َد َ‬ ‫ضی َربﱡ َ‬ ‫ﱡ‬ ‫ً‬ ‫لَہُ َماقَوْ ًال َک ِر ْي ًما َو ْ‬ ‫ص ِغيْرا>‬ ‫اخ ِفض لْ ◌َ ہُ َما َجنَا َح الذ ﱢل ِمنَ الرﱠحْ َم ِة َوقُلْ رﱠبﱢ ارْ َح ْمہُ َما َک َما َربﱠ ٰينِ ْی َ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫تمھارے پروردگارفيصلہ يہ ہے کہ تم سب اس کے عالوه کسی عبادت نہ کرنااورماں باپ کے ساتھ نيک برتاؤکرنااوراگران‬ ‫دونوں ميں سے کوئی ايک يادونوں بوڑھے جائيں توخبرداران سے اف بھی نہ کہنااورانھيں جھﮍکنابھی نہيں اوران سے‬ ‫ہميشہ شريفانہ گفتگوکرتے رہنا‪،‬اوران کے حق ميں دعاکرتے رہناکہ پروردگاران دونوں پراسی طرح رحمت نازل فرماجس‬ ‫طرح کہ انھوں نے بچپنے ميں مجھے پاالہے۔‬ ‫‪ .‬سوره أسراء ‪/‬آيت ‪ ٢٣‬۔ ‪٢۴‬‬ ‫اوراحاديث ميں بھی والدين کی نافرمانی کرنے کی بہت زياده مذمت کی گئی ہے خداوندعالم ايسے لوگوں کی کوئی نمازقبول‬ ‫نہيں کرتاہے‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬من نظرالی ابويہ نظرماقت وہماظالمان لہ لم يقبل لہ‬ ‫( صالتہ ۔) ‪٢‬‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬ہر وه شخص جو دشمن اور بعض وکينہ کی نظروں سے اپنے ماں باپ کی طرف نگاه‬ ‫کرتاہے ‪،‬خداوندعالم ايسے شخص کی نماز ہر گز قبول نہيں کرتا ہے ‪ ،‬خواه اس کے والدين نے اپنے فرزند پر ظلم وستم ہی‬ ‫کيوں نہ کئے ہوں۔‬ ‫‪)٢ .‬کافی ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٣۴٩‬‬ ‫‪٣‬۔چغلخوری کرنا‬ ‫وه لوگ جودوسروں کی غيبت کرتے ہيں ‪،‬دوسروں کے پوشيده عيوب سے پرده اٹھاتے ہيں توخداان کی کوئی نمازقبول نہيں‬ ‫کرتاہے اورجب تک صاحب غيبت اسے معاف نہيں کرديتاہے خدابھی معاف نہيں کرتاہے‬ ‫ً‬ ‫ّ‬ ‫قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ ‪:‬من اغتاب مسلماًا ٔومسلمة لم يقبل ﷲ صالتہ ( والصيامہ اربعين يوماوليلة االان يغفرلہ صابہ‬ ‫۔) ‪٢‬‬ ‫رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬اگرکوئی مسلمان مردياعورت کسی دوسرے مسلمان کی غيبت کرے‬ ‫توخداوندعالم چاليس روزتک اس کوئی نمازقبول نہيں کرتاہے مگرکہ جسکی غيبت کی گئی ہے وه اسسے راضی ہوجائے‬ ‫اوراسے معاف کردے ۔‬ ‫‪۴‬۔مال حرام کھانا‬ ‫وه لوگ جودوسروں کامال کھاتے ہيں خدوندعالم ان کی نمازقبول نہيں کرتاہے‪ ،‬خواه مال کو چوری کياگياہوياغصب‬ ‫کياگيا‪،‬ياکسی جگہ پﮍاہوامل گياہو ہوچاہے پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪:‬‬ ‫اَ ْل ِعبَا َدةُ َم َع اَ ْک ِل ْال َح َر ِام َکاْ لبِنَا ِء عَل َی ال ﱠر ْم ِل‪.‬‬ ‫( مال حرام کھانے والے لوگوں کی عبادت ريگ پر گھر تعمير کرنے کے مانند ہے ۔) ‪٣‬‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬اصول کافی ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪)١ . ( ٣۴٩‬خصال شيخ صدوق ‪/‬ص ‪) ١٢٣‬‬ ‫‪(٣ .‬بحاراالنوار‪/‬ج ‪/ ٨١‬ص ‪( ٢۵٨‬‬

‫‪۵‬۔نمازکوہلکاسمجھنا‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں ‪ :‬خدا کی قسم ! اس سے بﮍھ کر اور کيا گناه ہو سکتا ہے کہ ايک مرد کی عمرپچاس ہوگئی‬ ‫ہے مگر خدا نے ابھی تک اس کی ايک بھی نماز قبول نہيں کی ہے ‪ ،‬خدا کی قسم تم بھی اپنے بعض دوست اور عزيرو‬ ‫ہمسايہ کو جانتے ہيں کہ اگر وه تمھارے لئے نماز پﮍھيں تو ہر گزان کی نماز قبول نہيں کرو گے کيونکہ انھوں نے بے‬ ‫توجہّی کے ساتھ ميں نمازپﮍھی ہے جب تم اس نماز کو قبول نہيں کر سکتے ہو تو خداکيسے قبول کر سکتاہے جنکو انسان‬ ‫ہلکا اور آسان سمجھ کر انجام ديتا ہے؟۔‬ ‫‪۶‬۔شراب ومسکرکااستعمال کرنا‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪:‬من شرب الخمرلم يقبل ﷲ لہ صالة اربعين يوما‪ .‬امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جوشخص شراب‬ ‫پيتاہے خداوندعالم چاليس روزتک اس کوئی نمازقبول نہيں کرتاہے ۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪ ۴٠١‬۔تہذيب االحکام ‪/‬ج ‪/٩‬ص ‪١٠٧‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪ :‬من شرب مسکرا لم تقبل منہ صالتہ اربعين يوما فان مات فی االربعين مات ميتة جاہلية ‪ ،‬وان‬ ‫تاب ‪ .‬تاب ﷲ عزوجل عليہ‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جوشخص مسکرات کااستعمال کرتاہے چاليس روزتک اس کی قبول ہونے سے رک جاتی ہے ‪،‬اگروه‬ ‫ان چاليس روزکے درميان انتقال کرجائے توجاہليت کی موت مرتاہے ‪،‬ہاں اگروه توبہ کرتاہے توخداوندعالم اس توبہ قبول‬ ‫کرليتاہے ۔‬ ‫کافی‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪۴٠٠‬‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪ :‬مدمن الخمريلقی ﷲ کعابدوثن‪.‬‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬جوشخص شراب ونشے کے عالم ميں خداسے مالقات کرتاہے )اوراس کی عبادت کرتاہے(وه بت‬ ‫پرست کے مانندہے ۔‬ ‫‪ .‬کافی ‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪۴٠۴‬‬ ‫حسين ابن خالدسے مروی ہے‪:‬ميں نے امام رضاسے نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کی اس حديث کے بارے ميں پوچھاکہ‬ ‫جسميں انحضرت فرماتے ہيں‪:‬‬ ‫ان من شرب الخمرلم يحتسب صالتہ اربعين صباحا‪ً.‬‬ ‫ّ‬ ‫شراب پينے والے شخص کی چاليسشبانہ روزتک کوئی نمازقبول نہيں ہوتی ہے امام )عليه السالم(نے جواب ديا‪:‬يہ حديث‬ ‫صحيح ہے ‪،‬ميں نے کہا‪:‬شرابی کے چايس روزکيوں معين کئے گئے ہيں ‪،‬اس سے کم يازياده کيوں نہيں؟امام )عليه السالم(‬ ‫نے جواب ديا‪ :‬کيونکہ خداوندعالم نے انسان کے لئے چاليس روزمعين کررکھے ہيں‪،‬جب انسان کانطفہ رحم مادرميں‬ ‫قرارپاتاہے توچاليس تک نطفہ رہتاہے اس کے بعدچاليس روزتک علقہ رہتاہے ‪،‬پھرچاليس روزتک مضغہ رہتاہے اسی طرح‬ ‫شرابخورکے منھ سے بھی چاليس روزتک شراب کی ( بدبوباقی رہتی ہے لہٰذاچاليسروزتک اس کی کوئی بھی نمازقبول نہيں‬ ‫ہوتی ہے۔) ‪٢‬‬ ‫‪)٢ .‬علل الشرايع ‪/‬ج ‪/٢‬ص ‪) ٣۴‬‬ ‫‪٧‬۔حاقن وحاقب‬ ‫عن اسحاق بن عمار ‪ ،‬قال ‪ :‬سمعت اباعبدﷲ عليہ السالم يقول ‪ :‬الصالة لحاقن واللحاقب واللحاذق ‪ .‬والحاقن الذی بہ البول ‪،‬‬ ‫والحاقب الذی بہ الغائط والحازق بہ ضغطة الخف ‪ .‬اسحاق ابن عمارسے مروی ہے کہ امام صادق فرماتے ہيں‪:‬حاقن وحاقب‬ ‫اورحاذن کی نمازقبول نہيں ہوتی ہے ‪ ،‬حاقن وه شخص کہ جوپيشاب کوروکے رکھے‪،‬حاقب وه شخص کہ جوغائط کوروکے‬ ‫رکھے ‪،‬اورحازق اس شخص کوکہتے ہيں جودونوں پيروں کوايک دوسرے سے مالئے رکھے ۔‬ ‫‪ .‬معانی االخبار‪/‬ص ‪٢٣٧‬‬ ‫‪٨‬۔ خمس وزکات نہ دينا‬ ‫قرآن کريم ميں متعددآيتوں ميں زکات اداکرنے کو قيام نماز کے پہلو ميں ذکر کيا گيا ہے‪ . :‬سوره ٔبقره ‪/‬آيت ‪ ١١٠‬۔ ‪ ۴٣‬۔ ‪٢٧٧‬‬ ‫‪ .‬حج‪ ۴١ /‬۔ ‪ . ٧٨‬توبہ‪ ١١ /‬۔ ‪ ١٨‬۔ ‪ ٧١‬۔ مائده ‪ . ۵۵ /‬نمل‪ .٣ /‬لقمان‪ ۴ /‬مريم‪ ٣١ /‬۔ ‪ . ۵۵‬انبياء‪ . ٧٣ /‬نساء‪ ٧٧ /‬۔ ‪ . ١۶٢‬نور‪/‬‬ ‫‪ . ۵۶‬بينہ‪ .۵ /‬اوران آيتوں کے عالوه بعض ديگر آيتوں ميں نمازکوانفاق کے ساتھ ذکرکياگياہے۔‬ ‫اور متعدد احاديث ميں آيا ہے کہ جولوگ اپنے مال سے زکات نہيں نکالتے ہيں ان کی نماز قبول نہيں ہو تی ہے‬ ‫( قال رسول ﷲ صلی ﷲ عليہ وآلہ‪:‬التقبل الصالة ّاال ٰ‬ ‫بالزکوة۔) ‪ ١‬رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله( فرما تے ہيں ‪ :‬زکات اداکئے‬ ‫بغير نماز قبو ل نہيں ہے۔‬ ‫‪٩‬۔گناه ومنکرات کوانجام دينا‬ ‫ع َِن النّبِی صلّی ﷲُ َعلَي ِہ َوآلِ ِہ اَنّہُ قَا َل‪:‬الصالة لمن لم يطع الصلوة وطاعة الصلوة ان ينتہی ( عن الفحشاء والمنکر۔) ‪٢‬‬ ‫پيغمبراکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪ :‬جو شخص مطيع نماز نہ ہو اس کی نمازہی نہيں ہے اور گناہوں ومنکرات سے‬ ‫دوری اختيا ر کرنے کواطاعت نماز کہاجاتا ہے۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫ﷲ اِ ّالبُعداً۔) ‪٣‬‬ ‫ع َِن النّ ِبی صلّی ﷲُ َعلَي ِہ َوآ ِل ِہ اَنّہُ قَا َل‪َ :‬من لَم ت نہہ َ‬ ‫صالتَہُ ع َِن ْالفَحْ شَا ِء َو ْال ُم ْن َک ِرلَم يَ ِز ْد ِمن ( ِ‬ ‫جس کی نمازاسے بدی ومنکرات سے دورنہيں رکھتی ہے اسے اللھسے دوری کے عالوه کوئی فائده حاصل نہيں ہوتی ہے ۔‬ ‫عن ابی عبدﷲ عليہ السالم قال‪ :‬من احب ان يعلم ا قٔبلت صالتہ ا ٔم لم تقبل فلينظرہل ( منعتہ صالتہ عن الفحشاء‬ ‫والمنکرفبقدرمامنعتہ قبلت منہ۔) ‪۴‬‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں‪ :‬اگر کوئی ديکھنا چا ہتا ہے کہ اس کی نماز بارگاه خدا وندی ميں قبول ہوئی ہے يا نہيں تو‬ ‫اس چيز کوديکھے کہ اس کی نمازنے اسے برے کام اور گنا ہوں سے دور رکھا ہے يانہيں کيو نکہ جس مقدا ر ميں وه نماز‬ ‫تعالی ميں قبول ہوتی ہے ۔‬ ‫کی وجہ سے گنا ہوں سے دور رہتا ہے اسی مقدارکے مطابق اس کی نمازبار گاه باری‬ ‫ٰ‬ ‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬تفسيرنورالثقلين ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪)١ . ( ١۶٢‬منہج الصادقين ‪/‬ج ‪/۶‬ص ‪(۴ . ) ٢٠٣‬تفسيرنورالثقلين ‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪(٣ . ( ١۶٢‬تفسيرنورالثقلين‬ ‫‪/‬ج ‪/۴‬ص ‪( ١۶٢‬‬

‫‪ ١٠‬۔مومنين سے بغضوحسدرکھنے والے‬ ‫بہت سے نمازی ايسے بھی جومتقی وپرہيزگارلوگوں سے اس وجہ سے بغض وحسدرکھتے ہيں وه لوگوں کے درميان ع ّزت‬ ‫وشرف اورمقبوليت کيوں رکھتے ہيں اورہم کيوں نہيں رکھتے ہيں لہٰذااس سے دشمنی کرتے ہيں‪،‬ايسے لوگوں کے بارے‬ ‫ميں خداوندعالم حديث قدسی ميں حضرت داؤد سے ارشادفرماتاہے‪:‬‬ ‫وربماصلی العبدفاضرب بہاوجہہ واحجب عنی صوتہ ‪،‬ا تٔدری َمن ذلک ؟ياداو ٔد!ذاک الّذی يکثرااللتفات الی حرم المومنين بعين‬ ‫الفسق وذاک الّذی يُح ّدث نفسہ اَ ْن لو ُولّ َی ا ٔمراًلضرب فيہ ( الرقاب ظلماً۔) ‪١‬‬ ‫کت نے بند ے ايسے ہيں کہ جو نماز پﮍھتے ہيں مگران کی نماز وں کو انھيں کے منھ پہ مار ديتاہوں اور اپنے اوراس کی‬ ‫نماز و دعاکی آواز کے درميان ايک پر ده ڈالديتا ہوں ‪ ،‬اے داو ٔد ! کيا تم جانتے ہو وه بند ے کون ہيں ؟اے داؤ د سنو!يہ وه‬ ‫نمازی ہيں جو مو من بندوں کی ع ّز ت وشرف وعصمت کو جرم و گنا ه کی نگاه سے ديکھتے ہيں اور خود سے کہتے ہيں ‪:‬‬ ‫اگر مجھ ميں ہمت و قدرت پيدا ہو گئی تو ظلم و جفا کے سا تھ ان لوگوں کی گرد نيں کاٹ کررکھ دوں گا ۔‬ ‫قابيل اپنے بھائی سے بغض وحسدرکھتاتھاکہ جس کے نتيجہ ميں خدانے اس کی قربانی کوقبول نہيں کيا‪،‬خداوندعالم قرآن‬ ‫کريم ميں حضرت آدمکے ان دونونفرزندکی داستان اس طرح بيان کرتاہے‪:‬‬ ‫ٰ‬ ‫ْ‬ ‫ْ‬ ‫ﱠ‬ ‫ّ‬ ‫ﱠ‬ ‫َ‬ ‫ُ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫َ‬ ‫< َوا ْت ُل َعلَي ِْہ ْم نَبَاَا ْبن َْی ٰا َد َم بِ ْال َح ﱢ‬ ‫ک قا َل اِن َمايَتقبﱠ ُل ﷲَ ِمنَ ال ُمتقِ ْينَ >‬ ‫َر‪ ،‬قا َل القتلن َ‬ ‫ق اِ ْذقَرﱠ◌َ بَاقُرْ بَانًا ‪ ،‬فَتَقَبﱠ َل ِم ْن اَ َح ِد ِہ َما َولَ ْم يَتَقَبﱠ ُل ِمنَ االخ ِ‬ ‫پيغمبر!آپ ان کوآدم کے دونونفرزندوں کاسچاقصہ پﮍھ کرسنائيےکہ جب دونوں نے راه خداميں قربانی پيش کی توہابيل کی‬ ‫قربانی قبول ہوگئی اورقابيل کی قربانی ردکردی گئی توشيطان نے قابيل کے دل ميں حسدآگ بھﮍکادی اورقابيل نے ہابيل سے‬ ‫ٰ‬ ‫تقوی کی اعمال قبول کرتاہے۔‬ ‫کہا‪:‬ميں تجھے قتل کردوں گا‪،‬ہابيل نے جواب ديا‪:‬ميراکياقصورہے خداصرف صاحبان‬ ‫‪ .‬سوره ٔمائده ‪/‬آيت ‪٢٧‬‬ ‫‪ ١١‬۔موذی عورت ومرد‬ ‫وه عورتيں جواپنے شوہرکے لئے اذيت کاباعث ہوتی ہيں‪،‬اوره وه عورت جواپنے شوہرکے لئے عطروخوشبوکااستعمال نہيں‬ ‫کرتی ہے اورجب کسی شادی ومحفل ميں جاتی ہے ياگھرپہ کوئی مہمان آتاہے توخوشبوکااستعمال کرتی ہے اورعمده لباس‬ ‫پہنتی ہے مگراپنے شوہرکے لئے ايساکچھ نہيں کرتی ہے توخداوندعالم اس کوئی نمازقبول نہيں کرتاہے ‪،‬اگرايساکرتاہے‬ ‫تويہی حکم اس کابھی ہے‬ ‫امام صادق فرماتے ہيں‪:‬وه عورت جو)بسترپہ (سوجائے اوراس کاشوہراس سے برحق ناراض ہوتوخداوندعالم اس عورت کی‬ ‫کوئی جب تک اس شوہراس سے راضی ن�� ہوجائے کوئی نمازقبول نہيں ہوتی ہے اوروه عورت کہ جواپنے شوہرکے عالوه‬ ‫کسی دوسرے کے لئے خوشبولگائے توخداوندعالم ايسی عورت کی بھی کوئی نمازاس وقت تک قبول نہيں کرتاہے جب تک‬ ‫وه اس خوشبوکاايسے غسل نہيں کرليتی جس طرح جنابت کاغسل کرتی ہے‬ ‫‪۵ .‬۔من اليحضره الفقيہ‪/‬ج ‪/٣‬ص ‪ / ۴۴٠‬کافی ‪/‬ج ‪۵٠٧‬‬ ‫اوراسی طرح وه مردجواپنی زوجہ کواذيت کرتے ہيں‪ ،‬خداوندعالم ان عورت مرودوں کی نمازيں قبول نہيں کرتاہے جيساکہ‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫روايت ميں آياہے‪:‬‬ ‫رسول خدا )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں ‪ :‬وه عورت جو اپنے شوہر کواذيت پہنچاتی ہے ‪،‬خداوندعالم ايسی عورت کی‬ ‫کوئی نمازاورنيک عمل اس وقت قبول نہيں کرتاہے جب تک وه اپنے شوہرکوراضی نہيں کرليتی ہے ‪،‬خواه وه ايک زمانے‬ ‫تک روزے رکھے اورراه خداميں جہادکرے اورراه خداميں کت ناہی مال خرچ کرے ‪،‬ايسی عورت کوسب سے جہنم ميں‬ ‫ڈاالجائے ‪ ،‬اس کے بعدرول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(ے نے فرمايا‪:‬مردکابھی يہی حکم ہے اوراس کابھی يہی گناہے ۔‬ ‫‪ .‬وسائل الشيعہ ‪/‬ج ‪/ ١۴‬ص ‪١١۶‬‬ ‫‪ ١٢‬۔ہمسايہ کواذيت پہنچانا‬ ‫نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(کے زمانے ميں ايک مسلمان خاتوں جوروزانہ روزے رکھتی تھی اور رات بھر نماز وعبادت‬ ‫کرتی تھی ليکن بہت زياده بداخالق تھی اور اپنی زبان سے ہمسايوں کو آزار واذيت پہنچاتی تھی‬ ‫ايک دن لوگوں نے نبی اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(سے کہا‪ :‬يا رسول ﷲ! فالں عورت دنوں ميں روزه رکھتی ہے ‪،‬راتوں ميں‬ ‫نماز وعبارت ميں مشغول رہتی ہے ليکن اس ميں ايک عيب يہ پاياجاتاہے کہ وه بد اخالق ہے اوراپنی زبان سے پﮍوسيوں‬ ‫کواذيت پہنچاتی ہے تورسول اکرم نے فرمايا‪:‬‬ ‫َْ‬ ‫ال __________ َخ ْي َرفيھا‪ِ ،‬ھ َی ِم ْن اَ ْھ ِل النار۔‬ ‫ايسی عورت کے لئے کو ئی خير و بھالئی نہيں ہے اوراہل جہنم ہے اس بعدلوگوں نے کہا‪:‬ايک فالں عورت ہے‬ ‫جو)فقط(پنجگانہ نمازيں پﮍھتی ہے اور)فقط(ماه رمضان المبارک کے روزے رکھتی ہے اوراپنے پﮍوسيوں کواذيت بھی نہيں‬ ‫پہنچاتی ہے تورسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(نے فرمايا‪:‬‬ ‫ہی من اہل الجنة‪.‬‬ ‫وه عورت اہل بہشت ہے۔‬ ‫‪ .‬مستدرک الوسائل‪/‬ج ‪/٨‬ص ‪۴٢٣‬‬ ‫امام علی رضافرماتے ہيں ‪:‬خداوندعالم نے تين چيزوں کوتين چيزوں کے ساتھ بجاالنے کاحکم دياہے‪:‬‬ ‫‪١‬۔ نمازکوزکات کے ساتھ اداکرنے کاحکم دياہے‪ ،‬پس جوشخص نمازپﮍھتاہے اورزکات نہيں نکالتاہے اس کی نمازقبول نہيں‬ ‫ہوتی ہے‪.‬‬ ‫‪٢‬۔ خدانے اپناشکربجاالنے کووالدين کاشکراداکرنے کے ساتھ حکم دياہے ‪،‬پس جوشخص والدين کاشکرنہيں کرتاہے جب بھی‬ ‫ٰ‬ ‫تقوی اورپرہيزگاری کوصلہ رحم کے ساتھ حکم دياہے پس جوشخص‬ ‫خداکاشکرکرتاہے خدااس کاشکرقبول نہيں کرتاہے ۔ ‪٣‬۔‬ ‫ٰ‬ ‫تقوی وپرہيزگاری کوقبول نہيں کرتاہے۔) ‪١‬‬ ‫صلہ رحم نہيں ( کرتاہے خدااس کے‬ ‫‪)١ .‬خصال )شيخ صدوق( ‪/‬ص ‪) ١٢٣‬‬ ‫حضرت امام صادق سے مروی ہے ‪:‬رسول اکرم )صلی ﷲ عليه و آله(فرماتے ہيں‪:‬آٹھ لوگوں کی نمازيں قبول نہيں ہوتی ہيں‪:‬‬ ‫‪١‬۔ وه غالم جواپنے مالک سے فرارہوگياہوجب تک وه اپنے موالکے پاس لوٹ کرنہيں آتاہے اس کی کوئی نمازقبول نہيں‬ ‫ہوتی ہے ۔‬ ‫‪٢‬۔ وه عورت جوکہ ناشزه ہے اوراس کاشوہراس پرغضبناک رہتاہے۔‬ ‫‪٣‬۔ جولوگ زکات ادانہيں کرتے ہيں۔ ‪۴‬۔جولوگ بغيروضوکے نمازپﮍھتے ہيں۔ ‪۵‬۔وه بچّياں جوسرچھپائے بغيرنمازپﮍھتی ہيں۔‬ ‫‪۶‬۔ وه شخص کہ جولوگوں کے لئے امامت کے فرائض انجام دے مگرمومنين اسے پسندنہ کرتے ہوں اوراس امام سے کوئی‬ ‫رغبت نہ ر کھتے ہوں )ليکن وه امام جماعت اپنی ع ّزت وآبرو کی وجہ سے مسجد کو ترک کرنے کے لئے حاضر نہ‬ ‫ہوجسکانتيجہ يہ ہوگاکہ ہرزوزمسجد ميں آنے والے مومنين کی تعداد کم ہوتی جائے گی اور ايک دن وه بھی آجائے گا کہ‬ ‫مسجد ميں اس کے پيچھے کے لئے کوئی شخص نہيں آئے (۔‬ ‫‪٧‬۔ ‪٨‬۔ زبين لوگ‪:‬نبی اکرمسے پوچھاگيا‪:‬يارسول اللھيہ کون لوگ ہيں ؟آنحضرت نے جواب ديا‪ :‬وه لوگ جو نماز کی حالت‬ ‫ميں اپنے پيشاب وپاخانہ يا ريح کو روکے رکھتے ہيں) جس کی وجہ سے جسمانی امراض پيداہوجاتے ہيں ‪،‬يہ کام جسم کی‬ ‫سالمتی کوخطره ميں ڈالنے کے عالوه نماز کے تمرکز کو بھی خراب کرديتے ہيں اور نماز ميں حضورقلب بھی نہيں‬ ‫پاياجاتا ہے (يہ ( آٹھ لوگ ہيں کہ جن کی نمازيں قبول نہيں ہوتی ہيں ۔) ‪١‬‬ ‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬چارلوگوں کی نمازقبول نہيں ہوتی ہے‪١ :‬۔ظالم وستمکارپيشوا ۔ ‪٢‬۔وه مردجوکسی گروه کی‬ ‫امامت کرتاہواوروه لوگ اسے پسندنہ کرتے ہوں ‪٣‬۔وه غالم جوبغيرکسی عذرومجبوری کے اپنے آقاسے فرارہوگياہو۔ ‪۴‬۔وه‬ ‫عورت جواپنے شوہرکی اجازت کے گھرسے باہرجاتی ہو۔‬ ‫‪Presented by http://www.alhassanain.com  &   http://www.islamicblessings.com ‬‬ ‫‪ ‬‬ ‫‪ ‬‬


‫‪-------‬‬‫‪(٢ .‬خصال شيخ صدوق ‪/‬ج ‪/١‬ص ‪)١ . ( ١٩١‬معانی االخبار)شيخ صدوق(‪/‬ص ‪) ۴٠۴‬‬

‫حضرت امام صادق فرماتے ہيں ‪:‬تين لوگوں کی نمازقبول نہيں ہوتی ہے‪١ :‬۔ وه غالم جواپنے مالک سے فرارہوگياہو‪،‬جب‬ ‫تک وه لوٹ کراپنے ہاتھوں کواپنے موالہاتھوں پہ نہيں رکھ ديتاہے اس کی کوئی نمازفبول نہيں ہوتی ہے ‪٢‬۔ وه عورت‬ ‫جو)بسترپہ(سوجائے اوراس کاشوہراس سے ناراض ہو۔ ‪٣‬۔ وه شخص جوکسی جماعت کی امامت کررہاہواوروه لوگ اسے‬ ‫پسندنہ کرتے ہوں۔ ‪ /۵.‬کافی ‪/‬ج ‪  ۵٠٧‬‬ ‫‪ ‬‬

‫نمازکے آداب واسرار ‪ ‬‬